نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

جنوری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امام ابو یوسف ؒ(م۱۸۲؁ھ) ثقہ، امام ،فقیہ،حافظ الحدیث اور ثبت،متقن ہیں۔ ماخوذ : الاجماع شمارہ نمبر19

 امام ابو یوسف ؒ(م۱۸۲؁ھ) ثقہ، امام ،فقیہ،حافظ الحدیث اور ثبت،متقن ہیں۔ -مولانا نذیر الدین قاسمی امام ابو یوسف ،یعقوب بن ابراہیم القاضیؒ(م۱۸۲؁ھ) بھی مشہور ثقہ، امام ،فقیہ،حافظ الحدیث اور ثبت،متقن محدث ہیں۔مختصر تعارف درج ذیل ہیں :  - امام ابو حنیفہ،نعمان بن ثابت ؒ(م۱۵۰؁ھ)نے کہا :  ’’ إن يمت هذا الفتى فإنه أعلم من عليهاوأومأإلى  الأرض‘‘ ۔ - امام لیث بن سعد ؒ (م۱۷۵؁ھ)، - امام  یزید بن ہارونؒ(م۲۱۱؁ھ) وغیرہ نے ان سے روایت لی ہے۔ (لسان المیزان : ج۸ :ص ۵۱۸) - امام وکیعؒ(م۱۹۸؁ھ) نے بھی ابو یوسف ؒ کی تعریف کی ہے۔ (تاریخ بغداد : ج۱۴: ص ۲۵۰) - صدوق قاضی اسماعیل بن حماد بن ابی حنیفہ ؒ (م۲۱۲؁ھ) نے کہا :  ’’ ولم يكن  فی أصحاب أبي حنيفة مثل أبي يوسف، وزفر ‘‘۔ - ثقہ،ثبت،حجت ،امام علی بن الجعد ؒ (م۲۳۰؁ھ) کہتے ہیں کہ  ’’ والله ما رأيت مثله قال ابن ابي عمران وقد رأى علی الثوري والحسن بن صالح ومالكا وابن ابي ذئب والليث بن سعد وشعبة بن الحجاج ‘‘۔ - امام ابن سعد ؒ(م۲۳۰؁ھ) نے کہا :  ’’ وكان يعرف بالحفظ للحديث‘‘۔ - امام عمرو بن محمد بن بکی...

عظیم المرتبت مجتہد، فقیہ، اور محدث امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عظمت اور اجتہادی قوت پرقاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی گواہی

عظیم المرتبت مجتہد، فقیہ، اور محدث   امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عظمت اور اجتہادی قوت  پر قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف  الأنصاریؒ  (متوفی ۱۸۲ھ)  کی گواہی حدثني أبي قال : حدثني أبي قال : حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال : حدثني أحمد بن القاسم قال : حدثني ابن أبي رزمة قال : أخبرني خالد بن صبيح قال : سمعت أبا يوسف يقول : كنا نختلف في المسألة فنأتي أبا حنيفة فنسأله ، فكأنما يخرجها من كمه فيدفعها إلينا . خالد بن صبیح نے کہا: میں نے امام ابو یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا:  ہم کسی مسئلے میں باہم اختلاف کرتے، پھر ہم ابو حنیفہ کے پاس آتے اور ان سے پوچھتے، تو وہ اس مسئلہ کا جواب گویا اپنی آستین سے نکال کر ہمیں تھما دیتے تھے۔  (فضائل ابی حنیفہ لابن ابی العوام ، ص 97 ، اسنادہ حسن ) یہ روایت امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عبقریت اور ذہنی رسوخ کی نہایت بلیغ تصویر کشی کرتی ہے۔ امام ابو یوسفؒ جیسے جلیل القدر شاگرد جو خود فقہ و قضاء کے امام بنے ، ان کا یہ کہنا کہ مسائل کا جواب یوں دیا جاتا تھا گویا پہلے سے تیار و مرتب ہو، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امام...

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 4: باب اوّل احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ترک رفع یدین : حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 4:   باب اوّل احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور  ترک رفع یدین :   حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات ندوی جھوٹ نمبر ۱ : قارئین! شیخ القرآن والحدیث،الامام الثقہ،حبیب الرحمن الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مقالہ ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین’’ میں لکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور تکبیر تحریمہ کے علاوہ بقیہ مقامات پر نہیں کرتے تھے(یعنی چھوڑ گئے تھے)،متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو نقل فرمایا ہے۔(دیکھئے:مجموعہ مقالات ج۳ص۸۴)اس کے جواب میں آل غیرمقلدیت کا مفتی رئیس ندوی لکھتا ہے کہ: ہم کہتے ہیں کہ کوئی بھی صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں نقل کرتاجس کا دیوبندیہ دعویدار ہیں یہ محض صحابہ پر افترائے دیوبندیہ ہے۔ (مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ ص۲۹۲) الجواب: امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹؁ھ فرماتے ہیں کہ: حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللہ (بن مسعود) الا اصل...