کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 6 : احادیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تحقیق کے آئینے میں :
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 6 :
احادیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تحقیق کے آئینے میں :
حدیث نمبر۱: بحوالہ مسند ابی عوانہ
‘‘ حدثناعبداللہ بن ایوب المخرمی وسعدان بن نصروشعیب بن عمروفی آخرین قالوا: ثنا سفیان بن عیینۃ عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم: حذومنکبیہ واذارادان یرکع و بعدمایرفع راسہ من الرکوع لایرفعھما۔ وقال بعضھم ولایرفع بین السجدتین والمعنی واحد ’’ (مسند ابی عوانہ ج۲، ص۹۰برقم ۱۵۷۲)
ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں کے مدمقابل تک اٹھایا (یعنی رفع الیدین کیا) ، اور جب رکوع کا ارادہ کیا اور جب رکوع سے سراٹھایا تو رفع الیدین نہ کی۔ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ عبداللہ، سعدان ، شعیب وغیرہ میں سے بعض نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان (یعنی جلسہ میں ) بھی رفع الیدین نہیں کی۔
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راویوں کا مختصرسا تذکرہ کتب اسماء الرجال سے حاضر خدمت ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوعوانہ الاسفرائنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۶ھ: ‘‘ الحافظ الثقۃ الکبیر ’’(تذکرۃ الحفاظ برقم ۷۷۲)
(۲)۔۔۔۔عبداللہ بن ایوب المخزومی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۵ھ: ‘‘ الامام المحدث الفقیہ الورع۔ صدوق ’’ (سیراعلام برقم ۲۱۱۵)
(۳)۔۔۔۔سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۸ھ: ‘‘ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔۔ امام حجۃحافظ ’’(تذکرۃ الحفاظ برقم ۲۴۹)
(۴)۔۔۔۔محمد بن مسلم الزہری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۴ھ: ‘‘ الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ ’’ (تقریب برقم ۶۲۹۶)
(۵)۔۔۔۔سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۶ھ: ‘‘ مدنی تابعی ثقۃ ’’ (تاریخ الثقات ج۱، ص ۱۷۴ برقم ۴۹۹)
(۶)۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما م ۷۳ھ : ‘‘ احد المکثرین من الصحابۃوالعبادلۃ ’’ (تقریب برقم ۳۴۹۰)
اس تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کی سند کے مذکورہ تمام راوی ثقہ ہیں، نیز امام ابن شھاب زہری رحمۃ اللہ علیہ اور امام سفیان بن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ نے (مسندابی عوانہ برقم ۱۵۷۴) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے، لہٰذا یہ روایت بلاشک و شبہ صحیح و ثابت ہے۔ سند کی تحقیق کے بعد اب اس روایت پر فریق مخالف کے اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
اعتراض نمبر۱: ورئیس ندوی جھوٹ نمبر ۶:
رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
ہم کہتے ہیں کہ فرقہ دیوبندیہ کے محدث حبیب الرحمان اعظمی بھی فرقہ دیو بندیہ کے ایک فرد ہونے کے سبب تحریف کار وا کاذیب پرست تھے انہوں نے صحیح ابی عوانہ کی اس حدیث میں ‘‘ لایرفعھما ’’ کے لفظ کی تحریف کر کے صحیح ابوعوانہ کو چھپوا دیا جبکہ ‘‘ لایرفعھما ’’ میں ‘‘لا’’ کا لفظ نہیں ہے (بلفظہ تحقیقی جائزہ ص ۲۶۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ مسند ابی عوانہ کا وہ قلمی نسخہ کہاں ہے؟ جس میں ‘‘لا’’ کا لفظ موجود نہیں ہے؟ ندوی صاحب نے بھی کسی ایسے قلمی مخطوطے کا عکس پیش نہیں کیا جس میں ‘‘لا’’ کا لفظ نہ ہو، ندوی صاحب کے کسی ایسے قلمی مخطوطے کے عکس پیش نہ کرنے سے بظاہر یہی معلوم ہوتاے کہ بغیر لفظ ‘‘لا’’ والا ان کے پاس بھی کوئی قلمی نسخہ موجود نہیں ہے، اور نہ ہی انہوں نے کوئی ایسا نسخہ کہیں دیکھا ہے، وگرنہ اس کا عکس پیش کرتے، مگر اس کے باوجود بغیر کسی دلیل و ثبوت کے ترک رفع الیدین دشمنی میں ندوی صاحب نے محدث کبیر حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ پر کذب بیانی و تحریف کا جھوٹا الزام جڑدیا ہے۔ ہماری معلومات کی حد تک حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ثقہ و صدوق اکابرعلماء اہلسنت واعاظم رجال میں سے تھے ، ان کی علمی بصیرت مسلم ہے، منقول و معقول کتب کے مدرس اور علمائے اجل کے استاذ تھے، جلیل القدر محقق عالم اور جید اہل علم تھے نیز بڑے پایہ کے عالم اور حدیث کے شیدائی بزرگ تھے۔ مختصر یہ کہ سنی العقیدہ، مستند ثقہ و صدوق عالم دین تھے، لہٰذا انہیں کذاب وغیرہ کہنا غلط ہے۔ندوی صاحب نے ان کے ‘‘کذاب و تحریف باز’’ ہونے پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی صاحب نے لکھا ہے کہ:
‘‘مخالف کی بے حوالہ و سنی سنائی جرح مردود ہوتی ہے۔ بے حوالہ بات مردود و باطل ہے’’ (ماہنامہ الحدیث ص ۲۴ ش نمبر۹۰ و ص ۱۵ ش نمبر۳۶)
ثانیاً۔۔۔۔ندوی صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح دارالمعرفۃ بیروت لبنان سے ایمن بن عارف الدمشقی کی تحقیق کیساتھ اور دارالکتب العلمیہ بیروت سے ابوعلی النظیف کی تحقیق کے ساتھ بھی صحیح ابی عوانہ شائع ہو چکی ہے، ان دونوں مطبوعہ نسخوں میں بھی ‘‘لا’’ کا لفظ موجود ہے، نیز زبیر علی زئی غیر مقلد نے نور العینین میں سندھی مخطوطے کا اور ایوب اثری غیر مقلد نے ہفت روزہ ‘‘الاعتصام’’ میں پیر جھنڈے والے مخطوطے کا جو عکس پیش کیا ہے ان میں بھی ‘‘لا’’ موجود ہے، لہٰذا حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ پر تحریف کرالزام بالکل جھوٹا ہے، مذکورہ مسندابی عوانہ کے نسخوں کے عکس ملاحظہ فرمائیں:
مسند ابی عوانہ بتحقیق ایمن الدمشقی کا عکس
مسند ابی عوانہ بتحقیق ابی علی النظیف کا عکس
نورالعینین ص۲۱۹
سندھی مخطوطے کا عکس بحوالہ نورالعیینن ص۲۲۰
الاعتصام کا عکس
الاعتصام پیر جھنڈے والے کا عکس
اعتراض نمبر۲:
داؤد ارشد غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
احناف نے مسند ابی عوانہ کو شائع کیا تو ‘‘من الرکوع ولایرفعھما’’ سے حرف واؤ کو عمدً اگرا دیا۔
(بلفظہ تحفہ حنفیہ ص ۴۶ ناشردارالکتب السلفیہ لاہور)
الجواب:
جو لوگ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ائمہ محدثین اور فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم پر الزامات لگانے سے پرہیز نہیں کرتے وہ لوگ موجودہ دور کے علماء احناف پر جھوٹے الزامات تھوپنے سے کب باز آسکتے ہیں، ہم ماقبل میں عرض کر چکے ہیں کہ مسند ابی عوانہ کو جس طرح علماء احناف نے شائع کروایا ہے اسی طرح دارالمعرفۃ بیروت لبنان سے بتحقیق ایمن بن عارف الدمشقی اور دارالکتب العلمیہ بیروت بتحقیق ابی علی النظیف بھی مسند ابی عوانہ شائع ہو چکی ہے، اور ان دونوں مطبوعہ نسخوں میں بھی لفظ ‘‘واؤ’’ موجود نہیں ہے۔ جس سے واضح ہو گیا کہ مسند ابی عوانہ کے متعدد نسخوں میں واقعتا ‘‘لایرفعھما’’ سے پہلے لفظ ‘‘واؤ’’ نہیں ہے ، اور احناف پر عمدًا واؤ گرانے کاالزام بالکل جھوٹا ہے۔
اعتراض نمبر۳:
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
بعض ناسمجھ لوگوں نے ‘‘لایرفعھما’’ کو پچھلی عبارت سے لگا دیا ہے۔۔۔۔مسند ابی عوانہ کے مطبوعہ نسخہ سے عمداًیاسھوًا ‘‘واؤ’’ گرائی گئی ہے یا گر گئی ہے۔ (نور العینین ص ۸۰)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔زبیر علی زئی صاحب خود نا سمجھی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ان کا مذکورہ مؤقف انتہائی غلط و بے جان ہے، ان کے اس مؤقف کا ساتھ نہ تو مسند ابی عوانہ کے قلمی مخطوطات دیتے ہیں، اور نہ ہی مسند ابی عوانہ کے مختلف مطبوعہ ایڈیشن دیتے ہیں، کیونکہ مسند ابی عوانہ بتحقیق ایمن بن عارف الدمشقی اور مسند ابی عوانہ بتحقیق ابی علی النظیف میں اس حدیث میں ‘‘ واذا ارادان یرکع وبعد مایرفع راسہ من الرکوع لایرفعھما ’’ کا شرط اور جزاء کے ساتھ مکمل جملہ یہ بات بالکل واضح کر رہا ہے کہ ‘‘ لایرفعھما ’’ جزاء کا تعلق پچھلی عبارت واس جزاء کی شرط ‘‘ واذا ارادان یرکع وبعد مایرفع راسہ من الرکوع ’’(یعنی رکوع جاتے اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع یدین کے ترک) کے ساتھ ہے، نہ کہ اگلی عبارت کے ساتھ۔
نیز مسند ابی عوانہ بتحقیق ایمن بن عارف الدمشقی میں ‘‘لایرفعھما’’ کے بعد (۔) یعنی ڈیش کا نشان ہے، علی زئی صاحب نے نورالعینین ص۷۹ پر سندھی مخطوطے کا جو عکس لگایا ہے اس میں بھی ‘‘لایرفعھما’’ کے بعد (o) یعنی گول دائرہ ہے، نیز ہفت روزہ الاعتصام ۲ محرم الحرام ۱۴۱۳ھ۳ جولائی ۱۹۹۲ء جلد نمبر۴۴ شمارہ نمبر۲۷ میں غیر مقلد محمد ایوب اثری حیدر آباد سندھ
نے جو پیر جھنڈے والا قلمی نسخہ پیش کیا ہے اس میں بھی ‘‘لایرفعھما’’ کے بعد گول دائرہ(o) موجود ہے، اور یہ بات تو عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ گول دائرہ اور ڈیش کا نشان وقف کی علامت ہیں، یہ وقف کی علامت بھی اس بات کی واضح طور پر رہنمائی کر رہی ہیں کہ ‘‘لایرفعھما’’ جزاء کا تعلق پچھلی عبارت واس جزاء کی شرط ‘‘واذا ارادان یرکع وبعد مایرفع راسہ من الرکوع’’ (یعنی رکوع جاتے اوررکوع سے سراٹھاتے وقت رفع الیدین کے ترک) کے ساتھ ہے، نہ کہ اگلی عبارت سجدوں کے رفع الیدین کے ساتھ۔
ثانیاً۔۔۔۔باقی رہا واؤ کے ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ اگر بالفرض مسند ابی عوانہ کے کسی معتبر نسخہ میں واؤ موجود بھی ہوتو یہ فریق مخالف کو مفیدنہیں، اور نہ ہی اس کی موجودگی سے فریق مخالف کا مذکورہ مؤقف ثابت ہوتا ہے، کیونکہ عرض کیا جا چکا ہے کہ مسند ابی عوانہ کے قلمی مخطوطات اور اس کے مختلف مطبوعہ ایڈیشنوں میں ‘‘لایرفعھما’’ کے بعد علامت وقف موجود ہے، جو اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ ‘‘لایرفعھما’’کا تعلق پچھلی عبارت کے ساتھ ہے، لہٰذا واؤ کے موجود ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اعتراض نمبر۴:
داؤد ارشد غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
امام ابوعوانہ نے اس حدیث کو رفع الیدین کرنے کے باب میں ذکر کیا ہے۔ (تحفہ حنفیہ ص ۴۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ داؤد ارشد صاحب کا مذکورہ اعتراض بھی قلت فہم کا نتیجہ ہے، وگرنہ عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ ائمہ محدثین بسا اوقات کسی عمل کے کرنے کا باب قائم فرما کر اس باب میں اس عمل کے کرنے اور نہ کرنے کے متعلقہ دونوں طرح کی روایات ذکر فرما دیتے ہیں، اس سے نہ کرنے کی روایات اس عمل کے کرنے کی، اور کرنے کی روایات اس کے نہ کرنے کی دلیل ہرگز نہیں بن جاتیں، جیسا کہ حافظ ابن اثیر جزری م ۶۰۶ھ نے ‘‘جامع الاصول’’ میں اور سنن ترمذی کے بعض نسخوں کے مطابق امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ نے اپنی ‘‘سنن’’ میں اثبات رفع الیدین کا باب باندھ کر اس میں اثبات رفع الیدین اور ترک رفع یدین دونوں طرح کی احادیث ذکر کر دی ہیں، (دیکھئے: جامع الاصول ج۵، ص ۲۹۹تا۳۱۱ برقم ۳۳۸۲ تا ۳۳۹۸،وسنن ترمذی ص ۵۹) اس سے یہ ہرگزلازم نہیں آتا کہ ترک رفع یدین کی احادیث اثبات رفع یدین کی ہیں یا اثبات رفع یدین کی احادیث ترک رفع یدین کی ہیں۔ اسی طرح امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۵ھ نے مصنف میں ‘‘فی رفع الیدین بین السجدتین’’ (دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کرنے) کا باب قائم کر کے اس میں پہلی حدیث (مرفوع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی) دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین نہ کرنے کی ذکر ہے، (دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ج۱،ص۳۰۴ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان ج۱،ص۲۷۱مطبوعہ حیدر آباد دکن) اب اگر کوئی کم علم آدمی داؤد ارشد صاحب کی طرح یوں کہہ دے کہ امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۵ھنے مذکورہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ کی دونوں سجدوں کے درمیان رفع یدین کرنے کے باب میں ذکر کیا ہے لہٰذا یہ حدیث رفع یدین کرنے کی دلیل ہے نہ کہ ترک رفع یدین کی، تو ایسا شخص حقیقتاً ائمہ محدثین کے اسلوب سے بالکل ناواقف ہے اور اسے کسی دماغی ہسپتال سے علاج کرانا چاہیئے۔ اگر ارشد صاحب کے اندر ذرہ برابر بھی انصاف ہوا تو وہ اپنی مذکورہ بودی بات سے ضرور رجوع کریں گے مگران سے انصاف کی توقع کم ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔داؤد ارشد صاحب نے خود صراحت کر رکھی ہے کہ ائمہ محدثین بشرتھے کسی روایت پر عنوان قائم کرنے میں یہ بھی غلطی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ (ملخصاً تحفہ حنفیہ ص ۲۵۷) بعض دفعہ یہ حضرات بھی غلطی کا شکارہو کر کسی روایت پر ایسا باب قائم کر بیٹھتے ہیں جس کا بظاہر اس روایت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، اختصار کے پیش نظر صحیح بخاری سے چند مثالیں حاضرخدمت ہیں:
(۱)۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ کہتے ہیں: ‘‘باب طول الصلٰوہ فی قیام اللیل’’ (رات کے قیام میں درازی نماز کا بیان) اور اس باب میں امام موصوف نے یہ حدیث بھی ذکر کی ہے کہ: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشک و شبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز تہجد پڑھنے کا ارادہ کرتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے۔ (صحیح بخاری ج۱،ص۱۵۲۔۱۵۳)پس دیکھئے کہ مذکورہ باب اور اس میں پیش کردہ حدیث میں ذرا بھی مناسبت اور کسی طرح کا لگاؤ نہیں ہے، چنانچہ امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۹ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ واماحدیث حذیفۃ فلامدخل لہ فی ھذاالباب لان شوص الفم بالسواک فی صلٰوۃ اللیل لایدل علٰی طول الصلوۃ ’’
کہ سیدنا حذیفہ کی حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ منہ صاف کرنے (مسواک کرنا) سے لمبی نماز پڑھنا لازم نہیں آتا۔ (شرح صحیح البخاری لابن بطال ص۳، ص۱۲۶ وحاشیہ صحیح البخاری ج۱، ص ۱۵۳حاشیہ نمبر۳)
(۲)۔۔۔۔سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہود اپنی قوم کی ایک عورت کو اور ایک مرد کو جنہوں نے زنا کیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پس ان دونوں کو اس جگہ کے قریب جو نماز جنازہ کے لیے مسجد کے نزدیک مقرر تھی سنگسار کر دیا گیا۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ نے ‘‘ باب الصلٰوۃ علی الجنائز بالمصلی والمسجد ’’(نماز جنازہ مصلے اور مسجد میں پڑھنے کا بیان) میں ذکر کیا ہے۔ (دیکھئے صحیح بخاری ج۱،ص۱۷۷) حالانکہ اس حدیث سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی اس حدیث کا اس باب سے کوئی تعلق ہے۔
چنانچہ امام ابن بطال رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۹ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ لیس فیہ دلیل علی الصلٰوۃ فی المسجد ’’ کہ اس حدیث میں مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ (حاشیہ صحیح بخاری ج۱، ص ۱۷۷ حاشیہ نمبر۷)
(۳)۔۔۔۔ایک روایت میں دولڑکیوں کے دف بجانے کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے، اس واقعہ کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ نے ‘‘ باب اذافاتہ العید یصلی رکعتین ’’ (جب نماز عید فوت ہو جائے تو دورکعت نفل پڑھنے کا بیان) میں ذکر کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج۱،ص۱۳۴۔۱۳۵)
جبکہ یہ روایت اور اس کا باب سوال از آسمان و جواب از ریسمان کا مصداق ہے، باب توعید کی نماز رہ جانے کے صورت میں دورکعت نماز نفل پڑھنے کا ہے اور حدیث میں دف بجانے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
اعتراض نمبر۵:
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
امام صاحب کے الفاظ ‘‘والمعنٰی واحد’ ’ معنی ومقصد ایک ہی سے بھی تائید ہوتی ہے کہ ‘‘ولایرفعھما’’ کہا جائے یا ‘‘لایرفع بین السجدتین’’ معنوی اعتبار سے کوئی جوہری فرق نہیں سوال یہ ہے کہ اگر ‘‘ولایرفعھما’’ ماقبل کی جزاء ہے جیسا کہ دیو بندی کہتے ہیں تو پھر اس کے بعد ‘‘وقال بعضھم ولایرفع بین السجدتین والمعنٰی واحد’’ میں بعض کا ذکر کر کے کس جملہ سے تعرض و اختلاف کا اشارہ ہے اور یہاں کون سے دو لفظ ہیں کہ فرمایا جا رہا ہے کہ معنی ایک ہی ہے اگر یہاں دو لفظ نہیں تو معنی واحد کہنے کا کیا مطلب ؟ (مسئلہ رفع الیدین پر ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ ص ۲۱ بحوالہ تحفہ حنفیہ ص ۴۷)
الجواب:
سنی العقیدہ مستند ثقہ و صدوق محقق حافظ حبیب اللہ ڈیروی رحمۃ اللہ علیہ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
محترم اثری صاحب: معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو صرف و نحو نہیں آتی جس کی وجہ سے آپ ایسی عظیم غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں یا عنادًا ایسا کر رہے ہیں۔ محترم اثری صاحب توجہ فرمایئے: راقم الحروف آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘اذا ارادان یرکع وبعدمایرفع راسہ من الرکوع لایرفعھما’’ پر بعض راویوں نے حدیث کو پورا کر دیا ہے اور آگے کچھ بھی بیان نہیں کیا جب بیان ہی نہیں کیا تو ‘‘لایرفعھما’’ جو ماقبل کی جزاء ہے اس کا تعلق مابعد سے کیسے ہو گا۔ بعض نے حدیث کے الفاظ ‘‘ولایرفع بین السجدتین’’ بڑھائے ہیں اور یہ الگ حکم ہے۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ مختلف ہیں اور ان کا حکم بھی مختلف ہے ، اگر ‘‘لایرفعھما’’ کا تعلق بعد سے کیا جائے تو کس طرح ہو سکتا ہے، درمیان میں واؤ عاطفہ موجود ہے معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان تغایر ہوتا ہے۔پھر ‘‘قال بعضھم’’ میں قول کا مقولہ جو آرہا ہے بعد میں ہوتا ہے، یہ عجیب نحو ہے کہ قال کامقولہ حرف عطف واؤ کوبھی پھاند کر ماقبل آجائے۔ نحو سے اتنی بے علمی یا عناد محض غیر مقلدین حضرات سے متصور ہو سکتی ہے۔
‘‘والمعنٰی واحد’’ کا مطلب واضح ہے کہ رکوع و بین السجدتین دونوں مقاموں میں راویوں نے ترک رفع یدین روایت کیا ہے اور ترک رفع یدین بین السجدتین روایت نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ ان کی مراد بھی ترک رفع یدین بین السجدتین ہے۔اگر رکوع کے وقت رفع یدین ہو اور بین السجدتین ترک رفع یدین ہو تو ان دونوں مختلف عبارتوں کا مقصد و معنی ایک کیسے ہو سکتا ہے رفع یدین کرنے اور نہ کرنے کا معنی ایک کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ رکوع کے وقت بھی ترک رفع یدین اور بین السجدتین بھی ترک رفع یدین ہوتو ایک معنی و ایک مقصد کہنا درست ہے۔
اس کی ایک نظیر خود مسند ابی عوانہ ج ۲،ص۱۹۵ میں موجود ہے کہ ذوالیدین والی روایت میں بعض راویوں نے بقیہ دورکعتوں کے آخر میں سجدہ سہو کی کیفیت بیان کر کے چپ ہو گئے ہیں سلام وغیرہ کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‘‘ قال ابن سیرین واخبرت عن عمران بن حصین ثم سلم واللفظ للصنعانی معنی حدیثھما واحد ’’ کہ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے خبر دی گئی ہے کہ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا (یعنی نماز کو ختم کر دیا) اور یہ لفظ الصنعانی راوی کے ہیں اور ان دونوں راویوں کی روایت کا معنی ایک ہے۔ (یعنی ابواسماعیل نے جو آخری سلام کا ذکر نہیں کیا اس کی مراد بھی الصنعانی راوی کی طرح ہے جس نے سلام کا ذکر کیا ہے یعنی نماز کو سلام سے ختم کیا جائے) اب اگر یہاں کوئی ارشاد الحق جیسا عقلمند آدمی یہ کہہ دے کہ سجدہ سہو اور آخری سلام دونوں ایک چیز ہیں، ورنہ ‘‘معنی حدیثھما واحد’’ کا پھر کیا مطلب، تو ایسے شخص کو اپنے عقل کا علاج کرانا چاہیے اور ایسی گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ ایسی عقل اپنی جگہ پرواپس آجائے۔ (نور الصباح ج۲، ۵۵۔۵۶)
اعتراض نمبر۶:
ارشاد الحق اثری غیر مقلد اس حدیث پر ایک اور حملہ کرتے ہوئے اپنے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے لکھتا ہے کہ:
امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب معرفۃ السنن (ص۲۱۴ ج۱) میں بھی شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت موجود ہے۔ انصاف شرط ہے کہ اگر صحیح ابی عوانہ کی پہلی روایت میں ترک رفع یدین کا ذکر ہے اور الشافعی عن ابن عیینہ روایت میں رفع یدین ہے تو پھر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت بیان کرتے ہوئے ‘‘ بنحوہ ’’ کہنے کا مطلب کیا، جو روایت پہلی حدیث کے مخالف ہو وہاں ‘‘بنحوہ’’ ہی کہا جاتا ہے؟ (مسئلہ رفع یدین ص ۲۳)
الجواب:
محترم اثری صاحب:امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے پہلی حدیث ترک رفع یدین میں بیان کر کے اس کے بعد ‘‘ عن الشافعی عن بن عیینۃ ’’ کی روایت کو ‘‘ بنحوہ ’’ کے لفظ سے نقل کیا ہے اور پھر ‘‘ حدثنی ابوداود قال ثنا علی قال ثنا سفیان ثنا الزھری اخبرنی سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمثلہ، حدثنا الصائغ بکۃ قال ثنا الحمیدی قال حدثنا سفیان عن الزھری قال اخبرنی سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمثلہ۔حدثنا الصائغ بمکۃ قال ثناالحمیدی قال حدثنا سفیان عن الزھری قال اخبرنی سالم عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مثلہ ’’ ان دونوں روایتوں کو مثلہ کے لفظ سے روایت کیا ہے۔ اثری صاحب آپ نے یہ غور کیوں نہ کیا کہ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے ترک رفع یدین کی روایت کے بعد ایک روایت کو ‘‘ بنحوہ ’’ کے لفظ سے اور اس کے دوروایتوں کو ‘‘ بمثلہ ومثلہ ’’ کے الفاظ سے کیوں تعبیر کیا ہے۔ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے اصول کے مطابق ‘‘ بنحوہ ’’ وہاں بولا جاتا ہے کہ جب بعدوالی روایت کے الفاظ وہ نہ ہوں جو اس سے قبل مذکور ہوئی ہے اور مثلہ وہاں بولا جاتا ہے کہ جب بعد والی روایت کے الفاظ بعینہ وہی ہوں جو پہلی حدیث کے تھے۔ (دیکھئے: تدریب الراوی ج۲ ص ۱۲۰)
پس اس قاعدہ سے ثابت ہوا کہ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘ عن الشافعی عن ابن عیینۃ ’’ والی روایت کو ‘‘ بنحوہ ’’ اس لیے کہا ہے کہ اس کے الفاظ وہ نہیں ہیں جو اس سے قبل والی حدیث کے تھے۔ اور اس کے بعد والی دونوں روایتوں کے الفاظ بعینہ وہی ہیں جو ترک رفع یدین والی حدیث کے ہیں۔ چنانچہ ان دو روایتوں میں سے ایک روایت امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ کے طریق سے ہے اور مسند حمیدی کے الفاظ بعینہ صحیح ابی عوانہ کی ترک رفع یدین والی روایت کی طرح ہیں۔ اور ان دو میں سے ایک روایت کی سندیوں امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کی ہے۔
‘‘حدثنی ابوداؤد قال ثنا علی قال ثنا سفیان۔۔۔۔ الخ ’’
امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ کا ستاد ابوداؤد الحرانی (سلیمان بن سیف م ۲۷۲ھ: ‘‘ ثقہ ’’ تہذیب التہذیب ج۴، ص ۱۹۹) ہے اور علی سے مراد علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ ہے۔ چنانچہ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ ایک مقام پر یوں فرماتے ہیں:
‘‘ ابوداؤد الحرانی قال ثنا علی بن المدینی قال ثنا سفیان۔۔۔۔ الخ’’
(مسند ابی عوانہ ج۲،ص۵۶)
پس معلوم ہوا کہ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس سند سے حدیث کے الفاظ بھی بعینہ وہی نقل کیے ہیں جو ترک رفع یدین والی روایت کے ہیں۔ (وللہ الحمد) چونکہ امام سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نے ترک رفع یدین بھی روایت کیا ہے اس لیے وہ کبھی رفع یدین نہ کرتے تھے۔ (التمہید ج۹،ص۲۲۶)
پس سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سے ترک رفع یدین کی روایت کے نقل کرنے میں کوئی شک نہ رہا ‘‘ کان البخاری اذا وجد الحدیث عند الحمیدی لایعدوہ الی غیرہ کذافی التقریب ’’ (تحفہ الاحوذی ج۳،ص۲۶۹) نیز امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اپنے استاد امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ سے رفع یدین کی روایت ابن عمررضی اللہ عنہ مرفوعاً اپنی کتابوں میں نقل نہ کرنا بھی دلیل ہے اس امر کی کہ امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ سے یہ روایت ترک رفع یدین میں مروی ہے۔ (نورالصباح ج۲ص ۵۷۔۵۸)
حدیث نمبر۲: بحوالہ مسند الحمیدی
‘‘حدثنا الحمیدی قال ثنا سفیان قال ثنا الزھری قال اخبرنی سالم بن عبداللہ عن ابیہ قال رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلوٰہ رفع یدیہ حذومنکبیہ واذا ارادان یرکع وبعد مایرفع راسہ من الرکوع فلایرفع ولابین السجدتین ’’
ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکہتے ہیں کہ میں نے رسول ا? صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو کندھوں کے برابر رفع یدین کی ، اور جب رکوع کا ارادہ فرمایا اور جب رکوع سے سرمبارک اٹھایا تو رفع یدین نہ کی اور نہ ہی سجدوں میں رفع یدین کی۔(مسند الحمیدی ص ۷۹نسخہ خانقاہ سراجیہ کندیاں)
سند کی تحقیق:
اس روایت کی سند کے راویوں کا مختصر ساتذکرہ کتب اسماء الرجال سے حاضر ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام ابوبکر عبداللہ بن زبیر الحمیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۱۹ھ: ‘‘ ثقہ حافظ فقیہ ’’ (تقریب التہذیب: برقم ۳۳۲۰)
(۲)۔۔۔۔سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۸ھ: ‘‘ الحافظ شیخ الاسلام محدث الحرم۔۔۔۔امام حجۃ حافظ ’’ (تذکرۃالحفاظ برقم ۲۴۹)
(۳)۔۔۔۔محمد بن مسلم الزھری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۴ھ: ‘‘ الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ ’’ (تقریب برقم ۶۲۹۶)
(۴)۔۔۔۔سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۶ھ: ‘‘ مدنی تابعی ثقۃ ’’ (تاریخ الثقات ج۱ص۱۷۴برقم ۴۹۹)
(۵)۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما م ۷۳ھ: ‘‘ احدالمکثرین من الصحابۃ والعبادلۃ ’’ (تقریب برقم ۳۴۹۰)
خلاصۃالتحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کے تمام راوی متفق علیہ ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
باقی رہا بعض الناس کا یہ کہنا کہ مسند الحمیدی میں ‘‘فلا’’ کا لفظ بڑھا دیا گیایہ ایک ایسا دعوء بلا دلیل ہے جس کی علمی دنیا میں پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں۔ بلکہ یہ خالص جھوٹ ہے۔ علاوہ ازیں مسند الحمیدی کا ایک قلمی نسخہ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی میں موجود ہے یہ نسخہ مسند حمیدی کے تمام نسخوں سے زیادہ صحیح اور قابل اعتماد ہے، اس نسخہ خانقاہ سراجیہ کندیاں اور قلمی نسخہ دارالعلوم دیوبند میں ‘‘فلایرفع ولابین السجدتین’’ کے الفاظ موجود ہیں۔ سنی العقیدہ، مسنتند ثقہ و صدوق محدث حبیب الرحمان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ غیر مقلدین کے استاذ الکل نزیر حسین کے دوشاگردوں نزیر حسین معروف بہ زین العابدین اور محی الدین کے ہاتھوں کا لکھا ہوا مسند حمیدی کا نسخہ دارالعلوم دیوبند کے کتب خانہ میں موجود ہے اس میں بھی مذکورہ الفاظ موجود ہیں۔ (ملخصاً تحقیق مسئلہ رفع یدین ص ۳۹۔۴۰) اسی طرح حسن سلیم اسد الدارانی کی تحقیق کے ساتھ شائع شدہ مسند حمیدی میں بھی ‘‘فلایرفع ولابین السجدتین’’ کے الفاظ موجود ہیں۔ (مطبوعہ دارالسقا، دمشق، سوریا ج۱،ص۵۱۵ برقم ۶۲۶ ،الطبعۃ الاولیٰ ، ۱۹۹۶م بحوالہ مکتبہ شاملہ)
مزید یہ کہ اگر بالفرض مسند حمیدی کے کسی قابل اعتبار نسخہ میں ‘‘فلایرفع ولابین السجدتین’’ کے الفاظ موجود نہ بھی ہوں تو اس سے عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد کے بقول ‘‘فلایرفع ولا بین السجدتین’’ والے نسخوں کا محرف یا الحاقی ہونا لازم نہیں آتا کیونکہ عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد نے تصریح کی ہے کہ: ‘‘کتب حدیث میں متعدد روایات اور عبارات ایسی موجود ہیں جو بعض نسخوں میں ہیں اور بعض نسخوں میں نہیں ہیں مگر کوئی بھی ان روایات اور عبارات کو الحاقی وغیر معتبر نہیں بتلاتا۔ (تحقیق الکلام ج۲، ص ۴۸،۴۹) الغرض یہ حدیث ترک رفع یدین میں بالکل صریح اور منکرین ترک رفع یدین پر حجت تام ہے۔ اب مسند حمیدی کے نسخوں کے عکس ملاحظہ فرمائیں جو کہ غیر مقلدین کے بہتان کی واضح الفاظ میں قلعی کھول رہے ہیں:
مسند حمیدی/ نسخہ خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی کا عکس
مسند حمیدی/ نسخہ دارالعلوم دیو بندکا عکس
مسند حمیدی/مطبوعہ نسخہ دارالعلوم دیوبند کا عکس
رئیس ندوی جھوٹ نمبر۷:
رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
ابن الترکمانی نے اس حدیث کو مسند حمیدی سے نقل کیا مگر اس میں وہ تحریف نہیں کر سکے۔ (بلفظہ تحقیقی جائزہ ص ۲۶۷)
تبصرہ :
اولاً۔۔۔۔ندوی صاحب کی یہ بات سراسر جھوٹ ہے، ہمارے علم کے مطابق ‘‘الامام الثقہ الناقدالمعتدل ، المتقن الحجہ ، المحدث الکبیرعلاؤ الدین ابن الترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۵ھ’’ نے مذکورہ حدیث کو مسند حمیدی کے حوالے سے کسی بھی مقام حتیٰ کہ ‘‘باب رفع الیدین عندالرکوع والرفع منہ’’ میں بھی نقل نہیں کیا ہے۔ (دیکھئے: الجوہر النقی ج۲، ص ۶۸تا۷۶)
ثانیاً۔۔۔۔باقی تحریف کا الزام بالکل جھوٹا اور خالص بہتان ہے۔ علماء اہلسنت اس جیسے گھناؤنے فعل کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے، ندوی صاحب کے اس بہتان کی قلعی کھولنے کے لیے ہم مسند حمیدی کے قلمی نسخوں کا عکس پیش کرچکے ہیں، قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ زیر بحث حدیث میں ذکر کردہ الفاظ ان قلمی نسخوں میں ہیں یا نہیں؟ مزیداری کی بات یہ ہے کہ مسند حمیدی کا قلمی نسخہ میاں نزیر حسین صاحب کے دو شاگردوں نزیر حسین عرف زین العابدین اور محی الدین زینبی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہیاور یہ دونوں غیر مقلد تھے یہ قلمی نسخہ دارالعلوم دیوبند کی لائبریری میں محفوظ ہے۔ (تحقیق مسئلہ رفع یدین ص ۳۹۔۴۰)
حدیث نمبر۳:بحوالہ خلافیات بیہقی
‘‘ قد روی الامام الحافظ المحدث ابوبکر البیہقی قال وربما تعلقوابما اخبرنا ابوسعیدسعید بن محمد بن احمد الشعیبی العدل،حدثنی ابوعبداللہ محمد بن غالب من حفظہ ببغداد،ثنا احمد بن محمدبن خالد البراثی،ثنا عبداللہ بن عون الخزاز، ثنامالک عن الزھری عن سالم عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یرفع یدیہ، اذا افتتح الصلاۃ، ثم لایعود۔
(خلافیات بیہقی قلمی : ص۱۷۹) ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ بلاشک و شبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اس کے بعد نہیں کرتے تھے۔
﴿سند کی تحقیق﴾
کتب اسماء الرجال سے اس روایت کے راویوں کا مختصرسا تذکرہ ملاحظہ فرمائیں :
(۱)۔۔۔۔امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن موسی خراسانی بیہقی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۸ھ: ‘‘ الامام الحافظ العلامۃ شیخ خراسان۔الحافظ العلامۃ الثبت الفقیہ شیخ الاسلام ’’ (تذکرۃ الحفاظ برقم:۱۰۱۴۔سیر اعلام النبلاء برقم:۸۶)
(۲)۔۔۔۔امام ابوسعد سعید بن محمد الشعیبی النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ:‘‘ العدل۔۔۔۔معروف من اہل الحدیث ۔۔۔ادرک الاسانیدالعالیۃ بالعراقیین۔محدث ’’ (المنتخب من کتاب السیاق لنیسابور لابی اسحاق الصیرفینی برقم:۷۲۳۔الانساب للسمعانی ج۸ص۱۱۳،اللباب فی تہذیب الانساب ج۲ص۱۹۹،تبصیر المنتبہ بتحریر المشتبہ ج۲ص۸۱۴)
(۳)۔۔۔۔امام محمد بن غالب ابوعبداللہ ابن الصفار المالکی رحمۃ اللہ علیہ:‘‘ الفقیہ۔۔۔۔احدالائمۃ۔وکان حافظا للفقہ عالما بالشروط متقدما فیہ۔محدث۔مفتی الاندلس ’’ (تاریخ اسلام۴۶۸۔تاریخ علماء الاندلس برقم:۱۱۴۸۔جذوۃ المقتبس فی ذکر ولاۃ الاندلس ج۲ص۸۱،بغیۃ الملتمس فی تاریخ رجال اہل الاندلس برقم:۲۴۹،سیر اعلام النبلاء برقم:۲۵۶۷)
(۴)۔۔۔۔ابوالعباس احمد بن محمد بن خالد البغدادی البراثی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۰ھ : ‘‘ ثقۃ مأمون ’’ (سیراعلام النبلاء:برقم ۲۵۷۰تاریخ بغداد برقم ۲۶۶۱، الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃ:۶۴۲)
(۵)۔۔۔۔عبداللہ بن عون الخزاز البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۲ھ: ‘‘ ثقۃ عابد ’’(تقریب التہذیب برقم ۳۵۲۰)
(۶)۔۔۔۔مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ : ‘‘ امام دارالمھجرہ راس المتقنین وکبیر المثبتین ’’ (ایضاً :برقم ۶۴۲۵)
(۷)۔۔۔۔محمد بن مسلم الزھری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۴ھ: ‘‘ الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ واتقانہ ’’(ایضاً برقم۶۲۹۶)
(۸)۔۔۔۔سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۶ھ: ‘‘ مدنی تابعی ثقۃ ’’ (تاریخ الثقات برقم۴۹۹)
(۹)۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما م ۷۳ھ: ‘‘ احد المکثرین من الصحابۃ والعبادلۃ ’’۔ (تقریب برقم ۳۴۹۰)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ بالا تحقیق سے معلوم ہو ااس حدیث کی سند ڈنکے کی چوٹ پر صحیح ہے، اور اس کے تمام راوی متفق علیہ ثقہ و صدوق ہیں۔مزید برآں امام زہری رحمۃ اللہ علیہ نے امام سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ سے سماع کی تصریح کردی ہے ۔(دیکھئے:مسند الحمیدی :۷۹)
ناصرالدین البانی غیر مقلد لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وھذا سندظاھرہ الجوادہ ۔۔۔۔ الخ۔’’ کہ اس سند کا ظاہر ٹھیک ہے-85الخ(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ برقم ۹۴۳)
شیخ عبدالفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
کہ مذکورہ حدیث کو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے لینے والے عبداللہ بن عون الخزاز رحمۃ اللہ علیہ ہیں جیسا کہ گزرا اور یہ مسلم اور نسائی کے رجال میں سے ہیں ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے تقریب کے اندر ان کو ثقہ،مامون اور عابد کہا ہے۔
الامام الحجہ ،الناقد المحدث الکبیر مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۲ھکہتے ہیں:
‘‘ لابأس بسندہ ’’اس حدیث کی سند میز کوئی حرابی نہیں ہے ۔(شرح ابن ماجہ :ج۱ص۱۴۷۲)
محدث حجاز شیخ عابدسندھی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ تضعیف الحدیث لایثبت بمجردالحکم وانما یثبت ببیان وجوہ الطعن وحدیث ابن عمرالذی رواہ البیھقی فی خلافیاتہ رجالہ رجال الصحیح فمااری لہ ضعفاً بعدذالک اللھم الاان یکون الراوی عن مالک مطعوناً لکن الاصل العدم فھذا الحدیث عندی صحیح لامحالہ’’
(امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کی اس حدیث پر غیر مبین السبب جرح مردود ہے کیونکہ) حدیث میں ضعف محض کسی کے ضعیف کہہ دینے سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس میں اسباب طعن بیان کرنے سے ہو گا، اور یہ حدیث جسے امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے خلافیات میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اس کے راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، لہٰذا سند کے صحیح ہونے کے بعد ا س میں کوئی ضعف مجھے معلوم نہیں ہوتا ہاں اگر امام مالک سے نقل کرنے والے راوی مجروح ہوں تو (دوسری بات ہے اور ان میں جرح ثابت نہیں) لہٰذا اس عدم ثبوت کی صورت میں اصل کے لحاظ سے ان میں عدم جرح ہی ہو گی۔ اس لیے میرے نزدیک یہ حدیث یقینی طور پر صحیح ہے۔(قلمی المواھب اللطیفہ بحوالہ معارف السنن ج۲، ص ۴۹۸)
شیخ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی اس عبارت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دورحاضر کے بعض احباب کا حافظ بیہقی رحمہ اللہ کے غلط قول کا سہارا لے کر اس حدیث کو بغیر کسی پختہ دلیل کے موضوع قرار دینا بالکل غلط باطل ومردود اور اصول حدیث کے خلاف ہے کیونکہ اس کی سند میں کوئی کذاب وضاع راوی نہیں بلکہ تمام راوی اتفاقی طور پر ثقہ وصدوق ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی علت قادحہ پائی جاتی ہے ۔فلہٰذا یہ حدیث بلاشک وشبہ صحیح وثابت ہے ۔
چنانچہ کفایت اللہ سنابلی نامی ایک شخص نے زبیر علی زئی صاحب کی مرضی کی ایک حدیث کو موضوع کہا تو زبیر صاحب نے اس شخص کا رد کرتے ہوئے لکھاکہ:
جب (اس حدیث کی)سند میں کوئی کذاب وضاع راوی نہیں بلکہ تمام راوی ثقہ یا صدوق ہیں تو گھڑنے یا مکذوب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،بلکہ یہ تو صحیح حدیث کی تکذیب ہے جوکہ اہل حدیث کا منہج ہرگز نہیں۔(مقالات :ج۶ص۳۸۲،۳۸۳)
زبیر صاحب نے مزید لکھاکہ:
دوسرے یہ کہ جب سند کے سارے راوی ثقہ وصدوق ہیں ،کوئی مدلس نہیں اور نہ کسی قسم کے انقطاع کا نام ونشان ہے تو سنابلی صاحب کا رٹا لگاتے ہوئے بار بار اسے موضوع اور من گھڑت قرار دینا کیا معنی رکھتا ہے ؟قارئین کرام !آپ نے دیکھ لیا کہ سنابلی صاحب نے ہماری پیش کردہ روایت کے تمام راویوں کاثقہ وصدوق ہونا تسلیم کرلیا ہے اور ثقہ راوی پر متکلم فیہ والی جرح مردود ہوتی ہے ،لہٰذا اس حدیث کو سنابلی اینڈ پارٹی کا موضوع،من گھڑت اورمردود کہنا بہت بڑا جھوٹ ہے ۔(مقالات :ج۶ص۴۰۴)
ف: علماء کرام کیلئے خلافیات بیہقی کے قلمی نسخے کا عکس حاضر خدمت ہے۔
خلافیات بیہقی کے قلمی نسخے کا عکس
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۸ تا۱۰ :
رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے:
اسے عبداللہ بن عون خزاز ثقہ راوی سے احمد بن محمد براثی نے روایت کیا ہے، جو ثقہ ہے۔ ملاحظہ ہو:۔۔۔طبقات الحنابلہ ج۱، ص ۶۴ ،انساب سمعانی ج۱، ص۷۰، والنجوم الزاہرہ ج۳،ص۱۸۱ ۔
(تحقیقی جائزہ ص۵۷۹)
تبصرہ:
امام احمد بن محمد البراثی رحمۃ اللہ علیہ تو بلاشک وشبہ ثقہ و صدوق راوی ہیں، مگر ندوی صاحب کے مذکورہ بالا تینوں حوالے سراسر جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی پیش کردہ مذکورہ بالا تینوں کتابوں (طبقات الحنابلہ، انساب ،النجوم الزاھرہ) کے محولہ صفحات پر امام مذکور کو ثقہ نہیں کہا گیا ملاحظہ ہو:
(۱)۔۔۔۔طبقات الحنابلہ ج۱،ص۶۴ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت
(۲)۔۔۔۔الانساب للسمعانی ج۲،ص۱۲۴ برقم ۴۱۴ مطبوعہ حیدر آباد
(۳)۔۔۔۔النجوم الزاہراہ ج ۳،ص۱۸۱ مطبو عہ مصر
حدیث نمبر۴: بحوالہ المدونہ الکبرٰی
قال ابن وھب وابن القاسم عن مالک عن ابن شھاب عن سالم بن عبداللہ عن ابیہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یرفع یدیہ حذومنکبیہ اذا افتتح التکبیرللصلاۃ۔
ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف اور صرف نماز شروع کرنے (یعنی تکبیر تحریمہ) کے وقت ہی رفع یدین کرتے تھے۔ (اس کے بعد نہیں کرتے تھے) (المدونۃ الکبرٰی ج۱،ص۱۱۹، دارالحدیث القاہرہ)
﴿سند کی تحقیق﴾
اس حدیث کی سند کے راویوں کا مختصر ساتذکرہ حاضر خدمت ہے۔
(۱)۔۔۔۔سحنون بن سعید التنوخی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھ : ‘‘ ثقۃ ’’(الثقات لابن حبان برقم ۱۳۵۵۰، الدیباج المذہب ج۲،ص۳۲)
(۲)۔۔۔۔عبدالرحمن بن قاسم العتقی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۱ھ : ‘‘ ثقۃ ’’(ترتیب المدارک ج۳ص۲۴۵،تہذیب التہذیب ج۶،ص۲۵۳، معانی الاخیار ج۲، ص۲۰۶، تذکرۃ الحفاظ ج۱ص۲۶۱)
(۳)۔۔۔۔ابو محمد عبداللہ بن وھب المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۷ھ: ‘‘ ثقۃ ’’(تہذیب الکمال ج۱۶، ۲۸۶ برقم ۳۶۴۵ ،تاریخ الثقات برقم ۹۰۶ ،تقریب برقم ۳۶۹۴)
(۴)۔۔۔۔مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹ھ : ‘‘ امام دارالھجرۃ راس المتقنین وکبیر المثبتین ’’ (تقریب التہذیب برقم ۶۴۲۵)
(۵)۔۔۔۔محمد بن مسلم الزھری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۴ھ: ‘‘ الفقیہ الحافظ متفق علی جلالتہ ’’ (ایضاً برقم ۶۲۹۶)
(۶)۔۔۔۔سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۶ھ : ‘‘ مدنی تابعی ثقۃ ’’
(تاریخ،الثقات:۴۹۹) (۷)۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما م ۷۳ھ: ‘‘ احدالمکثرین من الصحابۃوالعبادلۃ ’’ (تقریب التہذیب برقم ۳۴۹۰)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی متفق علیہ ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بالکل صحیح ہے۔ نیز امام زہری رحمۃ اللہ علیہ نے امام سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ سے سماع کی تصریح کر دی۔ (دیکھئے: مسند الحمیدی ص ۷۹) اب اس حدیث پر فریق مخالف کے اعتراضات کے جوابات ملاحظہ فرمائیں:
اعتراض نمبر۱:
رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
ہم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں تحریمہ کے وقت رفع الیدین کا ذکر ہے اور اس کے بعد والے مقامات پر رفع الیدین کی نفی نہیں ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص ۲۶۸)
زبیر علیزئی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
اس روایت کو کسی قابل اعتماد محدث نے رفع الیدین کے خلاف پیش نہیں کیا، اور نہ کوئی عقل مند اسے پیش کر سکتا ہے۔ (نورالعینین ص ۸۱)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ احادیث صحیحہ کو فضول قسم کے اعتراضات سے رد کرنا فرقہ غیرمقلدیت کی عادت بن چکی ہے وگرنہ عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ کلام عرب کا مشہور ضابطہ ہے کہ ‘‘ التقدیم ماحقہ التاخیریفید الحصر ’’ (دیکھئے: فتح رب البریہ فی شرح نظم الاجرومیہ ج۱،۱۴ ، شرح الفیہ ابن مالک ج۶،ص۷، شرح الدرۃ الیتیمہ ج۱،ص۲ ،شرح نظم المقصود ج۱۳،ص۳)
اور اس حدیث پاک میں بھی شرط یعنی ‘‘ اذا افتتح التکبیر للصلاۃ ’’ کو موخر اور جزاء یعنی ‘‘ کان یرفع یدیہ ’’ کو مقدم کر کے رفع یدین کو تکبیر تحریمہ کے ساتھ محدود ومحصور کر دیا گیا ہے۔ اور حصرنفی کو مستلزم ہوتا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں شروع نماز کے علاوہ تمام مقامات پر رفع یدین کی نفی کی گئی ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔علی زئی وارشاد الحق اثری غیر مقلد کے بقول حدیث، حدیث کی تشریح کرتی ہے۔ (نورالعینین ص ۱۲۵ ،توضیح الکلام ج۱،ص ۴۸۹۔۵۴۴) اور ماقبل میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی سند سے خلافیات بیہقی کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے، اس میں بعد الافتتاح ترک رفع یدین کی وضاحت موجود ہے۔ اسی طرح مسند ابی عوانہ اور مسند الحمیدی کی حدیث بھی ترک رفع یدین میں صریح ہے۔ لہٰذا ان روایات کی روشنی میں بھی اس حدیث کا مطلب واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بعد الافتتاح رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
ثالثاً۔۔۔۔ علی زئی صاحب کو معلوم ہونا چاہیے کہ مذہب مالکی کی عظیم و معتمدترین کتاب ‘‘المدونہ الکبری’’ میں نہایت ہی عقلمند جلیل القدرثقہ بالاجماع محدث و فقیہ ابوسعید عبدالسلام بن سعید القیروانی المعروف سحنون بن سعید التنوخی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھنے اس حدیث سے ترک رفع یدین پر دلیل پکڑی ہے۔ (دیکھئے: المدونۃالکبری ج۱،ص۱۱۹)
بعدالافتتاح رفع یدین کے عدم ذکر کا بہانہ بناکر اس حدیث کو رد کرنا غلط ہے، کیونکہ عرض کیا جا چکا ہے کہ اس میں رفع یدین کو تکبیر تحریمہ کے ساتھ محدود ومحصور کیا گیا ہے، اور حصرنفی کو مستلزم ہوتا ہے۔ لہٰذا تکبیر تحریمہ کے علاوہ ترک رفع یدین پر حضرات مالکیہ واحناف کا اس حدیث سے استدلال بلاغبار صحیح ہے۔ اور اس استدلال پر فریق مخالف کا اعتراض، اعتراض برائے اعتراض ہی ہے۔
اعتراض نمبر۲:
زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
بذات خود کتاب مدونۃ الکبری کی سند اورتوثیق محل نظر ہے۔ (نورالعینین :ص۸۲)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔اگر بالفرض مدونۃ الکبری بے سند کتاب بھی ہوتی تو علی زئی صاحب کو اعتراض کرتے وقت شرم اور حیاء کرنی چاہیے تھی، کیونکہ مدونۃ الکبرٰی سے بالتواترائمہ محدثین وفقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم استفادہ کرتے چلے آرہے ہیں، اور خود علی زئی صاحب نے وضاحت کر رکھی ہے کہ مشہور و متواتر نسخہ سند کا محتاج نہیں ہوتا۔ (مقالات ج۲، ص۳۱۹)
ثانیاً۔۔۔۔امام ابومحمد عبدالحق بن غالب المعروف بابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ م۵۴۲ھ،حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ اور شیخ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ ،وامام ابوبکر محمد بن خیر الاشبیلی رحمۃ اللہ علیہ م۵۷۵ھ ومحدث ابوسعید البراذعی رحمۃ اللہ علیہ م۳۷۲ھ نے اپنے سے لیکر راوی کتاب امام سحنون بن سعید التنوخی رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۰ھ تک مدونۃ الکبری کی اسناد ذکر کر دی ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(1) امام ابومحمد عبدالحق بن غالب المعروف بابن عطیہ رحمۃ اللہ علیہ م۵۴۲ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ المدونۃ اخبرنی بھاعن ابی عمراحمد بن محمد بن عیسیٰ بن القطان عن ابی بکر عبدالرحمن بن احمد التجیبی عن ابی ابراھیم اسحاق بن ابراہیم صاحب النصائح عن احمد بن خالد عن ابی عبداللہ محمد بن وضاح عن سحنون بن سعید ’’(فہرسۃ ابن عطیہ ج۱ص۱۲۵ وفی طبعۃ ج۱ص۹۲)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ اخبرنا حافظ العصر ابوالفضل ابن العراقی اذنا مشافھہ، عن ابی علی عبدالرحیم بن عبداللہ الانصاری، انبانا ابوالقاسم محمد بن محمد بن سراقہ العامری فی کتابہ، عن ابی القاسم احمد بن یزید بن بقی، انبا نامحمد بن عبدالرحمن الخزرجی، انبانا محمد بن فرج مولی ابن الطلاع، انبانا ابو عمر احمد بن محمد بن عیسیٰ عن عبدالرحمن بن احمد التجیبی، عن اسحاق بن ابراہیم التجیبی، عن ابی عمر احمد بن خالد بن یزید، عن محمد ابن وضاح ، عن سحنون ’’ (المعجم المفہرس اوتجرید اسانید الکتب ج۱، ص ۴۰۷ وفی طبعۃ ص ۵۷۴ برقم ۱۸۴۶)
(۳)۔۔۔۔محدث حرم شیخ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۵۷ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ فارویھا بالسند المتقدم الی الحافظ ابن حجر (عن الشیخ صالح الفلانی عن محمد بن سنہ عن مولای الشریف، عن الشھاب الخفاجی، عن البرھان العلقمی، عن السیوطی، عن حافظ ابن حجر) عن ابی اسحاق التنوخی، عن محمد بن جابر الوادی آشی، عن ابی محمد بن عبداللہ القرطبی، انا محمد بن فرج مولٰی ابن الطلاع القرطبی، انا احمد بن محمد بن عیسیٰ، عن عبدالرحمن بن احمد التجیبی، عن اسحاق بن ابراہیم التجیبی، عن احمد بن خالد بن یزید عن محمدبن وضاح عن مؤلفھا المجمع علی جلالتہ وامامتہ ابی سعید عبدالسلام سحنون التنوخی القیرانی ’’ (حصرالشارد ص ۴۳۵)
(۴)۔۔۔۔محدث خلف بن ابی القاسم محمد المعروف بابن البراذعی المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۷۲ھکہتے ہیں کہ:
‘‘ عن ابی بکربن ابی عقبۃ عن جبل بن حمود عن سحنون ’’ (التہذیب فی اختصار المدونہ ج۱،ص۱۶۸)
(۵)۔۔۔۔محدث ابوبکر محمد بن خیر الاشبیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۵ھ کہتے ہیں کہ:
‘‘ وحدثنی بھا ایضاً الشیخان الفقیھان ابوالقاسم احمدبن محمد بن بقی وابوالحسن یونس بن محمد بن مغیث رحمھما اللہ اجازۃ قالواکلھم حدثنا بھا الفقیہ ابوعبداللہ محمد ابن فرج قال حدثنی بھا الفقیہ ابوعمر احمد بن محمد بن عیسیٰ المعروف بابن القطان عن ابی بکر عبدالرحمٰن بن احمد التجیبی عن ابی ابراہیم اسحاق بن ابراہیم التجیبی الفقیہ عن ابی عمر احمد بن خالد بن یزید عن محمد بن وضاح عن سحنون بجمیعھا ’’ (فہرسۃابن خیر ج۱ص۲۰۷)
سند کی تحقیق:
محدث ابن خیرالاشبییلی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۵ھ کی بیان کردہ مذکورہ سند کے راویوں کی تعدیل و توثیق اور مدح و ثناء کے حوالے حاضر خدمت ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ابوبکر محمد بن خیر الاشبیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۵ھ: ‘‘ کان مقرئاً مجودا و محدثاً متقناً۔۔۔۔ رضاً ماموناً۔ الشیخ الامام البارع ’’(تاریخ الاسلام برقم ۱۷۲ ،سیراعلام النبلاء برقم ۵۲۱۰)
(۲)۔۔۔۔ابوالقاسم احمد بن محمد بن بقی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۳۲ھ : ‘‘ قرطبی فقیہ محدث مشہور من اہل بیت فقہ وجلالہ وحدیث ’’(بغیۃ الملتمس ج۱،ص ۱۶۶ برقم ۳۵۹)
(۳)۔۔۔۔ابوالحسن یونس بن محمدرحمۃ اللہ علیہ م ۵۳۱ھ: ‘‘ فقیہ محدث مشہور عارف حافظ ’’(ایضاً: ج۱ص۵۱۳، برقم ۱۵۰۱)
(۴)۔۔۔۔ابوعبداللہ محمد بن فرج رحمۃ اللہ علیہ م ۴۹۷ھ: ‘‘ فقیہ قرطبی مشہور محدث۔۔۔۔ من اہل الثقۃ والفضل ’’(ایضاً ج۱،ص۱۲۳ برقم ۲۵۶)
(۵)۔۔۔۔ابوعمراحمد بن محمد رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۰ھ: ‘‘ رئیس المفتیین بقرطبۃ۔۔۔۔کان فرید عصرہ بالاندلس حفظاً وعلماً ’’( تاریخ الاسلام ج۱۰،ص۱۱۷ برقم ۲۴۶)
(۶)۔۔۔۔ابوبکر عبدالرحمان بن احمد التجیبی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ: ‘‘ احدالعدول والشیوخ بقرطبۃ لہ روایۃ عن جماعۃ ودرایۃ وعدالۃ بینۃ ظاھرۃ۔ مشہور العدالۃ المبرزۃ بقرطبۃ وممن عنی بالعلم وشھربالحفظ۔ فقیہ قرطبی محد ث مشہور ’’ (الصلہ لابن بشکوال ج۱، ۳۰۳، بغیۃالملتمس ج۱،ص۳۶۰)
(۷)۔۔۔۔ابوابراہیم اسحاق بن ابراہیم التجیبی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ : ‘‘ کان خیراً فاضلاً دیناً ورعاً مجتھدًا عاقدًا کان من اہل العلم والفھم والعقل والدین المتین والزھدوالتقشف۔ زاھدًا عابدًا عالماً لم یکن فی عصرہ ابرمنہ خیرًاولااکمل ورعاً۔ من المشاھیر فی الجمع والعلم والحفظ ’’(ترتیب المدارک ج ۶ ،ص ۱۲۷۔۱۲۸)
(۸)۔۔۔۔ابوعمراحمد بن خالد بن یزید رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۲ھ: ‘‘ کان حافظاً متقناً وروایۃ للحدیث مکثراً ’’(بغیۃ الملتمس ج۱،۱۴۵ برقم ۳۹۶)
(۹)۔۔۔۔ابوعبداللہ محمد بن وضاح رحمۃ اللہ علیہ م ۲۸۷ھ: ‘‘ الامام الحافظ محدث الاندلس ’’(سیراعلام النبلاء ج۱۰،۴۶۹ برقم ۲۳۴۵)
(۱۰)۔۔۔۔سحنون بن سعید التنوخی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات لابن حبان برقم۱۳۵۵۰، الدیباج المذہب ج۲،ص۳۲)
خلاصۃ التحقیق:
اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس سند کے تمام راوی متفق علیہ ثقہ و صدوق ہیں۔ لہٰذا مدونۃالکبری کی سند بالکل صحیح ہے، اور علی زئی صاحب کا مذکورہ بالا اعتراض جہالت پر مبنی ہے، یا پھر علیزئی صاحب خواہ مخواہ عام لوگوں کو شک میں ڈالنے کے لیے عنادًا ایسے فضول اعتراضات کرتے ہیں۔
اعتراض نمبر۳:
زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
ابو عثمان سعید بن محمد بن صبیح بن الحداد المغربی جو کہ مجتہدین میں سے تھے۔ انہوں نے مدونہ کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے۔ (نور العینین ص ۸۲)
الجواب:
عرض ہے کہ بعض احادیث کی فہم اور سمجھ یا بعض احادیث کو دوسری بعض احادیث پر ترجیح دینے یا بعض احادیث کی تصحیح و تضعیف میں اہل علم فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم و محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے نظریات مختلف ہو جاتے ہیں۔ اور بسا اوقات انکایہ اختلاف اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کو ان احادیث کا مخالف گردانتے ہوئے اپنے مدمقابل کی کتابوں اور اس کے نظریات کا رد کرنا شروع کر دیتاہے، مگر اس سے ان کے آپس کے ان ریمارکس کی وجہ سے محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم اور ان کی کتب کو مجروح وغیرہ معتبر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اور نہ ہی اس سے ان کی عدالت و ثقاہت پر کوئی زد پڑتی ہے۔ کیونکہ اگر ان کے آپس کے ان ریمارکس کی وجہ سے ان کی کتب اور ان کی ذات کو غیر معتبر و مشکوک قرار دیا جائے، تو پھر تو تقریباًننانوے فیصد ائمہ محدثین میں سے کسی کی بھی عدالت و ثقاہت محفوظ نہیں رہے گی، اور ننانوے فیصد کتب احادیث غیر معتبر و مشکوک قرار پائیں گی۔ کیونکہ تقریباً ننانوے فیصد ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ایک دوسرے کی کتب اور نظریات کا رد بڑے ہی شدومد کے ساتھ کیا ہے، اور ایک دوسرے کو مخالفت حدیث کے طعنے بھی دیئے ہیں۔ مثلاً۔۔۔
(۱)۔۔۔۔امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ ایک حدیث کی تحقیق میں کہتے ہیں کہ:
‘‘ وقد کان الشافعی وابن علیۃ یقولون ان مالکاً ترک فی ھذا الباب مارواہ الٰی رایہ ’’ (التمہید ج۳،ص۲۹۵)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن علیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب میں خود جو حدیث روایت کی ہے، اس کو چھوڑ کر اپنی رائے پر عمل کیا ہے۔
(۲)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ جیسے ثقہ بالا جماع محدث کے خلاف مخالفت حدیث کا ریمارکس دیا ہے۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذ رشیدامام اثرم رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے کہا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ آدمی کو جمعہ کی نماز کے لیے جلدی جانا مناسب نہیں ہے، اس پر امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ:
‘‘ھذاخلاف حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم فانکرہ ’’(التمہید ج۸،۱۲۹)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے خلاف ہے، پھر امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا رد کرنا شروع کر دیا۔-85الخ۔
(۳)۔۔۔۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاذ حدیث امام مالک کے خلاف کتاب لکھی ہے، جس کا دیباچہ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے مناقب الشافعی میں نقل کیا ہے۔(دیکھئے: ابن ماجہ اور علم حدیث : ص۴۷)
(۴)۔۔۔۔ابوعثمان سعید بن محمد بن صبیح بن الحداد المغربی رحمۃ اللہ علیہ نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں مستقل کتاب لکھی ہے۔ (قضاۃ قرطبہ ۲۰۴)
(۵)۔۔۔۔امام یحییٰ بن عمر الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں ‘‘الرد علی الشافعی’’ نامی کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ (قضاۃقرطبہ ص ۱۸۴)
(۶)۔۔۔۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے تلمیذرشید امام محمد بن عبداللہ بن عبدالحکم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۸ھ نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں مستقل کتاب لکھی ہے، جس کا نام‘‘ الردعلی الشافعی فیما خالف فیہ الکتاب والسنۃ ’’(امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ پر ان مسائل میں ردجن میں انہوں نے قرآن وسنت کی مخالفت کی ہے) ہے۔(الطبقات الکبرٰی للسبکی ج۱،ص ۲۲۴)
(۷)۔۔۔۔امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ نے کم وبیش بخاری اور مسلم کی دو سواحادیث پرطعن کیا ہے، اور مستقل کتاب ‘‘الالزامات والتتبع’’ لکھی ہے ، جو کہ دارلکتب العلمیہ بیروت لبنان سے چھپ چکی ہے۔
(۸)۔۔۔۔مدونہ الکبری کا رد لکھنے والے ابوعثمان سعید بن محمد بن صبیح بن الحداد المغربی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں امام محمد بن اکلادعی رحمۃ اللہ علیہنے مستقل کتاب لکھی ہے۔ (علماء افریقیہ ص ۱۳۶)
(۹)۔۔۔۔ارشاد الحق اثری غیر مقلدنے تسلیم کیا ہے کہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۵۳۸ھ، حافظ ابومسعود الدمشقی رحمۃ اللہ علیہ، ابوعلی غسانی رحمۃ اللہ علیہ، امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم نے بخاری و مسلم کی متعدد روایات پر طعن کیا ہے۔ (ملخصاً پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص۸۳۔۸۵)
الغرض: اہل علم کے آپس کے ریمارکس کی وجہ سے ان کی کتب اور ان کی عدالت و ثقاہت پر زد نہیں پڑتی۔ لہٰذا ابوعثمان سعیدبن محمد الحدادالمغربی رحمۃ اللہ علیہ کے رد لکھنے سے مدونۃ الکبریٰ غیر معتبر قرار نہیں پاتی اور نہ ہی اس سے اس کتاب کے مصنف کا مجروح ہونا لازم آتا ہے۔ وگرنہ بصورت دیگر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ، امام مالک رحمۃ اللہ علیہ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کا بھی مجروح ہونا لازم آئے گا، اور ان کی کتب بھی مشکوک وغیر معتبر قرار پائیں گے۔ لہٰذا فضول قسم کے اعتراضات کر کے عام لوگوں کو شک میں ڈالنا باطل اور لغو ہے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۲۰:
نیز ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ امام ابوعثمان سعید بن محمد المغربی رحمۃ اللہ علیہ نے تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں بھی کتاب لکھی ہے، اور امام محمد بن الکلادعی رحمۃ اللہ علیہ نے ابوعثمان سعیدبن محمد الحدادالمغربی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں مستقل کتاب تصنیف فرمائی ہے۔ (کمامر)اس سے تو علیزئی صاحب کے مذکورہ خود ساختہ اصول کی روشنی میں امام شافعیرحمۃ اللہ علیہ اور بذات خود ابوعثمان سعید بن محمد الحدادالمغربی رحمۃ اللہ علیہ مجروح اور ان کی کتب غیر معتبر و مشکوک ٹھہرتی ہیں۔ مگر علیزئی صاحب کی مسلکی حمایت میں قلابازیاں ملاحظہ فرمائیے کہ اگر ابوعثمان المغربی رحمۃ اللہ علیہ مدونہ کارد لکھ دے تو اس سے علی زئی صاحب کے نزدیک مدونہ الکبری کا مصنف مجروح اور مدونہ پوری کی پوری کتاب مشکوک وغیر معتبرہو جاتی ہے، اور اگر وہی ابو عثمان المغربی رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا رد لکھے اور امام محمد بن اکلا دعی رحمۃ اللہ علیہ خود ابوعثمان المغربی رحمۃ اللہ علیہ کے رد میں کتاب لکھیں تو اس سے علی زئی صاحب کے نزدیک نہ تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ابوعثمان المغربی رحمۃ اللہ علیہ مجروح ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کی کتب مشکوک ہوتی ہیں۔حالا نکہ ابو عثمان المغربی علم حدیث اور فہم سنت میں امام سحنون بن سعید کے مدمقابل بچے ہیں، مگر افسوس کہ
اہل گلشن کے لیے بھی باب گلشن بند ہے
اس قدر کم ظرف باغباں دیکھا نہیں
اعتراض نمبر۴:
سحنون کی اگرچہ بہت سے اماموں نے تعریف وتوثیق کی ہے لیکن امام ابویعلیٰ الخلیلی فرماتے ہیں کہ ‘‘لم یرض اہل الحدیث حفظہ’’ (نورالعینین ص ۲۲۸)
الجواب:
جناب علی زئی صاحب: امام سحنون بن سعید رحمۃ اللہ علیہ ثقہ بالاجماع محدث و فقیہ ہیں، اور ثقہ بالاجماع راویوں کے بارے میں مجہول جارحین کی جرح نقل کر کے تلبیس نہ کیا کرو شکوک پیدا نہ کیا کرو یہ عادت اچھی نہیں ہے، وگرنہ امام خلیلی رحمۃ اللہ علیہ کی نقل کردہ یہ جرح آپ کے اصولوں کی روشنی میں بھی مردود ہے کیونکہ (۱)اس جرح کے جار حین مجہول ہیں (۲) یہ جرح مبہم ہے (۳) مجہول جار حین کی یہ جرح جمہورائمہ محدثین کی توثیق کے خلاف ہے۔ اور آپ خود تصریح کر چکے ہیں کہ ایسی جرح (۱)غیر مفسر (۲)جارح کے نام معلوم اور (۳)جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہوتی ہے۔( ملخصاً نورالعینین ص ۱۰۷)نیز درج ذیل ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے امام سحنون کی تعریف یا توثیق واضح لفظوں میں کی ہے۔
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ: (تاریخ الاسلام ج۱۷،ص۲۴۸ سیراعلام النبلاء برقم ۱۹۷۸)
(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ: (کتاب الثقات ج۸ص۲۹۹ برقم ۱۳۵۵۰)
(۳)۔۔۔۔امام ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۱ھ :(وفیات الاعیان ج۳،ص۱۸۰برقم ۳۸۲)
(۴)۔۔۔۔امام صلاح الدین صفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھ:(الوافی بالوفیات ج۳،۷۳)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ:(لسان المیزان ج۳،ص۸)
(۶)۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغارحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ:(الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃج۴،ص۴۱۵)
(۷)۔۔۔۔خیرالدین زرکلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۶ھ:(الاعلام ج۶،ص۱۳۶)
(۸)۔۔۔۔حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ م ۶۴۳ھ:(مقدمہ ابن صلاح ج۱، ص۲۰۱۔۳۱۰)
(۹)۔۔۔۔امام ابوالغرب التمیمی رحمۃ اللہ علیہ:(الدیبا ج المذہب ج۲ص۳۲ طبقات علماء افریقیہ ص۱۰۱)
(۱۰)۔۔۔۔امام عبدالرحمن بن قاسم العتقی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۱ھ: (ا لدیباج المذہب ج۲، ص ۳۲)
(۱۱)۔۔۔۔امام ابوزید بن ابی الغمررحمۃ اللہ علیہ: (الدیباج المذہب ج۲،ص۳۲ ریاض النفوس ج۱،ص۲۴۹)
(۱۲)۔۔۔۔امام یونس بن عبدالاعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ: (الدیبا ج المذہب ج۲،ص۳۲ ترتیب المدارک ج۲، ص ۵۹۰)
(۱۳)۔۔۔۔امام محمد بن وضاح رحمۃ اللہ علیہ م ۲۸۷ھ: (الدیبا ج المذہب ج۲،ص۳۲معالم ایمان ج۲، ص۸۲)
(۱۴)۔۔۔۔ابوعلی بن البصیررحمۃ اللہ علیہ: (معالم الایمان ج۲،ص ۸۲)
(۱۵)۔۔۔۔فقیہ محمود بن یزیدرحمۃ اللہ علیہ:(معالم الایمان ج۲،ص۳۳)
(۱۶)۔۔۔۔سلیمان بن عمران رحمۃ اللہ علیہ:(ایضاً)
(۱۷)۔۔۔۔امام محمد بن حارث قیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ: (قضاۃقرطبہ ص ۲۹۶)
(۱۸)۔۔۔۔امام ابواسحاق ابراہیم بن علی الشیرازی رحمۃ اللہ علیہ ۴۷۶ھ: (طبقات الفقھاء ج۱، ص۱۵۶)
(۱۹)۔۔۔۔فقیہ سالم بن سلیمان رحمۃ اللہ علیہ:(معالم الایمان ج۲،ص۸۳)
(۲۰)۔۔۔۔امام حمد لیس رحمۃ اللہ علیہ : (ترتیب المدارک ج۲،ص۵۹۲)
لہٰذا مذکورہ بالا ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقابلے میں امام موصوف پرنا معلوم جارحین کی جرح باطل و مردود ہے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۲۱:
زبیر علی زئی صاحب نے ایک طرف تو صراحت کر رکھی ہے کہ نامعلوم جارحین کی جرح مردود ہوتی ہے۔ (نورالعینین ص۱۰۷) جبکہ دوسری طرف اس نے ثقہ و صدوق محدثین امام سحنون بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۰ھ ،قاضی ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۲ھ وغیرہ پرنا معلوم جارحین کی جرح کو قبول کر رکھا ہے۔ (دیکھئے: نورالعینین ص ۲۲۸، القول المتین ص ۸۷،ماہنامہ الحدیث ص ۵۱ ش نمبر۱۹) اسی طرح اس نے ثقہ و صدوق محدث امام عبدالرحمن بن قاسم العتقی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۱ھ کو ثقہ ماننے کے باوجود ان کے امام مالک رحمۃ اللہ علیہسے روایت کردہ مسائل میں نامعلوم حضرات کے تکلم کو بہانہ بنا کر ان مسائل کو ناقابل اعتماد قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: تعداد رکعات قیام رمضان ص ۶۷)
یعنی علی زئی صاحب نے نامعلوم جارحین کی جرح کے بارے میں دوغلی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جب نامعلوم حضرات کی جرح بظاہر علی زئی صاحب کے حق میں ہو تو قبول کر لیتے ہیں اور اگرخلاف ہو تو مردود کہہ دیتے ہیں۔
علی زئی تضادنمبر ۲۲:
اسی طرح ایک طرف علی زئی صاحب نے اپنے پسندیدہ راویوں کو ثقہ ثابت کرنے کے لیے ایک اصول تراشا ہے کہ:
جمہور کی توثیق کے بعد (راوی پر) ہر قسم کی جرح مردود ہوتی ہے، چاہے لوگ اسے جرح مفسر کہتے پھریں اور سء الحفظ ، کثیر الغلط اور یخطء کثیراًوغیرہ الفاظ کے ساتھ پیش کرتے رہیں۔ (مقالات ج۳، ص ۳۳۹)
جبکہ دوسری طرف علی زئی صاحب کئی راویوں کو عندالجمہور ثقہ تسلیم کرنے کے باوجود جیسے ہی ان کی روایات کو اپنے مسلک کے خلاف پاتے ہیں تو فوراً ان کی روایات کو رد کر دیتے ہیں مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ماقبل میں گزرچکا ہے کہ امام سحنون مالکی رحمۃ اللہ علیہ کو اس نے عندالجمہور ثقہ مانا ہے، لیکن ترک رفع یدین میں جیسے ہی امام موصوف کی نقل اس کے خلاف گئی تو اس نے جھٹ سے لکھ دیا کہ:
امام ابویعلیٰ الخلیلی فرماتے ہیں: لم یرض اھل الحدیث حفظہ۔یعنی محدثین اس کے حافظے پر خوش نہیں۔(نورالعینین ص ۲۲۸۔۲۲۹)
(۲)۔۔۔۔شہربن حوشب کے بارے میں علی زئی نے لکھا ہے کہ:
میری تحقیق میں جمہور محدثین نے اسے ثقہ صدوق قرار دیا ہے لہٰذا وہ حسن الحدیث ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ۵/۲۲)
لیکن جب اس کی روایت اپنے مسلک کے خلاف آئی تو اس روایت کو مشکوک بنانے اور رد کرنے کے لیے فورًا لکھ دیا کہ:
اس روایت کے راوی شہربن حوشب پر کافی کلام ہے۔ (نورالعینین ص ۲۱۱)
(۳)۔۔۔۔ابوبکر بن عیاش رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں علی زئی نے لکھا:
ابوبکر بن عیاش رحمہ اللہ جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق راوی ہیں، لہٰذا وہ حسن الحدیث راوی ہیں۔ (ماہنامہ الحدیث ۵۴/۲۸)
مگر اس کے باوجود علی زئی نے اس کی بیان کردہ ترک رفع یدین کے متعلقہ سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما کی موقوف روایت کو ضعیف کہا ہے۔ (نورالعینین ص ۱۷۰)
حدیث نمبر۵:بحوالہ اخبارالفقہاء والمحدثین
‘‘ قدروی الامام الحافظ ابو عبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی، حدثنی عثمان بن محمد قال: قال لی عبیداللہ بن یحییٰ: حدثنی عثمان بن سوادۃ ابن عبادعن حفص بن میسرۃ عن زیدبن اسلم عن عبداللہ بن عمر قال: کنامع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمکۃ نرفع ایدینا فی بدء الصلوۃ وفی داخل الصلٰوۃ عندالرکوع فلما ھاجرالنبی صلی اللہ علیہ وسلم الی المدینۃ ترک رفع الیدین فی داخل الصلوٰۃ عند الرکوع وثبت علی رفع الیدین فی بدء الصلاۃ ’’
ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ میں نماز کے شروع اور درمیان میں رکوع کے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایام اخیرہ میں) درمیان نماز رکوع کے وقت رفع الیدین کرنا چھوڑ دیا، اور شروع نماز میں ہمیشہ کرتے رہے۔ (اخبارالفقھاء والمحدثین ص ۲۱۴ برقم ۳۷۸، دارالکتب العلمیہ بیروت۔ لبنان)
سند کی تحقیق:
اس حدیث کی سند کے راویوں کا مختصر تذکرہ کتب اسماء الرجال سے حاضر ہے۔
(۱)امام ابوعبداللہ محمد بن حارث القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ
(۱)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ۔ الحافظ الامام ’’(تاریخ الاسلام برقم ۱۷،تذکرۃ برقم ۹۳۴ ،سیراعلام النبلاء برقم ۳۳۱۹)
(۲)۔۔۔۔امام ابراہیم بن علی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۹۹ھ لکھتے ہیں: ‘‘ کان حافظاً للفقہ متقدماً فیہ نبیھاً ذکیاً فقیھاً فطناً متفنناً عالماً ’’ (الدیبا ج المذھب ج۲ص۲۱۲)
(۳)۔۔۔۔امام محمد بن فتوح الحمیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۸ھکہتے ہیں: ‘‘ من اھل العلم والفضل فقیہ محدث ’ ’(جذوۃالمقتبس ج۱،ص۵۳ وفی طبعۃص ۴۷)
(۴)۔۔۔۔امام احمد بن یحییٰ الضبی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۹ھ نقل کرتے ہیں : ‘‘ من اھل العلم والفضل فقیہ محدث ’’ (بغیۃالملتمس ج۱،ص۷۱برقم ۹۶)
(۵)۔۔۔۔علامہ خیرالدین زرکلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۶ھ لکھتے ہیں: ‘‘ مؤرخ من الفقھاء الحفاظ ’’(الاعلام ، ج۶،ص ۷۵)
(۶)۔۔۔۔امام ابن الفرضی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۳ھ کہتے ہیں:‘‘ کان حافظاً للفقہ عالماً بالفتیاحسن القیاس ’’(تاریخ علماء الاندلس ج۲،۱۱۵ برقم ۱۴۰۰)
(۲) عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری م ۳۲۰ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابن الفرضی م ۴۰۳ھ نقل کرتے ہیں: ‘‘ کان معتنیاً بالعلم، حافظاً للمسائل، عاقدًا للشروط مفتی اہل موضعہ ’’ (تاریخ علماء الاندلس ج۱، ص۳۴۷ برقم ۸۹۳)
(۲)۔۔۔۔امام خالد بن سعدم ۳۵۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ ممن عنی بطلب العلم و درس المسائل و عقدلوثائق مع فضلہ ’’(اخبار الفقہاء والمحدثین ص۲۶، برقم ۳۸۱)
(۳)امام عبید اللہ بن یحییٰ القرطبی م ۲۹۸ھ
(۱)۔۔۔۔امام خالد بن سعدم ۳۵۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان عاقلاً وقورًا وافرالحرمۃ عظیم الجاہ بعید الاسم تام المروء ۃ عزیرالنفس عزیز المعروف نھاضاً بالاثقال مشاورًا فی الاحکام ’’(اخبار الفقہاء والمحدثین ص ۱۷۰ برقم ۳۱۰)
(۲)۔۔۔۔امام محمد بن ابراہیم بن حیون رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ملخصاً ایضاً ص ۱۷۲)
(۳)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ کہتے ہیں: ‘‘ کان جیلاً نبیلاً کبیر الشان۔ الفقیہ الامام المعمر مسند القرطبۃ ’’(تاریخ الاسلام برقم ۲۹۳،سیر اعلام النبلاء برقم ۲۴۸)
(۴)۔۔۔۔امام ابن الفرضی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ وکان رجلاً عاقلاً کریماً عظیم المال والجاہ مقدماً فی المشاورۃ فی الاحکام منفردًا برئاس البلد غیر کدافع ’’(تاریخ علماء الاندلس ج۱، ص۲۹۳، برقم۴۶۴)
(۴)عثمان بن سوادہ القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م تقریباً ۲۳۵ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابن الفرضی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۳ھ نقل کرتے ہیں: ‘‘ کان عثمان بن سوادۃ ثقۃ مقبلا عندالقضاۃ والحکام وکان من اھل الزھد والعبادۃ وکثرۃ التلاوۃ ’’(تاریخ علماء الاندلس ،ج۱،ص۳۴۶، برقم ۸۹۰)
(۲)۔۔۔۔امام عبید اللہ بن یحی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:‘‘ کان عثمان ثقۃ مقبولاً عندالقضاۃ والحکام وکان من اہل الخیروالفضل ’’(اخبار الفقہاء والمحدثین ص ۲۱۴برقم ۳۷۸)
(۵)امام حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۱ھ
(۱)۔۔۔۔امام ابن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ ابن معین برقم ۵۰۳۸)
(۲)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ لیس بہ باس ’’(الجرح والتعدیل برقم ۸۰۹)
(۳)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ صالح الحدیث ’’(ایضاً)
(۴)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ لاباس بہ ’’ (ایضاً)
(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھکہتے ہیں: ‘‘ وکان من العلماء الاتقیاء لہ مواعظ۔ المحدث الامام الثقۃ۔ ثقۃ ’’(تاریخ الاسلام برقم ۷۴، سیراعلام النبلاء برقم ۱۲۱۴، لمن تکلم فیہ وھوموثق برقم ۹۰)
(۶) امام زید بن اسلم المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۶ھ
(۱)۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل برقم ۲۵۱۱)
(۲)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ایضاً)
(۳)۔۔۔۔امام ابوزرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ایضاً)
(۴)۔۔۔۔حافظ ابن سعدرحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ کہتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ کثیر الحدیث ’’ (الطبقات الکبری ۱۲۱۴)
(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ عالم ’’(تقریب برقم ۲۱۱۷)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ا سکی سند بالکل صحیح ہے۔ مگر اس کے باوجود تحقیق کے نام پر انکار کرتے ہوئے زبیر علی زئی غیر مقلد نے اس حدیث پر بلا دلیل لایعنی اور فاسداعتراضات بوجہ جہالت و بغض وارد کیے ہیں، اب ان اعتراضات کا تحقیقی جائزہ ملاحظہ فرمائیے:
اعتراض نمبر۱، و علی زئی تضاد نمبر ۲۳:
زبیر علی زئی غیرمقلد لکھتا ہے کہ: (یہ) روایت کئی لحاظ سے موضوع و باطل ہے۔ ‘‘اخبارالفقہاء والمحدثین’’ نامی کتاب کے شروع میں اس کتاب کی کوئی سند مذکور نہیں ہے۔۔۔۔الخ۔ (نور العینین ص ۳۰۵ ،ماہنامہ الحدیث ص ۱۰ ش نمبر۱۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ زبیر علی زئی کا یہ ایک عجیب انصاف ہے کہ کسی کتاب کا کوئی حوالہ جب ان کے مفاد کے خلاف ہو تو پھر اس کتاب کی سند کا مطالبہ کر دیتے ہیں اگرچہ وہ کتاب مشہور و متواتر ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن خود ان کو اس طرح کی کتاب کا کوئی حوالہ اگر اپنے مفاد میں مل جائے تو پھر اس کتاب کو قابل استدلال قرار دے دیتے ہیں۔ مثلاً ‘‘کتاب الضعفاء للبخاری رحمۃ اللہ علیہ، الکامل لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ، المدخل الی الصحیح للحاکم رحمۃ اللہ علیہ’’ وغیرہ کے مطبوعہ نسخوں کے ناسخین کی سند صحیح و متصل ان کے مصنفین تک نہیں پہنچتی مگر اس کے باوجود علی زئی صاحب نے ان کتب کو معتبر و قابل استدلال قرار دے رکھا ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۲، ص۳۱۹۔۳۲۱)
اس سے معلوم ہوا کہ علی زئی صاحب متناقض، متضاد اور دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں، کہ جب کسی کتاب کا حوالہ اس کی مرضی کے خلاف ہو تو پھر موصوف کتاب کی سند کا مطالبہ کر دیتے ہیں، اور جب مرضی کا حوالہ مل جائے تو پھر بلاچوں و چراں اس طرح کی کتاب کو قابل استدلال و معتبر کہہ دیتے ہیں۔
جو چاہے ان کا حسن کرشمہ سازکرے
ثانیاً۔۔۔۔متعدد ائمہ محدثین مثلاً۔۔۔ امام ابومحمد محمد بن فتوح الحمیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۸ھ، امام ابوعمر ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ، امام ابومحمد ابن حزم الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ، امام ابو جعفر احمد بن یحییٰ الضبی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۹ھ، امام ابو عبداللہ شھاب الدین الحموی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۶ھ، امام محمد بن عبداللہ المعروف بابن ناصر الدین م ۸۴۲ھ وغیرھم نے اپنی اپنی مشہور کتب میں ‘‘اخبار الفقھاء والمحدثین’’ کا ذکر کیاہے۔(دیکھئے: جذوۃ المقتبس ج۱،ص۵۳ فی طبعۃ ص ۴۷ ،بغیۃ الملتمس ص ۷۲ وفی طبعۃ ص ۶۱ برقم ۹۶ فضائل الاندلس ج۱،ص۱۷،معجم الادباء ج۶،، ص ۲۴۷۹ ،توضیح المشتبہ ج۳، ص ۱۱۷) اور زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک جس کتاب کا ائمہ محدثین نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہو وہ کتاب مشہور ہوتی ہے، اور سند کی محتاج نہیں ہوتی۔ چنانچہ جب علی زئی صاحب سے ‘‘الجزء المفقود’’ والوں نے بطور الزام کے ‘‘المدخل الی الصحیح للحاکم’’ کی متصل سند کا مطالبہ کیا تو ان کو جواب دیتے ہوئے علی زئی نے لکھا:
المدخل الی الصحیح للحاکم کا ذکر حاکم نے اپنی مشہور کتاب المستدرک(۳/۱) میں کیا ہے۔ اسی طرح عبدالغنی بن سعید، ابن خیرالاشبیلی اور ابن عساکر وغیرہم نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔لہٰذا اس مشہور کتاب کا ‘‘الجزء المفقود’’ سے کیا مقارنہ ؟ (مقالات ج۲،ص ۳۲۱)
نیز علی زئی صاحب ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ:
مشہور و متواتر نسخہ سند کا محتاج نہیں ہوتا۔ (مقالات ج۲،ص۳۱۹)
ثالثاً۔۔۔۔مشہور و معروف ثقہ بالاجماع محدث ابوبکر محمد بن خیر الاشبیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۵ھ نے امام ابوعبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ کی تمام کتب (بشمول اخبارالفقہاء والمحدثین) کی سند ذکر کر دی ہے ، چنانچہ لکھتے ہیں:
‘‘ توالیف ابی عبداللہ محمد بن حارث الفقیہ رحمہ اللہ حدثنی بھا ابومحمد بن عتاب رحمہ اللہ عن ابیہ عن ابی بکر محمد بن عبدالرحمٰن بن احمد التجیبی عنہ ’’(فہرسۃ ابن خیرالاشبیلی ج۱ص۳۹۳، برقم ۱۳۰۱)
اس سے معلوم ہوا کہ امام قیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ کی تمام کتب (بشمول اخبار الفقہاء ) باسند ہیں، اور علی زئی صاحب کامذکورہ اعتراض ان کی کم علمی کا نتیجہ ہے۔ نیز امام ابوالقاسم ابن بشکوال رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۸ھنے بھی صراحت کر رکھی ہے کہ ‘‘ وابی عبداللّٰہ محمد بن حارث الخشنی واجازلہ جمیعھم ’’ کہ امام ابوبکر التجیبی رحمۃ اللہ علیہ کو امام قیروانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تمام کتب روایت کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ (الصلہ: ج۱، ص۳۰۳)
سند کی تحقیق:
امام ابوعبداللہ القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ کی تمام کتب کی سند کے راویوں کا مختصرسا تذکرہ کتب رجال سے حاضر ہے۔
(۱)۔۔۔۔ابوبکر محمد بن خیرالاشبیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۷۵ھ : ‘‘ رضاً ماموناً ’’(تاریخ الاسلام برقم ۱۷۲)
(۲)۔۔۔۔ابومحمد عبدالرحمن بن محمد بن عتاب رحمۃ اللہ علیہ م ۵۲۲ھ: ‘‘ ثقۃ ’’ (ملخصاً الصلہ لابن بشکوال ج۱،ص۳۳۳)
(۳)۔۔۔۔ابوعبداللہ محمد بن عتاب بن محسن رحمۃ اللہ علیہ۴۶۲ھ: ‘‘ احد العلماء الاثبات ’’(ایضاً ج۱،۵۱۶)
(۴)۔۔۔۔ابوبکر محمد بن عبدالرحمن بن احمد التجیبی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ: ‘‘ احدالعدول۔ وعدالۃ بینۃ ظاھرۃ ’’ (ایضاً: ج۱، ۳۰۳)
اس تحقیق سے معلوم ہوا امام قیروانی رحمۃ اللہ علیہ کی تمام کتابوں (بشمول اخبار الفقہاء والمحدثین ) کے راوی ثقہ اور مضبوط ہیں۔
اعتراض نمبر۲:
زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ:
اس کے پیچھے تم الکتاب -85 فی شعبان من عام ۴۸۳ھ یعنی اس کتاب کی تکمیل مذکور مصنف محمد بن حارث القیروانی (المتوفی ۳۶۱ھ) کی وفات کے ایک سو بائیس (۱۲۲) سال بعد ہے-85 الخ (ملخصاً نورالعینین ص ۲۰۲، وماہنامہ الحدیث ص ۱۰ش نمبر۱۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔علی زئی صاحب کا یہ اعتراض بھی ان کی کم علمی کا نتیجہ ہے، کیونکہ ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ مذکور مصنف کی تمام کتب (بشمول اخبار الفقہاء والمحدثین) ‘‘ ابومحمد بن عتاب رحمہ اللہ عن ابیہ عن ابی بکر محمد بن عبدالرحمن بن احمد التجبیی ’’ کی سند سے روایت شدہ ہیں، یعنی امام ابوعبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھسے امام ابوبکر محمد بن عبدالرحمن بن احمد التجیبی رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۳۲۹ھ وفات ۴۰۹ھ) اور ان سے امام ابوعبداللہ محمد بن عتاب بن محسن رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۳۸۳ھ وفات ۴۶۲ھ) اور ان سے ابومحمدعبدالرحمان بن محمد بن عتاب بن محسن رحمۃ اللہ علیہ (ولادت ۴۳۳ھ وفات ۵۲۲ھ) روایت کرتے ہیں اور اخبار الفقہاء والمحدثین کا مطبوعہ نسخہ ۴۸۳ھ کا لکھا ہوا ہے (اخبار الفقہاء ص ۲۹۳) جو کہ اس کتاب کے راوی امام ابومحمد عبدالرحمان بن محمد بن عتاب بن محسن رحمۃ اللہ علیہ م ۵۲۲ھ کا دور ہے، اور اخبار الفقہاء والمحدثین کا مطبوعہ نسخہ لکھنے والے یہی امام ابومحمد عبدالرحمان بن محمد بن عتاب بن محسن ہی ہیں، اور یہ خود کاتب تھے۔ اور انہوں نے اس کتاب کو ابوعبداللہ محمد بن عتاب بن محسن رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۲ھ سے اور انہوں نے امام ابوبکر التجیبی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ سے اور انہوں نے امام ابوعبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ سے روایت کیا ہے۔ لہٰذا اس کتاب کی سند بالکل صحیح و متصل ہے، اور علی زئی کا اس کتاب کی سند میں ایک سو بائیس سال کا فاصلہ نکالنا بالکل غلط اور یقینا باطل و مردود ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔اگر علی زئی صاحب کے کتب حدیث کی سندوں میں فاصلہ ثابت کرنے کے مذکورہ اصول کو مانا جائے تو اس سے تو اکثر کتب کا من گھڑت و ناقابل اعتبار ہونا لازم آئے گا مثلاً۔۔۔۔
(۱)التمہید لمافی المؤطا من المعانی ولاسانید:
اس سے فراغت ۵۷۰ھمیں ہوئی، اور اس کا ایک نسخہ ۷۳۸ھ میں اور دوسرا نسخہ ۶۰۷ھ میں لکھا گیا ہے۔ (التمہید ج۲۵ ص ۴۴۸) حالانکہ اس کتاب کے مصنف امام ابن عبدالبرم۴۶۳ھ میں ہی فوت ہو چکے تھے۔
(۲)المعجم الکبیر للطبرانی:
اس کا نسخہ ۱۳۲۸ھ میں لکھا گیا ہے۔ (المعجم الکبیر ج۲۴،۳۲۴) جبکہ اس کے مصنف امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۳۶۰ھ میں ہے۔
(۳)الکامل لابن عدی رحمۃ اللہ علیہ:
الکامل کا نسخہ ۷۴۳ھ میں لکھا گیا، جبکہ امام ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ ۳۶۵ھ میں فوت ہوئے۔
(۴)السنن الکبری للبیہقی رحمۃ اللہ علیہ:
اس کا نسخہ ۸۸۳ھمیں لکھا گیا ہے (السنن الکبرٰی ج۱۰،ص۳۵۰) جبکہ اس کے مصنف امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ۴۵۸ھ میں ہے۔تو کیا علی زئی صاحب اپنے اصول کی روشنی میں ان کتب کو بھی من گھڑت وناقابل اعتبار کہیں گے؟ اگر معتبر کتب کو مسلکی حمایت میں ناقابل اعتبار قرار دینا ہی فرقہ ملحدیت کے متحقق صاحب کا محبوب مشغلہ ہے تو موصوف مذکورہ کتب کے بارے میں بھی اپنی رائے سے ضرور ا?گاہ کریں۔
اعتراض نمبر۳:
علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
اس کے راوی عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ہے۔ بغیر کسی دلیل کے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک مراد لینا غلط ہے۔ اس ابن مدرک سے محمد بن حارث القیروانی کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ یہاں عثمان بن محمد بن خشیش القیروانی کذاب مراد ہے۔ (ملخصاً: ماہنامہ الحدیث ص ۱۰ش نمبر۱۱ ،نور العینین ص ۲۰۶)
الجواب :
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ فرقہ غیرمقلدیت کے حضرات اپنے متحقق صاحب کو داد تحقیق دیں کہ موصوف ایک طرف تو کہہ رہے ہیں کہ عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں ملاقات کا ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے اس سے عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری مراد لینا غلط ہے، جبکہ دوسری طرف موصوف نے ملاقات کے ثبوت کے بغیر ہی اس سے عثمان بن محمد بن خشیش القیروانی مراد لے لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ملاقات کے ثبوت کے بغیر عثمان بن محمد القبری مرادلینا موصوف کے نزدیک غلط ہے تو ملاقات کے ثبوت کے بغیر عثمان بن محمد الخشیش مراد لینا اس کے نزدیک کیسے درست ہو گیا؟ نیز جب اس کے نزدیک عثمان بن محمدکا تعین ثابت ہی نہیں تو اس نے پھر اسے عثمان بن محمد الخشیش کیوں بناڈالا؟ اس نے یہ بلادلیل تعین کیوں کیا؟
ثانیاً۔۔۔۔خصوصاً فرقہ غیرمقلدیت کے متحقق کو معلوم ہونا چاہیے کہ اخبار الفقہاء والمحدثین کے مصنف امام ابوعبداللہ محمد بن حارث القیروانی رحمۃ اللہ علیہ نے بذات خود عثمان بن محمد کاتعین عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک القبری سے کر رکھا ہے۔ لہٰذا اس کا تعین دلیل سے ثابت ہے، اور اس سے عثمان بن محمد القبری ہی مراد ہے ثبوت ملاحظہ فرمائیں:
(۱)قال الامام الحافظ المحدث الفقیہ محمد بن حارث القیروانی: قال لی عثمان بن محمد القبری قال لی محمد بن غالب-85 الخ ’’(اخبار الفقہاء والمحدثین ص ۱۰۳)
(۲)وقال محمد بن حارث القیروانی : قال لی عثمان بن محمد القبری قال لی محمد بن غالب-85 الخ (ایضاً: ص ۱۰۵)
ثالثاً۔۔۔۔عثمان بن محمدالقبری رحمۃ اللہ علیہ سے محمد بن حارث القیروانی رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات بھی ثابت ہے، ثبوت ملاحظہ فرمائیں:
(۱)وقال محمد بن حارث : قال لی عثمان بن محمد القبری ۔۔۔۔ الخ (اخبار اللفقہاء والمحدثین ص ۱۰۳)
(۲)وقال محمد بن حارث القیروانی : قال لی عثمان بن محمد القبری ۔۔۔۔ الخ (ایضاً: ص ۱۰۵)
مزید دیکھئے: اخبار الفقہاء صفحہ ۷۸۔۹۷۔۱۲۲۔۱۶۲۔۹۰۔ ۱۲۲ : قضاۃ قرطبہ وعلماء افریقہ للقیروانی صفحہ ۱۴۔۱۰۳۔۱۵۳۔۱۵۔۵۵
اعتراض نمبر۴:
علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
عثمان بن سوادہ بن عباد کے حالات ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’کے علاوہ کسی کتاب میں نہیں ملے۔۔۔۔الخ۔ (ماہنامہ الحدیث ص ۱۱ش نمبر۱۱ نورالعینین ص ۲۰۷)
الجواب:
عثمان بن سوادہ کے حالات ‘‘ اخبار الفقہاء المحدثین’’ کے علاوہ ‘‘تاریخ علماء الاندلس لابن الفرضی رحمۃ اللہ علیہ’’ میں بھی مع توثیق موجود ہیں۔ چنانچہ اس میں لکھا ہے کہ:
قال محمد: قال لی عثمان بن محمد قال لی عبیدا? بن یحییٰ کان عثمان بن سوادۃ ثقۃ مقبولا عندالقضاۃ والحکام۔ وکان من اہل الزھد و العبادۃ وکثرۃ التلاوۃ ’’(تاریخ علماء الاندلس ج۱،ص۳۴۵برقم ۸۹۰)
قارئین کرام!علی زئی صاحب سے پوچھیں کہ کیا ان کے پاس سرمہ نہیں ہے؟ انہیں چاہیے کہ آنکھوں میں سرمہ بھی ڈالیں اور ماہر امراض چشم کے پاس بھی جائیں تاکہ انہیں عثمان بن سوادہ کے حالات نظر آسکیں۔
اعتراض نمبر۵:
علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
عثمان بن سوادہ کی حفص بن میسرہ سے ملاقات اور معاصرت ثابت نہیں ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص ۱۱ش نمبر۱۱ ،ونورالعینین ص ۲۰۷)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔امام عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ محدث عبید اللہ بن یحییٰ القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۹۸ھ کے استاذ اور محدث حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۱ھ کے شاگرد ہیں ، اور موصوف عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات تقریباً ۲۳۵ھ کے لگ بھگ ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ محدث حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ سے امام عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ کی ملاقات وسماع ممکن ہے، اور حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ سے مذکور عثمان کا سماع اور لقاء دونوں کا ممکن ہونا ہی علماء غیر مقلدین کے بقول اتصال سند کے لیے کافی ہے۔کیونکہ سند کے اتصال کے لیے راوی اور مروی عنہ کے درمیان امکان لقاء اور امکان سماع ہی ضروری ہے، ثبوت لقاء یا ثبوت سماع ضروری نہیں۔
چنانچہ غیر مقلد محمد گوندلوی لکھتا ہے کہ:
باقی رہا یہ اعتراض کہ مکحول کا سماع محمود سے ثابت نہیں عدم ثبوت صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ صحت حدیث کے لیے صرف استاد اور شاگرد کی ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہے عدم ثبوت سے نفی لازم نہیں آتی۔ (خیر الکلام ص ۱۶۷)
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
اور اصول حدیث کا یہ قاعدہ ہے کہ اتصال سند کے لیے امکان لقاء ہی کافی ہے جیسا کہ امام مسلم نے کہا ہے۔ (توضیح الکلام ج ۲۔ص۵۹۱)
غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں کہ:
اتصال سند کے لیے معاصرت شرط ہے اور معاصرت کا مطلب عند المحدثین یہ ہے کہ راوی اور مروی عنہ کے درمیان ملاقات ممکن ہو۔ (ابکارالمنن: ص ۱۴۵۔۱۴۶)
الغرض: جب امام عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان سماع اور ملاقات دونوں ممکن ہیں اور یہی اتصال سند اور صحت حدیث کے لیے علی زئی صاحب کے اکابرین کے بقول کافی ہے تو اب اگر حفص بن میسرہ رحمۃ اللہ علیہ سے عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ کے سماع اور لقاء کا ثبوت نہ بھی ہو تو تب بھی اس حدیث کی سند متصل اور صحیح ہے۔
مگر افسوس ہے کہ علی زئی صاحب نے محض ترک رفع یدین دشمنی میں اپنے بڑوں کی تحریرات سے بھی اعلان بغاوت کرتے ہوئے عدم ثبوت سماع کو حدیث کے موضوع ہونے کی دلیل بنا لیا ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔امام عثمان بن سوادہ بن عباد رحمۃ اللہ علیہ مدلس نہیں تھے(فیما اعلم) اور غیر مقلدین کے نزدیک جب راوی اور مروی عنہ کے درمیان ملاقات اور سماع ممکن ہو، اور راوی مدلس نہ ہو تو اس کا عنعنہ اتصال پر محمول ہو گا۔
چنانچہ غیر مقلدزبیر علی زئی صاحب ایک جگہ محمد بن عبداللہ الصفار کا ابواسماعیل السلمی سے سماع اور لقاء ثابت کرنے کے لیے فیض الرحمان ثوری غیر مقلد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
وہ مدلس نہیں تھے۔ لہٰذا ن کا عنعنہ اتصال پر محمول ہے۔ (نورالعینین ص ۱۲۰،۱۲۱) لہٰذا زبیر صاحب کے اصول کی روشنی میں ہم بھی بطور الزام کے کہتے ہیں کہ امام عثمان بن سوادہ رحمۃ اللہ علیہ مدلس نہیں تھے۔ لہٰذا انکاعنعنہ اتصال پر محمول ہے۔
اعتراض نمبر۶: وعلی زئی تضادنمبر ۲۴:
علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:
محمد بن حارث کی کتابوں میں ‘‘اخبار القضاۃ والمحدثین’’ کا نام تو ملتا ہے مگر ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’ کا نام نہیں ملتا۔ دیکھئے: الاکمال لابن ماکولا (ج۳،ص۲۶۱) الانساب للسمعانی (ج۲،ص۳۷۲) ہمارے اس دور کے معاصرین میں سے عمر رضا کحالہ نے ‘‘اخبار الفقہاء وا لمحدثین’’ کا ذکر کیا ہے، اسی طرح معاصر خیر الدین الزرکلی نے بھی اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ جدید دور کے یہ حوالے اس کی قطعی دلیل نہیں ہیں کہ یہ کتاب محمد بن حارث کی ہی ہے، قدیم علماء نے اس کتاب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (نورالعینین : ص ۲۰۸ و ماہنامہ الحدیث ص ۱۱ ش نمبر۱۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ حسب عادت معترض علی زئی صاحب اس مقام پر بھی دوغلی پالیسی سے کام لے رہے ہیں کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ:
یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ ثبوت ذکر کے بعد عدم ذکر سے نفی ذکر لازم نہیں ہے۔(نورالعینین ص ۱۴۰)
اور مذکورہ اعتراض میں آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ علی زئی صاحب کے بزعم قدیم علماء مثلاً امام ابن ماکولا رحمۃ اللہ علیہ م ۴۷۵ھ نے ‘‘الاکمال’’ میں اور امام ابوسعد السمعانی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۶۲ھنے ‘‘الانساب’’ میں مذکور کتاب ‘‘اخبار الفقہاء و المحدثین’’ کا ذکر نہیں کیا جو کہ عدم ذکر ہے، اور علامہ عمر رضا کحالہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۰۸ھ اور علامہ خیر الدین زرکلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۶ھنے اس کتاب کا ذکر کیا ہے جو کہ ثبوت ہے ، اگر بالفرض معاملہ یوں ہی ہوتا جیسا کہ علی زئی صاحب نے بیان کیا ہے تو بھی علی زئی کو اپنے ضابطہ کا خیال رکھتے ہوئے عدم ذکر سے نفی ذکر نہیں سمجھنا چاہیے تھا، مگر اس نے ترک رفع یدین دشمنی میں نفی ذکر سمجھ کر ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’ کا انکار کر دیا ہے جو کہ اس کی مسلکی حمایت میں واضح تضاد بیانی ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔امام ابوعبداللہ محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھ کی کتب میں درج ذیل قدیم علماء نے مذکور کتاب ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’ کا ذکر کیا ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام محمد بن فتوح الحمیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۸ھ:(جذوۃالمقبتس فی ذکر ولاۃ الاندلس : ج۱، ص۵۳)
(۲)۔۔۔۔ امام ابومحمد بن حزم الاندلسی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ:(فضائل الاندلس : ج۱،ص۱۷)
(۳) ۔۔۔۔ امام ابوعمر ابن عبدالبرالقرطبی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ: (جذوۃالمقتبس: ج۱،ص۷۱ رقم ۹۶)
(۴)۔۔۔۔امام ابوجعفر احمد بن یحییٰ الضبی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۹ھ:(بغیۃالملتمس: ج۱،ص۷۱ رقم ۹۶)
(۵)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ شھاب الدین الحموی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۶ھ:(معجم الادباء: ج۶ ص ۲۴۷۹)
لہٰذا علی زئی صاحب کا اعتراض غلط اور مردود ہے، بلاشک و شبہ ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’ امام محمد بن حارث القیروانی کی ہی کتاب ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔مذکورہ قدیم علماء کے علاوہ درج ذیل متاخر علماء نے بھی امام موصوف کی کتب میں ‘‘اخبار الفقہاء والمحدثین’’ کا ذکر کیا ہے۔
(۱)۔۔۔۔امام محمد بن عبداللہ المعروف بابن ناصر الدین م ۴۸۲ھ: (توضیح المشتبہ:ج۳،ص۱۱۷)
(۲)۔۔۔۔علامہ خیر الدین زرکلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۶ھ:(الاعلام : ج۶ص۷۵)
(۳)۔۔۔۔علامہ عمر بن رضا کحالہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۰۸ھ:(معجم المؤلفین: ج ۳،ص۲۰۴)
(۴)۔۔۔۔اسماعیل بن محمدا مین البابانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۹۹ھ:(ہدیۃ العارفین:ج۲،ص۳۸)
(۵)۔۔۔۔ شھاب الدین احمد بن محمد التلمسانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۴۱ھ:(نفح الطیب: ج ۳، ص ۱۷۴)
(۶)۔۔۔۔یوسف بن الیان بن موسیٰ سرکیس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۵۱ھ:(معجم المطبوعات:ج۲، ص۸۲۳)
(۷)۔۔۔۔دکتور احسان عباس رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۲۴ھ:(تاریخ الادب الاندلسی: ج۱ص۳۰۸)
(۸)۔۔۔۔علامہ محمد بن عبداللہ الکرخی رحمۃ اللہ علیہ: (کتاب تراث المغاربہ:ص۳۵)
اعتراض نمبر۷:
زبیر علی زئی صاحب امام قیروانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
یہ شاذروایتوں میں سے ہے۔ (اخبار الفقہاء والمحدثین ص ۲۱۴) (ماہنامہ الحدیث ص ۱۲ ش نمبر۱۱ ونورالعینین ص ۲۰۸)
الجواب:
عندالمحدثین شاذ کی دو تعریفیں ہیں۔
(۱)۔۔۔۔شاذایسی حدیث کو کہتے ہیں جسے نقل کرنے میں کوئی ثقہ راوی متفرد واکیلا ہو اور کوئی ثقہ راوی اس کی متابعت نہ کرے۔ (ملخصاً: معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:ص ۱۱۹، تدریب الراوی ص ۱۹۴۔۱۹۵،انوار المصابیح ص ۱۲۳)
ایسی شاذ حدیث صحیح و قابل حجت ہوتی ہے، کیونکہ یہ تفردمن الثقات کی قبیل سے ہے اورثقہ وصدوق راوی کا تفردائمہ محدثین کے نزدیک قابل قبول ہے۔حوالہ جات کے لیے درج ذیل مقامات ملاحظہ فرمائیں۔
۱۔۔۔۔الکفایہ فی علم الروایہ : ص ۴۲۴۔۴۲۵
۲۔۔۔۔المستدرک للحاکم: ج۱،ص۹۸۔۱۳۱
۳۔۔۔۔الاحکام فی اصول الاحکام:ج۲،۲۱۶۔۲۱۷
۴۔۔۔۔نزھۃ النظر شرخ نحبۃ الفکر: ص ۴۶
۵۔۔۔۔کتاب العلل الصغیر آخرالجامع: ص ۸۹۹
نیز بذات خود علی زئی نے بھی صراحت ر رکھی ہے کہ ‘‘اگر ثقہ راوی متفرد ہو تو یہ شاذ بھی مقبول ہوتی ہے’’۔ (ملخصاً: ماہنامہ الحدیث ص ۴۵ ش نمبر ۵۳ بحوالہ قرۃالعینین ص ۱۷۷)
(۲)۔۔۔۔شاذ ایسی حدیث کو بھی کہا جاتا ہے جس میں کوئی ثقہ راوی کئی ثقات راویوں کی مخالفت کرے۔ (ملخصاً معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ۱۱۹، تدریب الراوی ج۱، ص۱۹۳۔۱۹۴)ایسی شاذ حدیث ضعیف و مردود ہوتی ہے۔
مگر زیر بحث حدیث ابن عمررضی اللہ عنہ پر شاذ کی دوسری تعریف صادق نہیں آتی کیونکہ اس میں ثقہ راویوں کی مخالفت نہیں پائی جاتی، ہاں البتہ شاذ کی پہلی تعریف اس حدیث پر لفظاً صادق آتی ہے کیونکہ ان الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو نقل کرنے میں ثقہ راوی متفرد واکیلا ہے، اور شاذ کی اسی پہلی تعریف کے اعتبار سے ہی مذکور امام محمد بن عبداللہ القیروانی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۱ھنے اس حدیث کو شاذ کہا ہے، اور ماقبل میں عرض کیا جاچکا ہے کہ اس قسم کی شاذ حدیث صحیح وقابل حجت ہوتی ہے۔لہٰذا یہ حدیث بالکل صحیح ہے، اور اس پر علی زئی صاحب کے اعتراضات بالکل بوگس ، خلاف حقیقت اور مردود ہیں۔
اعتراض نمبر۸:
غلام مصطفی ظہیر امن پوری غیر مقلد نے لکھا کہ:
اس حدیث کو گھڑنے والا عثمان بن محمد بن یوسف ازدی قری ابو اصبغ ہے اس کے بارے میں حافظ ابو الولید ابن فرضی م۴۰۳ھلکھتے ہیں: وکان کذابا ۔یہ پرلے درجے کا جھوٹا تھا۔(تاریخ علماء الاندلس : ص۳۵۰)،(ماہنامہ السنہ)
الجواب:
استاذ محترم ذہبی زماں ،ثقہ وصدوق محقق علامہ عبدالغفار ذہبی حفظہ اللہ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
اولاً۔۔۔۔بالفرض اس حدیث کا راوی امام عثمان بن محمد بن یوسف ازدی قری قرطبی تسلیم کرلیں تب بھی وہ کذاب ثابت نہیں ہوتابلکہ عالم فقیہ اہل الاندلس واہل العنایۃ کے الفاظوں سے اس کی ثناء ومدح ثابت ہے ۔(تاریخ علماء الاندلس : ص۳۴۹،۳۵۰)
اورکان علمہ وقد الف کتابا فی فقہاء الاندلس واخذعنہ وقرئ علیہ کے الفاظ بھی ثابت ہیں۔(ایضاً:ص۳۵۰،رقم:۹۰۲)جو ان کی فقاہت فضیلت علم کو ثابت کرتے ہیں اوراصول میں ہے کہ راوی کی عدالت نیکی اورنیک شہرت سے ثابت ہوجاتی ہے ۔(الباعث الحثیث لابن کثیر: ص۰۳،واختصار فی علوم الحدیث مترجم از علی زئی)
ثانیاً۔۔۔۔امام ابن الفرضی رحمہ اللہ م۴۰۳ھسے پہلے امام الجرح والتعدیل خالد بن سعد ابو القاسم رحمہ اللہ م۳۵۲ھجو اہل مغرب میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی مانے جاتے تھے(سیر اعلام النبلاء :ج۱۲ص۱۳۷)اورامام محمد بن حارث الخشنی القیروانی رحمہ اللہ م۳۶۱ھجو امام الجرح والتعدیل ہیں نے امام عثمان بن محمد القری پر کوئی جرح وکلام نہیں کیا۔
ثالثاً۔۔۔۔امام فقیہ عالم محدث عثمان بن محمد القری الازدی کو کذاب کہنے کا مدار مجہول العین مجہول الاسم وغیر معروف راوی پر ہے جیسا کہ امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے اخبرنی بذاک تو فرمایا مگر اس کا نام ظاہر نہیں فرمایاکہ یہ کون ہے ؟اوراصول میں ہے کہ مجہول العین کی گواہی وروایت عند الجہور حجت نہیں۔(کما فی مقدمۃ مسلم للنووی : ص۱۷،وتدریب الراوی)
رابعاً۔۔۔۔امام ابن الفرضی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد القبری رحمہ اللہ م۳۲۰ھاورامام عثمان بن محمد القری الازدی رحمہ اللہ کا زمانہ نہیں پایا نہ ان سے لقاء ثابت نہ سماع ثابت ہے ۔یہ کان کذابا کی رام کہانی محض مجہول العین مجہول الاسم والعدالۃ راوی پر رکھی ہے کیونکہ امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کی پیدائش ۳۵۱ھاوروفات ۴۰۳ھہے کما فی کتب الرجال۔
خامساً۔۔۔۔اگر غلام مصطفی ظہیر صاحب میں دم خم ہے یا کسی اس کے حواری میں دم ہے تو امام ابن الفرضی رحمہ اللہ کو خبر دینے والے کو معروف الاسم والعدالۃ والثقۃ عند الجمہور ثابت کردے تو ہم ظہیر صاحب کو ۔۔۔۔۔(ابو اصبغ قری کو کذاب کہنے میں سچا تسلیم کرلیں گے،ن)۔
سادساً۔۔۔۔اگر کوئی کہے کہ وہ راوی امام ابن فرضی رحمہ اللہ کے نزدیک ثقہ ہے جیسا کہ اخبرنی بذالک من اثق بہ کی تصریح کی ہے ۔(تاریخ علماء الاندلس : ص۳۵۰)تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جب چوٹی کے امام حافظ ناقد جیسے امام شعبہ رحمہ اللہ م۱۶۰ھ،امام سفیان ثوری رحمہ اللہ م۱۶۱ھ،امام وکیع بن جراح رحمہ اللہ م۱۹۷ھکی تعدیل وتوثیق معروف الاسم راوی جابر بن یزید جعفی کے متعلق قابل قبول نہیں حالانکہ انہوں نے ما رأیت اورع فی الحدیث منہ ۔صدوق فی الحدیث اوثق الناس اصدق الناس ۔۔۔۔الخ۔کے الفاظ سے تعدیل وتوثیق کی ہے ۔(تہذیب التہذیب :ج۱ص۳۵۲،۳۵۳)لیکن یہ عندالجمہور کذاب وضعیف ہے اوران کی تعدیل وتوثیق مردود وغیر مقبول ہے تو پھر اکیلے امام ابن فرضی رحمہ اللہ کی غیر معروف مجہول الاسم ومجہول العین راوی کی توثیق کیسے قابل قبول ہوسکتی ہے ۔(ماخوذ ازایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ : ص۳،۴قلمی مضمون)
اعتراض نمبر۹:
جناب غلام مصطفی ظہیر نے لکھا کہ بعض لوگوں کا اسے عٹمان بن محمد بن احمد بن مدرک قرار دینا نری جہالت ہے کیونکہ اس عثمان بن محمد کے بارے میں خود صاحب کتاب نے قری کہہ کر تعین کردیا ہے ۔(دیکھئے: ص۱۰۳،۱۰۵(ماہنامہ السنہ)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ نے امام عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک رحمہ اللہ کا اسی کتاب میں باقاعدہ ترجمہ بیان کیا ہے۔ اور ان کی ثناء ومدح یعنی تعدیل وتوثیق بھی بیان فرمائی ہے اوران کا سن وفات ۳۲۰ھجزماً بیان فرمایاہے دیکھئے اخبار الفقہاء (ص۲۱۵رقم:۳۸۱)اوربتصریح امام مسلم رحمہ اللہ جمہور کا مذہب واصول ہے کہ معاصرت وامکان لقاء سے اتصال ثابت ہوجاتا ہے (دیکھئے مقدمہ مسلم)امام محمد بن حارث رحمہ اللہ کا ان کا ترجمہ ووفات کاذکر کرنا دلیل ہے کہ یہ ان کے استا د ہیں۔
ثانیاً۔۔۔۔امام محمد بن حارث رحمہ اللہ نے عثمان بن محمد رحمہ اللہ کو من اہل قبرۃ قرار دیا اور امام ابن یونس رحمہ اللہ ،امام ابن ماکولا رحمہ اللہ نے ان کو قبری قرار دیا ہے کمامر۔اوریہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر القبری میں ب کا نقطہ گرجائے تو وہ القری بن جاتا ہے اوریہ جہالت نہیں بلکہ قرائن صحیحہ سے امام عثمان بن محمد القبری ہی ہے ۔
اعتراض نمبر۱۰:
غلام مصطفی صاحب نے لکھا کہ لیکن علم وعقل سے عاری لوگوں نے اسے قری کی بجائے قبری باور کرایا حالانکہ عثمان بن محمد بن یوسف قری کے اساتذہ میں عبیداللہ بن یحییٰ موجود ہے ۔(تاریخ علماء الاندلس: ص۳۴۹)یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس سند میں قری راوی ہے نہ کہ قبری اور وہ ہے عثمان بن محمد بن یوسف کذاب۔(ماہنامہ السنہ)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔جناب غلام مصطفی ظہیر صاحب امام عبیداللہ بن یحییٰ کو عٹمان بن محمد القری کا استاد ثابت کرنا ہی غلط اورخطاء ہے کیونکہ یہ بات امام ابن فرضی رحمہ اللہ کی ہے تو ان کا عثمان بن محمد قری سے سماع لقاء ثابت(وممکن۔ن)نہیں اوراگر مجہول راوی کی خبر پر مدار ہے تو تو یہ بوجہ جہالت ثابت نہیں ہوتااوراس میں بھی کان یزعم کے الفاظ ہیں محض گمان سے استاد کی تعدیل ثابت نہیں ہوتی۔یہاں تو آپ الزام کس کو دیا مگر قصور اپنا نکل آیاکیا علم وعقل اسی کا نام ہے ۔فتدبر
ثانیاً۔۔۔۔امام محمد بن حارث قیروانی رحمہ اللہ م۳۶۱ھکا سماع امام عثمان بن محمد القبری رحمہ اللہ م۳۲۰ھسے یقینی ہے کیونکہ معاصرت وامکان لقاء ثابت ہے بلکہ سماع وتحدیث کی تصریحات موجود ہیں لیکن عثمان بن محمد بن یوسف القری کی پیدائش ووفات نامعلوم ہے اوراسی طرح امام عبیداللہ بن یحییٰ اللیثی رحمہ اللہ م۲۹۸ھسے امام عثمان بن محمد القبری م۳۲۰ھکا سماع ولقامعاصرت وامکان لقاء کی وجہ سے یقینی ہے میں کہتا ہوں امام عثمان بن محمد القبری رحمہ اللہ پر پابندی ہے کہ وہ امام عبیداللہ بن یحییٰ سے سماع حدیث نہیں کرسکتا لہٰذا عثمان بن محمد القری کے اساتذہ میں امام عبیداللہ بن یحییٰ کو متعین کرنا مجہول الاسم والعدالۃ راوی سے جو تحقیقی وحقیقی واصولی لحاظ سے قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔قتدبر
تنبیہ: جناب غلام مصطفی صاحب آپ ناراض نہ ہونا کیونکہ غیر مقلد۔۔۔۔۔۔۔ہوتے ہیں مثلاً آپ نے لکھا کہ علم وعقل سے عاری لوگوں نے اسے قری کی بجائے قبری باور کرایا۔کیا ہم آپ سے پوچھ سکتے ہیں کہ آپ کے استاد علی زئی صاحب نے عثمان بن محمد القبری کی بجائے بلا دلیل آپ کی طرح عثمان بن محمد بن خشیش قیروانی متعین کیا تھا وہ بھی ان پاکیزہ الفاظوں یعنی علم وعقل سے عاوی لوگوں کا مصداق ہے یا نہیں؟اوریاد رہے امام عثمان بن محمد یوسف القری رحمہ اللہ بھی کذاب نہیں ،آپ اور آپ کے ۔۔۔۔۔۔عالم ان کو کذاب کہنے والے امام ابن فرضی رحمہ اللہ کے استاد کو جو مجہول العین مجہول الاسم والعدالۃ ہے کو معروف الاسم ثقہ عندالجمہور ثابت کردیں تو ہم ۔۔۔۔۔۔۔عثمان بن محمد بن یوسف القری کو کذاب تسلیم کرلیں گے۔ن)۔
(ماخوذ از:ایک نئی کاوش کا تحقیقی جائزہ : ص۱۱،۱۲قلمی مضمون علامہ ذہبی مدظلہ)
الحاصل:سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماکی احادیث پر فریق مخالف کے متحققین نے جو ازراہ تعصب اعتراضات کیے ہیں وہ سب خلاف حقیقت ہیں اور ان کا باطل ہونا ہم نے بحمداللہ ناقابل تردید دلائل سے ثابت کر دیا ہے۔ لہٰذا یہ احادیث بلاشک و شبہ صحیح و قابل عمل ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ وعلی من اتبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں