کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 2 : مقدمہ ، ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ - تناقضات
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 2 : مقدمہ ، ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ - تناقضات
مقدمہ
الحمدللّٰہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ، اما بعد!
دین اسلام میں نماز کی بہت بڑی اہمیت ہے، اس لیے حدیث میں اس کو عماد الدین (دین کا ستون) قرار دیا گیا ہے۔ اور پھر یہ ایسی متہم بالشان عبادت ہے کہ روز قیامت سب سے پہلے سوال نماز ہی کا ہو گا۔۔
روز محشر کہ جان گدازبود
اولین پرسش نماز بود
قرآن و حدیث کے محکم اور واضح فرمودات کے پیش نظر نماز کی فرضیت اور اس کے اہم ترین عبادت ہونے پر پوری امت کا اتفاق ہے البتہ کیفیت ادا میں قدرے تنوع ہے یعنی نماز کے بعض افعال اور طریقے، نیز کچھ سنن و آداب کے بارے میں سنت رسول کے دائرے میں رہتے ہوئے ائمہ اہلسنت کا باہم اختلاف موجود ہے، اور محض اختلاف کا ہونا معیوب نہیں جب تک یہ حد سے تجاوزنہ کرے بلکہ اعتدال کے ساتھ ہو تو ٹھیک ، ورنہ یہ فتنہ و فساد کا باعث بنتا ہے۔ نیز اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ ہمارے نبی مکرم ﷺکے لائے ہوئے دین اور شریعت میں اختلاف کی دو قسمیں ہیں۔ (۱)عقائد و نظریات یعنی اصول میں اختلاف جو بہت زیادہ مذموم ہے۔(۲)فروع میں اختلاف یعنی اعمال میں ائمہ اہلسنت کا گو اختلاف ہے مگر یہ قابل برداشت و مقبول ہے۔ اور نماز کے ان فروعی اختلافی مسائل میں سے ایک مسئلہ‘‘ رفع الیدین فی الصلوٰۃ’’ بھی ہے جو کہ صدر اول سے تاہنوز اختلافی چلا آرہا ہے۔ اس میں ایک طرف تو اہل السنۃ والجماعۃ الحنفیۃوالمالکیۃ ہیں،ان کا موقف یہ ہے کہ پہلے نماز میں کئی جگہ رفع یدین ہوا کرتا تھا جو متروک ہو کر صرف نماز کے شروع میں باقی رہ گیا اور اب یہی سنت ہے اور ہمیشہ اسی پر اکثر اہل اسلام کا عمل رہا ہے۔ اور دوسری طرف اہل السنۃ والجماعۃ الشافعیۃ ہیں جو اثبات رفع الیدین فی الصلوٰۃ کے قائل و فاعل ہیں مگر مجموعی اعتبار سے ان دونوں طبقوں کا ہمیشہ یہ اختلاف علمی و اعتدالی اختلاف کے دائرے میں رہا ہے انہوں نے ایک دوسرے کی نماز کو ‘‘باطل’’ اور ‘‘نہیں ہوتی’’ کا فتویٰ نہیں لگایا۔
لیکن عصر حاضر میں ایک ایسا طبقہ معرض وجود میں آگیا ہے جس نے دشمنان اسلام کے اشاروں پر جہاں اہل اسلام سے اجماعی عقائد و نظریات و مسائل میں اختلاف کیا ہے وہاں پر اس طبقہ نے فروعی اختلافات میں سے خصوصاً نماز کے متعلقہ چند اختلافی مسائل کو اجماعی عقائد و نظریات و مسائل سے بھی کہیں زیادہ اچھالا، اور نماز کے ان چند اختلافی مسائل میں سے مسئلہ رفع یدین کو بھی ہوا دی اور ترک رفع یدین کے قائلین کو بدعتی، کافر اور ان کی نمازوں کو باطل، و خلاف سنت قرار دیا اور خوب پروپیگنڈہ کیا کہ ترک رفع یدین کی تائید میں ایک بھی صحیح حدیث مروی نہیں ہے۔ اس طبقہ کے اس رویہ سے عوام اپنی ہی نمازوں کے متعلق ذہنی انتشار کا شکار ہونے لگی اور بعض کے تواصل نماز ہی سے برگشتہ ہو نے کے خطرات منڈالنے لگے تو اس صورت حال کے پیش نظر اکابر اہلسنت والجماعت (علماء دیوبند) نے بھی مجبورًاا قلم اٹھایا اور ترک رفع یدین کے اثبات میں کئی کتابیں تصنیف کیں جن میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے سابق استاذ الحدیث ثقہ و صدوق محقق حضرت مولانا حافظ حبیب اللہ ڈیروی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘‘نورالصباح فی ترک رفع الیدین بعد الافتتاح’’ اور دارالعلوم دیوبند کے جلیل القدر استاذ حدیث ثقہ و صدوق محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی کتاب ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین’’ بطور خاص قابل ذکر ہیں، ان کتب کی اشاعت سے بہت سے حضرات کے علمی شکوک و شبہات دور ہوئے اور ملک و بیرون از ملک میں ان کا خوشگوار علمی اثر پڑا اور یہ کتب عوام الناس کے لیے بے حد مفید اور گراں قدر انمول خزانہ ثابت ہوئیں۔
اس کے برعکس مذکورہ بالا طبقہ ان کتب کے دلائل و براہین سے بوکھلا اٹھا اور اپنی ناگواری کا اظہار کیا۔ کافی عرصہ سے یہ شنید تھی کہ دارالعلوم کے استاذ حدیث مولانا حبیب الرحمن اعظمی کی کتاب کا اس گروہ کی جماعت جواب لکھارہی ہے اور لکھنے والے جامعہ سلفیہ بنارس کے مدرس، محقق ، مدقق اور استاذ حدیث ہیں۔ ہم بھی منتظر تھے کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں؟ بالآخر خبر پہنچی کہ تحقیق مسئلہ رفع یدین کا جواب ‘‘مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ نامی کتاب میں ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ کے نام سے چھپ چکا ہے، مگر یہ صرف ڈھول کی آواز تھی جو اندر سے خالی ہے۔
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرہ تواک قطرہ خون نکلا
ہم اس کے مؤلف کے بارے میں بڑی حسن ظنی اور خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ اْن کے مدرس، محقق، مفتی، مدقق اور استاذحدیث ہیں کوئی توکام کی بات لکھیں گے لیکن کتاب کو دیکھ کر ہماری خوش فہمی بالکل کافور ہو گئی۔ کہ وہ صاحب تو بالکل علم سے یتیم اور تہی دامن ہیں اور ان کی کتاب میں جو کچھ ہے چار حصوں میں منقسم ہے۔
۱۔ تناقضات
۲۔ اکاذیب و افتراء ات
۳۔ جہالتیں
۴۔ گھٹیا اور بازاری زبان
(۱)تناقضات
ندوی صاحب کی کتاب تناقضات کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے، چنانچہ جب کسی راوی حدیث سے ان کا مفاد وابستہ ہو تو پھر وہ اس کی ثقاہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں، لیکن اگر اسی راوی کی روایت سے ان کے مفاد پر زد پڑھتی ہو تو توپھر وہی راوی ان کی نظر میں ساقط الاعتبار اور ضعیف تر ہو جاتا ے۔ اسی طرح موصوف اپنی مطلب برآری کے لیے ایک اصول وضع کرتے ہیں، مگر وہی اصول ان کو اپنے مفاد سے ٹکراتا نظر آئے تو پھر بڑی بے دردی سے اس اصول کی دھجیاں بکھیرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً-85-85
تناقض (۱) امام ابراہیم نخعیؒ کی عَن والی روایت قابل قبول بھی اور غیر معتبر، ضعیف، ساقط الاعتبار بھی:
ندوی نے مقدار رفع الیدین کے متعلقہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ایک روایت کو اپنے مفاد میں سمجھتے ہوئے قابل قبول قرار دیا:
چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ:
یہی قابل قبول ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۶)
لیکن دوسری طرف جب امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی روایت ندوی صاحب کے مسلک کیخلاف آئی تو اس نے تمام تر شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ امام موصوف کے عنعنہ کا بہانہ بنا کر اسے ضعیف اور ساقط الاعتبار قراردے دیا۔
چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ:
اس کی سند میں واقع ابراہیم نخعی مدلس تھے۔ مجہول روات سے تدلیس کرتے تھے، لہٰذا یہ
روایت ساقط الاعتبار ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۸۷)
میٹھا میٹھا ہپ کڑوا کڑوا تھو
تناقض (۲) امام ابوحنیفہؒ تابعی ہیں بھی اور نہیں بھی:
رئیس ندوی نے ایک جگہ لکھا ہے:
تمام کے تمام محدثین کرام مع صحابہ و تابعین بشمول امام ابوحنیفہ تمام اہل الر ئی کو بے حد سئ الحفظ
اور خراب حافظہ والا کہتے ہیں۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ:ص ۱۳۹)
اس بیان میں رئیس ندوی حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو صراحتاًتابعین میں شمار کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف وہ اس کے برعکس یہ راگ الاپتا ہے کہ:
(امام ابوحنیفہ) معمولی ترین تابعی بھی نہیں ہوئے، چہ جائیکہ مطلقاً تابعی ہوں۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۸۰۶)
دروغ گورا حافظہ نباشد
تناقض (۳) صحیحین کے راویوں پر جرح کا لعدم ہے بھی اور نہیں بھی:
ندوی نے اپنے پسندیدہ راویوں پر جروحات کو کالعدم قرار دینے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے صحیحین (بخاری و مسلم) کے راویوں پر اگر کسی قسم کی جرح موجود ہو تو وہ بقول راجح مدفوع اور کالعدم شمار ہو گی، چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ:
اور یہ معلوم ہے کہ صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی پر اگر کسی قسم کا کلام بھی وارد ہوا ہے تو وہ
بقول راجح مدفوع اور کالعدم ہے۔ (اللمحات:ج2ص۳۱)
جبکہ دوسری طرف اس نے دوغلہ پالیسی سے کام لیتے ہوئے اپنے مسلک کے خلاف مروی احادیث کو ضعیف قرار دینے کے لیے صحیحین کے متعددراویوں پر جرح کا نشتر چلایا ہے۔
جیسے ورقاء بن عمر یشکری رحمۃ اللہ علیہ، حفص بن غیاث نخعی رحمۃ اللہ علیہ، حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ، ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ، سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ، اعمش رحمۃ اللہ علیہ، قتادہ رحمۃ اللہ علیہ، اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ، پر ندوی نے جرحی نشتر چلایا ہے۔ (دیکھئے: سلفی، تحقیقی، جائزہ: ص ۹۶۲۔۲۵۷۔۵۹۲۔۵۸۷۔ ۵۷۲۔ ۴۹۱۔ و ۴۲۵۔ ۲۸۷) حالانکہ یہ صحیح بخاری و مسلم کے اتفاقی راوی ہیں۔ اسی طرح صحیح مسلم کے روات جیسے ابوبکر بن عبداللہ النہشلی رحمۃ اللہ علیہ، عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ، لیث رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم پر بھی ندوی نے جرح کا تیشہ چلایا ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص ۲۷۸۔۵۷۲، صحیح طریقہ نماز ص ۱۰۹۔۱۱۰)
تناقض (۴) بے سند بات مکذوب بھی اور قابل ستدلال بھی:
ندوی صاحب کا یہ بھی ایک عجیب انصاف ہے کہ جب کسی امام کا کوئی قول جب ان کے مفاد کے خلاف ہو تو وہ اسے بے سند کہہ کر مکذوب قرار دے دیتے ہیں مثلاً ندوی صاحب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کو اپنے بزعم بے سند سمجھ کر اس کو رد کرنے کے لیے لکھتے ہیں کہ:
بے سند بات مکذوب ہوتی ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۰۴)
اسی طرح امام ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کو اپنے بزعم بے سند سمجھ کر اسے رد کرنے کے لیے لکھتے ہیں کہ:
اور بے سند بات نصوص کتاب و سنت کے مطابق مکذوب قرار دیے جانے کے لائق ہے۔
(ایضاً:۱۴۷)
لیکن دوسری طرف خود ندوی کو کوئی بے سند قول یا روایت اپنے مفاد میں مل جائے تو پھر وہ اس قول یاروایت سے بے دھڑک استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔
مثلاً ندوی صاحب ترک رفع الیدین کی ایک روایت کو ضعیف قرار دینے کے لیے اس کے راوی عاصم بن کلیب کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
امام علی بن المدینی کے بقول عاصم بن کلیب جس روایت کی نقل میں منفرد ہو وہ معتبر اور لائق
حجت نہیں۔ (ملخصاً سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۷۲)
حالانکہ ندوی صاحب کے ہم مسلک ندیم ظہیر غیر مقلد کے بقول امام علی بن المدینی رحمہ اللہ سے منسوب یہ قول بے سند وغیر ثابت ہے۔ (دیکھئے: ماہنامہ الحدیث ص ۴۳ش نمبر۱۱۹) مگر اس کے باوجود ندوی صاحب اس قول سے استدلال کر رہے ہیں۔
اسی طرح ندوی نے اثبات رفع الیدین کے بارے میں ایک قول کو الموضوعات لابن الجوزی کے حوالے سے نقل کر کے اس سے بے دھڑک استدلال کرتے ہوئے اپنے مخالفین کے خلاف پیش کیا ہے۔ (دیکھئے: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز ص ۳۳۰۔۳۳۱) حالانکہ اس قول میں متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنم کے نام بے سند لکھے ہیں ان سے اثبات رفع الیدین کے متعلقہ ایک بھی صحیح السند روایت مروی نہیں ہے۔
یہ ہے ندوی صاحب کا انصاف! کہ جب اپنی مرضی کے خلاف کوئی قول یا روایت مل جائے تو موصوف اسے بے سند کہہ کر مکذوب قرار دے دیتے ہیں، اور جب اپنی مرضی کی روایت یا قول مل جائے تو پھر موصوف سرے سے سند کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔
ع جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے
تناقض(۵) عبدالرحمن کی علقمہ سے مروی حدیث ضعیف بھی اور صحیح بھی:
ترک رفع الیدین کے متعلقہ ایک حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے ندوی صاحب نے لکھا ہے کہ:
عاصم نے روایت مذکورہ عبدالرحمن بن الاسود سے نقل کی ہے اور عبدالرحمن نے اسے اپنے چچا علقمہ سے نقل کیا ہے اور عبدالرحمن کا سماع بتصریح منذری علقمہ سے ثابت نہیں۔ اس علت قادحہ کو رفع کرنے اور علقمہ سے عبدالرحمن کا سماع ثابت کرنے پر مفتی نزیری کے امام مصنف بذل المجہود نے بڑا زور لگایا ہے مگر اپنے اثبات مدعا میں موصوف ناکام رہے ہیں-85 الخ۔ (بلفظہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز ص ۴۱۱۔۴۱۲)
یہاں پرندوی صاحب ترک رفع الیدین دشمنی میں علقمہ سے عبدالرحمن کے عدم ثبوت سماع کا بوجہ جہالت و بغض بہانا بنا کر عبدالرحمن کی علقمہ سے مروی حدیث کو ضعیف قرار دے رہے ہیں۔
جبکہ دوسری جگہ ندوی صاحب نے عبدالرحمن کی علقمہ سے نقل کردہ بوقت رکوع تطبیق کے متعلقہ اپنی پسندیدہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: رسول اکرم ﷺ کا صحیح طریقہ نماز ص ۴۰۱)
تناقض(۶) سیدنا ابوہریرہؓ کی حدیث مؤطامالک میں ہے بھی اور نہیں بھی:
یکم مئی ۲۰۰۲ء میں لکھے ہوئے ایک مضمون میں ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کا انکار کرنے کے لیے ندوی صاحب نے لکھا کہ:
یہ روایت مؤطا امام مالک میں نہیں ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۸۲)
جبکہ اس سے پہلے مارچ ۲۰۰۲ء میں لکھے جانے والے مضمون میں ندوی صاحب نے اسی حدیث کے متعلق واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ:
یہ حدیث مؤطا امام مالک میں موجود ہے۔ (دیکھئے سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۹۳)
دروغ گوراحافظ نباشد
تناقض (۷)سیدناابوہریرہؓ کی حدیث صحیح بھی اور موضوع بھی:
ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کے بارے میں ندوی صاحب نے لکھا کہ:
اسے امام مالک پر بطور افتراء محمد نے چسپاں کر دیا ہے۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ: ص۲۸۲)
جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ روایت ندوی صاحب کے نزدیک موضوع (من گھڑت و جعلی )ہے۔
جب کہ ایک دوسرے مقام پر خود ندوی صاحب ہی نے لکھا ہے کہ:
یہ حدیث صحیح ہے۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۹۳)
دروغ گوراحافظہ نباشد
تناقص (۸) صحابہ کرامؓکے بعد والوں کا اجماع حجت بھی ہے اور نہیں بھی:
رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اگر کسی معتبر ذریعہ سے صحابہ کے بعد والوں کے اجماع کا ثبوت مل جائے تو اسے حجت مانا جا
سکتا ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۶)
جبکہ دوسری طرف ندوی صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ:
صحابہ کے بعد کا اجماع حجت نہیں ہو سکتا، بلکہ صحابہ کے بعد کسی دینی معاملہ پر پوری امت
کا اجماع ہونا محال ہے، لہٰذا صحابہ کے بعد والوں کے اجماع کا دعویٰ ہی باطل ہے۔
(سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۶)
یہ ہے ندوی صاحب کا حال! کہ موصوف ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد والوں کا اجماع حجت مانا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی لکھ رہے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد والوں کا اجماع ہی سرے سے حجت نہیں ہے۔
زبان مصلحت بین کو کیوں کر قرار آئے
اِدھر کچھ اور کہتی ہے، اْدھر کچھ اور کہتی ہے
تناقض (۹) ناقل کا منقول عنہ سے سے متفق ہونا ضروری ہے بھی اور نہیں بھی:
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق میں ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نقل کردہ اقوال سے جان چھڑانے کے لیے ندوی صاحب نے یہ اصول بنایا ہے کہ ناقل کا منقول عنہ سے متفق ہونا ضروری نہیں جب تک ناقل نے بالصراحت کچھ نہ کہا ہو چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ:
ان حضرات نے صرف ابن معین والی ایک روایت امام ابوحنیفہ کی توثیق میں نقل کر دی ہے اور
ناقل کا منقول عنہ سے متفق ہونا ضروری نہیں، جب کہ بالصراحت انہوں نے توثیق نہ کی ہو۔
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۱۴۸)
جبکہ دوسری طرف ندوی صاحب نے اپنی کتاب میں کئی مقامات پر احناف دشمنی میں بالجزم ناقل کے منقول عنہ سے متفق ہونے پر استدلال کیا ہے حالانکہ ان میں اکثر و بیشتر دیگر جگہوں پر ناقل کے منقول عنہ کے خلاف ہونے کی صراحت موجود ہے۔ مثلاً-85-85
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اہلسنت والجماعت کے ایک جلیل القدر امام کے بارے میں اپنی بعض کتب میں لکھا ہے کہ اسے امام ابن عدی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، تو رئیس ندوی نے حافظ موصوف کی نقل کو ہی ان کا نظریہ قرار دے دیا اور کہا کہ حافظ ابن حجر کے نزدیک بھی یہ امام ضعیف ہے (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۱۴۷وغیرہ) حالانکہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مقام پر صراحتاً اس امام کی توثیق کو راجح او راس کے خلاف جرح کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
اسی طرح مذکورہ امام کے بارے میں ہی تمہید شرح مؤطا (ج۲ص۲۷۲) میں منقولہ بعض مجہول حضرات کی جرح ‘‘ سئ الحفظ’’ کو ندوی صاحب نے بالجزم حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کا نظریہ قرار دیا۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۱۹۱ وغیرہ) حالانکہ حافظ ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ نے اپنی دوسری کتاب جامع بیان العلم و فضلہ میں صراحتاً اس امام کو عند الجمہور ثقہ قرار دیا ہے، اور جار حین کو مفرط اور متجاوز الحد کہا ہے۔
الغرض ندوی صاحب مسلکی مفاد میں قلابازیاں کھاتے ہوئے کبھی توناقل کے منقول عنہ سے متفق ہونے کو ضروری قرار دیتے ہیں اور کبھی نہیں۔
تناقض (۱۰) امام ثوریؒ کی عَن والی روایت ساقط الاعتبار بھی اور صحیح بھی:
رئیس ندوی صاحب نے ترک رفع یدین کی ایک حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ:
یہ حدیث امام سفیان بن سعید ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے معنعن نقل کی ہے، جو مدلس ہیں اور ان کی
مدلس روایت ساقط الاعتبار ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۷۲)
اس بیان میں ندوی صاحب امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو ساقط الاعتبار قراردے رہے ہیں۔ لیکن اس کے بالمقابل دوسرے متعدد مقامات پر ندوی نے اپنی پسندیدہ امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو صحیح قرار دے رکھا ہے مثلاً سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مقدار رفع الیدین کے متعلقہ امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک معنعن روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
یہ قابل قبول ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۶)
اسی طرح سینے پر ہاتھ باندھنے کے متعلقہ امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک معنعن روایت کو بھی صحیح کہا ہے۔ (دیکھئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز: ص ۲۵۹)
تناقض(۱۱) ابوحنیفہؒ صدوق بھی اور کذاب بھی:
رئیس ندوی نے لکھا ہے کہ:
موصوف ابوحنیفہ عمداً و قصداً کذب بیانی نہیں کرتے تھے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائز: ص ۱۶۲)
اس بیان میں ندوی نے تسلیم کیا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ لیکن اس کے بالمقابل دیگر متعدد مقامات پر رئیس ندوی نے تمام شرم وحیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضرت امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو بہت بڑا جھوٹا لکھا ہے، مثلاً ایک جگہ لکھتا ہے کہ:
ہم گزشتہ عبارات میں ان تینوں (حماد، اسماعیل اور ابوحنیفہ) کا بہت زیادہ ضعیف غیر ثقہ بلکہ
کذاب و افاک ہونا بیان کر آئے ہیں۔(سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۱۵۱)
سچ ہے:
بے حیاء باش وہرآنچہ خواہی کن
تناقض(۱۲)مرجوع مسلک کی طرف کسی کا انتساب افتراء پر دازی بھی اور صدق بیانی بھی:
رئیس ندوی صاحب نے ایک طرف تویہ اصول لکھا ہے کہ:
جس مسلک سے کوئی امام رجوع کر لیتا ہے اس کی طر ف اس کا انتساب علی الاطلاق ممنوع و
محظور ہے، بلکہ اس کا وہ مسلک ماننا ضروری ہے، جس کی طرف اس نے رجوع کر لیا ہے۔
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۳۰۴)
لیکن اس کے بالمقابل رئیس ندوی نے اپنی اسی کتاب ‘‘مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ میں علی الاطلاق متعدد حضرات کی طرف ایسے چیزیں منسوب کی ہیں ، جن سے وہ رجوع کر چکے ہیں۔ مثلاً اس نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف الزام تراشی کرتے ہوئے متعدد جگہ لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ جہمی المذہب اور عقیدہ خلق قرآن کے معتقد تھے۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۲۶۔۲۲۷۔۲۲۹ وغیرہ) حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کبھی بھی جہمی مذہب اور عقیدہ خلق قرآن کے معتقد نہیں ہوئے اوراگر بالفرض کسی زمانے میں ہوئے بھی ہوں توندوی ہی کے بقول اس سے رجوع کر چکے تھے۔
چنانچہ ندوی نے اپنی دوسری کتاب میں لکھا ہے کہ:
جس موقف کو موصوف (یعنی امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔ن)نے آخری زندگی میں اختیار کیا
اور اسی پر فوت ہوئے وہ عدم خلق قرآن کا عقیدہ ہے-85-85 یہ بیان بھی صحیح نہیں کہ عقیدہ مذکورہ
اور جہمی مذہب پر امام صاحب کی وفات ہوئی-85 امام صاحب کی آخری زندگی کے اختیار کردہ
موقف کا اعتبار کرتے ہوئے امام احمد بن حنبل نے کہا: ‘‘ لم یصح عندنا ان ابا حنیفۃ کان یقول القرآن مخلوق ’’ یعنی ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں کہ عقیدہ مذکورہ امام صاحب کا مذہب تھا۔ (اللمحات: ج ۲ ص ۴۵۔۴۶)
ندوی نے مزید لکھا ہے کہ:
بعض روایات میں ہے کہ امام صاحب جہم کو بھی کافر کہنے لگے تھے، صحیح بات یہ ہے کہ امام
صاحب نے آخر کار عقیدہ مذکورہ سے رجوع کر لیاتھا۔ (ایضاً: ج۲ ص ۴۳)
تناقض (۱۳) جماعت غیر مقلدیت مخلص بھی اورغیر مخلص بھی:
رئیس ندوی نے لکھا ہے کہ:
جماعت اہل حدیث کی حق کی خاطر مخلصانہ جاں بازی اور موازنہ دفاع و عادل و ثقہ و معتبر
ہونے پر مہر نبوت لگی ہوئی ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۳۴)
اس بیان میں توندوی صاحب جماعت غیر مقلدیت کی تعریف میں ڈونگرے برساتے ہوئے اسے مخلص اور جاں باز وغیرہ کہہ رہے ہیں۔ لیکن اس کے بالمقابل دوسری جگہ اس کے غیر مخلص ، بے حس اور عیاش وغیرہ ہونے کا روناروتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
ہر چہار جانب سے سلفی حضرات کے مطالبے ہونے لگے کہ ان دیوبندی کتابوں کی خبر لی جائے
مگر میں بیمار تھا اور اب بھی ہوں، میرے پاس ان دیوبندی کتابوں کی خبر لینے کے لیے مراجع
بھی نہیں تھے۔ سلفی حضرات تو اس طرح کے مطالبات بندہ خاکسار سے کرتے رہتے ہیں ،مگر
میری بدحالی، پریشانی ، اور مطلوبہ کتب والی ضرورت پر ذرہ برابر دھیان نہیں دیتے، خود بڑے
عیش و عشرت کی زندگی گزارتے اور بینک بیلنس کے چکر میں رہتے ہیں، میری حالت پر وہ کیسے
توجہ دیں؟ میں نے کئی حضرات سے مطالبہ کیا کہ کچھ کتابیں اس سلسلے میں عنایت فرمائیں، مگر کسی نے ایک بھی کتاب نہیں دی، اور جامعہ سلفیہ کے کتب خانہ تک زینے پار کر کے اپنی بیماری کے سبب جا نہیں سکتا، اور مکتبہ جامعہ سلفیہ بنارس مجھے اپنے کمرہ میں کوئی بھی کتاب لانے کا روادار
نہیں ہو سکتا۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۶۴۔۶۶۵)
تناقض (۱۴) سیرت معاویہؓ نامی کتاب مسلک غیر مقلدیت کی ترجمان بھی اور نہیں بھی:
رئیس ندوی نے سیرت معاویہ ؓ نامی ایک کتاب کو مسلک غیر مقلدیت کی ترجمان قرار دیتے ہوئے ایک طرف تو لکھا کہ:
اس کتاب میں امیر معاویہ کی طرف سے اچھا خاصہ دفاع بھی ہے، اسے پڑھ کر اکاذیب پر ست دیوبند خصوصاً ان کے پیدا کردہ ابوبکر غازی پوری کی قیادت میں فرقہ مقلدہ غازی پورہ امیر معاویہ اور ان جیسے صحابہ کی بابت اہل حدیث کا موقف معلوم کر سکتے ہیں۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۴۰)
اس بیان میں ندوی نے سیرت معاویہ ؓنامی کتاب کو مسلک غیر مقلدیت کی ترجمان کہا ہے۔ لیکن دوسری طرف ندوی نے اپنے اس بیان کی یہ کہہ کر بیخ کنی کر ڈالی کہ:
ہمیں کتاب امیر معاویہ کے ہر لفظ سے اتفاق نہیں ہے۔ (ایضاً:ص۶۴۰)
اب غیر مقلدیت کے احباب ہی بتائیں کہ جب سیرت معاویہ رضی اللہ عنہ نامی کتاب کے ہر لفظ سے انہیں اتفاق ہی سرے سے نہیں ہے تو پھر یہ کتاب مسلک غیر مقلدیت کی ترجمان کیسے بن گئی؟
تناقض (۱۵) اجماع امت حجت نہ ماننے کا اقرار بھی اور انکار بھی:
رئیس ندوی نے لکھا کہ:
صحابہ کے بعد کا اجماع حجت نہیں ہو سکتا۔ (سلفی تحقیقی جائزہ : ص ۶۶)
ندوی نے مزید لکھا کہ:
کسی کے افضل ہونے پر اجماع صحابہ غیر مسلم ہے۔ (ایضاً: ص ۶۵۸)
ان عبارات سے واضح ہے کہ ندوی صاحب اجماع کی حجیت کے منکر ہیں۔ لیکن دوسری طرف ندوی نے تمام شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے لکھ مارا ہے کہ:
اہل حدیث پر اجماع حجت نہ ماننے کا دیو بندی الزام خالص افتراء ہے۔(ایضاً :ص۶۵۶)
جن کو جھوٹ بولنے سے عار نہیں
ان کے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں
تناقض (۱۶) اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم کی مخالفت جائز بھی اور ناجائز بھی:
ندوی نے مطلب برآری کے لیے ایک جگہ تو لکھا کہ:
کسی کے افضل ہونے پر اجماع صحابہ غیر مسلم ہے۔ (تحقیقی جائزہ: ص ۶۵۸)
لیکن دوسری طرف اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ:
اجماع صحابہ کی مخالفت کسی صورت میں بھی جائزنہیں۔(ایضاً:۲۹۶)
تناقض (۱۷)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف لب کشائی بھی اور لب کشائی سے انکار بھی:
ندوی نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف متعدد مقامات پر لب کشائی کی ہے،مثلاً-85-85
ایک جگہ اس نے لکھا ہے کہ:
جنگ جمل میں حضرت علی کے خلاف لڑنے والے خصوصاًحضرت عائشہ صدیقہ کا بھی باغی ہونا
لازم آتا ہے،یہ بات کہہ دینے والے نواب وحیدالزمان اور پوری جماعت اہل حدیث کے
خلاف دیوبندیہ کی شوریدہ سری کیا معنی رکھتی ہے۔(سلفی تحقیقی جائزہ:ص۵۸۶)
ایک دوسری جگہ اس نے لکھا ہے کہ:
اور یہ معلوم ہے کہ حضرت علی مرتضیٰ کے خلاف ام المؤمنین عائشہ نے جنگ جمل کی قیادت و
جنگ آزمائی کی، جب کہ عورتوں کو جنگ کرنے اور زمام قیادت سنبھالنے سے نصوص میں منع
کیا گیا ہے۔(ایضاً:ص۶۸۶)
ایک اور جگہ اس نے لکھا کہ:
حضرت عائشہ نے نص نبوی کے خلاف تحریک چلائی-85 الخ۔ (ایضاً:ص۷۸۴)
ان بیانات میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خلاف بذات خود ندوی نے لب کشائی کی ہے۔ لیکن اس کے بالمقابل ندوی نے یہ دعویٰ بھی کر رکھا ہے کہ:
اہل حدیث حضرات عائشہ پر کوئی حرف گیری نہیں کرتے۔ (ایضا:ص۶۸۶)
بے حیاباش وہرآنچہ خواہی کن
تناقض (۱۸) ابوعیاش زید کو امام اعظمؒنے مجہول کہا بھی ہے ، اور نہیں بھی:
رئیس ندوی نے لکھاہے:
قرون ثلاثہ ہی کا جابر جعفی تھا، جسے امام ابوحنیفہ نے خود کذاب کہا اور زیدابی عیاش کو مجہول کہہ کران کی روایت رد کردی۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ:۷۱۹)
اس بیان میں ندوی نے تسلیم کیا ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ابوعیاش زید کو مجہول قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے بالمقابل دیگر متعدد جگہوں پر تمام شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ندوی نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ابو عیاش زید کو مجہول قرار دینا بسند صحیح سرے سے ثابت ہی نہیں ہے، مثلاً اپنے مخالفین کو چیلنج بازی کرتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
ہم کو ابوحنیفہ تک پہنچنے والی کوئی بھی ایسی سند نہیں نظر آتی کہ انہوں نے ابوعیاش زید کو مجہول کہا،
لہٰذا چودھویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والے فرقہ دیو بندیہ کے زعماء و علماء سمجھے جانے والے
حضرات کسی معتبر سند کے ساتھ جو امام ابو حنیفہ تک پہنچتی ہو ثابت کریں کہ واقعی امام ابوحنیفہ نے
ابوعیاش کو مجہول کہا ہے۔ (ایضاً: ص ۱۵۶)
ندوی نے مزید لکھا کہ:
ابن الجوزی نے وہ معتبر سند بیان نہیں کی، جس سے معلوم ہو کہ واقعی ابوحنیفہ نے ابوعیاش زید کو مجہول کہاہے۔ (ایضاً: ص ۱۶۰)
آپ خود ہی اپنے جوروجفا پر ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
تناقض (۱۹) امام حماد بن ابی سلیمانؒ ضعیف بھی اور قابل استدلال بھی:
امام حماد بن ابی سلیمان رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں ندوی نے لکھا ہے کہ:
وہ ضعیف ہیں، کثیر الغلط والخطاء و مختلط ہونے کے سبب وہ غیر معتبر ہیں-85 حماد بن سلیمان کو صاحب طبقات ابن سعد نے ضعیف قرار دیا اور ‘‘میزان’’ میں کہا کہ انہیں اعمش نے کذاب
وغیرہ ثقہ کہا۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۱۴۸۔۱۴۹)
جبکہ دوسری طرف ندوی نے متعدد مقامات پر مسلکی حمایت میں حمادمذکور کی باتوں کو دلیل بنایا ہے، مثلاًند وی نے ایک جگہ لکھا کہ:
امام ابوحنیفہ کے استاذ خاص حماد اور دوسرے استاذ حکم بن عتیبہ سے بسند صحیح مروی ہے کہ‘ ‘ اذا لمس فعلیہ الوضوء ’’ یعنی عورت کو مرد کا چھونا ناقض وضو ہے۔ (صحیح طریقہ نماز: ص ۱۴۲)
اسی طرح ایک روایت کے بارے میں ندوی نے ہی لکھا ہے کہ: حماد سے بسند صحیح یہ بھی مروی ہے-85-85الخ۔ (ایضاً: ص ۱۴۳)
ندوی کے انصاف کو داد دیجئے! وہ ایک طرف تو امام حماد بن ابی سلیمان رحمہ اللہ کو ضعیف ، کثیر الخطاء والغلط، مختلط، غیر معتبر اور غیر ثقہ وغیرہ قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ ان کی باتوں کو دلیل بھی بنا رہاہے، اور ان سے مروی روایت کو صحیح بھی کہہ رہا ہے۔
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
تناقض (۲۰) لیث بن ابی سلیم کی روایت کردہ حدیث مکذوب بھی اور حسن بھی:
رئیس ندوی نے اپنے مسلک کے خلاف مروی ایک حدیث کو ساقط الاعتبار ثابت کرنے کے لیے اس کے راوی ‘‘لیث بن ابی سلیم’’ کے بارے میں لکھا:
لیث بن ابی سلیم بھی موسیٰ بن طلحہ والی روایت کے بنیادی راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی کی طرح آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے عام اہل علم نے اس کی صراحت کر دی ہے حافظ ابن حبان نے تمام اہل علم کی باتوں کا حاصل بیان کرتے ہوئے کہا: موصوف لیث آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے ، اور سندوں کو الٹ پلٹ دیتے اور مرسل وغیر مرفوع روایت کو مرفوع و متصل کر کے بیان کر دیا کرتے تھے ثقات کی طرف ان حدیث کو منسوب کر دیتے تھے جو ان کی بیان کردہ نہیں ہوتی تھیں موصوف کو امام یحییٰ قطان و عبدالرحمن بن مہدی و ابن معین واحمد نے متروک قرار دیا ہے۔-85 (حافظ ابن حجر) نے لکھا کہ لیث بہت زیادہ مختلط ہو گئے تھے اور موصوف کی بیان کردہ احادیث میں مختلط وغیر مختلط روایات کی تمیز نہیں ہو سکی لہٰذا متروک قرار دیے گئے۔ معلوم ہوا کہ عقل و حوش و ہواس کھودینے والے مرفوع القلم راوی کی عالم حواس باختگی میں بیان کردہ مکذوب بات کو حدیث نبوی کہہ کر مفتی نزیری اور ان کے ہم مزاج تقلید پرست لوگوں نے دین و ایمان بنا لیا ہے۔ جب مفتی نزیری کی اس مستدل روایت کے بنیادی راوی لیث مرفوع القلم عقل و خرد اور ہوش و حواس سے محروم تھے تو انہوں نے اپنی بیان کردہ اس روایت کی جو سند بیان کی ہے یعنی ‘‘طلحہ بن مصرف عن ابیہ عن جدہ’’ وہ ظاہر ہے کہ مکذوب محض ہے ویسے عالم حواس باختگی میں لیث کبھی طلحہ کے باپ دادا کا نام مصرف بن عمروبن کعب بتلاتے کبھی کچھ اور۔ اور جس طلحہ کے نام سے لیث یہ روایت بیان کرتے وہ اگر واقعی مصرف بن عمرو کے لڑکے ہیں تو ثقہ ہیں، ورنہ طلحہ کوئی فرضی شخص ہے جسے عالم حواس باختگی میں لیث نے اپنی اس بیان کردہ حدیث کا راوی کہہ دیا ہے۔ اور جو صورت حال بھی ہواس سند کا بنیادی راوی چونکہ مختلط ہے اس لیے یہ روایت مکذوب محض ہے مصرف کے جس باپ و دادا کی سند سے یہ روایت مروی ہے ان کے نام لینے میں اختلاط کے شکار لیث مضطرب البیان بھی ہیں جس کے سبب ان کی تعیین نہیں ہو سکتی اور یہ صورت حال میں اس روایت کے مکذوب و ساقط ہونے کے لیے واضح دلیل ہے کیونکہ اضطراب بذات خود علت قادحہ ہے اور لیث اختلاط کے ساتھ اضطراب کے وصف سے بھی متصف ہیں۔ (صحیح طریقہ نماز: ص۱۰۹۔۱۱۰)
ملاحظہ فرمائیں! ندوی نے اپنے مسلک کے خلاف مروی حدیث کو غیر معتبر ثابت کرنے کے لیے اس کے راوی کا کتنا بتنگڑ بنایا یہاں تک کہ اس کی نقل کردہ حدیث کو مکذوب (جھوٹی) کہہ ڈالا۔ لیکن اس کے برعکس مسئلہ قرات کے بارے میں اسی راوی لیث بن ابی سلیم کی ایک حدیث کی تحسین کرتے ہوئی ندوی نے لکھا کہ:
پہلے والی حدیث کی سند میں لیث بن ابی سلیم کی متعددائمہ کرام نے توثیق کی ہے اور متعدد نے
تجریح کی ہے، اس لیے وہ حسن ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۳۳۸)
ملاحظہ فرمائیں! جب لیث کی روایت ان کے خلاف ہو تو پھر مکذوب (جھوٹی) بن جاتی ہے، لیکن اگر اسی لیث کی روایت ان کے مفاد میں ہو تو حسن قرار پاتی ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
تناقض (۲۱) مختلط راوی کی روایات مکذوب بھی اور قابل استدلال بھی:
ندوی نے اپنے مسلک سے ٹکرانے والی احادیث کو ضعیف قرار دینے کے لیے یہ اصول وضع کیا ہے کہ مختلط راوی کی بیان کردہ روایت مکذوب (جھوٹی) شمار ہو گی۔ چنانچہ ایک حدیث کو ساقط الاعتبار قرار دیتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
جو صورت حال بھی ہو اس سند کا بنیادی راوی چونکہ مختلط ہے اس لیے یہ روایت مکذوب محض ہے۔ (بلفظہ صحیح طریقہ نماز ص ۱۱۰)
مگر دوسری طرف متعدد اپنی پسندیدہ مختلط راویوں سے مروی احادیث سے ندوی نے استدلال بھی کر کھاہے اور کئی ایک کی تصحیح و تحسین بھی کر رکھی ہے۔
مثلاً قرات کے بارے میں لیث بن ابی سلیم سے مروی ایک روایت کو ندوی نے حسن کہا ہے۔ (دیکھئے: تحقیقی جائزہ ص ۳۳۸) حالانکہ لیث ندوی کے بقول ہی مختلط راوی ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۱۰۹۔۱۱۰)
تناقض (۲۲) امام اعمش کی عَن والی احادیث ضعیف، ساقط الاعتبار بھی اور صحیح بھی:
امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ کی عَن والی احادیث کے بارے میں بھی رئیس ندوی دو غلی پالیسی پر گامزن ہے، چنانچہ ندوی نے ان کی روایت کردہ متعدد احادیث (جو ندوی کے موقف کے خلاف تھیں) کو ضعیف قرار دیا ہے، مثلاً ندوی نے ایک روایت کی صحت کا انکار کرتے ہوئے لکھا کہ:
اعمش نے اسے معنعن نقل کیا، وہ مدلس تھے، پھر یہ روایت کیونکر صحیح ہے؟
(تحقیقی جائزہ: ص ۴۹۱)
ندوی نے ایک اور حدیث کے بارے میں لکھا کہ:
اس روایت کی سند میں اعمش مدلس واقع ہیں، اعمش نے اسے تدلیس ہی کے ساتھ حبیب بن
ابی ثابت سے نقل کیا ہے، اس لیے یہ ساقط الاعتبار ہے۔ (تحقیقی جائزہ: ص ۵۲۵)
اسی طرح ایک اور جگہ لکھا کہ:
اس کی سند میں اعمش کی تدلیس ہے، لہٰذا یہ ساقط الاعتبارہے۔ (تحقیقی جائزہ:ص۵۳۱)
لیکن اس کے برعکس ندوی نے امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ کے عَن والی کئی احادیث (جو ندوی کے فہم کے مطابق ندوی کے حق میں تھیں) کو صحیح قرار دیا ہے۔
مثلاً سنن دارقطنی (ج۱ ص ۳۳۱) کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک حدیث کو ندوی نے صحیح یا حسن کہا ہے۔ (دیکھئے: تحقیقی جائزہ ص ۳۶۷) حالانکہ سنن دارقطنی کے محولہ صفحات پر یہ حدیث امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ کے عَن کے ساتھ مروی ہے۔ اسی طرح محلیٰ ابن حزم (ج۳ص۴۲) کے حوالے سے رکعات وترکے بارے میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت کو ندوی نے بلحاظ سند صحیح کہا ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۵۷۸) حالانکہ یہ روایت بھی محلیٰ کے محولہ صفحات پر امام عمش رحمۃ اللہ علیہ کے عَن کے ساتھ مروی ہے۔
تناقض (۲۳) امام قتادہ کی عَن والی روایات قابل استدلال بھی اور ضعیف بھی:
امام قتادہ رحمہ اللہ کی عَن والی روایات کے بارے میں بھی ندوی دوغلی پالیسی پر گامزن ہے۔چنانچہ ندوی نے اپنے مفاد میں سمجھتے ہوئے مصنف ابن ابی شیبہ (ج۲ ص ۳۰۵) کے حوالے سے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے منسوب قنوت وتر کے بارے میں ایک روایت سے بالجزم استدلال کرتے ہوئے اسے اپنے مخالفین کے خلاف پیش کیا ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۶۳۵) حالانکہ مصنف کے محولہ صفحہ پر یہ روایت امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ہے۔
لیکن اس کے برعکس ندوی نے امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ کے عَن والی اپنی مخالف روایات کو ضعیف گردانا ہے۔چنانچہ ترک قرات کے متعلقہ ایک روایت کو ضعیف قرار دینے کے لیے ندوی نے لکھا کہ:
ہم کہتے ہیں کہ مصنف ابن ابی شیبہ والی روایت میں قتادہ مدلس کی تدلیس واقع ہے۔ (تحقیقی
جائزہ: ص ۴۷۶) (لہٰذا مردود ہے)۔
تناقض (۲۴) منقطع السند روایات سے استدلال صدق بیانی بھی اور کذب بیانی بھی:
ندوی نے ایک جگہ تاریخ کبیر للبخاری (ج۸ ص ۴۲۵) سے ترک رفع یدین کی ایک صحیح صریح حدیث کے خلاف ایک روایت (جس میں ہے کہ امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ کے پوچھنے پر امام سفیان رحمہ اللہ نے ترک رفع الیدین کی حدیث کا انکار کر دیا تھا) پیش کی ہے (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۸۔۲۷۹) ، یہ روایت منقطع السند ہے، کیونکہ امام سفیان رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب یہ روایت عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل کی ہے اور عبدالرحمن بن مہدی رحمۃ اللہ علیہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا روایات سنناسرے سے ممکن ہی نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت منقطع السند ہے،اس کے باوجود ندوی نے ترک رفع الیدین کی صحیح حدیث کے خلاف اس روایت کو بڑے طمطراق سے پیش کیا ہے۔
لیکن اس کی بے انصافی کی حد ہے کہ جب اس طرح کی کوئی منقطع السند روایت اس کے مؤقف کے خلاف ہو تو پھر وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔
مثلاً ترک قرات کے متعلقہ امام علقمہ بن قیس کی ایک روایت کو اپنے بزعم منقطع السند سمجھتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
منقطع ہونے کے باوصف علل مذکورہ کے رہتے ہوئے فرقہ دیوبندیہ کا اسے‘‘حسن’’ کہنا اور اس
پر بزعم خویش عمل کرنا اکاذیب پرستی کے علاوہ کیا ہے؟(تحقیقی جائزہ: ص ۴۸۸)
یہ لوگ بھی غضب کے ہیں ، دل پر یہ اختیار
شب موم کر لیا سحر آہن بنا لیا
تناقض(۲۵) مجہول روات سے مروی احادیث مکذوب بھی اور بہت پختہ ٹھوس بھی:
رئیس ندوی نے ایک روایت کے بارے میں لکھا کہ:
اس کی سند میں واقع عتبہ مجہول ہے، اور اس سے روایت کرنے والا حمادبن حسن بھی مجہول یا
متروک و مجروح ہے-85 یہ سب دلائل ہیں فرقہ دیوبند یہ کی مستدل روایت کے مکذوب ہونے
پر -85الخ۔ (تحقیقی جائزہ: ص ۷۲۳)
اس بیان میں ندوی نے روایت کی سند میں مجہول راوی ہونے کو روایت کے مکذوب (جھوٹی) ہونے کی دلیل بنایا ہے، یعنی ندوی کے نزدیک مجہول روایت سے مروی احادیث مکذوب (جھوٹی) شمار ہوتی ہیں۔
لیکن اس کے بالمقابل دیگر متعدد جگہوں پر اپنے مسلک کی حمایت میں ندوی نے مجہول روات سے مروی روایات سے بڑے طمطراق سے استدلال کیا ہے۔
مثلاً مسند احمد (ج۱ ص ۱۲) میں موجود ابن جریج کی نماز کے بارے میں ایک روایت سے ندوی صاحب نے استدلال بھی کیا ہے اور اس روایت کو صراحتاً بہت پختہ و ٹھوس بھی کہا ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۳۴۴) حالانکہ اس روایت کی سند میں مکی راوی مجہول ہیں۔
سچ ہے:
بے حیاباش وہر آنچہ خواہی کن
تناقض (۲۶) امام محمد رحمۃ اللہ علیہ قابل اعتماد بھی اور ساقط الاعتبار بھی:
رئیس ندوی خوف خدا سے اس قدر عاری ہے کہ ایک طرف وہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہکو ضعیف، کذاب اور ساقط الاعتبار کہتا ہے (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۱۵۱۔۳۷۸ وغیرہ ) لیکن دوسری طرف یہ بے شرم انسان ضرورت پڑنے پر آپ کی کتب و روایات سے استدلال بھی کرتا ہے۔
مثلاً ندوی نے ایک جگہ مؤطا امام محمد سے استدلال کرتے ہوئے لکھا کہ:
امام محمد شاگردابی حنیفہ علوم ابی حنیفہ کی نشرواشاعت وتدوین و ترویج کرنے والے ہیں انہوں
نے اپنی کتاب موطا میں یہ باب قائم کر رکھا ہے‘‘ باب قیام شہر رمضان ومافیہ من الفضل’’-85
الخ۔ (صحیح طریقہ نماز ص ۶۵۹)
ایک اور جگہ مؤطا محمد سے استدلال کرتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
ابو حنیفہ جن کی تقلید کادم مفتی نزیری بھرتے ہیں ان کی بابت ان کے شاگرد امام محمد بن حسن
فرماتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ الخ۔ (صحیح طریقہ نماز ص ۲۹۷)
ایک مقام پر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
امام محمد نے بروایت ابی حنیفہ اس حدیث نبوی کو نقل کیا کہ عورتوں پر نماز جمعہ فرض نہیں-85الخ۔
(صحیح طریقہ نماز ص ۵۳۲)
کتاب الحجہ لامام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
امام محمد بن حسن نے کہا ‘‘وقال اہل المدینۃ۔۔۔۔۔الخ۔’’ (ایضاً: ص ۴۸۱)
اسی طرح ندوی نے اپنی دوسری کتاب ‘‘اللمحات’’ میں بھی کئی مقامات پر امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ (مثلاً دیکھئے: اللمحات ج۲ ص ۳۹۸۔۳۹۹۔ ۴۰۰۔۴۰۱۔وغیرہ)
رئیس ندوی کو شرم کیوں نہیں آتی ایک طرف وہ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کو ضعیف ، کذاب اور ساقط الاعتبار گردانتا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ شرم و حیاء کی تمام حدود کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر آپ کی کتب اور روایات سے استدلال بھی کرتا ہے۔
رئیس ندوی!
شرم تجھ کومگر نہیں آتی۔
تناقض (۲۷) امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ قابل اعتماد بھی اور ساقط الاعتبار بھی:
امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی ندوی دو غلی پالیسی پر گامزن ہے ایک طرف وہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کو ضعیف، کذاب اور ساقط الاعتبار کہتا ہے (دیکھئے: سلفی تحقیق جائزہ ص ۱۵۱ وغیرہ) لیکن دوسری طرف یہ ضرورت پڑنے پر آپ کی کتب و روایات سے استدلال بھی کرتا ہے۔
مثلاً قیام لیل کے بارے میں امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ایک حدیث سے استدلال کرنے کے لیے ندوی نے لکھا کہ:
کتاب الاٰثار لابی یوسف میں ہے‘‘عن ابی حنیفۃعن ابی جعفر محمد بن علی الباقر -85الخ’’
(صحیح طریقہ نماز ص ۶۸۴)
اسی طرح ندوی نے اپنی دوسری کتاب ‘‘اللمحات’’ میں بھی کئی مقامات پر قاضی ابویوسف رحمہ اللہ کی روایات سے استدلال کیا ہے۔ (مثلاً دیکھئے: اللمحات ج۲ ص ۳۹۸۔ ۳۹۹۔ ۲۰۰۔ ۴۰۱۔ وغیرہ)
تیری بات کو بت حیلہ گرنہ قرار ہے نہ قیام ہے
کبھی شام ہے کبھی صبح ہے، کبھی صبح ہے کبھی شام ہے
تناقض (۲۸۔۲۹) احادیث کی صحت اور ضعف کے بارے میں امام عینیؒ اور حافظ ابن ہمامؒ کے فیصلے معتبر بھی اور غیر معتبر بھی:
رئیس ندوی اپنے مطلب کے لیے امام ابومحمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کے احادیث کی تصحیح و تضعیف میں اقوال کو اپنے مخالفین کے مقابلے میں بطور سند ذکر کرتا ہے۔
مثلاً مسئلہ آمین کے بارے میں ایک روایت کو اپنے مخالفین کے خلاف پیش کر کے ندوی نے لکھا کہ:
یہ حدیث نقل کرنے کے بعد اس پر کسی قسم کا کوئی کلام کئے بغیر عینی حنفی وزیلعی حنفی و حافظ ابن حجر نے سکوت اختیار کیا جس سے مستفاد ہوتا ہے کہ یہ حدیث معتبر ہے اور اس لائق نہیں کہ اس پر کلام کیا جائے۔ (صحیح طریقہ نماز ص ۲۸۹)
اسی طرح بوقت وضو تسمیہ کے متعلقہ ایک روایت کو اپنے مخالفین کے خلاف پیش کر کے ندوی نے لکھا کہ:
‘‘ قال الہیثمی والعینی الحنفی وابن الہمام الحنفی اسناد حسن ’’ (امام، ہیثمی ،
علامہ عینی حنفی اور حافظ ابن ہمام حنفی نے کہا کہ اس روایت کی سند حسن ہے۔ن)
(صحیح طریقہ نماز ص ۸۴)
لیکن جب علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ ندوی کے موقف کے خلاف مروی کسی حدیث کو صحیح یا حسن کہہ دیں تو پھر وہ ان حضرات پرجروحات کے کلہاڑے چلانا شروع کر دیتا ہے۔
مثلاً ثقہ و صدوق راویوں سے مروی ایک صحیح صریح حدیث (جو کہ ندوی کے مسلک کے خلاف تھی) کو علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے بلحاظ سند صحیح کہا تو ندوی نے بغیر کسی معقول دلیل کے ان کی تصحیح کو ردکرتے ہوئے لکھا کہ:
ہم کہتے ہیں کہ عینی بھی دیوبند یہ کی طرح تقلید پرست مرجء المذہب تھے، وہ بھی اپنے تقلیدی
و مرجی مذہب کی حمایت کا طریقہ فرقہ دیو بندیہ کو سکھلا گئے ہیں-85 روایت قطعی طور پر ساقط ہے
اور عینی و دیوبندیہ کا دعویٰ جھوٹا ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۳)
اسی طرح ایک اور حدیث(جو کہ ندوی کے مسلک کے خلاف تھی) کو حافظ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح کہا تو ندوی نے ان کی تصحیح کو رد کرتے ہوئے لکھا کہ:
فرقہ دیوبندیہ کا یہ کہنا کہ ابن الہمام نے اسے ‘‘صحیح علی شرط الشیخین’’اور علامہ عینی نے صحیح
کہا،تویہ دونوں حضرات بھی فرقہ دیوبندیہ جیسے تقلیدپرست تھے،جن کی غلط بیانیاں مشہورو
معروف ہیں۔(ایضاً:ص۳۷۹)
آپ خود ہی اپنے جوروجفا پر ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
تناقض (۳۰) مرسل احادیث مقبول بھی اور مردود بھی:
ضرورت پڑنے پر مسلکی حمایت میں متعدد مقامات پر ندوی نے مرسل احادیث سے استدلال کیا ہے۔
مثلاً مسئلہ طلاق کے بارے میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ایک روایت کو ندوی نے اپنے مخالفین کے خلاف پیش کر کے اس سے اپنے موقف پر استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۰۷) حالانکہ اس روایت کا مرسل ہونا خود ندوی کو بھی تسلیم ہے۔
اسی طرح کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کے بارے میں ایک حدیث کو مرسل تسلیم کرنے کے باوجود اس سے ندوی نے اپنے مؤقف پر استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۹۲۔۹۳)
مزید برآں دعائے قنوت کے بارے میں امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اور فجر کی سنتوں کے بارے میں امام عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کی مرسل حدیث سے بھی ندوی نے اپنے موقف پر استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے: صحیح طریقہ نماز ص ۶۴۱۔۲۲۰)
لیکن اس کے بالمقابل دیگر کئی جگہوں پر ندوی نے مرسل احادیث کو غیر معتبر قرار دیا ہے،مثلاً اپنے مسلک کے خلاف مروی ایک حدیث کو زبردستی مرسل قرار دیتے ہوئے ندوی نے لکھا کہ:
یہ روایت مرسل ہے جو ازروئے تحقیق غیر معتبر ہوا کرتی ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ ص ۸۹۳)
تناقض (۳۱) دیوبندی مقلد بھی اور غیر مقلد بھی:
رئیس ندوی نے لکھا کہ:
ہم کہتے ہیں کہ عینی بھی دیوبند یہ کی طرح تقلید پرست -85 تھے۔( سلفی تحقیق جائزہ ص ۲۸۳)
ندوی نے مزید لکھا کہ:
فرقہ دیوبند یہ کا یہ کہنا کہ ابن الہمام نے اسے ‘‘صحیح علی شرط الشیخین’’ اور علامہ عینی نے صحیح کہا، تو
یہ دونوں حضرات بھی فرق دیو بند بندیہ جیسے تقلید پرست تھے۔(ایضاً: ص۳۷۹)
ان بیانات میں ندوی نے تسلیم کیا ہے کہ (اہلسنت والجماعت) دیو بندی حضرات مقلد ہیں۔ لیکن اس کے بالمقابل دوسری جگہ ندوی نے لکھا کہ:
دیوبندیہ وبریلویہ درحقیقت غیر مقلد ہیں۔ (ایضاً: ص ۱۰۲)
ندوی نے مزید لکھا کہ:
دیو بندیہ وبریلویہ کی غیر مقلدیت مطلق العنان ہے۔ (ایضاً: ص ۱۰۲)
سچ ہے:
بے حیاباش وہرآنچہ خواہی کن
تناقض (۳۲) اختلافی مسائل میں مقلدین کی نقل معتبر بھی اور غیر معتبر بھی:
رئیس ندوی اختلافی مسائل میں اپنی مفید مطلب مقلدین کی نقل پر تو پوری طرح اعتماد کرتا ہے۔ مثلاً ندوی ایک جگہ لکھتا ہے:
امام محمد بن علی باقر سے مروی ہے کہ ‘‘کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابوبکر وعمر وعثمان وعلی یکبرون فی العید سبعاوخمساً’’ -85-85 نصب الرایہ ج ۲ ص ۱۹بحوالہ عبدالرزاق والمحلیٰ لابن حزم و مشکوٰۃ مع مرعاۃ۔ (صحیح طریقہ نماز : ص ۶۵۲)
ملاحظہ کریں! یہاں ندوی تکبیرات عیدین کے اختلافی مسئلہ کے بارے میں امام زیلعی حنفی مقلد کی نقل پر اعتماد کررہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی ندوی نے اپنی کتب میں کئی اختلافی مسائل میں مقلدین کی نقل پر اعتماد کیا ہے۔
لیکن دوسری طرف جب مقلدین کی نقل ندوی کے مسلک کے خلاف ہو تو پھر وہ مقلدین کی نقل کو غیر معتبر قرار دے دیتا ہے۔ چنانچہ طلاق کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے ندوی نے ایک جگہ لکھا کہ:
اور مقلدین کی نقل کا اس طرح کے مسائل میں کوئی اعتبار نہیں۔
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۳۸)
تناقض (۳۳) مدلس کی عَن والی روایت مردود بھی اور مقبول بھی:
رئیس ندوی نے لکھا ہے کہ:
مدلس کی معنعن روایات دراصل منقطع السند و ساقط الاعتبار ہوتی ہیں۔
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۴۷۳)
لیکن ضرورت پڑنے پر مسلکی حمایت میں خود ندوی نے کئی راویوں کو مدلس قرار دینے کے باوجود ان کی عَن والی روایات سے استدلال کیا ہے، اور کئی ایک کی روایات کو تو حسن اور صحیح بھی کہا ہے، جیسا کہ گزشتہ تنا قضات میں اسکی مثالیں گزر چکی ہیں۔
ندوی صاحب کے چھ سو سے زائدتناقضات میں سے یہ تینتیس تناقضات بطورِ نمونہ پیش کئے گئے ہیں۔
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں