نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 : احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما تحقیق کے آئینے میں

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

 

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 : 

احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ   بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما   تحقیق کے آئینے میں


(۱) حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ التمہید لابن عبدالبر

قال الامام ابوعمر یوسف بن عبداللہ بن محمد ابن عبدالبرالنمری القرطبی: وحجتھم ایضاً، مارواہ نعیم المبحمر وابوجعفر القاری عن ابی ہریرۃ: انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلاۃ ویکبر کلما خفض ورفع ویقول: انا اشبھکم صلاۃ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (التمہید لمافی المؤطا من المعانی والا سانید ج۵،ص۵۸)

ترجمہ:امام ابو عمر بن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اسی طرح ترک رفع یدین کے قائلین کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے نعیم المبحمر اور ابوجعفر القارئ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ہی رفع یدین کرتے (اور بقیہ) جھکنے واٹھنے کے وقت صرف تکبیر ہی کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں تم میں سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں۔

فائدہ:

 اس مرفوع روایت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رفع یدین کرتے تھے، اور بقیہ مقامات پر صرف تکبیر کہتے تھے۔ 

زبیر علی زئی غیر مقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں رہے، لہٰذا آپ نماز وغیرہ کے جو مسائل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں وہ آخری اور ناسخ ہیں۔ (نور العینین :ص ۳۲۸) لہٰذا ثابت ہوا کہ بضابطہ علی زئی اختلافی رفع یدین منسوخ ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکور حدیث ناسخ ہے۔

رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۱۱:

رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ: 

ہم کہتے ہیں کہ فرقہ دیوبندیہ نے اس حدیث کی پوری سند نقل نہیں کی بایں ہمہ اس حدیث میں اس کا اشارہ تک نہیں کہ تحریمہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی موقع پر رفع یدین نہیں کرتے تھے ، یہ فرقہ دیوبندیہ کے اکاذیب میں سے ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۸۵)

الجواب:

اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ حافظ حبیب الرحمان اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ‘‘التمہید لمافی المؤطامن المعانی والاسانید’’ سے نقل کیا ہے، اور ‘‘التمہید’’ کے مذکور صفحہ پر خود امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سند کے ابتدائی حصہ کو اختصارًا حذف کر دیاہے۔ (دیکھئے: ج۵ص۵۸ و مجموعہ مقالات ج۳، ص ۵۳) لہٰذا حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سند نقل کرنے میں کسی قسم کی خیانت نہیں کی بلکہ ‘‘التمہید’’ کے مذکور صفحہ پر اس حدیث کی جتنی سند موجود تھی، حافظ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے نہایت دیانتداری کے ساتھ اتنی ہی نقل کر دی۔

ثانیاً۔۔۔۔اگر حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے مذکور کتاب میں اس حدیث کی سند کے ابتدائی حصے کو حذف کر دیا ہے تو پھر کیا ہوا دیگر کتب حدیث میں تو اس کی صحیح و متصل سند مذکور ہے، کیا رئیس ندوی صاحب پوری سند معلوم کرنے کے لیے دیگر کتب حدیث کی طرف مراجعت کرنے سے بھی قاصر تھے؟ چلوندوی صاحب کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم،

 علماء اہلسنت، ائمہ محدثین و فقہاء امت پر جھوٹے الزامات لگانے سے ہی فرصت نہیں ملتی تو ہم اتمام حجت کے طور پر اس حدیث کی مکمل سندیں نقل کر دیتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

(۱)‘‘ اخبرنا مالک اخبرنی نعیم المجمر وابوجعفر القارئ ان ابا ھریرۃ کان یصلی بھم فکبر کلما خفص ورفع قال ابوجعفر وکان یرفع یدیہ حین یکبر ویفتح الصلٰوۃ ’’ (مؤطا امام محمد:ص۸۸)

(۲)‘‘ حدثنا ابومصعب قال حدثنا مالک عن نعیم بن المجمروابی جعفر القارئ انھما اخبراہ ان اباھریرۃ کان یصلی لھم فیکبر کلما خفص ورفع وکان یرفع یدیہ حین یکبر یفتتح الصلوٰۃ ’’(مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزھری: ج۱،ص۸۱ برقم ۲۰۸)

لیجیئے جناب: ہم نے ثقہ و صدوق راویوں سے مروی اس حدیث کی دو صحیح و متصل سندیں مع متون پیش کر دی ہیں، اب دیکھتے ہیں کہ رئیس ندوی پارٹی اس حدیث پر عمل کرنے کے لیے کتنا آگے بڑھتی ہے، یا حسب عادت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور محسنین امت پر سب و شتم کرنے میں ہی مصروف رہتی ہے۔

ثالثاً۔۔۔۔ندوی صاحب کو صرف و نحو بھی نہیں آتی جس کی وجہ سے موصوف ایسی عظیم غلطی کا ارتکاب کر رہے ہیں، یا عنادًا ایسا کر رہے ہیں۔ وگرنہ اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کی وجہ بالکل واضح ہے کہ اس حدیث میں ‘‘کان یرفع یدیہ’’ جزاء مقدم ہے اور‘‘ اذا افتتح الصلوٰۃ ’’ شرط مؤخر ہے، اور علم نحو کا مشہور ضابطہ ہے ‘‘ التقدیم ماحقہ التاخیریفیدالحصر’’ اس سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں نماز کے شروع والی رفع یدین کا حصر ہے، اور حصرنفی کو مستلزم ہوتا ہے، جس سے اس حدیث کا مطلب واضح ہو گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ اور اس حدیث کے اس مطلب کی تائید سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگر ابوجعفر القاری کے الفاظ ‘‘کان یرفع یدیہ حین یکبر و یفتتح الصلٰوۃ ’’ کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رفع یدین صرف اسی وقت ہی کرتے جب پہلی تکبیر کہتے ہوئے نماز شروع کرتے (مؤطا امام محمد: ص۱۸۸) کر رہے ہیں۔ مزید یہ کہ بسند صحیح ثابت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں بالکل ویسے ہی نماز پڑھتے تھے جیسا کہ (ثقہ بالاجماع تابعی) امام قیس بن ابی حازم رحمۃ اللہ علیہ پڑھتے تھے۔ (ملخصاً: مسند احمد برقم ۱۰۴۴۳۔ ۹۶۳۷، مسند ابی یعلی الموصلی برقم ۶۴۲۲ ،مصنف ابن ابی شیبہ برقم ۴۷۰۳) اور یہ بات بھی بسند صحیح ثابت ہے کہ امام قیس بن ابی حارم رحمۃ اللہ علیہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (ملخصاً: مصنف ابن ابی شیبہ برقم : ۲۴۶۴) اس سے بھی واضح ہو گیا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

رابعاً۔۔۔۔مذکورہ بالا حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی اس ترک رفع یدین والی نماز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مشابہ قرار دے رہے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں: ‘‘ انااشبھکم صلاۃبرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ کہ میں تم میں سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ مشابہت رکھتا ہوں۔ اور یہ بات تو عام طلباء بھی جانتے ہیں کہ جب صحابی کسی عمل کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دے تو وہ حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔ جس سے ثابت ہوا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث اس بات پر بھی دال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ نیز جلیل القدر ثقہ بالا جماع محدث و فقیہ امام محمدبن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے (مؤطا محمد: ص۸۸) لہٰذا علماء اہلسنت کا اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال بلاغبار صحیح ہے۔

قارئین:ہماری مذکورہ بالا بحث کو ذہن نشین فرما لینے کے بعد اب ذرا ماقبل میں نقل کی جانے والی فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق رئیس ندوی صاحب کی فضول بڑھ بھی سنیئے موصوف کہتے ہیں کہ:

 اس حدیث میں اشارہ تک نہیں کہ تحریمہ کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی موقع پر رفع یدین نہیں کرتے تھے، یہ فرقہ دیوبندیہ کے اکاذیب میں سے ہے۔(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۸۵)

اور اندازہ لگائیے کہ فرقہ غیر مقلدین کے متحققین کس قدر بے شرم و بے حیاء ہیں کہ احادیث پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کو تو انہوں نے کیا ہی ماننا اور سمجھنا الٹا اپنے جھوٹوں کو چھپانے اور اپنی بے شرمیوں اور جہالتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے متبعین حدیث وفہم حدیث رکھنے والے علماء اہلسنت پر جھوٹے الزام لگانے سے بھی باز نہیں آتے۔

۲۔ حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ سنن ابی داؤد

‘‘حدثنا مسدد حدثنا یحییٰ عن ابن ابی ذئب عن سعید بن سمعان عن ابی ہریرۃ : قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذادخل فی الصلٰوۃ رفع یدیہ مدًا ’’ (سنن ابی داؤد :ج۱،ص۱۱۰)

ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف جب نماز میں داخل ہوتے تو ہی خوب اٹھا کر رفع یدین کرتے۔

فائدہ:

امام ابن اثیر الجزری رحمۃ اللہ علیہ م ۶۰۶؁ھ اور علامہ محمد بن محمدا لسوسی المغربی المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۹۴؁ھ نے اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے۔ (ملخصاً: جامع الاصول ج۵،۳۰۳ برقم ۳۳۸۵، جمع الفوائد ج۱،ص۲۲۲ برقم ۱۳۳۵) اسی طرح امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۵؁ھ نے اس حدیث کو باب ‘‘ من لم یذکرالرفع عندالرکوع ’’ کے تحت ذکر کر کے تکبیر تحریمہ کے علاوہ رکوع وغیرہ کے وقت ترک رفع یدین پر اس سے استدلال کیا ہے۔ وجہ استدلال یہ ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین اور اس کی کیفیت کو بیان کر رہے ہیں اور صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی ہاتھوں کے اٹھانے کا ذکر کیا اگر دیگر تکبیروں کے وقت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھوں کو اٹھاتے تو اس کا ذکر بھی ضرور کرتے۔ نیز یہ حدیث متعدد کتب میں مختلف سندوں کے ساتھ موجود ہے جن میں کچھ سندیں ضعیف کچھ صحیح اور کچھ حسن درجہ کی ہیں۔ الغرض فی نفسہ یہ حدیث بالکل صحیح و ثابت ہے۔

چنانچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹؁ھ نے ‘‘وھواصح’’ اور ‘‘ھذااصح’’ لکھ کر اسے دو مرتبہ صحیح ترین قرار دیا ہے، (سنن ترمذی : ج۱،ص۴۱۸) 

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵؁ھ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸؁ھ نے بھی ان کی موافقت فرما رکھی ہے، (المستدرک مع التعلیق : ج۱ص ۳۴۵) قاضی شوکانی غیر مقلد لکھتا ہے کہ :

‘‘الحدیث لامطعن فی اسنادہ’’ اس کی سند میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ (نیل الاوطار: ج۲،ص۶۵بحوالہ نوارالصباح ج۱،ص۷۴) 

غیر مقلدنا صر الدین البانی نے اس حدیث کی مختلف اسناد نقل کر کے ‘‘ھذا اسناد صحیح، رجالہ ثقات۔۔۔۔الخ’’ اور ‘‘ھذا اسناد صحیح علی شرط الشیخین’’ قرار دے کر ان کی 

زبردست تصحیح کی ہے۔ (دیکھئے: صحیح سنن ابی داود، ج۳،ص۳۴۱)

۱۔حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بحوالہ المعجم الکبیر للطبرانی

‘‘ حدثنا احمد بن شعیب ابوعبدالرحمان النسائی انا عمروبن یزید ابویزید الجرمی ثنا سیف بن عبداللہ ثنا ورقاء عن عطاء بن السائب عن سعید بن جبیر عن ابن عباس: ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال السجود علٰی سبعۃاعضاء: الیدین، والقدمین، والرکبتین، والجبھۃ ، ورفع الایدی اذارایت البیت وعلی الصفاوالمروۃ وبعرفۃ عندرمی الجمار، واذااقیمت الصلٰوۃ ’’

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ سات اعضاء پر ہوتاہے۔ دونوں ہاتھ ، دونوں پیر، دونوں گھٹنے اور پیشانی پر اور رفع یدین ان موقعوں پر ہوتا ہے۔ جب بیت اللہ دیکھے، اور صفا و مروہ پر، عرفہ میں (وقوف کے وقت) رمی جمار کے وقت ، اورجب نماز شروع کی جائے۔( المعجم الکبیر للطبرانی: ج۱۱ص۴۵۲برقم ۱۲۲۸۲ )

﴿سند کی تحقیق﴾

اس حدیث کی سند کے راویوں کا مختصر ساتذکرہ ملاحظہ فرمائیں:

(۱)۔۔۔۔ابوعبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳؁ھ : ‘‘ الامام الحافظ الثبت شیخ الاسلام ناقدالحدیث ’’ (سیراعلام النبلاء: ج۱۱،ص۷۹ برقم ۲۵۸۶)

(۲)۔۔۔۔ابویزید عمرو بن یزید الجرمی رحمۃ اللہ علیہ : ‘‘ صدوق ’’ (الجرح والتعدیل برقم ۱۴۹۲، تقریب برقم ۵۱۴۱)

(۳)۔۔۔۔ابوالحسن سیف بن عبیداللہ الجرمی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۰۱؁ھ: ‘‘ ثقۃ صالح ’’ (الکاشف: ج۱،ص۴۷۶ برقم ۲۲۲۳)

(۴)۔۔۔۔ابوبشرورقاء بن عمر الیشکری الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل: ج۹،ص۵۱ برقم ۲۱۶)

(۵)۔۔۔۔عطاء بن السائب رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۶؁ھ: ‘‘ ثقۃ ثقۃ رجل صالح ’’ (ایضاً: ج۶ص۳۳۴ برقم۱۸۴۸)

(۶)۔۔۔۔ابوعبداللہ سعید بن جبیر الاسدی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۵؁ھ : ‘‘ ثقۃ ثبت فقیہ ’’ (تقریب برقم ۲۲۷۲)

(۷)۔۔۔۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما : ‘‘ احد المکثرین من الصحابۃ واحد العبادلۃ من فقھاء الصحابۃ ’’(تقریب: ج۱،ص۳۰۹ ، برقم ۳۴۰۹)

خلاصۃالتحقیق:

 اس تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی فی نفسہ ثقہ وصدوق ہیں اور اس کی سند بالکل صحیح ہے۔

اعتراض نمبر۱: ورئیس ندوی جھوٹ نمبر۱۲،۱۳:

رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:

 اس کی سند میں واقع ورقاء بن عمر ابوبشر کو فی یشکری آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے ، اور یہ معلوم نہیں کہ ان سے اسے روایت کرنے والے سیف بن عبید اللہ اختلاط سے پہلے روایت کرنے والے ہیں یا بعد میں؟ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص۲۶۹)

الجواب :

اولاً۔۔۔۔تو عرض ہے کہ معترض رئیس ندوی صاحب ہی لکھتے ہیں کہ:

‘‘صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی پر اگر کسی قسم کا کلام بھی وارد ہوا ہے تو وہ بقول راجح مدفوع اور کالعدم ہے’’۔ (اللمحات: ج۲،ص۱۳ ،ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ بنارس)

اس اقتباس میں ندوی صاحب بخاری و مسلم کے راویوں پر جرح کو کالعدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف دوغلی پالیسی سے کام لیتے ہوئے مذکور اعتراض میں ترک رفع یدین دشمنی میں ‘‘صحیح بخاری صحیح مسلم و سنن اربعہ’’ کے ثقہ بالاجماع راوی ‘‘ابوبشر ورقاء بن عمرالیشکری الخوارزمی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ’’ پر جرحی نشتر چلا رہے ہیں جو کہ ندوی صاحب کی مسلکی حمایت میں واضح دوغلی پالیسی ہے، اور ندوی صاحب کے بقول ہی دوغلی پالیسی وتضاد، کذب بیانی ہے۔ (کمامر) 

ثانیاً۔۔۔۔ابوبشر و رقاء بن عمر الیشکری الخوازمی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ کے مختلط ہونے پر ندوی صاحب نے کوئی حوالہ پیش نہیں کیا، اور ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیرعلی زئی غیر مقلد کے بقول ‘‘مخالف کی بے حوالہ و سنی سنائی جرح مرود ہوتی ہے۔ بے حوالہ بات مردود و باطل ہے’’ (ماہنامہ الحدیث ص ۲۴ ش نمبر۹۰ و ص ۱۵ ش نمبر۳۶) بلکہ ندوی صاحب کا یہ کہنا کہ ‘‘ورقاء بن عمرابوبشر کوفی یشکری آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے’’ بضابطہ غیر مقلدیت بالکل جھوٹ ہے۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک محدث نے بھی ورقاء کو مختلط نہیں کہا، ہمیں جتنی بھی کتب رجال میں اس کا ترجمہ ملاہے، ان میں سے کسی ایک کتاب میں بھی اسے مختلط نہیں کہا گیا مثلاً دیکھئے:

(۱)۔۔۔۔تاریخ ابن معین : ج۱،ص۸۲

(۲)۔۔۔۔الجرح والتعدیل للرازی :ج۹،ص۵۱ ،برقم۲۱۶

(۳)۔۔۔۔الثقات لابن حبان:ج۷،ص۵۶۵ ،برقم۱۱۴۹۴

(۴)۔۔۔۔الوافی بالوفیات:ج۲۷،ص۲۵۶ ،برقم۳

(۵)۔۔۔۔تقریب التہذیب:ص۶۱۰ ،برقم۷۴۰۳

(۶)۔۔۔۔الرواۃ الثقات المتکلم للذھبی:ج۱،ص۱۸۲

(۷)۔۔۔۔الکاشف :ج۲،ص۳۴۸ ،برقم۶۰۶۴

(۸)۔۔۔۔المغنی فی الضعفاء:ج۲،ص۷۱۹ ،برقم۶۸۳۱

(۹)۔۔۔۔تاریخ الاسلام للذھبی:ج۴،ص۵۳۶ ،برقم۴۲۱

(۱۰)۔۔۔۔تذکرہ الحفاظ:ج۱،ص۱۶۹ ،برقم۲۱۵

(۱۱)۔۔۔۔دیوان الضعفاء :ج۱،ص۴۲۴،برقم ۴۵۲۹

(۱۲)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء :ج۷،ص۹۰ ،برقم۱۱۵۸

(۱۳)۔۔۔۔ذکر اسماء من تکلم فیہ فھوموثق:ج۱،ص۱۸۹ ،برقم۳۶۰

(۱۴)۔۔۔۔میزان الاعتدال:ج۴،ص۳۳۲ ،برقم ۹۳۴۰

(۱۵)۔۔۔۔مشاہیر علماء الامصار:ج۱،ص۲۷۷ ،برقم۱۳۹۰

(۱۶)۔۔۔۔الکامل لابن عدی :ج۸،ص۳۷۸ ،برقم۲۰۱۴

(۱۷)۔۔۔۔الھدایۃ والارشاد:ج۲،ص۷۶۵ ،برقم۱۲۸۵

(۱۸)۔۔۔۔رجال صحیح مسلم لابن منجویہ:ج۲،ص۳۱۰،برقم۱۷۶۸

(۱۹)۔۔۔۔تاریخ بغداد:ج۱۳،ص۴۸۹ ،برقم۷۳۳۶

(۲۰)۔۔۔۔التعدیل والتجریح:ج۳،ص۱۱۹۹ ،برقم۱۴۴۴

(۲۱)۔۔۔۔تہذیب الکمال:ج۳۰،ص۴۳۳ ،برقم۶۶۸۴

(۲۲)۔۔۔۔اکمال تہذیب الکمال:ج۱۲،ص۲۱۲ ،برقم۵۰۱۸

(۲۳)۔۔۔۔التکمیل فی الجرح والتعدیل:ج۲،ص۷۲ ،برقم۹۷۶

(۲۴)۔۔۔۔غایۃ النھایۃ فی طبقات القراء :ج۲،ص۳۵۸،برقم۳۷۹۹

(۲۵)۔۔۔۔مختصر الکامل :ج۱،ص۷۷۸ ،برقم ۲۰۱۴

(۲۶)۔۔۔۔لسان المیزان :ج۷،ص۴۲۴ ،برقم۵۷۴۷

(۲۷)۔۔۔۔مغانی الاخیار:ج۳،ص۱۵۳ ،برقم۲۵۰۰

(۲۸)۔۔۔۔بحرالدم فیمن تکلم فیہ الامام احمد:ج۱،ص۱۶۷ ،برقم۱۱۲۳

(۲۹)۔۔۔۔طبقات الحفاظ للسیوطی:ج۱،ص۱۰۴ ،برقم۲۰۵

(۳۰)۔۔۔۔تہذیب التھذیب:ج۶،ص۷۱۱،برقم۸۶۸۸

الغرض: مذکور راوی ابوبشر و رقاء بن عمریشکری رحمۃ اللہ علیہ کا عارضہ اختلاط میں مبتلا ہونا ثابت نہیں۔

اعترض نمبر۲:

غیر مقلدرئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:

جہاں تک اس کی سند کا معاملہ ہے وہ اس کے پہلے والی حدیث (یعنی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ من طریق ابن ابی لیلیٰ۔ ن) کی سند سے بہرحال قوی ہے مگر عطاء بن السائب مختلط و متغیر ہو گئے تھے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ : ص ۵۸۳)

ندوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:

ورقاء نے اسے عطاء بن السائب مختلط سے روایت کیا ہے، لہٰذا بااعتبار سند یہ روایت ساقط الاعتبار ہے۔ (ایضاً:۲۶۹)

الجواب :

اولاً۔۔۔۔مذکورراوی عطاء بن السائب رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ آخری عمر میں عارضہ اختلاط میں مبتلا ہو گئے تھے، لیکن وہ اتنے مختلط نہیں ہوئے تھے کہ ان کی احادیث بالکلیہ ساقط الاعتبار قرار پائیں۔ چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ لکھتے ہیں کہ:

‘‘ وکان اختلط بآخرۃ ولم یفحش حتی یستحق ان یعدل بہ عن مسلک العدول ’’

عطاء بن السائب رحمۃ اللہ علیہ اگرچہ آخر عمر میں عارضہ اختلاط میں مبتلا ہو گئے تھے (لیکن) وہ اتنے فاحش اور زیادہ مختلط نہیں ہوئے کہ وہ اختلاط کی وجہ سے عادل اور ثقہ راویوں کی راہ سے تجاوز کر جائیں۔ (تہذیب التہذیب: ج۴،ص۱۳۱)

امام ابوالحسن نورالدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷؁ھ ایک حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:

‘‘ وفیہ عطاء بن السائب وفیہ کلام وھوحسن الحدیث ’’ ا

س روایت میں عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ ہیں اگرچہ (اختلاط کی وجہ سے) ان میں کلام ہے، لیکن (پھر بھی) ان کی حدیث حسن ہے۔ (مجمع الزوائد: ج۳،ص۳۵ برقم ۴۱۷۶)

حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸؁ھان کے بارے میں فرماتے ہیں: 

 ‘‘ تابعی مشہور حسن الحدیث ’’ 

کہ یہ مشہور تابعی اور حسن الحدیث راوی ہیں۔ (المغنی فی الضعفاء : ج۲ص۵۹)

امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵؁ھ نے عطاء رحمۃ اللہ علیہ کی متعدد روایات جنہیں ان سے جریربن عبدالحمید رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کو ‘‘صحیح الاسناد’’ کہا ہے۔ اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸؁ھنے بھی ان کی موافقت کر رکھی ہے۔ (مثلاً دیکھئے المستدرک مع التلخیص: ج۱،ص۳۴۷ برقم ۸۱۶ ج۱، ص ۱۱۳ برقم ۲۴۹۹ ج۲، ص۳۱۹ برقم ۳۱۵۰، ج۲،۳۳۱، برقم ۳۱۸۴، ج۲،۳۴۸، برقم ۳۲۳۹ ج۲،ص۳۵۲، برقم ۳۲۵۳) حالانکہ جریر کا عطاء سے سماع بعد الاختلاط ہے۔ (دیکھئے: تدریب الراوی: ج۲ص۴۲۳)

اس سے معلوم ہوا کہ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ، اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عطاء بن السائب اختلاط کے بعد بھی صحیح الحدیث ہیں۔

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱؁ھ نے بھی عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ کو ‘‘مقدمہ مسلم’’ میں اْن قابل اعتماد اور طبقہ ثانی کے راویوں میں شمار کیا ہے کہ جن سے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں روایات لی ہیں۔ (دیکھئے مقدمہ مسلم: ص ۳)

اسی طرح امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷؁ھ کے نزدیک بھی عطاء قابل اعتماد راوی ہیں ، چنانچہ انہوں نے ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ، حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ، اور عطاء-04 بن سائب رحمۃ اللہ علیہ کو برابر قرار دیا ہے، اور ان کے بارے میں فرمایا ہے:‘‘ محلھم محل الصدق یکتب حدیثھم ولایحتج بھم ’’ یہ تینوں سچے راوی ہیں، اور ان کی حدیث لکھی جاتی ہے، البتہ ان سے حجت نہیں پکڑی جاتی۔ (الجرح والتعدیل: ج۱،ص۱۳۳)

غیر مقلدارشاد الحق اثری صاحب اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

‘‘لایحتج’’ کے الفاظ راوی کے صدوق ہونے کے منافی نہیں۔ (توضیح الکلام: ج۱، ص۲۳۰)

 نیز لکھتے ہیں:

 خلاصۃ المرام راوی کا (ابوحاتم کے نزدیک) ‘‘لیس بحجۃ’’ ہونا اس کے صدوق بلکہ ثقہ ہونے کے منافی نہیں۔ (توضیح الکلام : ج۱،ص ۲۳۰)

 اور چونکہ امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے عطاء بن سائب کے بارے میں ‘‘محل الصدق’’ اور ‘‘یکتب حدیثہ’’ فرمایا ہے جو علماء غیر مقلدین کے بقول الفاظ تعدیل میں سے ہیں لہٰذا امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ کا ان کے بارے میں ‘‘لایحتج’’ فرمانا اثری صاحب کے بقول مضر نہیں ا ور یہ عطاء رحمۃ اللہ علیہ کے ثقہ اور صدوق ہونے کے منافی نہیں ہے۔

مزید لطف کی بات یہ ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶؁ھ کے نزدیک بھی عطاء رحمۃ اللہ علیہ کی متابعت والی حدیث صحیح ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی صحیح میں عطاء کی ایک متابعت والی روایت ذکر فرمائی ہے حالانکہ اس روایت کو عطاء سے نقل کرنے والے ہشیم راوی ہیں (دیکھئے: صحیح البخاری ج۲،ص۹۷۴) جن کا عطاء سے سماع عطاء کے زمانہ اختلاط کا ہے چنانچہ امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱؁ھ فرماتے ہیں کہ:

 ‘‘ فاما من سمع منہ بآخرۃ فھومضطرب الحدیث منھم ھیشم۔۔۔۔الخ۔’’

عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ سے جن لوگوں نے اختلاط کے بعد سنا وہ مضطرب ہیں، اور ان میں سے ہشیم رحمۃ اللہ علیہ بھی ہیں۔(تاریخ الثقات ج۱،ص۳۳۳ برقم ۱۱۲۸،تہذیب الکمال ج۱۳،ص۵۷ ،الجوہر النقی ج۳، ص ۳۸۔۳۹)

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ بھی صحیح بخاری میں موجود عطاء بن سائب رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:

 ‘‘ وسماع ھشیم منہ بعداختلاطہ ’’ 

 ہشیم نے عطاء بن سائب سے ان کے اختلاط کے بعد سماع کیا تھا۔ (فتح الباری: ج۱۱،ص۵۷۴)

اب جبکہ عطاء بن سائب کی حالت اختلاط والی روایت صحیح بخاری میں بھی موجود ہے اور بقول غیر مقلدین ‘‘صحیح بخاری’’ میں مختلط راویوں کی جتنی روایات موجود ہیں وہ سب صحیح وقابل استدلال ہیں۔

چنانچہ مشہور غیر مقلد ارشاد الحق اثری صاحب ایسے راویوں کی روایات کے متعلق لکھتے ہیں کہ:

ان کی روایات (صحیح بخاری) میں موجود ہیں مگر ہم نے بحمداللہ یہ ثابت کیا ہے کہ یہ روایات صحیح ہیں اور صحیح بخاری کی صحت پر ان روایات کی وجہ سے کوئی فرق نہیں آتا۔ (توضیح الکلام : ج۲ ، ص ۴۷۰)

نیز غیر مقلدزبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:

جس راوی سے بخاری و مسلم استشھاد کریں وہ ان کے نزدیک ثقہ و صدوق ہوتا ہے۔ (نصر الباری: ۱۹۷)

فلھٰذاعطاء بن سائب سے بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا استشھاد کرنا (یعنی متابعت میں روایت لینا) بقول علی زئی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔ 

الغرض: جب محدثین (امام ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ، حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ، امام حاکم ر حمۃ اللہ علیہ، حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ، اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم) کے نزدیک بھی عطا ء بن سائب کے اختلاط والی روایات صحیح ہیں اور ان کی صحت کاخود غیر مقلدین کو بھی اقرار ہے تو پھر اگر بالفرض اس کی مذکورہ روایت بھی اختلاط والی ہو تو (جس کی تائید سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما کی ایک دوسری روایت سے بھی ہو رہی ہے) وہ کیونکہ صحیح نہ ہو گی؟

ثانیاً۔۔۔۔بفرض محال عطاء رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت اختلاط والی بھی ہو تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ترک رفع یدین اس روایت کے علاوہ ایک دوسری روایت میں بھی مروی ہے (دیکھئے: مسند البزار بحوالہ نصب الرایہ: ج۱ ص۴۷۰) جو عطاء کی مذکورہ روایت کے لیے مؤید ہے۔ اور علماء غیر مقلدین کے بقول مختلط راوی کی متابعت اور تائید جب کسی دوسری روایت سے ہو جائے تو پھر مختلط سے مروی روایت معتبر اور قابل حجت سمجھی جاتی ہے۔

چنانچہ غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری صاحب ایک مختلط راوی کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

‘‘ وامااختلاطہ قبل موتہ بقلیل کما قالہ الحافظ فی التقریب فیقتضی ان یکون حدیثہ ضعیفاً مالم یثبت انہ رواہ قبل اختلاطہ لکنہ قدشھدہ حدیث وائل بن حجر وھلب الطائی ’’ (ابکارالمنن ص ۱۱۵)

رہا اس کو موت سے تھوڑا عرصہ پہلے اختلاط ہونا جیسا کہ حافظ ابن حجرنے تقریب میں فرمایا ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی روایت ضعیف ہو جب تک کہ یہ ثابت نہ ہو جائے کہ اس نے یہ حدیث اختلاط سے پہلے روایت کی ہے لیکن اس کے لیے وائل بن حجر اور ھلب طائی کی احادیث شاہد ہیں۔

غیر مقلدارشاد الحق صاحب لکھتے ہیں کہ:

مبارکپوری صاحب ابواسحاق کو مختلط لکھتے ہیں لیکن طحاوی میں ابواسحاق کا متابع موجود ہے۔ لہٰذا ابو اسحاق پر اعتراض فضول ہے۔ (توضیح الکلام: ج۱، ص۵۱۴۔ ۵۱۵) 

پس جب مختلط کی روایت عندالمتابعت غیر مقلدین کے بقول معتبر ہے تو پھر عطاء بن سائب کی اس متابعت والی روایت پر بھی ندوی صاحب کا اعتراض فضول ہے۔ اور یہ روایت بالکل صحیح ہے۔

ثالثاً۔۔۔۔ائمہ محدثین نے اس بات کی وضاحت فرما رکھی ہے کہ زمانہ اختلاط سے پہلے کی بیان کردہ عطاء بن سائب کی روایات بلاشک وشبہ بالکل صحیح ہیں ملاحظہ فرمائیں:

(۱)۔۔۔۔تدریب الراوی: ص ۶۲۲

(۲)۔۔۔۔تاریخ الثقات للعجلی: برقم ۱۱۲۸

(۳)۔۔۔۔تہذیب التہذیب: برقم ۵۳۹۳

(۴)۔۔۔۔الجرح والتعدیل للرازی: برقم۱۸۴۸

(۵)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء للذہبی: برقم ۸۶۱

اور اس بات پر بھی تقریباً تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ ‘‘امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰؁ھ’’ نے عطا ء سے حدیثیں عطاء کے زمانہ اختلاط سے پہلے سنی ہیں، (حوالہ جات کے لیے درج ذیل مقامات) ملاحظہ فرمائیں:

(۱)۔۔۔۔تدریب الراوی:ص۶۲۲

(۲)۔۔۔۔تہذیب التہذیب:برقم ۵۳۹۳

(۳)۔۔۔۔الجرح والتعدیل:برقم ۱۸۴۸

(۴)۔۔۔۔سیر اعلام النبلاء: برقم ۸۶۱

(۵)۔۔۔۔تاریخ ابن معین: برقم ۱۴۶۵

(۶)۔۔۔۔تاریخ الثقات للعجلی:برقم ۱۱۲۸

(۷)۔۔۔۔الکامل لابن عدی: برقم ۱۵۲۲

(۸)۔۔۔۔التعدیل والتجریح:برقم ۱۱۴۸

(۹)۔۔۔۔میزان الاعتدال: برقم ۵۶۴۱

(۱۰)۔۔۔۔الکواکب النیرات: برقم ۳۹

جس سے معلوم ہوا کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ نے جس زمانہ میں عطاء سے حدیثیں سنی ہیں، اس وقت عطاء کا حافظہ بالکل صحیح تھا اور اس زمانہ کی تمام روایات صحیح و محفوظ ہیں۔ اور مذکورہ بالاترک رفع یدین کی حدیث عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے ‘‘امام ابوبشر ورقاء بن عمر یشکری رحمۃ اللہ علیہ’’ نے نقل کی ہے، اور امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ نے ورقاء رحمۃ اللہ علیہ سے اور ورقاء رحمۃ اللہ علیہ نے امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایات لی ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ورقہ بن عمر رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ ہمعصر یعنی ایک ہی زمانہ کے ہیں۔ نیز ائمہ محدثین نے بھی ان دونوں کو ہمعصر قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: تہذیب الکمال برقم ۶۶۸۴ تہذیب التہذیب برقم ۲۰۰) اور ماقبل میں عرض کیا جا چکا ہے کہ حضرات محدثین کے نزدیک امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کا عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے سماع قدیم و قبل الاختلاط ہے۔ اس لیے بظاہر امام ورقاء بن عمر رحمۃ اللہ علیہ کا سماع بھی قدیم ہی ہے، کیونکہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ورقاء بن عمر رحمۃ اللہ علیہ ہمعصر ہیں۔نیز ائمہ محدثین کی تصریحات کے مطابق امام حماد بن زید رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹؁ھ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ ، زہیربن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۷؁ھ،زائدہ بن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ، وھیب بن خالدرحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۵؁ھ وغیرہم نے بھی عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے حدیثیں عطاء رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اختلاط سے پہلے سنی ہیں۔ اور امام ابوالحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵؁ھنے وضاحت فرما رکھی ہے کہ امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰؁ھ، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ اور امام وھیب بن خالد رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۵؁ھاور ان کی مثل اکابرائمہ محدثین کی عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کردہ روایات صحیح و قابل اعتبار ہیں۔ (ملخصاً: العلل الواردۃ فی الاحادیث النبویۃ: ج۱۱،۱۴۳ برقم ۲۱۷۹ ،تہذیب التہذیب : ج۷ص۲۰۷ برقم ۳۸۶) اورچونکہ امام ابو بشر ورقاء بن عمریشکری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ بھی امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰؁ھ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھاور امام وھیب بن خالدرحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۵؁ھ کی طرح اکابر محدثین میں سے ہیں اس لیے اس کی عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کردہ ترک رفع یدین کے متعلقہ مذکورہ بالاحدیث بالکل صحیح وقابل استدلا ل ہے، اور ورقاء رحمۃ اللہ علیہ نے عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے حدیثیں عطاء رحمۃ اللہ علیہ کے زمانہ اختلاط سے پہلے ہی سنی ہیں۔ لہٰذا اپنی کم علمی کی وجہ سے اس پر اختلاط کا اعتراض کرنا باطل و مردود ہے۔

فائدہ: 

یاد رہے اس صحیح حدیث میں قصر حقیقی نہیں بلکہ اضافی ہے اس لیے وتر، جنازہ، عیدین، دعا وغیرہ کے موقع پر رفع یدین کے یہ حدیث مخالف نہیں ہے۔ اس صحیح حدیث سے بھی بصراحت ثابت ہوا کہ عام نمازوں میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کیا جائے گا۔

۲۔حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وعبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما بحوالہ مسند البزار

حدثناابوکریب محمد بن العلاء ثنا عبدالرحمن بن محمد المحاربی ثنا ابن ابی لیلٰی عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس وعن نافع عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: ترفع الایدی فی سبعۃ مواطن: فی افتتاح الصلٰوۃ، واستقبال البیت، والصفا والمروۃ، والموقفین، وعندالحجر۔ (مسند البزاربحوالہ نصب الرایہ:ج۱،ص۴۷۰)

ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمااور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ سات موقعوں پر رفع یدین کیا جائے، صرف نماز کے شروع میں (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت ) بیت اللہ کو دیکھنے کے وقت، صفا و مروہ پر، عرفات میں (بعد زوال وقوف کے وقت) مزدلفہ میں (بوقت وقوف) اور جمرتین پر کنکری مارنے کے وقت۔

﴿سند کی تحقیق﴾

اس حدیث کی سند کے راویوں میں سے محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ، اور حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق وتعدیل کے حوالے حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ذیل میں پیش کیے جا چکے ہیں، اور بقیہ راویوں کے حاضر ہیں۔

(۱)ابوکریب محمد بن العلاء رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۷؁ھ

(۱)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷؁ھ کہتے ہیں:‘‘ صدوق ’’(الجرح والتعدیل: ج۸ص۵۲برقم ۲۳۹)

(۲) ۔۔۔۔حافظ ذہبی م ۷۴۸؁ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الثقۃ محدث الکوفۃ ’’(تذکرۃ الحفاظ: برقم ۵۱۲)

(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (کتاب الثقات : ج۹ص ۱۰۵برقم ۱۵۴۳۵)

(۴)۔۔۔۔ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۸۹؁ھکہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (شذرات الذھب: ج۳، ۲۲۶)

(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ لکھتے ہیں : ‘‘ ثقۃ حافظ ’’ (تقریب: برقم ۶۲۰۴)

(۲)عبدالرحمان بن محمد محاربی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۵؁ھ

(۱)۔۔۔۔امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل : برقم ۱۳۴۲)

(۲)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ صدوق-85الخ’’ (ایضاً)

(۳)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ لاباس بہ ’’ (معرفۃالثقات: برقم ۱۰۷۵)

(۴)۔۔۔۔امام ابن شاہین م ۳۸۵؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ اسماء الثقات: برقم ۸۱۰)

(۵)۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ الحافظ الثقۃ ’’(سیراعلام النبلاء: برقم ۱۳۵۹)

(۳)ابوالقاسم مقسم بن بجرہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱؁ھ

(۱)۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷؁ھ کہتے ہیں:‘‘ صالح الحدیث لاباس بہ ’’ (الجرح والتعدیل: برقم ۱۸۸۹)

(۲)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۱؁ھ کہتے ہیں:‘‘ صدوق ’’(تقریب: برقم ۲۸۷۳)

(۳)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ ۲۶۱؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ الثقات : برقم۱۶۲۷)

(۴)۔۔۔۔امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(تاریخ اسماء الثقات: برقم ۱۴۱۸)

(۵)۔۔۔۔امام دارقطنی م ۳۸۵؁ھ کہتے ہیں :‘‘ ثقۃ ’’(موسوعۃاقوال الدارقطنی: برقم ۳۵۶۹)

(۴)ابوعبداللہ نافع المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۷؁ھ

(۱)۔۔۔۔امام ابوالحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ تابعی ثقۃ ’’ (تاریخ الثقات : برقم۱۶۷۹)

(۲)۔۔۔۔امام ابویعلیٰ خلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ امام فی العلم متفق علیہ صحیح الروایۃ ’’ (الارشاد :برقم:۱۳) 

 (۳)۔۔۔۔علامہ ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۱؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’(ملخصاً:وفیات الاعیان برقم ۷۵۶)

(۴)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۱؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت فقیہ مشھور ’’ (تقریب: برقم ۷۰۸۶)

(۵)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴؁ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (الثقات: برقم۷۵۷۵)

خلاصۃ التحقیق:

 مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بالکل صحیح ہے۔

اعتراض :

رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:

‘‘ابن ابی لیلیٰ نے اسے حکم بن عتیبہ سے نقل کیا جو مدلس ہیں اور مدلس کی معنعن روایت ساقط اعتبار ہوتی ہے۔ (تحقیقی جائزہ: ص۲۶۹)

الجواب:

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی سابقہ صحیح و متصل حدیث حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت کی متابعت کر رہی ہے۔ اور معترض رئیس ندوی ودیگر علماء غیر مقلدین کے بقول مدلس راوی کی معنعن روایت کی جب متابعت ثابت ہو جائے تو مدلس کی عَن والی روایت صحیح وقابل قبول ہو جاتی ہے، اور تدلیس کا اعتراض ختم ہو جاتا ہے۔ (دیکھئے: نور العینین ص ۱۲۳،مقدمہ تحفۃ الاحوذی ص ۱۹۳ ،خیر الکلام ص۱۶۱، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز ص ۱۳۸) نیز حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ اور حافظ ابوسعید صلاح الدین العلائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۱؁ھ نے حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کو طبقہ ثانیہ کا مدلس قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: النکت علی ابن صلاح ص ۲۵۸، جامع التحصیل ص ۱۱۳) یعنی حکم بن عتیبہ رحمۃ اللہ علیہ کی عَن والی روایات کے صحیح اور معتبر ہونیکی تصریح کر دی ہے۔ جبکہ اس حدیث کی متابعت بھی ثابت ہے۔ لہٰذا اس حدیث پر تدیس کا اعتراض باطل و مردود ہے، اور یہ حدیث متناً و سنداً بالکل صحیح ہے۔

فائدہ:

 سابقہ حدیث کی طرح اس صحیح حدیث میں بھی اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ عام نمازوں میں صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہی رفع یدین کیا جائے۔

۳۔حدیث عباد بن زبیررحمۃ اللہ علیہ بحوالہ خلافیات بیہقی

‘‘ اخبرنا ابوعبداللہ الحافظ عن ابی العباس محمد بن یعقوب عن محمد بن اسحاق عن الحسن بن ربیع عن حفص بن غیاث عن محمد بن ابی یحییٰ عن عبادبن الزبیر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : کان اذا افتتح الصلاۃرفع یدیہ فی اول الصلاۃ ثم لم یرفعھما فی شیئ حتٰی یفرغ ’’

ترجمہ:(صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے بیٹے) سیدنا عبادرحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ بلاشک و شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تھے تو صرف ابتداء نماز میں (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت) ہی رفع یدین کرتے تھے، اس کے بعد نماز کے کسی حصہ میں بھی رفع یدین نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔(خلافیات بیہقی بحوالہ نصب الرایہ: ج۱،ص ۴۰۳)

﴿سند کی تحقیق﴾

اس حدیث کی سند کے راویوں کا کتب رجال سے تذکرہ حاضر خدمت ہے۔

(۱)۔۔۔۔امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵؁ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ بغداد برقم ۱۰۹۶)

(۲)۔۔۔۔امام ابوالعباس محمد بن یعقوب الاصم رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۶؁ھ : ‘‘ ثقۃ ’’(ملخصاً: التقییدلمعرفۃ رواۃ السنن ج۱،ص۱۲۴)

(۳)۔۔۔۔ابوبکر محمد بن اسحاق الصاغانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۰؁ھ: ‘‘ ثقۃ ثبت ’’(تقریب: برقم ۵۷۲۱)

(۴)۔۔۔۔ابوعلی الحسن بن ربیع البورانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۲۰؁ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب: برقم ۱۲۴۱)

(۵)۔۔۔۔ابوعمر حفص بن غیاث النخعی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۴؁ھ : ‘‘ ثقۃ مامون فقیہ ’’(تاریخ الثقات للعجلی برقم ۳۱۰)

(۶)۔۔۔۔محمد بن ابی یحییٰ سمعان الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۶؁ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (الکاشف: برقم ۵۲۱۹)

(۷)۔۔۔۔عبادبن عبداللہ بن زبیررحمۃ اللہ علیہ م ۹۰؁ھ : ‘‘ ثقۃ ’’ (تقریب : برقم ۳۱۳۵)

خلاصۃ التحقیق:

مندرجہ بالا تحقیق سے واضح ہو گیا کہ اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ وصدوق ہیں، اور اس کی سند سیدنا عبادبن زبیررحمۃ اللہ علیہ تک بالکل صحیح و ثابت ہے۔ نیز سیدنا عبادبن زبیررحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے بیٹے ہونے کے علاوہ اپنے والد محترم (سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ) کے دور خلافت میں مکہ مکرمہ کے قاضی تھے۔ اور انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، امی عائشہ رضی اللہ عنہااور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ وغیرھم سے احادیث نقل کی ہیں۔ الغرض اس صحیح السند روایت سے کم از کم اتنی بات تو ثابت ہو گئی کہ جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند کے نزدیک بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز کے علاوہ ترک رفع یدین پر عامل تھے۔ سندی تحقیق کے بعد اب اس روایت پر فریق مخالف کے جہالتوں پر مبنی اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔

اعتراض نمبر۱:

غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:

اس کی سند کے ایک راوی محمد بن اسحاق کا تعین مطلوب ہے، یہ وضاحت کی جائے کہ یہ کون ذات شریف ہے؟ (نورالعینین: ص ۲۹۶)

الجواب:

جناب علی زئی صاحب! مذکورہ روایت کی سند میں موجود ‘‘محمد بن سحاق’’ سے ‘‘صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ ’’ وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ‘‘امام ابوبکر محمد بن اسحاق بن جعفر الصاغانی الخراسانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۰؁ھ مراد ہیں جو کہ مشہور و معروف محدث ابو العباس محمد بن یعقوب بن یوسف الاصم النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۶؁ھ’’ کے استاذ ہیں ملاحظہ فرمائیں:

(۱)۔۔۔۔تہذیب الکمال للمزی :برقم ۵۰۵۳

(۲)۔۔۔۔الکاشف للذہبی:برقم۴۷۱۴

(۳)۔۔۔۔تاریخ الاسلام :برقم ۳۸۵۔۲۴۳

(۴)۔۔۔۔تذکرۃ الحفاظ:برقم۵۹۸۔۸۳۵

(۵)۔۔۔۔الارشاد للخلیلی ج۳، ص۸۵۶

(۶)۔۔۔۔التقیید لمعرفۃ رواۃ السنن: :برقم۱۴۰

(۷)۔۔۔۔سیراعلام النبلاء :برقم۳۱۰۵

لطیفہ:

قارئین: غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب کا فرقہ غیر مقلدیت کے نزدیک ذرا مقام ملاحظہ فرمائیں:

غیر مقلد ندیم ظہیر لکھتا ہے کہ:

‘‘محقق دوراں، ذہبی زماں، محدث العصر حافظ زبیر علی زئی’’(الحدیث ص ۱۳ ش نمبر۱۱۲)

غیر مقلد عبداللہ ناصر رحمانی علی زئی صاحب کے متعلق کہتا ہے کہ:

بالخصوص علم الرجال میں وہ خاص ملکہ رکھتے تھے کہ پورے پاکستان میں اس فن میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ (ماہنامہ الحدیث ص ۴۷ ، ش نمبر۱۱۴)

غیر مقلد مبشراحمد رحمانی کہتا ہے:

(علی زئی صاحب) ہم عصر علماء میں سے پاکستان کے اندر اسماء الرجال کے زیادہ ماہر تھے۔ (الحدیث: ص ۴۷ش نمبر۱۱۴)

غیر مقلد ارشاد الحق اثری کہتا ہے کہ:

حدیث و رجال پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ (ایضاً: ص ۴۸)

قارئین دیکھا آپ نے کہ فرقہ غیر مقلدیت کے حضرات زبیر علی زئی کی تعریف میں کیسے ڈونگرے برسارہے ہیں۔ حالانکہ کسی دینی ادارے کا باقاعدہ فاضل نہ ہونے کی وجہ سے یہ شخص خصوصا علم اسماء الرجال سے بالکل جاہل تھا، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن النسائی اور سنن ابن ماجہ وغیرہ کے مشہور و معروف راویوں کا تعین بھی نہیں کر سکتا تھا، اور اسماء الرجال کی مشہور و معروف کتب بھی اسے دیکھنی نہیں آتی تھیں۔ جیسا کہ مذکورہ بالا مقام پر آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ یہ شخص صحیح مسلم و سنن اربعہ وغیرہ کے مشہور و معروف راوی ‘‘ابوبکر محمد بن اسحاق الصاغانی’’ کا تعین نہیں کر سکا۔ ایسا جاہل محقق دوراں، ذہبی زماں فرقہ غیر مقلدیت کو ہی مبارک ہو۔

اعتراض نمبر۲:

رئیس ندوی غیر مقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:

حفص بن غیاث سے ‘‘حفص بن غیاث یروی عن میمون بن مھران’’ مراد ہے، اور یہ شخص مجہول ہے جیسا کہ تقریب وتہذیب و عام کتب رجال میں تصریح ہے۔ (ملخصاً: تحقیقی جائزہ: ۲۷۲)

الجواب:

تقریب التہذیب و تہذیب التہذیب اور دیگر کتب رجال میں جس حفص بن غیاث کو مجہول کہا گیا ہے، وہ یہ ‘‘حفص بن غیاث’’ نہیں جو مذکورہ روایت کاراوی ہے بلکہ وہ ‘‘ولید بن محمد بن نعمان’’ کااستاد ہے۔ اور اس سے صرف ایک ہی راوی ‘‘ولید بن محمد بن نعمان’’ ہی روایت کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ مجہول ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھنے ‘‘لسان المیزان’’ میں اور امام ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۷؁ھنے ‘‘الجرح والتعدیل’’ میں اس کی تصریح کی ہے۔ (دیکھئے: لسان المیزان برقم ۱۳۴۹ والجرح والتعدیل برقم ۸۰۴) نیز یہ مجہول راوی یعنی حفص بن غیاث بصری بذات خود بھی صرف ایک ہی راوی ‘‘میمون بن مہران’’ سے ہی روایت کرتا ہے، جیسا کہ امام ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۷؁ھ، حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ ۷۴۸؁ھ، اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ نے وضاحت کر رکھی ہے۔ (دیکھئے: الجرح والتعدیل برقم ۸۰۴، میزان الاعتدال برقم ۲۱۶۱،المغنی فی الضعفاء برقم ۱۶۴۰ ،دیوان الضعفاء برقم ۱۰۶۶ ،لسان المیزان برقم ۱۳۴۹ ،تقریب برقم ۱۴۳۱ ،تہذیب برقم ۱۶۹۲)

جبکہ مذکورہ بالا ترک رفع یدین کی حدیث کی سند میں موجود ‘‘حفص بن غیاث’’ سے صحیح بخاری صحیح مسلم و سنن اربعہ کے ثقہ و صدوق راوی ‘‘ابوعمر حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ النخعی القاضی رحمۃ اللہ علیہ ’’ مراد ہیں۔ جو کہ ‘‘امام ابوعلی الحسن بن ربیع البورانی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۲۰؁ھ اور دیگر کئی محدثین کے استاذ ہیں۔ اور ‘‘امام ابوعبداللہ محمد بن ابی یحییٰ سمعان الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ’’ و دیگر متعدد ائمہ محدثین کے شاگرد ہیں۔ (دیکھئے: تہذیب الکمال للمزی: ج ۷ ص ۵۷ برقم ۱۴۱۵ و ج۲۷،ص۱۱ ، برقم ۵۶۹۶ : مغانی الاخیار ج ۱،ص۲۲۶ برقم ۴۸۲) اور مذکورہ بالا حدیث کو بھی حفص بن غیاث سے امام ابوعلی الحسن بن ربیع البورانی رحمۃ اللہ علیہ روایت کر رہے ہیں اور حفص بن غیاث امام ابوعبداللہ محمد بن ابی یحییٰ الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کررہے ہیں۔ لہٰذا اس حدیث کی سند میں موجود حفص سے ‘‘امام ابوعمر حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ النخعی رحمۃ اللہ علیہ’’ ہی مراد ہیں۔

الغرض : حفص بن غیاث نام کے دو راوی ہیں، اور تقریب التہذیب و تہذب میں جس ‘‘حفص بن غیاث’’ کو مجہول کہا گیا ہے ، وہ مذکورہ روایت کے بالیقین راوی نہیں ہیں۔ بلکہ مذکورہ حدیث کے راوی ‘‘امام ابوعمر حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ النخعی القاضی رحمۃ اللہ علیہ’’ ہیں جو کہ صحیح بخاری ،صحیح مسلم اورسنن اربعہ کے راوی ہونے کی علاوہ فی نفسہ متفق علیہ ثقہ و صدوق محدث ہیں۔

اعتراض نمبر۳ ، ورئیس ندوی جھوٹ نمبر ۱۴،۱۵:

رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں: حفص بن غیاث اگرچہ کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں مگر انہیں امام احمد اور امام ابن سعد صاحب الطبقات نے ‘‘کثیرالتدلیس’’قرار دیا ہے جیسا کہ تہذیب التہذیب ، طبقات ابن سعد میں صراحت ہے۔ (ملخصاً: تحقیقی جائزہ ص ۲۷۲)

الجواب:

اولاً۔۔۔۔قارئین کرام! رئیس ندوی صاحب کی یہ بات جھوٹ ہے۔ آپ تہذیب التہذیب (جلد ۲ صفحہ ۱۵۶ برقم ۱۶۹۲) اور الطبقات الکبری لابن سعد (ج۶ص۳۶۶ برقم ۲۷۰۶) اٹھا کر دیکھیں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱؁ھ اور حافظ ابن سعدرحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰؁ھ نے مذکور حفص بن غیاث کو صرف مدلس ہی کہا ہے، ‘‘کثیر التدلیس’’ ہرگز نہیں کہا۔ لہٰذا ندوی کا یہ کہنا کہ ‘‘امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ نے حفص کو ‘‘کثیر التدلیس’’ قرار دیا ہے’’ بالکل جھوٹ ہے۔

ثانیاً۔۔۔۔یہ بھی یاد رہے مذکور حفص بن غیاث کی تدلیس کا بہانہ بناکر بھی راہ فرار اختیار کرنا مردود ہے،کیونکہ حفص بن غیاث رحمۃ اللہ علیہ طبقہ اولیٰ کے مدلس ہیں۔ (دیکھئے: النکت علی ابن صلاح ص ۲۵۶، تعریف اہل التقدلیس ص ۸۰) اور ائمہ محدثین کی تصریحات کے مطابق (تخصیصات کے علاوہ) طبقہ اولیٰ کے مدلیسن کی معنعن روایات صحیح و معتبر ہیں۔

اعتراض نمبر۴:

غیر مقلد رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں:

 ‘‘اس روایت میں حفص کا استاذ جسے ‘‘شیخ الحدیث’’ کہا گیا ہے، وہ ‘‘محمد بن ابی یحییٰ’’ ہیں، ان کی بھی تعیین نہیں ہو سکی۔۔۔۔الخ’’ (بلفظہ: تحقیقی جائزہ ص ۲۷۲)

الجواب:

زبیر علی زئی صاحب کی طرح فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق رئیس ندوی صاحب کو بھی مشہور و معروف راویوں کا تعین کرنا نہیں آتا اور اسماء الرجال کی مشہور و معروف کتب دیکھنی نہیں آتی ہیں تو جناب آئیے ہم اس راوی کا تعین کر دیتے ہیں!مذکور روایت کی سند میں موجود ‘‘محمد بن ابی یحییٰ’’ سے سنن ابی داؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ وغیرہ کے ثقہ و صدوق راوی ‘‘ابوعبداللہ محمد بن ابی یحییٰ سمعان الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ ’’ مراد ہیں۔ جو کہ سیدنا عباد بن زبیررحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں۔ اور مشہور محدث ‘‘ابوعمر حفص بن غیاث بن طلق النخعی رحمۃ اللہ علیہ’’ کے استاذ ہیں ملاحظہ فرمائیں!

(۱)۔۔۔۔تہذیب الکمال للمزی : ج۷،ص۵۷، برقم ۱۴۱۵ و ج۲۷، ص۱۲، برقم ۵۶۹۶

(۲)۔۔۔۔مغانی الاخیار: ج۱،۲۲۶، برقم ۴۸۲

 (۳)۔۔۔۔غنیۃ الملتمس ایضاح الملتبس ج۱،ص۳۷۹، برقم ۵۴۵

(۴)۔۔۔۔تہذیب التہذیب: ج۹،ص۵۲۳، برقم ۸۵۶

رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۱۶:

نیز غیر مقلدرئیس ندوی صاحب نے مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ کے ص ۸۵۶ پر ‘‘صحیح بخاری’ سنن نسائی، اور سنن ابن ماجہ’’ کے راوی ‘‘محمد بن فلیح بن سلیمان’’ پر جرحی نشتر چلایا ہے۔ جبکہ دوسری جگہ ندوی صاحب نے صحیح بخاری کے راویوں پر جرح کو کالعدم و مدفوع قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: اللمحات ج۲،ص۱۳) جو کہ ندوی کا واضح تضاد ہے، اور موصوف ندوی صاحب کے ہی بقول تضاد ، کذب بیانی ہے۔ 

تنبیہ: 

یاد رہے محمد بن فلیح بن سلیمان سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ روایت کاراوی نہیں ہے۔

الحاصل:فریق مخالف نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبادبن زبیررحمۃ اللہ علیہ کی روایات پر جو ازراہ تعصب وجہالت اعتراضات وارد کیے ہیں وہ سب خلاف حقیقت ہیں، اور اصول حدیث کی روشنی میں انکا باطل ہونا ہم نے بحمداللہ ثابت کر دیا ہے۔ لہٰذا یہ روایات صحیح ومعتبر ہیں۔

 اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)

 وصلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ وعلی من اتبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔

نیاز احمد غفرلہ

 ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ

---------------------------------------------------------------------------


کتاب "تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین" از: مولانا نیاز احمد اوکاڑوی صاحب

مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔

اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔

مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں  ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود 


سلسلہ ترک رفع الیدین

---------------------------------------------------------------------------






تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...