الحافظ ، العلم ، الحجة یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ کی نگاہ میں امام ابو حنیفہ
یحیی بن زکریا جن کو امام ذہبی رحمہ اللہ نے الحافظ ، العلم ، الحجة جیسے القاب سے یاد فرمایا یے اور امام ابو حاتم رازی ، ابن حبان ، احمد بن حنبل ، یحیی بن معین ، امام نسائی ، امام علی بن مدینی ، یعقوب بن شیبہ ، امام ذہبی ، ابن حجر سب نے ان کو ثقہ کہا ہے۔ وہ امام ابو حنیفہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، جانتے ہیں :-
دلیلِ قاطع: "ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً"
ہم ائمہِ سلف کی ایک اور ایسی گواہی پیش کرتے ہیں جو فقہِ حنفی کی طہارت، نفاست اور تقویٰ پر مہرِ الٰہی ہے۔ امام ابنِ ابی العوام رحمہ اللہ اپنی سندِ حسن کے ساتھ فضائلِ ابی حنیفہ میں نقل کرتے ہیں:
حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً۔
مفہوم: امام محمد بن سلیمان (لوین) نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت نے گواہی دی کہ: "ہم نے کبھی، کسی دور میں، کسی ایک بھی ایسے شخص یا محدث کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہ کو اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار، متقی یا محتاط بننا چاہتا تھا!"
سبحان اللہ! یہ ہے سیدنا امامِ اعظم کے علم کا وہ رعب اور ثقاہت جس کا اعتراف ان کے معاصرین کر رہے ہیں۔ اس گواہی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی مجلسِ علم سے جو کوئی بھی جڑا، وہ ان کے علم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان کا علم اتنا معتبر، نافع اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق تھا کہ کائنات کے کسی سچے، مخلص اور پرہیزگار انسان کے دل میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آیا کہ امام صاحب کا علم تقویٰ کے منافی ہے۔
اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔
نتیجہ: امام ابو حنیفہؒ نہ صرف ایک بڑے فقیہ اور اسلامی قانون دان تھے، بلکہ ان کا علم اتنا مضبوط اور اصولوں کا پابند تھا کہ پرہیزگاری کرنے والے اکابر علماء بھی ان پر اعتماد کرتے تھے۔یہ روایت ان کے علم کی عظمت، قبولیت اور دینی ہم آہنگی کا واضح ثبوت ہے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں