نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ پر حدیث میں تصحیف (غلطی) کا اعتراض


امام ابو یوسفؒ پر حدیث میں تصحیف (غلطی) کا اعتراض


بعض کتب میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ ہارون الرشید کی مجلس میں گھڑ دوڑ (سباقِ خیل) کا ذکر ہوا تو امام قاضی ابو یوسفؒ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے غابہ سے بنیۃ الوداع تک دوڑ کرائی تھی۔ اس پر سلیمان بن فلیح نے تصحیح کرتے ہوئے کہا کہ یہ “بنية الوداع ” نہیں بلکہ “ثنية الوداع” ہے، اور یہ بھی کہا کہ اس میں اس سے بڑھ کر تصحیف واقع ہوئی ہے  بظاہر اس واقعے کو امام ابو یوسفؒ پر طعن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ علمی تحقیق اس کے برعکس حقیقت واضح کرتی ہے۔


 أخبرنا الجوهري، قال: حدثنا محمد بن العباس، قال: حدثنا أبو بكر بن الأنباري، قال: حدثني محمد بن المرزبان قال: حدثنا المغيرة المهلبي، قال: حدثنا هارون بن موسى الفروي، قال: حدثني أخي عمران بن موسى قال: حدثني عمي سليمان بن فليح قال: حضرت مجلس هارون الرشيد ومعه أبو يوسف فذكر سباق الخيل فقال أبو يوسف: سابق رسول الله ﷺ من الغاية إلى بنية الوداع فقلت: يا أمير المؤمنين صحف إنما هو من الغابة إلى ثنية الوداع، وهو في غير هذا أشد تصحيفا. (تاريخ بغداد - ت بشار ١٦/‏٣٧٥)

٦١٨ - أنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ رَوْحٍ النَّهْرَوَانِيُّ، أنا الْمُعَافَى بْنُ زَكَرِيَّا الْجُرَيْرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْبَارِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، نا الْمُغِيرَةُ الْمُهَلَّبِيُّ، نا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْفَرْوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي سُلَيْمَانُ بْنُ فُلَيْحٍ قَالَ: حَضَرْتُ مَجْلِسَ هَارُونَ الرَّشِيدَ وَمَعَنَا أَبُو يُوسُفَ فَذَكَرَ سِبَاقُ الْخَيْلِ، فَقَالَ أَبُو يُوسُفَ: " سَابَقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنَ الْغَابَةِ إِلَى بَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: «يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ صَحَّفَ وَاللَّهِ، إِنَّمَا هُوَ مِنَ الْغَابَةِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ فِي غَيْرِ هَذَا أَشَدُّ تَصْحِيفًا» (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي ١/‏٢٩١ )

سليمان بن فليح نے کہا: "میں ہارون الرشید کی مجلس میں حاضر تھا اور اس کے ساتھ ابو یوسف بھی موجود تھے۔ اس دوران گھڑ دوڑ کا ذکر آیا تو ابو یوسف نے کہا: 'رسول اللہ ﷺ نے غایہ سے بنية الوداع تک گھڑ دوڑ کی تھی۔' میں نے کہا: 'یا امیر المؤمنین! یہ غلطی ہے، حقیقت میں یہ غابہ سے  ثنية الوداع  تک تھا، اور اس میں اس سے بھی زیادہ غلطیاں ہو سکتی ہیں۔'"

پہلی سند کا تحقیقی جائزہ

 اس روایت کی سند ہی قابلِ اعتماد نہیں۔ اس سند میں 2 راوی ایسے ہیں جو مجہول  ہیں:  عمران بن موسیٰ، اور سلیمان بن فلیح۔ ان  کی معتبر اور مضبوط توثیق کتبِ رجال سے ثابت نہیں، لہٰذا اصولِ محدثین کے مطابق جب سند میں مجہول راوی موجود ہوں تو روایت ضعیف قرار پاتی ہے اور اس سے کسی امام پر جرح قائم نہیں کی جا سکتی۔

غیر مقلد معلمی یمانی نے اپنی کتاب ’’التنکیل‘‘ میں  کئی صفحات سیاہ کیے، لیکن آخرکار اسے بھی یہ تسلیم کرنا پڑا کہ عمران بن موسیٰ  مجہول ہیں (التنكيل - ضمن «آثار المعلمي» ١٠/‏٤٤٨ ) ، جبکہ راوی سلیمان بن فلیح کی ثقاہت بھی وہ مضبوط دلائل سے ثابت نہ کر سکا ۔ جب سند کا مدار ہی ایسے رواۃ پر ہو جن کی عدالت و ضبط ثابت نہ ہو تو ایسی روایت استدلال کے قابل نہیں رہتی۔ لہٰذا یہ سند مجہول رواۃ کی وجہ سے ضعیف ہے۔

دوسری سند کا حال

اسی واقعے کی ایک اور سند بھی منقول ہے جس میں محمد بن يونس القرشي السلمي الكديمي، أبو العباس البصري (ت ٢٨٦ هـ) موجود ہے۔ محدثین نے اس راوی پر کلام کیا ہے اور اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ لہٰذا یہ دوسری سند بھی قابلِ احتجاج نہیں۔ جب دونوں طرق ضعف کا شکار ہوں تو واقعہ ثابت نہیں رہتا۔

٣٠٤ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْقُرَشِيُّ؛ قَالَ: سَمِعْتُ الْأَصْمَعِيَّ يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ هَارُونَ الرَّشِيدِ وَعِنْدَهُ أَبُو يُوسُفَ الْقَاضِي، فَذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ مِنَ الْغَايَةِ إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ لَهُ: لَيْسَ هُوَ الْغَايَّةَ، إِنَّمَا هُوَ الْغَابَةُ. قَالَ فَالْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: جَزَاكَ اللهُ خَيْرًا، مَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ يَجْلِسَ إِلَيَّ عَاقِلٌ مِثْلُكَ. (المجالسة وجواهر العلم ٢/‏١٨٣  )

 خلاصہ :  خلاصہ یہ ہے کہ یہ واقعہ کسی معتبر اور صحیح سند سے ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے بنیاد بنا کر امام قاضی ابو یوسفؒ پر اعتراض قائم کرنا علمی اصولوں کے خلاف ہے۔

امام ابو یوسفؒ فقہ و حدیث کے جلیل القدر امام، امام اعظم ابو حنیفہؒ کے تلمیذِ رشید اور خلافتِ عباسیہ کے قاضی القضاۃ تھے۔ ان کی علمی عظمت، عدالت اور ثقاہت ایسی کمزور اور غیر ثابت روایات سے متأثر نہیں ہو سکتی۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...