نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو حنیفہؒ کے خلاف ابو العلاء أيوب بن أبي مسكين سے پیش کی جانے والی روایات کا علمی تجزیہ


امام ابو حنیفہؒ کے خلاف ابو العلاء أيوب بن أبي مسكين  سے پیش کی جانے والی روایات کا علمی تجزیہ


 حدثنا أسلم، قال: ثنا إسماعيل بن يوسف، قال: سمعت إسحاق الأزرق وذكر أبا العلاء، فقال: ما كان سفيان الثوري بأورع منه ما كان أبو حنيفة بأفقه منه.

ہم سے اسلم نے روایت کیا، کہا: ہم سے اسماعیل بن یوسف نے بیان کیا، کہا: میں نے اسحاق الازرق کو سنا، وہ ابو العلاء کا ذکر کر رہے تھے، تو کہا: سفیان ثوری ان سے زیادہ متقی (پرہیزگار) نہ تھے، اور ابو حنیفہ ان سے زیادہ فقیہ نہ تھے۔

حدثنا أسلم ، قال : ثنا أحمد بن سفيان « ، قال : سمعت يزيد بن هارون يقول: جلس أبو العلاء إلى أبي حنيفة فجاءه رجل يعلمه خصومة، فقام من عنده، فلم يعد إليه حتى مات.

ہم سے اسلم نے روایت کیا، کہا: ہم سے احمد بن سفیان نے بیان کیا، کہا: میں نے یزید بن ہارون کو یہ کہتے سنا: ابو العلاء، ابو حنیفہ کے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ ایک آدمی آیا اور انہیں ایک جھگڑے (خصومت) کے بارے میں سمجھانے لگا، تو ابو العلاء وہاں سے اٹھ گئے، پھر وفات تک دوبارہ ان کے پاس نہیں آئے۔

(تاريخ واسط ١/‏٩٥ — بحشل ت ٢٩٢)


جواب :

پہلی روایت کی سندی حیثیت

پہلی روایت کی سند میں اسماعیل بن یوسف مجہول ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے، اور بالفرض اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے، تب بھی اس میں امام ابو حنیفہؒ پر کوئی اعتراض بنتا ہی نہیں۔  کیونکہ یہ محض تقابلی رائے ہے کہ ایک شخص کے نزدیک کوئی عالم کسی پہلو سے دوسرے سے افضل ہو سکتا ہے۔ کسی کے نزدیک کوئی زیادہ ورع والا ہو، کسی کے نزدیک کوئی زیادہ فقیہ ہو— اس میں نہ تنقیص لازم آتی ہے، نہ طعن، اور نہ ہی دوسرے امام کی قدر و منزلت گھٹتی ہے۔ 

دوسری روایت میں صرف یہ ذکر ہے کہ ابو العلاء، امام ابو حنیفہؒ کے پاس بیٹھتے تھے، پھر ایک موقع پر کسی خصومت کے بیان پر وہ اٹھ گئے اور دوبارہ نہیں آئے۔

 کیا اس واقعے سے امام ابو حنیفہؒ پر کوئی اعتراض بنتا ہے؟

اس واقعے سے امام ابو حنیفہؒ پر کوئی علمی یا اخلاقی اعتراض لازم نہیں آتا، کیونکہ:

 جو شخص آیا تھا وہ امام ابو حنیفہؒ سے خصومت اور جھگڑے میں شرعی حکم (فتویٰ) پوچھنے آیا ہو۔

اور یہ بات معلوم ہے کہ فقہاء کے پاس اس نوعیت کے سوالات عام طور پر آتے تھے، کیونکہ نزاعات اور خصومات میں شرعی فیصلہ دینا ہی قاضی اور فقیہ کا منصب ہوتا ہے۔

ایسی صورت میں ابو العلاء کا مجلس سے اٹھ جانا:

نہ امام ابو حنیفہؒ کے کسی غلط عمل کی دلیل ہے

نہ ان کے فتویٰ پر اعتراض

اور نہ ہی کسی شرعی قباحت کی نشاندہی

بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ ابو العلاء کا ذاتی مزاج یا وقتی ناگواری ہو سکتی ہے، جس کا امام صاحبؒ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں۔۔

یزید بن ہارونؒ سے امام ابو حنیفہؒ  کی توثیق

یہاں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن نکتہ یہ ہے کہ اس روایت کے راوی یزید بن ہارون خود امام ابو حنیفہؒ کو انتہائی متقی اور قابلِ اعتماد مانتے تھے۔

اگر امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں ان کے نزدیک کوئی حقیقی شرعی یا دینی اعتراض ہوتا تو:

وہ اسے صراحتاً بیان کرتے

یا کم از کم اس واقعے کو امام صاحبؒ کے خلاف بطورِ جرح پیش کرتے

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یزید بن ہارون سے امام ابو حنیفہؒ کے حق میں تقویٰ، دیانت اور عظمت کے اقوال منقول ہیں۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 30 : امام یزید بن ہارون ؒ (م ۲۰۶؁ھ) کے نزدیک امام ابو حنیفہ ؒ (م ۱۵۰؁ھ) صدوق اور متقن ہیں۔ 


لہٰذا ایسے راوی سے نقل ہونے والا یہ واقعہ طعن یا اعتراض کے طور پر لیا ہی نہیں جا سکتا۔



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...