باب دوم
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین
اور ترک رفع یدین
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ندوی جھوٹ نمبر ۱۶:
قارئین: شیخ القرآن و الحدیث، الامام الثقہ حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ‘‘مقالہ تحقیق رفع یدین’’ میں لکھا تھا کہ: متعدد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ (ملخصاً: مجموعہ مقالات ج۳،ص۸۴) اس کے جواب میں اٰل غیر مقلدیت کا مفتی رئیس ندوی لکھتا ہے کہ:
‘‘ہم کہتے ہیں کہ دیو بندیہ اپنے اس بیان میں جھوٹے ہیں’’۔ (تحقیقی جائزہ: ص۲۹۲)
الجواب:
قارئین! آپ وہ روایات ملاحظہ فرمائیں جن میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین چھوڑنے کا ذکر ہے۔ جس سے فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق رئیس ندوی کا جھوٹا ہونا اور محدث عظیم حبیب الرحمان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کا سچا ہونا خود بخود واضح ہو جائے گا۔
(سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین)
اثر نمبر۱: بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ
‘‘ حدثنا یحیی بن آدم عن حسن بن عیاش عن عبدالملک بن ابجز عن الزبیر بن عدی عن ابراہیم عن الاسود قال: صلیت مع عمر فلم یرفع یدیہ فی شئ من صلاتہ الاحین افتتح الصلٰوۃ ۔۔۔۔الخ ’’ (مصنف ابن ابی شیبہ : ج۱، ص۲۶۸)
ترجمہ: حضرت اسودرحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی تو انہوں نے شروع نماز کے علاوہ کسی بھی جگہ نماز میں رفع یدین نہ کیا۔
تخریج:
یہ اثر درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔
(۱)۔۔۔۔شرح معانی الاٰثار: ج۱، ص ۱۶۴
(۲)۔۔۔۔الاوسط لابن المنذر: برقم ۱۳۴۵
(۳)۔۔۔۔شرح سنن ابی داود للعینی: ج۳، ص ۳۳۰
(۴)۔۔۔۔شرح ابن ماجہ لمغلطائی:ج۱، ص ۶۲
(۵)۔۔۔۔مرقات : ج۳ ،ص ۳۰۳
(۶)۔۔۔۔الجوہرالنقی: ج۲،ص ۷۹
(۷)۔۔۔۔الدرایہ: ج۱، ص ۱۵۲
(۸)۔۔۔۔نصب الرایہ: ج۱، ص ۴۰۵
﴿سند کی تحقیق﴾
اس اثر کی سند کے راویوں کا مختصر ساتذکرہ حاضر خدمت ہے۔
(۱)امام یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۳ھ
امام ابوزکریا یحییٰ بن آدم بن سلیمان الاموی القرشی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۳ھ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ بالا جماع راوی ہیں، ان کی توثیق وتعدیل کے حوالے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صدوق ’’ (تاریخ اسماء الثقات : برقم ۱۶۱۷)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن سعدرحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الطبقات الکبری: ج۶، ص۴۰۶)
(۳)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ کوفی ثقۃ ثبت فی الحدیث ’’ (ملخصاً: معرفۃ الثقات ج۲،ص۳۴۷)
(۴)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الجرح والتعدیل: ج۹، ص۱۲۸برقم ۱۹۶۰)
(۵)۔۔۔۔امام ابوزکریا ابن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب الاسماء واللغات: ج۲،ص۱۵۰)
(۶)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان فقیھا اماماً غزیر العلم۔ العلامۃ الحافظ المجود ’’(تاریخ اسلام: ج۵، ص ۲۱۶ برقم ۴۰۱ ،سیر اعلام النبلاء: ج۸ ص۱۹۸)
(۷)۔۔۔۔امام ابوعبدالرحمن نسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’(تہذیب التہذیب : برقم ۳۰۰)
(۸)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ حافظ ’’ (تقریب : برقم ۷۶۹۶)
(۲)امام حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۲ھ
دوسرے راوی امام ابومحمد حسن بن عیاش بن سالم الاسدی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۲ھصحیح مسلم، سنن ترمذی اور سنن نسائی کے راوی ہیں، ان کو متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثقہ وصدوق قرار دیا ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ملخصاً: معرفۃالثقات برقم ۳۰۴)
(۲)۔۔۔۔امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں :‘‘ ثقۃ ’’(الجرح و التعدیل : برقم۱۱۹)
(۳)۔۔۔۔امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ اسماء الثقات : برقم ۱۹۸)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حجۃ ’’(خلاصہ تذہیب: ج۱،ص۸۰)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب : برقم ۴۱۸۱)
(۳)امام عبدالملک بن ابجزرحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۱ھ
تیسرے راوی امام عبدالملک بن سعید بن حیان بن ابجزالمعروف بابن ابجزالھمدانی الکنانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۱ھ صحیح مسلم، سنن النسائی ، سنن ترمذی اور سنن ابی داؤد کے راوی ہیں، ان کی توثیق و تعدیل کے حوالے حاضر خدمت ہیں۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ الثقات للعجلی: برقم ۱۰۳۰)
(۲)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’(الجرح والتعدیل: ج۵، ص۳۵۶برقم ۱۶۶۱)
(۳)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۴)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الکاشف : برقم ۳۴۵۳ ،تاریخ الاسلام: برقم ۲۷۹)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں : ‘‘ ثقۃ عابد ’’ (تقریب :ج۱، ص۳۶۳ برقم ۴۱۸۱)
(۴)زبیر بن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۱ھ
چوتھے راوی ابوعدی زبیر بن عدی الہمدانی الیامی القاضی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۱ھصحیح بخای ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں۔ ان کو متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثقہ و صدوق کہا ہے۔ مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت صاحب سنۃ ’’ (تاریخ الثقات :ج۳،ص۵۸۰ برقم ۲۶۳۲)
(۲)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھکہتے ہیں:‘‘ ثقۃ صالح الحدیث مقارب الحدیث ’’(الجرح والتعدیل: ج۳، ص۵۸۰ برقم۲۶۳۲)
(۳)۔۔۔۔امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۴)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ فقیہ۔العلامۃ الثقۃ ’’ (الکاشف: برقم ۲۶۲۴ سیراعلام النبلاء : برقم ۹۰۱)
(۵)امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۶ھ
پانچویں راوی امام ابوعمران ابراہیم بن یزید بن قیس النخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۶ھصحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ بالا جماع جلیل القدر راوی ہیں۔ ان کی متعدد دائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثناء ومدح اور توثیق و تعدیل بڑے واضح لفظوں میں فرمائی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن احمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ، رجل صالح، فقیہ متوقی ’’ (ملخصاً: تاریخ الثقات ج۱،ص۵۶ برقم ۴۵)
(۲)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ وکان عجباً فی الورع والخیر متوقیاً للشھرۃ راساً فی العلم۔ فقیہ العراق-85۔ وکان من کبارالائمۃ۔ الامام الحافظ فقیہ العراق احدالاعلام-85 ۔واسع الروایۃ فقیہ النفس کبیر الشان کثیر المحاسن ’’(الکاشف: برقم ۲۲۱ ، تاریخ الاسلام ج۲، ۱۰۵۲ ،سیر اعلام النبلاء ج۴،ص۵۲۰ برقم ۲۱۳)
(۳)۔۔۔۔علامہ ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ‘‘ احد الائمۃ المشاھیر ’’(وفیات الاعیان:ج۱،ص۲۵)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ الفقیہ المشھور۔ ثقۃ ’’ (الایثار بمعرفۃ رواۃ الآثار ج۱، ص۳۹: تقریب برقم ۲۷۰)
(۵)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھکہتے ہیں :‘‘ ذکی حافظ صاحب سنۃ ’’(وفیات الاعیان :ج۱،۲۵وتہذیب:ج۱ص۱۷۷)
(۶)۔۔۔۔علامہ ابن الغزی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۶۷ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الامام الحبر الفقیہ التابعی ’’(دیوان الاسلام: ص ۳۱۸)
(۷)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ النخعی علم من اعلام اہل الاسلام وفقیہ من فقھائھم ’’ (الجرح والتعدیل: برقم۴۷۳)
(۶)امام اسود بن یزید النخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴ھ
چھٹے راوی امام اسود بن یزید بن قیس المخصرمی النخعی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴ھصحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ ان کی توثیق و تعدیل کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھکہتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ الثقات: برقم ۱۰۰)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۸ھ? کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ مکثرفقیہ ’’(تقریب: برقم ۵۰۹)
(۳)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ من اہل الخیر ’’(الجرح والتعدیل: برقم ۱۰۶۷)
(۴)۔۔۔۔امام یحییٰ بن معین م ۲۳۳ھ کہتے ہیں:‘‘ ثقۃ ’’(ایضاً)
(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں:‘‘ الفقیہ الزاھد العابدعالم الکوفۃ۔ الامام القدوۃ ’’(تذکرۃ الحفاظ ج۱، ص۴۱: سیر اعلام النبلاء: برقم ۳۸۱)
(۶)۔۔۔۔حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھکہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(بغیۃ الطلب: ج۴،ص۱۸۵۳)
خلاصۃ التحقیق:
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس روایت کی سند کے تمام راوی متفق علیہ ثقہ وصدوق ہیں اور اس کی سندڈنکے کی چوٹ پہ صحیح مسلم کی شرط پر بلاغبار صحیح ہے۔
اثر عمر فاروق رضی اللہ عنہ ائمہ محدثین کی نظر میں:
سندی تحقیق کے بعد اس اثر کے متعلق ائمہ محدثین کی آراء ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔جلیل القدر معتدل محدث وامام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ کہتے ہیں کہ:
سیدناعمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین کے متعلقہ یہ روایت بالکل صحیح ہے، اگر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (ہمیشہ) رکوع و سجود میں رفع یدین کرتے دیکھا ہوتا تو خود اس کے خلاف عمل نہ کرتے۔ سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا رفع یدین کے بغیر نماز پڑھنا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ان پر انکا رنہ کرنا یہ اس بات کی صاف دلیل ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ نماز میں رفع الیدین نہ کرنا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اور یہی حق ہے اور ا س کے خلاف عمل کرنا کسی کو بھی مناسب نہیں۔ (ملخصاً: شرح معانی الاثار ،ج،۱،ص۱۶۴)
(۲)۔۔۔الامام الثقہ، المتقن الحجہ، الناقدالمعتدل علاؤ الدین بن علی المعروف بابن الترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وھذا السند ایضاً صحیح علی شرط مسلم ’’ کہ اس اثر کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (الجوہر النقی: ج۲،ص۷۵)
(۳)۔۔۔۔الامام الثقہ ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھنقل کرتے ہیں کہ:‘‘ والحدیث صحیح ’’ کہ یہ روایت صحیح ہے۔(شرح سنن ابی داؤد: ج۳،ص۳۰۰ )
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ فرماتے ہیں کہ :
‘‘ وھذارجالہ ثقات ’’ کہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کی اس روایت کے تمام راوی مضبوط ہیں۔(الدرایہ فی تخریج احادیث الھدایہ: ج۱،ص۱۵۲)
(۵)۔۔۔۔الامام الثقہ ابومحمد عبداللہ بن یوسف زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ نقل کرتے ہیں کہ:
‘‘ والحدیث صحیح ’’ کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔ (نصب الرایہ: ج۱،ص۴۰۵)
(۶)۔۔۔۔امام کمال الدین محمد بن عبدالواحد المعروف بابن الھمام رحمۃ اللہ علیہ م۸۶۱ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ بسند صحیح ’’ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ (فتح القدیر ج۱،ص۳۱۱)
(۷)۔۔۔۔الامام المتقن، الحجہ الناقدقاسم بن قطلو بغارحمۃ اللہ علیہ، فرماتے ہیں کہ:
‘‘ رجالہ ثقات ’’ کہ اس اثر کے تمام راوی مضبوط ہیں۔ (التعریف الاخبار:ص۳۱۰)
(۸)۔۔۔۔الامام الحجہ ، الناقدالمعتدل ابوعبداللہ مغلطائی بن قلیج البکجری رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ کہتے ہیں:
‘‘ بسند صحیح علی شرط مسلم ’’ کہ اس اثر کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
(شرح سنن ابن ماجہ: ج۱،ص۱۴۷۲)
(۹)۔۔۔۔علامہ ابوالحسن الہروی القاری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱۴ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ سندہ صحیح ’’ اس روایت کی سند صحیح ہے۔(مرقات: ج۳،ص۲۹۸)
(۱۰)۔۔۔۔حافظ ابن کثیر الدمشقی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ نے ‘‘مسند الفاروق’’ میں مذکورہ بالا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اثر کو بلاجرح وقدح نقل فرمایا ہے(دیکھئے: مسند الفاروق:ج۱، ص۱۶۴) اور غیر مقلدین کے امام العصر ابراہیم سیالکوٹی نے حافظ موصوف کے متعلق صراحت کی کے کہ: ‘‘ان کی عام روش یہی ہے کہ وہ قابل جرح روایت پر جرح ظاہر کردیتے ہیں’’ (سیرت المصطفیٰ: ص ۱۸۲) لہٰذا حافظ موصوف کا اس اثر کو بلا جرح و قدح نقل کرنا سیالکوٹی صاحب کے بقول اس اثر کے حافظ موصوف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح السند ہونے کی دلیل ہے۔
(۱۱)۔۔۔۔محدث کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ وذکر ابن بطال انہ لم یختلف عنہ فی ذالک ’’ امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین کے سواء کچھ بھی ثابت نہیں۔ (نیل الفرقدین:ص۴۷)
(۱۲)۔۔۔۔محدث کشمیری رحمۃ اللہ علیہ مزید فرماتے ہیں کہ:
‘‘ فاثرعمرصحیح بلاریب ’’ ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا عمررضی اللہ عنہ کا اثر بلاشک و شبہ صحیح ہے۔ (ایضاً : ص ۷۳)
(۱۳)۔۔۔۔ثقہ و صدوق محدث نیموی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۲۲ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ ھواثر صحیح ’’ یہ اثر بالکل صحیح ہے۔ (آثار السنن: ص ۱۰۶)
اثر عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات:
سندی تحقیق اور ائمہ محدثین کی واضح گواہیوں سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ مذکورہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اثر بغیر کسی شک و شبہ کے صحیح و معتبر ہے۔ مگر اس صحیح و معتبر اثر کا جب کوئی معقول جواب فرقہ غیر مقلدیت کے مخبوط الحواس متحققین سے نہ بن پایا تو انہوں نے حسب عادت اپنے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے اصول حدیث حتی کہ اپنی اور اپنے اکابرین کی تحریرات سے بھی اعلان بغاوت کرتے ہوئے فضول اور لچر قسم کے اعتراضات کے ذریعے اس صحیح و صریح اثر کو مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی ہے۔اس لیے اب اس اثر پر اعتراضات کے جوابات پیش کیے جاتے ہیں۔
اعتراض نمبر۱:
رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
ہم کہتے ہیں کہ یہ روایت بقول امام حاکم ‘‘ شاذۃ لایقوم بہ الحجۃ ’’ ہے۔(بلفظہ تحقیقی جائزہ:۵۸۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا صحیح ومعتبر اثر کا جس روایت کے ساتھ معارضہ کر کے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے شاذ قرار دینے کی ناکام کوشش کی ہے، وہ روایت مجہول راویوں سے مروی ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔ امام موصوف کی طرف سے معارضہ میں پیش کی جانے والی روایت ملاحظہ فرمائیں:
(۱)ناآدم بن ابی ایاس ثنا شعبۃ ثنا الحکم قال رایت طاؤوساً کبر فرفع یدیہ حذو منکبیہ عند التکبیر وعندرکوعہ وعند رفعہ راسہ من الرکوع فسالت رجلاً من اصحابہ فقال انہ یحدث بہ عن ابن عمر عن النبیﷺ کلاھما محفوظان عن ابن عمر عن عمر عن النبیﷺ۔۔۔۔ الخ۔ (سنن الکبری للبیھقی: ج ۱ ، ص ۱۰۷)
(۲)ناآدم ناشعبۃ عن الحکم قال رایت طاوساً یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ واذا رکع واذارفع من الرکوع رفعھما فسالت بعض اصحابہ فقیل انہ یحدثہ عن ابن عمر عن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم’’(الجامع لاخلاق الراوی: ج۱ص ۱۱۸: برقم ۱۰۱)
اس روایت میں ‘‘ بعض اصحابہ۔ رجل من اصحابہ ’’مجہول (نامعلوم) راوی ہیں۔ اور رئیس ندوی وزبیر علی زئی غیر مقلد نے صراحت کر رکھی ہے کہ مجہول راویوں سے مروی روایت ضعیف ومردود ہوتی ہے۔ (ملخصاً: تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۲ مقالات: ج۴،ص۲۵ حاشیہ مترجم اختصار علوم الحدیث:ص۱۷) لہٰذا اس ضعیف و مردود روایت کے پیش نظر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا صحیح وصریح اثر کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے غلط قول کا سہارا لیکر شاذ قرار دینا بالکل غلط باطل و مردود ہے اور علم و انصاف کا خون کر دینے کے مترادف ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔اس موقع پر یہ بات بھی ملحوظ ر ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صحیح السند اثر کے معارضہ میں پیش کی جانے والے ضعیف و مردود روایت کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ، امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ، امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ نے وضاحت فرما رکھی ہے کہ اس روایت کی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سرے سے نسبت ہی راوی کا وہم ہے، اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف اس روایت کو منسوب کرنا ہی سرے سے غلط ہے، بلکہ صحیح یہ ہے کہ یہ (ضعیف و مردود۔ن) روایت سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہے۔ (ملخصاً: نصب الرایہ ج۱، ص ۴۸۸والعلل الواردہ ج۱۳، ص۱۶۴، برقم ۳۰۴۷)
ثالثاً۔۔۔۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ جن کے غلط قول کا سہارا لیکرندوی صاحب شور مچا رہے ہیں ان کی شخصیت ہی سرے سے غیر مقلدین کے ہاں خصوصاً احادیث کی تصحیح وتضعیف میں کچھ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے۔
چنانچہ رئیس ندوی صاحب ہی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
یہ معلوم و معروف بات ہے کہ مستدرک کی بہت ساری احادیث کی تصحیح میں امام حاکم سے غلطی صادر ہوئی ہے۔ (صحیح طریقہ نماز :ص۱۳۲)
غیر مقلد قاضی شوکانی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام حاکم نے ایک حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے، حافظ ذہبی امام حاکم کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کیا حاکم کو اللہ تعالیٰ سے حیاء نہیں آتی ایسی موضوع حدیث کی سند کو صحیح کہتا ہے۔ حافظ ذہبی نے تلخیص المستدرک میں کہا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے، اس حدیث کو گھڑنے والے کو اللہ تعالیٰ ذلیل و خوار کرے، مجھے یہ گمان نہ تھا کہ حاکم ایسی جہالت تک پہنچ جائے گا کہ ایسی موضوع حدیث کی تصحیح کرے گا، حالانکہ یہ حدیث یزید بن یزید البلوی نے گھڑی ہے۔ (ملخصاً: الفوائد المجموعۃ فی الاحادیث الموضوعۃ ص ۴۹۶)
ایک جگہ غیر مقلدز بیر علی زئی صاحب امام حاکم کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مستدرک کی تصنیف کے وقت وہ تغیر حفظ کا شکار ہو کر بہت سے شدید مجروح و کذاب راویوں کے بارے میں بھی اپنی جروح بھول گئے تھے اور کئی مقامات پر کذاب راویوں کی روایات کو صحیح کہہ دیا تھا۔ (ماہنامہ الحدیث ص ۴۰ ش نمبر ۱۰۹)
الغرض : جب علماء غیر مقلدین کے بقول امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ تغیر حفظ کا شکار ہو گئے تھے، اور انہوں نے بہت سارے جھوٹے راویوں کی روایات کو بھی صحیح کہہ دیا ہے، مستدرک کی بہت ساری احادیث کی تصحیح میں ان سے غلطی صادر ہو چکی ہے تو پھر اسی امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اگر مجہول راویوں سے مروی روایت کو صحیح سمجھ کر اسی روایت کی بنیاد پر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے صحیح اثر کو تغیر حفظ و غلطی کا شکار ہو کر شاذ کہہ دیا ہے تو پھر اس پر ندوی صاحب بغلیں کیوں بجا رہے ہیں؟
زبیر علی زئی غیر مقلد دھوکہ نمبر ۶:
ندوی صاحب کی طرح فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق علی زئی صاحب بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ترک رفع یدین والے صحیح و صریح اثر سے اچھے خاصے پریشان ہیں۔ اس لیے اس اثر کے معارضہ میں پیش کی جانے والی مجہول راویوں سے مروی ضعیف ومردود روایت کو متصل و صحیح ثابت کرنے کے لیے علی زئی صاحب مخبوط الحواس ہو کر لکھتے ہیں کہ:
یہاں پر ‘‘ بعض اصحابہ ’’ مضر نہیں ہے، کیونکہ خطیب بغدادی نے اس حدیث پر ‘‘ من اجتزء بالسماع النازل مع کون الذی حدث عنہ موجود ًا ’’ کا باب باندھ کر یہ ثابت کیا ہے کہ حکم بن عتیبہ نے یہ حدیث طاؤس کے سامنے بیان کی ہے، چونکہ طاؤوس کا انکار ثابت نہیں، لہٰذا یہ روایت ‘‘ الحکم عن طاؤوس ’’ متصل ہے۔ (نورالعینین ص ۲۰۲۔۲۰۱)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔جناب علی زئی صاحب! ہٹ دھرمی و ضد چھوڑ کر حق بات تسلیم کر لینے میں ہی خیر ہے۔ اگر آپ نے مسکی حمایت میں اسی طرح حق کو چھپانے کے لیے لوگوں کو دھوکے دیئے تو عام لوگ تو شاید کسی حدتک آپ کی چالوں میں پھنس ہی جائیں مگر علمی و تحقیقی دنیا میں آپ کی عزت بہت خراب ہو گی۔
جناب! الجامع لاخلاق الراوی کی زیر بحث روایت میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے یہ روایت طاؤوس کے سامنے بیان کی ہے؟ اس روایت میں تو صرف اتنا ہے کہ امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے طاؤوس کو رفع الیدین کرتے دیکھا تو طاؤوس کے بعض ساتھیوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا کہ یہ ‘‘ ابن عمر عن النبیﷺ ’’ مروی ہے۔ مگر امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ بات کہنے والا کون شخص تھا؟ اس کا نام کیا تھا؟ سچا تھا یا جھوٹا تھا؟ اس کا کوئی علم نہیں الغرض امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت بیان کرنے والا شخص مجھول (نامعلوم) ہے، لہٰذا جناب علی زئی صاحب آپ مجہول راوی کی روایت پیش کر کے اپنا مؤقف ثابت نہیں کر سکتے۔
نیز اس روایت کو حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے نہیں بلکہ طاؤوس کے ساتھیوں میں سے کسی مجھول (نامعلوم) ساتھی نے امام حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا ہے، مگر علی زئی صاحب نے باب کا سہارا لے کر خیانت میں اپنے بڑوں کے بھی کان کاٹتے ہوئے لکھ مارا ہے کہ ‘‘حکم بن عتیبہ نے یہ حدیث طاؤوس کے سامنے بیان کی ہے’’ لاحول ولا قوۃ الا بااللہ العلی العظیم۔
ثانیاً۔۔۔۔علی زئی صاحب باب کا سہارا لیکر بھی اپنی جان نہیں چھڑا سکتے کیونکہ علی زئی صاحب کے ہم مسلک غیر مقلدداؤد ارشد نے صراحت کر رکھی ہے کہ ابواب قائم کرنے والے حضرات بشر تھے باب قائم کرنے میں وہ بھی غلطی کا شکار ہو جایا کرتے ہیں۔ (ملخصاً: تحفہ حنفیہ ص ۲۵۷)
رئیس ندوی غیر مقلد جھوٹ نمبر ۱۷:
رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام سفیان ثوری نے زبیر بن عدی سے صرف یہ بیان کرنے پر اکتفاء کیا ہے کہ ‘‘ ان عمر کان یرفع یریہ الی المنکبین ’’ یعنی حضرت عمر فاروق تمام مواضع رفع الیدین رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے اور قعدہ اولیٰ کے بعد اور کبھی کبھار سجدہ جاتے اور سجدہ سے سر اٹھاتے ہوئے رفع الیدین کندھوں تک کرتے تھے۔ (سنن البیہقی ۲۵/۲، ومصنف عبدالرزاق رقم الحدیث: ۲۵۳۲) ۔۔۔۔ یہی قابل قبول ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص۲۷۶)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔قارئین کرام! ندوی صاحب کی یہ بات سو فیصد بضابطہ غیر مقلدیت جھوٹ ہے۔ آپ سنن الکبرٰی للبیہقی (ج ۲ص۲۵) اور مصنف عبدالرزاق (ج۱ ص ۷۱ رقم الحدیث ۲۵۳۲) اٹھا کر دیکھیں ان میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جو روایت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے مروی ہے اس میں ندوی صاحب کے بیان کردہ پانچ مقامات (یعنی (۱)رکوع جاتے (۲)رکوع سے سراٹھاتے (۳) قعدہ اولیٰ کے بعد (۴)کبھی کبھار سجدہ جاتے (۵) سجدہ سے سر اٹھاتے وقت) پر رفع الیدین کرنے کا ذکر نہیں ہے۔
بلکہ اس روایت میں تو صرف اتنا ہے کہ ‘‘ ان عمر بن الخطاب کان یرفع یدیہ الی المنکبین’’ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے۔ باقی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کندھوں تک یہ ہاتھ کب اٹھاتے تھے اس کا تذکرہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ ہاتھ صرف اور صرف شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہی اٹھاتے تھے۔(دیکھئے: شرح معانی الاٰثار :ج۱ ، ص ۱۶۴ و مصنف ابن ابی شیبہ : ج۱، ص۲۶۸) اور یہ بات تو رئیس ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی صاحب کو بھی تسلیم ہے کہ حدیث، حدیث کی تشریح کرتی ہے۔(نور العینین: ص ۱۲۵)
ثانیاً۔۔۔۔پھر ندوی صاحب کی دوغلی پالیسی ملاحظہ فرمائیں کہ ندوی صاحب سنن الکبری للبیھقی اور مصنف عبدالرزاق کی جس روایت کا غلط مطلب بیان کر کے دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں اور اسے قابل قبول قرار دے رہے ہیں، اس روایت کو امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱ھ اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲ھ دونوں نے معنعن بیان کیا ہے۔ جبکہ ندوی صاحب اپنی اسی کتاب میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ دونوں کی معنعن روایات کو غیر معتبر ضعیف اور ساقط الاعتبار قرار دے چکے ہیں۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۷۲۔۲۷۶و ص ۵۸۷)
پس ثابت ہوا کہ ندوی صاحب امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کے بارے میں دوغلی اور متضاد پالیسی پر گامزن ہیں کہ ان کی معنعن روایات جب ندوی صاحب کی مرضی کے مطابق ہوں تو ندوی صاحب قبول کر لیتے ہیں اور جب ان کی معنعن روایات ندوی صاحب کے مسلک کے خلاف آجائیں تو پھر موصوف ان کے خلاف راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں۔
اعتراض نمبر۲ ، وعلی زئی تضاد نمبر ۲۵:
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب امام ابوزرعہ رازی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:‘‘الحسن بن عیاش کے مقابلے میں سفیان ثوری کی روایت اصح ہے’’۔(نور العینین : ص ۱۶۳)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ رئیس ندوی صاحب کی طرح حسب عادت اس مقام پر بھی علی زئی دوغلی پالیسی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ علی زئی صاحب امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی جس روایت کو اصح یعنی صحیح ترین قرار دے رہے ہیں، وہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ہے۔ (دیکھئے: علل الحدیث لابن ابی حاتم ج۲،ص۱۲۱ برقم ۲۵۶) جبکہ اپنی اسی کتاب میں دوسری جگہ علی زئی صاحب امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ دونوں کی معنعن روایات کو ترک رفع یدین دشمنی میں ضعیف قرار دے چکے ہیں۔ (دیکھئے: نور العینین ص ۱۳۷۔۱۶۴)
ثانیاً۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کو ضعیف نہیں کہا بلکہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں محض ترجیح کی بات کی ہے۔ مگر ان کی روایات میں راجح مرجوح کی بات چلانا فضول ہے۔ کیونکہ جلیل القدر معتدل ناقد و محدث امام ابومحمد جمال الدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھنے تصریح فرما رکھی ہے کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت اور امام حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں سرے سے کوئی تعارض ہی نہیں ہے، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے رفع یدین کی مقدار نقل کی ہے ‘‘ ان عمر بن الخطاب کان یرفع یدیہ الی المنکبین ’’ کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے تھے، اور امام حسن بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ اٹھانے کا موقع اور محل نقل کیا ہے ‘‘ فلم یرفع یدیہ فی شیء من صلاتہ الاحین افتتح الصلٰوۃ ’’ کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ ہاتھ صرف اور صرف شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے وقت ہی اٹھاتے تھے پھر پوری نماز میں نہیں اٹھاتے تھے۔ اور ان دونوں کی اس نقل میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ (ملخصاً: نصب الرایہ ج۱،ص۴۸۰) لہٰذا ان کی روایات میں راجح مرجوح کی بات چلانا فضول ہے۔
اعتراض نمبر۳:
رئیس ندوی و زبیر علی زئی دونوں حضرات کہتے ہیں کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ترک رفع یدین والے اثر کی سند میں ابراہیم نخعی مدلس راوی ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص ۵۸۷ونورالعینین ص ۱۶۴)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ ماقبل میں گزر چکا ہے کہ مقدار رفع یدین کے متعلقہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی روایت کو رئیس ندوی صاحب قابل قبول اور علی زئی صاحب امام ابوزرعہ رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے صحیح ترین کہہ چکے ہیں۔(سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۷۶، نورالعینین ص ۱۶۳) جب یہ دونوں حضرات امام موصوف کی معنعن روایت کو معتبر قرار دے چکے ہیں تو پھر مذکورہ بالا اثر پر یہ کس منہ سے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کا اعتراض کر رہے ہیں؟
ثانیاً۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ نے النکت علی بن صلاح ص ۲۳۸ پر اس راوی ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کو طبقہ ثانیہ یعنی اس کی عن والی روایت کے صحیح و معتبر ہونے کی تصریح کی ہے۔ اسی طرح امام ابوسعید صلاح الدین العلائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۱ھ، ابوزرعہ العراقی رحمۃ اللہ علیہ ، حلبی رحمۃ اللہ علیہ اور عرب محققین عزم اللہ الدمینی اور محمد بن طلعت وغیرہ اور غیر مقلد بدیع الدین راشدی صاحب وغیرہ راوی مذکور کی عنعنہ والی روایات کو قبول کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
۱۔جامع التحصیل: ص ۱۲۹
۲۔التبیین للحلبی: ص ۷۶
۳۔معجم المدلسین: ص ۷۶
۴۔جزء منظوم بحوالہ الفتح المبین: ص ۸۸
ثالثاً۔۔۔۔مذکور راوی امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ پر تدلیس کاالزام سب سے پہلے امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ نے لگایا ہے۔ ‘‘فیما اعلم’’ اور امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ ارسال پر تدلیس کا اطلاق کرتے تھے، (ملخصاً: معرفۃعلوم الحدیث ص ۱۰۹) اور غیر مقلدزبیر علی زئی و ارشاد الحق اثری دونوں کہتے ہیں کہ جو محدث ارسال کا تدلیس پر اطلاق کرے اس کا کسی راوی کو مدلس قرار دینا اس راوی کے مدلس ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ (ملخصاً: نصر الباری ص ۱۱۴وتوضیح الکلام ج۱، ص ۳۳۷) اس سے معلوم ہوا کہ بضابطہ علی زئی واثری تو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے مدلس کہنے سے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سرے سے مدلس ہی ثابت نہیں ہوتے۔
رابعاً۔۔۔۔پھر جس روایت کی بنیاد پر امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ پر تدلیس کا الزام عائد کیا ہے وہ روایت ذرا ملاحظہ فرمائیں:
‘‘ اخبرنی عبداللہ بن محمد بن حمویہ الدقیقی قال حدثنا جعفر بن ابی عثمان الطیالسی قال حدثنی خلف بن سالم قال سمعت عدۃ من مشائخ اصحابنا تزاکروا کثرۃ التدلیس والمدلسین فاخذ نافی تمییز اخبارھم فاشتبہ علینا تدلیس الحسن بن ابی الحسن و ابراہیم بن یزید النخعی لان الحسن کثیرا مایدخل بینہ وبین الصحابۃ اقواماً مجھولین وربما دلس عن مثل عتی بن ضمرۃ وحنیف بن المنتجب ودغفل بن حنظلۃوامثالھم وابراہیم ایضاً یدخل بینہ وبین اصحاب عبداللہ مثل ھنی بن نویرۃ وسھم بن منجانب وخزامۃ الطائی وربمادلس عنھم ’’ (معرفۃ علوم الحدیث للحاکم: ج۱،ص۱۰۸ الجنس الرابع من المدلسین قوم دلسوا احادیث رووھا عن المجروحین فغیروا اسامیھم وکناھم کی لایعرفوا)
اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بن محمد الدقیقی رحمۃ اللہ علیہ نے ، اور ان سے جعفر بن ابی عثمان الطیالسی رحمۃ اللہ علیہ نے، اوران سے خلف بن سالم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ : میں نے اپنے اصحاب کے بہت سے مشائخ کوتدلیس اور مدلسین کے بارے میں بحث کرتے ہوئے سنا جن کی روایات میں ہم تمییز پیدا کرتے رہے، مگر امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام حسن بن ابی حسن رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس مشتبہ ہو گئی، کیونکہ امام حسن بن ابی حسن رحمۃ اللہ علیہ اپنے اور صحابہ کے درمیان بکثرت مجہول راوی داخل کر دیتے، اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے درمیان ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ، سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ اور خزامہ الطائی رحمۃ اللہ علیہ کو لاتے ہیں، اور بیشتر ان ناموں میں تدلیس سے کام لیتے ہیں۔
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کی مستدل اس روایت کے متعلقہ چند گزارشات پر غور فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت پر عنوان تو قائم کیا ہے ‘‘ الجنس الرابع من المدلسین قوم دلسوا احدیث رووھا عن المجروحین فغیروا اسامیھم وکناھم کی لایعرفوا ’’ کہ مدلیسن کی چوتھی قسم یہ ہے کہ وہ احادیث کی سند میں بایں طور پر تدلیس کرتے ہیں کہ روایات کو مجروح راویوں سے روایت کرتے ہیں مگر ان کے ناموں اور کنیتوں کو بدل دیتے ہیں تاکہ مجروحین کی طرف ذہن نہ جا سکے۔ مگرمذکورہ روایت میں وضاحت ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردں کے درمیان سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ اور ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ کو لاتے ہیں اور ان کے اسماء میں تدلیس کرتے۔ جبکہ ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ تو سرے سے مجروح ہی نہیں ہیں۔ بلکہ دونوں راوی ثقہ ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔معرفۃ الثقات للعجلی: ص ۶۹۴
(۲)۔۔۔۔تہذیب الکمال للمزی : برقم ۲۶۲۵ و۶۲۰۷
(۳)۔۔۔۔الکاشف للذہبی:برقم ۲۱۸۱ و ۵۹۸۹
(۴)۔۔۔۔تاریخ الاسلام للذہبی: برقم ۳۹
(۵)۔۔۔۔اکمال تہذیب الکمال: برقم ۲۲۷۸
(۶)۔۔۔۔تہذیب التہذیب: برقم ۴۵۹ و۱۱۳
(۷)۔۔۔۔تاریخ الثقات للعجلی: برقم ۱۷۵۲
لہٰذا امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوان اور مذکورہ روایت میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے اس روایت سے استدلال باطل و مردود ہے۔
(۲)۔۔۔۔مذکورہ اقتباس سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے درمیان ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ کے ناموں میں تدلیس کرتے تھے۔ اور عرض کیاجا چکا ہے کہ یہ دونوں راوی ثقہ ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے درمیان ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کانام ہوتا تھا تو تب ہی امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ ان کے اسماء اور کنیتوں میں تدلیس کرتے تھے۔ اس تفصیل سے تو زبیر علی زئی اورر ئیس ندوی کے اعتراض کی سرے سے جڑ ہی کٹ گئی، کیونکہ ہماری طرف سے پیش کردہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ترک رفع یدین والے اثر کی سند‘‘ الزبیربن عدی عن ابراھیم عن الاسود قال صلیت مع عمر-85الخ ’’مروی ہے، اس سند میں امام ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام اسود رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان کوئی بھی راوی نہیں ہے حتیٰ کہ ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ بھی نہیں ہیں، اس لیے مذکورہ بالا روایت جس کی بنیاد پر امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کو مدلس قرار دیا ہے کو اگر بالفرض قابل استدلال مان بھی لیا جائے تو تب بھی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زیربحث ترک رفع یدین والے اثر کی سند میں امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ اس روایت کے مذکورہ بالا اقتباس سے صراحتاً ثابت ہو رہا ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ جب تدلیس کرتے تو اپنے اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے درمیان ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کے نام داخل کر کے ان کے اسماء اور کنیتوں میں تدلیس کرتے تھے جبکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ترک رفع یدین والے اثر کی سند میں امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے شاگرد امام اسودرحمۃ اللہ علیہ کے درمیا ن کوئی بھی راوی نہیں ہے حتی کہ ہنی بن نویرہ رحمۃ اللہ علیہ اور سہم بن منجاب رحمۃ اللہ علیہ بھی نہیں ہیں۔لہٰذا سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین والا اثر تدلیس سے بالکل محفوظ ہے، اور اس اثر پر تدلیس کا اعتراض باطل و مردود ہے۔
خامساً۔۔۔۔بطور الزام کے عرض ہے کہ تقریباً سو فیصد ائمہ محدثین نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو صحیح قرار دے رکھا ہے، اور زبیر علی زئی غیر مقلد نے صراحت کر رکھا ہے کہ احادیث کی تصحیح و تضعیف میں صرف ائمہ محدثین کا قول ہی حجت ہے۔ (نور العینین: ص ۸۵) لہٰذا چونکہ ائمہ محدثین نے مذکورراوی کی معنعن روایات کو صحیح قرار دے رکھا ہے اس لیے اس راوی کی معنعن روایات کو ضعیف کہنا منہج محدثین کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل و مردود ہے۔ اختصار کے پیش نظر چند ائمہ محدثین کے اسماء بمع حوالہ جات حاضر خدمت ہیں جنہوں نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو صحیح وغیرہ قرار دے رکھا ہے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام ابوجعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ: قال ‘‘ وھوحدیث صحیح ’’
(شرح معانی الاثار: ج۱، ص۱۶۴)
(۲)۔۔۔۔امام علاؤالدین ابن الترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ : قال ‘‘وھذا السند ایضاً صحیح علی شرط مسلم ’’
(الجوہرالنقی ج ۲ ص ۷۵)
(۳)۔۔۔۔امام ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ: قال: ‘‘ والحدیث صحیح ’’
(شرح سنن ابی داؤد: ج۳ ص ۳۰۰)
(۴)۔۔۔۔امام ابومحمد عبدللہ بن یوسف زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ : قال ‘‘ والحدیث صحیح ’’
(نصب الرایہ:ج۱، ص ۴۰۵)
(۵)۔۔۔۔امام کمال الدین المعروف بابن الہمام رحمۃ اللہ علیہ م ۵۶۱ھ: ‘‘ قال باسناد صحیح ’’۔
(فتح القدیر ج۱،ص۳۱۱)
(۶)۔۔۔۔امام ابوالفداء قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ: ‘‘ قال رجالہ ثقات ’’
(التعریف الاخبار ص ۳۱۰)
(۷)۔۔۔۔امام ابوالحسن الھروی القارئ رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴ھ: ‘‘ قال سندہ صحیح ’’
(مرقات ج۳،ص۲۹۸)
(۸)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ مغلطائی بن قلیج رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۲ھ: ‘‘ قال بسند صحیح علی شرط مسلم ’’
(شرح سنن ابن ماجہ ج۱،ص ۱۴۷۲)
(۹)۔۔۔۔امام محدث نیموی رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۲۲ھ: ‘‘ قال وھواثرصحیح ’’
(آثار السنن ص۱۰۶)
(۱۰)۔۔۔۔امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ: ‘‘ قال حدیث حسن صحیح ’’
(سنن ترمذی برقم ۱۱۵۵)
(۱۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن نور الدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۷ھ: ‘‘ قال رجالہ رجال الصحیح ’’
(مجمع الزوائد برقم ۱۰۷۴۲)
(۱۲)۔۔۔۔امام ابوالفضل زین الدین العراقی رحمۃ اللہ علیہ م۵۰۶ھ: ‘‘ قال باسناد صحیح ’’
(طرح التثریب :ج۸،ص۲۰۰)
(۱۳)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ الحاکم م ۴۰۵ھ: ‘‘ قال ھذا حدیث صحیح علیٰ شرط الشیخین ’’
(مستدرک برقم ۲۲۵۹)
(۱۴)۔۔۔۔امام حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ: ‘‘ قال علی شرط البخاری و مسلم ’’
(تلخیص مستدرک برقم ۲۲۵۹)
(۱۵)۔۔۔۔امام ابوالعباس شہاب الدین البوصیری رحمۃ اللہ علیہ م۸۴۰ھ: ‘‘ ھذا اسناد صحیح ’’
(مصباح الزجاجہ برقم ۶۰۸)
(۱۶)۔۔۔۔امام ابوبکر البیھقی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۸ھ: ‘‘ قال ھذا اسناد صحیح۔۔۔۔ الخ ’’
(شعب الایمان برقم ۵۱۳۱)
تنبیہ:
درج ذیل ائمہ محدثین کے متعلق زبیر علی زئی نے صراحت کر رکھی ہے کہ ان کے نزدیک سنن النسائی کے احادیث صحیح ہیں اور چونکہ سنن النسائی میں امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی متعدد معنعن احادیث موجود ہیں۔ مثلاً دیکھئے سنن النسائی ص ۵۴۷برقم ۳۵۲۲) اس سے معلوم ہوا کہ بقول علی زئی درج ذیل ائمہ نے بھی امام موصوف کی معنعن احادیث کو صحیح قرار دے رکھا ہے۔
(۱۷)۔۔۔۔امام ابوعلی نیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۹ھ:(مسئلہ فاتحہ خلف الامام ازعلی زئی ص ۵۲)
(۱۸)۔۔۔۔امام ابو احمد ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۵ھ: (ایضاً)
(۱۹)۔۔۔۔امام حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۹۵ھ:(ایضاً)
(۲۰)۔۔۔۔امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ: (ایضاً)
(۲۱)۔۔۔۔امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م۴۴۶ھ: (ایضاً)
(۲۲)۔۔۔۔امام ابوعلی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۳ ھ:(ایضاً)
(۲۳)۔۔۔۔امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ:(ایضاً)
(۲۴)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ : ‘‘ قال وھذا اصح ’’(علل الحدیث لابن ابی حاتم برقم ۲۵۶)
(۲۵)۔۔۔۔امام ابومحمد الحسین بن محمود البغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۶ھ: ‘‘ قال ھذا حدیث صحیح ’’(شرح السنہ:ج۱۳،ص۲۹۰)
نیزمتعدد غیر مقلد علماء مثلاً ناصر الدین البانی، شعیب ارناؤط، عبدالقادرار ناؤط وغیرہ نے بھی امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو صحیح و حسن کہا ہے۔ دیکھئے: سنن
ابن ماجہ بتحقیق الالبانی برقم ۳۵۴۔۲۲۷۵ تعلیق صحیح ابن حبان برقم ۱۴۲۔۵۹۹۴ جامع الاصول بتحقیق عبدالقادر برقم ۵۷۳۹۔
الحاصل:
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع یدین والا اثر صحیح مسلم کی شرط پر بلاغبار صحیح وقابل استدلال ہے۔
(سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور ترک رفع الیدین)
اثر نمبر۲ : بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ
‘‘ حدثنا و کیع عن ابی بکر بن عبداللہ بن قطاف النھشلی عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیاً: کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلٰوۃ ثم لایعود ’’(مصنف ابن ابی شیبہ، ج۱،ص۲۶۷)
ترجمہ: حضرت کلیب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: بلاشک و شبہ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
﴿سند کی تحقیق﴾
اس اثر کی سند کے راویوں میں سے امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۷ھ اور امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۷ھ کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے ذیل میں گزر چکا ہے اور باقی راویوں کا مختصر سا تعارف درج ذیل ہے۔
(۱)امام ابوبکر بن عبداللہ بن قطاف النہشلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۶ھ
امام حافظ ابوبکر عبداللہ بن فلان بن قطاف النہشلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۶ھ صحیح مسلم ، سنن ترمذی،سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ کے راوی ہیں ان کی تعدیل و توثیق کے حوالے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ شیخ صالح مغفل ’’(تاریخ ابن معین: ج۱، ص ۲۴۱، برقم ۹۴۳)
(۲)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ: کہتے ہیں :‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ ابن معین: ج۳، ص۳۳۴، برقم ۱۶۱۳)
(۳)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ فرماتے ہیں :‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل: ج۹، ص۳۴۴، برقم۱۵۳۶)
(۴)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھکہتے ہیں: ‘‘ شیخ صالح یکتب حدیثہ ’’(ایضاً)
(۵)۔۔۔۔امام ابوحفص عمر بن احمد المعروف بابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ اسماء الثقات:ج۱،ص۱۳۱ ،برقم۶۸۵)
(۶)۔۔۔۔امام عبدالرحمن بن مھدی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ملخصاً: التکمیل فی الجرح برقم ۱۸۹۱)
(۷)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ۔ صدوق۔ حجۃ۔ رجل صالح تکلم فیہ ابن حبان بلاوجہ۔ صدوق احتج بہ مسلم۔ صالح الحدیث۔ حسن الحدیث ’’(الکاشف برقم ۶۵۴۸ ،المغنی برقم ۷۳۳۸ ،تاریخ الاسلام برقم ۴۶۱ ،دیوان الضعفاء برقم ۴۸۷۱ ،سیر اعلام النبلاء برقم ۱۱۱۸ ،ذکر اسماء من تکلم فیہ وھو موثق برقم ۳۹۴ ،میزان برقم ۱۰۰۴)
(۸)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھکہتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’ (تقریب: برقم ۸۰۰۱)
(۹)۔۔۔۔امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (ملخصاً : موسوعۃ اقوال الدارقطنی برقم۴۰۲۳)
(۱۰)۔۔۔۔امام ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’(شذرات الذھب ج۱،۲۵۴)
(۱۱)۔۔۔۔امام عجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(معرفۃ الثقات برقم ۲۱۰۲)
(۲) کلیب بن شہاب رحمۃ اللہ علیہ م ۸۱ھ
امام کلیب بن شہاب بن المجنون الجرمی رحمۃ اللہ علیہ سنن النسائی، سنن ترمذی ، سنن ابن ماجہ اور سنن ابی داود کے راوی ہونے کے علاوہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں، ان کو متعد ائمہ محدثین نے ثقہ کہا ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ تابعی ثقۃ ’’ (معرفۃ الثقات: برقم ۱۵۵۵)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ کثیر الحدیث ’’ (الطبقات الکبری ج۶، ص ۱۲۳)
(۳)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(الجرح والتعدیل: برقم۹۴۶)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق ’’(تقریب برقم ۵۶۶۰)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ملخصاً: الثقات برقم ۱۱۷۷)
خلاصۃالتحقیق:
اس تحقیق سے ثابت ہوا کہ اس اثر کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، اور اس کی سند بلاغبار صحیح و ثابت ہے۔
﴿اثر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات﴾
اعتراض نمبر۱:
رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
امام بخاری اپنی (تاریخ کبیر ۴۲۵/۸) میں لکھتے ہیں:‘‘ قال ابن مھدی ذکرت لسفیان عن ابی بکر عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیا کان یرفع یدیہ ثم لایعود فانکرہ ’’ یعنی امام عبدالرحمن بن مھدی نے امام سفیان بن عیینہ سیزیر بحث حدیث کی بابت پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ (ملخصاً:تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۹۔۲۷۸)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ رئیس ندوی صاحب کی پیش کردہ مذکورہ روایت میں سفیان سے امام سفیان بن عیینہ نہیں بلکہ امام سفیان بن سعید الثوری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں جیسا کہ ندوی صاحب کے ہم مسلک علی زئی صاحب نے بھی سفیان ثوری ہی مراد لیا ہے۔ (دیکھئے: نور العینین ص ۱۶۵) مگر رئیس ندوی صاحب نے ازراہ جہالت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سمجھ لئے ہیں۔
ثانیاً۔۔۔۔اس اعتراض کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے امام عبدالرحمن بن مھدی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے اور امام عبدالرحمن بن مھدی رحمۃ اللہ علیہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا روایات سننا سرے سے ممکن بھی نہیں ہے اور ثابت بھی نہیں ہے۔ کیونکہ امام بخاری۱۹۴ھ میں پیدا ہوئے ہیں اور امام عبدالرحمان بن مھدی ۱۹۸ھ میں فوت ہوئے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ امام عبدالرحمن بن مھدی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے وقت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ ابھی بالکل چار سال کے بچے تھے۔ لہٰذا ندوی صاحب کے پیش کردہ اعتراض وروایت کی سند منقطع ہے اور غیرمقلدین اپنی مرضی کے خلاف منقطع السند روایات واعتراضات کو قبول نہیں کرتے ۔چنانچہ زبیر علی زئی صاحب ایک جگہ ایک راوی کے متعلق امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ کے قول ‘‘ وکان شعبۃ یضعفہ ’’ (کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو ضعیف قرار دیتے تھے) کاردکرتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھتے ہیں کہ:
امام ابن معین ۱۵۷ھمیں پیدا ہوئے اور شعبہ ۱۶۰ھ میں فوت ہوئے یعنی یہ روایت منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ (ماہنامہ الحدیث : ص ۱۷ ش نمبر۲۲)
اسی طرح اپنی مرضی کے خلاف ایک اور روایت کو رد کرتے ہوئے علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
ایسی منقطع اور بے سند روایات کو انتہائی اہم مسئلہ میں پیش کرنا آخر کون سے دین کی خدمت ہے؟
(قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص ۳۰)
غلام مصطفی امن پوری غیر مقلد ایک روایت کو رد کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
‘‘لہٰذا یہ روایت منقطع ہوئی، کیا شریعت ‘‘منقطع’’ روایات کا نام ہے؟’’
(آٹھ رکعت نماز-85 ہی سنت ہے: ص۱۰)
امن پوری صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
‘‘یہ روایت منقطع ہونے کی بنا ء پر ‘‘ضعیف’’ ہے۔ (ایضاً:ص۱۲)
الغرض: بضابطہ غیر مقلدیت تو امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی حدیث کا انکار ہی سرے سے ثابت نہیں ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب اعتراض میں کوئی وجہ نہیں لکھی ہوئی کہ اس حدیث کے انکار کرنے کی وجہ کیا ہے۔ لہٰذا امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب یہ جرح مبہم وغیرمفسر ہے اور متعدد غیر مقلد علماء نے صراحت کررکھی ہے کہ غیرمفسرجرح قبول نہیں ہوتی۔
چنانچہ محمد گوندلوی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
اگر جرح مفسر نہ ہو تو مقبول نہیں ہوتی۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص اس طرح کہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں یا منکر ہے-85 اور اس کی وجہ بیان نہ کرے (اس صورت میں یہ جرح مقبول نہ ہوگی) اکثر فقہاء اور محدثین کا یہی مذہب ہے۔ (خیر الکلام: ص ۴۴)
عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘جرح مبہم مضر نہیں ہے’’ (ابکار المنن: ص ۸۰)
نزیررحمانی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘غیر مفسر اور مبہم جرحوں کا اعتبار نہ ہو گا’’ (انوارالمصابیح : ص ۱۳۸)
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔ (توضیح الکلام:ص۴۳۸)
اثری صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
اس پر جو معمولی کلام ہے غیر مفسر ہونے کی بنا ء پر مردود ہے۔ (پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ: ص۱۸۸)
غیر مقلدرئیس ندوی لکھتا ہے:
تجریح مبہم غیر مقبول ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ:ص۲۳۱)
ایک جگہ علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
امام الساجی کا قول ‘‘لایتابع علی حدیثہ’’ مبہم وغیر مفسر ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
(مقالات:ج۱،ص ۳۱۶)
اعتراض نمبر۲:
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ:
امام عثمان بن سعید الدارمی نے اس کو واہی (کمزور) کہا۔ (نورالعینین : ص ۱۶۵)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔عثمان بن سعید الدارمی سے منسوب اس اعتراض کو نقل کرنے والے امام ابوبکر البیھقی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، اور امام ابوبکر البیھقی رحمۃ اللہ علیہ عبدالرشید عراقی غیر مقلد کے بقول شافعی مقلدہیں۔ (کاروان حدیث:ص۱۸۹) اور غیر مقلدین کے ہاں تقلید ناجائز، حرام، بدعت، ضلالت ، شرک و کفر ہے اور اختلافی مسائل میں مقلدین کی نقل غیر معتبر ہے۔ (ملخصاً: تحقیقی جائزہ ص ۸۲۱۔۵۳۸۔۹۸۳) لہٰذا تقلید کرنے کی وجہ سے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ غیر مقلدین کے ہاں نقل میں غیر معتبر، کافر مشرک، اور حرام کاری کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔ الغرض غیر مقلدین ایک طرف تو مقلدین کو کافر، مشرک، بدعتی اور ان کی نقل کو غیر معتبر قرار دیتے نہیں تھکتے، اور دوسری طرف ترک رفع یدین دشمنی میں مذکورہ بالا مقام پرایک مقلد ہی کی نقل کا سہارا لینے کیلئیان کی چوکھٹ پر کاسۂ گدائی رکھے سجدہ ریز ہیں۔کسی نے خوب کہاہے۔
آنچہ شیراں را کند روباہ مزاج
احتیاج ست و احتجاج ست احتیاج
ثانیاً۔۔۔۔اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ بذات خود معترض عثمان بن سعید الدارمی اگرچہ مشہور حافظ الحدیث ہیں، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے لیے مثل بندوں کے صفات ثابت کرنے میں غلورکھتے تھے (جو کہ فرقہ مجسمہ کا مذہب ہے) مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ بیٹھتے ہیں،کھڑے بھی ہوتے ہیں، اللہ پاک ثقیل (بھاری) وخفیف بھی ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ الامام الثقہ الناقدالحجہ محمد زاہدبن الحسن الکوثری رحمۃ اللہ علیہ عثمان بن سعید الدارمی کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وعثمان بن سعید فی السند ھوصاحب النقض مجسم مکشوف الامر یعادی ائمۃ التنزیہ ویصرح باثبات القیام والقعود والحرکۃ والثقل والاستقرار المکانی والحد ونحوذالک لہ تعالیٰ ! ومثلہ یکون جاھلاً بااللہ سبحانہ ’’(تانیب الخطیب: ص ۱۶)
نیز غیرمقلد ناصر الدین البانی نے باوجود متعصب غیر مقلد ہونے کے عثمان بن سعید الدارمی کے متعلق علامہ کوثری رحمۃ اللہ علیہ کے مؤقف کی تائید کی ہے، چنانچہ ناصر الدین البانی واضح الفاظ میں لکھتا ہے کہ:
‘‘ اقول لاشک فی حفظ الدارمی وامامتہ فی السنۃ ولکن یبدو من کتابہ ‘‘ الرد علی المریسی ’’ انہ مقال فی الاثبات فقدذکر فیہ ماعزاہ الکوثری الیہ من القعود والحرکۃ الثقل ونحوہ وذلک ممالم یردبہ حدیث صحیح وصفاتہ تعالٰی توفیقیۃ فلاتثبت لہ صفۃ بطریق اللزوم مثلاً کان یقال یلزم من ثبوت مجیۂ تعالٰی ونزولہ ثبوت الحرکۃ فان ھذا ان صح بالنسبۃ للمخلوق فاللہ لیس کمثلہ شیء ’’ (حاشیۃالتنکیل: ج۱ص ۳۴۹)
میں (ناصر الدین البانی) کہتا ہوں کہ دارمی کے حفظ اور حدیث میں امام ہونے میں کوئی شک نہیں ہے لیکن ان کی کتاب ‘‘الردعلی المریسی’’ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ (اللہ کے لیے مثل بندوں کے) صفات ثات کرنے میں غلورکھتے ہیں انہوں نے اپنی اس کتاب میں واقعی وہ چیزیں ذکر کی ہیں جو (علامہ) کوثری (رحمۃ اللہ علیہ) نے ان کی طرف ‘‘قعود حرکت اور ثقل وغیرہ’’منسوب کی ہیں حالانکہ اس نظریہ کی تائید میں ایک بھی حدیث صحیح وارد نہیں ہوئی اللہ کی صفات توفیقیہ ہیں اور اللہ کے لیے کوئی بھی صفت بطریق لنروم ثابت نہیں ہو سکتی مثلاً اللہ کی مجیئت اور نزول سے حرکت کا ثبوت نہیں ہو سکتا یہ اگرچہ مخلوق کی نسبت تو ٹھیک ہے لیکن اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے۔
الغرض: بذات خود عثمان بن سعید الدارمی صاحب ہی سرے سے غالی بدعتی ہیں اور زبیر علی زئی غیر مقلد نے صراحت کر رکھی ہے کہ بدعتی شخص کی جرح اصلاً مردود ہوتی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے ایک پسندیدہ راوی پر محمد بن مسلمہ کی جرح کے دفاع میں لکھا ہے کہ:
فرقہ مشبہہ کے ساقط العدالت شخص کی جرح اور خاص طور پر اہل السنہ پر جرح اصلاً مردود ہے۔ (ماہنامہ الحدیث : ص ۳۵ ش نمبر۴۹)
علی زئی تضاد نمبر ۲۶:
قارئین: یاد رہے کہ علی زئی صاحب نے مذکورہ اصول کہ ‘‘بالخصوص اہل سنت والجماعت کے خلاف اہل بدعت کی جرح اصلاً مردود ہوتی ہے’’ کو صرف اور صرف اپنے پسندیدہ راویوں کے دفاع میں ہی استعمال کیا ہے، جبکہ دوسری طرف اس نے تضادبیانی اور دو غلی پالیسی سے کام لیتے ہوئے اہل بدعت کی جروحات کو ائمہ احناف (جو کہ باقرار حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اہل سنت تھے، منھاج السنہ: ج۱،ص۳۵) کے خلاف بڑے جوش و خروش سے پیش کیا ہے۔
مثلاً حافظ جو زجانی کو خود علی زئی نے بدعتی اور ناصبی قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: الحدیث ۹/۲ والقول المتین ص ۴۳) مگر اس کے باوجود اس کے اقوال کو ائمہ احناف (امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ، امام محمدرحمۃ اللہ علیہ اور امام محمد بن حسن بن زیادرحمۃ اللہ علیہ) کے خلاف بطور جرح پیش کیا ہے۔ (دیکھئے: ماہنامہ الحدیث : ش نمبر۷ ص ۱۷وش نمبر۵۵ص۲۳)
ثالثاً۔۔۔۔عثمان بن سعید الدارمی سے منسوب اعتراض کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:
‘‘ قال عثمان بن سعید الدارمی فھذا قدروی من ھذا الطریق الواھی عن علی وقدروی عبدالرحمن بن ھرمزالاعرج عن عبیداللہ بن ابی رافع عن علی انہ رای النبی صلی اللہ علیہ وسلم یرفعھما عندالرکوع و بعد مایرفع راسہ من الرکوع فلیس الظن بعلی رضی اللہ عنہ انہ مختار فعلہ علی فعل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’(السنن الکبری للبیہقی: ج۲ص ۸۰)
یعنی (منسوب ہے کہ) عثمان بن سعید الدارمی کہتے ہیں کہ اس سند کے ساتھ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی روایت کمزور ہے، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع الیدین روایت کیا ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رفع یدین نقل بھی کریں اور پھر اس کی مخالفت بھی کریں۔
دارمی سے منسوب اس اقتباس سے واضح ہو گیا کہ دارمی صاحب نے ثقہ و صدوق راویوں کی سند سے مروی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی روایت کی سند کو بغیر کسی راوی پر جرح کیے محض اس لیے کمزور کہا ہے کہ عبدالرحمن بن ابی الزناد کے طریق سے مروی ایک دوسری روایت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً رفع الیدین منقول ہے۔
حالانکہ یہ عثمان بن سعید دارمی صاحب کا نراوہم ہے کیونکہ یہ جس روایت کی بنیاد پر ثقہ و صدوق راویوں سے مروی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت کی سند کو کمزور کہہ رہے ہیں، وہ روایت سرے سے بسند صحیح سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہی نہیں ہے۔ ائمہ محدثین نے صراحت فرما رکھی ہے کہ وہ روایت عبدالرحمان بن ابی الزناد کی وجہ سے مردود اور اس کی خطاء و وہم کا نتیجہ ہے۔
چنانچہ جلیل القدر ثقہ بالا جماع محدث و معتدل ناقد امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھواضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ:
‘‘سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی رفع الیدین نہ کرنے والی حدیث بالکل صحیح و ثابت ہے اور یہ رفع الیدین نہ کرنے والوں کی بہت بھاری دلیل ہے۔ اور جس روایت میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً رفع الیدین کرنا منقول ہے وہ روایت فی نفسہ سقیم (ضعیف) اور عبدالرحمن بن ابی الزناد کی خطاء کا نتیجہ ہے۔ (ملخصاً: شرح معانی الاٰثار ج۱،ص۱۶۳)
اسی طرح ثقہ بالا جماع محدث و معتدل ناقدامام علاؤ الدین علی بن عثمان الماردینی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ عثمان بن سعید الدارمی سے منسوب مذکورہ بالا اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
‘‘سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع یدین کی حدیث کی سند کیسے کمزور ہو سکتی ہے؟ جبکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اسے ابوبکر النہشلی رحمۃ اللہ علیہ سے ثقہ راویوں کی ایک جماعت ابن مہدی رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ، وغیرھما نے روایت کیا ہے، اور امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘وکیع عن النھشلی’’سے اس روایت کو مصنف میں تخریج فرمایا ہے، اور امام ابوبکر النہشلی رحمۃ اللہ علیہ سے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ وغیرھم نے روایات لی ہیں اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ویحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ثقہ کہا ہے، امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ اسے نیک اور شیخ کہتے ہیں، حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ بھی اسے نیک آدمی کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے خواہ مخواہ (حسب عادت) بلاوجہ اس پر کلام کیا ہے’’ (جوقابل التفات نہیں)
امام ماردینی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ مزید فرماتے ہیں کہ:
سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع یدین کی حدیث کی سند کمزور نہیں ہو سکتی، کمزور تو اس روایت کی سند ہے جس میں مرفوعاً سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین منقول ہے، کیونکہ اْس کی سند میں عبدالرحمان بن ابی الزناد (ساقط الاعتبار) راوی ہے، اسے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ مضطرب الحدیث کہتے ہیں، امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس کی روایت سے دلیل نہیں پکڑی جا سکتی، امام ابن مھدی رحمۃ اللہ علیہ نے (بسبب ضعیف ہونے کے) اسے ترک فرمادیا تھا۔(ملخصاً: الجوہر النقی ص ۷۳۔۷۹)
نیز امام ابوالحسن نورالدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷ھ اسے ضعیف کہتے ہیں۔ (مجمع الزوائد: برقم ۲۲۰۰۔۲۲۳۳۔ ۲۳۱۴۔ ۲۷۹۲۔ ۴۲۰۳) اور فرماتے ہیں کہ ‘‘ وضعفہ الجمھور ’’ اسے جمہور ائمہ محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (ایضاً: برقم ۷۱۷۳) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ، حافظ ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ ، امام ابوجعفر عمرو بن علی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ساجی رحمۃ اللہ علیہ بھی اسے ضعیف کہتے ہیں، (ملخصاً: الضعفاء والمتروکون برقم ۳۶۷ و سنن الکبریٰ للنسائی برقم ۱۰۳۰۲ ،الطبقات الکبرٰی برقم ۱۴۲۲،تاریخ بغداد برقم ۵۳۵۹) امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے روایت حدیث میں کچھ بھی نہیں ہے۔ ناقابل استدلال ہے۔ (میزان ج۲،ص ۱۱۱ ،تہذیب ج۶ص۱۷۱، الجرح والتعدیل ج۵،ص۲۲۵) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر اپنے والد سے ‘‘کتاب السبعۃ الفقھاء’’ نقل کرنے پر تنقید کی ہے (تذکرۃ الحفاظ: برقم ۲۳۴) امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے ضعیف اور متروک راویوں میں ذکر کر کے اس پر جرح نقل کی ہے۔ (الضعفاء والمتروکون برقم ۱۸۶۹) امام عبدالرحمن بن مھدی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تمام روایات پر قلم پھیر دیا تھا (یعنی وہ سب کی سب غلط و مردود ہیں) (تاریخ بغداد برقم ۵۳۵۹) حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ مضبوط نہیں ہے (تذکرۃ الحفاظ برقم ۲۳۴) محدیث صالح بن محمد جزرہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اس نے اپنے والد سے ایسی روایتیں بیان کی ہیں جن میں اس کی کوئی بھی موافقت نہیں کرتا (ایضاً) امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سے مروی ایک روایت کا جواب یوں دیا ہے کہ ‘‘ یشیرمالک بعبدالرحمن ’’ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا اشارہ عبدالرحمن بن ابی الزناد کے ضعف کے بارے میں ہے کہ یہ روایت اس کی غلطی کا نتیجہ ہے (سنن ترمذی: ج۱،ص۱۵) امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسے خطاء کار کہا ہے۔ (ملخصاً: شرح معانی الآثار: ج۱،ص۱۶۳) امام ابواحمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے ہاں یہ حافظ الحدیث شمار نہیں کیا جاتا۔ (تہذیب التہذیب: ج۶،ص۱۷۱) امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ بھی کہتے ہیں کہ عبدالرحمن بن ابی الزنادائمہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ (تاریخ بغداد: برقم ۵۳۵۹)
دراصل اس روایت میں رفع الیدین کا ذکر مذکور عبدالرحمن بن ابی الزناد کے کثیر الخطاء ومضطرب الحدیث وغیرہ ہونے کی وجہ سے آگیا ہے اور اسی کی خطاء ووھم کا نتیجہ ہے، ورنہ اصل حدیث میں رفع الیدین کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ جس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس حدیث کو عبدالرحمن بن ابی الزناد کی طرح ابن جریج رحمۃ اللہ علیہ، یحییٰ بن محمد بن عباد الشجری رحمۃ اللہ علیہ، ابراہیم بن محمدرحمۃ اللہ علیہ، عبداللہ بن جعفر رحمۃ اللہ علیہ، عاصم بن عبدالعزیز الاشجعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرھم نے بھی موسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے مگر اس میں اختلافی رفع یدین کا سرے سے نام و نشان بھی نہیں ہے۔ (دیکھئے: سنن دارقطنی ج۱،ص۲۹۷ برقم ۱۲۹۴ ،مسند الشافعی برقم ۲۱۶، معجم ابن عساکر برقم ۷۱۴ ،مصنف عبدالرزاق برقم ۲۵۶۷ ،کتاب الدعا للطبرانی برقم ۴۹۶) اسی طرح موسی بن عقبہ کے علاوہ دوسرے راوی بھی اس حدیث کو روایت کرتے ہیں مگر وہاں بھی اختلافی رفع یدین کا ذکر نہیں ہے مثلاً ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔صحیح مسلم: ج۱،ص۲۶۳
(۲)۔۔۔۔سنن ابی داؤد:ج۱،ص۱۱۷
(۳)۔۔۔۔مسند احمد: برقم ۸۰۳۔۸۰۴۔۸۰۵
(۴)۔۔۔۔مسند ابی داؤد طیالسی: برقم ۱۴۷
(۵)۔۔۔۔مصنف عبدالرزاق: برقم ۲۹۰۴
(۶)۔۔۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: برقم ۲۳۹۹۔۲۵۵۳
(۷)۔۔۔۔فضائل الصحابہ لاحمد: برقم ۱۱۸۸
(۸)۔۔۔۔سنن الدارمی: برقم ۱۲۷۴۔۱۳۵۳
(۹)۔۔۔۔سنن الترمذی: برقم۲۶۶۔۳۴۲۱۔۳۴۲۲
(۱۰)۔۔۔۔مسند البزار: برقم ۵۳۶
(۱۱)۔۔۔۔مختصر قیام اللیل للمروزی: برقم ج۱،ص۱۸۲
(۱۲)۔۔۔۔سنن الکبرٰی للنسائی : برقم ۶۴۱۔۷۱۵۔۹۷۳
(۱۳)۔۔۔۔سنن النسائی: برقم ۸۹۴۔۱۰۵۰
(۱۴)۔۔۔۔مسندابی یعلیٰ الموصلی: برقم ۲۸۵۔۵۷۴
(۱۵)۔۔۔۔المنتقیٰ لابن الجارود : برقم ۱۷۹
(۱۶)۔۔۔۔صحیح ابن خزیمہ: برقم ۴۶۲۔۶۱۲
(۱۷)۔۔۔۔مختصر الاحکام للطوسی : برقم ۱۱۷
(۱۸)۔۔۔۔مستخرج ابی عوانہ: برقم ۱۶۰۶
(۱۹)۔۔۔۔شرح معانی الآثار: برقم ۱۱۸۱
(۲۰)۔۔۔۔کتاب الدعاء للطبرانی: برقم ۴۹۳۔۴۹۴۔۴۹۵۔۴۹۷
(۲۱)۔۔۔۔المعجم الاوسط للطبرانی: برقم ۴۵۵۲
(۲۲)۔۔۔۔سنن الدارقطنی: برقم ۱۱۳۷
(۲۳)۔۔۔۔المسند المستخرج علی مسلم للاصبھانی: برقم۱۷۶۱۔۱۷۶۲
(۲۴)۔۔۔۔الدعوات الکبیرللبیہقی: برقم ۷۲۔۷۹۔۹۲
(۲۵)۔۔۔۔شعب الایمان للبیھقی:برقم ۲۸۶۴
(۲۶)۔۔۔۔شرح السنۃ للبغوی : برقم ۵۷۲
(۲۷)۔۔۔۔عمدۃ القاری للعینی: ج۵ص ۲۹۵
الغرض: دارمی صاحب کا اعتراض غلط ہے، کیونکہ انہوں نے جس روایت کے پیش نظر ثقہ و صدوق راویوں سے مروی سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی حدیث کی سند کو کمزور کہا ہے، وہ روایت ہی سرے سے ضعیف باطل ومردود اورعبدالرحمن بن ابی الزناد کی خطاء کا نتیجہ ہے۔ نیز محدث ماردینی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح امام ابن دقیق العیدرحمۃ اللہ علیہ نے بھی دارمی صاحب کے اعتراض کو باطل و مردود اور غلط کہا ہے اور دارمی صاحب کے اعتراض کا عظیم الشان جواب دیا ہے۔ (دیکھئے: نصب الرایہ ج۱ص ۴۱۳ ،التعلیق الممجد ص ۹۲)
رابعاً۔۔۔۔یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ دارمی صاحب کی مستدل اثبات رفع الیدین کی روایت میں رفع الیدین کا ذکر کرنے میں عبدالرحمان بن ابی الزناد متفرد یعنی اکیلا ہے، جب کہ دیگر کئی ثقہ و صدوق راویوں نے اس میں رفع یدین کی زیادتی نقل نہیں کی۔ اور عبدالرحمن بن ابی الزناد حفظ و ضبط کے اعلیٰ درجے پر فائز بھی نہیں ہے اور معیاری ثقہ بھی نہیں ہے اور ایسے راوی کی زیادتی غیر مقلدین کے ہاں کسی صورت میں بھی معتبر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ غیر مقلدین نے ثقہ راوی کی زیادت اور تفرد کے قبول ہونے کے لیے شرط لگائی ہے کہ وہ راوی اَحفظ وَاَتقَن(اعلیٰ درجہ کا حافظ الحدیث اور انتہائی پختہ کار محدث) ہو۔
چنانچہ غیر مقلدارشاد الحق اثری صاحب لکھتے ہیں کہ:
صحیح قول یہ ہے کہ ثقہ کی زیادتی مطلقاً قبول نہیں بلکہ اس کا مدارقرائن پر ہے اور قبولیت میں شرط اول یہ ہے کہ زیادت کرنے والااَحْفَظ وَاَتقَن ہو۔ (توضیح الکلام:ج۲،ص ۲۶۱)
غیر مقلد محمد گوندلوی صاحب کہتے ہیں کہ:
باقی رہا زیادتی ثقہ کا قبول وعدم قبول، سوثقہ کی زیادتی مطلقا ًقبول نہیں ہوتی کسی جگہ ہوتی ہے اور کسی جگہ نہیں۔ کیونکہ ثقہ غلطی کر جاتا ہے ‘‘ ان الثقۃ قدیغلط ’’ مشہور مقولہ ہے۔(التحقیق الراسخ: ص ۱۲۲)
نیز گوندلوی صاحب علامہ ابن عبدالبررحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
‘‘ انما تقبل اذکان راویھا احفظ واتقن-85۔۔۔الخ۔’’(ایضاً : ص۱۴) یعنی ثقہ راوی کی زیادتی اس وقت قبول کی جاتی ہے جب اس زیادتی کا راوی احفظ واتقن ہو۔
خامساً۔۔۔۔عثمان بن سعید دارمی صاحب کی مستدل سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منسوب اثبات رفع یدین کی مرفوع روایت اگر بالفرض صحیح و ثابت بھی ہو تو اس سے ثقہ و صدوق راویوں سے مروی وثابت شدہ ترک رفع یدین والی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف حدیث کی سند کا کمزور ہونا لازم نہیں آتا، بلکہ اس سے تو اثبات رفع الیدین والی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منسوب مرفوع حدیث کا علماء غیر مقلدین کے بقول ناقابل عمل اور منسوخ ہونا لازم آئے گا۔ کیونکہ علماء غیر مقلدین نے صراحت کر رکھی ہے کہ اگر کسی روایت کے راوی کا عمل اپنی بیان کردہ روایت کے خلاف ثابت ہو جائے تو وہ روایت ناقابل عمل اور منسوخ ہوتی ہے۔
چنانچہ غیر مقلد ابراہیم سیالکوٹی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اگر راوی کا عمل اس کی روایت کے خلاف ہو تو اس کی روایت قابل عمل نہ ہو گی۔ (انارۃ المصابیح ص ۲۹ بحوالہ التوضیح عن رکعات التراویح ص ۱۶۶)
نواب صدیق حسن غیر مقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ومخالفت راوی از مروی دلیل است برآنکہ راوی علم ناسخ داردچہ حمل آں برسلامت واجب است’’(دلیل الطالب: ۴۷۶)
راوی کا اپنی مروی روایت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ راوی اس روایت کو منسوخ کر دینے والی روایت کا علم رکھتا ہے کیونکہ راوی کی عدالت کوسلامتی پر محمول کرنا واجب ہے۔
غیر مقلد عبداللہ روپڑی صاحب لکھتے ہیں کہ:
ائمہ اربعہ اور جمہورتین طلاق واقع ہونے کے قائل کیوں ہوئے۔؟بڑی وجہ اس کی یہی ہے کہ راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے اس سے معلوم ہوا کہ اہل حدیث قول صحابی رضی اللہ عنہ کو بے دھڑک نہیں چھوڑتے۔(فتاویٰ اہلحدیث ج۱، ص ۵۰۴)
غیر مقلد محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خود اپنی مروی عنہ کے خلاف عمل کرنا، اس کے صاف معنی یہی ہیں کہ یہ روایت قبل مشروعیت کی ہے۔ (التحقیق الراسخ: ۱۳۲)
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب ایک حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
یہ روایت شواہد کے ساتھ صحیح ہے لیکن راوی کے فتویٰ کی وجہ سے منسوخ ہے۔ (نصرالباری: ص ۲۸۶)
ان اقتباسات سے واضح ہو گیا کہ علمائے غیر مقلدین کے بقول راوی کا اپنی مروی روایت کے خلاف عمل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ روایت قابل عمل نہیں بلکہ منسوخ ہے۔ لہٰذا اگر بالفرض سیدنا علی لمرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اثبات رفع الیدین کی روایت ثابت بھی ہو تو چونکہ اس روایت کے راوی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا اپنا عمل اس روایت کے خلاف ثابت ہوچکا ہے جو کہ علمائے غیر مقلدین کے بقول اس روایت کے ناقابل عمل اور منسوخ ہونے کی دلیل ہے نہ کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف حدیث کے کمزور ہونے کی۔
علی زئی تضاد نمبر ۲۷:
مذکورہ بالا غیر مقلدین کے اقتباسات میں لکھا جا چکا ہے کہ نماز کے ایک مسئلہ کے متعلقہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سے جان چھڑانے کے لیے علی زئی صاحب نے لکھا ہے کہ:
یہ روایت شواہد کے ساتھ صحیح ہے، لیکن راوی کے فتویٰ کی وجہ سے منسوخ ہے۔
(نصرالباری:ص۲۸۷)
لیکن دوسری طرف جب ایک روایت علی زئی صاحب کے مفاد میں آئی مگر راوی کا عمل خلاف ہونے کی وجہ سے مذکورہ اصول کی روشنی میں منسوخ قرار پاتی تھی تو علی زئی نے تضادبیانی و دوغلہ پالیسی سے کام لیتے ہوئے اپنے اس طے شدہ اصول سے یوں جان چھڑائی کہ:
یہ اصول ہی مختلف فیہ ہے۔ محدثین میں سے ایک جماعت اس اصول کے خلاف ہے اور کہتی ہے کہ عبرت تو روایت میں ہے نہ کہ راوی میں۔ (تعداد رکعات قیام رمضان : ۱۹۲)
علی زئی تضاد نمبر ۲۸:
نیز مذکورہ بالا اقتباس میں زبیر علی زئی صاحب نماز کے ایک مسئلہ کے متعلق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کو منسوخ قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ایک دوسری جگہ دو غلہ پالیسی سے کام لیتے ہوئے علی زئی صاحب نے ہی لکھا ہے کہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز وغیرہ کے جو مسائل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں وہ آخری اور ناسخ ہیں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ نماز کا کوئی مسئلہ بھی منسوخ نہیں۔ (ملخصاً:نورالعینین ص ۳۲۸۔ ۳۲۹)
ع دروغ گو را حافظہ نباشد
اعتراض نمبر۳:
غیر مقلدز بیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام شافعی نے اسے غیر ثابت کہا(السنن الکبری للبیہقی: ج۲،ص۸۱) ۔(نورالعینین: ص ۱۶۵)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے اس جرح کو نقل کرنے والے امام ابوعلی حسن بن محمد الصباح الزعفرانی ہیں، اور زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ سے اس جرح کو نقل کرنے والے امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ امام ابوعلی زعفرانی کی وفات ۲۵۹ھ یا ۲۶۰ھ میں ہے اور امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۳۸۴ھ میں اور وفات ۴۵۸ھ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابوعلی زعفرانی کی وفات کے ایک سوتیئیس (۱۲۳) یا ایک سو چوبیس (۱۲۴) سال بعد امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے ہیں اور امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابوعلی زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان کئی سالوں کا فاصلہ ہے، لہٰذ اس جرح کی سند منقطع ہے اور منقطع السند جروحات علی زئی صاحب کے بقول غیر ثابت اور مردود شمار ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایک راوی کے متعلق امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ کے قول ‘‘ وکان شعبۃ یضعفہ ’’(کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو ضعیف قرار دیتے تھے) کارد کرتے ہوئے زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ابن معین ۱۵۷ھ میں پیدا ہوئے اور شعبہ بن الحجاج ۱۶۰ھ میں فوت ہوئے یعنی یہ روایت منقطع السند ہونے کی وجہ سے مردود ہے’’ (الحدیث: ص۱۷ ش نمبر۲۲)
اسی طرح شاہ رفیع الدین نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ جب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کے لیے پہنچے تو وہاں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے رفع الیدین کرنا چھوڑ دیا تھا، اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
یہ واقعہ جعلی اور سفید جھوٹ ہے۔ شاہ رفیع الدین کا کسی واقعہ کو بغیر سند کے نقل کر دینا اس واقعہ کی صحت کی دلیل نہیں ہے۔ شاہ رفیع الدین اور امام شافعی کے درمیان کئی سوسال کا فاصلہ ہے-85 بغیر سند کے کسی کی بات کی ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں ہے۔ (نورالعینین: ص۳۶)
لہٰذا معترض علی زئی صاحب کے ضابطہ کی روشنی میں تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ بالا اعتراض جعلی، سفیدجھوٹ ، غیر ثابت اور مردود ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔اگر بفرض محال ثابت بھی ہو تو اس میں زیر بحث حدیث کے غیر ثابت ہونے کی وجہ بیان نہیں کی گئی لہٰذا یہ جرح غیر مفسر غیر مبین السبب ہے، محمد گوندلوی غیر مقلد نے بھی اس طرح کی جرح کو غیر مفسر کہا ہے۔ (دیکھئے: خیر الکلام:ص۴۴) اور درج ذیل ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے صراحت فرما رکھی ہے کہ غیر مفسر جرح قبول نہیں ہوتی۔ (لہٰذ یہ جرح سرے سے سننے کے ہی قابل نہیں ہے)۔
(۱)۔۔۔۔امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ:تقریب ۲۶۹
(۲)۔۔۔۔ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۴۳ھ:الکفایہ برقم ۲۷۷
(۳)۔۔۔۔حافظ ابن صلاح۶۴۳ھ:مقدمہ ابن صلاح: ص ۶۱
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ: اختصار فی علوم الحدیث مترجم ص ۸۹
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ: ھدی الساری ص ۵۴۳
(۶)۔۔۔۔امام ابومحمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ : عمدۃا لقاری ج۱،ص۲۸
(۷)۔۔۔۔عبدالعزیز بن احمد البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۷۳۰ھ: کشف الاسرار ج۳، ص۶۸
(۸)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ: تاریخ اسلام برقم ۴۳۵
(۹)۔۔۔۔علامہ لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۰۴ھ: الرفع والتکمیل ص ۸۰
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۱۸:
غیر مقلد رئیس ندوی لکھتا ہے کہ:
اس روایت میں تحریف کر کے ‘‘ ثم لایعود ’’ کالفظ الحاق کر دیا گیا ہے۔(تحقیقی جائزہ :۲۷۷)
تبصرہ: قارئین: منکرحدیث ندوی صاحب کی یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے ندوی صاحب نے اس بات پر کوئی حوالہ اور دلیل پیش نہیں کی اور ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی صاحب نے لکھا ہے کہ بے حوالہ بات مردود وباطل ہوتی ہے۔(ماہنامہ الحدیث ص ۱۵ ش نمبر۳۶) مزید یہ کہ یہ حدیث کسی ایک کتاب میں نہیں بلکہ بیسیوں کتابوں میں ‘‘ثم لایعود’’ کے لفظ کے ساتھ ثقہ و صدوق راویوں کی سند کے ساتھ مروی ہے، حتیٰ کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے استاد امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مصنف میں اسے انہی الفاظ کے ساتھ ہی تخریج فرمایا ہے اور اس حدیث کو متعدد ائمہ محدثین نے اپنی اپنی کتب میں صحیح کہا ہے۔ اور آج تک کسی ایک محدث و امام حتی کہ کسی غیر مقلد عالم نے بھی اس حدیث میں ‘‘لفظ ثم لایعود’’ کو محرف والحاقی نہیں کہا۔ غیر مقلد زبیر علی زئی و ابوالحسن مبارکپوری نے بھی اسے ‘‘ثم لایعود’’ کے لفظ کے ساتھ ہی نقل کیا ہے (نور العینین ص ۱۶۵ ، مرعاۃ المفاتیح ج۳،ص۲۶) فرقہ غیرمقلدیت کے حضرات کو چاہیے کہ یا تو اس حدیث میں لفظ ‘‘ثم لایعود’’ کا محرف والحاقی ہونا دلائل سے ثابت کریں یاپھر اپنے متحقق رئیس ندوی کو کذاب (جھوٹا) اور منکر حدیث تسلیم کریں۔
اثر علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ائمہ محدثین کی نظر میں:
ماقبل میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ترک رفع یدین کی حدیث کی سند بالکل صحیح و ثابت ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں۔اب اتمام حجت کے طور پر اس کے متعلق ائمہ محدثین کی آراء پیش کی جاتی ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔جلیل القدر ثقہ معتدل محدث و ناقد امام ابوجعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘یہ حدیث صحیح ہے اور رفع یدین نہ کرنے والوں کی بہت بھاری دلیل ہے’’۔ (شرح معانی الاثار:ج۱،ص۱۶۳)
(۲)۔۔۔۔امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ واسناد حدیث عاصم بن کلیب صحیح علی شرط مسلم ’’ اس حدیث کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔(عمدۃ القاری ج۵،ص۲۷۴، وشرح ہدایہ ج۱،ص۶۶۸)
(۳)۔۔۔۔امام ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ بھی اسے صحیح مانتے ہیں۔ (ملخصاً: نصب الرایہ ج۱،ص۴۰۶)
(۴)۔۔۔۔امام ابوالحسن الداراقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ اسے موقوفاً صواب کہتے ہیں۔ (علل الدارقطی: برقم۴۵۷)
(۵)۔۔۔۔امام علاؤ الدین علی بن عثمان الماردینی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ رجالہ ثقات ’’ اس حدیث کے تمام راوی مضبوط ہیں۔ (الجوہر النقی: ج ۲ص۷۸)
(۶)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۶۲ھ بھی صحیح مانتے ہیں۔ (ملخصاً: شرح ابن ماجہ ج۱ ص ۱۴۷۳)
(۷)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ رجالہ ثقات ’’ اس حدیث کے تمام راوی مضبوط ہیں۔ (الدرایہ : ج ۱ ص ۱۵۲)
(۸)۔۔۔۔امام ابوالحسن ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱۴ھ صحیح مانتے ہیں۔ (الاسرار المرفوعہ: ج ۱ ، ص۴۹۴)
(۹)۔۔۔۔امام ابومحمد عبداللہ بن یوسف زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ وھواثر صحیح ’’ یہ اثر بالکل صحیح ہے۔ (نصب الرایہ: ج۱، ص ۴۰۶)
(۱۰)۔۔۔۔امام قاسم ابن قطلوبغا الجمالی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ سندہ ثقات ’’ کہ اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (التعریف الاخبار ص ۳۰۹)
(۱۱)۔۔۔۔محدث نیموی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۲۲ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ واسنادہ صحیح ’’اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (آثار السنن: ص۱۱۲)
(۱۲)۔۔۔۔محدث عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ فانہ علی شرط مسلم ’’ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (اعلاء السنن : ج۳، ص ۶۴)
اثر نمبر۳: بحولہ الاوسط لابن المنذر
‘‘حدثنا علی بن عبدالعزیز قال ثنا ابونعیم قال ثنا ابوبکر یعنی النھشلی عن عاصم بن کلیب عن ابیہ انہ کان مع علی بصفین قال فکان یرفع یدیہ الاولیٰ ولایرفع فیما سوٰی ذلک ’’(الاوسط لابن المنذر: برقم ۱۳۴۳)
ترجمہ:جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے شریک ہونے والے (تابعی) کلیب بن شھاب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ بالکل رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
سند کی تحقیق:
اس اثر کی سند کے راوی امام علی بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ‘‘ ثقۃ مامون ’’ ہیں (سؤالات حمزہ السھمی: برقم ۳۸۹) اور باقی راویوں کی تو ثیق و تعدیل کے حوالے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا اس اثر کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بلاغبار صحیح ہے۔
اثر نمبر۴: بحوالہ شرح معانی الآثار
‘‘ فان ابابکرۃ قدحدثنا قال ثنا ابواحمد قال ثنا ابوبکر النھشلی قال ثنا عاصم بن کلیب عن ابیہ: ان علیاً کان یرفع یدیہ فی اول تکبیرۃ من الصلٰوۃ ثم لایرفع بعد ’’
ترجمہ:بلاشک و شبہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پہلی تکبیر میں جس سے نماز شروع کی جاتی ہے رفع یدین کرتے تھے۔ اس کے بعد بالکل نماز میں نہیں کرتے تھے۔
سند کی تحقیق:
اس روایت کی سند کے راوی ‘‘امام ابوبکرہ بکاربن قتیبہ رحمۃ اللہ علیہ’’ اور ‘‘امام ابواحمد محمد بن عبداللہ الزبیری رحمۃ اللہ علیہ’’ دونوں ثقہ ہیں۔ (دیکھئے: سیراعلام النبلاء:ج۱۲،ص ۵۹۹ و تاریخ اسماء الثقات: برقم ۱۲۹۱) اور باقی راویوں کا تعارف گزرچکا ہے۔ لہٰذ اس روایت کی سند کے بھی تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور ا سکی سند بالکل صحیح ہے۔
اثر نمبر۵: بحوالہ مؤطا امام محمد
‘‘ قال محمد اخبرنا ابوبکر بن عبداللہ النھشلی، عن عاصم بن کلیب الجرمی، عن ابیہ وکان من اصحاب علی، ان علی بن ابی طالب کرم اللّٰہ وجھہ کان یرفع یدیہ فی التکبیرۃ الاولیٰ التی یفتتح بھا الصلاۃ ثم لایرفعھما فی شیء من الصلاۃ ’’
ترجمہ: سیدناعلی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے شاگردکلیب بن شہاب الجرمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پہلی تکبیر میں جس سے نماز شروع کی جاتی ہے رفع یدین کرتے تھے، اس کی بعد نماز کے کسی حصے میں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (مؤطا امام محمد: ص ۹۴ وکتاب الحجہ ج۱ ص ۷۵)
فائدہ:
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سمیت اس روایت کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بھی بلاغبار صحیح ہے۔ نیز امام محمد ابن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ پر رئیس ندوی کے تمام اعتراضات کے جوابات انشاء اللہ ایک مستقل کتاب میں دیے جائیں گے۔
اثر نمبر۶: بحوالہ المدونۃ الکبری
‘‘ قال وکیع عن ابی بکر بن عبداللہ بن قطاف النھشلی عن عاصم بن کلیب عن ابیہ ان علیاً کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلاۃ ثم لایعود ’’(المدونۃ الکبرٰی: ج۱ص ۱۲۰)
ترجمہ: بلاشک و شبہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہ کرتے تھے۔
فائدہ:
اس روایت کی سند کے تمام راویوں کی تعدیل و ثوثیق کے حوالے گزر چکے ہیں لہٰذا اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے۔نیز مذکورہ بالا تحقیق سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین نہایت ہی مضبوط سندوں کے ساتھ ثابت ہے۔
سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین
اثر نمبر۷: بحوالہ مسند ابی یعلیٰ الموصلی
‘‘حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل حدثنا محمد بن جابر عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃ عن عبداللّٰہ قال صلیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و عمر فلم یرفعوا ایدیھم الاعندافتتاح الصلوٰۃ ’’ (مسند ابی یعلٰی الموصلی برقم ۵۰۳۶)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ سلم کے پیچھے اور حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ و عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ان حضرات نے شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کیا۔
تنبیہ: اس روایت کو سابقہ صفحات میں پیش کی جانے والی صحیح صریح احادیث کی تائید اور استشہاد میں پیش کیا گیا ہے، اور چونکہ یہ روایت بطور تائید اور متابعت کے ہے اس لیے اس روایت کی سند پر بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے اگلی روایات کو ذکر کیا جاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین
اثر نمبر۸: بحوالہ مؤطا امام مالک
‘‘ حدثنا ابومصعب قال حدثنا مالک عن نعیم بن المجمروابی جعفر القاری انھما اخبراہ ان اباہریرۃ کان یصلی لھم فیکبر کلما خفض و رفع و کان یرفع یدیہ حین یکبر یفتتح الصلوٰۃ ’’(مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزہری: ج۱ص۸۱، برقم ۲۰۸)
ترجمہ:نعیم بن المجمر رحمۃ اللہ علیہ اور ابوجعفر القاری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا بوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں نماز پڑھاتے تو ہر اونچ نیچ پر صرف تکبیر(اللہ اکبر) ہی کہتے، اور رفع یدین صرف شروع نماز والی تکبیر کے ساتھ ہی کرتے۔
سند کی تحقیق:
اس حدیث کی سند کے راویوں کی تعدیل وتوثیق کے حوالے حاضر خدمت ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ابومصعب احمد بن ابی بکر قاسم بن حارث الزہری المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۲ھ: ‘‘ صدوق عابد ’’ (تقریب: برقم ۱۷)
(۲)۔۔۔۔امام مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ: ‘‘ امام دارالھجرۃ راس المتقنین و کبیر المثبتین ’’ (ایضاً: ۶۴۲۵)
(۳)۔۔۔۔نعیم بن عبداللہ المدنی المجمررحمۃ اللہ علیہ: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً:۷۱۷۲)
(۴)۔۔۔۔ابوجعفر یزیدبن القعقاع القارئ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۷ھ: ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً:۸۰۲۱)
خلاصۃالتحقیق:
اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند بلاغبار صحیح ہے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۱۹،۲۰:
قارئین: اس حدیث کو ‘‘مؤطا امام محمد’’ کے حوالے سے بطریق ‘‘ محمد اخبرنا مالک۔۔۔۔الخ’’ حافظ حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنے مقالہ ‘‘تحقیق رفع یدین’’ میں نقل فرمایا تھا۔ اس پر فرقہ غیر مقلدیت کا متحقق رئیس ندوی لکھتا ہے کہ :
‘‘یہ روایت مؤطا امام مالک میں ہے بھی نہیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ امام مالک پر بطور افتراء محمد نے حسب عادت یہ روایت چسپاں کر دی ہے’’۔(بلفظہ: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۲)
الجواب:
ندوی صاحب کی یہ دونوں باتیں جھوٹی ہیں کیونکہ یہ حدیث مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزہری(ج۱،ص۸۱ ، برقم ۲۰۸) میں موجود بھی ہے۔ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یقینا بیان بھی کی ہے کیونکہ اس حدیث کو امام المحدثین محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے میں اکیلے و متفرد نہیں ہیں بلکہ ان کی طرح امام ابومصعب الزہری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ حدیث امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کی ہے (دیکھئے: مؤطا امام مالک : برقم ۲۰۸) لہٰذا اسے بطور افتراء امام مالک رحمۃ اللہ علیہ پر چسپاں کرنے والی بات بھی ندوی صاحب کاسفید جھوٹ ہے۔
نقاب کشائی:
مزید یہ کہ ندوی صاحب کی مذکورہ بالاعبارت (کہ یہ حدیث مؤطا امام مالک میں نہیں ہے اور امام محمد نے یہ حدیث بطور افتراء امام مالک پر چسپاں کر دی ہے) ندوی صاحب کے جس مضمون میں ہے وہ مضمون ندوی صاحب نے یکم مئی ۲۰۰۲ء میں لکھا ہے۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۹۳)
جبکہ اس سے پہلے رئیس ندوی صاحب نے جو مضمون مارچ ۲۰۰۲ء میں لکھا ہے۔(سلفی تحقیقی جائزہ : ص ۶۰۰) اس مضمون میں رئیس ندوی صاحب نے بذات خود واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ:
‘‘یہ حدیث مؤطا امام مالک میں موجود بھی ہے اور صحیح بھی ہے’’۔(سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۹۳)
اس سے ثابت ہوا کہ ندوی صاحب نے جاننے کے باوجود کہ مذکور حدیث کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے اور مؤطا امام مالک میں یہ حدیث موجود ہے محض ترک رفع یدین دشمنی میں مذکورہ بالا بہتان ثقہ و صدوق امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ پر لگایا ہے جو کہ ندوی صاحب کے کذاب ہونے کی واضح دلیل ہے۔
اثر نمبر۹: بحوالہ مسند احمد
‘‘حدثناابن نمیرحدثنا اسماعیل بن ابی خالد عن ابیہ قال کان ابوہریرۃ یصلی بالمدینۃنحوًا من صلاۃ قیس بن ابی حازم ’’ (مسنداحمد برقم ۱۰۴۴۳)
ترجمہ: (ثقہ تابعی) امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد (ابوخالد البجلی رحمۃ اللہ علیہ) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں بالکل ویسے ہی نماز پڑھتے جیسے کہ (جلیل القدر ثقہ تابعی) امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ پڑھتے ہیں۔
فائدہ:
اس روایت کے تمام راوی (عبداللہ بن نمیر رحمۃ اللہ علیہ، اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ، ابو خالد البجلی رحمۃ اللہ علیہ) ثقہ ہیں (دیکھئے:تقریب: برقم۳۶۶۸۔۴۳۸والکاشف: برقم ۶۵۹۹) اس صحیح السند روایت سے معلوم ہوا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز بالکل ثقہ تابعی امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ جیسی تھی، اور آگے آثار تابعین میں آرہا ہے کہ سیدنا قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ پس ثابت ہوا کہ سیدنا ابوہریررضی اللہ عنہ بھی رفع الیدین کے بغیر ہی نماز پڑھتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ اورترک رفع یدین
اثر نمبر۱۰ :بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ
‘‘حدثنا وکیع عن مسعرعن ابی معشرعن ابراہیم عن عبداللہ انہ یرفع یدیہ فی اول ما یفتتح ثم لایرفعھما ’’
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ بعد الافتتاح نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔(مصنف ابی ابن شیبہ: برقم ۲۴۵۸)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راوی امام مسعربن کدام رحمۃ اللہ علیہ و ابومعشر زیاد بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ ثقہ ہیں۔ (دیکھئے: تقریب برقم ۶۶۰۵۔۲۰۹۶) اور بقیہ راویوں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ لہٰذا اس سند کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں۔
اعتراض:
امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے۔
الجواب:
اولاً۔۔۔۔اگر بالفرض یہ حدیث مرسل بھی ہو تو تب بھی امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی مرسلات ائمہ محدثین کے نزدیک صحیح وقابل حجت ہیں۔ (دیکھئے: تدریب الراوی ص ۱۲۳۔۱۲۴ مقدمہ نصب الرایہ ص ۳۳ سنن الکبرٰی للبیہقی ج ۱،ص۱۴۸، نصب الرایہ ج۱،ص۵۲، الدرایہ ص ۱۶ مراسیل ابی داؤد ص۴) نیز اس کی تائید سنن ترمذی اورسنن نسائی وغیرہ کے حوالہ سے ماقبل میں پیش کی جانے والی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی متصل مرفوع احادیث سے بھی ہو رہی ہے، لہٰذا اگر اسے مرسل بھی شمار کیا جائے تو یہ مرسل معتضد ہے۔ مرسل معتضد اس مرسل کو کہتے ہیں کہ جس کی تائید کسی دوسری روایت سے ہو رہی ہو یا اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یا اکثرعلماء نے عمل کیا ہو۔ (مقدمہ شرح مسلم للنووی ص ۱۷ شرح نخبۃ الفکر ص ۵۱، زاد المعاد ج۱،ص۱۰۳) اور مرسل معتضد کو غیر مقلدین حجت قرار دیتے ہیں مثلاً۔۔۔۔
غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری صاحب ابوقلابہ رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مرسل روایت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
اگر یہ حدیث مرفوعاً غیر محفوظ اور مرسلاً محفوظ ہے تو بھی حجت ہے کیونکہ حدیث عبادہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے اس کا اعتضاد ثابت ہے اور مرسل معتضد کے حجت ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ (تحقیق الکلام ج۱،ص۹۵ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ملتان)
غیر مقلدعبدالرؤف صاحب ایک روایت کے بارے لکھتے ہیں:
اگر اس بات کو نہ بھی تسلیم کیا جائے تب بھی مرسل حجت ہے کیونکہ اس کی تائید میں مرفوع صحیح روایات ہیں۔ (القول المقبول : ص ۳۷۰)
غیر مقلد عبداللہ روپڑی صاحب ‘‘موسیٰ الجھنی’’ کی مرسل روایت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن اس کا اعتضاد دیگر طرق سے ثابت ہے لہٰذا مقبول ہے۔ (فتاویٰ اہلحدیث ج۱،ص۳۱۱)
غیر مقلد صادق سیالکوٹی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
گویہ حدیث مرسل ہے لیکن دوسری مستند احادیث سے ملکر قوی ہو گئی ہے۔ (صلوٰۃ الرسول ص ۱۸۸)
البانی غیر مقلد نے مرسل طاؤس سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
یہ مرسل معتضد ہے جو بالاتفاق حجت ہے۔ (ارواء الغلیل: ج۲، ص۷۱)
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
محدث العصر ، امام المحدثین شیخ ناصر الدین البانی کا مطلب یہ ہے کہ اگر مرسل کا معتبر شاہد ہو تو وہ صحیح ہوتی ہے۔ (حاشیہ عبادات میں بدعات: ص۱۲۹)
غیر مقلد شوکانی ایک مرسل روایت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
‘‘ وھذاوان کان مرسلالکنہ معتضد بما سبق ’’(نیل الاوطار: ج۳،ص۳۴۹)
یہ روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن سابقہ روایات سے معتضد اور مؤید ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث حکماً متصل ہے ، کیونکہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ واضح طور پر اعلان کر رکھا ہے کہ اگر میں براہ راست سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے کوئی حدیث ذکرکروں تو وہ حدیث میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی ایک بڑی جماعت سے سنی ہو گی، اور جب میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان میں کسی راوی کا ذکر کروں تو وہ حدیث میں نے صرف اور صرف اسی شخص سے ہی سنی ہوتی ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔۔حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ:
امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے فرمایا کہ مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت اس کی سندبھی بیان فرمادیا کرو، تو امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جب میں براہ راست سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کروں تو جان لوکہ وہ حدیث میں نے سیدناعبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنی ہوتی ہے ، اور جب میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کسی ایک شاگرد سے حدیث سنی ہوتی ہے تو میں اس کا نام ذکر کر دیتا ہوں۔ (التمہیدلابن عبدالبر ج۱،ص ۳۴)
(۲)۔۔۔۔امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ فرماتے ہیں کہ:
اگر فریق مخالف کہے کہ جو کچھ تم نے بواسطہ ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے وہ غیر متصل ہے، تو ان سے کہا جائے گا کہ امام ابراہیم النخعی رحمۃ اللہ علیہ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے صرف اسی وقت ارسال کرتے ہیں جب وہ روایت صحیح ہوتی ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے تواتر کے ساتھ منقول ہوتی ہے، امام اعمش رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت اس کی سندبھی بیان کردیا کرو، اس پر امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا! جب میں تم سے کہوں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو میں یہ بات تب کہتا ہوں جب مجھ سے وہ حدیث سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں نے بیان کی ہوتی ہے، اور جب میں کہتا ہوں فلاں نے سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے تووہ حدیث میں نے صرف اسی شخص سے ہی سنی ہوتی ہے۔ (شرح معانی الاٰثار: ج۱،ص۴۶۴)
اور چونکہ مذکورہ بالا حدیث کو بھی امام نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے براہ راست سیدنا ابن مسعودرضی اللہ عنہ سے نقل کیاہے اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اصول کے مطابق یہ حدیث امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں سے سنی ہے۔ لہٰذا اس کی سند حکماً متصل ہے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۲۱:
مذکور حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام نخعی سے اسے روایت کرنے والے ابو معشر کا نام نہیں بتلایا گیا اس کنیت والے کئی افراد امام نخعی کے معاصر اور ان سے روایت کرنے والے تھے اور کئی ایک مجروح وساقط الاعتبار تھے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص۵۹۲)
الجواب:
امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والے ان کے شاگردوں میں صرف ان کا ایک ہی شاگرد ‘‘صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی اور سنن نسائی کا ثقہ و صدوق راوی زیاد بن کلیب التمیمی النخعی الحنظلی’’ ابومعشر کی کنیت سے مشہور ہے۔ جوکہ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا شاگرد ہونے کے علاوہ اس حدیث کے راوی مسعربن کدام رحمۃ اللہ علیہ کا استاذ ہے۔ اس کے علاوہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا کوئی بھی شاگرد ابومعشرکی کنیت سے مشہور نہیں ہے۔ (فیما اعلم)لہٰذا ندوی صاحب کا یہ کہنا کہ ‘‘ابومعشر کی کنیت والے کئی افراد امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والے تھے اور کئی ایک مجروح و ساقط الاعتبار تھے۔’’ندوی صاحب کا سفید جھوٹ ہے۔ بندہ کو کتب اسماء-04 الرجال میں امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں اور ان سے روایتیں نقل کرنے والوں میں صرف ایک ہی راوی زیاد بن کلیب النخعی ہی ابومعشر کی کنیت سے مشہور ملاہے مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔تہذیب الکمال للمزی : برقم ۲۶۵۔۲۰۶۵
(۲)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء: للذھبی : برقم:۲۱۳
(۳)۔۔۔۔الاسامی والکنیٰ: برقم ۱۲۸
(۴)۔۔۔۔الکنیٰ والاسماء : برقم ۳۲۸۴
(۵)۔۔۔۔التاریخ الکبیر للبخاری: برقم ۱۲۴۶
(۶)۔۔۔۔الجرح والتعدیل للرازی: برقم ۲۴۴۹
(۷)۔۔۔۔الثقات لابن حبان: برقم: ۴۹۴۸
(۸)۔۔۔۔رجال صحیح مسلم لابن منجویہ:برقم: ۴۹۔۴۷۹
(۹)۔۔۔۔تالی تلخیص المتشابہ: ج۱،ص۵۰
(۱۰)۔۔۔۔الکاشف للذہبی :برقم ۱۷۰۵
(۱۱)۔۔۔۔المقتنیٰ فی سردالکنیٰٰ : برقم۵۹۰۵
(۱۲)۔۔۔۔تاریخ الاسلام للذھبی: برقم۸۸
(۱۳)۔۔۔۔میزان الاعتدال: برقم ۲۹۵۹
(۱۴)۔۔۔۔الایثار بمعرفۃ رواۃ الاٰثار: برقم ۳۳۱
(۱۵)۔۔۔۔تہذیب التہذیب: برقم۶۹۸
(۱۶)۔۔۔۔مغانی الاخیار : برقم ۷۳۲
(۱۷)۔۔۔۔خلاصہ تذہیب تہذیب الکمال: ج۱،ص۱۲۵
فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین کو چاہیے کہ اپنے مفتی رئیس ندوی کو سچا ثابت کرنے کے لیے ابو معشر کی کنیت سے معروف ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے کئی مجروح وساقط الاعتبار شاگرد ثابت کریں مگر -85-85
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو ہیں میرے آزمائے ہوئے
اثر نمبر۱۱: بحوالہ شرح معانی الاثار
‘‘ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوالاحوص عن حصین عن ابراہیم قال کان عبداللہ لایرفع یدیہ فی شیء من الصلوٰۃ الافی الافتتاح ’’(شرح معانی الاثار ج۱،ص۱۶۴)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
﴿سندکی تحقیق﴾
امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ گزر چکا بقیہ راویوں کی تعدیل وتوثیق کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ابواسحاق ابراہیم ابن ابی داؤد سلیمان بن داؤد البرلسی الاسدی الصوری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۰ھ :‘‘ ثقۃ متقن ’’۔(تکملۃ الاکمال: برقم ۸۷۸)
(۲)۔۔۔۔ابوعبداللہ احمد بن عبداللہ بن یونس التمیمی الیربوعی رحمۃ اللہ علیہ م۲۲۷ھ‘‘ ثقۃ حافظ ’’ (تقریب: برقم ۶۳)
(۳)۔۔۔۔ابوالاحوص سلام بن سلیم الحنفی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ ‘‘ ثقۃ متقن صاحب حدیث ’’(ایضاً:۲۷۰۳)
(۴)۔۔۔۔ابوالھذیل حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۶ھ :‘‘ ثقۃ مأمون ’’(تاریخ اسماء الثقات: برقم ۲۳۷)
خلاصۃ التحقیق:
اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ اس کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں، اور اس کی سند بالکل صحیح و حکماً متصل ہے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۲۲تا۲۴:
غیر مقلدرئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ : ابراہیم نخعی سے اسے روایت کرنے والے حصین بن عبدالرحمان کو امام ابن المدینی ۔۔۔۔ نے کہا کہ موصوف آخری عمر میں اختلاط و تغیر و نسیان کے شکار ہو گئے تھے۔ پھرا س پر ندوی صاحب نے تین حوالے دیے ہیں:
(۱)۔۔۔۔تہذیب التہذیب: ج۲،ص ۳۲۹
(۲)۔۔۔۔میزان الاعتدال: ج۱،ص۵۵۲
(۳)۔۔۔۔دیوان الضعفاء :ص۶۵ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۹۲)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔قارئین کرام ! رئیس ندوی صاحب کی یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے۔ آپ میزان الاعتدال (ج ۱ ص ۵۵۲ برقم ۲۰۷۵) تہذیب التہذیب (ج۲،ص۳۲۹ برقم ۶۵۹) اور سیراعلام النبلاء(ج۵،ص۴۲۳،برقم:۱۸۶) والمختلطین للعلائی (ج۱، ص۲۱، برقم۱۱)اٹھا کر دیکھیں، ان میں صراحتاً لکھا ہے کہ دیگر بعض حضرات اگرچہ مذکور حصین بن عبدالرحمن کو مختلط کہتے ہیں مگر امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ اسے مختلط نہیں مانتے۔
چنانچہ میزان الاعتدال میں ہے:
‘‘ وقال علی لم یختلط ’’ کہ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حصین عارضہ اختلاط میں مبتلا نہیں ہوا۔
تہذیب التہذیب میں ہے کہ:
‘‘ عن یزید بن ھارون اختلط وانکرذلک بن المدینی فی علوم الحدیثبانہ اختلط وتغیر ’’ امام یزید بن ہارون رحمۃ اللہ علیہ اسے مختلط کہتے ہیں اور امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ نے علوم الحدیث میں اس کے مختلط و متغیر ہونے کا انکار کیا ہے۔
سیر اعلام النبلاء میں ہے کہ:
‘‘ قال علی بن المدینی وغیرہ لم یختلط ’’
المختلطین للعلائی میں ہے کہ:
‘‘ وانکر ذلک ابن المدینی ’’ کہ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ اسے مختلط نہیں مانتے۔
ان حوالوں سے واضح ہو گیا کہ خصوصاً امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکور حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے کا انکار کیا ہے۔ مگر رئیس ندوی صاحب نے ترک رفع یدین دشمنی میں کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی اسے مختلط ومتغیر قرار دینے والوں میں شمار کر لیا ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔یہ بھی یاد رہے کہ امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے فی نفسہ ثقہ و صدوق راوی ہیں۔ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ اگرچہ بعض دیگر حضرات نے اسے مختلط قرار دیا ہے مگر زیر بحث حدیث پر اس کے اختلاط کا اعتراض غلط باطل و مردود ہے۔ کیونکہ یہ حدیث اس نے عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔ جس پر دلیل یہ ہے کہ علم حدیث کا مشہور ضابطہ ہے کہ جو راوی عارضہ اختلاط میں مبتلا ہو گئے ہوں تو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان کے ایسے شاگردوں کی روایتیں اپنی ‘‘صحیح مسلم’’ میں تخریج کرتے ہیں جن کا سماع اختلاط و تغیر سے پہلے کا ہوتا ہے۔ (دیکھئے:تہذیب الاسماء واللغات للنووی: ج۱،ص ۲۴۲ قواعد فی علوم الحدیث: ص ۲۷۹۔۲۸۰) اور ہماری طرف سے پیش کردہ مذکورہ روایت ‘‘ابوالاحوص عن حصین’’ کے طریق سے مروی ہے، اور یہی طریق صحیح مسلم میں موجود ہیں ثبوت ملاحظہ فرمائیں:
(۱)‘‘ حدثنا ابوالاحوص عن حصین۔۔۔۔الخ ’’(صحیح مسلم برقم ۲۶۹ باب استحباب ادامۃ الحاج التلبیۃ حتیٰ یشرع فی رمی جمرۃ العقبۃ یوم النحر )
(۲)‘‘ اخبرنا ابوالاحوص عن حصین۔۔۔۔الخ ’’(ایضاً برقم ۱۳، باب کراھۃ تفصیل بعض الاولد فی الھبۃ)
پس ثابت ہوا کہ یہ حدیث ثقہ و صدوق راوی امام حصین بن عبدالرحمن نے زمانہ اختلاط سے پہلے بیان کی ہے، اور ثقہ راوی کی قبل الاختلاط والتغیر بیان کردہ حدیث تمام ائمہ محدثین کے نزدیک صحیح و قابل حجت ہے لہٰذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر۲۵:
غیر مقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ :
ہم کہتے ہیں کہ روایت مذکورہ کے راوی ابن ابی داؤد پر بڑا کلام ہے حتیٰ کہ بعض نے انہیں کذاب کہا اور امام الدیوبندیہ کوثری نے بھی انہیں کذاب وساقط الاعتبار کہا۔ (بلفظہ : سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۱)
الجواب:
زیر بحث حدیث کی سند میں موجود ابن ابی داؤدسے امام ابواسحاق ابراہیم بن ابی داؤد سلیمان بن داؤد البرلسی الاسدی الصوری م ۲۷۰ھ مراد ہیں جو کہ امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھکے استاذ اور امام احمد بن عبداللہ بن یونس التمیمی الیربوعی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۲۷ھ کے شاگرد ہیں، امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے شرح معانی الاثار میں اس سے کئی روایات نقل کی ہیں۔ بندہ کو جن جن کتب اسماء الرجال میں اس کے حالات ملے ہیں ان میں سے کسی ایک کتاب میں بھی اس کو کذاب نہیں کہا گیا اور نہ ہی اس پر کسی محدث کی کوئی مفسر جرح موجود ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں درج ذیل کتابوں میں اس کی واضح توثیق موجود ہے ملاحظہ فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔تکملۃ الاکمال : برقم ۸۷۸
(۲)۔۔۔۔شذرات الذھب: ج۲،ص۱۶۱
(۳)۔۔۔۔تاریخ ابن یونس: ج۲،ص۱۰، برقم ۱۲
(۴)۔۔۔۔تاریخ الاسلام:ج۶،ص۲۸۵ برقم۹۲
(۵)۔۔۔۔اکمال الاکمال لابن نقطہ:ج۱،ص۵۰۲ برقم ۸۷۸
(۶)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء للذھبی:ج۱۲،ص۶۱۲ برقم۲۳۷
(۷)۔۔۔۔مغانی الاخبار ج۳،ص۳۸۷، برقم ۳۵۶۵
لہٰذا یہ راوی بالاتفاق ثقہ و صدوق ہے، شیخ کوثری رحمۃ اللہ علیہ سمیت کسی ایک محدث نے بھی اسے کذاب وساقط الاعتبارنہیں کہا۔ اور بظابطہ غیرمقلدیت ندوی صاحب کی مذکورہ بالا بات سفید جھوٹ ہے۔ ہم ندوی پارٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے محقق اور وکیل ندوی صاحب کوسچا ثابت کرنے کے لیے کسی ایک معتبر محدث کا حوالہ پیش کریں جس نے مذکور راوی کو کذاب و ساقط الاعتبار کہا ہو۔ ورنہ یاد رکھیں کہ جھوٹوں کا حشر جھوٹوں کے ساتھ ہی ہو گا۔ المرء مع من احب۔
اثرنمبر۱۲: بحوالہ المعجم الکبیر للطبرانی
‘‘ حدثنا محمد بن عبداللہ الحضرمی ثنا احمد بن یونس ثنا ابوالاحوص عن حصین عن ابراہیم قال کان عبداللہ لایرفع یدیہ فی شیء من الصلاۃ الافی التکبیرۃ الاولٰی ’’ (المعجم الکبیر للطبرانی: ج۹ص۲۶۱، برقم ۹۲۹۹)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ رفع یدین نہیں کرتے تھے مگر صرف شروع نماز میں پہلی تکبیر کے وقت۔
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راوی ابوجعفر محمد بن عبداللہ بن سلیمان الحضرمی رحمۃ اللہ علیہ کو امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ نے ‘‘ ثقۃ جبل ’’ قرار دیا ہے۔ (سیراعلام النبلاء : برقم ۲۵۳۴) اور باقی راویوں کا تذکرہ گزرچکا ہے۔ لہٰذا اس کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں۔
اثر نمبر۱۳: بحوالہ مصنف عبدالرزاق
‘‘عبدالرزاق عن الثوری عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود کان یرفع یدیہ فی اول شیء ثم لایرفع بعد ’’ (مصنف عبدالرزاق: برقم ۲۵۳۳)
ترجمہ: سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
سند کی تحقیق:
امام عبدالرزاق بن ہمام رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۱ھ ثقہ محدث ہیں۔ (دیکھئے: تقریب: برقم ۴۰۶۴) اور باقی راویوں کی توثیق و تعدیل کے حوالے پیش کیے جا چکے ہیں، لہٰذا اس روایت کی سند کی تمام راوی ثقہ ہیں۔
اعتراض:
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
عبدالرزاق اور سفیان ثوری مدلس دونوں ہیں۔ (مقالات: ج۴، ص۲۶۴)
الجواب:
اگر بالفرض ان دونوں کا عنعنہ مضر ہو بھی تو یہاں ان کی تدلیس کاراگ الاپنا خود علی زئی صاحب کے ضابطہ کی روشنی میں بھی فضول ہے۔ کیونکہ ان روایات میں امام مسعربن کدام رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوالاحوص سلام بن سلیم رحمۃ اللہ علیہ اور امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی متابعت کر رکھی ہے ملاحظہ
فرمائیں۔
(۱)۔۔۔۔مصنف ابن ابی شیبہ:برقم۲۴۵۸
(۲)۔۔۔۔شرح معانی الاثار:ج۱،ص۱۶۴
(۳)۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی: برقم ۹۲۹۹
(۴)۔۔۔۔مصنف عبدالرزاق:برقم۲۵۳۴
اور امام عبدالرزاق بن ہمام رحمۃ اللہ علیہ کی امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ نے متابعت فرما رکھی ہے ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: برقم ۲۴۵۸
(۲)۔۔۔۔شرح معانی الاثار:ج۱،ص۱۶۴
(۳)۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی:برقم۹۲۹۹
اور معترض علی زئی صاحب نے کئی مضامین میں صراحت کر رکھی ہے کہ متابعت سے تدلیس کا الزام رفع ہو جاتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما اور ترک رفع یدین
اثر نمبر۱۴: بحوالہ شرح معانی الآثار
‘‘ حدثنا ابن ابی داؤد قال ثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوبکر بن عیاش عن حصین عن مجاہد قال صلیت خلف ابن عمر فلم یکن یرفع یدیہ الافی التکبیرۃ الاولٰی من الصلاۃ ’’
ترجمہ:مشہور تابعی امام مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے تکبیراولیٰ کے علاوہ کہیں بھی نماز میں رفع یدین نہیں کیا۔ (شرح معانی الاٰثار:ج۱،ص۱۶۳)
سند کی تحقیق
اس روایت کی سند کے راویوں کا مختصر سا تعارف حاضر ہے۔
(۱)۔۔۔۔ابو اسحاق ابراہیم بن ابی داود البرلسی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۰ھ: ‘‘ ثقۃ متقن ’’ (تکملۃ الاکمال: برقم۸۷۸)
(۲)۔۔۔۔ابوعبداللہ احمد بن عبداللہ بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م ۲۲۷ھ:‘‘ ثقۃ متفق علیہ ’’(الارشاد: ج۲،ص۵۶۵)
(۳)۔۔۔۔ابوبکر بن عیاش الاسدی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۴ھ:‘‘ ثقۃ مامون ’’(تاریخ اسماء الثقات برقم ۲۳۷)
(۴)۔۔۔۔ابوالہذیل حصین بن عبدالرحمان رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۶ھ: ‘‘ ثقۃ مامون ’’(تاریخ اسماء الثقات برقم۲۳۷)
(۵)۔۔۔۔ابوالحجاج مجاہدبن جبر رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۴ھ: ‘‘ ثقۃ امام فی التفسیر وفی العلم ’’ (تقریب: برقم۶۴۸۱)
خلاصۃالتحقیق:
اس روایت کی سند کے تمام راوی فی نفسہ ثقہ وصدوق ہیں اور اس کی سند بالکل صحیح ہے۔
اثر عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما پر اعتراضات کے جوبات:
سندی تحقیق کے بعد اب اس اثر پر فریق مخالف کے اعتراضات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں۔
اعترض نمبر۱:
غیر مقلد رئیس ندوی صاحب تہذیب التہذیب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس روایت کی سند کاراوی ابوبکر بن عیاش ضعیف ہے۔ (ملخصاً: تحقیقی جائزہ ص ۲۸۳)
الجواب:
امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ جمہور محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک فی نفسہ ثقہ وصدوق راوی ہیں، حتیٰ کہ غیر مقلد زبیر علی زئی جیسے متعصب شخص نے بھی کئی ساری قلابازیاں کھانے کے بعد بالآخر تسلیم کر لیا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہے۔ چنانچہ غیر مقلدزبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
(ابوبکر بن عیاش ) جمہور محدثین کرام کے نزدیک صدوق و موثق راوی ہیں، ابوبکر بن عیاش کی توثیق و تقویت درج ذیل علماء سے ثابت ہے:
(۱) البخاری(اخرج عنہ فی صحیحہ)
(۲) ابن خزیمہ (اخرج عنہ فی صحیحہ)
(۳) الترمذی (قال فی حدیثہ (۴۵۶) ‘‘حدیث حسن صحیح’’)
(۴) حاکم (المستدرک۲۰۰/۳ ح۴۹۰۳)
(۵) الذہبی (وصحح لہ فی السیر۹۴۶۵/۱)
(۶) الہیثمی (دیکھئے مجمع الزوائد (۱۸۰/۹) کشف الاستار (۲۶۲۳) الاحسان ، طبعہ جدیدہ)
(۷) ابن الجارود (المنتقیٰ :۳۳۱)
(۸) الضیاء المقدسی (المختارۃ۲۲۵،۲،۱۱۴)
(۹) ابوعوانہ (مسند ابی عوانہ ۱۸۶/۳،۱۱۷/۴)
(۱۰) البوصیری (حسن لہ حدیثہ عن ابی اسحاق عن صلہ عن عمارۃوصحح لہ، الصحیحۃ :۱۵۹۶)
(۱۱) العجلی: ثقہ (معرفت الثقات)
(۱۲) ابوحاتم الرازی ثقہ (علل الحدیث:۲۲۳۳)
(۱۳) احمد بن حنبل : ثقہ وربما غلط (العلل :۳۱۵۵، اقوال احمد ۱۹۴/۴)
(۱۴) ابن المبارک (اثنی علیہ) الجرح ولاتعدیل ۳۴۹/۹ و سندہ صحیح)
(۱۵) عبدالرحمن بن مہدی (کان یحدث عنہ) (ایضاً و سندہ صحیح)
(۱۶) ابن عدی
(۱۷) یحیی بن معین (تاریخ عثمان بن سعید الدارمی)
(۱۸) مسلم (روی عنہ فی مقدمۃ صحیحہ)
(۱۹) ابن الجوزی: وکان ثقہ متشدداً فی السنۃالاانہ ربما اخطافی الحدیث (المنتظم ۲۳۲/۹)
(۲۰) یزید بن ہارون (تاریخ بغداد) ۳۸۰/۱۴)
(۲۱) ابن عمار (تاریخ بغداد ۳۸۰/۱۴)
(۲۲) ابونعیم الاصبہانی (ذکرہ فی الاولیاء و صحح لہ ،، انظر حلیۃ الاولیاء ۸،۳۱۳)
(۲۳) البغوی (صحح لہ) شرح السنۃ ۳۹۶/۶ ح ۱۸۳۵
(۲۴) ابن حبان
(۲۵) ابن حجر العسقلانی (تقریب التہذیب ) وغیر ہم۔(نور العینین: ص ۱۶۸ تا ۱۷۰)
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۲۶:
حافظ حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے تحقیق رفع یدین میں ابوبکر بن عیاش کو بخاری کا راوی قرا ردیا۔ (دیکھئے مجموعہ مقالات ج۳، ص۶۸) اس پر غیرمقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
یہ تلبیسات و مغالطات دیوبندیہ سے ہے مقدمہ فتح الباری میں ہے کہ صحیح بخاری میں ان کی چند روایات بطور متابع ہیں۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۳)
الجواب:
امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی بعض روایات اگرچہ بخاری میں متابعۃً موجود ہیں، مگر ان کی کئی روایات صحیح بخاری میں اصالۃًبھی موجود ہیں۔چند روایات ملاحظہ ہوں:
(۱) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں ‘‘ باب ماجاء فی قبرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وابی بکر و عمر-85الخ’’ قائم فرما کر اس باب میں ‘‘حدثنا محمد قال اخبرنا ابوبکر بن عیاش عن سفیان التمار-85 الخ’’ اصالۃًحدیث تخریج فرمائی ہے (صحیح البخاری ج۱،ص۱۸۶) فلہذا امام ابوبکر بن عیاش کا مذکورہ طریق بخاری میں اصالۃًہے۔
(۲) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب الاعتکاف فی العشرالاوسط من رمضان’’ قائم فرما کر ‘‘حدثنا عبداللہ بن ابی شیبْۃ ثنا ابوبکر عن ابی حصین عن ابی صالح عن ابی ھریر۔۔۔۔الخ’’ الحدیث(بخاری ج۱ص ۲۷۴)حدیث تخریج فرمائی ہے جو کہ اصالۃً ہے۔
(۳) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب الحراسۃ فی الغزوفی سبیل اللہ عزوجل’’ قائم فرما کر اس باب میں ‘‘حدیثنا یحیی ابن یوسف ثنا ابوبکر عن ابی حصین عن ابی صالح عن ابی ہریر۔۔۔ الحدیث’’ اصالۃً حدیث تخریج فرمائی ہے (صحیح بخاری ج۱،ص ۴۰۴)
(۴) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب المناقب وقول اللہ تعالیٰ یا ایھا الناس-85الخ’’ قائم فرماکر اس آیت کی تفسیر میں ‘‘حدثنا خالد بن یزید الکاھلی قال حدثنا ابوبکر عن ابی حصین عن سعید بن جبیر عن ابن عباس’’ الحدیث (بخاری ج۱،ص۴۹۶) اصالۃًتخریج فرمائی ہے۔
(۵) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب ان الناس قد جمعوا لکم وفی نسخۃ قولہ الذین قال لھم الناس ان الناس قدجمعوا لکم فاخشوھم الاٰیۃ’’ قائم فرماکر اصالۃً ‘‘حدثنا احمد بن یونس اراہ قال حدیثناابوبکر عن ابی حصین عن ابی الضحیٰ عن ابن عباس حسبنا اللہ۔۔الحدیث’’ تخریج فرمائی ہے۔ (بخاری ج۲،ص۶۵۵ ، کراچی ص ۳۷۵ رقم ۴۵۶۳ ، الریاض)
(۶) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب قولہ والذین تبوؤالداروالایمان’’ قائم فرما کر اس کی تفسیر میں اصالۃًاحتجاجاً ‘‘حدثنا احمد بن یونس قال حدثنا ابوبکر عن حصین عن عمروبن میمون قال قال عمررضی اللہ عنہ (الحدیث)’’ تخریج ونقل فرمائی ہے۔ (صحیح بخاری ج۲،ص ۷۶۵)
(۷) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب کان جبرئیل یعرض القرآن علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم -85الخ’’ قائم فرما کر اس باب میں ‘‘حدثنا خالد بن یزید قال حدثنا ابوبکر عن ابی حصین عن ابی صالح-85 الخ’’ (الحدیث) تخریج فرمائی ہے (بخاری ج۲،ص۷۴۸) جو حکماً اصالۃً ہے۔
(۸) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب الحذر من الغضب-85الخ’’ قائم فرما کر اس باب میں ‘‘حدثنا یحیی بن یوسف قال حدثنا ابوبکر عن ابی حصین عن ابی صالح عن ابی ہریرۃ (الحدیث)’’ تخریج فرمائی ہے (بخاری ج۲ ، ص ۹۰۳) یہ حدیث بھی حکماً اصالۃً ہے۔
(۹) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب مایتقی من فتنۃ المال-85الخ’’ قائم فرما کر ‘‘حدثنی یحیی بن یوسف قال حدثنا ابوبکر عن ابی حصین عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ ’’ (الحدیث) اصالۃًتخریج فرمائی ہے۔(بخاری ج۲، ص ۹۵۲)
(۱۰) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب الغنی غنی النفس-85 الخ قائم فرما کراصالۃً ‘‘حدثنا احمدبن یونس قال حدثنا ابوبکر قال حدثنا ابوحصین عن ابی صالح عن ابی ھریرۃ ’’(الحدیث) تخریج فرمائی ہے۔ (بخاری ج۲،ص۹۵۴)
الغرض مذکورہ روایات سے واضح ہو گیا کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری کے اصال?ً راوی ہیں مگر رئیس ندوی صاحب غلط اقوال کا سہارالیکر جھوٹ بولنے کے عادی ہیں۔
اعتراض نمبر۲:
غیر مقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اس پر ہمارا مختصر تبصرہ یہ ہے کہ اس کی سند میں ‘‘حصین بن عبدالرحمٰن’’ اپنی زندگی کے آخر میں مختلط و متغیر ہوگئے تھے۔ (ملخصاً سلفی تحقیق جائزہ:۵۹۴)
الجواب:
امام ابوالہذیل حصین بن عبدالرحمن السلمی رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری ، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے فی نفسہ ثقہ و صدوق راوی ہیں امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ حافظ ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ، حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ وغیرہم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: تقریب برقم ۱۳۶۹ ،تاریخ الثقات للعجلی برقم ۲۹۸ ،الجرح والتعدیل للرازی برقم ۸۳۷، تہذیب الکمال للمزی برقم ۱۳۵۸ ،میزان الاعتدال برقم ۲۰۸۵، تاریخ اسماء الثقات برقم ۲۳۷ ،تہذیب الکمال للمزی برقم ۱۳۵۸ ،میزان الاعتدال برقم ۲۰۷۵، تاریخ اسماء الثقات برقم ۲۳۷ ،الکاشف برقم ۱۱۲۸) ہاں البتہ بعض حضرات کے بقو ل یہ عارضہ اختلاط میں مبتلا ہو گئے تھے۔ مگر زیر بحث ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی حدیث پر اختلاط وتغیر کا اعتراض غلط باطل و مردود ہے۔ کیونکہ یہ حدیث امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے عارضہ اختلاط و التغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے جس پر دلیل یہ ہے کہ علم حدیث کا مشہور رضابطہ ہے کہ جو راوی اختلاط کا شکار ہو گئے ہوں تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (صحیح بخاری میں) ان کے ایسے شاگردوں کی روایتیں تخریج کرتے ہیں جن کا سماع قبل الاختلاط والتغیر ہوتا ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات : ص ۲۴۲) اور ہماری طرف سے پیش کردہ مذکورہ روایت ‘‘ابوبکر بن عیاش عن حصین’’ کے طریق سے مروی ہے اور یہی طریق صحیح بخاری میں موجود ہے ثبوت ملاحظہ فرمائیں:
‘‘حدثنا احمد بن یونس حدثنا ابوبکر یعنی ابن عیاش ، عن حصین-85الخ’’(صحیح بخاری: ج۲،ص۷۲۵ برقم ۴۸۸۸،باب قولہ والذین تبوؤالداروالایمان)
پس !ثابت ہوا کہ یہ حدیث امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔ اور اصول کے مطابق یہ حدیث بالکل صحیح ہے۔
اعتراض نمبر۳:
غیر مقلدزبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
ابوبکر بن عیاش آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ (نور العینین:ص۱۷۰)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔خود معترض علی زئی صاحب نے صراحت کر رکھی ہے کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ جمہور محدثین کے نزدیک صدوق و موثق راوی ہیں۔ (دیکھئے: نورالعینین ص ۱۶۸وماہنامہ الحدیث ص ۵۳ ش نمبر۲۸) اور جوفی نفسہ ثقہ و صدوق راوی عارضہ اختلاط میں مبتلا ہو گیا ہو۔اس کے بارے میں ائمہ محدثین کا متفق علیہ اصول ہے کہ اس کی اختلاط میں مبتلا ہونے سے پہلے کی بیان کردہ احادیث بالکل صحیح و قابل حجت شمار ہوتی ہیں حوالہ جات کے لیے درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں:
(۱) اختصار علوم الحدیث: ص ۱۶۶
(۲) تہذیب الاسماء-04 واللغات:ج۱،ص۲۴۲
(۳) قواعد فی علوم الحدیث: ص ۲۷۹۔۲۸۰
(۴) شرح نخبۃالفکر: ص ۹۱
(۵) مقدمہ ابن صلاح: ص ۱۹۵
(۶) الکفایہ فی علوم الحدیث: ج۱، ص ۳۹۲
(۷) التقریب والتیسیر: ج۱،ص ۱۲۰
(۸) المنھل الروی فی علوم الحدیث: ج۱ ،ص ۱۳۷
(۹) الشذالفیاح : ج۲،ص۷۴۴
(۱۰) المقنع فی علوم الحدیث: ج۲ص۶۶۳
(۱۱) التقیید والایضاح: ص ۴۴۲
(۱۲) شرح التبصرۃ والتذکرۃ: ج۱،ص ۳۲۹
(۱۳) النکت علی ابن صلاح:ج۱،ص۳۱۵
(۱۴) نزھۃ النظر: ج ۱ص۱۲۹
(۱۵) تدریب الراوی :ج۲ص۸۹۵
اور زیر بحث حدیث امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔ جس پر دلیل یہ ہے کہ ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ جو راوی اختلاط کا شکار ہو گئے ہوں تو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ (صحیح بخاری میں) ان کے ایسے شاگردوں کی روایتیں تخریج کرتے ہیں جن کا سماع قبل الاختلاط و التغیر ہوتا ہے (دیکھئے: تہذیب الاسماء واللغات للنووی ج۱ص۲۴۲ قواعد فی علوم الحدث للعثمانی ص ۲۷۹۔۲۸۰ و مقدمہ ابن صلاح ص ۴۹۹) حتیٰ کہ معترض علی زئی صاحب بھی لکھتے ہیں کہ:
صحیحین(بخاری و مسلم) میں جس مختلط ومتغیر راوی سے استدلال کیا گیاہے اس کی دلیل ہے کہ اس کے شاگردوں کی روایات اختلاط سے پہلے کی ہیں۔(نور العینین: ص ۹۵)
علی زئی صاحب حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے مزید لکھتے ہیں کہ:
مختلطین کی صحیحین (بخاری و مسلم) میں بطور حجت روایات کا مطلب یہ ہے کہ وہ اختلاط سے پہلے کی ہیں۔ (مقالات: ج۱،ص۴۳۵)
الغرض خود علی زئی صاحب کے اقتباسات سے بھی واضح ہو گیا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ صحیح بخاری میں مختلط راویوں کے ایسے شاگردوں کی روایتیں تخریج کرتے ہیں جن کا سماع قبل الاختلاط والتغیر کا ہوتا ہے۔ اور ہماری طرف سے پیش کردہ مذکورہ حدیث ‘‘عبداللہ بن ابی شیبۃعن ابی بکربن عیاش’’ اور ‘‘احمد بن یونس عن ابی بکربن عیاش’’ کے طریق سے مروی ہے، اور یہی طریق صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں ملاحظہ فرمائیں۔
(۱) ‘‘حدثنا عبداللہ بن ابی شیبۃ ثنا ابوبکر (ابن عیاش) عن ابی حصین-85الخ’’ (صحیح بخاری: ج۱،ص۲۷۴ باب الاعتکاف فی العشرالاوسط من رمضان)
(۲) ‘‘حدثنا احمد بن یونس اراہ قال حدثنا ابوبکر(بن عیاش) عن ابی حصین-85 الخ’’(صحیح بخاری، ج۲،ص۶۵۵باب ان الناس قدجمعوالکم)
(۳) ‘‘حدثنا احمد بن یونس قال حدثنا ابوبکر (بن عیاش عن حصین-85الخ’’(صحیح بخاری ج۲،ص۷۲۵ باب قولہ والذین تبوؤ الدارو الایمان)
(۴) ‘‘حدثنا احمد بن یونس قال حدثنا ابوبکر (بن عیاش) قال حدثنا ابوحصین-85الخ’’ (صحیح بخاری: ج۲ص۹۵۴ باب الغنی غنی النفس الخ)
پس ثابت ہوا کہ اس حدیث میں ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ پر اختلاط و تغیر کا اعتراض غلط باطل و مردود ہے، کیونکہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث عارضہ واختلاط و تغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے بیان کی ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔اس مقام پر یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کے مذکور صحیح السند اثر کی تائید کرنے والی اور روایات بھی موجود ہیں مثلاً۔۔۔۔
(۱)‘‘ قال محمد اخبرنا محمد بن ابان بن صالح عن عبدالعزیز بن حکیم قال مارایت ابن عمر یرفع یدیہ حذاء اذنیہ فی اول تکبیرۃافتتاح الصلوٰۃ ولم یرفعھما فیما سوی ذلک ’’
ترجمہ: (جلیل القدر تابعی)عبد العزیز بن حکیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کو پہلی تکبیر جس سے نماز شروع کی جاتی ہے کہ علاوہ کسی جگہ بھی نماز میں رفع الیدین کرتے نہیں دیکھا۔ (مؤطا محمد ص ۹۴ و کتاب الحجہ ج۱،ص۷۹)
(۲)‘‘ اثر اخرجہ البیھقی عن سواربن مصعب العوفی عن عطیۃ العوفی ان اباسعید الخدری وابن عمر کانا یرفعان ایدیھما اول مایکبران ثم لایعودان ’’
ترجمہ: سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماتکبیر اولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
یہ دونوں روایتیں بااعتبار سند کے اگرچہ کمزور ہیں مگر ہم نے ان کو سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ کے صحیح السنداثر کی تائید اور متابعت میں پیش کیا ہے اور محمد گوندلوی غیر مقلد کے بقول اس طرح کی روایات کو تائید اور متابعت میں پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (ملخصاً : خیر لکلام ص ۲۳۳) اسی طرح احادیث مرفوعہ میں اخبار الفقہاء والمحدثین کے حوالے سے پیش کی جانے والی سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کی صحیح صریح حدیث بھی مذکورابن عمررضی اللہ عنہ کے اثر کی زبردست مؤید ہے۔
اعتراض نمبر۴:
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام بخاری نے تفصیل سے بتایا ہے کہ قدیم زمانے میں ابوبکر بن عیاش اس روایت کو ‘‘ عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعو د ’’ مرسل موقوف بیان کرتے تھے اور یہ بات محفوظ ہے پہلی بات خطاء فاحش ہے کیونکہ اس نے اس میں ابن عمر کے اصحاب کی مخالفت کی ہے۔ (نصب الرایہ: ص ۴۰۹) امام بخاری کا یہ قول جرح مفسر ہے جو مندمل نہیں ہو سکتی اب آپ حصین سے اس روایت کی تخریج ملاحظہ فرمائیں۔پھر علی زئی صاحب نے اس روایت کی نام نہاد تخریج پیش کی ہے) (نور العینین : ص ۱۷۰۔۱۷۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔یہ کہنا کہ امام ابوبکربن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے حافظہ خراب ہونے سے پہلے اس روایت کو‘‘عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود’’ کی سند سے روایت کیاتھا بالکل غلط باطل ومردود ہے۔ کیونکہ ماقبل میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے عارضہ اختلاط و التغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے اس حدیث کو ‘‘عن حصین عن مجاہد عن ابن عمر’’ کی سند سے ہی بیان کیا تھا۔جس پر دلیل یہ ہے کہ اس حدیث کو ‘‘عن حصین عن مجاہد عن ابن عمر’’ کی سند سے امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے امام عبداللہ بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے، اور ان دونوں کا امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بالتحقیق ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اختلاط والتغیر سے پہلے کا
ہے۔ جس سے ثابت ہو گیا کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہنے عارضہ اختلاط والتغیر میں مبتلا ہونے سے پہلے اس حدیث کو ‘‘عن حصین عن مجاہد عن ابن عمر’’ کی سند سے ہی بیان کیا تھا۔
ثانیاً۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ اعتراض بھی علی زئی صاحب کو مفید نہیں کیونکہ اگر بالفرض یہ اعتراض امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے ثابت بھی ہو تو یہ اعتراض خود علی زئی صاحب کی تحریرات کی روشنی میں ہی باطل و مردودہے۔ وہ اس لیے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی ایسی صحیح السند متصل روایت پیش نہیں کی جس سے ثابت ہوتا ہو کہ امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو خرابی حافظ سے پہلے ‘‘عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود’’ کی سند سے بیان کیا تھا، حتی کہ معترض علی زئی صاحب بھی اس حدیث کی تخریج میں ایسی کوئی صحیح السند متصل روایت پیش نہیں کر سکے۔۔ اور خود زبیر علی زئی صاحب ہی لکھتے ہیں کہ:
بغیر سند کے کسی کی بات کی ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں ہے۔(نورالعینین: ص۳۶)
نیز لکھتے ہیں کہ:
حافظ ذہبی ہوں یا حافظ ابن حجر یا کوئی اور ، بے سند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے۔ جب امام بخاری کی بے سند بات حجت نہیں ہے تو امام ترمذی کی بے سند بات کس شماروقطار میں ہے؟۔ سیوطی ، ابن عبدالبر، قاسم بن قطلوبغا اور الجزائری وغیرھم کے بے سند و بے ثبوت حوالے مردود ہیں۔ (مقالات علی زئی: ج۳، ص ۴۵۶،۴۵۷، ۴۶۲)
ثالثاً۔۔۔۔نافع وغیرہ سے مروی سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ کی اثبات رفع الیدین والی حدیث اورمذکورہ بالا ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ اثبات رفع یدین والی روایت پہلے کی ہے، اور ترک رفع یدین والی بعد کی ہے ، خود سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں رفع یدین متروک ہو گیا تھا۔ (اخبارالفقھاء والمحدثین: ص ۲۱۴) لہٰذا امام ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ نے ابن عمررضی اللہ عنہ کے اصحاب کی کوئی مخالفت نہیں کی ہے۔
اثر عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما ائمہ محدثین کی نظر میں:
قارئین: مذکورہ بالا تحقیق سے واضح ہو گیا کہ ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ کا اثر باصول محدثین بالکل صحیح ہے، اور اس پر تمام اعتراضات خلاف حقیقت ہیں۔ اب اتمام حجت کے طور پر اس اثر کے متعلقہ معتدل ائمہ محدثین کی آراء پیش کی جاتی ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔امام علاؤ الدین علی بن عثمان الماردینی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘وھذا سند صحیح’’ کہ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ (الجوہر النقی: ج۲،ص۷۴)
(۲)۔۔۔۔امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘باسناد صحیح۔ واسنا دمارواہ الطحاوی صحیح ’’ یہ اثر سندًا صحیح ہے۔ (عمدہ القاری ج ۳ص ۸ و شرح ہدایہ ج۱، ص ۶۶۶)
(۳)۔۔۔۔امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ بھی اس اثر کو صحیح مانتے ہیں چنانچہ اس اثر پر اعتراض کرنے والوں کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
‘‘ فان قال قائل ھذا حدیث منکر قیل لہ ومادلک علی ذالک فلن تجد الی ذالک سبیل اً’’ اگر کوئی شخص کہے کہ یہ اثر منکر ہے تو اس شخص سے کہا جائے گا کہ اس کے منکر ہونے پر کونسی (کوئی معقولی) دلیل ہے، جس کی تہہ تک تم (مخالفین) نہیں پہنچ سکے ہو؟ (یعنی اس حدیث کے منکر ہونے پر کوئی معقولی دلیل موجود نہیں ہے)( شرح معانی الاثار ج ۱ ، ص ۱۶۳)
(۴)۔۔۔۔محدث نیموی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۲۲ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘وسندہ صحیح’’ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ (آثار السنن: ص ۱۰۸)
(۵)۔۔۔۔محدث کبیر عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
‘‘وسندہ صحیح’’ اس کی سند صحیح ہے۔ (اعلاء السنن : ج۳،ص۶۴)
الغرض: مذکورہ بالا تحقیق اور معتدل ائمہ محدثین کی گواہیوں سے واضح ہو گیا کہ یہ اثر بالکل صحیح و قابل اعتبار ہے۔ اس کے باوجود اب بھی اگر کوئی غیر مقلد غلط اور مردود اقوال کا سہارا لیکر اس کی تضعیف پر اصرار کرتا ہے تو اس کے دماغ کا کسی دماغی ہسپتال میں علاج کرانا چاہیے۔
رئیس ندوی جھوٹ نمبر۲۷:
قارئین: امام ابومحمدمحمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ اہلسنت والجماعت کے جلیل القدر ثقہ و صدوق معتدل محدث و ناقدہیں، امام سخاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۰۲ھ انہیں ‘‘کان اماماً عالماً علامۃ حافظًا-85 الخ’’ قرار دیتے ہیں، اور امام ابوالمعالی الحسینی رحمۃ اللہ علیہ ان کو ‘‘ الامام العالم العلامۃ الحافظ المتقن شیخ العصر و استاذالدھر محدث زمانہ المنفرد بالروا یۃوالدرایۃ حجۃ اللہ علی المعاندین وآیتہ الکبری علی المبتدعین’’ جیسے بلند پایہ القابات سے نوازتے ہیں۔ مگر رئیس ندوی صاحب ترک رفع یدین دشمنی میں اتنے اندھے ہو چکے ہیں کہ جلیل القدر محدث و ناقد پر بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئے اور بغیر کسی دلیل و حوالے کے انہیں ‘‘مرجئ المذھب’’ لکھ دیا ہے۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ:ص۲۸۳) حالانکہ علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں فرقہ مرجیہ (ضالہ) کا شدید رد کیا ہے۔ (مثلاً دیکھئے: عمدۃ القاری ج۱۸، ص۲۵۸)
اثر نمبر۱۵: بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ
‘‘حدثنا ابوبکر بن عیاش عن حصین عن مجاہد قال مارأیت ابن عمر یرفع یدیہ الافی اول ما یفتتح ’’(مصنف ابن ابی شیبہ : ج۱، ص ۲۶۸)
ترجمہ:امام المفسرین سیدنا مجاہد بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکو شروع نماز کے علاوہ رفع الیدین کرتے نہیں دیکھا۔
(ف):
اس اثر کی سند کے تمام راویوں کی تعدیل و توثیق کے حوالے گزر چکے ہیں، اس اثر کا ایک ایک راوی بخاری کا ہے، اور اس کی سند بلاغبار صحیح ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااور ترک رفع یدین
اثر نمبر۱۶: بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ
‘‘ حدثنا ابن فضیل عن ابن ابی لیلٰی عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس قال لاترفع الایدی الافی سبعۃ مواطن اذا قمت الی الصلوٰۃ واذا جئت من بلد واذارأیت البیت واذاقمت علی الصفاوالمروۃ وبعرفات بجمع وعندالجمار ’’(مصنف ابن ابی شیبہ: برقم ۱۵۹۹۶)
ترجمہ: سیدنا عبدللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ صرف سات مواقع پر رفع الیدین کیا جائے، جب نماز کو کھڑا ہو (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) اور جب بیت اللہ کو دیکھے، اور صفا و مروہ پر ، اور عرفات میں (وقوف کے وقت) اور مزدلفہ میں اور جمرہ پر کنکری مارنے کے وقت۔
(ف):
اس اثر کی سند کے راوی امام محمد بن فضیل بن غزوان ثقہ راوی ہیں۔ (دیکھئے: الکاشف برقم ۵۱۱۵) اور باقی تمام راویوں کی توثیق کے حوالے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا اس اثر کی سند بھی صحیح ہے، اس صحیح السند اثر سے بھی واضح ہو گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک عام نمازوں میں صرف شروع نماز میں ہی رفع الیدین کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ وعلی من اتبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں