کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 4:
باب اوّل احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ترک رفع یدین :
حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات
ندوی جھوٹ نمبر ۱ :
قارئین!شیخ القرآن والحدیث،الامام الثقہ،حبیب الرحمن الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مقالہ ‘‘تحقیق مسئلہ رفع یدین’’ میں لکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے اور تکبیر تحریمہ کے علاوہ بقیہ مقامات پر نہیں کرتے تھے(یعنی چھوڑ گئے تھے)،متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کو نقل فرمایا ہے۔(دیکھئے:مجموعہ مقالات ج۳ص۸۴)اس کے جواب میں آل غیرمقلدیت کا مفتی رئیس ندوی لکھتا ہے کہ:
ہم کہتے ہیں کہ کوئی بھی صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ بات نہیں نقل کرتاجس کا دیوبندیہ دعویدار ہیں یہ محض صحابہ پر افترائے دیوبندیہ ہے۔
(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ ص۲۹۲)
الجواب:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ فرماتے ہیں کہ:
حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللہ (بن مسعود) الا اصلی بکم صلاۃرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ،وفی الباب عن البراء بن عازب قال ابوعیسی حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحیح،وبہ یقول غیر واحد من اھل العلم من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفۃ۔
ترجمہ:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں؟پس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھ کر دکھائی،اور شروع نماز کے علاوہ کہیں بھی رفع یدین نہ کیا۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (م۲۷۹ھ)کہتے ہیں کہ ترک رفع یدین کے باب میں حضرت سیدنا براء-04 بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی حدیث مروی ہے،اور(مذکورہ)سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ‘‘حسن صحیح’’ہے۔اور اس رفع یدین کے چھوڑنے کے قائل بے شمار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔اور (جلیل القدرثقہ محدث)امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور تمام اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں۔(سنن ترمذی قلمی نسخہ دارالکتب المصریہ)
تخریج:
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ درج ذیل کتب میں موجود ہے۔
(۱) مسند ابی یعلٰی الموصلی :۵۰۳۷
(۲) مصنف ابن ابی شیبہ :۲۴۴۱
(۳) سنن النسائی :۱۰۲۶،۱۰۵۸
(۴)سنن الترمذی :۲۵۷
(۵) سنن ابی داود:۷۴۸
(۶) مسند احمد بن حنبل :۳۶۸۱،۴۲۱۱
(۷)شرح معانی الآثار :۱۳۴۹
(۸) المحلی بالآثار :۲۴۲
(۹) سنن الکبریٰ للنسائی :۶۴۹
(۱۰) سنن الکبریٰ للبیہقی :۲۵۳۱
(۱۱) مختصر الاحکام للطوسی :ج۲ص۱۰۳
(۱۲) تاریخ بغداد :۶۱۲۸
(۱۳) المدونۃ الکبریٰ :ج۱ص۱۶۰
(۱۴) جامع المسانید لابن کثیر:ج۲۷ص۲۶۱
(۱۵) اتحاف الخیرۃ المھرۃ :ج۱۰ص۳۹۲
(۱۶) التمہید لابن عبدالبر:ج۹ص۲۱۵
(۱۷)تیسیر الوصول:ج۱ص۳۲۶
(۱۸) نصب الرایۃ: ج۱ص۳۹۴
(۱۹) التحقیق فی مسائل الخلاف : ج۱ص۳۳۲
(۲۰) معرفۃ السنن والآثار :ج۲ص۴۹۷
فوائد:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ کی مذکورہ بالا عبارت سے درج ذیل باتیں ثابت اور واضح ہوئیں۔
(۱)سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث ضعیف نہیں بلکہ حسن صحیح ہے ۔
تنبیہ:
سنن الترمذی میں ‘‘حسن’’ کے ساتھ ‘‘صحیح’’ کا لفظ ‘‘سنن الترمذی’’ کے قلمی نسخہ دارالکتب المصریۃ میں موجود ہے۔ اس نسخہ کے متعلق اٰل غیر مقلد احمد شاکر لکھتا ہے کہ:
‘‘وھی نسخۃجیدۃ یغلب علیھا الصحۃ وخطؤھا قلیل’’ کہ یہ نسخہ عمدہ ہے جس میں صحت غالب اور خطاء کم ہے، اس نسخہ کی کتابت ‘‘۳ رجب ۷۲۶ھ’’ کو مکمل ہوئی ہے۔ (مقدمہ شرح ترمذی ج۱ ص۱۲۔ b دارالحدیث القاھرہ) اس نسخہ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں احادیث کے اختتام پر دائروں میں نقطے لگے ہوئے ہیں، حافظ ابن کثیررحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ اور حافظ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ کے بقول دائروں میں نقطے اصل نسخے سے مراجعت کے بعد لگائے جاتے ہیں۔ (ملخصاً: اختصار فی علوم الحدیث ص۱۳۰، الجامع فی اخلاق الراوی ج۱ ص۳۷۳) اس سے معلوم ہوا کہ دارالکتب المصریہ کی لائبریری کا قلمی سنن الترمذی کا یہ عمدہ اور نفیس نسخہ سنن ترمذی کے اصل نسخے سے مراجعت شدہ ہے۔
احمد محمد شاکر غیر مقلد نے بھی اس نسخے میں ‘‘حسن’’ کے بعد ‘‘صحیح’’ کے لفظ کا موجود ہونا ذکرکیا ہے۔ نیز ثقہ بالاجماع محدث ابو محمد بدرالدین محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ اور محمد صدیق نجیب آبادی نے بھی صراحت کررکھی ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن مسعودرضی اللہ عنہ کی حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (ملخصاً شرح ہدایہ للعینی ج۱ ص۳۶۶ و شرح سنن ابی داود للعینی ج۳ ص۱۴۳ رقم :۷۲۹، انوار المحمود شرح ابی داود ج۱ ص۲۵۸ بحوالہ نور الصباح ج۱ ص۱۰۵) اسی طرح سنن ترمذی کے متعدد نسخوں مثلاً ۔۔۔۔
(۱) نسخہ علامہ قطب الدین رحمۃ اللہ علیہ:
(مظاہر حق شرح مشکوٰۃ: ج۱ ص۲۵۷۔۲۶۴)
(۲) نسخہ عبداللہ بن سالم البصری رحمۃ اللہ علیہ :
(حاشیہ نصب الرایہ :ج۱ص۳۹۴،۳۹۵)
(۳)نسخہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃاللہ علیہ:
(شرح سفرالسعادۃ)
(۴) نسخہ شیخ محمد عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ:
(شرح ترمذی ج۲ ص۴۰)
(۵) نسخہ ابن عساکر الشافعی رحمۃاللہ علیہ
(ایضاً ج۲ ص۴۰)
وغیرہ میں ترک رفع یدین کا باب بھی موجود ہے۔ آل غیر مقلدیت میں سے احمد محمد شاکر، شعیب الارناوط اور زہیر الشاویش نے بھی سنن ترمذی میں ترک رفع یدین کے باب کے موجود ہونے کا اقرار کیا ہے۔ (شرح ترمذی ج۱ ص۴۰، حاشیہ شرح السنہ ج۳ ص۲۴) مگر صد افسوس! آل غیر مقلد محمد جوناگڑھی نے سنن ترمذی میں ترکِ رفع یدین کے باب اور عطاء اللہ غیر مقلد نے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیح کا انکار کررکھا ہے۔ (ملاحظہ ہو دلائل محمدی ص۳۹ حصہ دوم مطبوعہ ۱۳۵۲ھ وتعلیقات سلفیہ ج۱ ص۱۰۳)
(۲) ۔۔۔۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت سے دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی ترکِ رفع یدین کی روایت مروی ہے۔
(۳)۔۔۔۔ ترکِ رفع یدین بے شمار اہل علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمۃاللہ علیہم کا مسلک ہے۔
(۴) ۔۔۔۔اہل کوفہ جن میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہم بھی شامل ہیں ترکِ رفع یدین پر متفق ہیں۔
سند کی تحقیق:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ کی واضح شہادت کے بعد اب حدیث عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کے راویوں کا مختصر ساتذکرہ حاضر خدمت ہے۔
(۱) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا پورا نام محمد بن عیسیٰ بن سورۃ بن موسیٰ ہے، کنیت ابوعیسیٰ اور وطن کی نسبت ‘‘بوغی’’ اور ‘‘ترمذی’’ ہے، علامہ بقاعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ کے آباؤو اجداد شہر ‘‘مرو’’ کے باشندے تھے پھر خراسان کے شہر ‘‘ترمذ’’ میں منتقل ہوگئے، جو دریائے جیحوں کے کنارے ایک مشہور شہر تھا اس شہر سے بڑے بڑے علماء و محدثین پیدا ہوئے، اس لئے اس کو ‘‘مدینۃ الرجال’’ کہا جاتا تھا، اس شہر سے چند فرسخ کے فاصلہ پر ‘‘بوغ’’ نامی قصبہ آباد تھا امام ترمذی ۲۰۹ھ میں اسی قصبہ میں پیدا ہوئے، اسی لئے ان کو ‘‘بوغی’’ بھی کہتے ہیں۔ اور ترمذی بھی لیکن چونکہ بوغ، ترمذ کے مضافات میں واقع تھا اس لئے ترمذی کی نسبت زیادہ مشہور ہوئی۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے طلب علم کے لئے ‘‘حجاز، مصر، شام، کوفہ، خراسان، اور بغداد’’ وغیرہ کے سفر کئے اور اپنے وقت کے بڑے بڑے شیوخ حدیث سے علم حاصل کیا۔ جن میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ، امام بوداود سجستانی رحمۃ اللہ علیہ، احمد بن منیع رحمۃاللہ علیہ، محمد بن المثنٰی رحمۃاللہ علیہ، ھناد بن السری رحمۃاللہ علیہ، قتیبہ بن سعیدرحمۃاللہ علیہ، محمود بن غیلان رحمۃ اللہ علیہ جیسے جلیل القدر محدثین شامل ہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے جس دور میں عقل و خرد کی آنکھیں کھولی تھیں اس وقت ہر طرف حدیث کا ذوق و شوق عام تھا، قدرتی طور پر ان کی بھی توجہ اسی فن کی طرف مبذول ہوئی، لیکن اس کے ساتھ ان کو علم تفسیر سے بھی فطری لگاؤ تھا، فقہ سے بھی آپ کو خاص دلچسپی تھی علم تفسیر میں ان کی سمجھ بوجھ کا اندازہ ان احادیث اور آثار سے ہوتا ہے جو انہوں نے ابواب تفسیر میں قرآنی آیات کے سلسلے میں جمع کی ہیں ان کے فقہی ذہن اور استنباط مسائل کے سلسلے میں لوگ ان کی جامع کو بطور ثبوت پیش کرتے ہیں جسے صرف احادیث ہی کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فقہی کتاب بھی کہا جاتا ہے۔ جس میں مختلف ائمہ کے مذاہب و دلائل پر بھی بحث کی گئی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ بقول امام خلیلی رحمۃ اللہ علیہ کے متفق علیہ، ثقہ ہیں (تہذیب التہذیب ج۵ ص۲۸۷) آپ رحمۃ اللہ علیہ کی ثقاہت و عدالت پر پوری امت کا اجماع ہے، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ستر (۷۰) سال کی عمر پائی، اور اپنے وطن ترمذ ہی میں ۲۷۹ھ میں انتقال فرماگئے اور وہیں دفن ہوئے۔
(۲) امام ھناد بن السری رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۳ھ
امام ھناد بن السری رحمۃاللہ علیہ م ۲۴۳ھ صحیح مسلم و سنن اربعہ وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں آپ رحمۃ اللہ علیہ کو متعدد ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے مثلاً:
(۱) امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھصدوق (سچا) قرار دیتے ہیں۔ (تہذیب الکمال للمزی ج۳۰ ص۳۱۲)
(۲) امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمۃاللہ علیہ م ۳۰۳ھ ثقہ کہتے ہیں۔ (تہذیب التہذیب ج۶ ص۶۶۹)
(۳) امام ابو عبداللہ شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ امام ھناد بن السری رحمۃاللہ علیہ کو ‘‘الکوفی الحافظ احمد العباد، الحافظ القدوۃ الزاھد شیخ الکوفۃ، الامام الحجۃ القدوۃ’’ وغیرہ لکھتے ہیں۔ (تاریخ اسلام ج۵ ص۱۲۷۷، تذکرۃ الحفاظ ج۲ ص۷۰، سیراعلام النبلاء ج۱۱ ص۴۶۵)
(۴) امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ نے بھی آپ کی توثیق کی ہے۔ (ملاحظہ ہو معانی الاخیار ج۳ ص۱۸۶)
(۵) امام احمد بن عبداللہ الخزرجی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۳ھ ان کو ‘‘الحافظ الصالح’’ لکھتے ہیں۔ (خلاصۃ تذہیب تہذیب الکمال ج۱ ص۴۱۴)
(۶) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ م ۸۲۵ھبھی ثقہ قرار دیتے ہیں۔ (تقریب التہذیب ج۱ ص۵۷۴)
(۳) امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ م۱۹۷ھ
حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تیسرے راوی امام ابوسفیان وکیع بن جراح بن ملیح الکوفی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۹۷ھ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، سنن ترمذی، سنن طحاوی وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ متعدد ائمہ حضرات نے ان کی مدح و ثناء اور تعدیل و توثیق فرمائی ہے مثلاً-85
(۱) امام ابوعبداللہ شمس الدین محمد بن احمد الذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ آپ کے بارے میں لکھتے ہیں ‘‘الامام الحافظ الثبت محدث العراق’’ (تذکرۃالحفاظ ج۱ ص۲۲۳ رقم ۲۸۴)
(۲) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھلکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ حافظ عابد ’’ (تقریب التہذیب ج۲ ص۲۸۴)
(۳) امام ابو عبداللہ محمد بن سعد رحمۃاللہ علیہ م ۲۳۰ھ لکھتے ہیں ‘‘وکان ثقۃ مامون عالماً رفیعاً کثیر الحدیث حجۃ’’
(الطبقات الکبریٰ ج۶ ص۳۶۵)
(۴) امام ابو یعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھلکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ امام متفق علیہ ’ ’
(الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث ج۲ ص۵۷۰)
(۵) حافظ ابو زکریا محی الدین یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ ۶۷۶ھ فرماتے ہیں کہ آپ کی ثقاہت اور جلالت قدر پر اتفاق ہے۔
(تہذیب الاسماء واللغات ج۲ ص۱۴۴رقم ۶۶۸)
(۶) حافظ ابوالحسن احمد بن عبداللہ بن صالح العجلی الکوفی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ عابد صالح ادیب من حفاظ الحدیث ’’
(تاریخ الثقات ج۱ ص۴۶۴ رقم :۱۷۶۹)
(۷) امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃاللہ علیہ م۲۳۳ھ فرماتے ہیں ‘‘مارایت افضل من وکیع-85 ویفتی بقول ابی حنیفۃ ’’ کہ میں نے امام وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ سے کوئی افضل شخص نہیں دیکھا ہے، اور امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اور ان کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے (تہذیب التہذیب ج۶ ص۷۲۳رقم ۸۶۹۹، مغانی الاخیار ج۳ ص۱۳۶ رقم ۲۵۰۶)
(۸) حافظ ابو عمر یوسف بن عبداللہ بن محمد بن عبدالبر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھفرماتے ہیں ‘‘کان یفتی برای ابی حنیفۃ وکان یحفظ حدیثہ کلہ وکان قد سمع من ابی حنیفۃ حدیثاً کثیراً ’’ کہ امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے پر فتویٰ دیا کرتے تھے اور ان کی سب حدیثیں ان کو یاد تھیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے بہت زیادہ حدیثیں امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ نے سنی تھیں۔ (جامع بیان العلم وفضلہ ج۲ ص۱۴۹ طبع مصر وفی طبعۃج۲ ص۱۰۸۲ رقم ۲۱۰۹ باب ماجاء فی ذم القول فی دین-85الخ)
فائدہ:
یاد رہے آل غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری نے ازراہ تعصب بغیر کسی دلیل کے امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ کے حنفی ہونے کا انکار کیا ہے، اور ٹھوس حوالوں کو مسخ کرتے ہوئے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ ان کا اجتہاد حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہاد کے موافق ہوجایا کرتا تھا، نہ یہ کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول اور رائے پر فتویٰ دیتے تھے (محصلہ تحفۃ الاحوذی ج۱ ص۷) لیکن یہ تاویل سراسر باطل ہے اس لیے کہ اگر انکار اجتہاد حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے اجتہاد کے مطابق ہوتا تو عبارت یوں ہوتی ‘‘ یفتی کرائی ابی حنیفۃوکقول ابی حنیفۃ ’’ لیکن الفاظ ‘‘ برائی ابی حنیفۃوبقول ابی حنیفۃ ’’ ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ وہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اور ان کے قول پر فتویٰ دیا کرتے تھے۔ الغرض امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ م۱۹۷ھ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہونے کے علاوہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اور قول پر فتویٰ دیتے تھے (یعنی ان کے مقلد تھے) مذکورہ بالا ٹھوس حوالوں کے مقابلے میں منکرین تقلید (محمود) لاکھ جتن کریں وہ امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ کو امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مقلدین کی صف سے ہرگز نہیں نکال سکتے۔
(۴) امام سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ م۱۶۱ھ
امام سفیان بن سعید بن مسروق الثوری رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۱ھ صحیح بخاری، صحیح مسلم و سنن اربعہ وغیرہ کے راوی ہونے کے علاوہ ایک جلیل القدر امام اور ناقد ہیں ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ان کی ثناء و مدح توثیق و تعدیل بڑے واضح لفظوں میں کی ہے مثلاً-85
(۱) حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ آپ کے بارے میں لکھتے ہیں ‘‘ الامام شیخ الاسلام سید الحفاظ، شیخ الاسلام، امام الحفاظ سید العلماء العاملین فی زمانہ ’’ (تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۱۹۰، سیراعلام النبلاء ج۷ ص۲۸۲)
(۲) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں ‘ ‘ ثقۃ حافظ فقیہ عابد امام حجۃ ’’ (تقریب التہذیب ج۱ ص۲۴۴ رقم ۲۴۴۵)
(۳) امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ فن حدیث میں امیر المومنین تھے۔
(ملخصاً تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۱۹۱ رقم ۱۹۸)
(۴) امام ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ فرماتے ہیں ‘‘وکان ثقۃ ماموناً ثبتاً کثیر الحدیث حجۃ ’’ (الطبقات الکبریٰ ج۶ ص۳۷۱)
(۵) امام ابو الحسن عجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ کوفی رجل صالح زاھد عابد ثبت فی الحدیث ’’
(تاریخ الثقات ج۱ ص۱۹۰رقم ۵۷۱)
(۶) حافظ ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ لکھتے ہیں ‘‘وکان اماماً من ائمۃ المسلمین وعلماً من اعلام الدین مجمعاً علی امامتہ بحیث یستغنی عن تزکیتہ مع الاتقان والحفظ والمعرفۃوالضبط والورع والزھد’’ (تاریخ بغداد ج۹ ص۱۵۴ رقم ۴۷۶۳)
(۷) امام سفیان بن عیینہ رحمۃاللہ علیہ م۱۹۸ھ فرماتے ہیں کہ حلال و حرام کا علم رکھنے والا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ سے بڑھ کر میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ (طبقات الفقہاء للشیرازی رحمۃ اللہ علیہ ج۱ ص۸۴)
(۸) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م۶۷۶ھ فرماتے ہیں کہ آپ کی جلالت قدر پر علماء کا اتفاق ہے۔ (تہذیب الاسماء واللغات ج۱ ص۲۲۲ رقم ۲۲۴)
(۹) علامہ ابو العباس ابن خلکان رحمۃ اللہ علیہ م۶۸۱ھ لکھتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ علم حدیث و دیگر علوم میں امام تھے آپ کی ثقاہت اور جلالت قدر پر اتفاق ہے ۔(وفیات الاعیان ج۶ ص۳۸۶ رقم ۲۶۶)
(۱۰) علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھ لکھتے ہیں کہ ‘‘ شیخ الاسلام ابو عبداللہ الثوری الفقیہ الکوفی سید اھل زمانہ علماً و عملاً’’ (الوافی بالوفیات ج۱۵ص۱۷۴رقم ۳)
(۱۱) العلامۃ الفھامۃ الشیخ المحدث عبدالقادر بن محمد القرشی رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۵ھ لکھتے ہیں ‘‘وھو احد الائمۃ المجتہدین ومن اقطاب الاسلام وارکان الدین ومن اکابر التابعین جمع بین الفقہ والحدیث والزھد والورع والعبادۃ ’’ (الجواہر المضیۃ: ج۱ ص۵۴۶)
(۱۲) حافظ ابو محمد محمود بن احمد العینی الحنفی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ فرماتے ہیں ‘‘ وکان سفیان اماماً من ائمۃ المسلمین وعلماً من اعلام الدین مجمعاً علی امامتہ مع الاتقان والحفظ والمعرفۃوالضبط والورع’’ (مغانی الاخیار ج۱ ص۴۱۷رقم ۷۷۸)
(۵) امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۷ھ
حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پانچویں راوی امام عاصم بن کلیب بن شہاب الجرمی رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۷ھ صحیح مسلم، سنن اربعہ، سنن طحاوی وغیرہ کے راوی ہونے کے علاوہ تعلیقاً صحیح بخاری کے بھی راوی ہیں۔ (ملخصاً صحیح بخاری ج۲ ص۸۶۸) ان کی توثیق و تعدیل کے حوالے پیش خدمت ہیں۔
(۱) امام ابو الحسن العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ نے فرمایا ‘‘ ثقۃ ’’ (تاریخ الثقات ج۱ ص۲۴۲رقم ۷۴۳)
(۲) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م۲۵۶ھ نے عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ سے اپنی صحیح میں تعلیقاً روایت لی ہے (ملاحظہ ہو صحیح بخاری ج۲ ص۸۶۸) اور بقول آل غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب کے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی صحیح میں تعلیقاً جس راوی سے روایت لیں وہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح الحدیث (ثقہ و صدوق) ہوتا ہے (مقالات ج۱ ص۴۲۱) فلھٰذا بقول علی زئی امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کے نزدیک صحیح الحدیث (ثقہ و صدوق) راوی ہے۔
(۳) امام ابن سعد رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۰ھ لکھتے ہیں ‘‘وکان ثقۃ یحتج بہ ’’ کہ ثقہ ہے اس سے دلیل پکڑی جائے گی۔ (الطبقات الکبریٰ ج۶ ص۳۴۱)
(۴) امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھنے اپنی صحیح میں ان سے روایات لی ہیں (ملاحظہ ہو صحیح مسلم ج۲ ص۴۱۴۔۱۹۷۔۳۵۰) جو کہ بقول آل غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب کے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ان کے ثقہ و صدوق اور صحیح الحدیث ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۱ ص۴۳۲)
(۵) امام ابوداود رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۵ھ فرماتے ہیں کہ عاصم بن کلیب اہل کوفہ میں سب سے افضل ہے۔ (تہذیب الکمال للمزی رحمۃ اللہ علیہ ج۳۱ ص۵۳۸ رقم ۳۰۲۴و تہذیب التہذیب ج۵ ص۵۶ رقم ۸۹)
(۶) امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں ‘‘لاباس بحدیثہ ’’ کہ اس کی حدیث میں کوئی خرابی نہیں ہے ۔(الجرح والتعدیل للرازی رحمۃ اللہ علیہ ج۶ ص۳۵۰رقم ۱۹۲۹)
(۷) امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ کہتے ہیں ‘‘صالح’’ (الجرح والتعدیل للرازی : ج۶ ص۳۵۱)
(۸) حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۴ھ لکھتے ہیں ‘‘من متقنی الکوفیین’’ کہ عاصم بن کلیب متقن (ثقہ) کوفیوں میں سے ہے ۔(مشاہیر علماء الامصار ج۱ ص۲۶۰رقم ۱۳۰۵)
(۹) امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ لکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ مامون ’’ (تاریخ اسماء الثقات ج۱ ص۱۵۰ رقم ۸۳۳)
(۱۰) امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ کہتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب الکمال للمزی : ج۳۱ ص۵۳۸ رقم ۳۰۲۴ وتہذیب التہذیب ج۳ ص۳۳۰)
(۱۱) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ کہتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۱۲) حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں ‘‘ ثقۃ۔ وکان فاضلاً عابداً۔صدوق ’’ (المغنی ج۱ ص۳۲۱ رقم ۲۹۹۲، تاریخ اسلام ج۳ ص۶۶۷۴ رقم ۱۲۶، دیوان الضعفاء ج۱ ص۲۰۴ رقم ۲۰۳۹، ذکر اسماء من تکلم فیہ وھو موثق ج۱ ص۱۰۴ رقم ۱۷۰) نیز حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے مروی احادیث کو صحیح بھی قرار دیا ہے (مثلاً ملاحظہ ہو تلخیص مستدرک ج۴ ص۲۴۵)
(۱۳) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں ‘‘صدوق-85الخ’’ (تقریب التہذیب ج۱ ص۲۸۶)
(۱۴) علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھلکھتے ہیں ‘‘فاضل عا بد ’’ (ملخصاً الوافی بالوفیات ج۱۶ ص۳۲۶)
(۱۵) امام احمد بن صالح المصری رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۸ھ کہتے ہیں ‘‘ ثقۃ مامون ’’ (تہذیب التہذیب ج۳ ص۳۳۰)
(۱۶) امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۱ھ نے امام عاصم بن کلیب سے اپنی کتاب صحیح ابن خزیمہ میں بہت سی روایات لی ہیں مثلاً ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ رقم: ۲۲۷۴۔ ۲۱۷۳۔ ۲۱۷۲۔ ۷۱۴۔ ۷۱۳۔ ۶۹۸۔ ۶۹۷۔ ۶۹۰۔ ۶۴۲۔ ۶۴۱۔ ۶۲۹۔ ۴۲۶۔ ۵۹۵۔ ۵۹۴۔ ۴۸۰۔ ۴۵۷۔ وغیرھم۔ اور عاصم پر کوئی جرح نہیں کی ہے اور آل غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں امام ابن خزیمہ نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۳۱۱ھ) اپنی کتاب صحیح ابن خزیمہ میں جس راوی سے روایت بیان کریں اور جرح نہ کریں وہ راوی ان کے نزدیک ثقہ و صدوق ہوتا ہے اور وہ روایت بھی ان کے نزدیک صحیح ہوتی ہے (ماہنامہ الحدیث شمارہ نمبر۴۷ ص۱۸، مقالات ج۱ ص۵۲۸) فلھٰذا بقول علی زئی امام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ ثقہ و صدوق راوی ہے۔
(۱۷) امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۷ھ نے عاصم بن کلیب سے اپنی کتاب المنتقٰی (صحیح ابن الجارود) میں روایتیں لی ہیں مثلاً ملاحظہ ہو: المنتقٰی رقم: ۱۹۶۔ ۲۰۲۔ ۲۰۸ وغیرھم۔
اور آل غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ کا المنتقٰی میں عاصم سے روایت لینا ہی امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عاصم بن کلیب کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۱ ص۴۷۰)
(۱۸) حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھ اس کی ایک حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں ‘‘ اسنادہ جید ’’ کہ اس کی سند عمدہ ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج۷ ص۳۲۴) جو کہ بقول زبیر علی زئی صاحب حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عاصم بن کلیب کے جید الحدیث (یعنی ثقہ و صدوق) ہونے کی دلیل ہے۔ (مقالات ج۱ ص۴۲۳)
(۱۹) حافظ ابن ملقن رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۴ھ اسے ثقہ اور صدوق لکھتے ہیں ۔(البدر المنیر ج۳ ص۶۰۱، ج۵ ص۲۹۶)
(۲۰،۲۱)حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمۃاللہ علیہ م۶۴۳ھ نے اپنی کتاب الاحادیث المختارہ میں اور حافظ ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۶ھ نے مستخرج ابی عوانہ میں عاصم کی روایات لی ہیں مثلاً ملاحظہ ہو: الاحادیث المختارہ رقم: ۱۶۷۔۲۷۰۔ ۷۴۰۔ ۸۵۔ ۸۶۔ ۸۷۔ وغیرھم، مستخرج ابی عوانہ رقم: ۱۴۱۹۔ ۱۴۹۲۔ ۸۶۴۷۔ ۸۶۴۸ وغیرہم
جو کہ زبیرعلی زئی صاحب کے بقول حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً مقالات ج۱ ص۴۰۷)
(۲۲) امام احمد بن ابی بکر البوصیری رحمۃ اللہ علیہ م۸۴۰ھ ایک حدیث کی تحقیق میں لکھتے ہیں ‘‘ھذا اسناد صحیح رجالہ ثقات’’ کہ اس کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی عاصم بن کلیب وغیرہ ثقہ ہیں (مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ ج۱ ص۱۱۳رقم ۳۳۶ باب الاشارۃ فی التشہد)
(۲۳) حافظ ابو الحسن نور الدین الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۷ھ ایک حدیث کے بارے میں کہتے ہیں ‘‘ورجالہ ثقات’’ کہ اس کے راوی عاصم بن کلیب وغیرہ ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج۶ ص۲۹۸رقم ۱۰۷۷۸، باب الدیات فی الاعضاء وغیرھا)
(۲۴) امام احمد بن عبداللہ الخزرجی رحمۃ اللہ علیہ م۹۲۳ھ نے ‘‘خلاصۃ تذہیب تہذیب الکمال فی اسماء الرجال’’ میں عاصم بن کلیب کو ذکر کیا ہے (ملاحظہ ہو ج۱ ص۱۸۳) امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ اور امام نسانی رحمۃ اللہ علیہ سے ان کی توثیق نقل کی ہے اور کوئی جرح نقل نہیں کی جو کہ زبیر علی زئی صاحب کے بقول خزرجی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔ (مقالات ج۱ ص۴۵۹)
(۲۵) امام شعبہ بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۰ھ نے عاصم بن کلیب سے احادیث روایت کی ہیں ۔(کمافی تہذیب الکمال للمزی :ج۱۳ ص۵۳۹ رقم ۳۰۲۴ و ج۲۱ ص۴۸۲رقم ۲۷۳۹) اور زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ وہ (عام طور پر اپنے نزدیک) صرف ثقہ سے روایت کرتے ہیں (مقالات ج۱ ص۴۳۲) فلھٰذا بقول علی زئی امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک عاصم مذکور ثقہ ہے۔
(۲۵ تا ۵۰) درج ذیل ائمہ محدثین نے عاصم بن کلیب کی بیان کردہ احادیث کو صحیح وغیرہ قرار دیا ہے۔
(۱) امام ابو الحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ : قال ھذا اسناد ثابت صحیح۔ واسنادہ صحیح۔
(سنن دارقطنی ج۱ ص۱۳۷ رقم ۱۲۸۲ والعلل الواردۃ ج۵ ص۲۷۲)
(۲) امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ: قال ھذا حدیث حسن صحیح
(سنن ترمذی ج۱ ص۳۷۹رقم ۲۹۲ باب کیف الجلوس فی التشہد ورقم ۱۷۸۶)
(۳) امام حاکم رحمۃاللہ علیہ م۴۰۵ھ: قال ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم
(مستدرک حاکم رقم ۸۱۴۔ ۸۱۵۔ ۸۲۶ وغیرھم)
(۴) امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۶ھ: قال ھٰذا حدیث صحیح (شرح السنہ للبغوی : ج۱۲ص۷۰ باب موضع الخاتم)
(۵) امام ابوعلی حسن بن علی رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۲ھ: قال حسن (مختصر الاحکام للطوسی :ج۱ ص۳۰۱)
(۶) امام ابن حزم ظاہری رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۶ھ: قال ھذا الخبر صحیح۔ (المحلی لابن حزم : ج۴ ص۵۷ مسئلہ ۴۴۲)
(۷) حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ: قال اقرب الی الصحۃ لعدالۃرواتہ۔ (بیان الوھم والایھام ج۳ ص۳۶۷)
(۸) حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ: قال ان رجال ھذا الحدیث علی شرط مسلم (الجوھر النقی ج۲ ص۷۸)
(۹) حافظ مغلطائی رحمۃاللہ علیہ م۷۶۲ھ: عندہ حدیث صحیح ۔(ملخصاً شرح سنن ابن ماجہ ص۱۴۶۷)
(۱۰) امام ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ: عندہ حدیث صحیح وقال فلایسال عنہ للاتفاق علی الاحتجاج بہ۔ (ملخصاً شرح سنن ابی داود ج۳ ص۳۴۱)
(۱۱) حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ: عندہ حدیث صحیح (ملخصاً التعریف الاخبار رقم ۱۶۷)
(۱۲) حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م۷۵۱ھ: قال ان یکون صحیحاً (تہذیب السنن ج۱ ص۳۶۸)
(۱۳) علامہ عابد سندھی مدنی رحمۃ اللہ علیہ م۱۲۵۷ھ: عندہ حدیث صحیح (مواہب اللطیف:ص۹۵۲)
(۱۴) امام احمد بن محمد القسطلانی رحمۃ اللہ علیہ م۹۲۳ھ: قال باسناد جید علی شرط مسلم (ارشاد الساری باب التسمیۃ علی الذبیحۃ)
(۱۵) حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۱ھ: قال فحدیث علی رضی اللہ عنہ اذاصح۔ (شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۵۵)
(۱۶) محدث شیخ ھاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ: عندہ حدیث صحیح۔ (کشف الرین ص۵۶)
(۱۷) حافظ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ: عندہ حدیث صحیح۔ (فتح الملہم ج۲ ص۱۲)
(۱۸) حافظ ابو علی نیساپوری رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۹ھ: صحح سنن النسائی۔ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام از علی زئی ص۵۲)
(۱۹) حافظ ابو احمد ابن عدی رحمۃاللہ علیہ م۳۶۵ھ: صحح احادیث سنن النسائی۔ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۵۲: از علی زئی)
(۲۰) حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۹۵ھ: (ایضاً)
(۲۱) امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م۴۰۹ھ: (ایضاً)
(۲۲) امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م۴۴۶ھ: (ایضاً)
(۲۳) امام ابو علی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۳ھ?: (ایضاً)
(۲۴) امام ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ: (ایضاً)
(۲۵) امام محمد مرتضیٰ زبیدی رحمۃ اللہ علیہ م۱۲۰۵ھ: صحح حدیثہ (عقود الجواھر المنیفۃ ج۱ ص۱۰۲)
اور زبیر علی زئی صاحب نے یہ بات کئی جگہوں پر لکھی ہے کہ:
اگر کوئی محدث کسی روایت یا اس کی سند کو صحیح یا حسن قرار دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند کا ہر ہر راوی اس محدث کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے۔ (ملخصاً نور العینین ص۵۳، نصر الباری ص۱۷۲، القول المتین ص۲۰، ماہنامہ الحدیث ۱۴/۳۲، جزء رفع الدین بتحریفات علی زئی ص۱۴)
چونکہ مذکورہ بالا پچیس محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے عاصم بن کلیب سے مروی روایتوں کو صحیح وغیرہ قرار دیا ہے فلھٰذا زبیر علی زئی صاحب کے بقول عاصم مذکور ان کے نزدیک ثقہ و صدوق (صحیح الحدیث) راوی ہے۔
نوٹ:
درج ذیل علماء غیر مقلدین نے بھی عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ احادیث کو صحیح یا حسن قرار دیا ہے۔ یا اس کی احادیث سے استدلال کیا ہے یا صراحتاً اس کو ثقہ وغیرہ لکھا ہے۔
(۱) داود ارشد (تحفہ حنفیہ ص۱۲۲ناشر دارالکتب السلفیہ لاہور)
(۲) ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی (نمازِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ص۲۷۳، انصار السنہ پبلیکیشنز)
(۳) (فتاویٰ علمائے حدیث ج۴ ص۳۰۹ تقسیم کار فاروقی کتب خانہ)
(۴) خالد گرجاکھی (صلوٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص۱۵۶ ناشر ادارہ احیاء السنہ)
(۵) فاروق الرحمن یزدانی (۔۔۔۔۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف ص۲۷۹ ناشرادارہ تحفظ اسلام)
(۶) ثناء اللہ امرتسری (اہل حدیث کا مذہب ص۷۷۔۷۸، ناشر مکتبہ محمدیہ اْردو بازار لاہور)
(۷) عبداللہ روپڑی (فتاویٰ اہلحدیث ج۱ ص۴۶۱شائع کردہ ادارہ احیاء السنہ سرگودھا)
(۸) صادق سیالکوٹی (صلوٰۃ الرسول ص۱۸۸ نعمانی کتب خانہ لاہور)
(۹) ابو الحسن مبشر احمد ربانی (آپکے مسائل اور انکا حل ج۱ ص۱۲۵ مکتبہ قدوسیہ لاہور)
(۱۰) عبدالرحمن عزیز (صحیح نمازِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کتاب و سنت کی روشنی میں ص۱۴۸ b۔دارالاندلس لاہور)
(۱۱) عبدالمتین میمن (حدیث نماز ص۵۸)
(۱۲) شفیق الرحمن (نمازِ نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں ص۱۴۴ b۔ دارالسلام)
(۱۳) زبیر علی زئی (مقالات ج۱ ص۴۲۶۔۴۲۵، ماہنامہ الحدیث ص۲۴ ش نمبر۲۱)
(۱۴) ثناء اللہ ضیاء (نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں ص۱۲، ۱۳مکتبہ اسلامیہ فیصل آباد)
(۱۵) ارشاد الحق اثری (تعلیق مسند السراج ص۲۴ رقم ۹۷)
(۱۶) قاضی شوکانی (نیل الاوطار ج۸ ص۱۶۰، ج۱ ص۱۵۸)
(۱۷) شعیب الارناوط (حاشیہ شرح السنہ ج۳ ص۲۴)
(۱۸) زہیر الشاویش (ایضاً)
(۱۹ٗ) ناصر الدین البانی (تعلیقات مشکوٰۃرقم ۸۰۹)
(۲۰) رئیس ندوی (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز ص۳۹۴)
(۲۱) ابو الحسن سیالکوٹی (الظفر المبین ص۳۳۳، b۔ مکتبہ محمدیہ)
(۲۲) ندیم ظہیر غیر مقلد (ماہنامہ الحدیث ص۸ ش نمبر۱۱۹)
(۶) عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ م ۹۹ھ
حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے چھٹے راوی ‘‘ابو حفص عبدالرحمن بن الاسود بن یزید بن قیس النخعی الفقیہ رحمۃ اللہ علیہ’’ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن اربعہ و سنن طحاوی وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ ان کی توثیق و تعدیل کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱) حافظ ابو الحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ عبدالرحمن بن الاسود کو ‘‘ ثقۃفی الحدیث’’ لکھتے ہیں۔ (تاریخ الثقات ج۱ ص۲۸۸رقم ۹۳۲)
(۲) امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ فرماتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (الجرح والتعدیل للرازی : ج۵ ص۲۰۹)
(۳) حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ عبدالرحمن کے متعلق لکھتے ہیں ‘‘من العلماء العاملین، وکان فقیھاً عابداً ثقۃفاضلاً، کان من المتھجدین العباد ’’ (الکاشف ص۶۲۱رقم ۳۱۴۱، تاریخ اسلام ج۳ ص۱۱۳۰ ، سیر اعلام النبلاء ج۵ ص۱۱)
(۴) امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ فرماتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب التہذیب ج۴ ص۱۱)
(۵) حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ بھی عبدالرحمن کو ‘‘ثقہ’’لکھتے ہیں۔ (تقریب التہذیب ج۱ ص۳۳۶ رقم ۳۸۰۳)
(۷) علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲ھ
ساتویں راوی امام علقمہ بن قیس بن عبداللہ بن مالک رحمۃ اللہ علیہ بھی صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن اربعہ و سنن طحاوی وغیرہ کے ثقہ بالاجماع تابعی راوی ہیں متعدد ائمہ حضرات نے ان کی مدح و ثناء اور تعدیل و توثیق فرمائی ہے مثلاً-85
(۱) امام ابوالحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ نے علقمہ بن قیس کو ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔ (ملخصاً تاریخ الثقات ج۱ ص۳۳۹ رقم ۱۱۶۱)
(۲) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں ‘‘ ثقۃ من اھل الخیر ’’ (الجرح والتعدیل للرازی : ج۶ ص۴۰۴ رقم ۲۲۵۸)
(۳) امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھکہتے ہیں ‘‘ ثقۃ ’’ (ایضاً)
(۴) حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں ‘‘ الفقیہ المشہور……... وکان فقیھاً اماماً مقرئاً طیب الصوت بالقرآن ثبتاً حجۃً، کان فقیھاً اماماً بارعاً طیب الصوت بالقرآن ثبتاً فیما ینقل صاحب خیر وورع، فقیہ الکوفۃ وعالمھا ومقرئھا الامام الحافظ المجود المجتہد الکبیر ابوشبل’’ (تاریخ اسلام ج۲ ص۶۸۳ رقم ۷۵، تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۳۹ رقم ۲۴، سیر اعلام النبلاء :ج۵ ص۱۶رقم ۳۸۲)
(۵) علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھلکھتے ہیں ‘‘وکان فقیھاً مقرئاً طیب الصوت ثبتاً حجۃً ’’ (الوافی بالوفیات ج۲۰ ص۴۸)
(۸) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ م ۳۲ھ
آٹھویں راوی جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں آپ کا شجرہ نسب ‘‘عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمخ بن فار بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر’’ ہے سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا چھٹا نمبر تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حبشہ اور مدینہ منورہ دونوں طرف ہجرت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تقریباً تمام غزوات میں شامل ہوئے۔
اور یہ بات تو شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ آفتابِ نبوت سے اکتساب نور کرنے کے بعد تمام حضراتِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نجومِ ہدایت تھے بعض کو ایسے جزوی فضائل حاصل تھے کہ دوسرا کوئی ان میں ان کا ہم پایہ نہ تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی شخصیت بھی انہی حضرات میں سے ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معلمین قرآن میں سب سے پہلا نمبر ان کا بیان فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری ج۱ ص۵۳۱، صحیح مسلم ج۲ ص۲۹۳) اور فرمایا جس چیز کو تمہارے لئے ابن مسعود رضی اللہ عنہ پسند کرتے ہیں میں اس پر راضی ہوں۔ (مستدرک ج۳ ص۳۱۹) اور فرمایا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے عہد اور تحقیق کو مضبوطی سے قائم رکھو۔ (الاستیعاب ج۱ ص۳۵۹) سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں نے ماانزل اللہ (یعنی جو کچھ خدا تعالیٰ نے نازل کیا ہے) کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بڑا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیوں نہ ہو وہ ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہتے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کسی وقت حجاب نہیں کرتے تھے۔ (صحیح مسلم ج۲ ص۲۹۳) مشہور تابعی شفیق رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر کسی صحابی کر ترجیح نہیں دیتا۔ (مستدرک حاکم ج۳ ص۳۱۹) یہی وجہ ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ علیٰ رؤس الاشہاد فرمایا کرتے تھے اس خدا کی قسم جس کے بغیر کوئی دوسرا الٰہ نہیں قرآنِ کریم کی کوئی سورت اور کوئی آیت ایسی نہیں جس کا شانِ نزول مجھے معلوم نہ ہو کہ کس موقع اور کس حالت میں نازل ہوئی ہے۔ اور میں کتاب اللہ کا اپنے سے بڑا عالم کسی کو نہیں پاتا۔ (صحیح بخاری ج۲ ص۷۴۸، صحیح مسلم ج۲ ص۲۹۳) امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے بھی کتاب اللہ کے بڑے عالم ہیں۔ (شرح مسلم ج۲ ص۲۹۳) سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کو علم کا انبار کہا اور اہل کوفہ کی طرف تعلیم قرآن کیلئے ارسال کیا۔ (تاریخ بغداد ج۱ ص۱۴۷) آپ رضی اللہ عنہ مدینہ میں آکر بیمار ہوئے اور ۳۲ھ میں وفات ہوئی۔ بقیع کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ (الاصابہ رقم ۴۹۴۵ و حلیۃ الاولیاء ج۱ ص۱۲۴)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ بالا تحقیق سے معلوم ہوا کہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
فائدہ:
حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تحقیق کے نام پر انکار کرتے ہوئے خصوصاً رئیس ندوی غیر مقلد و زبیر علی زئی غیر مقلد نے اس پر مختلف بلادلیل لایعنی اور فاسد اعتراضات بوجہ جہالت و بغض وارد کیے ہیں ہم ان اعتراضات کا تحقیقی جائزہ پیش کرنے سے پہلے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ترکِ رفع یدین کی احادیث مختلف الفاظ کے ساتھ منقول ہیں بعض روایات میں ‘‘فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ جیسے ‘‘ فرفع یدیہ اوّل مرۃ، فلم یرفع یدیہ الا مرۃ، فلم یرفع یدیہ الا مرۃ واحدۃ، ولم یرفع یدیہ الا مرۃ، فرفع یدیہ اوّل مرۃ ثم لم یرفع -85الخ’’ کے ساتھ منقول ہیں۔ (ملاحظہ ہو سنن ترمذی ج۱ ص۹۰، سنن نسائی ج۱ ص۱۵۸، سنن ابی داود ج۱ ص۱۱۶، سنن کبریٰ للبیہقی :ج۲ ص۷۸، مدونۃ الکبریٰ ج۱ ص۱۶۰، سنن کبریٰ للنسائی ج۱ ص۳۵۱ وغیرہ) اور بعض روایات میں لفظ ‘‘ ثم لایعود ’’ اور اس کے روایت بالمعنی لفظ ‘‘ثم لم یعد’’ کے ساتھ منقول ہیں حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ ‘‘فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور ان کے روایت بالمعنی الفاظ ترک رفع یدین پر واضح نص اور دال ہیں اہلسنت والجماعت احناف کا دعویٰ ترکِ رفع یدین ان الفاظ سے واضح طور پر ثابت ہورہا ہے اور بندہ کا استدلال بھی ‘‘فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ ے ہے اور بندہ کی طرف سے نقل کردہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ ‘‘ثم لم یعود، ثم لم یعد’’ کے الفاظ سے خالی ہے اور ہمارا دعویٰ ترکِ رفع یدین لفظ ‘‘ثم لایعود’’ کے بغیر بھی ثابت ہے۔ فلھٰذا بعض حضرات سے ثم لایعود کی زیادتی کا اعتراض ہمارے خلاف پیش کرنا غلط ہوگا (اگرچہ باصول حدیث ثم لایعود کی زیادتی والا اعتراض بھی بالکل غلط، باطل و مردود ہے) کیونکہ عرض کیا جاچکا ہے کہ اہلسنت والجماعت احناف کا دعویٰ ترکِ رفع یدین لفظ ثم لایعود کے بغیر بھی ‘‘فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے واضح طور پر ثابت ہے۔ (والحمد للّٰہ علی ذٰلک)
زبیر علی زئی دھوکہ نمبر ۱:
آل غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے: سب سے پہلے عرض ہے کہ ثم لایعود، الا فی اوّل مرۃ اور الا مرۃ واحدۃ وغیرہ الفاظ کا مطلب ایک ہی ہے اور انہیں الفاظ پر محدثین کرام نے جرح کی ہے (بلفظہ تحقیقی مقالات ج۴ ص۲۷۳، b۔ مکتبہ اسلامیہ، انوار الطریق ص۹۱، b۔ مکتبہ الحدیث حضرو)
الجواب:
اوّلاً۔۔۔۔عرض ہے کہ آگے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات میں تفصیل سے آرہا ہے کہ بعض محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کی جرح صرف لفظ ثم لایعود پر ہے اور باقی حدیث کے الفاظ ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ وغیرہ اور سند بالکل صحیح ہے۔ زبیر علی زئی کا بغیر کسی دلیل و حوالے کے بعض محدثین کی لفظ ثم لایعود پر موجود جرح کو تمام الفاظ حدیث پر فٹ کرنا محض ہوائی قلعہ فتح کرنا ہے اگر زبیر علی زئی صاحب علمی استعداد رکھتے ہیں تو ذرا ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم سے ‘‘ اِلاّ فی اوّل مرۃ، اِلاّ مرۃ واحدۃ ’’ وغیرہ الفاظ پر اعتراض ثابت کرکے دکھائیں وگرنہ چپ سادھ کر گھر میں بیٹھے رہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں چند محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کی عبارات درج کردی جائیں تاکہ زبیر علی زئی صاحب کے اعتراض کی حقیقت آشکارا ہوجائے۔
(۱) حافظ محمد بن ابی بکر المعروف ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م۷۵۱ھ فرماتے ہیں:
وھذا الحدیث روی باربعۃ الفاظ احدھا قولہ فرفع یدیہ فی اوّل مرۃ ثم لم یعد والثانیۃ فلم یرفع یدیہ الا مرۃ، الثالثۃ فرفع یدیہ فی اوّل مرۃ لم یذکر سواھا والرابعۃفرفع یدیہ مرۃ واحدۃ والا دراج ممکن فی قولہ ثم لم یعد واما باقیاہ فاما ان یکون قدروٰی بالمعنٰی واما ان یکون صحیحاً۔
(تہذیب السنن ج۱ ص۸۶۳)
کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ چار قسم کے الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے اوّل ‘‘ فرفع یدیہ فی اوّل مرۃ ثم لم یعد ’’ کے الفاظ کے ساتھ دوم ‘‘فلم یرفع یدیہ الا مرۃ ’’ سوم ‘‘فرفع یدیہ فی اوّل مرۃ ’’ چہارم ‘‘ فرفع یدیہ مرۃ واحدۃ ’’ اس حدیث میں لفظ ثم لم یعد کا مدرج ہونا تو ممکن ہے لیکن باقی تمام الفاظ حدیث روایت بالمعنی کے طور پر ہیں اور وہ اسی طرح صحیح ہیں۔
(۲) ثقہ بالاجماع محدث جمال الدین الزیلعی رحمۃاللہ علیہ ۷۶۲ھ حافظ ابن القطان رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
والذی عندی انہ صحیح وانما النکر فیہ علی وکیع زیادۃ ثم لا یعود…….. وکذالک قال الدارقطنی انہ حدیث صحیح الا ھذہ اللفظۃ وکذالک قال احمد بن حنبل وغیرہ۔
(نصب الرایہ ج۱ ص۴۷۴، b۔ مکتبہ حقانیہ پشاور)
کہ میرے نزدیک حدیث ابن مسعود بالکل صحیح ہے اور انکار صرف وکیع کے الفاظ ثم لایعود کی زیادتی کا ہے اسی طرح امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر حضرات بھی یہی فرماتے ہیں کہ لفظ ثم لایعود کے بغیر حدیث ابن مسعوددیگر تمام الفاظ کے ساتھ صحیح ہے۔
(۳) حافظ علی بن محمد المعروف ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۸ھ لکھتے ہیں:
کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ میرے نزدیک لفظ ثم لایعود کے علاوہ اس کے راویوں کے عادل ہونے کی وجہ سے اقرب الی الصحۃ (صحیح) ہے اسی طرح امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین کرام رحمۃاللہ علیہم نے فرمایا ہے (ملخصاً بیان الوھم والایھام الواقعین فی کتاب الاحکام ج۳ ص۵۶۳ تا ۷۶۳ رقم ۹۰۱۱، b۔دارطیبہ)
(۴) امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ فرماتے ہیں:
واسنادہ صحیح وفیہ لفظۃ لیست بمحفوظۃ -85 الخ ۔
(العلل الواردۃج۵ ص۱۷۲ ،۱۷۳)
کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے مگر اسکے متن میں موجود لفظ ثم لایعودغیرمحفوظ ہے (یعنی امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حدیث لفظ ثم لایعود کے علاوہ بالکل صحیح ہے)۔
مذکورہ بالا حوالہ جات سے ثابت ہوگیا کہ بعض محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا اعتراض صرف لفظ ثم لایعود پر ہی ہے۔ اور باقی حدیث کی سند اور تمام الفاظ بالکل صحیح ہیں فلھٰذا زبیر صاحب کا بعض محدثین کی لفظ ثم لایعود پر موجود جرح کو تمام الفاظ حدیث پر فٹ کرنا محض فریب اور دھوکہ ہے۔
ثانیاً ۔۔۔۔ سنن نسائی کی روایت میں ‘‘اوّل مرۃ’’ اور ‘‘ثم لم یعد’’ دونوں الفاظ اکٹھے موجود ہیں ان دونوں الفاظ کا اکٹھا ایک ہی ساتھ وارد ہونا بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ دونوں الفاظ مختلف ہیں سنن نسائی کی روایت ملاحظہ ہو۔
اخبرنا سوید بن نصر قال انبانا عبداللّٰہ بن المبارک عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللّٰہ قال اَلاَ اخبرکم بصلاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال فقام فرفع یدیہ اوّل مرۃ ثم لم یعد۔
(سنن نسائی ج۱ ص۱۵۸)
الغرض اس روایت سے واضح ہوگیا کہ لفظ ثم لم یعد اور لفظ اوّل مرۃ کو ایک کہنا غلط ہے نیز اگر ان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے تو زبیر صاحب ہی بتائیں کہ پھر یہ دونوں الفاظ ایک ہی روایت میں ایک ہی ساتھ اکٹھے کیسے استعمال ہوگئے؟
ثالثاً۔۔۔۔پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ مدرج پر لکھی جانیوالی وہ تمام کتب جو فقط اسی عنوان پر ہی لکھی گئی ہیں کہ فلاں حدیث کے متن میں فلاں الفاظ راوی کی زیادتی ہیں یا فلاں الفاظ زائد ہیں اب اگر صرف ثم لا یعود کے الفاظ کی زیادتی پر اعتراض کی وجہ سے بقول زبیر علی زئی صاحب کے ساری حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ اِلاّ فی اوّل مرۃ اور اس کے روایت بالمعنی تمام الفاظ کے ساتھ ضعیف قرار دے دی جائے تو پھر یہ (مدرج پر لکھی جانیوالی تمام کتب) فضول و بے فائدہ قرار پائیں گی۔ افسوس ہے کہ زبیر صاحب اور ان کے رفقاء مسلکی تعصب میں مدہوش ہوکر کیا کیا کہہ جاتے ہیں؟
﴿ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراضات کے جوابات﴾
اعتراض نمبر۱:
غیر مقلد رئیس ندوی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:
عاصم نے روایت مذکورہ عبدالرحمن بن اسود سے نقل کی ہے اور عبدالرحمن نے اسے اپنے چچا علقمہ سے نقل کیا ہے اور عبدالرحمن کا سماع بتصریح منذری علقمہ سے ثابت نہیں۔ (تلخیص السنن للمنذری) اس علت قادحہ کو رفع کرنے اور علقمہ سے عبدالرحمن کا سماع ثابت کرنے پر مفتی نزیری کے امام مصنف بذل المجہود نے بڑا زور لگایا ہے مگر اپنے اثبات مدعا میں موصوف ناکام رہے ہیں۔ (بلفظہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز :ص۴۱۱۔۴۱۲)
الجواب:
آل غیر مقلدیت کے مفتی کا یہ اعتراض کتب اسماء الرجال وکتب حدیث اور اْصولِ حدیث سے بے علمی پر مبنی ہے ورنہ ایسا فضول و بے جان اعتراض نہ کرتے۔
اوّلاً ۔۔۔۔ تو حافظ منذری رحمۃ اللہ علیہ م۶۵۶ھ (بشرطِ ثبوت) جن کے غلط قول کا سہارا لے کر ندوی صاحب شور مچارہے ہیں ان کی شخصیت ہی سرے سے غیر مقلدین کے ہاں فن جرح و تعدیل میں کچھ زیادہ قابل اعتماد نہیں ہے ناصر الدین البانی غیر مقلد (جن کو ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی صاحب نے محدث العصر، امام المحدثین اور محقق امام قرار دیا ہے۔ (حاشیہ عبادات میں بدعات ص۱۲۸، ماہنامہ الحدیث ش۲ ص۳۵) نے حافظ منذری رحمۃ اللہ علیہ کو ائمہ جرح و تعدیل کی صف سے خارج کردیا ہے۔
چنانچہ حافظ منذری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الترغیب میں ایک حدیث کے راویوں کو ثقہ قرار دیتے ہیں تو اس پر ناصر الدین البانی غیر مقلد لکھتا ہے:
واسنادہ ضعیف فیہ عنعنۃ الولید بن مسلم وعبیداللّٰہ بن ابی بردۃ ولم یوثقہ احد حتی ولا ابن حبان فلا یغتر بقول المنذری۔
(تحقیق مشکوٰۃ:ج۱ ص۸۷)
اس کی سند ضعیف ہے اس میں ولید بن مسلم رحمۃ اللہ علیہ کا عنعنہ ہے اور عبیداللہ بن ابی بردہ کی (ائمہ جرح و تعدیل میں سے) کسی نے توثیق نہیں کی حتی کہ ابن حبان نے بھی نہیں۔ لہٰذا منذری کے قول سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں۔
اب جب امام منذری رحمۃ اللہ علیہ بقول فرقہ غیر مقلدیت کے محدث العصر، امام المحدثین اور محقق امام، اہل فن رجال میں سے نہیں ہیں تو پھر فرقہ غیرمقلدیت کے مفتی رئیس ندوی صاحب ان کے قطعی غلط قول کو کیوں پیش کررہے ہیں؟
نیز ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی صاحب بھی امام منذری رحمۃ اللہ علیہ کو ائمہ جرح و تعدیل میں سے نہیں سمجھتے، چنانچہ امام منذری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حدیث کی تصحیح کی جو کہ علی زئی کے مؤقف کے خلاف تھی اس لیے علی زئی نے امام منذری رحمۃ اللہ علیہ کی اس تصحیح کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا:
ابن جریج مدلس کی یہ روایت عن سے ہے، اور عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ (غیر صحیح میں) مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔ ابن جریج کی تدلیس کے باوجود حافظ منذری رحمۃاللہ علیہ کا ‘‘ رواتہ ثقات اثبات ’’ کی وجہ سے اسے صحیح کہنا بھی ناقابل فہم ہے۔ مدلس کے عن اور عدم تصریح سماع کے باوجود اس کی تصحیح کیونکر صحیح ہوسکتی ہے؟ (ماہنامہ الحدیث ۱۵/۳۲)
علی زئی صاحب کے اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں امام منذری رحمۃ اللہ علیہ علم حدیث میں اس قدر گئے گزرے ہیں کہ عام طالب علموں کی صف میں بھی شامل ہونے کے قابل نہیں ہیں، کیونکہ ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ مدلس کی عن والی روایت ضعیف ہوتی ہے حالانکہ یہ بات زبیر علی زئی جیسے علم سے تہی دامن شخص کو بھی معلوم ہے اب جب کہ غیر مقلدین کی نظر میں امام منذری رحمۃاللہ علیہ کا یہ مقام ہے تو پھر وہ یہاں (بشرطِ ثبوت) ان کے قطعی غلط قول کو پیش کرنے سے شرما کیوں نہیں رہے؟
آہ! شرم ان کو مگر نہیں آتی
ثانیاً ۔۔۔۔ متقدمین و متاخرین تقریباً تمام ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ کی علقمہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کردہ روایات صحیح و متصل ہیں اختصار کے پیش نظر چند ائمہ کرام رحمۃاللہ علیہم کے اسماء حاضر خدمت ہیں جنہوں نے عبدالرحمن کی علقمہ سے روایات کی تصحیح وغیرہ فرمارکھی ہے۔
(۱)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ قال: حدیث حسن صحیح۔
(سنن ترمذی :رقم ۲۵۳ باب ماجاء فی التکبیر عند الرکوع)
(۲)۔۔۔۔ امام دارقطنی رحمۃاللہ علیہ م۳۸۵ھ قال: ھذا اسناد ثابت صحیح۔
(سنن دارقطنی :رقم۱۲۸۲)
(۳)۔۔۔۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م۴۰۵ھ قال: ھذا حدیث صحیح علی شرط مسلم۔
(مستدرک حاکم :ج۱ ص۳۲۶ رقم ۸۱۵)
(۴)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ قال: علی شرط مسلم۔
(تلخیص مستدرک حاکم : ج۱ ص۳۴۶ رقم ۸۱۵)
(۵)۔۔۔۔ ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۶ھ قال: ھذا حدیث حسن صحیح۔
(شرح السنہ :رقم ۶۱۲ باب مایجزی الامی والعجمی من القراء ۃ)
(۶) ۔۔۔۔حافظ ابن عساکر رحمۃاللہ علیہ م ۵۷۱ھ قال: ھذا حدیث صحیح۔
(معجم الشیوخ ج۱ ص۴۰۹ رقم ۴۹۴)
(۷)۔۔۔۔ امام ابوعلی حسن بن علی الطوسی رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۲ھ قال: حسن۔
(مختصر الاحکام للطوسی :ج۱ ص۳۰۱)
(۸) ۔۔۔۔امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ قال: ھذا الخبر صحیح۔
(المحلی لابن حزم : ج۴ ص۵۷ مسئلہ نمبر ۴۴۲)
(۹) ۔۔۔۔حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۸ھ قال: اقرب الی الصحۃ۔
(بیان الوھم والایھام ج۳ ص۳۶۷)
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م۷۵۹ھ قال: ان رجال ھذا الحدیث علی شرط مسلم۔
(الجوھر النقی ج۲ ص۷۸)
ان جلیل القدر ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مقابلے میں(بشرط ثبوت) حافظ منذری رحمۃ اللہ علیہ کا بلادلیل قول باطل و مردود ہے۔
ثالثاً ۔۔۔۔ثقہ بالاجماع تابعی عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ م۹۹ھ کا ثقہ تابعی علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ م۶۲ھ سے لقاء و سماع ممکن ہے کیونکہ عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد امام اسماعیل بن ابی خالد رحمۃ اللہ علیہ م۱۴۶ھ، امام ابو اسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ م۱۲۶ھ وغیرہ کبار تابعین میں سے ہیں۔ امام ابو اسحاق السبیعی رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، سیدنا اْسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ وغیرہ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا ہے امام اسماعیل بن خالد رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو جیحفہ رضی اللہ عنہ وغیرہ حضرات کی زیارت کی ہے۔
نیز امام عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ مزی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خود سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پایا ہے اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وغیرہ کے شاگرد ہیں۔ (ملخصاً تہذیب الکمال للمزی : ج۱۶ ص۵۳۰ رقم ۳۷۵۸) الغرض عبدالرحمن بذاتِ خود کبیر تابعی ہونے کے علاوہ جلیل القدر کبار تابعین کے استاذ ہیں اور ان کا امام علقمہ بن قیس رحمۃاللہ علیہ سے سماع اور لقاء دونوں ممکن ہیں (کیونکہ جب امام عبدالرحمن نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو پایا ہے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے شاگرد امام علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ کو تو بطریق اولیٰ پایا ہے)۔ اور ان کا علقمہ سے سماع اور لقاء دونوں کا ممکن ہونا ہی بقول علمائے غیر مقلدین کے اتصال سند کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ بقول غیر مقلدین سند کے اتصال کے لئے راوی اور مروی عنہ کے درمیان امکان لقاء اور امکان سماع ہی ضروری ہے ثبوت لقاء یا ثبوتِ سماع ضروری نہیں۔
چنانچہ غیر مقلد محمد گوندلوی لکھتا ہے:
باقی رہا یہ اعتراض کہ مکحول کا سماع محمود سے ثابت نہیں عدم ثبوت صحت حدیث کے منافی نہیں کیونکہ صحت حدیث کیلئے صرف استاد اور شاگرد کی ملاقات کا ممکن ہونا کافی ہے عدم ثبوت سے نفی لازم نہیں آتی۔
(خیر الکلام :ص۱۶۷)
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے:
اور اْصول حدیث کا یہ قاعدہ ہے کہ اتصال سند کے لئے امکان لقاء ہی کافی ہے جیسا کہ امام مسلم نے کہا ہے۔
(توضیح الکلام ج۲ ص۵۹۱)
عبدالرحمن مبارکپوری صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں:
کہ اتصال سند کے لئے معاصرت شرط ہے اور معاصرت کا مطلب عندالمحدثین یہ ہے کہ راوی اور مروی عنہ کے درمیان ملاقات ممکن ہو۔
(ابکار المنن ص۱۴۵، ۱۴۶)
فلھٰذا جب عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ اور علقمہ رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان سماع اور ملاقات دونوں ممکن ہیں اور یہی اتصال سند اور صحت حدیث کے لئے ندوی صاحب کے اکابرین کے بقول کافی ہے تو اب اگر بالفرض عبدالرحمن کے علقمہ سے سماع کا ثبوت نہ بھی ہو تو تب بھی اس حدیث کی سند متصل اور صحیح ہے مگر افسوس ہے کہ ندوی صاحب اور ان کے رفقاء مسلکی تعصب میں مدہوش ہو کر اپنے بڑوں کی تحریرات سے اعلان بغاوت کرتے ہوئے عدم ثبوت سماع کو علت قادحہ قرار دے رہے ہیں۔
رابعاً ۔۔۔۔امام عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ مدلس نہیں تھے (فیما اعلم) اور غیر مقلدین کے نزدیک اگر راوی مدلس نہ ہو اور راوی اور مروی عنہ کے درمیان ملاقات اور سماع ممکن ہو تو اب اگر راوی صیغہ عن کے ساتھ روایت بیان کرے تو اس راوی کا یہ عنعنہ اتصال پر محمول ہوگا اور اس راوی کا عنعنہ ہی دلیل سماع ہوگا۔ چنانچہ زبیرعلی زئی صاحب غیرمقلد ایک جگہ محمد بن عبداللہ الصفار کا ابو اسماعیل السلمی سے سماع اور ملاقات ثابت کرنے کیلئے فیض الرحمان ثوری غیر مقلد کے حوالے سے لکھتے ہیں:
(محمد بن عبداللہ الصفار) مدلس نہیں تھے لہٰذا ان کا عنعنہ اتصال پر محمول ہے۔
(ملخصاً نور العینین ص۱۲۰، ۱۲۱)
فلھٰذا زبیر صاحب کے اْصول کی روشنی میں ہم بھی بطور الزامی جواب کے کہتے ہیں کہ امام عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ مدلس نہیں تھے لہٰذا ان کا عنعنہ اتصال پر محمول ہے۔
خامساً ۔۔۔۔حافظ ابوبکر احمد بن علی الخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ اور امام عبیداللہ بن علی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۵۸۰ھ دونوں حضرات تحریر فرماتے ہیں:
‘‘ سمع اباہ وعلقمۃ بن قیس ’’
کہ امام عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد محترم اور (اپنے چچا) امام علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے احادیث سنی ہیں ۔
(المتفق والمفترق ج۳ ص۱۴۸۷ رقم ۸۱۴ تجرید الاسماء والکنٰی ج۲ ص۴۷)
نیز حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ، امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ، حافظ ابن عساکر رحمۃاللہ علیہ م۵۷۱ھ، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ م۸۵۲ھ، علامہ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھ، حافظ ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ، حافظ ابن منجویہ رحمۃ اللہ علیہ م۴۲۸ھ وغیرہم نے صراحت فرمارکھی ہے کہ عبدالرحمن نے علقمہ سے احادیث روایت کی ہیں ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ۔۔۔۔تاریخ اسلام : ج۲ ص۱۱۳۰ رقم ۱۲۸
(۲) ۔۔۔۔سیر اعلام النبلاء: ج۵ ص۱۱ رقم ۸
(۳)۔۔۔۔ الجرح والتعدیل للرازی : ج۵ ص۲۰۹ رقم ۹۸۶
(۴)۔۔۔۔ تاریخ دمشق لابن عساکر :ج۳۴ ص۲۲۵ رقم ۳۷۶۱
(۵) ۔۔۔۔تہذیب التہذیب : ج۶ ص۱۴۰ رقم ۲۸۸
(۶) ۔۔۔۔مغانی الاخیار للعینی :ج۲ ص۱۷۳ رقم ۱۴۵۳
(۷)۔۔۔۔ رجال صحیح مسلم لابن منجویہ : ج۲ ص۱۰۴ رقم ۱۲۵۹ وغیرہم
سادساً۔۔۔۔مسند احمد بن حنبل میں بسند صحیح عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ کا علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے سماع اور لقاء ثابت ہے مسند کی سند ملاحظہ ہو:
حدثنا یحییٰ بن آدم حدثنا عبداللّٰہ بن ادریس املاہ عَلَیَّ من کتابہ عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الاسود حدثنا علقمۃ عن عبداللّٰہ قال علمنا۔۔ -85 الخ۔ (مسند احمد بن حنبل ج۷ ص۸۷ رقم ۳۹۷۴)
لیجئے-85! مسند احمد کی اس صحیح السند روایت نے تو غیر مقلدیت کے زیربحث اعتراض کے غبارے سے ساری ہوا ہی نکال دی۔ اس واضح تصریح سماع کے باوجود اب بھی اگر کوئی غیر مقلد عدم سماع والا اعتراض کرتا ہے تو اس کا علاج کسی دماغی ہسپتال میں کرانا چاہیے۔
نیز غیر مقلدین کے نزدیک مستند رسالہ جزء رفع یدین میں بھی سماع کی تصریح موجود ہے سند ملاحظہ ہو:
حدثنا الحسن بن ربیع حدثنا ابن ادریس عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود حدثنا علقمۃ ان عبداللّٰہ رضی اللّٰہ عنہ ۔۔-85 الخ۔
(جزء رفع یدین : رقم ۳۲)
فلھٰذا بالتحقیق والیقین ثقہ تابعی عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ کا علقمہ بن قیس رحمۃاللہ علیہ سے سماع بلاشک و شبہ ثابت ہے اور رئیس ندوی صاحب کا اعتراض باطل و مردود ہے۔
ندوی جھوٹ نمبر ۲:
پھر رئیس ندوی صاحب کا دوغلا پن ملاحظہ کریں کہ وہ یہاں تو ترک رفع یدین کی دشمنی میں علقمہ سے عبدالرحمن کے عدم ثبوت سماع کا بوجہ جہالت و بغض بہانا بناکر حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ضعیف قرار دے رہے ہیں (حالانکہ ماقبل میں گزر چکا ہے کہ عبدالرحمن کا علقمہ رحمۃ اللہ علیہ سے سماع بسند صحیح ثابت ہے)، جبکہ دوسری جگہ امام عبدالرحمن بن الاسود رحمۃ اللہ علیہ کی علقمہ بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کردہ بوقت رکوع تطبیق کے متعلقہ اپنی پسندیدہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح قرار دیا ہے ۔
چنانچہ ندوی صاحب لکھتے ہیں:
اس بات کو ناظرین کرام ذہن نشین رکھتے ہوئے صحیح سند کے ساتھ مروی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں ‘‘ان عبداللّٰہ بن مسعود قال علمنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الصلٰوۃ۔۔ -85الخ۔’’
(بلفظہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز: ص۴۰۱)
قارئین کرام۔۔۔! آپ کتب حدیث اٹھا کر دیکھیں ان میں حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ جس کو ندوی صاحب صحیح قرار دے رہے ہیں وہ عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ کی سند کے ساتھ ہے مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ مصنف ابن ابی شیبہ :ج۱ ص۱۴۰ رقم ۱۸۸
(۲) ۔۔۔۔سنن ابی داود: ج۱ ص۱۹۹ رقم ۷۴۷
(۳)۔۔۔۔ سنن النسائی :ج۱ ص۳۲۱ رقم ۱۰۳۱
(۴) ۔۔۔۔المنتقٰی لابن الجارود ر: ج۱ ص۵۹ رقم ۱۹۶
(۵) ۔۔۔۔صحیح ابن خزیمہ : ج۱ ص۳۰۱ رقم ۵۹۵
(۶) ۔۔۔۔سنن الدارقطنی : ص۱۲۸۱ رقم ۱۲۸۱
(۷)۔۔۔۔ مستدرک حاکم :ج۱ ص۳۴۶ رقم ۸۱۵
(۸) ۔۔۔۔السنن الکبریٰ للبیہقی :ج۲ ص۱۱۲ رقم ۳۵۳۲
(۹) ۔۔۔۔العلل و معرفۃ الرجال لاحمد : ج۱ ص۳۷۰ رقم ۷۱۴
(۱۰) ۔۔۔۔مسند احمدبن حنبل: ج۷ ص۸۲ رقم ۳۹۷۴
یہ ہے فرقہ غیرمقلدیت کے محقق رئیس ندوی صاحب کا حال کہ اگر عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کی علقمہ سے حدیث ان کی مرضی کے مطابق ہو تو اس کی تصحیح کرتے ہیں اور اگر اسی عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ کی علقمہ رحمۃاللہ علیہ سے نقل کردہ حدیث ان کی مرضی کے خلاف آجائے تو اس کی تضعیف کرتے ہیں جیسا کہ ندوی صاحب کی تحریر سے ظاہر ہے بتائیں کہ یہ دو پیمانے کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ جبکہ ندوی صاحب کے بقول ہی علمی تضاد کذاب اور وضاع ہونے کی دلیل ہے (ملاحظہ ہو سلفی تحقیقی جائزہ :ص۸۶۵) فلھٰذا ندوی صاحب اپنی ہی تحریرات کی روشنی میں کذاب اور افتراء پرداز ہیں۔
مزید لطف کی بات یہ ہے کہ مذکورہ تطبیق کے متعلقہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نقل کردہ کے بعد ندوی صاحب نے ‘‘جزء رفع الیدین ص۹۱، مسند احمد ج۱ ص۴۱۸، العلل للامام احمد ج۱ ص۱۱۷، کا حوالہ پیش کیا ہے (ملاحظہ ہو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز: ص۴۰۱) جبکہ ان تینوں کتب کے مذکورہ صفحات پر عبدالرحمن کے علقمہ سے سماع کی واضح تصریح موجود ہے اس سے معلوم ہوا کہ رئیس ندوی صاحب کے علم میں بھی تھا کہ عبدالرحمن کا علقمہ سے سماع بسند صحیح ثابت ہے مگر یہاں ترکِ رفع یدین دشمنی میں علقمہ سے عبدالرحمن کے سماع کا انکار کردیا۔ یہ ہے رئیس ندوی صاحب کا انصاف!
تیری زلف میں ٹھہری، تو حسن کہلائی
وہی تیرگی جو میرے، نامہ سیاہ میں تھی
اعتراض نمبر۲:
زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق رئیس ندوی غیر مقلد لکھتا ہے:
یہ حدیث امام سفیان بن سعید ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے معنعن نقل کی ہے جو مدلس ہیں اور ان کی مدلس روایت ساقط الاعتبار ہے۔ (بلفظہ مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ :ص۵۷۲) یہی اعتراض عبدالرحمن غیر مقلد اور زبیر علی زئی غیر مقلد نے بھی کیا ہے۔ (ملاحظہ ہو التنکیل ج۲ ص۷۷۲، نور العینین ص۱۳۴)
الجواب:
اولاً ۔۔۔۔مدلس رایوں کے مختلف طبقات ہیں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ کی طبقاتی تقسیم کے مطابق پہلے اور دوسرے طبقہ کے مدلسین کی معنعن روایات( تخصیصات کے علاوہ) بالکل صحیح و قابل حجت ہیں۔ امام سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ م ۱۶۱ھ طبقہ ثانیہ کے مدلس ہیں اور چونکہ طبقہ ثانیہ کے مدلس راویوں کی بیان کردہ معنعن احادیث صحیح و قابل حجت ہوتی ہیں۔ اس لئے اْصول کے مطابق سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کی معنعن زیر بحث حدیث بالکل صحیح ہے۔ اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا الزام باطل و مردود ہے۔ اس اْصولی ضابطہ کے بعد محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم عرب محققین اور فریق مخالف کے ہم مسلک مستند علماء غیر مقلدین کے اسماء کی باحوالہ ایک فہرست حاضر خدمت ہے۔ جنہوں نے صراحتاً سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو دوسرے طبقہ کا مدلس قرار دیا ہے یا طبقات المدلسین کا اقرار کرتے ہیں ملاحظہ ہو:
(۱) ۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ م۸۵۲ھ:
(طبقات المدلسین :ص۱۳۱،لنکت: ج۲ ص۶۳۹)
(۲) ۔۔۔امام ابوزرعہ العراقی رحمۃ اللہ علیہ م۸۲۶ھ:
(کتاب المدلسین :ص۵۲)
(۳) ۔۔۔۔برھان الدین الحلبی رحمۃ اللہ علیہ م۸۴۱ھ:
(التبیین لاسماء المدلسین: ص۲۱)
(۴)۔۔۔۔ حافظ صلاح الدین العلائی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۱ھ:
(جامع التحصیل فی احکام المراسیل :ص۱۳۰)
(۵)۔۔۔۔ طاہر بن صالح السمعونی الجزائری رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۳۸ھ:
(توجیہ النظر :ص۲۵۱)
(۶) ۔۔۔۔۔حافظ ابن حزم الظاھری الاندلسی القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۶ھ:
(ایضاً)
(۷) ۔۔۔۔شیخ حماد بن محمد الانصاری:
(اتحاف ذوی الرسوخ: ص۳)
(۸) ۔۔۔۔عبدالعزیز بن محمد قاسم غماری:
(شرح منظوم الذھبی : ص۴)
(۹) ۔۔۔۔مسفر بن عزم اللہ الدمینی:
(تدلیس فی الحدیث ص:۲۶۴)
(۱۰)۔۔۔۔ شیخ صالح بن سعید عومارالجزائری:
(التدلیس واحکامہ: ص۱۵۱،۱۴۸، ۱۵۰)
(۱۱) ۔۔۔۔دکتورناصرین حمد الفہد:
(منھج المتقدمین )
(۱۲)۔۔۔۔ عواد الحسین الخلف:
(روایات المدلسین فی صحیح بخاری: ص۱۷۰)
(۱۳)۔۔۔۔ محمد بن علی اللولوی:
(فانظر الجلیس الانیس)
(۱۴)۔۔۔۔ احمد بن علی سیرالمبارکی:
(فانظر تعریف اھل التقدیس)
(۱۵)۔۔۔۔ عاصم بن عبداللہ القریوتی:
(طبقات المدلسین: ص۳۲)
(۱۶)۔۔۔۔ رفعت فوزی:
(المدلسین حاشیہ ص۱۲ نمبر ۵۲)
(۱۷) ۔۔۔۔نافذ حسین:
(ایضاً)
(۱۸)۔۔۔۔ یحییٰ شفیق:
(التبیین لاسماء المدلسین بتحقیق یحییٰ :ص۲۸)
(۱۹)۔۔۔۔ عبدالرؤوف غیر مقلد:
(الاعتصام ص۱۴۰،۱۶۰، ۱۹۹۰ء)
(۲۰)۔۔۔۔ عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد م۱۳۵۳ھ:
(مقالات اثریہ: ص۲۴۵)
(۲۱) ۔۔۔۔بدیع الدین شاہ راشدی غیر مقلد:
(نشاط العبد بجہر ربنا ولک الحمد:ص۸۱،خطبات راشدی :ص۶۴)
(۲۲) ۔۔۔۔محمد یحییٰ گوندلوی غیرمقلد:
(خیر البراہین: ص۲۶)
(۲۳)۔۔۔۔ محب اللہ راشدی غیر مقلد:
(تسکین القلب المشوش باعطاء التحقیق فی تدلیس الثوری والاعمش: ص۳۰۴،، ہفت روزہ الاعتصام ص۱۹ جون ۱۹۹۳ء)
(۲۴) ۔۔۔۔عبداللہ روپڑی غیر مقلد :
(فتاویٰ اہلحدیث ج۱ ص۴۶۸)
(۲۵)۔۔۔۔ ارشاد الحق اثری غیر مقلد:
(توضیح الکلام :ج۱ ص۷۵۹، مقالات اثریہ ص:۲۵۴)
(۲۶) ۔۔۔۔محمد خبیب غیر مقلد:
(مقالات اثریہ: ص۲۱۴)
(۲۷)۔۔۔۔ عبدالرؤوف عبدالحنان غیر مقلد:
(القول المقبول: ۲۸/۲)
ثانیاً۔۔۔۔ تقریباً سوفیصدمحدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے عملاًامام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو قبول کیا ہے اختصار کے پیش نظر چند محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے حوالے حاضر ہیں جنہوں نے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو صحیح قرار دیا ہے یا ان سے استدلال کیا ہے۔ نیز یاد رہے بقول ارشاد الحق اثری غیر مقلد اور محمد گوندلوی غیر مقلد کے محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا کسی حدیث کو نقل کرکے استدلال کرنا اور اس پر جرح نہ کرنا اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً التحقیق الراسخ: ص۸۸، توضیح الکلام: ج۱ ص۲۰۶) فلھٰذا بقول غیر مقلدین محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو نقل کرکے استدلال کرنا اور جرح نہ کرنا ان کی صحت کی دلیل ہے اب حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
(۱)۔۔۔۔ امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ: قال ھذا حدیث حسن صحیح۔
(سنن ترمذی :رقم ۳۳۸۰، ۸۵۹، ۳۸۸۸، ۳۵۵۱، ۲۹۹۵)
(۲) ۔۔۔۔امام ابوعبداللہ الحاکم رحمۃاللہ علیہ م۴۰۵ھ: قال ھذا حدیث صحیح علٰی شرط الشیخین۔
(مستدرک حاکم ج۱ ص۱۲۸، ۲۱۱، ۱۵۲، ۲۳۳ رقم ۹۰، ۱۷۴، ۳۷۳، ۴۴۷، وغیرہ)
(۳)۔۔۔۔ حافظ شمس الدین الذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ: قال ایضاً ۔
(تلخیص مستدرک حاکم: ایضاً)
(۴) ۔۔۔۔حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م۷۵۰ھ: قال وھذا سند جید، حدیث علی شرط مسلم ۔
(الجوھر النقی: ج۱ ص۴۲۵ و ج۲ ص۷۸ حیدر آباد دکن)
(۵)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ: قال واسنادہ صحیح۔
(فتح الباری ج۶ ص۲۲۶ و فی طبعۃ ج۴ ص۲۰۳ قولہ باب الوصال)
(۶) ۔۔۔۔امام حافظ ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۸ھ: قال وھو الصحیح: وھٰذا اصح ۔
(السنن الکبریٰ للبیہقی :ج۱ ص۸۹، ج۴ ص۲۹)
(۷) ۔۔۔۔امام ابو الحسن الدارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ: قال صحیح، وھذا اسناد صحیح۔
(سنن الدارقطنی: ج۱ ص۲۰۷رقم ۵۲۵ و ج۲ ص۲۲۲ رقم ۲۲۳۶)
(۸) ۔۔۔۔حافظ ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۶ھ: قال ھذا الخبر صحیح۔
(المحلی بالاٰثار: ج۴ ص۵۷ مسئلہ نمبر ۴۴۲)
(۹) ۔۔۔۔امام ابو علی حسن بن علی رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۲ھ: قال حسن۔
(مختصر الاحکام : ج۱ ص۱۰۳)
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ: قال اقرب الی الصحۃ۔
(بیان الوھم والایھام: ج۱ ص۳۶۷)
(۱۱) ۔۔۔۔حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۲ھ: عندہ حدیث صحیح ۔
(ملخصاً شرح سنن ابن ماجہ: ص۱۴۶۷)
(۱۲)۔۔۔۔ امام ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ: ایضاً ۔
(ملخصاً شرح سنن ابی داود: ج۳ ص۳۴۱)
(۱۳)۔۔۔۔ حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃاللہ علیہ م۸۷۹ھ: ایضاً :
(التعریف الاخبار :رقم ۱۶۷)
(۱۴)۔۔۔۔ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م۷۵۱ھ: قال ان یکون صحیحاً ۔
(تہذیب السنن :ج۱ ص۳۶۸)
(۱۵)۔۔۔۔ حافظ ابو علی نیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۹ھ: صحح سنن النسائی۔
(مسئلہ فاتحہ خلف الامام از علی زئی :ص۵۲)
(۱۶)۔۔۔۔ حافظ ابو احمد ابن عدی رحمۃاللہ علیہ م۳۶۵ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۱۷)۔۔۔۔ حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۹۵ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۱۸)۔۔۔۔ امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م۴۰۹ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۱۹)۔۔۔۔ امام ابو یعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م۴۴۶ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۲۰)۔۔۔۔ امام ابو علی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۳ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۲۱)۔۔۔۔ امام ابوبکر الخطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ: ایضاً :
(ایضاً)
(۲۲) ۔۔۔۔امام بزار رحمۃ اللہ علیہ م۲۹۲ھ: قال وھذا الحدیث حسن الاسناد ۔
(مسندالبزار:ج۱ ص۱۹۴)
(۲۳)۔۔۔۔ امام ابو زکریا محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ م۶۷۶ھ: قال باسناد صحیح علی شرط مسلم ۔
(خلاصۃ الاحکام: ج۱ ص۳۰۵ رقم ۸۷۸)
(۲۴)۔۔۔۔ امام احمد بن محمد القسطلانی رحمۃ اللہ علیہ م۹۲۳ھ: قال باسناد حسن ۔
(شرح القسطلانی ج۲ ص۶۸ رقم ۷۲۸)
(۲۵)۔۔۔۔ امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۵ھ: استدل بہ ۔
(مصنف ابن ابی شیبہ :رقم ۳۴۷۳)
(۲۶)۔۔۔۔ حافظ ابن رجب الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۹۵ھ: ایضاً :
(فتح الباری ج۶ ص۲۹۴)
(۲۷)۔۔۔۔ امام ابن اثیر الجزری رحمۃ اللہ علیہ م۶۰۶ھ: ایضاً :
(جامع الاصول ج۶ ص۶۱۵ رقم ۳۸۸۰)
(۲۸)۔۔۔۔ امام ابو العباس شہاب الدین البوصیری رحمۃ اللہ علیہ م۸۴۰ھ: ایضاً :
(اتحاف الخیرۃ المھرۃ: رقم ۱۲۱۴)
(۲۹)۔۔۔۔ امام ابن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۰ھ: ایضاً :
(جامع البیان :ج۲۳ ص۲۰۳)
(۳۰)۔۔۔۔ امام ابو محمد حسین بن مسعود البغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۰ھ: ایضاً :
(تفسیر البغوی: ج۶ ص۳۵)
(۳۱)۔۔۔۔ امام ابوعبداللہ محمد بن احمد القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م۶۷۱ھ: ایضاً :
(تفسیر القرطبی : ج۱۷ ص۳۶۳)
(۳۲)۔۔۔۔ امام علاؤ الدین علی بن محمد المعروف بالخازن رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۱ھ: ایضاً :
(تفسیر الخازن: ج۴ ص۲۵۳)
(۳۳)۔۔۔۔ امام شمس الدین محمد بن احمد الشرینی رحمۃ اللہ علیہ م۹۷۷ھ: ایضاً :
(السراج المنیر: ج۴ ص۲۱۶)
(۳۴)۔۔۔۔ امام ضیاء الدین المقدسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۴۳ھ: ایضاً :
(الاحادیث المختارۃ: ج۱۰ ص۲۷۰)
(۳۵)۔۔۔۔ امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب النسائی رحمۃاللہ علیہ م۳۰۳ھ: ایضاً :
(سنن النسائی :رقم ۱۲۲۱، ۲۲۶۴، ۲۴۵۸، ۴۵۸۷، ۵۴۰۰، ۲۴۶۶، ۴۹۴۲، ۵۴۰۰، ۵۵۷۰۰، ۵۷۰۳، ۰۶ً۵۷)
(۳۶) ۔۔۔۔امام حافظ ابو داؤد سلیمان بن الاشعث السجستانی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ: ایضاً :
(سنن ابی داؤد: رقم ۴۴۸، ۵۵۳، ۶۷۶، ۹۲۸، ۱۶۲۶)
(۳۷)۔۔۔۔ امام ابو جعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۱ھ: ایضاً :
(شرح معانی الآثار: ج۱ ص۱۵۴)
(۳۸)۔۔۔۔ حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۴ھ: ایضاً :
(صحیح ابن حبان: رقم ۳۶۲۶، ۱۳۵۹، ۲۱۹۴)
(۳۹)۔۔۔۔ حافظ ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۱ھ: ایضاً :
(صحیح ابن خزیمہ :رقم ۱۹۰۴، ۲۰۰)
(۴۰)۔۔۔۔ امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۳ھ: ایضاً :
(سنن ابن ماجہ: رقم ۹۰، ۴۰۲۲، ۱۶۲)
ثالثاً۔۔۔۔بطور الزامی جواب کے عرض ہے کہ امام دارِ قطنی رحمۃاللہ علیہ م۳۸۵ھ کے بقول امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے دو متابع موجود ہیں۔ چنانچہ امام دارِ قطنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
یرویہ عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن علقمۃ، حدث بہ الثوری عنہ ورواہ ابوبکر النھشلی عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن ابیہ وعلقمۃ عن عبداللّٰہ، وکذالک رواہ ابن ادریس عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللّٰہ، واسنادہ صحیح ۔۔-85الخ۔
(العلل الواردۃ:ج۵ ص۱۷۲ رقم ۸۰۴)
کہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ ’’ کی سند سے روایت کیا ہے اور امام ابوبکر النہشلی نے ‘‘عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن ابیہ وعلقمۃ عن عبداللہ ’’ کی سند سے اور امام ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘ عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمہ عن عبداللہ’’ کی سند سے روایت کیا ہے۔ اور اس کی سند صحیح ہے۔۔۔ الخ۔
امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ سے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نقل کرنے میں منفرد نہیں ہیں بلکہ امام سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کی طرح امام ابوبکر النہشلی رحمۃ اللہ علیہ اور امام عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقل کی ہے اور یہ دونوں (امام ابوبکر النہشلی، اور امام عبداللہ بن ادریس;) امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے متابع ہیں اور بقول زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد کے اگر مدلس راوی کی متابعت ثابت ہوجائے تو تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے اور اس کی متابعت والی روایت بالکل صحیح شمار ہوتی ہے۔
چنانچہ غیر مقلد زبیر صاحب لکھتے ہیں:
مدلس کی اگر معتبر متابعت ثابت ہوجائے تو اس کی روایت قوی ہوجاتی ہے۔ (بلفظہ نور العینین:ص۱۳۹)
زبیر صاحب ایک دوسری جگہ مزید لکھتے ہیں:
مدلس راوی کی اگر معتبر متابعت یا قوی شاہد مل جائے تو تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے ۔(نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام: ص۳۷)
فلھٰذا بقول امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ چونکہ اس حدیث میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے متابع موجود ہیں اس لئے بقول زبیر صاحب اس حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا الزام باطل و مردود ہے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱:
زبیر علی زئی صاحب امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش کردہ متابعات کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ حوالہ بالکل بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ (بلفظہ تحقیقی مقالات :ج۳ ص۳۲۵)
الجواب:
اوّلاً۔۔۔۔ زبیر علی زئی صاحب کا یہ بھی ایک عجیب انصاف ہے کہ کسی امام کا کوئی قول جب ان کے مفاد کے خلاف ہو تو وہ اس کی سند کا مطالبہ کرتے ہیں یا پھر اس قول کو یہ کہہ کر رد کردیتے ہیں کہ یہ قول اس امام کی مطبوعہ کتاب میں موجود نہیں ہے۔ لیکن خود ان کو اس طرح کا کوئی بے سند قول اگر اپنے مفاد میں مل جائے تو پھر زبیر صاحب اس قول کو لچر قسم کی تاویلوں سے قابل استدلال قرار دے دیتے ہیں۔
مثلاً علی زئی بحوالہ حافظ ابن حجر تاریخ عباس الدوری کے حوالے سے ایک بے سند روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
یہ روایت عباس الدوری کی تاریخ میں نہیں ملی، لیکن بغیر قوی دلیل کے حافظ ابن حجر کی نقل کو رد کرنا محل نظر ہے۔
(ماہنامہ الحدیث ص۱۹، ش نمبر۱۱)
اسی طرح زبیر علی زئی نے مؤمل بن اسماعیل کے بارے میں حافظ عثمان بن سعید الدارمی کا ایک قول بحوالہ حافظ ابن رجب نقل کیا ہے، اور چونکہ یہ قول حافظ عثمان بن سعید رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘‘سوالات عثمان بن سعید الدارمی’’ میں موجود نہیں ہے، اس لئے زبیر صاحب نے یہ تاویل کردی کہ:
سوالاتِ عثمان بن سعید الدارمی کا مطبوعہ نسخہ مکمل نہیں۔
(ماہنامہ الحدیث :ص۱۹ ش نمبر۲۱)
نیز علی زئی صاحب شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقہ امام ابو سعد سمعانی رحمۃ اللہ علیہ م۵۶۲ھ کا ایک قول بحوالہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ بے سند نقل کرکے لکھتے ہیں:
یہ عبارت الانساب للسمعانی کے پانچ جلدوں والے نسخے سے گر گئی ہے۔
(ماہنامہ الحدیث: ص۷، ش نمبر۴۳)
سبحان اللہ! کیا خوب انصاف ہے کہ جب اپنی مرضی کے خلاف کوئی قول منقول ہو تو پھر سند اور اصل کتاب دکھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، اور جب اپنی مرضی کا قول مل جائے تو پھر نہ سند کی ضرورت رہتی ہے، اور نہ ہی اصل کتاب کی، بلکہ اپنی شرمندگی پر پردہ ڈالنے کیلئے بلا ثبوت یہ دعویٰ کردیا جاتا ہے کہ یہ قول مطبوعہ کتاب سے گرگئی ہے۔
ع جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے
ثانیاً۔۔۔۔امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ متابعت امام دارِ قطنی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب العلل میں پیش کی ہے اور کتاب العلل کا بنیادی مقصد ہی کسی حدیث میں مخفی علتیں بیان کرنا ہے۔ اور امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر تمام متقدمین و متاخرین محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے کسی مقام پر اس حدیث کی علت میں یہ نہیں لکھا کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث عاصم بن کلیب سے نقل کرنے میں تدلیس سے کام لیا ہے، خصوصاً امام دارِ قطنی رحمۃ اللہ علیہ کی امامت، ثقاہت، اور جلالت شان کے تو خود علی زئی صاحب بھی معترف ہیں۔
چنانچہ زبیر صاحب امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
تمام محدثین آپ کی امانت ثقاہت اور جلالت شان پر متفق ہیں، قاضی شیخ الاسلام ابو الطیب طاہر بن عبداللہ الطبری رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۴۰۵ھ) نے فرمایا:
‘‘ کان الدارقطنی امیر المؤمنین فی الحدیث ’’کہ حدیث میں دارقطنی امیر المؤمنین تھے۔(تاریخ بغداد: ۳۶/۲۱وسندہ صحیح)
حافظ عبدالغنی بن سعید نے امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنے زمانے میں حدیث پر بہترین کلام کرنے والا قرار دیا ہے ۔(تاریخ بغداد: ۳۶/۱۲وسندہ صحیح)
اللہ تعالیٰ نے امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ کو بے پناہ حافظہ عطاء کیا تھا۔ جیسا کہ کتب تاریخ میں صحیح سندوں کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً دیکھئے النبلاء (۴۵۶/۱۶)
خطیب بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے (مشہور امام برقانی سے پوچھا: کیا ابو الحسن الدار قطنی (اپنی) کتاب العلل آپ کو زبانی لکھواتے تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! ۔(تاریخ بغداد ۳۷/۱۲)
کتاب العلل کی گیارہ جلدیں چھپ چکی ہیں اور مزید جلدیں چھپ رہی ہیں۔ یہ فن حدیث کے مشکل ترین علم میں عظیم الشان کتاب ہے جسے حافظ امام دارقطنی نے زبانی لکھایا ہے۔ (یہ کتاب اب سولہ جلدوں میں مطبوع ہے۔ والحمدللہ)
معلوم ہوا کہ اپنے دور میں وہ روئے زمین پر سب سے بڑے حافظ تھے۔ اسی وجہ سے حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس امر عظیم پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ دیکھئے النبلاء۴۵۵/۱۶
( بلفظہ تحقیقی مقالات: ج۳ ص۳۴۳، ۳۴۴)
اب امام دارقطنی رحمۃاللہ علیہ کے پیش کردہ متابعات کو رد کرنا خود علی زئی صاحب کے ہی اصولوں کی روشنی میں غلط ہے کیونکہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ علل حدیث کے ماہر محدث ہیں اور زبیر صاحب باقاعدہ کسی دینی ادارے کا فاضل نہ ہونے کی وجہ سے علم حدیث سے بالکل جاہل ہیں۔ ان کے مقابلے میں زبیر علی زئی جیسے اناڑی کی بات کی کیا وقعت رہ جاتی ہے کیونکہ زبیر نے یہ خود لکھا ہے کہ:
جس طرح جوہر کے بارے میں جوہری، طب کے بارے میں طبیب، انجن کے بارے میں انجینئر وغیرہ کی بات تسلیم کی جاتی ہے، اسی طرح حدیث کے بارے میں بھی اہل الحدیث (محدثین) کی بات ہی حجت ہے۔فن میں فن والے کی ہی بات مانی جاسکتی ہے، دوسرے کی نہیں۔
(ماہنامہ الحدیث ص۸، ش نمبر۲)
نیز جس طرح علی زئی صاحب نے اپنی ایک مرضی کی بے سند روایت کے بارے میں لکھا ہے کہ ‘‘بغیر کسی قوی دلیل کے حافظ ابن حجر کی نقل کو رد کرنا محل نظر ہے۔ (الحدیث ش نمبر۱۱ ص۱۹) اسی طرح ہم بھی یہاں بطور الزام کے کہتے ہیں کہ اناڑی علی زئی کا علل حدیث کے ماہر امام دارِ قطنی رحمۃ اللہ علیہ کے پیش کردہ متابعات کو بغیر کسی قوی دلیل کے رد کرنا محل نظر ہے۔
رابعاً ۔۔۔۔یہ بات تو خود زبیر علی زئی صاحب غیر مقلد کو بھی تسلیم ہے کہ متعدد راویوں نے امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنوی متابعت کررکھی ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
(امام سفیان، ناقل) ثوری کی معنوی متابعت حفص، مغیرہ اور حصین وغیرہ نے بھی کی ہے مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۳۶ وغیرہ۔
(بلفظہ نور العینین :ص۴۸)
اور اٰل غیر مقلدیت کے محقق رئیس ندوی صاحب کے بقول معنوی متابعت سے تدلیس کا الزام رفع ہوجاتا ہے۔
چنانچہ رئیس ندوی غیر مقلد ایک جگہ لکھتا ہے:
البتہ بقیہ مدلس ہیں اور اس روایت میں تدلیس موجود ہے جو معنوی متابع سے دور ہوجاتی ہے۔
(بلفظہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز: ص۱۳۸)
نیز خودعلی زئی صاحب لکھتے ہیں:
مدلس راوی کی اگر معتبر متابعت یا قوی شاہد مل جائے تو تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے۔
(نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام :ص۳۷)
لیجئے-85! ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا جواب خود معترضین کی عبارات سے ہی ہوگیا۔
خامساً۔۔۔۔ اتمام حجت کے طور پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی نقل کردہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اب چند شواہد حاضر خدمت ہیں۔
شاہد نمبر۱:
حدثنا احمد بن داؤد قال حدثنا مسدد قال حدثنا خالد بن عبداللّٰہ قال حدثنا حصین عن عمرو بن مرۃقال دخلت مسجد حضر موت فاذا علقمۃ بن وائل یحدث عن ابیہ ان رسول اللّٰہ ﷺ کان یرفع قبل الرکوع وبعدہ فذکرت ذلک لابراھیم فغضب وقال راٰہ ھو لم یرہ ابن مسعودرضی اللّٰہ عنہ ولا اصحابہ۔
حضرت عمرو بن مرہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد حضر موت میں پہنچا تو حضرت علقمہ بن وائل رحمۃاللہ علیہ اپنے والد محترم سے قبل الرکوع وبعد الرکوع رفع یدین کی مرفوع حدیث بیان فرمارہے تھے تو میں نے یہ بات امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) سے عرض کردی تو وہ غصہ ہوگئے اور فرمایا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا ہے۔ تو کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین چھوڑتے ہوئے نہیں دیکھا ہے؟ (یعنی اگر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا ہے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے چھوڑتے بھی دیکھا ہے)۔
(شرح معانی الاٰثار :ج۱ ص۱۶۲، b۔ مکتبہ حقانیہ ملتان)
سند کی تحقیق:
اس روایت کے راویوں کی مختصر سی توثیق حاضر ہے ملاحظہ فرمائیں:
(۱) امام احمد بن داؤدرحمۃ اللہ م۲۸۲ھ
امام ابو عبداللہ احمد بن داؤد بن موسیٰ البصری السدوسی المکی رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوجعفر طحاوی رحمۃ اللہ علیہ، امام ابو القاسم طبرانی رحمۃ اللہ علیہ، دولابی رحمۃ اللہ علیہ، امام عقیلی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہم کے استاذ ہیں آپ کو متعدد ائمہ رجال نے ثقہ قرار دیا ہے مثلاً ۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ امام جمال الدین المعروف ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ م۵۹۷ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ اقام بمصروتوفی بھا ’’
(المنتظم فی تاریخ الملوک: ج۱۲ ص۳۴۶)
(۲) ۔۔۔۔امام عبدالرحمن بن احمد بن یونس رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ توفی فی صفر ’’
(تاریخ ابن یونس: ج۲ ص۲۳)
(۳)۔۔۔۔ حافظ ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ ابن یونس کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں ‘ ‘ ثقۃ ’’
(مغانی الاخیار :ج۱ ص۲۹ رقم ۴۵)
(۴)۔۔۔۔ حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(الثقات ممن لم یقع فی الکتب الستۃ: ج۱ ص۳۳۳)
(۲) امام مسدد بن مسرھد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۲۸ھ
امام مسدد بن مسرھد بن مسربل البصری الاسدی رحمۃ اللہ علیہ بخاری، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن النسائی و سنن طحاوی وغیرہ کے راوی ہیں، ان کی توثیق و تعدیل کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱) ۔۔۔۔امام ابو الحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(تاریخ الثقات للعجلی : ج۱ ص۴۲۵ رقم ۱۵۶۰)
(۲)۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں: ‘‘ صدوق ’ ’
(الجرح والتعدیل للرازی :ج۴ ص۴۳۸)
(۳) ۔۔۔۔امام حافظ ابو زکریا یحییٰ بن معین رحمۃاللہ علیہ م۲۳۳ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثقۃ ’’
(تاریخ اسلام :ج۵ ص۷۰۰ رقم ۴۲۳)
(۴)۔۔۔۔ امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(الجرح والتعدیل: ج۸ ص۴۳۸ رقم ۱۹۹۸)
(۵)۔۔۔۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ، الحافظ الحجۃ۔۔۔۔ احد اعلام الحدیث ’’
(المعین فی طبقات المحدثین ج۱ ص۹۱رقم ۱۰۱۳ تاریخ اسلام ج۵ ص۷۰۰ رقم ۴۲۳ سیر اعلام النبلاء ج۹ ص۱۵ رقم الترجمہ ۱۷۴۵)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘ ‘ ثقۃ حافظ ’’
(تقریب ج۱ ص۵۲۸)
(۳ ) امام خالد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۷۹ھ
امام خالد بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن یزید الطحان رحمۃ اللہ علیہ کتب صحاح ستہ وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں ائمہ رجال سے آپ کی ثقاہت حاضر ہے۔
(۱) ۔۔۔۔امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ آپ کے متعلق فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حافظ ’’
(تہذیب التہذیب ج۳ ص۱۰۰ رقم ۱۸۷)
(۲) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الحافظ الامام ۔۔ وکان عالماً صالحاً قانتاً للّٰہ، الحافظ الامام الثبت ’’
(تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۱۹۱، سیر اعلام النبلاء ج۸ ص۲۷۷)
(۳)۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صالحاً فی دینہ ’’
(تہذیب التہذیب :ج۳ ص۱۰۰ رقم ۱۸۷)
(۴) ۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صحیح الحدیث ’’
(ایضاً)
(۵)۔۔۔۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(ایضاً)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت ’’
(تقریب التہذیب ج۱ ص۱۸۹ رقم ۱۶۴۷)
(۴) امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۶ھ
امام حصین بن عبدالرحمن السلمی ابو الہذیل الکوفی رحمۃ اللہ علیہ کتب صحاح ستہ وغیرہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ آپ کو متعدد ائمہ رجال نے ثقہ قرار دیا ہے مثلاً۔۔۔
(۱) ۔۔۔۔امام ابو الحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ثبت فی المدینۃ ’’
(تاریخ الثقات للعجلی :ج۱ ص۱۲۲ رقم ۲۹۸)
(۲) ۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں: ‘‘ الثقۃ المامون من کبار اصحاب الحدیث ’’
(الجرح والتعدیل للرازی : ج۳ ص۱۹۳ رقم ۸۳۷)
(۳)۔۔۔۔ امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ کہتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(ایضاً)
(۴)۔۔۔۔ امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ فی الحدیث ’’
(ایضاً)
(۵)۔۔۔۔ امام ابو زرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۴ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(ایضاً)
(۶)۔۔۔۔ امام ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ کہتے ہیں: ‘‘ الثقۃ ’’
(تاریخ اسماء الثقات: ج۱ ص۶۵)
(۷) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ تحریر فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حجۃ۔ وکان ثقۃ حافظاً عالی السند ۔ ثقۃحجۃ حافظاً عالی السند۔ الحافظ الحجۃ المعمر’’
(الکاشف ج۱ ص۳۳۸ رقم ۱۱۲۸، تاریخ اسلام ج۳ ص۶۳۳ رقم ۵۱، تذکرۃ الحفاظ: ج۱ ص۱۰۸، سیر اعلام النبلاء:ج۵ ص۴۲۲)
(۸) ۔۔۔۔حافظ صلاح الدین خلیل بن ایبک الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۴ھ لکھتے ہیں: ‘‘ وکان ثقۃ حافظاً عالی السند ’’
(الوافی بالوفیات ج۱۳ ص۵۹ رقم۲)
(۵) امام عمرو بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۱۶ھ
امام عمرو بن مرہ بن عبداللہ بن طارق الجملی المرادی ابوعبداللہ رحمۃ اللہ علیہ بھی کتب صحاح ستہ کے راوی ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ ان کے متعلق امام یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۳ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’ (تہذیب الکمال :ج۲۲ ص۲۳۴)
(۲) ۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ کہتے ہیں: ‘‘صدوق ثقۃ ’’ (تہذیب الکمال :ج۲۲ ص۲۳۴)
(۳) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ تحریر فرماتے ہیں: ‘‘ احد الاعلام الحفاظ۔وکان ثقۃ ثبتاً اماماً۔ الامام القدوۃ الحافظ ۔ احد الائمۃ الاعلام ’’ (تاریخ اسلام :ج۳ ص۲۹۰ رقم ۲۱۱، تذکرۃ الحفاظ: ج۱ ص۹۱ رقم ۱۰۵، سیر اعلام النبلاء:ج۵ ص۵۰۲ رقم ۶۸۹)
(۴) ۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ عابد ’’ (تقریب التہذیب: ج۱ ص۴۲۶)
(۶) امام ابراہیم نخعی رحمۃاللہ علیہ م ۶۹ھ
امام ابراہیم بن یزید بن قیس بن الاسود بن عمرو بن ربیع النخعی رحمۃ اللہ علیہ جلیل القدر ثقہ بالاجماع تابعی ہیں ان کی ثناء و مدح اور توثیق و تعدیل کے حوالے تابعین کے آثار میں آرہے ہیں۔
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ بالا تحقیق سے معلوم ہوا اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں۔ نیز امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ تمام احادیث محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک حکماً متصل ہیں جیسا کہ اس پر مفصل بحث آثار صحابہ رضی اللہ عنہم کے تحت آرہی ہے۔ فلھٰذا باصول محدثین اس کی سند بالکل صحیح اور متصل ہے۔
شاہد نمبر۲:
حدثنا معاذ بن المثنٰی ثنا مسدد ثنا خالد ثنا حصین عن عمرو بن مرۃ قال دخلت مسجد حضر موت فاذا علقمۃ بن وائل یحدث عن ابیہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یرفع یدیہ قبل الرکوع وبعدہ فذکرت ذلک لابراہیم فغضب وقال رآہ ولم یرہ ابن مسعود واصحابہ۔
(المعجم الکبیر لطبرانی : ج۵ ص۳۸۷ رقم ۱۷۴۷۸)
حضرت عمرو بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد حضر موت میں پہنچا تو حضرت علقمہ بن وائل رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد محترم سے قبل الرکوع وبعد الرکوع رفع یدین کی مرفوع فعلی حدیث بیان فرمارہے تھے تو میں نے یہ بات امام ابراہیم نخعی (تابعی رحمۃ اللہ علیہ) سے عرض کردی تو وہ غصہ ہوئے اور فرمایا انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا ہے تو کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو( رفع یدین چھوڑتے ہوئے) نہیں دیکھا ہے؟ (یعنی اگر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا ہے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے چھوڑتے دیکھا ہے)۔
سند کی تحقیق:
اس حدیث کے راوی ابو المثنٰی معاذ بن مثنی بن معاذ العنبری رحمۃ اللہ علیہ م۲۸۸ھ کو امام ابو یعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م۴۴۶ھ، امام ابوبکر الخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھثقہ کہتے ہیں۔ (الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث: ج۲ ص۵۳۰، تاریخ بغداد ج۶ ص۸۳۷ رقم ۵۳۹) اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ جلیل، ثقۃ متقن ’’ (تاریخ اسلام ج۶ ص۸۳۷ رقم ۵۳۹، سیر اعلام النبلاء :ج۱۰ ص۵۱۵ رقم ۲۴۷۵) اور اس حدیث کے بقیہ تمام راویوں کا تذکرہ ماقبل میں گزرچکا ہے۔ فلھٰذا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اس کی سند بالکل صحیح اور حکماً متصل ہے۔
شاہد نمبر۳:
حدثنا محمد النضر الازدی ثنا معاویۃ بن عمرو ثنا زائدۃ عن حصین قال ذکر عمرو بن مرۃ عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی رفع یدیہ للصلاۃ قال حصین فقال ابراہیم: ماادری لعل وَائِلاً لم یر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم غیر ذلک الیوم فکیف حفظہ؟ ولم یحفظہ عبداللّٰہ واصحابہ، ھو اعلم برسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امر عبداللّٰہ فانما کان یرفع یدیہ افتتاحاً۔
(المعجم الکبیر لطبرانی :ج۵ ص۳۸۷ رقم ۱۷۴۷۷۷)
امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ عمرو بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ نے علقمہ بن وائل عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے نماز میں رفع یدین کرنا نقل کیا۔ امام حصین بن عبدالرحمن نے فرمایا کہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) نے فرمایا: یہ کیسے ہوسکتا ہے حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے اس دن کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان نہیں کیا۔ اور انہوں نے اس کومحفوظ کرلیا اور کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب نے محفوظ نہ کیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہیں کہ رفع یدین صرف شروع نماز میں ہی ہے (یعنی اگر وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ایک دن دیکھ کر محفوظ فرماسکتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمکے ساتھ مسلسل رہنے والے ہیں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع یدین چھوڑنے والے عمل کو بطریق اولیٰ محفوظ فرمایا ہے)۔
سند کی تحقیق:
اس حدیث کے راویوں میں سے امام حصین بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ، عمرو بن مرہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا تذکرہ گزر چکا اور بقیہ روایت کی توثیق و تعدیل کے حوالے حاضر ہیں۔
(۱) امام محمد بن نضر رحمۃاللہ علیہ م۲۹۱ھ
امام محمد بن احمد بن النضر بن عبداللہ بن مصعب الازدی رحمۃاللہ علیہ جلیل القدر محدث ہیں۔
(۱)۔۔۔۔ حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۴ھ اسے ثقہ کہتے ہیں۔
(کتاب الثقات ج۶ ص۱۵۳رقم ۱۵۷۲۹)
(۲) ۔۔۔۔امام عبداللہ بن احمد رحمۃ اللہ علیہ ثقہ کہتے ہیں۔
(تاریخ اسلام ج۶ ص۱۰۰۹ رقم ۳۶۹)
(۳) ۔۔۔۔حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ ثقہ کہتے ہیں۔
(الثقات ج۱ ص۱۹۴ رقم ۹۳۳۰۴)
(۴) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں۔ ‘‘ وکان ثقۃ ’’
(العبر: ج۱ ص۴۲۱)
(۵) ۔۔۔۔حافظ ابن العماد الحنبلی رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۸۹ھ فرماتے ہیں: ‘‘ وکان اماماً حافظاً ثقۃ من الرؤسا ’’
(شذرات الذھب :ج۳ ص۳۸۵)
(۲) امام معاویہ بن عمرو رحمۃاللہ علیہ م۲۱۴ھ
(۱) ۔۔۔۔معاویہ بن عمرو بن المھلب بن عمرو البغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق امام احمد بن حنبل رحمۃاللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں: ‘‘ صدوق ثقۃ ’’
(تہذیب التہذیب ج۱۰ ص۲۱۶ رقم ۳۹۶)
(۲) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ الامام الحافظ الصادق ’’
(سیر اعلام النبلاء:ج۱۰ ص۲۱۴ رقم ۵۳)
(۳)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(تقریب التہذیب ج۱ ص۸۳۵)
(۴) ۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(الجرح والتعدیل ج۸ ص۳۸۶)
(۳) امام زائدہ بن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ م۱۶۱ھ
امام ابو الصلت زائدہ بن قدامہ الثقفی الکوفی رحمۃ اللہ علیہ کتب صحاح ستہ کے ثقہ بالاجماع راوی ہیں۔ ان کو متعدد ائمہ رجال نے ثقہ قرار دیا ہے مثلاً۔۔۔۔
(۱) ۔۔۔۔امام ابو الحسن احمد بن عبداللہ العجلی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۱ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ ’’
(تاریخ الثقات ج۱ ص۱۶۳ رقم ۴۵۲)
(۲) ۔۔۔۔امام ابو حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ فرماتے ہیں: ‘‘ ثقۃ صاحب سنۃ ’’
(الجرح والتعدیل :ج۳ ص۶۱۳ رقم ۲۷۷۷)
(۳) ۔۔۔۔امام ابو زرعہ رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۴ھفرماتے ہیں: ‘‘صدوق من اھل العلم ’’
(ایضاً)
(۴) ۔۔۔۔حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ لکھتے ہیں: ‘‘ ثقۃ حجۃ صاحب سنۃ۔ وکان اماماً حجۃ صاحب سنۃ واتباع۔ الامام الحجۃ۔ الامام الثبت الحافظ ’’
(الکاشف ج۱ ص۴۰۰رقم ۱۶۰۸، تاریخ اسلام ج۴ ص۳۶۵، تذکرۃ الحفاظ ج۱ ص۱۵۸، سیر اعلام ج۷ ص۶۲)
(۵) ۔۔۔۔امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ فرماتے ہیں: ‘‘ من الاثبات الائمۃ ’’
(تہذیب التہذیب: ج۳ ص۳۰۷)
خلاصۃ التحقیق:
مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوا اس روایت کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں اور اس کی سند بالکل صحیح اور حکماً متصل ہے۔
شاہد نمبر۴:
حدثنا ابو عثمان سعید بن محمد بن احمد الحناط و عبدالوہاب بن عیسیٰ بن ابی حیۃقالانا اسحاق بن ابی اسرائیل نا محمد بن جابر عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃ عن عبداللّٰہ قال صلیت مع النبی ﷺ ومع ابی بکر و مع عمر رضی اللّٰہ عنھما فلم یرفعوا ایدیھم الا عند التکبیرۃالاولیٰ فی افتتاح الصلٰوۃ قال اسحاق بہ ناخذ فی الصلٰوۃ کلھا ۔
(سنن دارقطنی: ج۱ ص۳۹۹)
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر و عمررضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی۔ پس انہوں نے شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کیا۔ (ثقہ بالاجماع جلیل القدر محدث) اسحاق بن ابی اسرائیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم اسی حدیث کو عمل کے لیے لیتے ہیں۔
شاہد نمبر۵:
حدثنا ابن ابی داؤد قال حدثنا احمد بن یونس قال ثنا ابو الاحوص عن حصین عن ابراہیم قال کان عبداللّٰہ لا یرفع یدیہ فی شیء من الصلٰوۃ الا فی الافتتاح۔
ترجمہ:(ثقہ تابعی) ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
(شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۶۴، b۔ مکتبہ حقانیہ)
شاہد نمبر۶:
حدثنا وکیع عن مسعر عن ابی معشر عن ابراہیم عن عبداللّٰہ انہ کان یرفع یدیہ? فی اوّل ما یستفتح ثم لایرفعھما۔
بے شک سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۶۷)
شاہد نمبر۷:
اخبرنا سفیان الثوری قال حدثنا حصین عن ابراہیم عن عبداللّٰہ بن مسعود انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلٰوۃ۔
(کتاب الحجۃ: ج۱ ص۹۷)
بے شک سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ صرف شروع نما ز میں ہی رفع یدین فرماتے تھے۔
شاہد نمبر۸:
عبدالرزاق عن الثوری عن حماد قال سالت ابراہیم عن ذالک فقال یرفع یدیہ اوّل مرۃ۔
(مصنف عبدالرزاق ج۲ ص۷۱ رقم ۲۵۳۵)
امام حماد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے (ثقہ تابعی) ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ صرف شروع نماز میں رفع یدین کرتے تھے۔
شاہد نمبر۹:
عبدالرزاق عن الثوری عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود کان یرفع یدیہ فی اوّل شیء ثم لا یرفع بعد ۔
(مصنف عبدالرزاق ج۲ ص۷۱رقم ۲۵۳۳)
ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
شاہد نمبر۱۰:
حدثنا اسحاق بن ابراہیم عن عبدالرزاق عن حصین عن ابراہیم ان ابن مسعود کان یرفع یدیہ فی اوّل شیء ثم لا یرفع بعد۔
(المعجم الکبیر لطبرانی : ج۸ ص۱۹۴ رقم ۹۱۹۵)
بلاشک و شبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
شاہد نمبر۱۱:
عبدالرزاق عن ابن عیینۃ عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود مثلہ۔
(مصنف عبدالرزاق ج۲ ص۷۱ رقم الحدیث ۲۵۳۴)
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
شاہد نمبر۱۲:
حدثنا علی بن عبدالعزیز ثنا حجاج بن المنھال ثنا حماد بن سلمۃ عن حماد عن ابراہیم عن عبداللّٰہ بن مسعود انہ کان اذا دخل الصلاۃ رفع یدیہ ثم لا یرفع بعد ذالک ۔
(المعجم الکبیر لطبرانی :ج۸ ص۱۹۴رقم ۹۱۹۷)
بلاشک و شبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
تنبیہ:
شاہد نمبر۵ تا ۱۲ کی روایات کے راویوں کی تحقیق آثار صحابہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے آثار کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔
قارئین کرام! مذکورہ بالا تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی نقل کردہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے کم و بیش بارہ شواہد موجود ہیں اور یہ اصول تو خود زبیر غیر مقلد کو بھی تسلیم ہے کہ شواہد کی بنیاد پر تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے اور وہ روایت قوی شمار ہوتی ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
مدلس راوی کی اگر معتبر متابعت یا قوی شاہد مل جائے تو تدلیس کا الزام ختم ہوجاتا ہے۔
(نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام: ص۳۷)
اسی طرح ایک جگہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو اپنے بزعم زبیر صاحب نے شواہد کی بنیاد پر صحیح قرار دیا ہے۔ (ملخصاً تسہیل الوصول ص۱۱۲ رقم ۱۲۸) فلھٰذا اصول کے مطابق زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا الزام شواہد کی وجہ سے باطل و مردود ہے۔
سادساً ۔۔۔۔خود فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین نے متعدد مقامات پر امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی عنعنہ کے ساتھ بیان فرمائی ہوئی احادیث کو یا تو صراحتاً صحیح قرار دیا ہے یا احتجاج کیا ہے یا اہلسنّت کے خلاف پیش کی ہیں مثلاً ۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ سنن ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو بْرا مت کہو۔ ان میں سے ایک کا ایک گھڑی کھڑے ہونا تم میں سے کسی کی عمر بھر کی نیکی سے بہتر ہے۔
اس اثر کو ناصرالدین البانی غیر مقلد نے حسن قرار دیا ہے حالانکہ اس اثر کی سند ‘‘سفیان عن نسیر’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ بتحقیق ناصر الدین البانی ص۴۴ رقم ۱۶۲)
(۲)۔۔۔۔ سنن ابن ماجہ میں ‘‘سفیان عن الاسود بن قیس۔۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے چلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت ملائکہ کے لئے چھوڑ دیتے (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے فرشتے چلا کرتے تھے) اس حدیث کو ناصر الدین البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ بتحقیق الالبانی ص۶۰رقم الحدیث ۲۴۶)
(۳)۔۔۔ سنن ابن ماجہ میں ‘‘سفیان عن ابی اسحاق عن ابی حیۃ ۔۔۔ الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی اثر میں ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کھجور کے عوض ڈول کھینچتا تھا اور یہ شرط ٹھہرالیتا تھا کہ عمدہ کھجور لوں گا۔ اس اثر کو البانی غیر مقلد نے حسن قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابن ماجہ بتحقیق الالبانی ص۴۱۷ رقم الحدیث ۲۴۴۷)
(۴)۔۔۔۔ سنن ابن ماجہ میں ‘‘سفیان الثوری عن سلیمان الشیبانی۔۔۔ الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کرلوں؟ تو فرمایا جی ہاں-85! اس حدیث کو البانی غیر مقلد نے صحیح الاسناد لکھا ہے۔ (ایضاً ص۴۹۲ رقم الحدیث ۲۹۰۴)
(۵)۔۔۔۔ سنن ابن ماجہ میں ‘‘سفیان عن خالد الحذاء۔۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے دو تسمے تھے دوہرے۔ اس حدیث کو البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ایضاً ص۶۰۲رقم ۶۳۱۴)
(۶)۔۔۔۔ سنن ابی داود میں ‘‘سفیان بن سعید عن ابن عقیل -85 الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکا مسح پانی کی اس تری سے کیا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں بچی ہوئی تھی۔ اس حدیث کو ناصرالدین البانی غیر مقلد نے حسن قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داؤد بتحقیق الالبانی ص۲۶رقم الحدیث ۱۳۰)
(۷)۔۔۔۔ سنن ابی داؤد میں ‘‘سفیان الثوری عن ابی فزار ۔۔۔ الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اونچی اونچی مساجد بنانے کا حکم نہیں ہوا ہے۔۔۔الخ۔ اس حدیث کو البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دے رکھا ہے۔ (ایضاً ص۸۴ رقم الحدیث ۴۴۸)
(۸) ۔۔۔۔سنن ابی داود میں ‘‘سفیان عن عبدالرحمن بن عابس -85 الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں بہت زیادہ کیڑے مکوڑے اور درندے ہیں (مجھے ان سے نقصان کا خطرہ ہے اس لئے آپ مجھے نابینا ہونے کی وجہ سے مکان میں نماز پڑھنے کی اجازت عطاء فرمادیں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر ارشاد فرمایا کیا تم حی علی الصلوٰۃ اور حی علی الفلاح کی آواز سنتے ہو؟ پس تم مسجد میں ہی نماز ادا کرنے آو?۔ اس حدیث کو البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ایضاً ص۳۰۱ رقم ۵۵۳)
(۹)۔۔۔۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک ضعیف باطل و مردود روایت میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا ذکرہے۔ اس حتمی ضعیف و مردود روایت کو محمد داود ارشد غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملخصاً تحفہ حنفیہ :ص۱۲۲) حالانکہ یہ ضعیف روایت ‘‘سفیان عن عاصم بن کلیب۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ہے (دیکھئے صحیح ابن خزیمہ: ص۲۱۶ رقم ۴۷۹)
تنبیہ:
یاد رہے سینے پر ہاتھ باندھنے کے متعلقہ مذکورہ روایت ہمارے نزدیک سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف نہیں ہے بلکہ یہ روایت ہمارے نزدیک مؤمل بن اسماعیل ضعیف، کثیر الخطاء، برے حافظے والے راوی اور دیگر کئی وجوہات کی بنیاد پر ضعیف ہے۔
(۱۰) نمبر ۹ والی ضعیف و مردود روایت کو ابوحمزہ عبدالخالق غیر مقلد نے اہلسنّت کے خلاف پیش کیا ہے۔ (ملخصاً نماز مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم: ص۲۷۳۔b انصار السنہ پبلیکیشنز)
(۱۱)۔۔۔۔ سنن ابی داود میں ‘‘سفیان عن ابی مالک الاشجعی۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں نہ غرار ہونا چاہیے اور نہ سلام-85الخ اس حدیث کو البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی داود بتحقیق الالبانی ص۱۶۱ رقم ۹۲۸)
(۱۲)۔۔۔۔ سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۳۶۱۹‘‘سفیان عن عبداللہ بن دینار-85الخ’’ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث کو شعیب الارناوط غیر مقلد وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ابی ماجہ بتحقیق شعیب ج۴ ص۶۰۸ رقم ۳۶۱۹)
(۱۳)۔۔۔۔ نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت سے غیر مقلدین کے مشہور و معروف فتاویٰ علمائے حدیث میں بھی استدلال کیاگیا ہے۔ (دیکھئے فتاویٰ علمائے حدیث ج۴ ص۳۰۹)
(۱۴)۔۔۔۔ سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر۱۶۱۶‘‘سفیان عن حکیم بن جبیر۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث کو البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد ص۲۸۲ رقم ۱۶۲۶)
(۱۵)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن خالد۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۳۶۱۴ کی سند کو شعیب غیرمقلد وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ج۴ ص۶۰۵)
(۱۶)۔۔۔۔نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت سے خالد گرجاکھی غیرمقلد نے استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے صلوٰۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص۱۵۶ ناشر ادارہ احیاء-04 السنہ گھرجاکھ گوجرانوالہ)
(۱۷)۔۔۔۔‘‘سفیان عن ابن جریج ۔۔۔۔الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر۱۸۸۳کو ناصر الدین غیرمقلد نے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد بتحقیق الالبانی ص۳۲۶ رقم ۱۸۸۳)
(۱۸)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن ابی اسحاق-85 الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث کو شعیب غیر مقلد نے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سنن ابن ماجہ بتحقیق شعیب ج۴ ص۸۸ رقم ۲۸۰۹)
(۱۹)۔۔۔۔ نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو فاروق الرحمن یزدانی غیر مقلد نے اہلسنّت کے خلاف پیش کیا ہے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف ص۲۷۹)
(۲۰)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن عبدالرحمن بن عیاش-85الخ’’ یعنی امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابی داؤد کی حدیث نمبر۱۹۳۵ کو البانی غیر مقلد نے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد ص۳۳۷ رقم ۱۹۳۵)
(۲۱)۔۔۔۔ نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے اہلحدیث کا مذہب :ص۷۷۔۷۸)
(۲۲)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن ابی اسحاق-85الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر۲۴۴۷ کی سند کو شعیب غیر مقلد نے حسن قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ بتحقیق شعیب ج۳ ص۵۱۳ رقم ۲۴۴۷)
(۲۳)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن حنظلۃ -85الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابی داود کی حدیث نمبر۳۳۴۰کو ناصر الدین غیرمقلد نے صحیح کہا ہے۔ (سنن ابی داود: ص۲۰۶)
(۴۲) مذکورہ بالا نمبر۹ والی حتمی ضعیف و مردود روایت کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے باوجود عبداللہ روپڑی امرتسری غیرمقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے فتاویٰ اہلحدیث ج۱ ص۴۶۱، b۔ادار? احیاء-04 السن? سرگودھا)
(۲۵)۔۔۔۔ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک ضعیف باطل و مردود روایت میں جرابوں پر مسح کا ذکر ہے اس ضعیف روایت کو البانی غیرمقلد نے صحیح قرار دے رکھا ہے (سنن ابی داود بتحقیق الالبانی ص۱۳ رقم ۱۵۹) حالانکہ یہ روایت ‘‘سفیان الثوری عن ابی قیس-85الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ہے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد: رقم ۱۵۹)
(۲۶)۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر۲۵ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو عبدالرحمن عزیز غیرمقلد نے اپنی کتاب ‘‘صحیح نماز نبوی’’ میں اہلسنّت کے خلاف پیش کیا ہے، اور اس سے استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے صحیح نماز نبوی ص۵۰، b۔ دارالاندلس لاہور) جبکہ اس کتاب کے شروع میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کتاب میں صرف اور صرف احادیث صحیحہ و حسنہ سے مدد لی گئی ہے۔ (دیکھئے ص۱۸)
(۲۷)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن الزبیر بن عدی-85الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی ممانعت تکلم فی الصلوٰۃکے متعلقہ سنن نسائی کی حدیث نمبر ۱۲۲۰ کو ناصر الدین غیرمقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سنن النسائی بتحقیق الالبانی ص۱۹۹ رقم ۱۲۲۰)
(۲۸)۔۔۔ مذکورہ نمبر۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت سے صادق سیالکوٹی غیرمقلد نے بھی اپنی کتاب ‘‘صلوٰۃالرسول’’ میں استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے صلوٰۃ الرسول ص۱۸۸، b۔ نعمانی کتب خانہ لاہور) نیز یاد رہے صادق سیالکوٹی کی مذکورہ کتاب صلوٰۃ الرسول کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے عصر حاضر میں نماز کے موضوع پر فرقہ غیرمقلدیت کی مشہور کتاب قرار دیا ہے۔ (فتاویٰ علمیہ ص۶۸۹، b۔ مکتبہ اسلامیہ)
(۲۹)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر۲۵ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے تسہیل الوصول ص۱۲۲ رقم ۱۲۸، b۔ نعمانی کتب خانہ لاہور)
(۳۰)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن ابی اسحاق-85 الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر۲۰۱۷ کو شعیب غیرمقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سنن ابن ماجہ بتحقیق شعیب ج۳ ص۱۷۹، ۱۸۰، رقم ۲۰۱۷)
(۳۱)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن الاوزاعی-85الخ’’ یعنی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن النسائی کی حدیث نمبر۲۲۶۴ کو البانی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (سنن النسائی بتحقیق الالبانی ص۳۵۶ رقم ۲۲۶۴)
(۳۲)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو زبیر علی زئی غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (تسہیل الوصول ص۱۹۹ رقم ۶۸۲، b۔ نعمانی کتب خانہ لاہور)
(۳۳)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر ۲۵ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت سے صادق سیالکوٹی غیرمقلد نے بھی استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے صلوٰۃ الرسول ص۱۰۴، b۔ نعمانی کتب خانہ لاہور)
تنبیہ:
مذکورہ بالا نمبر ۲۵ والی جرابوں پر مسح کے متعلقہ روایت ہمارے نزدیک سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کی وجہ سے نہیں بلکہ دیگر علل قادحہ کی وجہ سے ضعیف ہے، تفصیل کے لئے ‘‘شیخ الاسلام، شیخ القرآن والحدیث، الامام الثقہ، المتقن الحجہ، المحدث الفقیہ’’ منیر احمد منور صاحب کی معروف کتاب ‘‘جرابوں پر مسح کا شرعی حکم’’ ملاحظہ فرمائیں۔
(۳۴)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن الاسود بن قیس-85الخ’’ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۲۴۶ کی سند کو شعیب غیر مقلد نے صحیح قرار دیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ بتحقیق شعیب ج۱ ص۱۶۶رقم ۲۴۶)
(۳۵)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن عاصم بن کلیب-85الخ’’ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن سنن النسائی کی حدیث نمبر ۲۴۵۸ کو ناصر الدین غیر مقلد نے صحیح کہا ہے۔ (سنن نسائی ص۳۸۳ رقم ۲۴۵۸)
(۳۶)۔۔۔۔ ‘‘سفیان عن نسیر -85الخ’’ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر ۱۶۲ کی سند کو شعیب غیر مقلد نے قوی کہا ہے۔ (ابن ماجہ ج۱ ص۱۱۲ رقم ۱۶۲)
(۳۷ تا ۴۵)۔۔۔۔ ناصر الدین البانی غیر مقلد نے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سنن النسائی کی حدیث نمبر ۴۵۸۷۔ ۵۴۰۰۔ ۵۵۷۷۔ ۵۷۲۲ اور سنن ترمذی کی حدیث نمبر ۲۸۸۰۔ ۲۹۹۵۔ ۳۳۸۰۔ ۳۵۵۱۔ ۴۱۵ کو صحیح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سنن ترمذی و نسائی بتحقیق الالبانی)
(۴۶تا ۴۹)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃاللہ علیہ کی معنعن روایت کو ابوالحسن مبشر احمد ربانی، عبدالرحمن عزیز، عبدالمتین میمن جوناگڑھی، رئیس ندوی غیر مقلد نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ (دیکھئے! آپ کے مسائل اور انکا حل از مبشر احمد ربانی ج۱ ص۱۲۵، صحیح نماز نبوی کتاب و سنت کی روشنی میں از عبدالرحمن عزیز ص۱۴۸، حدیث نماز از عبدالمتین میمن جوناگڑھی ص۵۸، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نماز از رئیس ندوی :ص۲۵۹)
(۵۰)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت سے ڈاکٹر شفیق الرحمن غیر مقلد نے بھی استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے! نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں ص۱۴۴، b۔ دارالسلام)
(۵۱)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر ۲۵ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کو شعیب غیرمقلد نے بھی صحیح کہا ہے۔ (دیکھئے سنن ابن ماجہ بتحقیق شعیب ص۳۵۲رقم ۵۵۹)
(۵۲)۔۔۔۔ ابوالحسن سیالکوٹی غیرمقلد نے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی قیاس کے متعلقہ سیدناعمرفاروق رضی اللہ عنہ سے منسوب قول سے استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے الظفر المبین ص۴۲، b۔ مکتبہ محمدیہ)
(۵۳)۔۔۔۔ رئیس ندوی غیرمقلد نے داء عضال کے متعلقہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت کی سند کو معتبر و صحیح کہا ہے۔ (مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ: ص۱۷۳)
(۵۴)۔۔۔۔ مذکورہ بالا نمبر ۹ والی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی حدیث سے ابوالحسن سیالکوٹی غیر مقلد نے بھی استدلال کیا ہے۔ (الظفر المبین :ص۳۳۳)
(۵۵)۔۔۔۔ رفع یدین کی مقدار کے متعلقہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کے ساتھ مروی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ایک اثر کو رئیس ندوی غیرمقلد نے قابل قبول قرار دیا ہے۔ (دیکھئے سلفی تحقیقی جائزہ: ص۲۷۶)
دل کے پھپھولے جل اْٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
قارئین کرام-85! بندہ کے پاس پانچ سو سے زیادہ ایسے مقامات محفوظ ہیں جہاں غیر مقلدین کے متحققین نے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کو قبول کیا ہے۔ آپ ہمارے پیش کردہ مذکورہ بالا چند مقامات کو ہی سامنے رکھ کر فرقہ غیرمقلدیت کے دو غلاپن اور اس کے مکروہ فریب کا اندازہ لگاسکتے ہیں، کہ جب سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی معنعن روایت ان کے کسی مسئلے کی دلیل ہو تو اس روایت کو فرقہ غیرمقلدیت کے اکابر و اصاغر آنکھیں بند کرکے قبول کرلیتے ہیں۔ گویا اس وقت غیرمقلدین کے نزدیک بوجہ تدلیس سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔ اور جب کوئی سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایت ان کے مسلک کے خلاف ہو تو پھر فرقہ غیرمقلدیت کے متحققین اس روایت کو بوجہ عنعنۃالثوری رحمۃ اللہ علیہ ضعیف کہنا شروع کردیتے ہیں۔
۔
ندوی جھوٹ نمبر ۳:
مثلاً رئیس ندوی غیرمقلد ترکِ رفع یدین دشمنی میں حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق تو کہتا ہے کہ:
یہ حدیث امام سفیان بن سعید ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے معنعن نقل کی ہے، جو مدلس ہیں اور ان کی مدلس روایت ساقط الاعتبار ہے (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص۵۷۲) کیونکہ یہ حدیث ان کے مؤقف کے خلاف ہے، مگر جب اسی امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی ‘‘سینے پر ہاتھ باندھنے، مقدار رفع یدین’’ کے متعلقہ معنعن روایات رئیس ندوی صاحب کے حق میں آئیں تو پھر آنکھیں بند کرکے ندوی صاحب نے ان روایات کو صحیح قرار دے دیا ملاحظہ ہو۔
(۱) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح طریقہ نماز :ص۲۵۹
(۲) مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ :ص۲۷۶
اس سے معلوم ہوا رئیس ندوی صاحب سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کے بارے میں مسلکی حمایت میں متناقض، متضاد، اور دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں اور علمی تضاد رئیس ندوی صاحب کے نزدیک جھوٹ شمار ہوتا ہے۔ (ملخصاً تحقیقی جائزہ :ص۸۹۴) اسی لئے ندوی اصول کے مطابق بطورِ الزام کے ندوی تضاد کو جھوٹ شمار کیا گیا ہے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۲:
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن روایات کے بارے میں زبیر صاحب اسی ندوی دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں کہ ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ (سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ) کے عنعنہ کو قبول کرنا انصاف کا خون کرنے کے برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں سے ضرور حساب لے گا۔ (نور العینین: ص۱۲۱)
مگر دوسری طرف جب امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی عن والی کوئی روایت اس کے حق میں ہو تو پھر آنکھیں بند کرکے امام موصوف کے عنعنہ کو قبول کرلیتا ہے۔مثلاً ‘‘سنن النسائی’’ کی حدیث نمبر ۱۷۰۱،جس کی سند میں امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ عن سے روایت کر رہے ہیں،کو زبیر علی زئی نے صحیح قرار دینے کے لئے لکھا ہے:
اسے ابن الترکمانی اور ابن السکن نے صحیح کہاہے۔ (تخریج نماز نبوی ص:۲۳۶)، اسی طرح ‘‘جرابوں پر مسح، اور سینے پر ہاتھ باندھنے’’ کے متعلقہ بھی امام موصوف کی معنعن روایتوں کو بھی حافظ موصوف نے صحیح کہا ہے۔ (تسہیل الوصول :ص۱۲۲، ۱۹۹، رقم ۱۲۸، ۲۸۶)
نیز زبیر علی زئی صاحب نے ایک مقام پر مقدار رفع یدین کے متعلقہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی معنعن ایک روایت کو امام رازی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ‘‘اصح’’یعنی صحیح ترین قرار دیا ہے۔(دیکھئے:نورالعینین :ص۱۶۳)یہ ہے ان غیر مقلدین کا انصاف!
یہ ٹھہرے ہیں دین کے رہنما اب ان کا لقب ہے اہلحدیث اب
سابعاً۔۔۔۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ترک رفع یدین کی زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر بعض محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم نے لفظ ثم لایعود کی زیادتی کا اعتراض وارد کیا ہے، ان حضرات کا صرف ثم لایعود کے الفاظ پر اعتراض کرنا بھی امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کے الزام کو رفع کرتا ہے، کیونکہ زبیر صاحب کے بقول ‘‘اگر راوی اپنے اس استاد سے (جس سے اس کی ملاقات معاصرت اور سماع ثابت ہے) وہ روایت (عن وغیرہ کے الفاظ کے ساتھ) بیان کرے جسے اس نے (اپنے استاد کے علاوہ) کسی دوسرے شخص سے سنا ہے، اور سامعین کو یہ احتمال ہو کہ اس نے یہ حدیث اپنے استاد سے سنی ہوگی تو اسے تدلیس کہا جاتا ہے (ملخصاً ماہنامہ الحدیث :ص۲۳ ش نمبر۳۳) تدلیس کی اس تعریف سے معلوم ہوا کہ راوی نے اگر حقیقتاً اپنے استاد سے حدیث نہ سنی ہو تو اس کا نام تدلیس ہے۔
مگر زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق ‘‘امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ، امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ وغیرھما نے تصریح فرمارکھی ہے، کہ یہ حدیث امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اپنے استاد ‘‘امام عاصم بن کلیب’’ سے نقل کی ہے، مگر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ عاصم رحمۃ اللہ علیہ سے اس حدیث میں ‘‘ثم لایعود’’ کی زیادت نقل فرماتے ہیں اور ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ نقل نہیں فرماتے، محدثین عظام رحمۃاللہ علیہم کی اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ اور امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ سے سنی ہے۔
وگرنہ اگر امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث میں تدلیس کی ہے تو پھر محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کا لفظ ثم لایعود پر اعتراض بالکل غلط و مردود ہے، اور اگر بفرض محال اس اعتراض کی کوئی بنیاد ہے تو پھر تدلیس کااعتراض باطل و مردود ہے۔ (یاد رہے اہلسنّت کا دعویٰ ترک رفع یدین لفظ ثم لایعود کے بغیر بھی لفظ ‘‘فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی مرۃ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے صراحتاً ثابت ہے) فلھٰذا ائمہ محدثین کے مذکورہ اعتراض سے واضح ہوگیاکہ یہ حدیث امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاد عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ سے سنی ہے، اور اس حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا الزام باطل و مردود ہے۔
ثامناً۔۔۔۔باسند مروی ہے کہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ حضرت امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے تدلیس کرنے سے شرماتے تھے۔(ملخصاً: الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی:ج۳ص۸۸۷،التعدیل والتجریح:برقم۱۳۵۱،اکمال تہذیب الکمال :۲۰۷۷،تہذیب التہذیب :۲۰۰)جس سے معلوم ہوا کہ امام ثوری رحمہ اللہ سے خصوصاًامام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی روایات سماع پر محمول ہوتی ہیں اورحدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام ثوری رحمہ اللہ سے امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے بھی روایت کیا ہے (دیکھئے: سنن النسائی :۱۰۲۶)۔لہٰذا یہ حدیث بھی سماع پر محمول ہے اور غیر مقلدین کا عتراض غلط ومردود ہے ۔
خبیب احمد غیرمقلد کی ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم پر کذب بیانی:
خبیب احمد غیر مقلد ایک جگہ لکھتا ہے:
یہاں یہ بھی ملحوظ رہے کہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ان دونوں روایات کے علاوہ دیگر مرویات میں بھی تدلیس کی ہے۔ جس طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی معروف حدیث ہے:کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھلاؤں؟ انہوں نے نماز کی ادائیگی کی۔ اور رفع یدین صرف پہلی مرتبہ (تکبیر تحریمہ کے وقت) کیا۔ (ترمذی ص:۲۵۷)اس حدیث کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے محدثین کی ایک بڑی جماعت نے ضعیف گردانا ہے۔ تفصیل کے لئے محترم المقام مولانا زبیر حفظہ اللہ کی کتاب ‘‘نور العینین’’ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ (بلفظہ مقالات اثریہ: ص۲۹۴۔ ۲۹۵ ناشر ادارۃ العلوم الاثریہ)
الجواب:
اولاً۔۔۔تو عرض ہے کہ ہم زیر بحث حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کے اعتراض کے جوابات ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم کے اْصولوں کی روشنی میں تفصیل سے عرض کرآئے ہیں، ان جوابات سے قطع نظر متقدمین و متاخرین ائمہ محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم میں سے کسی ایک بھی محدث نے اس حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا اعتراض نہیں کیا ہے، اور نہ ہی امام موصوف کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف گردانا ہے (فیما اعلم) ہمارے علم کے مطابق اس حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا اعتراض ائمہ محدثین کے اصولوں سے بغاوت کرتے ہوئے سب پہلے عبدالرحمن معلمی غیرمقلد نے کیا ہے۔ (دیکھئے التنکیل ج۱ ص۲۰)، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی عاصم بن کلیب سے اس حدیث کی سماعت اور تحدیث پر خارجی اور داخلی دلائل کا ایک انبار موجود ہے۔ جس کی وجہ سے متقدمین و متاخرین محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم میں سے کسی نے بھی اس حدیث کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے عنعنہ کی وجہ سے ضعیف نہیں قرار دیا۔ مگر مذکورہ بالا بیان میں فرقہ غیرمقلدیت کے محقق خبیب احمد نے بغیر کسی دلیل و حوالہ کے ائمہ محدثین پر جھوٹ جڑدیا ہے کہ محدثین کی ایک جماعت نے اس حدیث کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف گردانا ہے۔
دنیا کے تمام غیرمقلدین کو ہمارا چیلنج ہے چاہے وہ عرب کے ہوں یا عجم کے، کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین کے متعلقہ حدیث صحیح سند کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہے، اگر اس حدیث پر صراحتاً سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا اعتراض کسی محدث سے ثابت کردیں تو بندہ اپنی زیر طبع کتاب ‘‘آل غیر مقلدیت کے پانچ سو جھوٹ’’ سے مذکورہ خبیب صاحب کے جھوٹ کو نکال دے گا، وگرنہ یادرہے خبیب احمد صاحب کے محترم المقام زبیر صاحب جھوٹ کی مذمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ایک طویل حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص کی باچھیں چیری جارہی ہیں یہ عذاب اس لئے ہورہا تھا کہ وہ شخص جھوٹ بولتا تھا۔ (بلفظہ تین سو جھوٹ :ص۵)
ثانیاً ۔۔۔۔ نور العینین کا بندہ نے مطالعہ کیا ہے مگر اس کتاب میں بھی خبیب احمد صاحب کے محترم المقام زبیر صاحب کسی ایک محدث سے بھی اس حدیث پر سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی تدلیس کا اعتراض ثابت نہیں کرسکے۔ ہاں! البتہ زبیر صاحب کے بارے میں خبیب احمد صاحب تضادبیانی و دوغلی پالیسی پر ضرور گامزن ہیں، کیونکہ خبیب احمد غیرمقلد نے ایک جگہ صراحتاً لکھا ہے:
کہ زبیر صاحب احادیث کی تصحیح اور تعلیل میں جمہور متقدمین کی بالخصوص اور جمہور متاخرین کی بالعموم مخالفت کررہے ہیں۔
(ملخصاً: مقالات اثریہ :ص۳۶۶)
مگر دوسری طرف مذکورہ بالا مقام پر خبیب احمد صاحب احادیث کی تصحیح اور تعلیل میں جمہور متقدمین کی بالخصوص اور جمہور متاخرین کی بالعموم مخالفت میں تحریر کی ہوئی زبیر صاحب کی ہی کتاب ‘‘نور العینین’’ کے مطالعہ کی ترغیب دیتے ہوئے اس کے مطالعہ کو مفید قرار دے رہے ہیں، محض مسلکی تعصب میں خبیب احمد صاحب!
ٹھوکریں مت کھائیے چلئے سنبھل کر
چال سب چلتے ہیں مگر بندہ پرور دیکھ کر
اعتراض نمبر۳ و رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۴:
رئیس ندوی غیر مقلد حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:
مگر اسے معتبر قرار دینے سے یہ بات مانع ہے کہ اس کا دارومدار عاصم بن کلیب جرمی پر ہے، جو بقول امام ابن المدینی اور عام ائمہ کرام جس روایت کی نقل میں منفرد ہو وہ معتبر اور لائق حجت نہیں (عام کتب رجال، ترجمہ عاصم بن کلیب)۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص۵۷۲)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ تو عرض ہے کہ بندہ نے متعدد کتب میں امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ دیکھا ہے مگر سوائے امام ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک غیر ثابت قول کے کسی ایک محدث سے بھی یہ منقول نہیں کہ اس نے امام موصوف کی منفرد روایات کو غیر معتبر اور ناقابل حجت قرار دیا ہو۔ (فیما اعلم) مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱) ۔۔۔۔تہذیب التہذیب ج۳ ص۳۳۰ رقم ۳۵۷۳
(۲) ۔۔۔۔تقریب التہذیب ص۳۲۳ رقم ۳۰۷۵
(۳) ۔۔۔۔الکاشف ج۲ ص۴۷ رقم ۲۵۴۰
(۴) ۔۔۔۔میزان الاعتدال ج۴ ص۱۲ رقم ۴۰۶۹
(۵) ۔۔۔۔التاریخ الکبیر للبخاری :ج۶ ص۴۸۷ رقم ۳۰۶۳
(۶) ۔۔۔۔تہذیب الکمال للمزی : ج۱۳ ص۵۳۷ رقم ۳۰۲۴
(۷)۔۔۔خلاصہ تہذیب الکمال ج۲ ص۲۰
(۸) ۔۔۔۔الجرح والتعدیل للرازی :ج۶ ص۳۴۹ رقم ۱۹۲۹
(۹) ۔۔۔۔معرفۃ الثقات للعجلی : ج۱ ص۲۴۲ رقم ۷۴۳
(۱۰) ۔۔۔۔لسان المیزان ج۷ ص۲۵۳ رقم ۳۴۱۷
(۱۱) ۔۔۔۔الطبقات الکبریٰ لابن سعد : ج۶ ص۳۴۱
(۱۲)۔۔۔۔ تاریخ اسماء الثقات ج۱ ص۱۵۰ رقم ۸۳۳
(۱۳)۔۔۔۔ الوافی بالوفیات ج۵ ص۸۱۳
(۱۴)۔۔۔۔ العلل ومعرفۃالرجال لاحمد ج۱ ص۱۶۱ رقم ۲۱
(۱۵)۔۔۔۔ تاریخ الاسلام للذہبی: ج۵ ص۲۶۳
جبکہ راقم الحروف حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند کی تحقیق کے ذیل میں غیرمقلدین کے مسلمہ اْصولوں کی روشنی میں پچاس محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم سے امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کی مطلقاً توثیق ثابت کرچکا ہے، حتی کہ آل غیر مقلدیت کے متحققین نے بھی امام موصوف کو عندالجمہور ثقہ و صدوق اور قابل حجت راوی قرار دیا ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
عاصم بن کلیب اور ان کے والد کلیب دونوں جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔
(تحقیقی مقالات :ج۱ ص۴۲۵، ۴۲۶، ماہنامہ الحدیث ص۲۴ش نمبر۲۱)
ثناء اللہ ضیاء غیر مقلد لکھتا ہے:
دیگر ماہرین فن عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کی مرویات کو بغیر کسی شرط کے حجت تسلیم کرتے ہیں۔
(نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟ ص۲۱)
ندیم ظہیر غیرمقلد لکھتا ہے:
عاصم بن کلیب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق اور قابل حجت راوی ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۸ ش نمبر۱۱۹)
الغرض مذکورہ بالا تحقیق سے معلوم ہوا کہ امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ عام ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک مطلقاً بغیر کسی شرط کے ثقہ و صدوق اور قابل حجت راوی ہے اور مذکورہ بالا بیان میں آنکھوں میں دھول جھوکتے ہوئے بغیر کسی حوالے کے ائمہ محدثین پر ندوی صاحب نے جھوٹ بولا ہے۔
ثانیاً ۔۔۔۔راقم الحروف کے علم کے مطابق امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب قول (کہ اگر عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ منفرد ہوں تو پھر حجت نہیں) کو سب سے پہلے نقل کرنے والے حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۹۷ھ ہیں، (دیکھئے الضعفاء والمتروکون لابن الجوزی :ج۲ ص۷۰ رقم ۱۷۶۰) اور انہیں یہ قول کس واسطے سے پہنچا؟ اس کی کوئی سند نہیں ہے، لہٰذا امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ قول بے سند ہے بندہ کو جتنی کتب میں بھی یہ قول ملا ہے ان میں اس کی کوئی سند موجود نہیں ہے مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱) ۔۔۔۔الضعفاء والمتروکون لابن الجوزی : ج۲ ص۷۰ رقم ۱۷۶۰
(۲) ۔۔۔۔المغنی للذہبی : ج۱ ص۳۲۱ رقم ۲۹۹۲
(۳) ۔۔۔۔دیوان الضعفاء للذھبی :ج۱ ص۲۰۴ رقم ۲۰۳۹
(۴)۔۔۔۔ ذکر اسماء من تکلم فیہ وھو موثق للذہبی: ج۱ ص۱۰۴ رقم ۱۷۰
(۵) ۔۔۔۔میزان الاعتدال للذہبی: ج۲ ص۳۵۶ رقم ۴۰۶۴
(۶) ۔۔۔۔تہذیب التہذیب لابن حجر :ج۵ ص۵۶ رقم ۸۹
(۷) ۔۔۔۔نیل الاوطار ج۱ ص۱۵۸رقم ۱۴۸
(۸) ۔۔۔۔عون المعبود ج۷ ص۳۵۶ رقم ۲۷۹۹
(۹) ۔۔۔مرعاۃ المفاتیح ج۵ ص۱۰۱
(۱۰)۔۔۔۔ نصب الرایہ ج۲ ص۳۵۴
اور علمائے غیر مقلدین کے بقول بے سند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
حافظ ذہبی ہوں یا حافظ ابن حجر یا کوئی اور بے سند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے۔
(تحقیقی مقالات ج۳ ص۴۵۶)
زبیر صاحب ایک جگہ مزید لکھتے ہیں:
جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بے سند بات حجت نہیں ہے تو امام ترمذی کی بے سند بات کس شمار و قطار میں ہے؟ (ایضاً: ج۳ ص۴۵۷) بے سند بات حجت نہیں ہوتی،(ایضاً ج۳ ص۴۵۸) سیوطی، ابن عبدالبر، قاسم بن قطلوبغا اور الجزائری وغیرھم کے بے سند و بے ثبوت حوالے مردود ہیں۔ (ایضاً ج۳ ص۴۶۲)
ندیم ظہیر غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے:
امام علی بن المدینی کا قول بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ (ماہنامہ الحدیث :ص۹ ش نمبر ۱۱۹)
فلھٰذا امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح سند کے ساتھ امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہپر ‘‘لایحتج بہ? اذا انفرد’’ (عاصم بن کلیب منفرد ہو تو پھر حجت نہیں) کی جرح خود علمائے غیر مقلدین کے اْصولوں کی روشنی میں ثابت نہیں ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔ فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق ندیم ظہیر غیرمقلد نے بھی صراحت کررکھی ہے کہ امام موصوف کے متعلقہ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب قول بے سند وغیر ثابت ہے۔
چنانچہ ندیم ظہیر غیرمقلد کہتا ہے:
رہا مسئلہ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا تو وہ ابھی تک باسند صحیح ہمیں کسی کتاب میں نہیں ملا۔ (ماہنامہ الحدیث ص۴۳ ش نمبر۱۱۹)
ندیم ظہیر غیرمقلد مزید لکھتا ہے:
اس (امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے قول) کی کوئی سند نہیں ہے لہٰذا امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے…….. عام بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ ثقہ و صدوق اور قابل حجت راوی ہے، اور ان پر تفرد کا اعتراض بے سند ہونے کی وجہ سے مردود ہے، فرض محال اگر یہ ثابت بھی ہوتا تو جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ راوی کا تفرد مقبول ہونے کی وجہ سے یہ لائق التفات نہیں تھا۔ (بلفظہ ماہنامہ الحدیث ص۹، ۱۱ ش نمبر ۱۱۹)
رابعاً۔۔۔۔حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند کی تحقیق کے ذیل میں فریق مخالف کے مسلمات کی روشنی میں ہم پچاس ائمہ محدثین سے باحوالہ امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کا ثقہ، صدوق و حسن الحدیث وغیرہ ہونا ثابت کرچکے ہیں، اختصار کے پیش نظر امام موصوف کو ثقہ و صدوق و حسن الحدیث وغیرہ کہنے والے ان محدثین کے اسماء حاضر خدمت ہیں۔
(۱) ۔۔۔۔حافظ ابو الحسن احمد بن عبداللہ العجلی م۲۶۱ھ
(۲)۔۔۔۔ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ
(۳) ۔۔۔۔امام ابو عبداللہ محمد بن سعد رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۰ھ
(۴) ۔۔۔۔امام مسلم بن الحجاج القشیری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ
(۵) ۔۔۔۔امام ابو داود سلیمان بن الاشعث رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ
(۶) ۔۔۔۔امام احمد بن عبداللہ بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ
(۷) ۔۔۔۔امام ابوحاتم محمد بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۷ھ
(۸) ۔۔۔۔امام محمد بن حبان الدارمی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴ھ
(۹) ۔۔۔۔امام ابوحفص ابن شاہین رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ
(۱۰)۔۔۔۔ امام ابوزکریا یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۳ھ
(۱۱) ۔۔۔۔حافظ ابو عبدالرحمن النسائی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۳ھ
(۱۲)۔۔۔۔ حافظ شمس الدین الذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ
(۱۳)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ
(۱۴)۔۔۔۔ امام صلاح الدین الصفدی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۴ھ
(۱۵)۔۔۔۔ امام احمد بن صالح المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۸ھ
(۱۶)۔۔۔۔ حافظ ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۱ھ
(۱۷)۔۔۔۔ امام ابن الجارود رحمۃ اللہ علیہ م ۳۰۷ھ
(۱۸)۔۔۔۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ
(۱۹)۔۔۔۔ حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ
(۲۰)۔۔۔۔ حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۴۳ھ
(۲۱)۔۔۔۔ حافظ ابو عوانہ م ۳۱۶ھ
(۲۲) ۔۔۔۔امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ م ۸۴۰ھ
(۲۳)۔۔۔۔ حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۷ھ
(۲۴)۔۔۔۔ حافظ خزرجی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۳ھ
(۲۵)۔۔۔۔ امام شعبہ بن الحجاج رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۰ھ
(۲۶)۔۔۔۔ امام ابو الحسن دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۸۵ھ
(۲۷)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ
(۲۸)۔۔۔۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ
(۲۹)۔۔۔۔ امام بغوی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۱۶ھ
(۳۰)۔۔۔۔ امام ابوعلی حسن بن علی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۲ھ
(۳۱)۔۔۔۔ حافظ ابن حزم الظاہری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ
(۳۲)۔۔۔۔ حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۸ھ
(۳۳)۔۔۔۔ حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۰ھ
(۳۴)۔۔۔۔ حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ
(۳۵)۔۔۔۔ حافظ عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ
(۳۶)۔۔۔۔ حافظ قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م ۸۷۹ھ
(۳۷)۔۔۔۔ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ
(۳۸)۔۔۔۔ حافظ عابد سندھی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۵۷ھ
(۳۹)۔۔۔۔ حافظ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۳ھ
(۴۰)۔۔۔۔ حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ
(۴۱)۔۔۔۔ شیخ ھاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ
(۴۲)۔۔۔۔ حافظ عثمانی رحمۃ اللہ علیہ
(۴۳)۔۔۔۔ حافظ ابوعلی النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۹ھ
(۴۴)۔۔۔۔ حافظ ابواحمد ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۵ھ
(۴۵)۔۔۔۔ حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۹۵ھ
(۴۶)۔۔۔۔ امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ
(۴۷)۔۔۔۔ امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھ
(۴۸)۔۔۔۔ حافظ ابوعلی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۳ھ
(۴۹)۔۔۔۔ حافظ ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ
(۵۰)۔۔۔۔ امام زبیدی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۰۵ھ
الغرض امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ تقریباً سوفیصد ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک ثقہ و صدوق راوی ہے، اور درج ذیل ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے صراحت فرمارکھی ہے، کہ ثقہ راوی کا تفرد و زیادتی قابل قبول ہے۔
(۱) ۔۔۔۔امام ابوعبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ:
(الکفایہ فی علم الروایۃص۴۲۴ و مستدرک ج۱ ص۱۹۸، ۱۳۱)
(۲) ۔۔۔۔حافظ ابن حزم الظاہری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ :
(الاحکام فی اصول الاحکام ج۲ ص۲۱۶، ۲۱۷)
(۳) ۔۔۔۔امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ:
(صحیح بخاری ج۲ ص۱۵۶ رقم ۱۴۸۳)
(۴) ۔۔۔۔امام مسلم بن الحجاج النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ :
(الاول من کتاب التمییز ص۵۰ رقم ۵۹)
(۵)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ:
(کتاب العلل الصغیر آخر الجامع طبع دارالسلام ص۸۹۹)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ :
(نزھۃ النظر ص۴۶ ومع شرح ملا علی القاری ص۳۱۵)
(۷) ۔۔۔۔حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ :
(البدر المنیر ج۱ ص۶۱۵، ج۳ ص۶۲، ج۳ ص۵۴۵)
(۸) ۔۔۔۔حافظ ملغطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ:
(شرح سنن ابن ماجہ ج۱ ص۶۷۰)
(۹)۔۔۔۔ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ :
(تہذیب السنن ج۱ ص۲۶)
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ :
(تلخیص مستدرک ج۱ ص۹۱ رقم ۱۰۰)
نیز علمائے غیر مقلدین نے بھی صراحت کررکھی ہے کہ ثقہ و صدوق راوی کا تفرد مضر نہیں ہوتا۔
چنانچہ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
ثقہ و صدوق راوی کا تفرد مضر نہیں ہوتا۔
(تحقیقی مقالات ج۱ ص۴۷۶ ناشر مکتبہ اسلامیہ)
زبیر علی زئی صاحب مزید لکھتے ہیں:
جب کسی شخص کی عدالت ثابت ہوجائے تو اس کی عدم متابعت چنداں مضر نہیں ہے۔
(مقالات ج۱ ص۳۱۶)
ارشاد الحق اثری غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے:
لیجئے جناب!محمد بن حمیر کی اس روایت کو جس میں وہ منفرد ہے علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ حسن کہتے ہیں۔۔۔لہٰذا تفرد کا بہانہ بناکر بھی محمد بن حمیر کی روایت کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں۔
(تنقیح الکلام ص۵۳، ۵۶)
ناصر الدین البانی کہتا ہے:
‘‘ ان تفرد الثقۃ بالحدیث لایعتبر علۃ ’’ کہ حدیث میں ثقہ راوی کا تفرد علت (قادحہ) نہیں سمجھا جاتا۔
(السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ج۱۴ص۲۴۶)
ندیم ظہیر غیر مقلد لکھتا ہے:
ثقہ راوی کا تفرد مضر نہیں ہے ۔۔۔۔.جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ راوی کا تفرد مقبول ہونے کی وجہ سے یہ لائق التفات نہیں تھا۔
(ماہنامہ الحدیث ص۹۔۱۱ ش نمبر ۱۱۹)
فلھٰذا بالتحقیق والیقین اگر بالفرض امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب قول ثابت بھی ہوجائے تو تب بھی عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کے ثقہ و صدوق ہونے کی وجہ سے اس کا تفرد مضر نہیں ہے، اور اس کی بیان کردہ حدیث غیر مقلدین کے مسلمہ اْصول کی روشنی میں قابل احتجاج ہے، اور امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کا قول بشرط ثبوت لائق التفات نہیں ہے۔
خامساً۔۔۔۔ بطور الزامی جواب کے عرض ہے کہ زبیر علی زئی غیرمقلد، ندیم ظہیر غیرمقلد، ثناء اللہ ضیاء غیرمقلد نے تسلیم کررکھا ہے کہ امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ جمہور محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک ثقہ و صدوق راوی ہیں۔ (مقالات ج۱ ص۴۲۶، ۴۲۵، الحدیث ص۲۴ ش نمبر ۲۱، نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟ ص۲۱، الحدیث ص۸ ش نمبر ۱۱۹) اور زبیر علی زئی غیر مقلد کے نزدیک جمہور کی توثیق کے بعد ہر قسم کی جرح مردود ہوتی ہے، چنانچہ زبیر صاحب اپنی مرضی کے ایک راوی کا دفاع کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جمہورکی توثیق کے بعد ہر قسم کی جرح مردود ہوتی ہے چاہے لوگ اسے جرح مفسر کہتے پھریں۔
(مقالات ج۱ ص۳۳۹)
فلھٰذا جب زبیر علی زئی اینڈ پارٹی کے نزدیک جمہور کی توثیق کے بعد جرح مفسر بھی مردود ہے تو پھر امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ پر امام ابن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب غیرمفسر غیر مبین السبب جرح جمہور کی توثیق کے بعد بطریق اولیٰ باطل و مردود ہے۔
سادساً۔۔۔۔بفرض محال امام موصوف پر علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کی جرح ثابت ہوتو تب بھی عرض ہے کہ زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ نقل کرنے میں امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ منفرد نہیں ہیں، بلکہ دیگر متعدد راویوں نے امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کی (معنوی) متابعت کررکھی ہے، اوراس حدیث کے متعدد شواہد موجود ہیں (جیسا کہ ماقبل میں گزر چکا ہے )۔ نیز اس حدیث کی تائید دیگر ترک رفع یدین کی احادیث صحیحہ (جو کہ اپنے اپنے مقام پر آرہی ہیں) سے بھی ہورہی ہے، اس لئے عاصم مذکور اس روایت میں دیگر محدثین کی طرح (بشرط ثبوت) امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے اصول کے مطابق بھی قابل حجت ہیں۔
سابعاً ۔۔۔۔ فرقہ غیر مقلدیت کے متحققین حسب سابق امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بھی متناقض، متضاد اور دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں کہ ایک طرف تو ترکِ رفع یدین دشمنی میں امام موصوف کو قابل احتجاج نہیں گردانتے، جبکہ دوسری طرف درج ذیل علمائے غیر مقلدین نے امام موصوف کی اپنی مرضی کے موافق روایت سے احتجاج بھی کررکھا ہے، اور اکثر نے تو صراحتاً صحیح بھی قرار دے رکھا ہے۔
(۱)۔۔۔۔ داود ارشد غیر مقلد
(تحفہ حنفیہ ص۱۲۲ ناشر دارالکتب السلفیہ لاہور)
(۲) ۔۔۔۔ابوحمزہ عبدالخالق صدیقی غیر مقلد
(نماز مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ص۲۷۳)
(۳)۔۔۔۔ فتاویٰ علمائے حدیث
(ج۴ ص۳۰۹ تقسیم کار فاروقی کتب خانہ)
(۴) ۔۔۔۔خالد گرجا کھی غیرمقلد
(صلوٰۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم ص۱۵۶ ناشر ادارہ احیاء السنہ)
(۵) ۔۔۔۔فاروق الرحمن یزدانی غیرمقلد
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف: ص۲۷۹ ناشر ادارہ تحفظ اسلام)
(۶) ۔۔۔۔ثناء اللہ امرتسری غیرمقلد
(اہل حدیث کا مذہب :ص۷۷،۷۸)
(۷) ۔۔۔۔عبداللہ روپڑی غیرمقلد
(فتاویٰ اہل حدیث ج۱ ص۴۶۱ شائع کردہ ادارہ احیاء السنہ)
(۸)۔۔۔۔ صادق سیالکوٹی غیرمقلد
(صلوٰۃالرسول ص۱۸۸ نعمانی کتب خانہ لاہور)
(۹) ۔۔۔۔ابوالحسن مبشر احمد ربانی غیرمقلد
(آپ کے مسائل اور ان کا حل ج۱ ص۱۲۵ مکتبہ قدوسیہ لاہور)
(۱۰) ۔۔۔۔عبدالرحمن عزیز غیرمقلد
(صحیح نماز نبوی کتاب و سنت کی روشنی میں ص۱۴۸)
(۱۱) ۔۔۔۔عبدالمتین میمن غیرمقلد
(حدیث نماز ص۵۸)
(۱۲)۔۔۔۔ شفیق الرحمن غیر مقلد:
(نماز نبوی صحیح احادیث کی روشنی میں ص۱۴۴، b۔ دارالسلام)
(۱۳)۔۔۔۔ زبیر علی زئی غیرمقلد
(تسہیل الوصول ص۱۹۹ )
(۱۴)۔۔۔۔ ثناء اللہ ضیاء غیر مقلد
(نماز میں ہاتھ کہاں باندھیں؟ ص۱۲،۲۱)
(۱۵)۔۔۔۔ ارشاد الحق غیرمقلد
(تعلیق مسند السراج ص۶۴رقم ۹۷)
(۱۶)۔۔۔۔ قاضی شوکانی غیر مقلد
(نیل الاوطار ج۱ ص۱۵۸، ج۸ ص۱۶۰)
(۱۷)۔۔۔۔ شعیب الارناوط غیر مقلد
(حاشیہ شرح السنہ ج۳ ص۲۴)
(۱۸)۔۔۔۔ زہیر الشاویش غیر مقلد
(ایضاً)
(۱۹)۔۔۔۔ ابوالحسن سیالکوٹی غیرمقلد
(الظفر المبین: ص۳۳۳)
(۲۰)۔۔۔۔ رئیس ندوی غیر مقلد
(صحیح طریقہ نماز ص۲۵۹،۳۹۴)
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۵:
نیز رئیس ندوی غیر مقلد نے اپنے پسندیدہ راویوں کو ثقہ ثابت کرنے کے لئے یہ اصول بیان کیا ہے کہ صحیحین (بخاری و مسلم) کے راویوں پر اگر کسی قسم کی جرح موجود ہو تو وہ بقول راجح مدفوع اور کالعدم شمار ہوگی، چنانچہ اس نے لکھا ہے:
اور یہ معلوم ہے کہ صحیحین (بخاری و مسلم) کے راوی پر اگر کسی قسم کا کلام بھی وارد ہوا ہے تو وہ بقول راجح مدفوع اور کالعدم ہے۔
(اللمحات ج۲ ص۱۳، ادارۃ البحوث الاسلامیہ جامعہ سلفیہ بنارس)
یہاں ندوی صاحب بخاری و مسلم کے راویوں پر جرح کو کالعدم قرار دے رہے ہیں۔جبکہ دوسری طرف دوغلی پالیسی سے کام لیتے ہوئے ترکِ رفع یدین دشمنی میں ‘‘تعلیقاً صحیح بخاری و اصولاً صحیح مسلم و سنن اربعہ’’ کے ثقہ بالاجماع راوی امام عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ پر ایک غیر ثابت جرح کو مدفوع و کالعدم قرار دینے کی بجائے اس جرح کو معتبر قرار دے رہا ہیں(ملخصاً جائزہ: ص۵۷۲) جو کہ ندوی صاحب کا مسلک کی حمایت میں واضح تضاد ہے، اور تضاد کو ندوی صاحب کذب بیانی کہتے ہیں۔ (ملخصاً جائزہ: ص۸۹۴)
زبان مصلحت بین کو کیونکر قرار آئے
اِدھر کچھ اور کہتی ہے، اْدھر کچھ اورکہتی ہے
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۳:
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب نے اپنی مرضی کے مجروح راویوں کو ثقہ ثابت کرنے کے لئے ایک اْصول بنایا ہے کہ جمہور کی توثیق کے بعد راوی پر جرح مفسر بھی مردود ہے، چنانچہ اس نے لکھا ہے:
جمہور کی توثیق کے بعد ہر قسم کی جرح مردود ہوتی ہے چاہے لوگ اسے جرح مفسر کہتے پھریں۔ (بلفظہ مقالات ج۳ ص۳۳۹)
جبکہ دوسری جگہ زبیر صاحب نے تضاد بیانی سے کام لیتے ہوئے ترکِ رفع یدین کے بغض میں سیدنا حضرت امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ پر (جو کہ اتفاقی طور پر عندالجمہور ثقہ و صدوق محدث ہیں) جرحی نشر چلایا ہے۔ (دیکھئے نور العینین :ص۱۳۴ تا ۱۳۹)
تیری بات کو بت حیلہ گرنہ قرار ہے نہ قیام ہے
کبھی شام ہے کبھی صبح ہے، کبھی صبح ہے کبھی شام ہے
رئیس ندوی جھوٹ نمبر ۶:
رئیس ندوی لکھتا ہے: بقول امام ابن المدینی۔۔۔۔(عاصم بن کلیب) جس روایت کی نقل میں منفرد ہو وہ معتبر اور لائق حجت نہیں۔ (سلفی تحقیقی جائزہ :ص۵۷۲)
تبصرہ:
ہم ماقبل میں تفصیل کے ساتھ عرض کرآئے ہیں کہ ندوی صاحب کے مستدل قول کے متعلق ندیم ظہیر غیرمقلد نے صراحت کررکھی ہے کہ امام موصوف کے متعلقہ علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب قول بے سند و غیر ثابت ہے (کمامر) اور ندوی صاحب کے بقول بے سند بات مکذوب ہوتی ہے، (تحقیقی جائزہ :ص۲۰۴) اور مکذوبہ روایت سے استدلال کرنے والا بھی کذاب ہیں ۔(ملخصاً ایضاً :ص۲۰۸) فلھٰذا ندوی صاحب اپنی ہی تحریرات کی روشنی میں کذاب پرست ہیں۔
اعتراض نمبر۴:
زبیر علی زئی غیر مقلد حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:
سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد کے رفع یدین کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا یہ روایت مجمل ہے، اگر اس کو عام تصور کیا جائے تو پھر تارکین رفع الیدین کا خود اس روایت پر عمل نہیں ہے۔ (بلفظہ نور العینین :ص۱۳۹)
الجواب:
اوّلاً۔۔۔۔عرض ہے کہ یہ صرف ہیرا پھیری کے سواء کچھ نہیں، اگر ہم وتر اور عیدین میں رفع یدین کرکے اس روایت پر عمل نہیں کرتے، تو جناب عیدین اور وتر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا ترک ثابت نہیں۔ اس کے علاوہ چونکہ باقی عمومی نمازوں میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے شروع نماز کے علاوہ رفع یدین کا ترک ثابت ہے، جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر گواہ ہیں فلھٰذا جہاں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہم رفع یدین کرتے ہیں وہاں ہم بھی کرتے ہیں، اور جہاں وہ نہیں کرتے ترک فرماگئے تھے وہاں ہم بھی نہیں کرتے۔
ثانیاً۔۔۔۔ پھر زبیر صاحب کی جہالت ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں بات عام نمازوں کی ہورہی ہے نہ کہ خاص عیدین اور وتروں کی۔ مگر زبیر صاحب خواہ مخواہ خا ص عیدین ووتروں کی نماز کو درمیان میں زیر بحث لا رہے ہیں۔
ثالثاً۔۔۔۔ وتروں میں بعد از رکوع عام دعا کی طرح غیر مقلدین جو ہاتھ اْٹھا کر دعائے قنوت پڑھتے ہیں۔ کیا اس کے بارے میں زبیر علی زئی اینڈ پارٹی کے پاس کوئی ایک بھی صحیح صریح مرفوع حدیث ہے؟ اگر ہے تو جناب ذرا پیش کرو۔ ورنہ فضول شور مچانا بند کرو۔
اعتراض نمبر۵:
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے:
یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ (ثبوت ذکر کے بعد) عدم ذکر سے نفی ذکر لازم نہیں ہے۔
(نور العینین: ص۱۴۰)
الجواب:
فرقہ غیرمقلدیت کے تمام متحققین خدمت حدیث کا لبادہ اوڑھ کر حدیث کے انکار کی مہم چلانے بیٹھے ہیں۔ اور صحیح حدیث کو رد کرنے کے لئے فضول بہانے تراش رہے ہیں۔ وگرنہ ہماری بیان کردہ روایت سے صرف عدم ذکر بلکہ وضاحت موجود ہے کہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ رفع الیدین کیا پھر پوری نمازمیں رفع یدین نہیں کیا۔ جیسا کہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایات میں بھی اسی طرح موجود ہے۔ لہٰذا یہ صرف تک بندی ہے جو صحیح احادیث کو رد کرنے کے لئے تلاش کی گئی ہے۔ ورنہ حدیث صحیح اور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کی کثرت کا اس پر خیرالقرون سے ہی عامل پیراہونا بھی اس حدیث کو تسلیم کرنے کی طرف راغب کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ شتر بے مہار متحققین کو ہدایت نصیب فرمائے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۴:
نیز زبیر علی زئی صاحب ایک طرف تو یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ عدم ذکر سے نفی ذکر لازم نہیں ہے۔ (نور العینین :ص۱۴۰)جبکہ دوسری جگہ زبیر صاحب نے عبدالرحمن مبارکپوری کی بقیہ بن ولید پر کئی گئی جرح کو منسوخ قرار دیتے ہوئے لکھا:
خود محدث مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ نے بقیہ کا ذکرکیا ہے، یاسنن الترمذی میں بقیہ کا ذکر آیا ہے، مگر انہوں نے بذاتِ خود اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ لہٰذا معلوم ہو اکہ مبارکپوری رحمۃ اللہ علیہ کی جرح ان کی کتاب تحفۃ الاحوذی کی رْو سے منسوخ ہے۔ (بلفظہ مقالات: ج۲ ص۱۷۳)
ملاحظہ فرمائیں۔۔۔! کہ عبدالرحمن مبارکپوری نے بقیہ بن ولید پر القول السدید فیما یتعلق بتکبیرات العید میں جرح کی ہے جو کہ ثبوت ہے، اس کے بالمقابل تحفۃ الاحوذی میں بقول زبیر صاحب بقیہ بن ولید کا بار بار نام آیا، مگر عبدالرحمن مبارکپوری نے جرح نہیں کی۔ اور یہ جرح نہ کرنا عدم ذکر ہے، زبیر صاحب نے اپنے اصول کے مطابق یہاں عدم ذکر کو نفی ذکر نہ سمجھنے کی بجائے دوغلی پالیسی سے کام لیتے ہوئے نفی ذکر سمجھ کر جرح کو منسوخ قرار دے دیا۔
اسی طرح زبیر صاحب اخبار الفقہاء والمحدثین کو مشکوک ثابت کرنے کے لئے اپنی کتاب نور العینین میں لکھتے ہیں:
جدید دور کے یہ حوالے اس کی قطعی دلیل نہیں ہیں کہ یہ کتاب محمد بن حارث کی ہی ہے، قدیم علماء نے اس کتاب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (نور العینین: ص۲۰۸)
حالانکہ قدیم علماء کا ذکر نہ کرنا عدم ذکر ہے جو کہ زبیر صاحب کے ضابطہ کے مطابق نفی ذکر کی دلیل نہیں، مگر یہاں پر بھی زبیر صاحب متضاد پالیسی پر چلتے ہوئے مسلکی حمایت میں عدم ذکر کو نفی ذکر قرار دے رہے ہیں۔
جو چاہے ان کا حسن کرشمہ ساز کرے
تنبیہ:
یاد رہے قدیم محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم نے بھی محمد بن حارث کی کتابوں میں اخبار الفقہاء والمحدثین کا ذکر کیا ہے تفصیل حدیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر اعتراضات کے جوابات میں ملاحظہ فرمائیں۔
اعتراض نمبر۶:
زبیر صاحب لکھتے ہیں:
سفیان کی حدیث میں نفی ہے۔ اور صحیحین وغیرھما کی متواتر احادیث میں اثبات ہے یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ اثباتِ نفی پر مقدم ہوتا ہے۔
(نورالعینین ص۱۴۰)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ تو عرض ہے کہ اگر آپ مثبت پر عمل کرنے کے دعویٰ میں سچے ہیں تو پھر مکمل عمل کریں کیونکہ جس طرح بوقت رکوع رفع الیدین کی روایات مثبت ہیں، اسی طرح سجدوں اور ہر اونچ نیچ وغیرہ پر رفع الیدین کرنے کی روایات بھی تو مثبت ہیں۔ آپ کا رکوع کے وقت رفع یدین کے اثبات والی روایات کو لے لینا اور سجدوں کی رفع یدین اور اونچ نیچ پر رفع یدین کے اثبات والی روایات کو چھوڑدینا اخذ بالمثبت نہیں۔ فلھٰذا اگر بفرض محال ہم نے مثبت کو ترک کیا ہے تو پھر آپ بھی سجدوں اور دیگر مقامات پر رفع یدین کے اثبات والی روایات کو ترک کرکے تارک مثبت ہو۔
ثانیاً-85 عبدالتواب ملتانی غیرمقلد رفع الیدین بین السجدتین کی روایات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے:
‘‘ تعارضت فیہ روایات الفعل والترک والاصل العدم ’’ کہ سجدوں میں رفع یدین کرنے اور نہ کرنے کی روایات باہم متعارض ہوگئی ہیں، اور اصل بات یہ ہے کہ سجدتین میں رفع یدین نہ ہو۔ (حاشیہ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۱۸۴ بحوالہ نور الصباح ج۱ ص۱۲۶)
اسی طرح ہم بھی بطور الزام کے کہتے ہیں ‘‘ تعارضت فیہ روایات الفعل والترک فی الرفع عندالرکوع وعند رفع الراس من الرکوع والاصل العدم ’’ کہ رکوع جاتے اور رکوع سے سراٹھاتے وقت رفع یدین کرنے اور نہ کرنے کی روایات باہم متعارض ہوگئی ہیں، اور اصل بات یہ ہے کہ رفع یدین نہ ہو۔
ثالثاً۔۔۔۔ اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ لیکن کب؟ اثبات نفی پر اس وقت مقدم ہوگا جبکہ نفی کرنے والے کا علم اس چیز کو محیط نہ ہو جس کی نفی کی جارہی ہے۔ اگر راوی کا علم اس چیز کو محیط ہو (جیسا کہ اس جگہ ہے) تو اثبات اور نفی کا حکم برابر ہوگا ترجیح غیر سے طلب کی جائے گی۔ (ملخصاً :نور الانوار ص۱۹۷) اوراس میں کوئی شک نہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں ہمیشہ رہے اور شاذ و نادر ہی آپ سے جدا ہوئے۔ حتی کہ لوگ انہیں اہل بیت میں سے گمان کرتے تھے۔ فلھٰذا چونکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں مکمل علم تھا اس لئے مذکورہ اصول یہاں نہیں چلے گا۔
رابعاً۔۔۔۔ مثبت کو نفی پر مقدم کرنے کا اْصول اس صورت میں ہے ‘‘ اذا کان الروایتان فی قصۃ واحدۃ ووقت واحد واذا کانتا فی حادثات مختلفۃفاذا یرجح احد الجانبین من قرینۃ خارجیۃ ’’ کہ جب دونوں روایات (مثبت و نافی) ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہونے والے ایک ہی واقعہ کے متعلق ہوں، اور جب وہ دونوں روایات حوادثات مختلفہ کے متعلقہ ہوں تو پھر یہ اْصول جاری نہیں ہوگا۔ اور ترجیح غیر سے طلب کی جائے گی۔ اور یہ بات تو متفق علیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں صرف ایک ہی نماز نہیں پڑھی ہے۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پوری زندگی میں مختلف اوقات میں مختلف نمازیں ادا فرمانے کے بکثرت واقعات کتب حدیث میں منقول ہیں۔ اس لئے مثبت کو نفی پر مقدم کرنے کا اْصول یہاں جاری نہیں ہوگا۔ کیونکہ اثبات اور نفی کی روایات حادثات مختلفہ کے متعلق ہیں۔
نیز اگر زبیر علی زئی پارٹی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو عرض ہے کہ بعض روایات میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا اثبات ہے۔ (مثلاً دیکھئے بخاری رقم ۲۲۴) اور دیگر بعض روایات میں کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی نفی ہے (مثلاً دیکھئے سنن ترمذی رقم ۱۲) اب اگر فرقہ غیر مقلدیت کا ہی کوئی شخص کھڑے ہوکر پیشاب کرنا شروع کردے، اور اپنے اس عمل پر بطور دلیل کے اثبات کی روایات پیش کرے اور نفی کی روایات کو یہ کہہ کر رد کردے کہ میری مستدل روایات میں اثبات ہے اور تمہاری پیش کردہ روایات میں نفی ہے اور یہ بات عام طلباء کو بھی معلوم ہے کہ اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے، لہٰذا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا سنت یا اولیٰ ہے، تو زبیر علی زئی پارٹی اس شخص کو کیا جواب دے گی؟
خامساً۔۔۔۔ ظرافت طبع کے طور پر عرض ہے کہ اثبات کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ اثبات اور مثبت اس کو کہا جاتا ہے جو ایک امر جدید اور امر حادث کو ثابت کرے۔ اس معنی کے اعتبار سے ہم زیر بحث مسئلہ میں اثبات والے ہیں اور غیرمقلدین نفی والے ہیں کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے رفع یدین کرتے تھے اور بعد میں چھوڑ دیا تھا، ہم ترک رفع یدین کا اثبات کرنے والے ہیں لہٰذا ہم مثبت ہوئے اور غیرمقلدین ترک رفع یدین کی نفی کرنے والے ہیں، فلھٰذا غیرمقلدین نافی ہوئے، اور مذکورہ مثبت کو نفی پر مقدم قرار دینے والے ضابطہ کے پیش نظر ترکِ رفع یدین کی اثبات والی روایات کو ہی ترجیح ہوگی۔
اعتراض نمبر۷:
نور حسین گرجاکھی غیرمقلد لکھتا ہے:
کہ (حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا مطلب۔ ناقل) شیخ محی الدین ابن عربی شافعی صاحب فتوحات مکیہ کے ہاں یہ ہے کہ تکبیر افتتاح کے وقت رفع یدین ایک بار کیا بار بار نہیں کیا۔ (قرۃ العینین :ص۸۸) یہی توجیہ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ سے رئیس ندوی غیر مقلد نے بھی نقل کی ہے۔
(دیکھئے سلفی تحقیقی جائزہ ص۵۷۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ تو عرض ہے کہ رئیس ندوی صاحب کے بقول ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ غالی مقلد ہیں۔ (سلفی تحقیقی جائزہ ص۵۳۸، ۵۳۷) اور ندوی صاحب نے صراحتاً لکھا ہے کہ اختلافی مسائل میں مقلدین کی نقل کا کوئی اعتبار نہیں (ایضاً ص۵۳۸) الغرض جب غیر مقلدین کے نزدیک اختلافی مسائل میں مقلدین کی محض نقل کا ہی اعتبار نہیں ہے تو پھر زیر بحث مسئلہ میں مذکورہ بالا ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ مقلد کی ایک غلط و مردود تاویل کا سہارا لے کر غیر مقلدین نے آخر کیوں شور مچارکھا ہے؟
نیز رئیس ندوی صاحب کے نزدیک تقلید شرک کفر ناجائز اور حرام ہے (تحقیقی جائزہ ص۸۲۱)، اور تقلید کرنے کی وجہ سے ندوی صاحب کے نزدیک ابن عربی کافر مشرک اور حرام کاری کے مرتکب قرار پاتے ہیں، نیز غیر مقلد زبیر علی زئی نے تو باحوالہ صراحتاً ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کو کافر کہا ہے (ملخصاً: فتاویٰ علمیہ ج۱ ص۶۶، ۶۷)
الغرض غیر مقلدین ایک طرف تو ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ پر کفر و شرک کی گردان پڑھتے نہیں تھکتے، اور دوسری طرف ترکِ رفع یدین دشمنی میں ایک غلط تاویل کا سہارا لینے کے لئے ان کی چوکھٹ پر کاسہ گدائی رکھے سجدہ ریز ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے:
آنچہ شیراں راکند روباہ مزاج
احتیاج ست و احتجاج ست احتیاج
ثانیاً۔۔۔۔ہماری مستدل روایات میں وضاحت موجود ہے کہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ رفع یدین کیا اور پھر پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا۔ جیسا کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں صراحت ہے، ان واضح اور صاف احادیث کے مقابلے میں مذکورہ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی تاویل ‘‘تاویل القول بمالایرضی بہ قائلہ’’ کے طریق سے ہونے کی وجہ سے بالکل غلط باطل و مردود اور ناقابل التفات ہے۔
ثالثاً۔۔۔۔ (۱)حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۸ھ نے ‘‘ باب من لم یذکر الرفع الا عند الافتتاح’’ میں (سنن الکبریٰ للبیہقی :ج۲ ص۷۸)
(۲)۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ نے ‘‘ باب لم یذکر الرفع عندالرکوع ’’ (سنن ابی داؤد رقم ۷۴۸)میں۔
(۳)۔۔۔۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ نے ‘‘ باب ترک ذلک (عندالرکوع ناقل) و‘‘ باب الرخصۃ فی ترک ذلک ’’ (سنن النسائی رقم ۱۰۲۶،۱۰۵۸)میں۔
(۴)۔۔۔۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ۲۷۹ھنے ‘‘ باب من لم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ (شرح ترمذی از احمد شاکر ج۲ ص۴۰)میں۔
(۵)۔۔۔۔ حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۷ھ نے ‘‘ باب التکبیر للرکوع والتکبیر للسجود والرفع من الرکوع ھل مع ذالک رفع ام لا’’میں۔
(شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۶۱)
(۶)۔۔۔۔ امام سحنون بن سعید المصری رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۰ھ نے ‘‘ باب رفع الیدین فی الرکوع والاحرام ’’ (المدونۃ الکبریٰ ج۱ ص۱۱۹)میں۔
(۷)۔۔۔۔ امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۵ھ نے ‘‘ باب من کان یرفع یدیہ فی اوّل تکبیرۃ ثم لایعود ’’ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۶۸)
میں ذکر فرمایا ہے اس سے معلوم ہوا مذکورہ بالا محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ بعد الافتتاح ترک رفع یدین کی دلیل ہے، ان جلیل القدر جبال علم حضرات کے مقابلے میں صوفی منش بزرگ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی باطل تاویل کی کچھ وقعت نہیں ہے۔
نیز علی زئی اْصول کے مطابق بھی مذکورہ تاویل مردود ہے۔ کیونکہ ابن العربی رحمۃ اللہ علیہ م۶۳۸ھ سے پہلے حافظ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ م۴۵۸ھ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۱ھ امام سحنون بن سعید المصری رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۰ھ امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ ۲۳۵ھ غیرہم حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ترک رفع یدین بعد الافتتاح کے متعلق قرار دے چکے ہیں (کمامر) اور غیر مقلد علی زئی صاحب کے بقول پہلے والے حضرات کے مقابلے میں بعد والوں کی بات سننے کے ہی قابل نہیں ہوتی۔ (ملخصاً نور العینین ص۱۳۷) فلھٰذا باصول علی زئی مذکورہ پہلے والے ائمہ محدثین عظام رحمۃ اللہ علیہم کے مقابلے میں ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح حدیث کے واضح الفاظ کے خلاف تاویل باطل سننے کے ہی سرے سے قابل نہیں ہے۔
اعتراض نمبر۸:
غیر مقلدین کی طرف سے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر ایک اعتراض یہ بھی زور و شور سے کیا جاتا ہے کہ ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ضعیف کہا ہے۔ مثلاً (دیکھئے نور العینین :ص۱۳۰)
جواب اوّل:
ہم ماقبل میں تفصیل سے عرض کرآئے ہیں کہ زیر بحث حدیث پر بعض حضرات کے اعتراض کا بنیادی محور صرف لفظ ثم لایعود ہے اور باقی حدیث کو ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ اور اہلسنّت والجماعت احناف کا دعویٰ ترک رفع یدین لفظ ثم لایعود کے بغیر ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے صراحتاً ثابت ہورہا ہے۔ اس لئے بعض حضرات سے لفظ ثم لا یعود پر زیادتی کا اعتراض علمائے اہلسنّت کے خلاف پیش کرنا باطل و مردود ہے۔ (اگرچہ باصول حدیث ثم لایعود کی زیادتی کا اعتراض بھی غلط ہے) نیز اگر معترضین کے اعتراضات کا اْصول حدیث و اسماء الرجال کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو معترضین کے مسلمہ اْصولوں کی روشنی میں ان اعتراضات کی کوئی ٹھوس حیثیت ثابت نہیں ہوتی۔ جس سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ زیر بحث حدیث پر اعتراضات محض مسلکی تفاوت کی پیداوار ہیں۔ ویسے بھی مسلکی تفاوت کی بنیاد پر اْصول و ضوابط کے خلاف وارد کئے جانے والے اعتراضات کی علمی و تحقیقی دنیا میں کچھ وقعت نہیں ہوتی۔ اس لئے مسلکی تفاوت کی بنیاد پر اْصول و ضوابط کے خلاف ترک رفع یدین کی احادیث پر اعتراضات بالکلیہ مردود و غیر مقبول ہیں۔ یہ بات تو غیر مقلدین کو بھی تسلیم ہے کہ مخالفت اور اْصول میں ترجیح اصولوں اور ضابطوں کو ہی ہوتی ہے چنانچہ غیر مقلدزبیر علی زئی لکھتا ہے:
اْصول اور مخالفت میں ہمیشہ اْصول کو ترجیح ہوتی ہے۔ (مقالات ج۴ ص۲۳۱)
ہوسکتا ہے کہ کسی غیر مقلد کا بلڈپریشر تیز ہی نہ ہوجائے اس لئے اب بغیر کسی تاخیر کے زیر بحث حدیث پر بعض حضرات کی جروحات کا اْصول حدیث و اسماء الرجال کی روشنی میں جائزہ حاضر خدمت ہے۔
امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ م۱۸۱ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر علی زئی غیر مقلد نے نور العینین ص۱۳۰پر نقل کیا ہے کہ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت نہیں ہے۔
الجواب:
اولاً۔۔۔۔امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کی سند ذرا ملاحظہ فرمائیں:۔
‘‘حدثنا بذالک احمد بن عبدۃ الاٰملی ثنا وھب بن زمعۃ عن سفیان بن عبدالملک عن عبداللہ بن مبارک ’’ (سنن ترمذی ج1ص۹۰ ) بطور الزام کے عرض ہے کہ فریق مخالف کے اْصولوں کی روشنی میں اس سند میں امام ترمذی کے استاذ احمد بن عبدہ غیر موثق ہیں آٹھویں صدی تک کسی محدث نے اس کی توثیق نہیں کی (فیما اعلم) سوائے حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے انہوں نے اس کو صدوق کہا ہے۔ (دیکھئے الکاشف ج۱ ص۲۳) مگر حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا احمد بن عبدہ کو صدوق کہنا غیر مقلدین حضرات کو کچھ بھی مفید نہیں ہے۔ کیونکہ یہ لفظ ان کے نزدیک راوی کو ثقہ ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں۔ چنانچہ ابراہیم سیالکوٹی غیر مقلد صاحب کہتے ہیں کہ:
صدوق کا لفظ مراتب تعدیل میں نہایت گھٹیا درجہ کا ہے ۔(انارۃ المصابیح: ص۳۹)
ناصر الدین البانی غیر مقلد ایک راوی کے بارے میں لکھتا ہے:
‘‘۔۔۔۔من اھل الصدق ذلک لایکفی یسحتج بحدیثہ حتی ینضم الیہ الضبط والحفظ وذلک ممالم یثبت فی حقہ ’’ کہ یہ راوی اہل صدق میں سے ہے لیکن یہ ان کی حدیث کے قابل احتجاج ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک اس کے ساتھ ضبط اور حفظ نہ ملے ہوں۔ اور یہ دونوں چیزیں مذکور راوی کے حق میں ثابت نہیں ہیں۔ (سلسلہ احادیث الضعیفہ ۶۶۵/1)
نیز صدوق کا مطلب ہے کہ یہ شخص سچا ہے، اور زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
کہ کتنے ہی سچے اشخاص حافظے کی وجہ سے ضعیف تھے۔ (نور العینین: ص۱۶۱)
لہٰذا ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کا احمد بن عبدہ کو صدوق کہنا اس کے لئے کچھ مفید نہیں ہے، نیز حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ متاخرین ائمہ رجال میں سے ہیں اور احمد بن عبدہ رحمۃ اللہ علیہ متقدم روات میں سے ہیں، اور غیر مقلدین کے نزدیک متقدم راویوں کے بارے میں متاخر ائمہ رجال کی آراء غیر مقبول ہیں، چنانچہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (جن کی تعریف و توثیق میں غیر حاسد تمام بڑے بڑے متقدمین و متاخرین محدثین اور فقہاء رطب اللسان ہیں کی حضرت اقدس مفتی مہدی حسن صاحب نے جب متاخرائمہ کرام حافظ محمد بن عبداللہ المعروف صاحب المشکوٰۃم۷۴۱ھ ابوحامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی رحمۃ اللہ علیہ م۵۰۵ھوغیرھما سے تعریف و توثیق نقل کی تو فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق رئیس ندوی صاحب سے برداشت نہ ہوئی، اس لئے ندوی صاحب نے عام حضرات کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لکھا:
دیوبندی یہ ضرور بتلائیں کہ امام غزالی و امام ابوحنیفہ کے درمیان صدیاں حائل ہیں، پھر کس معتبر سند سے انہیں امام ابوحنیفہ کے وہ اوصاف معلوم ہوئے، جن کا ذکر دیوبندیہ نے بحوالہ احیاء العلوم کیا ہے؟۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں کہ امام ابن خلکان و امام ابوحنیفہ کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، پھر کس معتبر و صحیح سند سے انہیں مذکورہ اوصاف ابی حنیفہ معلوم ہوئے؟ یہ بھی دیوبندیہ کی اکاذیب پرستی میں سے ہے۔۔۔۔ صاحب مشکوٰۃکو کیسے معلوم ہوا کہ امام ابوحنیفہ علومرتبت اور وفور علم والے تھے؟ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص۲۱۴، ۲۱۵، ۲۲۰)
غیر مقلدین حضرات کی ستم ظریفی ملاحظہ کریں کہ امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ (جن کا زاہد، متقی پرہیزگار اور عبادت گزار ہونا اجماع امت اور روایات متواترہ سے ثابت ہے، اور جن کی تعریف و توثیق میں تمام غیر حاسد متقدم محدثین اور فقہاء بھی رطب اللسان ہیں) کے بارے میں متاخر ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کے تعریفی و توثیقی اقوال کو درمیان میں صدیاں حائل ہونے کا فضول بہانہ بناکر مردود قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف احمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مسلکی حمایت میں حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو قبول کررکھا ہے، حالانکہ احمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہکی آٹھویں صدی تک کسی بھی متقدم و متاخر محدث نے صراحتاً توثیق و تعریف نہیں کی ہے، اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور ابن عبدہ رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان صدیوں کا فاصلہ بھی حائل ہے، مگر اس کے باوجود حافظ ذھبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو قبول کررکھا ہے۔ واعجبا
نہ پہنچا ہے نہ پہنچے گا تمہاری ظلم کیشی کو
بہت سے ہو چکے ہیں گرچہ تم سے ستمگر پہلے
المختصر غیر مقلدین کے اْصولوں کی روشنی میں احمد بن عبدہ غیر موثق ہی ہے، اور غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب کے بقول غیر موثق راوی کی روایت باطل مردود ہوتی ہے (دیکھئے ماہنامہ الحدیث ص۱۶ ش نمبر۴۷، القول المتین ص۲۸) فلھٰذا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ بالا جرح باصول غیر مقلدین بسند صحیح ثابت نہیں ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔کتب حدیث میں ترک رفع یدین سے متعلقہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مختلف احادیث موجود ہیں مثلاً۔۔۔۔
ایک تو زیر بحث ہی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں ‘‘ قال قال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ ’’ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے لوگو! کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاو?ں؟ پس ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز پڑھی، اور شروع نماز کے علاوہ کہیں بھی رفع یدین نہیں کیا۔ (سنن ترمذی ج۱ ص۳۵)، اس حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بذاتِ خود رفع یدین کے بغیر نماز پڑھی ہے، اور رفع یدین کے بغیر اپنی اس پڑھی ہوئی نماز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز قرار دیا ہے، اس حدیث کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث کہا جاتا ہے۔ اور ہمارا اصل استدلال اسی حدیث سے ہے۔
اسی طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں ‘‘ عن عبداللہ عن النبیﷺ انہ کان یرفع یدیہ فی اوّل تکبیرۃ ثم لایعود’’ کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پختہ بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شروع نماز کے علاوہ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ (طحاوی ج۱ ص۱۶۲)
یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قولی حدیث ہے کہ اس حدیث میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ صراحتاً قولاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ترک رفع یدین بتارہے ہیں۔
الغرض ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بعض احادیث فعلی ہیں اور بعض احادیث قولی ہیں، اور مذکورہ بالا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قولی حدیث پر ہے نہ کہ فعلی پر، اور ہمارا استدلال ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث سے ہے۔ فلھٰذا قولی حدیث کے متعلقہ جرح کو ہماری مستدل فعلی حدیث پر فٹ کرنا غلط ہے۔
زبیر علی زئی دھوکہ نمبر ۲:
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے:
بعض لوگوں نے ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ کی جرح کو عصر جدید میں اس حدیث سے ہٹانے کی کوشش کی ہے مگر درج ذیل ائمہ حدیث و علمائے کرام نے ابن مبارک کی جرح کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب اس متنازعہ روایت کے متعلق قرار دیا ہے۔ ا:ترمذی( بلفظہ نور العینین: ص۱۳۰)
تبصرہ:
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ نے ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کو ہرگز ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث کے متعلق قرار نہیں دیا، یہ زبیر صاحب کا محض دھوکہ ہی دھوکہ ہے۔ سنن ترمذی کی مکمل عبارت ملاحظہ فرمائیں:
‘‘ قال عبداللّٰہ بن المبارک قد ثبت حدیث من یرفع یدیہ وذکر حدیث الزھری عن سالم عن ابیہ ‘‘ولم یثبت حدیث ابن مسعود ان النبیﷺ لم یرفع الا فی اوّل مرۃ ’’ حدثنا بذالک احمد بن عبدۃالآملی ثنا وھب بن زمعۃعن سفیان بن عبدالملک عن عبداللہ ابن المبارک۔حدثنا ھنادنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ الا اصلی بکم صلوٰۃ رسول اللّٰہ ﷺ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃوفی الباب عن البراء بن عازب قال ابو عیسیٰ حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحیح وبہ یقول غیر واحد من اھل العلم من اصحاب النبی ﷺ والتابعین وھو قول سفیان واھل الکوفۃ۔’’ (سنن ترمذی قلمی نسخہ دارالکتب المصریہ)
سنن ترمذی کی مندرجہ بالا عبارت میں امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قولی حدیث ‘‘ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم لم یرفع الا فی اوّل مرۃ ’’ پر ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح نقل فرمانے کے بعد اس جرح کی سند نقل کی ہے، اور اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث کو باسند نقل فرمانے کے بعد اس فعلی حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے اور پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ فعلی حدیث کے مطابق بے شمار اہل علم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین عظام (جلیل القدر ثقہ محدث) امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ اور اہل کوفہ ترک رفع یدین کے قائل ہیں۔
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ انداز تحریر صراحتاً بتارہا ہے کہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح قولی حدیث پر ہے نہ کہ فعلی حدیث پر کیونکہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے جرح قولی حدیث پر نقل کی ہے اور اس کے بعد فعلی حدیث کو باسند ذکر فرماکر اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ اگر ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح فعلی حدیث پر ہوتی تو پھر امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اپنی عادت معروفہ کے مطابق ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث کو نقل فرمانے کے بعد متصل ہی اس حدیث پر جرح نقل فرمادیتے۔ جس طرح امام موصوف نے فعلی حدیث کو نقل فرمانے کے بعد متصل ہی اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔ فلھٰذا بالتحقیق والیقین امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مذکورہ جرح قولی حدیث پر ہے۔ نہ کہ فعلی پر۔ اور زبیر صاحب پر زبیر صاحب کا ہی نقل کردہ شعر بالکل صادق آتا ہے کہ:
آنکھیں ہیں اگر بند تو پھر دن بھی رات ہے
اس میں سورج کا بھلا کیا قصور ہے
دیگر حوالہ جات کا جواب:
زبیر صاحب نے مذکورہ جرح کو فعلی حدیث کے متعلق قرار دینے والوں میں حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ م۵۹۷ھ بغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۶ھ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ وغیرھم کو بھی شمار کیا ہے۔ (دیکھئے نور العینین: ص۱۳۰)
لیکن عرض ہے کہ اگر بفرض محال ان حضرات نے مذکورہ جرح کو فعلی حدیث کے متعلق کہا بھی ہو تو تب بھی یہ تمام حوالہ جات خود زبیر صاحب کے اپنے ہی اْصول کی روشنی میں سننے کے ہی قابل نہیں ہیں، کیونکہ ان حضرات سے بہت پہلے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ اور حافظ دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کو قولی حدیث کے متعلق قرار دے چکے ہیں (ملخصاً سنن ترمذی ج۱ ص۳۵، سنن دارقطنی ج۱ ص۳۹۶، رقم ۱۱۵) اور زبیر صاحب کے بقول پہلے والے حضرات کے مقابلے میں بعد والوں کی بات سننے کے قابل ہی نہیں ہوتی (ملخصاً نور العینین ص۱۳۷) فلھٰذا بقول علی زئی امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ ۳۸۵ھ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ کے مقابلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھامام بغوی رحمۃ اللہ علیہ م۵۱۶ھ وغیرہما کے حوالے سرے سے سننے کے ہی قابل نہیں ہیں۔
نیز مذکورہ جرح کا اصل ماخذ سنن ترمذی ہی ہے اور مذکورہ حضرات نے تقریباً سنن ترمذی سے ہی جرح کو نقل کیا ہے جب اصل ماخذ میں ہی یہ جرح قولی روایت پر ہے تو اصل ماخذ کی موجودگی ہی نقل کا کیا اعتبار ہے؟
ثالثاً۔۔۔۔ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح فعلی روایت پر ہے یا قولی پر اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے عرض ہے کہ بغیر کسی دلیل کے صحیح سند و متن کے ساتھ موجود حدیث کو کسی کے محض غیر ثابت کہنے سے حقیقتاً اس حدیث کا غیر ثابت ہونا ہرگز لازم نہیں آتا، جب تک اس حدیث کے غیر ثابت ہونے پر کوئی قوی دلیل نہ مل جائے۔
اگر بفرض محال زیر بحث حدیث عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے علم میں نہیں تھی یا ان کو سرے سے پہنچی ہی نہیں تھی یا وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکے، تو یہ کوئی عیب یا عجیب بات نہیں ایسی غلطی کا لگ جانا انسانی فطرت میں داخل ہے، علم محیط تفصیل کلی صرف خاصہ خداوندی ہے، اس کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا محدث و فقیہ بھی غلطی اور خطاء-04 سے مبرا نہیں، کتب حدیث وغیرہ میں بے شمار ایسی مثالیں موجود ہیں کہ ایک محدث کہتا ہے کہ فلاں حدیث ثابت نہیں یا فلاں بات ثابت نہیں، حالانکہ وہ حدیث صحیح سند کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہوتی ہے۔ حتی کہ فریق مخالف کی کتابوں میں بھی اس کی بکثرت مثالیں ملتی ہیں، ہم عام قارئین کی تشفی کے لئے کتب حدیث و فریق مخالف کی کتابوں سے چند مثالیں پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:
مثال نمبر۱:
کتب حدیث میں باسند موجود ہے کہ حضرت ابوصالح رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ اور امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا دونوں سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‘‘ الامام ضامن والمؤذن مؤتمن۔۔۔۔الخ’’ کہ امام ضامن ہے اور مؤذن امانتدار ہے۔۔۔۔الخ۔
اس حدیث کے متعلق سنن ترمذی میں ہے کہ سیدنا امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۴ھ فرماتے ہیں: ‘‘ لم یثبت حدیث ابی صالح عن ابی ھریرۃ ولا حدیث ابی صالح عن عائشہ فی ھٰذا’’ کہ ابوصالح کی امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ثابت نہیں ہے۔ (ترمذی ج۱ ص۱۵)، جبکہ ناصر الدین البانی، احمد محمد شاکر غیرمقلد نے اس حدیث کو صحیح (ثابت) اور زبیر علی زئی غیر مقلد نے حسن قرار دے رکھا ہے۔ ملاحظہ ہو۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔المشکاۃ بتحقیق الالبانی (۶۶۳)
(۲) ۔۔۔۔الاروا ء بتحقیق الالبانی (۲۱۷) بحوالہ ضعیف و صحیح سنن ترمذی ج۱ ص۲۰۷، رقم ۲۰۷
(۳)۔۔۔۔شرح سنن الترمذی از احمد شاکر ج۱ ص۳۹۹، رقم ۲۰۷، b۔دارالحدیث القاھرہ
(۴) ۔۔۔۔سنن ابی داؤد بتحقیق و تخریج علی زئی ج۱ ص۴۲۴ رقم ۵۱۷
مثال نمبر۲:
شیخ ثقہ محدث فقیہ علی بن سلطان محمد القاری رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴ھ (جن کا مقام مبارکپوری غیر مقلد سے کئی گنا زیادہ ہے) نے نماز فجر کی سنتوں کی قضاء کے متعلقہ ایک روایت کو غیر ثابت قرار دیا ہے۔ (بحوالہ تحفۃ الاحوذی ج۱ ص۳۲۵)
لیکن عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ قد ثبت ھذا الحدیث ’’ کہ یہ حدیث ثابت ہے۔ (تحفۃالاحوذی: ج۱ ص۳۲۵)
مثال نمبر۳:
غیر مقلد زبیر علی زئی اخبار الفقہاء والمحدثین میں موجود ترک رفع یدین کی ایک حدیث کے راوی عثمان محمد کے متعلق لکھتا ہے:
عثمان بن محمد کا تعین ثابت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ۔ (نور العینین ص۲۰۶)
حالانکہ اسی اخبار الفقہاء والمحدثین کے ص۱۰۳ و ص۱۰۵ پر عثمان بن محمد کا تعین صراحتاً ‘‘عثمان بن محمد بن احمد بن مدرک من اہل قبرہ ’’موجود ہے۔
مثال نمبر۴:
غیر مقلد زبیر علی زئی، عیسیٰ بن جاریہ پر امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے قول جرح کے متعلق لکھتا ہے:
کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ سے صحیح سند کے ساتھ منکر الحدیث یا متروک کی جرح ثابت نہیں۔ (ماہنامہ الحدیث ص۱۶، ش نمبر ۴۷)
جبکہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ نے صراحتاً اپنی کتاب ‘‘الضعفاء والمتروکین’’ میں عیسیٰ بن جاریہ کو ‘‘منکر’’ کہا ہے، جس کا مطلب حافظ ابن عدی رحمۃ اللہ علیہ م۳۶۵ھ اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ جیسے محدثین اور غیر مقلد نذیر رحمانی نے منکر الحدیث بیان کیا ہے۔ (ملخصاً الکامل ج۶ ص۴۳۶ رقم ۱۳۰۲، میزان الاعتدال ج۳ ص۳۱۱، انوار المصابیح ص۱۱۲)
مثال نمبر۵:
زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں:
محمد بن حارث کی کتابوں میں اخبار القضاۃوالمحدثین کا نام تو ملتا ہے، مگر اخبار الفقہاء والمحدثین کا نام نہیں ملتا۔ اور قدیم علماء نے اس کتاب کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ (نورالعینین ص۲۰۷، ۲۰۸)
حالانکہ محمد بن حارث کی کتابوں میں امام ابومحمد بن حزم الاندلسی م۴۵۶ھ، امام ابوعمر ابن عبدالبر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ، امام ابومحمد الحمیدی م۴۸۸ھ، امام احمد بن یحییٰ الضبی رحمۃ اللہ علیہ م۵۹۹ھ وغیرہم قدیم علماء نے بھی اخبار الفقہاء والمحدثین کا ذکر کیا ہے ملاحظہ ہو:
(۱)۔۔۔۔ جذوۃ المقتبس :ص۴۷
(۲)۔۔۔۔بغیۃ الملتمس ص:۶۱
(۳)۔۔۔۔جذوۃالمقتبس: ص۴۷
مثال نمبر۶:
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے کہ:
ابوبکر بن عیاش کی تمام روایات صحیح بخاری میں متابعۃً ہیں۔ (امین اوکاڑوی کا تعاقب ص۳۱، ونورالعینین ص۱۸۶، ۱۸۲، ۱۸۱، ۱۸۷)
حالانکہ امام ابوبکر عیاش رحمۃ اللہ علیہ کی صحیح بخاری میں کئی روایات اصالۃً بھی موجود ہیں۔ مثلاً دیکھئے: صحیح بخاری ج۱ ص۱۸۶، ۲۷۴، ۴۰۴، ۴۹۶، ج۲ ص۶۵۵، ۷۲۵، ۷۴۸
مثال نمبر۷:
‘‘شیخ الاسلام، شیخ القرآن والحدیث، المتقن، الحجۃ، المحدث الفقیہ’’ محمد سرفراز خان صفدر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے قراء ت خلف الامام کے متعلقہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک ضعیف روایت کو مضطرب قرار دیا ہے، ارشاد الحق اثری غیر مقلد اس اضطراب کا جواب دیتے وقت خصوصاً حضرت شیخ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور عموماً دیگر احناف پر ہٹ کرتے ہوئے اپنے چیلوں کو خوش کرنے کے لئے لکھتا ہے:
اس حدیث میں اضطراب کا راز کھلا تو صرف حضرات علما ء احناف پر آخر کیوں؟ آپ ہی اپنی کج بینی پر غور کریں۔ (توضیح الکلام ج۱ ص۳۵۵)
حالانکہ اس حدیث میں اضطراب کا ذکر صرف علماء احناف نے ہی نہیں کیا بلکہ علماء مالکیہ وغیرہ نے بھی اس حدیث پر اضطراب کا حکم لگایا ہے، چنانچہ حافظ ابن عبدالبر المالکی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ تحریر فرماتے ہیں:
ومثل ھذا الاضطراب لایثبت فیہ عند اہل العلم بالحدیث ولیس فی ھذا الباب مالا مطعن فیہ من جھۃ الاسناد۔
(التمہید ج۴ ص۴۴۸)
مثال نمبر۸:
غیر مقلد ارشاد الحق اثری ترک قراء ت خلف الامام کے متعلقہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک صحیح صریح حدیث کے غیر مدرج جملہ ‘‘فانتھی الناس’’ کے متعلق لکھتا ہے:
کہ محدثین سابقین بالاتفاق اسے زہری کا قول کہتے ہیں اور عموماً علمائے احناف محض مسلکی حمایت میں اسے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیتے ہیں۔ (توضیح الکلام ج۲ ص۳۷۳)
حالانکہ کئی محدثین سابقین حنفی و غیر حنفی مثلاً امام مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م۱۷۹ھ، امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۸۹ھ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ م۲۰۴ھ، امام حمیدی رحمۃ اللہ علیہ م۲۱۹ھ، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ، امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۳ھ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۹ھ، امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ، امام ابوجعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۱ھ، وغیرہم نے فانتھی الناس کا جملہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرمایا ہے۔ ملاحظہ ہو:
۱۔۔۔۔موطا امام مالک : ص۶۹
۲۔۔۔۔مؤطا امام محمد : ص۹۵
۳۔۔۔۔مسند احمدبن حنبل : ج۲ ص۳۰۱، ۳۰۲
۴۔۔۔۔مسند الحمیدی :ج۲ ص۴۲۳
۵۔۔۔۔سنن ابن ماجہ: ص۶۱
۶۔۔۔۔سنن ترمذی: ج۱ ص۷۱
۷۔۔۔۔سنن النسائی :ج۱ ص۱۴۶
۸۔۔۔۔طحاوی ج۱ ص۱۵۸ وغیرہم
مثال نمبر۹:
امام ابوداؤدد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ فرماتے ہیں:
‘‘ لیس فی تقدیم الوقت حدیث قائم ’’ کہ جمع تقدیم کے متعلق کوئی حدیث صحیح نہیں۔
(ابوداؤدد مع عون المعبود ج۱ ص۴۶۸)
لیکن قاضی شوکانی غیر مقلد جمع تقدیم کی تائید میں روایات نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے کہ:
‘‘ وقد عرفت ان بعضھا صحیح وبعضھا حسن وذلک یرد قول ابی داؤدد لیس فی جمع التقدیم حدیث قائم ’’ کہ تمہیں معلوم ہوگیا کہ ان میں سے کچھ احادیث صحیح اور کچھ حسن درجہ کی ہیں اس سے امام ابوداؤد کے اس قول کی تردید ہوجاتی ہے کہ جمع تقدیم کے لئے کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔ (نیل الاوطار ج۳ ص۲۲۸، بحوالہ حی علی الصلوٰۃ ص۱۳۷)
الغرض۔۔۔۔علم محیط تفصیل کلی خاصہ خداوندی ہے، اس کے علاوہ کوئی بھی بڑے سے بڑا محدث بھی علم کلی نہیں رکھتا اور نہ ہی غلطی و خطاء سے مبرا ہے، جیسا کہ آپ اس کی متعدد مثالیں ملاحظہ فرماچکے ہیں کہ امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۴ھ، امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ، حافظ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴ھ، جیسے جلیل القدر جبال علم محدثین ایک حدیث کو اپنے علم کی بنیاد پر غیر ثابت کہتے ہیں، جبکہ علمائے غیر مقلدین کے بقول وہ حدیث صحیح سند و متن کے ساتھ ثابت ہوتی ہے، زبیر علی زئی صاحب بسااوقات مسلکی حمایت میں کئی چیزوں کے ثبوت کا انکار کرجاتے ہیں، جبکہ وہ چیزیں ناقابل تردید دلائل سے ثابت ہوتی ہیں، اسی طرح اگر حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہکو نہ پہنچی ہو یا ان کے علم میں نہ ہو اور اسی بنیاد پر انہوں نے بفرض محال اسے غیر ثابت کہہ دیا ہو تو یہ کونسا عیب ہے؟ جب حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ صحیح سند و متن کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہے تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کو صحیح سند و متن کے ساتھ ثابت ہوجانے کی وجہ سے ثابت و حجت مانا جائے، اور ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کو مردود قرار دیا جائے مگر
خرد کا نام جنوں، جنوں کا نام خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
رابعاً۔۔۔۔ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ بالا جرح (کہ یہ حدیث ثابت نہیں ہے) غیر مفسر غیر مبین السبب ہے، چنانچہ محمد گوندلوی غیر مقلد (جن کو زبیر علی زئی غیر مقلد صاحب، شیخ الاسلام، شیخ القرآن والحدیث، الامام الثقہ۔۔۔الخ۔ وغیرہ قرار دیتے ہیں۔ (الکواکب الدریہ ص۷) خیر الکلام میں لکھتے ہیں:
اگر جرح مفسر نہ ہو تو مقبول نہیں ہوتی اس کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ۔۔۔۔یہ حدیث ثابت نہیں۔۔۔۔ اور اس کی وجہ بیان نہ کرے۔۔۔ الخ ۔
(خیر الکلام ص۴۴)
محمد گوندلوی غیر مقلد صاحب کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ بغیر وجہ بیان کیے کسی محدث کا یہ کہنا کہ یہ حدیث ثابت نہیں غیر مفسر جرح ہے۔ ائمہ محدثین و فقہاء نے صراحت فرمارکھی ہے کہ غیر مفسر غیر مبین السبب جرح قابل قبول نہیں ہوتی مثلاً۔۔۔۔
(۱)۔۔۔۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م۶۷۶ھ فرماتے ہیں ‘‘ ولا یقبل الجرح الا مبین السبب ’’ کہ غیر مبین السبب جرح قبول نہیں کی جائے گی۔
(تقریب مع التدریب ص۲۶۹)
(۲) ۔۔۔۔قاضی ابو الطیب طاہر بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:‘‘ لا یقبل الجرح الا مفسرا۔۔۔۔الخ۔ کہ جرح قبول نہیں کی جائے گی مگر مفسر۔
(الکفایہ ج۱ ص۳۳۸، رقم ۲۷۷، سندہ صحیح)
(۳)۔۔۔۔ حافظ ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م۴۶۳ھ لکھتے ہیں:
‘‘وھذا القول ھو الصواب عندنا والیہ ذھب الائمۃمن حفاظ الحدیث ونقادہ مثل محمد بن اسماعیل البخاری ومسلم بن الحجاج النیسابوری وغیرھما ’’ کہ حفاظ حدیث اور ائمہ ناقدین جیسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ وغیرہما اس طرف گئے ہیں کہ غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں، اور ہمارے نزدیک یہی قول صحیح ہے۔
(الکفایہ ج۱ ص۳۳۸، رقم ۲۷۷)
(۴)۔۔۔۔ حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ م۶۴۳ھ لکھتے ہیں:
‘‘ ان الجرح لایثبت الا اذا فسر سببہ ’’ کہ جب تک جرح کا سبب بیان نہ کردیا جائے جرح ثابت نہیں ہوتی۔
(مقدمہ ابن صلاح ص۶۱)
(۵)۔۔۔۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م ۷۷۴ھ لکھتے ہیں کہ:
جرح کو صرف اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب جرح مفسر ہو۔۔۔۔ الخ۔
(اختصار علوم الحدیث مترجم ص۵۹)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
‘‘ فلایقبل الا مبین السبب مفسراً ’’ کہ جرح صرف اور صرف مبین السبب مفسر ہی قبول کی جائے گی۔
(ہدی الساری مقدمہ فتح الباری: ص۵۴۳)
(۷)۔۔۔۔ امام المحدثین حافظ عینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:
‘‘ فان الجرح لایثبت الا مفسراً ’’ کہ جمہور محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک مبین السبب مفسر جرح ہی ثابت قرار پاتی ہے۔
(عمدۃالقاری ج۱ ص۸۲)
(۸)۔۔۔۔ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۳ھ لکھتے ہیں:
‘‘ فلایقبل التجریح الا مفسراً ’’ کہ جرح تو صرف مفسر ہی قبول ہے ۔(ارشاد الساری: ج۱ ص۲۱)
(۹) ۔۔۔۔حافظ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱۴ھ ہی بھی یہی کہتے ہیں۔ (مرقات ج۱ ص۱۷)
(۱۰)۔۔۔۔ علامہ عبدالعزیز بن احمد البخاری رحمۃ اللہ علیہ م۷۳۰ھ فرماتے ہیں:
‘‘ اما الطعن من ائمۃ الحدیث فلایقبل مجملاً ای مبھماً بان یقول ھذا الحدیث غیر ثابت۔۔۔۔من غیر ان یذکر سبب الطعن وھو مذہب عامۃ الفقہاء والمحدثین ’’ کہ ائمہ حدیث کا کسی حدیث پر غیر مفسر اعتراض جیسے ان کا کسی حدیث کو بغیر کسی دلیل و سبب کے غیر ثابت کہنا قابل قبول نہیں اکثر فقہاء و محدثین کا یہی مذہب ہے۔۔۔۔الخ۔ (کشف الاسرار ج۳ ص۶۸، بحوالہ حاشیہ جامع الاصول ج۱ ص۱۲۷)
(۱۱)۔۔۔۔ امام ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۴ھ لکھتے ہیں:
‘‘ولایقبل الا مفسراً ۔۔۔۔۔۔ والجرح لایقبل الا مفسراً ’’ کہ جرح قبول نہیں ہوتی مگر مفسر۔
(البدر المنیر ج۲ ص۱۷۳، ۳۸۱، الحدیث السادس والثلاثون، الحدیث التاسع والعشرون)
(۱۲)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ ایک جگہ لکھتے ہیں:
‘‘ ھذا غیر مفسر فلایضر ’’ کہ یہ جرح غیر مفسر ہونے کی وجہ سے ضرر رساں نہیں ہے۔
(تاریخ اسلام: ج۱۷ ص۳۶۰، رقم ۴۳۵)
(۱۳)۔۔۔۔ علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘ ھو الصحیح المشہور ’’ کہ صحیح و مشہور مذہب یہ ہے کہ غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔ (شرح الالفیۃ ج۱ ص۳۰۰)
(۱۴)۔۔۔۔ علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۰۴ھ لکھتے ہیں:
‘‘ واما الجرح فانہ لایقبل الا مفسراً مبین سبب الجرح۔۔۔۔ولان الناس مختلفون فی اسباب الجرح فیطلق احدھم الجرح بناءً علی ما اعتقدہ جرحاً ولیس بجرح فی نفس الامر فلابد من بیان سببہ لیظھرا ھو قادح ام لا؟ ’’
(الرفع والتکمیل :ص۸۰)
کہ بہرحال جرح نہیں قبول کی جاسکتی مگر مفسرمبین السبب-85 اس لئے کہ جرح کے اسباب میں لوگوں کے مختلف نظریات ہیں بسااوقات کوئی محدث اپنے نظریہ کی بنیاد پر جرح کرتا ہے، حالانکہ نفس الامر میں وہ جرح سرے سے جرح ہی نہیں ہوتی، اس لئے جرح کا سبب بیان کرنا ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ سبب جرح موجب جرح ہے یا نہیں۔
نیز متعدد علمائے غیر مقلدین نے بھی صراحت کررکھی ہے کہ غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔
چنانچہ محمد گوندلوی غیر مقلد لکھتا ہے:
اگر جرح مفسر نہ ہو تو مقبول نہیں ہوتی، اس کی مثال اس طرح ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ-85 یہ حدیث ثابت نہیں-85 اور اس کی وجہ بیان نہ کرے (اس صورت میں یہ جرح مقبول نہ ہوگی) اکثر فقہاء اور محدثین کا یہی مذہب ہے۔ (بلفظہ خیر اکلام ص۴۴)
عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے:
کہ جرح مبہم مضر نہیں ہے۔ (ملخصاً ابکار المنن ص۸۰)
نذیر رحمانی غیر مقلد لکھتا ہے:
غیر مفسر اور مبہم جرحوں کا اعتبار نہ ہوگا۔ (انوار المصابیح ص۱۳۸)
ارشاد الحق اثری غیر مقلد لکھتا ہے:
غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔ (توضیح الکلام ص۴۳۸)
اثری صاحب ایک جگہ مزید لکھتے ہیں:
اس پر جو معمولی کلام ہے غیر مفسر ہونے کی بناء پر مردود ہے۔ (پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص۱۸۸)
غیر مقلد رئیس ندوی لکھتا ہے:
تجریح مبہم غیر مقبول ہے۔ (سلفی تحقیقی جائزہ ص۲۳۱)
ایک مقام پر زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
امام الساجی کا قول ‘‘لایتابع علی حدیثہ ’’ مبہم و غیر مفسر ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ (مقالات ج۱ ص۳۱۶)
الغرض مذکورہ بالا ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم اور فریق مخالف کے مستند علماء کے اقتباسات سے واضح ہوگیا کہ غیر مفسر غیر مبین السبب جرح بالکلیہ غیر مقبول ہوتی ہے، فلھٰذا بالتحقیق اگر بفرض محال مذکورہ بالا ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح ثابت بھی ہو تو تب بھی ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم اور فریق مخالف کے مستند علماء کے بقول یہ جرح غیر مفسر ہونے کی وجہ سے باطل و مردود ہے۔
خامساً۔۔۔۔ اگربفرض محال سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی حدیث پر ہی ہے تو تب یہ جرح منسوخ و مرجوع ہے، کیونکہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ سے یہ جرح ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے قدیمی شاگرد سفیان بن عبدالملک نے نقل کی ہے۔ (دیکھئے سنن ترمذی ج1ص۹۰)
اس سے معلوم ہوا کہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جرح اوّل عمر میں کی تھی (شاید ان کے پاس یہ حدیث کسی ضعیف طرق سے پہنچی ہو یا سرے سے باسند پہنچی ہی نہ ہو اور اسی وجہ سے انہوں نے اعتراض کیا ہو)، مگر جب یہی حدیث صحیح سند کے ساتھ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کو مل گئی تو امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے خود یہ حدیث اپنے متاخر و چھوٹے شاگرد سوید بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھائی و بیان کی ہے اور اس حدیث پر ذرا برابر بھی اعتراض نہیں کیا۔ (دیکھئے سنن النسائی ج۱ ص۱۴۱)اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اعتراض سے رجوع فرمالیا تھا۔
نیز جو شخص کسی حدیث کے ضعیف ہونے سے واقف ہو مگر اس کے باوجود وہ شخص اس ضعیف حدیث کو بغیر کسی رد کے بطور جزم بیان کرے تو وہ شخص غیر مقلدین کے نزدیک بہت بڑا مجرم اور ناجائز کام کا ارتکاب کرنے والا شمار ہوتا ہے۔ (دیکھئے ماہنامہ الحدیث ص۱۵ش نمبر ۱۰۹)
غیر مقلدین کو اپنے اس خود ساختہ اصول کے مطابق ماننا پڑے گا کہ یہ حدیث ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح و قابل حجت ہے، کیونکہ امام موصوف نے یہ حدیث اپنے متاخر شاگرد کو بغیر کسی رد و اعتراض کے بطور جزم بیان فرمائی ہے۔ (دیکھئے سنن نسائی ج۱ ص۱۴۱) وگرنہ بصورت دیگر باصول غیر مقلدین لازم آئے گا کہ امام موصوف نے زیر بحث حدیث کو بغیر کسی رد و اعتراض کے بیان کرکے بہت بڑے جرم اور ناجائز کام کا ارتکاب کیا ہے۔
اعتراض:
فرقہ غیر مقلدیت کا متحقق زبیر علی زئی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے لکھتا ہے:
مجھے الکاشف اور تہذیب التہذیب میں یہ حوالہ نہیں ملا کہ سفیان بن عبدالملک امام ابن المبارک کے قدیم السماع شاگرد تھے۔۔۔۔ الخ۔ (مقالات ج۴ ص۲۷۰)
الجواب:
جناب زبیر علی زئی صاحب آنکھوں میں سرمہ ڈال کر تعصب کا کچرا نکالو اور درج ذیل عبارت کو پڑھو اور پھر بتاؤ کہ سفیان بن عبدالملک امام ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کا قدیمی شاگرد ہے یا نہیں؟
(۱)۔۔۔۔سفیان بن عبدالملک کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ لکھتے ہیں:
‘‘ذکرہ ابن حبان فی الثقات وقال مات قبل المئتین وکذا ارخہ ابو علی محمد بن علی بن حمزۃ المرزی وزاد کان متقدم السماع ’’ (تہذیب التہذیب ج۲ ص۹۱۷ رقم ۵۷۸۲)
حافظ موصوف مزید لکھتے ہیں:
‘‘سفیان بن عبدالملک المروزی من کبار اصحاب ابن المبارک ثقۃ من قدماء العاشرۃ مات قبل المئتین ’’
(تقریب التہذیب ص۲۷۸ رقم ۲۴۴۸)
(۲)۔۔۔۔ حافظ مزی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۲ھ مذکور سفیان کے بارے لکھتے ہیں:
‘‘ذکرہ ابن حبان فی کتاب الثقات وقال ھو والبخاری وابوعلی محمد بن علی بن حمزۃ المروزی مات قبل المئتین زاد ابوعلی وکان متقدم السماع ’’ (تہذیب الکمال ج۱۱ ص۱۷۴، رقم ۲۴۱۰)
(۳)۔۔۔۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ فرماتے ہیں:
‘‘ اصحاب ابن المبارک القدماء سفیان یعنی ابن عبدالملک۔۔۔۔الخ’’ (سوالات ابی داؤد لاحمد بن حنبل : ج۱ ص۳۵۹ رقم ۵۶۲)
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ مذکور سفیان کے متعلق تو کہتے ہیں کہ ‘‘ من کبار اصحاب ابن المبارک ثقۃ من قدما ء العاشرۃ ’’ جبکہ دوسری طرف سوید بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ‘‘ ثقۃمن العاشرۃ ’’ (تقریب ص۲۹۵رقم ۲۶۹۹)
نیز سفیان بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ ۲۰۰ھ سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے، جبکہ سوید بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت تقریباً ۱۵۰ھ میں اور وفات ۲۴۰ھمیں ہے، بظاہر اس سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ سفیان بن عبدالملک رحمۃ اللہ علیہ امام ابن المبارک رحمۃ اللہ علیہ کے قدیمی شاگرد ہیں اور سوید بن نصر رحمۃ اللہ علیہ متاخر شاگرد ہیں، مگر مذکورہ بالا تمام ٹھوس حوالہ جات کو مسخ کرتے ہوئے زبیر علی زئی صاحب سفیان بن عبدالملک کے قدیمی ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہونے کا انکار کرنے چلے تھے۔
آنکھیں ہیں اگر بند تو پھردن بھی رات ہے
اس میں سورج کا بھلا کیا قصور ہے
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ م۲۰۴ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
غیر مقلد زبیر علی زئی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث کے مضعفین میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شمار کیا ہے، اور اس پر تین حوالے پیش کیے ہیں۔
(۱) ۔۔۔۔کتاب الام ج۷ ص۲۰۱ باب رفع الیدین فی الصلوٰۃ
(۲) ۔۔۔۔السنن الکبریٰ للبیہقی: ج۲ ص۸۱
(۳)۔۔۔۔ فتح الباری ج۲ ص۲۲۰، (دیکھئے نور العینین ص۱۳۱)
زبیر صاحب کے پیش کردہ حوالہ جات کی حقیقت ملاحظہ ہو:
پہلے حوالے کی حقیقت:
قارئین کرام! زبیر صاحب کا پہلا حوالہ سوفیصد مردود ہے۔ آپ کتاب الام اٹھا کر دیکھیں (ج۷ ص۲۰۱) اس میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی صریح جرح سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ لہٰذا زبیر علی زئی اینڈ پارٹی کا غیر صریح حوالے کی بناء پر لوگوں کو دھوکہ دینا درست نہیں۔
لطیفہ: بندہ زبیر علی زئی صاحب کے مسئلہ رفع یدین پر لکھے جانے والے مختلف مضامین کی ورق گردانی کررہا تھا کہ اچانک زبیر صاحب کی ایک تحریر پر نظر پڑی جس میں زبیر صاحب نے تسلیم کیا ہے کہ کتاب الام میں صراحتاً ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث پر کوئی جرح موجود نہیں ہے۔ چنانچہ اس نے لکھا ہے:
کہ روایت مذکورہ پر امام شافعی کی جرح کتاب الام میں اشارتاً موجود ہے۔ (مقامات ج۴ ص۲۷۳)
الغرض مذکورہ حوالے میں زبیر صاحب نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ زیر بحث حدیث پر کتاب الام میں کوئی صریح جرح موجود نہیں ہے، لیکن تعجب ہے کہ علی زئی جیسا نام نہاد محقق بھی محض غلو اور اپنے باطل و مردود مسلک کی حمایت میں ایسے غیر صریح حوالے کی بنا ء پر اعلیٰ درجہ کی صحیح حدیث پر اعتراض کرنے چلا ہے۔
یہ لوگ بھی غضب کے ہیں دل پر یہ اختیار
شب موم کرلیا سحر آہن بنالیا
دوسرے حوالے کی حقیقت و زبیر علی زئی دھوکہ نمبر ۳:
زبیر صاحب کے پیش کردہ دوسرے حوالے کے متعلق بھی عرض ہے کہ آپ سنن الکبریٰ للبیہقی رحمۃ اللہ علیہ (ج۲ ص۸۱) اٹھائیں، وہاں پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب غیر ثابت جرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایات پر موجود ہے نہ کہ زیر بحث سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث پر۔
مگر زبیر صاحب نے مذکورہ کتاب میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایات پر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب غیر ثابت جرح کو زیربحث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث پر فٹ کردیا ہے، جو کہ زبیر صاحب کا واضح دھوکہ ہے۔
آپ اپنے جو رو جفا پہ خود ہی ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی!
علماءِ کرام کے لئے سنن الکبریٰ للبیہقی کی اصل عبارت حاضر ہے:
‘‘قال الزعفرانی قال الشافعی فی القدیم ولا یثبت عن علی وابن مسعود یعنی مارووہ عنھما من انھما کانا یرفعان ایدیھما فی شئی من الصلوٰۃ الا فی تکبیرۃ الافتتاح۔’’ (سنن الکبریٰ للبیہقی : ج۲ ص۸۱)
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۶:
نیز سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ و سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایات کے متعلقہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے والے حسن بن محمد بن الصباح ابوعلی الزعفرانی ہیں، اور زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ سے اس جرح کو نقل کرنے والے امام ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، امام ابوعلی زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ۲۵۹ھ یا ۲۶۰ھ میں ہے، جبکہ امام ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت ۳۴۸ھ میں اور وفات ۴۵۸ھ میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ امام ابوعلی زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے ایک سوتئیس یا ایک سو چوبیس سال بعد امام ابوبکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ پیدا ہوئے ہیں، اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے امام زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ تک مذکورہ جرح کی سند نامعلوم ہونے کی وجہ سے منقطع ہے، لہٰذا یہاں پر زبیر صاحب ترک رفع یدین دشمنی میں منقطع السند جرح کو قبول کررہے ہیں۔
جبکہ دوسری طرف اپنی مرضی کے خلاف جروحات کو زبیر علی زئی صاحب نے سند کے انقطاع کی وجہ سے مردود قرار دیا ہے۔
چنانچہ زبیر علی زئی صاحب امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کے ایک قول کو رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
بقول آجری ابوداؤدم۲۰۲ھ میں پیدا ہوئے اور بقول آجری عن ابی داوؤد: عبداللہ بن سالم ۱۷۹ھکو فوت ہوا یعنی اس کی وفات کے تئیس سال بعد ابوداؤد پیدا ہوئے۔ لہٰذاانہیں یہ قول کس طرح معلوم ہوا؟ سند کے انقطاع کی وجہ سے اس قول کی نقل مردود ہے۔ (القول المتین ص۲۰)
زبیر علی زئی کی بددیانتی کی انتہاء ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف جرح کو یہ کہہ کر ٹال رہا ہے کہ اس جرح کی سند منقطع ہے۔ لہٰذا یہ قول سند کے منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ لیکن دوسری طرف یہ بدبخت مذکورہ بالا مقام پر ترک رفع یدین دشمنی میں منقطع السند جرح کا سہارا لے رہا ہے، حالانکہ یہاں تو امام ابوعلی زعفرانی رحمۃ اللہ علیہ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان پورے ایک سو تئیس یا ایک سو چوبیس سال کا انقطاع ہے، تو پھر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کس طرح قابل استدلال ہوسکتی ہے؟
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
زبیر علی زئی دھوکہ نمبر ۴:
زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
حسن بن محمد الزعفرانی تک بیہقی کی صحیح سند السنن الکبریٰ میں موجود ہے۔ (ج۱ ص۲۶) لہٰذا زرقانی سے شافعی تک سند کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
(بلفظہ مقالات ج۴ ص۲۷۳)
الجواب:
سنن الکبریٰ للبیہقی ج۱ ص۲۶ پر امام زعفرانی تک امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی سند ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھی کی ہڈیوں سے انتفاع کے متعلقہ قول کی ہے، نہ کہ زیربحث امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کی جبکہ زبیر صاحب سے مطالبہ امام زعفرانی تک امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کی سند کا مطالبہ کیا گیا ہے، نہ کہ ہڈیوں سے انتفاع کے متعلقہ قول کے۔یہ ہے فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق کا حال۔کہ زبیر صاحب سے مطالبہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کی سند کا کیا گیا، مگر جب زبیر صاحب کو اس کی سند نہ مل سکی تو اس بدبخت نے اپنی بے شرمی پر پردہ ڈالنے کے لئے ہڈیوں سے انتفاع کے متعلقہ قول کی امام زعفرانی تک بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی سند پیش کرکے عام قارئین کی آنکھوں میں دھول جھونک دی۔ علماءِ کرام سنن الکبریٰ للبیہقی ج۱ ص ۲۶ کی سند و متن ملاحظہ فرمائیں:
(کما اخبرنا) ابوعبداللہ الحافظ انا ابوالولید الفقیہ ثنا مو?مل بن الحسن ثنا الحسن بن محمد الزعفرانی عن الشافعی نا ابراہیم ابن محمد عن عبداللہ بن دینار عن ابن عمر انہ کرہ ان یدھن فی عظم فیل وفی موضع آخر انہ کان یکرہ عظام الفیل۔
جن کو جھوٹ بولنے سے عار نہیں
ان کے مذہب کا کوئی اعتبار نہیں
تیسرے حوالے کی حقیقت وزبیر علی زئی تضاد نمبر ۷:
زبیر صاحب نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح پر تیسرا حوالہ فتح الباری ج۲ ص۲۲۰ کا پیش کیا ہے، فتح الباری کی اصل عبارت ملاحظہ ہو۔
‘‘واحتجوا ایضاً بحدیث ابن مسعود انہ راٰی النبیﷺ یرفع یدیہ عندالافتتاح ثم لایعود اخرجہ ابوداؤد وردہ الشافعی بانہ لم یثبت ’’
(فتح الباری ج۲ ص۲۸۰، b۔ قدیمی کتب خانہ کراچی)
زبیر صاحب کے پیش کردہ اس تیسرے حوالے میں بھی امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کی سند موجود نہیں ہے، مگر اس کے باوجود زبیر صاحب اس بے سند جرح سے استدلال کررہے ہیں، جبکہ دوسری طرف زبیر صاحب لکھتے ہیں کہ:
حافظ ذہبی ہوں یا حافظ ابن حجر یا کوئی اور بے سند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بے سند بات حجت نہیں ہے تو امام ترمذی کی بے سند بات کس شمار و قطار میں ہے؟۔۔۔۔ بے سند بات حجت نہیں ہوتی۔ (مقالات ج۳ ص۴۵۶، ۴۵۷، ۴۵۸) اس مقام پر زبیر صاحب کا قول خود زبیر صاحب پر ہی پوری طرح صادق آرہا ہے کہ:
قوم شعیب علیہ السلام کی طرح زبیر صاحب کے لینے اور دینے کے پیمانے بالکل علیحدہ علیحدہ ہیں۔
نیز ہم ماقبل میں عرض کرآئے ہیں کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ غیر ثابت جرح سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایات پر مروی ہے، مگر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کو فتح الباری میں تسامح ہوا ہے، اور انہوں نے مذکورہ جرح کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع روایت پر جاری فرمادیا ہے، جو کہ حافظ موصوف کی خطاء و غلطی ہے، یاد رہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ و علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی موقوف روایات پر آثار صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث آرہی ہے ۔
خلاصۃ التحقیق:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث پر بسند صحیح امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے کوئی صریح جرح ثابت نہیں ہے۔ فلھٰذا امام موصوف کے نام پر دھوکہ دینا مردود ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھسے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیرصاحب نے زیربحث حدیث کے جارحین میں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شمار کیا ہے۔ (دیکھئے نور العینین ص۱۳۱)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ امام علی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ اور ثقہ بالاجماع محدث جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ نے بحوالہ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ صراحت فرمارکھی ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے صرف ‘‘لفظ ثم لایعود’’ پر اعتراض کیا ہے، اور باقی تمام حدیث کو ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ (ملخصاً: بیان الوہم والایہام ج۳ ص۳۶۷ رقم ۱۱۰۹، نصب الرایہ ج۱ ص۴۷۴) نیز امام موصوف نے ‘‘ فلم یرفع یدیہ الا مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کو خود اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل ج۱ ص۵۰۵، ۵۷۲) اور قاضی شوکانی غیر مقلد کے نزدیک مسند احمد کی ہر حدیث مقبول ہے۔ (نیل الاوطار ج۱ ص۲۰)الغرض امام موصوف کو اعتراض صرف لفظ ثم لایعود پر ہے اور باقی ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ صحیح تسلیم کرتے ہیں، اور ہمارا استدلال بھی لفظ ثم لایعود کے بغیر‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ’’ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے ہے۔ لہٰذا امام موصوف کا نام لے کر لوگوں کو دھوکہ دینا درست نہیں اور نہ انہوں نے اس روایت و متن کو ضعیف کہا ہے، اگر زبیر صاحب اصل الفاظ لکھ دیتے تو لوگوں کو اصل حقیقت کا پتہ چل جاتا لہٰذا صرف حوالہ دینے میں ہی عافیت سمجھی۔ اللہ دھوکہ بازوں سے محفوظ رکھے، امام موصوف تو اس حدیث کو صحیح کہنے والوں میں سے ہیں جِس کی تائیداِس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس حدیث کو روایت کرنے والے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں اورایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ م۲۴۱ھنے اعلان فرمارکھا ہے کہ :
‘‘جب کسی حدیث کو روایت کرنے والے امام سفیان ہوں اور محدثین اس حدیث پر جرح بھی کریں تو خوب جان لو کہ وہ حدیث صحیح ہی ہوگی۔’’
(ملخصاً:الکفایہ فی علم الروایہ :ج۱ص۱۴۲،باب ترک الاحتجاج بمن غلب علی حدیثہ الشواذ۔۔۔۔الخ۔)
ثانیاً۔۔۔۔ اس حدیث میں ثم لایعود کے الفاظ نقل کرنے میں امام وکیع بن الجراح رحمۃ اللہ علیہ منفرد نہیں ہیں، بلکہ امام عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ثم لم یعد کی زیادتی نقل کرنے میں ان کی متابعت کررکھی ہے۔ (دیکھئے سنن النسانی ج۱ ص۸۵۱) لہٰذا باصول محدثین اس حدیث پر ثم لایعود کی زیادتی کا اعتراض بھی غلط ہے۔
امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۷ھ سے منسوب جرح کی حقیقت وعلی زئی تضاد نمبر ۸ :
زبیر علی زئی زیر بحث ابن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع فعلی کے متعلق لکھتا ہے:
امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ‘‘ ھذا خطأ یقال وھم الثوری فقد رواہ جماعۃ عن عاصم وقالوا کلھم ان النبی ﷺ افتتح فرفع یدیہ ثم رکع فطبق وجعلھا بین الرکبتین ولم یقل احد ماروی الثوری’’ یہ حدیث خطاء ہے، کہا جاتا ہے کہ (سفیان) ثوری کو اس (کے اختصار) میں وہم ہوا ہے، کیونکہ ایک جماعت نے اس کو عاصم بن کلیب سے ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی، پس ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کیا، اور تطبیق کی اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ کسی دوسرے نے ثوری والی بات بیان نہیں کی ہے۔ (نورالعینین ص:۱۳۱)
جواب اوّل:
علل الحدیث کی مذکورہ بالا عبارت کا ذرا ابتدائی حصہ ملاحظہ فرمائیں:امام ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
‘‘وسالت ابی عن حدیث رواہ الثوری عن عاصم بن کلیب بن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ ان النبی ﷺ قام فکبر فرفع یدیہ ثم لم یعد قال ابی ھٰذا خطأیقال وہم فیہ الثوری۔۔۔۔ الخ’’
(علل الحدیث ج۲ ص۱۲۳، ۱۲۴، رقم ۲۵۸)
علل الحدیث کی عبارت کے اس ابتدائی حصہ سے واضح ہوگیا کہ امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کا مذکورہ بالا اعتراض سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قولی حدیث پر ہے۔ نہ کہ فعلی پر۔ آسان لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جس روایت میں مروی لفظ ثم لم یعد کو وہم قرار دیا ہے وہ روایت اور ہے اور جس روایت سے ہم نے استدلال کیا ہے وہ اور ہے، مگر زبیر صاحب نے العلل کی عبارت کے ابتدائی حصہ کو حذف کرکے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قولی (یعنی کسی اور) روایت پر مورود اعتراض کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی فعلی (یعنی ہماری مستدل) حدیث پر فٹ کردیا ہے، جو کہ زبیر صاحب کا کھلم کھلا دھوکہ ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
جوابِ ثانی:
اگر زبیر علی زئی پارٹی امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ بالا اعتراض کو ہماری مستدل مرفوع فعلی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر ہی فٹ کرنے پر مصر ہے تو عرض ہے کہ ہماری درج ذیل اصولی معروضات پر غور فرمائیں:
(۱) ۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ‘‘ یقال وھم فیہ الثوری’’ کہ کہا جاتا ہے کہ اس حدیث میں ثم لم یعد کی زیادتی نقل کرنے میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کو وہم ہوا ہے۔
لیکن یہ کہنے والا کون ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ جھوٹا ہے یا سچا ہے؟ اس کا کوئی پتہ نہیں۔ الغرض امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ پر ثم لم یعد کی زیادتی کا اعتراض کرنے والا شخص مجہول العین ہے اور زبیر علی زئی صاحب نے کئی مقالات پر صراحت فرمارکھی ہے کہ جارح مجہول کی جرح غیر معتبر باطل و مردود ہوتی ہے مثلاً۔۔۔۔
نعیم بن حماد پر جرح کا جواب دیتے ہوئے زبیر صاحب لکھتے ہیں:
اس قول کے باطل و ساقط ہونے کی تیسری دلیل جارح کا مجہول ہونا ہے۔ جس شخص کا اپنا اتا پتا معلوم نہیں اس کی جرح کا کیا اعتبار ہوسکتا ہے؟ (الحدیث ص۳۴ ش نمبر۴۹)
اسی طرح زبیر علی زئی اپنے ایک پسندیدہ راوی محمد بن عثمان بن ابی شیبہ کے بارے میں محدث برقانی رحمۃ اللہ علیہ کی اپنے اساتذہ سے نقل کردہ جرح کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے:
اس جرح میں استاد نامعلوم ہیں۔ (الحدیث ص۲۵ش نمبر۴۴)
لہٰذا بقول علی زئی امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کا مجہول شخص کے قول کی بنیاد پر جلیل القدر ثقہ بالاجماع محدث امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ (جن کو خود امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ شعبہ سے بھی بڑا حافظ کہتے ہیں علل ج۲ ص۱۸۱) پر وہم کا بغیر کسی قوی دلیل کے اعتراض قائم کرنا باطل و مردود ہے۔
(۲)۔۔۔۔ مذکورہ اعتراض قائم کرنے میں امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ خود وہم کا شکار ہیں۔ کیونکہ امام موصوف فرماتے ہیں :فقد رواہ جماعۃ عن عاصم۔۔۔۔الخ۔ کہ عاصم بن کلیب سے ایک جماعت نے تطبیق والی حدیث نقل کی ہے۔
جبکہ عاصم مذکور سے تطبیق والی حدیث عبداللہ بن ادریس کے علاوہ کسی نے بھی نقل نہیں کی ہے۔ بندہ کو جن جن کتب میں تطبیق والی حدیث عاصم مذکور کے طریق سے ملی ہے، ان تمام کتب میں حدیث تطبیق عاصم سے صرف اور صرف عبداللہ بن ادر یس ر حمۃ اللہ علیہ نے ہی نقل کی ہے مثلاً دیکھئے۔۔۔۔
(۱) ۔۔۔۔مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۲۲ رقم ۲۵۴۱
(۲) ۔۔۔۔الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ ج۱ ص۸۴
(۳) ۔۔۔۔سنن ابی داؤدد :ج۱ ص۱۹۹ رقم ۷۴۷
(۴) ۔۔۔۔سنن الدار قطنی: ج۲ ص۱۳۷ رقم ۱۲۸۱
(۵) ۔۔۔۔سنن الکبریٰ للبیہقی: ج۲ ص۲۱۱ رقم ۲۳۵۲
(۶)۔۔۔۔ معرفۃ السنن والآثار: ج۲ ص۴۳۸ رقم ۳۳۷۶
(۷) ۔۔۔۔مسند احمدبن حنبل: ج۳ ص۸۳ رقم ۳۹۷۴
(۸) ۔۔۔۔سنن الکبریٰ للنسائی: ج۱ ص۳۲۱ رقم ۱۰۳۱
(۹) ۔۔۔۔سنن النسائی :ج۲ ص۱۸۴ رقم ۱۰۳۱
(۱۰)۔۔۔۔ المنتقٰی لابن الجارود : ج۱ ص۵۹ رقم ۱۹۶
(۱۱) ۔۔۔۔صحیح ابن خزیمہ ج۱ ص۳۰۱ رقم ۵۹۵
(۱۲)۔۔۔۔ مستدرک حاکم ج۱ ص۳۴۶ رقم ۸۱۵
(۱۳)۔۔۔۔ تحفۃ الاشراف للمزی : ج۳ ص۳۰۶ رقم ۳۹۰۷
الغرض امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ اعتراض قائم کرنے میں بذاتِ خود وہم خطاء و غلطی کا شکار ہیں۔
(۳) ۔۔۔۔امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ اعتراض کی بنیاد اس بات پر ہے کہ عاصم مذکور سے ایک جماعت نے حدیث تطبیق روایت کی ہے، مگر ہم عرض کرچکے ہیں کہ یہ امام موصوف کا نراوہم ہے۔ کیونکہ عاصم بن کلیب رحمۃ اللہ علیہ سے اس حدیث کو ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے۔ لہٰذا جب امام موصوف کے اعتراض کی بنیاد ہی غلطی خطاء ووہم پر مبنی ہے، تو پھر اس خطاء و غلطی پر مبنی بنیاد کی بناء پر قائم کیا جانے والا مذکورہ اعتراض کیسے صحیح ہوسکتا ہے؟
(۴)۔۔۔۔ امام عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کو سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث پر ترجیح دینا بھی غلط ہے کیونکہ امام ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی نقل کردہ حدیث اور ہے اور امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث اور ہے۔ امام ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث تطبیق کے بارے میں ہے اور امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث ترک رفع یدین کے متعلقہ ہے، اس میں تطبیق کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔
(۵)۔۔۔۔ اگر بالفرض ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ اور امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ایک ہی ہو تو تب بھی غیر مقلدین کے بقول امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کو ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی روایت پر ترجیح و فوقیت حاصل ہوگی۔ کیونکہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کے حق میں (ثقہ حافظ فقیہ عابد امام حجۃ) چھ توثیقی کلمات ارشاد فرمائے ہیں۔ (دیکھئے تقریب التہذیب ص۲۷۸رقم ۲۴۴۵) اور عبداللہ بن ادریس کے حق میں (ثقہ فقیہ عابد) تین توثیقی کلمات کہے ہیں۔ (تقریب ص۳۳۰رقم ۳۲۰۷) اور غیر مقلدین کے نزدیک جس راوی کے حق میں توثیقی کلمات زیادہ منقول ہوں اس کی روایت اس راوی پر جس کے حق میں توثیقی کلمات کم منقول ہوں راجح ہوتی ہے (دیکھئے تعداد تراویح از عبدالمنان نورپوری ص۱۶) لہٰذا غیرمقلدین کے اس ضابطہ کے پیش نظر سیدنا وامامنا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کو ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی روایت پر ترجیح حاصل ہے۔
(۶)۔۔۔۔ اگر بالفرض ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ و ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ایک ہی ہو تو بھی بطور الزام کے عرض ہے کہ عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ترک رفع یدین کا عدم ذکر ہے، اور سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ترک رفع یدین کا ذکر ہے۔ لہٰذا ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں ترک رفع یدین کے عدم ذکر کی وجہ سے سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ پر وہم کا اعتراض قائم کرنا غلط ہے۔ کیونکہ زبیر صاحب کے بقول عدم ذکر نفی ذکر کو مستلزم نہیں ہوتا۔
(نور العینین ص۱۴۰)
نیز امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث میں ثم لم یعد کے الفاظ نقل فرماکر امام ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی کوئی مخالفت نہیں کی ہے (کہ ثم لم یعد کے الفاظ کو ان کا وہم قرار دیا جاسکے) بلکہ ایک زیادتی نقل فرمائی ہے اور درج ذیل ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے صراحت فرمارکھی ہے کہ ثقہ و صدوق راوی کا تفرد و زیادتی قابل قبول ہوتی ہے۔
(۱) ۔۔۔۔امام ابوعبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۵ھ:
(الکفایہ فی علم الروایۃص۴۲۴ و مستدرک ج۱ ص۱۹۸، ۱۳۱)
(۲) ۔۔۔۔حافظ ابن حزم الظاہری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ :
(الاحکام فی اصول الاحکام ج۲ ص۲۱۶، ۲۱۷)
(۳) ۔۔۔۔امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶ھ:
(صحیح بخاری ج۲ ص۱۵۶ رقم ۱۴۸۳)
(۴) ۔۔۔۔امام مسلم بن الحجاج النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۶۱ھ :
(الاول من کتاب التمییز ص۵۰ رقم ۵۹)
(۵)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ:
(کتاب العلل الصغیر آخر الجامع طبع دارالسلام ص۸۹۹)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ :
(نزھۃ النظر ص۴۶ ومع شرح ملا علی القاری ص۳۱۵)
(۷) ۔۔۔۔حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ :
(البدر المنیر ج۱ ص۶۱۵، ج۳ ص۶۲، ج۳ ص۵۴۵)
(۸) ۔۔۔۔حافظ ملغطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ:
(شرح سنن ابن ماجہ ج۱ ص۶۷۰)
(۹)۔۔۔۔ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ :
(تہذیب السنن ج۱ ص۲۶)
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۸ھ :
(تلخیص مستدرک ج۱ ص۹۱ رقم ۱۰۰)
نیز علمائے غیر مقلدین نے بھی صراحت کررکھی ہے کہ ثقہ و صدوق راوی کا تفرد مضر نہیں ہوتا۔
چنانچہ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے:
ثقہ و صدوق راوی کا تفرد مضر نہیں ہوتا۔
(تحقیقی مقالات ج۱ ص۴۷۶ ناشر مکتبہ اسلامیہ)
زبیر علی زئی صاحب مزید لکھتے ہیں:
جب کسی شخص کی عدالت ثابت ہوجائے تو اس کی عدم متابعت چنداں مضر نہیں ہے۔
(مقالات ج۱ ص۳۱۶)
ارشاد الحق اثری غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے:
لیجئے جناب!محمد بن حمیر کی اس روایت کو جس میں وہ منفرد ہے علامہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ حسن کہتے ہیں۔۔۔لہٰذا تفرد کا بہانہ بناکر بھی محمد بن حمیر کی روایت کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں۔ (تنقیح الکلام ص۵۳، ۵۶)
ناصر الدین البانی کہتا ہے:
‘‘ ان تفرد الثقۃ بالحدیث لایعتبر علۃ ’’ کہ حدیث میں ثقہ راوی کا تفرد علت (قادحہ) نہیں سمجھا جاتا۔
(السلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ ج۱۴ص۲۴۶)
ندیم ظہیر غیر مقلد لکھتا ہے:
ثقہ راوی کا تفرد مضر نہیں ہے ۔۔۔۔.جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ راوی کا تفرد مقبول ہونے کی وجہ سے یہ لائق التفات نہیں تھا۔
(ماہنامہ الحدیث ص۹۔۱۱ ش نمبر ۱۱۹)
(۷)۔۔۔۔ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ترک رفع یدین کی حدیث نقل کرنے میں منفرد نہیں ہیں بلکہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول امام ابوبکر النھشلی، امام عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ اس کے متابع ہیں۔ (العلل الواردۃ: ج۵ ص۷۱)نیز زبیر علی زئی صاحب کے بقول امام موصوف کی معنوی متابعت توحفص، مغیرہ اور حصین وغیرہ نے بھی کی ہے ۔(نور العینین ص۴۸) اور ہم اس کتاب میں امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کے متعدد شواہد بھی پیش کرچکے ہیں۔ لہٰذا سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ پر وہم کا اعتراض غلط ہے۔
(۸)۔۔۔۔ امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کا مذکورہ بالا اعتراض صرف لفظ ثم لایعود پر ہے اور ہم ماقبل میں تفصیل سے عرض کرآئے ہیں کہ اہلسنّت والجماعت احناف کا دعویٰ ترک رفع یدین ثم لایعود کے بغیر فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃاور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے صراحتاً ثابت ہے۔ لہٰذا ثم لایعود کے اعتراض کو اہلسنّت کے خلاف پیش کرنا غلط ہے (اگرچہ باصول محدثین یہ اعتراض بھی غلط ہے)۔
(۹)۔۔۔۔ بطور الزام عرض ہے کہ بذاتِ خود امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ امام ابوبکر قفال رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ترک رفع یدین پر عامل تھے اور امام مروزی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول ترک رفع یدین پر ہی فتویٰ دیا کرتے تھے۔ (ملخصاً اختلاف العلماء ص۴۸ حلیۃ العلماء ج۲ ص۹۶) اور محمد خبیب احمد غیرمقلد نے صراحت کررکھی ہے کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا کسی حدیث کے مطابق فتویٰ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح ہے۔ (مقالات اثریہ ص۱۷۴) لہٰذا ثابت ہوا کہ خبیب صاحب کے بقول امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا ترک رفع یدین والی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مطابق فتویٰ دینا امام موصوف کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
جوابِ ثالث:
امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ علمائے غیر مقلدین کے بقول جرح میں انتہائی متشدد و متعنت ہیں، چنانچہ عبدالرحمن مبارکپوری، ارشاد الحق اثری، عبدالرحمن المعلمی، حنیف ندوی، محمد گوندلوی وغیرہ علمائے غیر مقلدین نے ان کی جرح کو ان کے تشدد کی وجہ سے باطل قرار دیا ہے ملاحظہ ہو:
(۱) ۔۔۔۔ابکار المنن :ص۱۵۲
(۲)۔۔۔۔ توضیح الکلام :ص۳۲
(۳) ۔۔۔۔التنکیل ج۱ ص۳۵۰
(۴)۔۔۔۔ مطالعہ حدیث ص۷۸
(۵)۔۔۔۔ التحقیق الراسخ :ص۷۸
(۶)۔۔۔۔ خیر الکلام: ص۲۲۶
عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد نے تو یہ بھی صراحت کی ہے کہ:
‘‘ فکم من رجال الصحیحین قد ضعفھم ’ ’ صحیح بخاری و صحیح مسلم کے کتنے ہی ایسے راوی ہیں جن کو ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ نے ضعیف کہہ دیا ہے۔
(ابکار المنن ص۱۵۳)
زبیر علی زئی غیر مقلد کو چاہیے کہ وہ لفظ ثم لایعود کی زیادتی کے خلاف امام موصوف کی مذکورہ جرح نقل کرنے سے پہلے صحیح بخاری و صحیح مسلم کے ان راویوں کی روایات پر خط تضعیف کھینچ ڈالیں کہ جن پر امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جرح کی ہے۔ دیدہ باید۔
خلاصۃالتحقیق:
ہماری مستدل سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع فعلی حدیث پر امام ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ کی جرح ثابت نہیں۔ ہاں البتہ امام موصوف نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی مرفوع قولی حدیث کے لفظ ثم لایعود پر اعتراض کیا ہے مگر باصول محدثین یہ اعتراض مردود ہے۔
امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ سے منسوب جرح کی حقیقت و علی زئی دھوکہ نمبر ۵:
زبیر علی زئی لکھتا ہے:
الامام الدارقطنی نے اسے غیر محفوظ قرار دیا۔ (نور العینین: ص۱۳۱)
الجواب:
امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی اصل عبارت ملاحظہ ہو:
‘‘واسنادہ صحیح وفیہ لفظۃ لیست بمحفوظۃ ذکرھا ابوحذیفۃ فی حدیثہ عن الثوری وھی قولہ ثم لم یعد ’’
(العلل الواردۃ: ج۵ ص۱۷۲رقم ۸۰۴)
امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی اس واضح و صاف عبارت سے معلوم ہوا کہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صرف اور صرف لفظ ثم لایعود غیر محفوظ ہے۔ اور باقی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ ‘‘ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ صحیح ہے۔مگر زبیر صاحب نے بددیانتی سے کام لیتے ہوئے امام موصوف کے صرف اور صرف ایک لفظ ثم لایعود پر کی ہوئی جرح کو پوری حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر فٹ کردیا ہے۔ حالانکہ امام موصوف تو حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو لفظ ثم لایعود کے بغیر صحیح قرار دینے والوں میں سے ہیں نہ کہ ضعیف کہنے والوں میں۔
جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ، حافظ علی بن محمد رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ اور ثقہ بالاجماع محدث جمال الدین الزیلعی رحمۃ اللہ علیہ م۷۶۲ھ نے بھی بحوالہ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ تصریح فرمارکھی ہے کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔ (الدرایۃج۱ ص۱۵۰ بیان الوہم والایھام ج۳ ۳۶۷رقم ۱۱۰۹، نصب الرایہ ج۱ ص۴۷۴) اللہ پاک دھوکے بازوں سے امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۹:
نیز یہاں پر ترک رفع یدین دشمنی میں زبیر صاحب نے امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی لفظ ثم لایعود کے متعلقہ ‘‘غیر محفوظ’’ کی جرح کو بددیانتی سے کام لیتے ہوئے پوری حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر فٹ کرکے بلاچوں و چراں قبول کرلیا ہے۔ جبکہ دوسری طرف قراء ت خلف الامام کے متعلقہ اپنی مرضی کی ایک روایت کا دفاع کرتے ہوئے زبیر صاحب لکھتے ہیں:
بعض علماء نے لکھا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو غیر محفوظ قرار دیا ہے، تو عرض ہے کہ یہ جرح غیر مفسر ہے، جبکہ
اس حدیث کے تمام راوی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ، اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ثقہ ہیں تو اسے کس دلیل کی بنیا د پر غیر محفوظ قرار دیا جاسکتا ہے؟
(بلفظہ مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۴۴ وفی طبعہ ص۲۲)
سبحان اللہ! جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، امام ابوحاتم رحمۃ اللہ علیہ، امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ، زبیر علی زئی کی پسندیدہ پوری روایت کو غیر محفوظ قرار دیں تو زبیر صاحب اس جرح کو غیر مفسر کہہ کر رد کردیتے ہیں، لیکن جب کوئی محدث ان کی مخالف روایت کے لفظ ثم لایعود کو غیر محفوظ کہہ دے تو پھر زبیر علی زئی آنکھیں بند کرکے اس جرح کو قبول کرلیتا ہے:
ایک جا رہتے نہیں بدنام عاشق کہیں
شام کہیں صبح کہیں،صبح کہیں شام کہیں
حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م۳۵۴ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
غیر مقلد زبیر علی زئی لکھتا ہے:
حافظ ابن حبان نے کتاب الصلوٰۃ میں کہا ہے:
‘‘ ھو فی الحقیقۃاضعف شئی یعول علیہ لان لہ عللاً تبطلہ ’’یہ روایت حقیقت میں سب سے زیادہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں۔ (التلخیص الحبیر ج۱ ص۲۲۲ ح۳۲۸ البدر المنیر ج۳ ص۴۹۴)
جوابِ اوّل و زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۰:
کتاب الصلوٰۃ کے حوالے سے مذکورہ اعتراض نقل کرنے والے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھ، و حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ، حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کے صدیوں بعد پیدا ہوئے ہیں، حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الصلوٰۃ نام کی کوئی کتاب اس وقت دنیا کے کسی خطے میں بھی موجود نہیں ہے (فیما اعلم) اور جب تک اصل کتاب موجود نہ ہو زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک نقل معتبر نہیں ہوتی اور اس کتاب سے نقل شدہ حوالہ مردود و ناقابل استدلال ہوتا ہے۔
چنانچہ حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے جب اپنی کتاب نصب الرایہ میں امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ‘‘غرائب حدیث مالک’’ سے نقل کیا کہ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ کو ثقہ ائمہ حفاظ میں شمار کیا ہے تو زبیر علی زئی نے احناف دشمنی میں حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ کی اس نقل کو ناقابل قبول قرار دینے کے علاوہ اصل کتاب کو دیکھے بغیر ان پر خیانت کا الزام بھی لگادیا کہ انہوں نے امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو کانٹ چھانٹ کر نقل کیا ہے۔
چنانچہ لکھتا ہے:
نصب الرایہ للزیلعی میں امام دارقطنی کی کتاب غرائب مالک سے ایک قول کانٹ چھانٹ کرنقل کیا گیا ہے جب تک اصل کتاب ‘‘غرائب مالک’’ یا اس سے منقول پوری عبارت نہ دیکھی جائے، اس متبور (آدھ کٹے) قول سے استدلال صحیح نہیں ہے ۔(الحدیث ص۱۸ ش نمبر۷)
نیز لکھتا ہے:
یہ حوالہ کئی وجہ سے مردود ہے۔۔۔۔ اصل کتاب غرائب مالک موجود نہیں ہے تاکہ زیلعی کے دعوے کی تصدیق کی جاسکے۔ (الحدیث ص۲۷ ش نمبر۵۵)
اسی طرح امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ م ۸۴۰ھ نے اپنی کتاب ‘‘اتحاف الخیرۃ المھرۃ’’ میں امام احمد بن منیع رحمۃ اللہ علیہ کی مسند سے ایک حدیث بہ سند نقل کی ہے۔ یہ حدیث چونکہ زبیر صاحب کے مردود مؤقف کے خلاف تھی، اس لئے علی زئی نے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ کی اس نقل کو ناقابل اعتماد قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:
احمد بن منیع کی اصل کتاب کہیں بھی نہیں ملی، اور بوصیری اس کی وفات کے صدیوں بعد پیدا ہوا تھا۔
(نصر الباری ص۷۴)
الغرض زبیر صاحب کے نزدیک اصل کتاب کی غیرموجودگی میں اس کتاب سے نقل کردہ حوالہ ناقابل استدلال وغیر معتبر ہوتا ہے۔ لہٰذا حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کتاب الصلوٰۃ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ و ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ کے اس کتاب سے منقولہ مذکورہ بالا حوالہ زبیر صاحب کے بقول ناقابل استدلال وغیر معتبر ہے۔
نیز زبیر صاحب کے مذکورہ بالا اعتراض سے قارئین کرام نے یہ اندازہ بھی بخوبی لگالیا ہوگا کہ موصوف کس قدر متناقض متضاد اور دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں کہ جب کوئی محدث دوسرے کسی محدث کی کتاب سے حوالہ نقل کرے اور کتاب کی تصریح بھی کردے کہ میں نے یہ حوالہ فلاں کتاب سے نقل کیا ہے اور یہ حوالہ زبیر صاحب کے جھوٹے مسلک کی بیخ کنی کررہا ہو تو پھر زبیر صاحب مسلکی حمایت میں اس حوالہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے، لیکن اس کے برعکس جیسے ہی زبیر صاحب کو ترک رفع یدین کی حدیث کے خلاف مذکورہ بالا حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا نقل کردہ حوالہ ملا تو چونکہ یہ حوالہ بظاہر زبیر صاحب کے مفاد میں تھا اس لئے موصوف نے اصل کتاب کا مطالبہ کیے بغیر ہی آنکھیں بند کرکے اس حوالہ کو قبول کرلیا۔ حالانکہ کتاب الصلوٰۃکا کوئی اتا پتا زبیر صاحب کو بھی معلوم نہیں ہے۔
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا نام خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
جوابِ ثانی:
اگر بفرض محال مذکورہ جرح ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ سے ثابت بھی ہو تو تب بھی زبیر صاحب کے نزدیک سرے سے حافظ موصوف ہی مختلف فیہ محدث ہیں ۔
چنانچہ زبیر صاحب لکھتے ہیں:
حافظ ابن حبان ابو حاتم البستی رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں محدثین کرام کے درمیان اختلاف تھا ابوالفضل احمد بن علی بن عمرو السلیمانی، یحییٰ بن عمار، ابواسماعیل الہروی، ابوعلی النیسابوری، محمد بن طاہر المقدسی اور عبدالصمد بن محمد بن صالح نے ان پر جرح کی بلکہ سلیمانی نے انہیں کذابین میں شمار کرکے ابوحاتم سہل بن السری الحافظ سے نقل کیا لاتکتب عنہ فانہ کذاب اس سے حدیث نہ لکھو کہ وہ کذاب (بہت بڑاجھوٹا، ناقل) ہے۔ (بلفظہ الحدیث ص۱۷ ش نمبر ۵۹)
جوابِ ثالث:
حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ علمائے غیر مقلدین کے بقول جرح میں انتہائی متشدد ہیں۔
چنانچہ حافظ موصوف کی ایک راوی پر جرح کا جواب دیتے ہوئے مبارکپوری غیر مقلد لکھتا ہے:
‘‘واما قول ابن حبان المذکور فغیر قادح فانہ متعنت ومسرف بالجرح ’’
کہ امام ابن حبان کا مذکورہ قول قابل قدح (مضر) نہیں ہے کیونکہ وہ متعنت (متشدد) ہیں، اور جرح میں حد سے زیادہ تجاوز کرنے والے ہیں۔ (ابکار المنن: ص۲۳۶)
زبیر علی زئی لکھتا ہے:
علماء نے ابن حبان کو متشدد قرار دیا ہے۔ (الحدیث ص۲۰ ش نمبر۵۹)
محمد گوندلوی غیر مقلد لکھتا ہے:
کہ وہ متشدد ہیں۔ (خیرالکلام ص۱۷۳)
گوندلوی حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے مزید لکھتا ہے:
‘‘ ابن حبان ربما جرح الثقۃ حتی کان لایدری مایخرج من راسہ ’’ (التحقیق الراسخ ص۷۹)
کہ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ بسااوقات ثقہ راوی پر بھی جرح کرجاتے ہیں، یہاں تک کہ گویا وہ جانتے ہی نہیں کہ اس (ثقہ راوی) کے سر سے کیا نکالنا چاہتے ہیں۔
ارشاد الحق اثری غیرمقلد لکھتا ہے:
امام ابن حبان جرح میں متشدد ہیں۔۔۔۔ امام ابن حبان کا تشدد معروف ہے۔ (توضیح الکلام ج۱ ص۴۷۴، ۴۸۰)
نذیر رحمانی غیرمقلد بھی حافظ موصوف کو متشدد گردانتا ہے۔ (انوار المصابیح ص۱۱۴)
اور متعدد علمائے غیر مقلدین مثلاً عبدالرحمن مبارکپوری، عبدالرحمن المعلمی، محمد گوندلوی، حنیف ندوی، ارشاد الحق اثری وغیرہ نے متشدد امام کی جرح کو اس کے تشدد و تعنت کی وجہ سے باطل و مردود قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
(۱) ۔۔۔۔ابکار المنن :ص۱۵۲
(۲) ۔۔۔۔التنکیل :ج۱ ص۳۵۰
(۳)۔۔۔۔ مطالعہ حدیث: ص۷۸
(۴)۔۔۔۔ خیرالکلام :ص۲۲۶
(۵) ۔۔۔۔التحقیق الراسخ :ص۷۸
(۶) ۔۔۔۔توضیح الکلام :ج۱ ص۳۳۲
لہٰذا حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کا علمائے غیر مقلدین کے مذکورہ بالا اقتباسات کے بعد خود بخود باطل و مردود ہونااظہر من الشمس ہے۔
جوابِ رابع:
حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح غیر مفسر غیر مبین السبب ہے، اور محمد گوندلوی، عبدالرحمن مبارکپوری، نذیر رحمانی، ارشاد الحق اثری، رئیس ندوی، زبیر علی زئی وغیرہ علمائے غیرمقلدین نے صراحت کررکھی ہے کہ غیر مفسر جرح مردود ہوتی ہے۔ (دیکھئے خیر الکلام ص۴۴، ابکار المنن ص۸۰، انوار المصابیح ص۱۳۸، توضیح الکلام ص۴۳۸، پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص۱۸۸، مقالات ج۱ ص۳۱۶)
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر صاحب نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جارحین میں امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شمار کیا ہے اور امام موصوف سے اعتراض یہ نقل کیا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے لمبی حدیث سے اور یہ اس لفظ پر صحیح نہیں۔ (ملخصاً نورالعینین ص۱۳۱، ۱۳۲)
الجواب الاوّل:
اولاً۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کی حقیقت معلوم کرنے سے پہلے چند چیزیں ذہن نشین کرلیں تاکہ اگلی بات سمجھنے میں دقت نہ ہو۔
(۱)۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے سنن ابی داؤد کو کم و بیش تقریباً (۳۵) پینتیس مرتبہ اپنے شاگردوں کو املاء کروایا ہے ان میں امام موصوف کے بعض شاگرد قدیم ہیں اور بعض متاخر ہیں۔
(۲)۔۔۔۔ امام موصوف سے درج ذیل ان کے شاگردوں نے سنن ابی داود روایت کی ہے۔
۱۔۔۔۔امام ابوالحسن علی بن حسن بن عبدالانصاری رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۸ھ
۲۔۔۔۔ ابوعیسیٰ اسحاق بن موسیٰ بن سعید الرملی الوراق رحمۃ اللہ علیہ م۳۲۰ھ
۳۔۔۔۔ ابوالطیب احمد بن ابراہیم بن عبدالرحمن ابن الاشنانی رحمۃ اللہ علیہ
۴۔۔۔۔ ابوبکر احمد بن سلمان النجاد الفقیہ م ۳۴۸ھ
۵۔۔۔۔ ابوسعید احمد بن محمد بن سعید بن زیاد ابن الاعرابی رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۱ھ
۶۔۔۔۔ ابوبکر محمد بن بکر بن عبدالرزاق بن داسۃ التمار رحمۃ اللہ علیہ م۳۴۶ھ
۷۔۔۔۔ ابوعلی محمد بن احمد بن عمرو اللولوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۳۳ھ
ان میں ابتدائی تین امام موصوف کے قدیم اور باقی آخری چار متاخر شاگرد ہیں۔
(۳)۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے حافظ ابوعلی محمد بن احمد بن عمرو اللولوی م۳۳۳ھ کو محرم ۲۷۵ھ میں سنن ابی داود املاء کروائی تھی، اور شوال ۲۷۵ھ میں ہی امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہوگیا گویا امام لولوی رحمۃ اللہ علیہ نے امام موصوف سے ان کے وفات والے سال سنن کا سماع کیا ہے۔ (لہٰذا حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ کا نسخہ متاخر و جدید ہے)، نیز امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کے قدیمی شاگردوں کے نسخوں میں عموماً اور نسخہ ابن عبدالانصاری رحمۃ اللہ علیہ میں خصوصاً امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ کا روایات پر کلام ملتا ہے، لیکن امام موصوف نے اپنے وفات والے سال جب سنن ابی داؤد اپنے متاخر شاگرد حافظ ابو علی محمد بن احمد بن عمرو اللولوی رحمۃ اللہ علیہ م۳۳۳ھ کو املاء کروائی تو امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے متعدد روایات پر اپنی کئی ہوئی جروحات سے رجوع کرتے ہوئے انہیں حذف کروادیا۔ (دیکھئے حاشیہ سیر اعلام النبلاء از شعیب ارناؤط ج۳ ص۲۰۶، مقدمہ عون المعبود شرح سنن ابی داؤد ج۱ ص۵۸، سیر اعلام النبلاء:ج۱۵ ص۳۰۷، شرح سنن ابی داؤد للعینی رحمۃ اللہ علیہ ج۱ ص۳۴، التقییدلابن نقطہ رحمۃ اللہ علیہ ج۱ ص۳۳، فتاویٰ حدیثیہ ج۱ ص۴۰، ملئی العیبۃ ج۵ ص۲۴۱، النکت ج۱ ص۳۴۲، تاریخ بغداد ج۹ ص۵۹، حاشیہ سنن ابی داؤد ج۱ ص۲)
لہٰذا امام موصوف کے دیگر شاگردوں کے نسخے منسوخ اور حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ کا نسخہ ان کے لئے ناسخ ہے، اس لئے جو جرح امام موصوف کے متاخر شاگرد حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ کے نسخہ میں موجود نہ ہو وہ منسوخ متصور ہوگی۔
(۴)۔۔۔۔ سنن ابی داؤد کے متعدد قلمی مخطوطے ہیں مثلاً۔۔۔۔
۱۔۔۔۔ نسخہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ
۲۔۔۔۔ نسخہ جامعۃ الازھر نمبر۱
۳۔۔۔۔ نسخہ جامعۃ الازھر نمبر۲
۴۔۔۔۔ نسخہ سالم بن عبداللہ البصری رحمۃ اللہ علیہ
۵۔۔۔۔ نسخہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ
۶۔۔۔۔ نسخہ تلمسانی رحمۃ اللہ علیہ
۷۔۔۔۔ نسخہ میدومی
۸۔۔۔۔ نسخہ الیوینیۃ
۹۔۔۔۔ نسخہ عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ محمودیہ)
(۱۰)۔۔۔۔ نسخہ یوسف بن محمد بن خلف رحمۃ اللہ علیہ
(۱۱) ۔۔۔۔نسخہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ
خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ نسخہ مذکورہ بالا تمام قلمی نسخوں سے زیادہ معتبر و قابل اعتماد ہے اس نسخہ کے اصل میں مالک سلطان احمد بن سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ ہیں، یہ نسخہ نہایت قابل اعتبار ضابط و جید ہے، سلطان ملک المحسن نے اس نسخہ کو خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کے نسخہ سے تقابل کرکے نقل کیا تھا، اس نسخہ پر متعدد ائمہ محدثین کی سماعت ثبت ہیں، نیز سلطان ملک المحسن رحمۃ اللہ علیہ نے ابن طبرز رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے بھی اس نسخہ کو پڑھا تھا تاریخ نسخ اس نسخہ کی ۶۰۳ھ ہے، بہرحال یہ نسخہ مذکورہ بالا تمام قلمی نسخوں سے زیادہ قابل اعتماد و معتبر ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔ مذکورہ گذارشات کے بعد عرض ہے کہ سنن ابی داؤد کے مذکورہ بالا گیارہ قلمی نسخوں میں امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح سرے سے موجود ہی نہیں ہے، حتی کہ سنن ابی داؤد کے متداول و معمول بھا نسخوں میں بھی نہیں ہے۔ہاں البتہ حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول یہ جرح نسخہ ابن عبدالانصاری رحمۃ اللہ علیہ میں موجود ہے۔ (شرح سنن ابی داؤد ج۵ ص۱۴۶۷) مگر حافظ ابوعلی محمد بن احمد بن عمرو اللولوی رحمۃ اللہ علیہ کے کسی بھی قابل اعتبار قدیمی نسخہ لولوی میں یہ جرح موجود نہیں ہے (فیما اعلم) اور ہم ماقبل میں عرض کرچکے ہیں امام لولوی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے وفات والے سال سنن کا ان سے سماع کیا تھا اور امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے وفات والے سال کئی جروحات سے رجوع فرماتے ہوئے ان جروحات کو حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ سے حذف کروادی تھیں اور حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ کا نسخہ سنن کے دیگر تمام نسخوں کے لئے ناسخ ہے، لہٰذا حافظ لولوی رحمۃ اللہ علیہ کے کسی بھی قابل اعتبار قدیمی نسخہ لولوی میں امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ جرح کا موجود نہ ہونا، اس بات کی دلیل ہے کہ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس اعتراض سے رجوع فرمالیا تھا اور رئیس ندوی غیر مقلد نے صراحت کررکھی ہے کہ جس چیز سے کوئی امام رجوع کرلیتا ہے، پھر اس امام کی طرف اس چیز کا انتساب علی الاطلاق ممنوع و محظور ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص۳۰۴) لہٰذا مذکورہ بالا اعتراض سے امام موصوف کے رجوع فرمالینے کے بعد ان کی طرف اس اعتراض کی نسبت کرنا غلط باطل و مردود ہے۔
الجواب الثانی:
اولاً۔۔۔۔ اگر بفرض محال امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اعتراض سے رجوع نہ بھی کیا ہو تو بھی امام موصوف کا یہ اعتراض غلط ہے کیونکہ بظاہر ان کے اعتراض کی بنیاد اس بات پر ہے کہ زیر بحث حدیث کسی لمبی حدیث کا حصہ ہے، حالانکہ یہ حدیث کسی بھی لمبی حدیث کا حصہ نہیں ہے، کتب حدیث میں جہاں بھی یہ حدیث منقول ہے بس اتنی سی ہی ہے جتنی ہم نے نقل کی ہے، اگر یہ کسی لمبی حدیث کا حصہ ہوتی تو وہ لمبی و مفصل حدیث کتب احادیث کے ذخیرہ میں سے کم از کم کسی ایک کتاب میں تو ضرور منقول ہوتی جبکہ کتب احادیث ایسی روایت سے بالکل خالی ہیں۔ فلھٰذا اس حدیث کوکسی لمبی حدیث کا حصہ کہنا امام موصوف کا نرا وہم ہے۔
نیز بالفرض اگر یہ حدیث کسی لمبی حدیث کا حصہ بھی ہو تو محض کسی لمبی حدیث کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس حدیث کے لفظ ثم لایعود کو ضعیف کہنا محدثین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے اْصول کے خلاف ہے، کیونکہ اْصول حدیث کا مشہور و معروف ضابطہ ہے کہ اختصار حدیث و تقطیع حدیث کرنا جائز ہے، اور اختصار حدیث و تقطیع حدیث کرنے سے متن حدیث ضعیف نہیں ہوتا ہے حوالہ جات کے لئے درج ذیل کتب ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ۔۔۔۔التقریب مع التدریب :ص۳۹۳
(۲) ۔۔۔۔تدریب الراوی: ص۳۹۳
(۳) ۔۔۔۔التقیید والایضاح شرح مقدمہ ابن صلاح : ج۱ ص۲۲۸
(۴) ۔۔۔۔المقنع فی علوم الحدیث :ج۱ ص۳۷۷
(۵) ۔۔۔۔مقدمہ ابن صلاح : ص۱۰۷
(۶) ۔۔۔۔الباعث الحثیث: ص۱۳۹
(۷) ۔۔۔۔فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث :ج۳ ص۱۵۸
(۸) ۔۔۔۔شرح نخبۃ الفکر لملا علی القاری : ج۱ ص۴۹۶
(۹) ۔۔۔۔شرح الفیہ العراقی: ج۱ ص۵۱۱
(۱۰)۔۔۔۔ توجیہ النظر الی اصول الاثر: ج۲ ص۷۰۵
(۱۱) ۔۔۔۔اسبال المطر علی قصب السکر: ج۱ ص۲۹۳
(۱۲)۔۔۔۔ تحریر علوم الحدیث :ج۱ ص۲۸۸
(۱۳)۔۔۔۔ قواعد التحدیث من فنون مصطلح الحدیث :ج۱ ص۲۲۵
(۱۴)۔۔۔۔ الوسیط فی علوم ومصطلح الحدیث: ج۱ ص۱۴۹
(۱۵)۔۔۔۔ شرح الاثیوبی علی الفیۃ السیوطی فی الحدیث: ج۲ص۶۶
مزید یہ کہ اگر تقطیع حدیث واختصار حدیث فریق مخالف کے نزدیک وجہ ضعف ہے تو پھر فریق مخالف کو چاہیے کہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن نسائی وغیرہ کی تمام تقطیع واختصار کی ہوئی احادیث پر خط تضعیف کھینچ ڈالیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
نیز امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب مذکورہ بالا عبارت میں بھی اعتراض صرف لفظ ثم لایعود پر ہے اور ہم بارہا عرض کرچکے ہیں کہ ہمارا دعوی ترک رفع یدین ثم لایعودکے بغیر بھی فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اول مرۃ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ سے صراحتاً ثابت ہے۔
امام یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ م۲۰۳ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر صاحب نے امام یحییٰ بن آدم کو بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جارحین میں شمار کیا ہے۔
(دیکھئے :نورالعینین :ص۱۳۳)
الجواب:
امام یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ سے جرح کا کوئی ادنیٰ سا لفظ بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر منقول نہیں ہے۔ اگر امام موصوف سے جرح کا کوئی ادنیٰ سا لفظ بھی منقول ہوتا تو زبیر صاحب وہ لفظ ضرور درج کرتے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی طرف منسوب انتہائی غیر معتبر وغیر مستند رسالہ جزء رفع یدین میں تو صرف یہ لکھا ہوا ہے کہ امام یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ادریس کی کتاب میں تطبیق کے متعلقہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث دیکھی اس تطبیق والی حدیث میں لم یعد نہیں تھا۔ اور امام موصوف کا یہ فرمانا بالکل درست ہے کہ عبداللہ بن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث میں لم یعد نہیں ہے۔ کیونکہ ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث تطبیق وغیرہ کے بارے میں ہے اس میں ترک رفع یدین کا کوئی ذکر ہی نہیں ہے تو اس میں لم یعد کو تلاش کرنا ہی سرے سے فضول ہے۔ ترک رفع یدین کے بارے میں تو امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث ہے جو کہ اسانید صحیحہ کے ساتھ کتب حدیث میں موجود ہے۔ الغرض امام یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ سے جرح کا کوئی ادنیٰ سا لفظ بھی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ترک رفع یدین کے متعلقہ حدیث پر ثابت نہیں ہے۔ لہٰذا امام موصوف کو زیربحث حدیث کے مضعفین میں شمار کرنا غلط ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م۲۵۶ھ سے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر علی زئی صاحب نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جارحین میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شمار کیا ہے۔ اور اس پر تین حوالے پیش کیے ہیں۔ (۱)جزء رفع یدین: ۳۲، (۲)التلخیص الخبیر :۲۲۲/۱، (۳)المجموع شرح المھذب :۴۰۳/۳۔(نورالعینین: ص۱۳۳)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ اصل کتاب جزء رفع یدین ہی ہے دوسری کتابوں میں تو اس سے بات نقل کی گئی ہے۔ لیکن جزء رفع یدین کتاب خود غیر معتبر وغیر مستند ہے کیونکہ اس کتاب کے بنیادی راوی محمود بن اسحاق الخزاعی غیرموثق ہیں اسلام کی چار صدیوں میں کسی ایک محدث نے بھی اس کی صراحتا توثیق نہیں کی۔(فیما اعلم) حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمۃ اللہ علیہ اس راوی کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:
اس کی توثیق بطریق محدثین آج تک ثابت نہیں ہوسکی،پیر بدیع الدین راشدی المعروف پیر جھنڈا اور ان کے بڑے بھائی پیر محب اللہ شاہ راشدی بھی اس کی توثیق ثابت نہ کرسکے پھر فیصل آباد عدالت میں جب ان سے اس راوی کی توثیق پوچھی گئی تو ان کے تقریباً ۱۲علماء جو وہاں موجود تھے جن میں مولوی اشرف سلیم اور مولوی صدیق سرگودھوی بھی تھے وہ بھی ثابت نہ کر سکے ،دنیا پور کے مناظرے میں طالب زیدی نے اس راوی کی توثیق پر مناظرے کی فتح وشکست کا مدار رکھا مگر وہ اس کو ثابت نہ کرسکااور ذلت آمیز شکست کے ساتھ وہاں سے بھاگازبیر علی زئی سب کے پاس پھرا مگر اس کی توثیق نہ مل سکی۔۔۔۔۔الخ۔
(مترجم جزء القراء ۃ :ص۱۴،۱۵)
باقی یہ بات کہ محمود بن اسحاق الخزاعی کی ایک حدیث کو حافظ ابن حجرعسقلانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے تو اس حوالہ سے بھی اس کی توثیق ثابت نہیں ہوسکتی کیونکہ حافظ ابن حجر نے دوسندوں کا ذکر کرکے حدیث کو حسن کہا ہے۔ (بحوالہ ترویح العینین :ص۱۶۰)اوراگر بالفرض حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اسے حسن الحدیث کہا ہو تو بھی حافظ موصوف کا اسے حسن الحدیث کہنا غیر مقلدین کے لئے کچھ بھی مفید نہیں ہے کیونکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ متاخرین ائمہ رجال میں سے ہیں اور محمود بن اسحاق الخزاعی متقدم روات میں سے ہیں ،اور غیر مقلدین کے نزدیک متقدم راویوں کے بارے میں متاخر ائمہ رجال کی آراء غیر مقبول ہیں۔چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ (جن کی تعریف وتوثیق میں غیر حاسد تمام بڑے بڑے متقدمین ومتاخرین محدثین اور فقہاء رطب اللسان ہیں )کہ حضرت اقدس مفتی مہدی حسن صاحب نے جب متاخر ائمہ کرام جیسے حافظ محمد بن عبداللہ المعروف صاحب المشکوٰۃ م۷۴۱ھ،ابو حامد محمد بن محمد الغزالی الطوسی م۵۰۵ھوغیرہما سے تعریف وتوثیق نقل کی تو غیر مقلدین کے متحقق رئیس ندوی صاحب سے برداشت نہ ہوئی،اس لئے ندوی صاحب نے عام حضرات کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے لکھا:
دیوبندی یہ ضرور بتلائیں کہ امام غزالی وامام ابو حنیفہ کے درمیان صدیاں حائل ہیں ،پھر کس معتبر سند سے انہیں امام ابو حنیفہ کے وہ اوصاف معلوم ہوئے جن کا ذکر دیوبندیہ نے بحوالہ احیاء العلوم کیا ہے ؟۔۔۔۔ہم کہتے ہیں کہ امام ابن خلکان وامام ابو حنیفہ کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے پھر کس معتبر وصحیح سند سے انہیں مذکورہ اوصاف ابی حنیفہ معلو م ہوئے؟یہ بھی دیوبندیہ کی اکاذیب پرستی میں سے ہے ۔صاحب ِ مشکوٰۃ کو کیسے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہ علوم مرتبت اور وفورِ علم والے تھے؟
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ :ص۲۱۴،۲۱۵،۲۲۰)
ثانیاً۔۔۔۔پھر جزء رفع یدین کے مذکورہ مقام پر حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر جرح کا کوئی ادنیٰ سا لفظ بھی موجود نہیں ہے بلکہ وہاں پر تو صرف یہ لکھا ہوا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھنے یحییٰ بن آدم رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا کہ میں نے ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب میں تطبیق کے متعلقہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث دیکھی اس میں لم یعد نہیں تھا۔ اور ہم ماقبل میں عرض کرچکے ہیں کہ امام موصوف کا یہ فرمان بالکل درست ہے کہ ابن ادریس رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث میں لم یعد نہیں ہے۔ کیونکہ امام موصوف کی حدیث تطبیق وغیرہ کے بارے میں ہے اس میں ترک رفع یدین کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اس لئے اس میں لم یعد کو تلاش کرنا فضول ہے۔ ترک رفع یدین کے متعلق تو امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث ہے۔ لہٰذا نہ یہ جرح ہے اور نہ ہی یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ضعیف ہے۔
حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھسے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر صاحب نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جارحین میں حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی شمار کیا ہے۔ (دیکھئے نور العینین ص:۱۳۳)
الجواب:
حافظ ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ کو حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے جارحین میں ذکر کرنا سراسر دھوکہ ہے۔ کیونکہ لفظ ثم لایعود کے علاوہ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃاور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث حافظ ابن القطان رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے چنانچہ حافظ موصوف فرماتے ہیں:
‘‘والحدیث عندی لعدالۃرواتہ اقرب الی الصحۃ ’’ (بیان الوہم والایہام: ص۳۶۷)
کہ یہ حدیث عادل راویوں سے مروی ہونے کی وجہ سے میرے نزدیک صحیح ہے۔
لہٰذا حافظ موصوف کا نام لے کر دھوکہ دینا درست نہیں کیونکہ یہ تو اس حدیث کو صحیح کہنے والوں میں سے ہیں نہ کہ ضعیف کہنے والوں میں۔
حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ و امام اشبیلی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہماسے منسوب جرح کی حقیقت:
زبیر صاحب نے حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ، امام اشبیلی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہماکو بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مضعفین میں شمار کیا ہے۔ (دیکھئے نورالعینین ص:۱۳۳)
الجواب:
حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ و امام اشبیلی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہماسے منسوب جرح غیر مفسر غیر مبین السبب ہے۔ اور درج ذیل ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم اور علمائے غیر مقلدین نے صراحت کررکھی ہے کہ غیر مفسر غیر مبین السبب جرح قابل قبول نہیں ہوتی، لہٰذا ان حضرات کی یہ جرح قبول نہیں۔
(۱) ۔۔۔۔حافظ نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶ھ:
(تقریب مع التدریب :ص۲۶۹)
(۲) ۔۔۔۔قاضی ابوالطیب طاہر بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ:
(الکفایہ ج۱ ص۳۳۸، رقم ۲۷۷)
(۳)۔۔۔۔ حافظ ابوبکر خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ:
(ایضاً)
(۴) ۔۔۔۔حافظ ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ م۶۴۳ھ:
(مقدمہ ابن صلاح ص۶۱)
(۵) ۔۔۔۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھ:
(مترجم اختصار علوم الحدیث: ص۵۹)
(۶) ۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲ھ:
(ہدی الساری مقدمہ فتح الباری: ص۵۴۳)
(۷) ۔۔۔۔حافظ محمود بن احمد رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ:
(عمدۃ القاری: ج۱ ص۲۸)
(۸) ۔۔۔۔علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ م۹۲۳ھ:
(ارشاد الساری: ج۱ ص۲۱)
(۹) ۔۔۔۔حافظ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴ھ:
(مرقات :ج۱ ص۱۷)
(۱۰)۔۔۔۔ علامہ عبدالعزیز بن احمد البخاری رحمۃ اللہ علیہ م۷۳۰ھ:
(کشف الاسرار بحوالہ حاشیہ جامع الاصول: ص۱۲۷)
(۱۱) ۔۔۔۔حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۴ھ:
(البدرالمنیر: ج۲ ص۱۷۳)
(۱۲)۔۔۔۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۸ھ:
(تاریخ اسلام :ج۱۷ ص۳۶۰، رقم ۴۳۵)
(۱۳)۔۔۔۔ علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ :
(شرح الالفیہ :ج۱ ص۳۰۰)
(۱۴)۔۔۔۔ علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۰۴ھ:
(الرفع والتکمیل: ص۸۰)
(۱۵)۔۔۔۔ محمد گوندلوی غیر مقلد:
(خیرالکلام :ص۴۴)
(۱۶)۔۔۔۔ عبدالرحمن مبارکپوری غیرمقلد :
(ابکار المنن: ص۸۰)
(۱۷)۔۔۔۔ نذیر رحمانی غیرمقلد :
(انوار المصابیح :ص۱۳۸)
(۱۸)۔۔۔۔ ارشاد الحق اثری غیرمقلد :
(توضیح الکلام: ص۴۳۸)
(۱۹)۔۔۔۔ رئیس ندوی غیرمقلد:
(تحقیقی جائزہ: ص۲۳۱)
(۲۰)۔۔۔۔ زبیر علی زئی غیر مقلد :
(مقالات ج۱ ص۳۱۶)
امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ م۲۹۴ھ سے منسو ب جرح کی حقیقت و زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۱:
نصب الرایہ للزیلعی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے زبیر صاحب نے امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مضعفین میں شمار کیا ہے۔ (دیکھئے نور العینین ص۱۳۴)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔ تو عرض ہے کہ حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ جرح امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب رفع یدین سے نقل کی ہے۔ اور حافظ مروزی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب کہیں نہیں پائی گئی (فیمااعلم) اور ماقبل میں گزرچکا ہے کہ زبیرعلی زئی صاحب کے نزدیک کسی محدث کا کسی کتاب سے نقل کردہ حوالہ اصل کتاب کی غیرموجودگی میں ناقابل استدلال وغیر معتبر ہوتا ہے۔ (دیکھئے نصر الباری ص۷۴، ماہنامہ الحدیث ص۱۸ ش نمبر ۷) مگر مذکورہ بالا مقام پر زبیر صاحب نقل سے استدلال کررہے ہیں جو کہ زبیر صاحب کی مسلکی حمایت میں واضح دوغلی پالیسی ہے۔
ثانیاً۔۔۔۔ امام محمد بن نصر المروزی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح صرف لفظ ثم لایعود پر ہے اور باقی لفظ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃ اور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ حدیث ان مسعود رضی اللہ عنہ پر امام موصوف کو کوئی اعتراض نہیں ہے، اور ہم عرض کرچکے ہیں کہ ہمارا دعویٰ ترک رفع یدین ثم لایعود کے علاوہ الا فی اوّل مرۃ اور اس کے روایت بالمعنی الفاط سے صراحتاً ثابت ہے، نیز لفظ ثم لایعود کی زیادتی پر بھی اعتراض غلط ہے کیونکہ امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ یہ لفظ نقل کرنے میں منفرد نہیں ہیں بلکہ سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی متابعت کررکھی ہے مزید یہ کہ یہ زیادتی ثقہ ہے اور زیادتی ثقہ بالاتفاق قابل قبول ہے۔
حافظ دارمی رحمۃ اللہ علیہ م۲۸۰ھ وحافظ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب جرح کی حقیقت و زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۲:
حافظ دارمی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی زبیر صاحب نے جارحین میں شمار کیا ہے۔
(دیکھئے نورالعینین: ص۱۳۳)
الجواب:
حافظ دارمی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب غیرمفسر غیر مبین السبب جرح بے سند ہے اس جرح کی دنیا کی کسی کتاب میں بھی سند نہیں ہے۔ (فیمااعلم) اور زبیر صاحب نے کئی مقامات پر صراحت کررکھی ہے کہ بے سند جرح و تعدیل قابل قبول نہیں ہے۔
چنانچہ زبیر صاحب لکھتے ہیں:
بلاسند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے۔ حافظ ذہبی ہوں یا حافظ ابن حجر یا کوئی اور بے سند جرح و تعدیل معتبر نہیں ہے۔ جب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی بے سند بات حجت نہیں ہے تو امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ کی بے سند بات کس شمار و قطار میں ہے؟ بے سند بات حجت نہیں ہوتی۔ (مقالات ج۲ ص۴۵۶ تا ۴۵۸)
اسی طرح زبیر صاحب امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی قبر کی زیارت کے متعلقہ ایک واقعہ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
یہ واقعہ جعلی اور سفید جھوٹ ہے شاہ رفیع الدین کا کسی واقعہ کو بغیر سند کے نقل کردینا اس واقعہ کی صحت کی دلیل نہیں ہے شاہ رفیع الدین اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے درمیان کئی سوسال کا فاصلہ ہے جس میں مسافروں کی گردنیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ (بلفظہ نورالعینین: ص۳۶)
قارئین کرام!
یہ ہے فرقہ غیر مقلدیت کے متحقق زبیر صاحب کا انصاف! کہ جب کسی بات سے زبیر صاحب کے مؤقف پر زد پڑ رہی ہو تو زبیر صاحب عدم سند کا بہانہ بناکر اس بات کو جعلی وسفید جھوٹ اور غیر معتبر کہہ دیتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف جب کسی بے سند بات سے زبیر صاحب کو کچھ فائدہ کی توقع ہو تو پھر موصوف اس بے سند بات کو بھی قبول کرلیتے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا حافظ دارمی رحمۃ اللہ علیہ و حافظ بیہقی رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب غیر مفسر باطل و مردود بے سند جرح کو قبول کررکھا ہے۔ اب جو لوگ خود جھوٹ اور دوغلی پالیسی میں سرتا پا غرق ہوں اور آئے روز ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم پر نت نئے جھوٹ باندھ رہے ہوں کیا ان کو بھی یہ زیب دیتا ہے کہ وہ علماءِ اہلسنّت والجماعت کو تقلید پرستی کے طعنے دیں؟
دوسروں پر طعن کرتے ہو اپنے گھر کی خبر ہی نہیں، تم سا احمق دنیا میں کوئی بشر نہیں۔
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور جمہور محدثین کرامؒ وفقہاء کرام ؒ:
قارئین کرام! یہ تھیں حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر کی گئی مبہم، غیر متعلق باطل و مردود جرحیں، جن کے تسلی بخش جوابات آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ اب ہم مختلف ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم سے اس حدیث کی تصحیح و تحسین نقل کرتے ہیں۔ نیز ہم ان ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کا بھی تذکرہ کریں گے جنہوں نے اس حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے۔
(۱)۔۔۔۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۹ھ فرماتے ہیں ‘‘حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحیح ’’ کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے۔
(سنن ترمذی قلمی نسخہ دارالکتب المصریہ)
(۲)۔۔۔۔ حافظ ابن حزم الظاہری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ لکھتے ہیں ‘‘ ان ھذا الخبر صحیح ’’ کہ بلاشک و شبہ یہ حدیث صحیح ہے۔
(المحلیٰ شرح المجلی ج۴ ص۵۸ مسئلہ نمبر ۴۴۲)
(۳)۔۔۔۔ امام ابوعلی حسن بن علی الطوسی رحمۃ اللہ علیہ م۳۱۲ھ فرماتے ہیں ‘‘حدیث ابن مسعود حسن ’ ’کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن ہے۔
(مختصر الاحکام ج۲ ص۱۰۳رقم ۲۳۷)
(۴)۔۔۔۔ امام ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۲۸ھکہتے ہیں ‘‘ والحدیث عندی لعدالۃ رواتہ اقرب الی الصحۃ ’’ کہ یہ حدیث چونکہ عادل راویوں سے مروی ہے اس لئے میرے نزدیک اقرب الی الصحۃ(صحیح) ہے۔ (بیان الوہم والایہام: ج۳ ص۳۶۷)
(۵)۔۔۔۔ امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ م۳۸۵ھ فرماتے ہیں ‘‘واسنادہ صحیح۔۔۔۔.الخ’’ کہ یہ حدیث سنداً صحیح ہے۔
(العلل الواردہ :ج۵ ص۱۷۲، رقم ۸۰۴، الدرایہ ج۱ ص۱۵۰، نصب الرایہ ج۱ ص۴۷۴، اللائی المصنوعہ ج۲ ص۱۷)
(۶)۔۔۔۔ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱ھ کہتے ہیں کہ فصلی فلم یرفع یدیہ الا فی اوّل مرۃاور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے۔
(ملخصاً تہذیب السنن مع مختصر السنن ج۱ ص۱۴۶)
(۷)۔۔۔۔ امام ابن القطان الفاسی رحمۃ اللہ علیہ م۶۲۸ھ اور ثقہ بالاجماع محدث حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ نے بحوالہ حافظ فاسی رحمۃ اللہ علیہ صراحت فرمارکھی ہے کہ لفظ ثم لایعود کے علاوہ باقی تمام حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو (الا فی اول مرۃاور اس کے روایت بالمعنی الفاظ کے ساتھ) امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۱ھ صحیح مانتے ہیں۔ (ملخصاً بیان الوہم والایہام ج۳ ص۳۶۷ رقم ۱۱۰۹، نصب الرایہ ج۱ ص۴۷۴)جِس کی تائیداِس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس حدیث کو روایت کرنے والے امام سفیان ثوری رحمہ اللہ ہیں اورایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ م۲۴۱ھنے اعلان فرمارکھا ہے کہ :
جب کسی حدیث کو روایت کرنے والے امام سفیان ہوں اور محدثین اس حدیث پر جرح بھی کریں تو خوب جان لو کہ وہ حدیث صحیح ہی ہوگی۔
(ملخصاً:الکفایہ فی علم الروایہ :ج۱ص۱۴۲،باب ترک الاحتجاج بمن غلب علی حدیثہ الشواذ۔۔۔۔الخ۔)
(۸)۔۔۔۔ الامام الثقہ، المتقن الحجۃ، المحدث الفقیہ الاصولی، المعتدل الناقد، علاء الدین بن علی بن عثمان الماردینی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۵ھ اس حدیث کو اعلیٰ درجہ کی صحیح مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حدیث پر فریق مخالف کے اعتراضات کے مفصل جوابات دیے ہیں اور آخر میں لکھتے ہیں:
‘‘ والحاصل ان رجال ھذا الحدیث علیٰ شرط مسلم ’ ’ کہ حاصل یہ ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی مسلم کی شرط پر ہیں (یعنی ثقہ ہیں)۔
(الجوہر النقی ج۲ ص۷۸)
(۹)۔۔۔۔ امیر المؤمنین فی الحدیث امام ثقہ متقن حجہ ناقد معتدل حافظ ابوجعفر احمد بن محمد المصری الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۲۱ھ نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ترک رفع یدین پر شرح معانی الآثار میں استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے شرح معانی الاٰثار :ج۱ ص۱۶۲) اور امام موصوف نے مذکورہ کتاب کی ابتداء میں صراحت فرمارکھی ہے کہ میں نے اس کتاب میں اپنے نزدیک صحیح روایات سے استدلال کیا ہے۔ (ملخصاً :ص۱۰) اس سے معلوم ہوا کہ حافظ طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ م۷۰۲ھ بھی اس حدیث کی تصحیح کی طرف مائل ہیں چنانچہ فرماتے ہیں ‘‘ عاصم بن کلیب اخرج لہ مسلم وعبدالرحمن بن الاسود ایضا اخرج لہ مسلم وھو تابعی وثقہ ابن معین وعلقمۃ فلایسئل عنہ للاتفاق علی احتجاج بہ ’’ کہ اس حدیث کے راوی عاصم بن کلیب سے امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم میں حدیث تخریج فرمائی ہے۔ اسی طرح عبدالرحمن سے بھی (لہٰذا ان کے ثقہ ہونے میں کوئی شک نہیں) ویسے بھی امام ابن معین رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ اور علقمہ بالاتفاق حجت ہے۔ (نصب الرایہ :ج۱ ص۳۹۴، ۳۹۵)نیز حافظ موصوف نے اس حدیث پر دیگر اعتراضات کے بھی جوابات دیے ہیں۔
(۱۱)۔۔۔۔ حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ کی طرح امام المحدثین حافظ جمال الدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ بھی زیر بحث حدیث کو اعلیٰ درجہ کی صحیح مانتے ہیں۔ چنانچہ معترضین کے اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
‘‘ وھذا اختلاف یؤدی الی طرح القولین والرجوع الی صحۃ الحدیث لورودہ عن الثقات ’’
(نصب الرایہ ج۱ ص۳۹۶)
حدیث کی تعلیل میں یہ اختلاف دونوں قولوں کے ساقط ہونے اور صحت حدیث کی طرف رجوع کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے ثقہ راویوں سے مروی ہونے کی وجہ سے۔
(۱۲)۔۔۔۔ حافظ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴ھ نے بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح مانا ہے۔
(ملخصاً: الموضوعات الکبریٰ ص۳۵۴ مرقات ج۳ ص۳۲۸)
تنبیہ:
زبیر علی زئی غیرمقلد نے لکھا ہے کہ ابوعلی النیسابوری، ابواحمد بن عدی، ابن مندہ، عبدالغنی بن سعید، ابویعلیٰ الخلیلی، ابوعلی ابن السکن اور ابوبکر خطیب نے سنن نسائی کو صحیح کہا ہے۔ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۵۲) اور حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ چونکہ سنن نسائی میں موجود ہے۔ لہٰذا بقول علی زئی یہ حدیث درج ذیل اماموں کے نزدیک بھی صحیح ہے:
(۱۳)۔۔۔۔ امام ابوعلی النیسابوری رحمۃ اللہ علیہ م ۳۴۹ھ
(۱۴)۔۔۔۔ امام ابواحمد بن عدی رحمۃ اللہ علیہ م ۳۶۵ھ
(۱۵)۔۔۔۔ حافظ ابن مندہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۹۵ھ
(۱۶)۔۔۔۔ امام عبدالغنی بن سعید رحمۃ اللہ علیہ م ۴۰۹ھ
(۱۷)۔۔۔۔ امام ابویعلیٰ الخلیلی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۴۶ھ
(۱۸)۔۔۔۔ امام ابوعلی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۳ھ
(۱۹)۔۔۔۔ امام ابوبکر الخطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ
زبیر علی زئی تضاد نمبر۱۳ :
زبیر علی زئی غیرمقلد نے اپنے وضعی مسلک کی تائید میں وارد ‘‘سنن النسائی’’ کی ایک روایت کو صحیح ثابت کرنے کے لئے سنن نسائی کو صحیح قرار دینے والے جن ائمہ کے نام گنوائے ہیں، ان میں سے امام ابوعلی ابن السکن رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۳ھ کا نام بھی لیا ہے۔ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ (دیکھئے مسئلہ فاتحہ خلف الامام: ص۵۲) جبکہ دوسری طرف اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ:
ابن السکن کے قول کا حوالہ معلوم نہیں ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۴۳ ش نمبر۵۰)
اور بقلم خود یہ بھی تحریر کیا ہے کہ:
ظاہر ہے کہ بے سند و بے حوالہ بات مردود و باطل ہے۔ (الحدیث ص۱۵ ش نمبر ۳۶)
معلوم ہوا زبیر صاحب دوغلی پالیسی پر گامزن ہیں۔ کہ جب کوئی بے حوالہ بات زبیر صاحب کے مفاد میں ہوتو پھر موصوف بلاچوں و چراں اسے قبول کرلیتے ہیں، اور اگر اس کے خلاف ہو تو اسے بے حوالہ کہہ کر رد کردیتے ہیں۔
(۲۰)۔۔۔۔ زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسند احمد میں بھی موجود ہے، اور زبیر علی زئی غیرمقلد نے تسلیم کیا ہے کہ حافظ ابو موسیٰ محمد بن ابی بکر المدینی رحمۃ اللہ علیہ نے مسند احمد کو صحیح کہا ہے۔ (ملخصاً ص۴۳ ش نمبر۵۰ ماہنامہ الحدیث) لہٰذا بقول علی زئی یہ حدیث مسند احمد میں موجود ہونے کی وجہ سے حافظ ابوموسیٰ محمد بن ابی بکر المدینی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔
(۲۱)۔۔۔۔ الامام الثقہ المتقن الحجہ، المحدث الفقیہ، الناقد المعتدل المنصف حافظ مغلطائی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲ھ لکھتے ہیں کہ: ‘‘ فعلی ھذا یکون حدیثاً صحیحاً ’’ کہ اسی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے۔ (شرح سنن ابن ماجہ ج۱ ص۱۴۶۸)
(۲۲)۔۔۔۔ زبیر علی زئی غیر مقلد نے (مستدرک حدیث صلاۃ التسبیح ج۱ ص۳۱۸ رقم الحدیث ۱۱۹۲ کے حوالے سے) لکھا ہے کہ امام ابوعبداللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ م۴۰۵ھ کے نزدیک سنن نسائی صحیح ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۴۳ش نمبر۵۰) اس سے معلوم ہوا کہ سنن نسائی میں موجود ہونے کی سے وجہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی بقول علی زئی امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔
(۲۳)۔۔۔۔ امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃ اللہ علیہ م۲۵۶ھ بھی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح مانتے ہیں۔ (ملخصاً :مترجم جزء رفع یدین: ص۵۷ برقم ۳۲)
تنبیہ: ہمارے نزدیک جزء رفع یدین غیر معتبر و غیر مستند کتاب ہے، مگر چونکہ فریق مخالف کے نزدیک یہ معتبر کتاب ہے اس لئے بطور الزام کے اس کتاب کا حوالہ پیش کیا گیا ہے۔
(۲۴)۔۔۔۔ زبیر علی زئی غیر مقلد لکھتا ہے کہ:
حافظ ابوطاہر السلفی نے کتب خمسہ کے بارے میں کہا مشرق و مغرب کے علماء کا ان کے صحیح ہونے پر اتفاق ہے۔ (بلفظہ تحقیقی مقالات: ج۲ ص۲۸۱)
اس سے ثابت ہوا کہ کتب خمسہ (صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد) میں سے سنن نسائی، سنن ترمذی، سنن ابی داؤد میں حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ موجود ہونے کی وجہ سے بقول علی زئی حافظ ابوطاہر السلفی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ حدیث مشرق و مغرب کے علماء کے ہاں اتفاقی طور پر صحیح ہے۔
(۲۵)۔۔۔۔ الامام الثقہ، الناقد المعتدل المنصف قاسم بن قطلوبغا رحمۃ اللہ علیہ م۸۷۹ھ بھی اس حدیث کو صحیح مانتے ہیں۔ (دیکھئے التعریف الاخبار قلمی برقم۱۶۷)
(۲۶)۔۔۔۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۲ھنے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو فتح الباری میں ذکر فرماکر سکوت اختیار کیا ہے اور بذاتِ خود اس پر کسی قسم کی جرح نہیں کی۔ (دیکھئے فتح الباری ج۲ ص۲۸۰، b۔ قدیمی کتب خانہ کراچی) اور متعدد علماء غیر مقلدین نے تصریح کی ہے کہ حافظ ابن حجر کا کسی حدیث کو ‘‘فتح الباری’’ میں ذکر کرکے اس پر جرح نہ کرنا ان کے نزدیک اس حدیث کے صحیح یا کم از کم حسن ہونے کی دلیل ہے۔ چنانچہ ابراہیم سیالکوٹی غیر مقلد لکھتا ہے:
حافظ ابن حجر نے مقدمہ فتح الباری میں تصریح کی ہے کہ میں اس شرح (فتح الباری) میں جو حدیث لاؤں گا وہ صحیح ہوگی یا حسن (شہادت القرآن: ص۲۳۶) عبدالرحمن مبارکپوری غیر مقلد ایک حدیث (جس پرحافظ موصوف نے سکوت کیا ہے اور جرح نہیں کی) کے ذیل میں لکھتا ہے:
‘‘ذکرہ الحافظ ابن حجر فی فتح الباری وھو حسن عندہ علی ما اشترط فی اوائل مقدمۃ فتح الباری۔۔۔۔الخ ’’ کہ اس حدیث کو حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح الباری میں ذکر (کرکے اس پر سکوت) کیا ہے، جو کہ ان کے نزدیک اس حدیث کے حسن ہونے کی دلیل ہے۔ جیسا کہ خود انہوں نے مقدمہ فتح الباری کے شروع میں اس کی تصریح کی ہے۔ (ابکار المنن ص۴۵)
اسی طرح ایک اور حدیث کے بارے میں لکھتا ہے کہ:
‘‘ وسکت (ابن حجر) عن حدیث وائل وحدیث ھلب فلو کانا ایضاً ضعیفین عندہ لبین ضعفھما ولانہ قال فی اوائل مقدمۃفتح الباری ۔۔۔۔.الخ ’’
کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے (فتح الباری میں) حضرت وائل رضی اللہ عنہ اور حضرت ہلب رضی اللہ عنہ کی احادیث کو ذکر کرکے ان پر سکوت کیا ہے، اور اگر یہ دونوں احادیث ان کے نزدیک ضعیف ہوتیں تو وہ ضرور ان کا ضعف بیان کرتے۔ کیونکہ انہوں نے مقدمہ فتح الباری میں اس کی تصریح کی ہے۔ (حوالہ سابق ص:۱۰۶)
ارشاد الحق اثری غیرمقلد ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ:
اور غالباً یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فتح (یعنی فتح الباری۔ ناقل) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث پر سکوت کیا ہے۔ (توضیح الکلام ج۱ ص۲۱۷)
غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب نور پوری غیر مقلد کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
حافظ ابن حجرنے عقبہ بن عامر کے اثر کو فتح الباری میں ذکر فرماکر سکوت فرمایا ہے۔لہٰذا ان کی شرط کے اعتبار سے یہ اثر ان کے نزدیک کم از کم حسن تو ضرور ہے۔ (نورالعینین ص۱۴۵حاشیہ نمبر۱)
لہٰذا ثابت ہوا کہ بقول علماء غیرمقلدین حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح ہے۔
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۴:
زبیر علی زئی صاحب حسب عادت حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے سکوت کے متعلق بھی متضاد اور متناقض پالیسی پر گامزن ہیں کہ جب کوئی روایت ان کے مفاد میں ہو تو پھر غیرمقلد زبیر علی زئی صاحب اس روایت پر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے سکوت کو ہی اس روایت کے کم از کم حسن ہونے کی دلیل گردانتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر نقل کیا جاچکا ہے کہ زبیر صاحب نے اپنے مؤقف کی تائید میں مروی حدیث کو صحیح ثابت کرنے کے لئے عبدالمنان نورپوری غیرمقلد کے حوالہ سے لکھا:
کہ حافظ ابن حجر نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کو فتح الباری میں نقل فرماکر سکوت فرمایا ہے۔ لہٰذا ان کی شرط کے اعتبار سے یہ اثر ان کے نزدیک کم از کم حسن تو ضرور ہے۔ (نورالعینین ص۱۴۵ حاشیہ نمبر۱ وفی طبعۃ ص۱۷۱)
لیکن دوسری طرف اگر کوئی روایت ان کے مسلک کے خلاف جاتی ہو تو پھر موصوف محض مسلکی حمایت میں اس روایت کو حسب عادت حسن قرار دینے سے مکر جاتے ہیں۔
چنانچہ زبیر صاحب نے لکھا ہے کہ:
تحقیق یہ ہے کہ فتح الباری (اور التلخیص الحبیر) میں حافظ ابن حجر کاسکوت حدیث کے حسن یا صحیح ہونے کی دلیل نہیں ہے۔۔۔۔فتح الباری میں حافظ ابن حجر کا کسی حدیث یا روایت پر سکوت کرنا اس کے صحیح یا حسن ہونے کی دلیل نہیں۔ (ماہنامہ الحدیث ص۹۔۱۳ش نمبر۷۴)
زبیر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
حافظ ابن حجر العسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کا سکوت (چاہے فتح الباری اور یا کوئی دوسری کتاب) حجت نہیں ہے۔ (تحقیقی مقالات ج۳ ص۳۴۹) ہمارے نزدیک ابوداؤد، نسائی، منذری اور ابن حجر عسقلانی وغیرہم کا سکوت حجت نہیں ہے یہ سکوت نہ صحیح ہونے کی دلیل ہے اور نہ حسن ہونے کی۔ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۵۲)
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۵:
ماقبل میں نقل کیا جاچکا ہے کہ زبیر علی زئی غیر مقلد کے نزدیک ابوداؤد، نسائی، منذری، ابن حجر عسقلانی وغیرہ کسی محدث کا بھی سکوت حجت نہیں ہے۔ (ملخصاً فاتحہ خلف الامام ص۵۲) جبکہ دوسری جگہ زبیر علی زئی صاحب نے مسئلہ تدلیس میں درج ذیل ائمہ کرام کے سکوت سے دلیل پکڑی ہے۔
(۱) ۔۔۔۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۲۴۱ھ:
(ملخصاً تحقیقی مقالات ج۴ ص۱۷۰)
(۲)۔۔۔۔ امام اسحاق بن راھویہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۸ھ:
(ایضاً ج۴ ص۱۷۱)
(۳) ۔۔۔۔امام اسماعیل بن یحییٰ المزنی رحمۃ اللہ علیہ م۲۶۴ھ:
(ایضاً ج۴ ص۱۷۲)
(۴) ۔۔۔۔امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۸ھ:
(ایضاً ج۴ ص۱۷۲)
(۵) ۔۔۔۔امام ابوبکر خطیب رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ:
(ایضاً)
(۶) ۔۔۔۔حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م ۸۰۴ھ:
(ایضاً ص۱۷۳۔۱۷۴)
(۷) ۔۔۔۔حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھ :(ایضاً)
(۸) ۔۔۔۔حافظ عراقی رحمۃ اللہ علیہ م۸۰۶ھ: (ایضاً)
(۹) ۔۔۔۔زکریا بن محمد الانصاری رحمۃ اللہ علیہ م ۹۲۶ھ: (ایضاً :۱۷۵)
(۱۰)۔۔۔۔ حافظ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۱۱ھ (ایضاً) وغیرہم
زبان مصلحت بین کو کیونکر قرار آئے
اِدھر کچھ اور کہتی ہے اْدھر کچھ اور کہتی ہے
(۲۷)۔۔۔۔ الامام الثقہ، المتقن الحجہ، المحدث الناقد المعتدل المنصف، امیر المومنین فی الحدیث ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م۸۵۵ھ بھی ترک رفع یدین کی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح مانتے ہیں۔ (دیکھئے شرح سنن ابی داؤد ج۳ ص۳۴۱ تا ۳۴۳ رقم ۷۲۹)
(۲۸)۔۔۔۔ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ م۳۰۳ھ نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو سنن نسائی میں ذکر کیا ہے اور بالجزم اس سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے۔ (دیکھئے سنن نسائی رقم ۱۰۲۶، ۱۰۵۸) اور ارشاد الحق اثری غیرمقلد کے نزدیک امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کا اپنی سنن میں کسی حدیث کو محض ذکر کرنا ہی امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس حدیث کے صحیح یا حسن ہونے کی دلیل ہے۔
چنانچہ اس نے ایک روایت کے ذیل میں لکھا ہے کہ:
عرض ہے کہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو سنن میں ذکر کیا ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک بھی یہ حسن یا صحیح ہے۔ (بلفظہ توضیح الکلام :ص۳۳۷)
لہٰذا ثابت ہوا کہ ارشاد الحق اثری کے بقول حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک صحیح یا حسن ہے۔
(۲۹)۔۔۔۔ امام عبدالحئی لکھنوی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۳۰۴ھ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو سنداً صحیح کہتے ہیں۔ (التعلیق الممجد علی مؤطا محمد : ص۱۹)
(۳۰)۔۔۔۔ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ م۲۷۵ھنے مذکورہ حدیث کو سنن ابی داؤد میں ذکر کرکے سکوت فرمایا ہے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد رقم ۷۴۸) اور امام موصوف کا اس حدیث پر سکوت اختیار کرنا ہی اثری غیر مقلد کے بقول ان کے نزدیک اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔ (ملخصاً تنقیح الکلام ص۳۳۵)
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۶:
زبیر علی زئی غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے کہ:
صحیح یہ ہے کہ ابوداؤد کا سکوت حسن ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ (ماہنامہ الحدیث ص۴۰ ش نمبر۵۱)
ہمارے نزدیک ابوداؤد۔۔۔۔ کا سکوت حجت نہیں ہے۔ یہ سکوت نہ صحیح ہونے کی دلیل ہے اور نہ حسن ہونے کی۔ (مسئلہ فاتحہ خلف الامام ص۵۲)
لیکن دوسری طرف زبیر صاحب نے اسی سکوت ابی داؤد کا سہارا لیتے ہوئے اپنی مرضی کی ایک روایت کے راوی مشرع بن ھاعان کو ثقہ ثابت کرنے کیلئے لکھا ہے کہ:
ابوداؤد نے اس کی حدیث پر سکوت کیا۔ (نورالعینین :ص۱۷۱)
الغرض سکوت ابی داؤد زبیر صاحب کے مفاد میں ہو تو موصوف اسے قابل حجت گردانتے ہیں اور اگر خلاف ہو تو حسب عادت حجت ماننے سے مکر جاتے ہیں۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
(۳۱)۔۔۔ الامام الثقہ، المتقن الحجۃ، المتحقق الناقد المعتدل محمد بن علی النیموی رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۲۲ھآثار السنن میں لکھتے ہیں کہ:
‘‘ رواہ الثلاثۃ وھو حدیث صحیح ’’ اصحاب ثلاثہ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی) نے اس کو روایت کیا اور یہ حدیث صحیح ہے۔ (آثار السنن ص۱۰۹)
(۳۲)۔۔۔۔ الامام الثقہ المتقن ابومحمد علی بن زکریا المنبجی رحمۃ اللہ علیہ م۶۸۶ھ ترمذی کے حوالہ سے لکھتے ہیں:
‘‘ وھذا حدیث حسن ’’ کہ یہ حدیث حسن ہے۔ (اللباب فی الجمع بین السنۃوالکتاب ج۱ ص۲۳۱)
(۳۳)۔۔۔۔ حافظ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ م۹۱۱ھ بھی صحیح مانتے ہیں۔ (ملخصاً اللالی المضوعہ ج۲ ص۱۸)
(۳۴)۔۔۔۔ سید ہاشم عبدللہ یمانی المدنی شرح ترمذی کے حوالہ سے لکھتا ہے کہ:
‘‘ وھذا الحدیث یعنی حدیث ابن مسعود صححہ ابن حزم وغیرہ من الحفاظ وھو حدیث صحیح وماقالوہ فی تعلیلہ لیس بعلۃ ’’ کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام ابن حزم اور دیگر کئی محدثین نے صحیح کہا ہے۔ اور (فی الواقع) یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو معلول قرار دینے کے لئے جو کچھ کہا ہے وہ حقیقتاً علت نہیں۔ (حاشیہ الدرایہ فی تخریج الہدایہ ج۱ ص۱۵۱)
(۳۵)۔۔۔۔ علامہ عبدالقادر الارناؤط صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ واسنادہ صحیح ’’ اس کی سند صحیح ہے۔ (حاشیہ جامع الاصول ج۵ ص۳۰۲)
(۳۶)۔۔۔۔ علامہ طاہر محمد دردیری کہتے ہیں کہ یہ حسن درجہ کی حدیث ہے۔ (تخریج احادیث المدونہ ج۱ ص۴۰۳)
(۳۷)۔۔۔۔ امام عبدالعظیم بن عبدالقوی المنذری رحمۃ اللہ علیہ م۶۵۶ھ ترمذی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ:
‘‘حدیث حسن’’ یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔ (مختصر منذری ج۱ ص۳۶۷)
(۳۸)۔۔۔۔ محدث شیخ ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ م۱۱۵۴ھ صحیح کہتے ہیں۔ (کشف الرین: ص۵۶)
(۳۹)۔۔۔۔ الامام الثقہ، المتقن الحجہ السید محمد مرتضیٰ الزبیدی رحمۃ اللہ علیہ م۱۲۰۵ھ نے سنن ترمذی کے حوالہ سے اسے حسن لکھا ہے۔ (عقود الجواہر المنیفہ: ص۵۸)
(۴۰)۔۔۔۔ الامام الثقہ الحافظ خلیل احمد سہارنفوری رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۴۶ھ نے صحیح مانا ہے۔ (ملخصاً بذل المجہود: ج۴ ص۴۲۶)
(۴۱)۔۔۔۔ المحدث الناقد ظفر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ:
‘‘وھذا اسناد صحیح، رجالہ رجال الصحیحین غیر سوید وھو ثقۃ ’’ (اعلاء السنن ج۳ ص۶۰۔ ۶۱)
(۴۲)۔۔۔۔ المحدث الناقد الشیخ شبیر احمد رحمۃ اللہ علیہ صحیح مانتے ہیں۔ (فتح الملہم :ج۲ ص۱۲)
(۴۳)۔۔۔۔ المحدث الکبیر الشیخ زکریا المدنی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ابن حزم کے حوالہ سے صحیح لکھا ہے۔ (اوجز المسالک ج۲ ص۸۸)
(۴۴)۔۔۔۔ محقق حسن سلیم اسد صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ اسنادہ صحیح ’’ کہ یہ حدیث سنداً صحیح ہے۔ (حاشیہ مسند ابی یعلیٰ الموصلی برقم ۵۳۰۲)
(۴۵)۔۔۔۔ المحدث الکبیر الشیخ عابد المدنی رحمۃ اللہ علیہ م۱۲۵۷ھ صحیح مانتے ہیں۔ (مواھب اللطیفہ قلمی ص۲۵۹)
(۴۶)۔۔۔۔ وصی احمد سورتی صحیح کہتے ہیں۔ (التعلیق المجلی لمافی منیۃ المصلی: ص۳۰۵)
(۴۷)۔۔۔۔ محدث عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ بھی تصحیح کے قائل ہیں۔ (ذب ذبابات الدراسات ج۱ ص۶۰۸، ۶۰۹)
(۴۸)۔۔۔۔ الامام الثقہ، المحدث الکبیر، الناقد الحافظ انورا الکشمیری رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۵۰ھکہتے ہیں کہ:
‘‘وھذا اسناد صحیح ’’ کہ یہ حدیث سنداً صحیح ہے۔ (نیل الفرقدین ص۶۴)
زبیر علی زئی تضاد نمبر ۱۷:
ماقبل میں نقل کیا جاچکا ہے کہ ‘‘مسند ابی یعلی الموصلی’’ اور ‘‘مسند الحمیدی’’ کے محقق و محشی حسین سلیم اسد دارانی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کو سنداً صحیح کہا ہے۔ اسی حسین سلیم اسد دارانی نے ‘‘مسند ابی یعلی الموصلی’’ کی تحقیق میں ایک روایت کی تصحیح و تضعیف میں زبیر علی زئی غیرمقلد کے مؤقف کے خلاف مؤقف اختیار کیا تو زبیر علی زئی نے سرے سے ان کو محققین کی صف سے ہی نکال دیا اور ان کے بارے میں لکھا:
حسین سلیم اسد جو کہ تحقیق حدیث میں ضعیف و ناقابل اعتبار ہے۔ (الحدیث ص۱۳ش۴)
لیکن اس کے برعکس جب موصوف کی ایک حدیث کے متعلقہ تحقیق کو زبیر علی زئی نے اپنے مفاد میں سمجھا تو پھر زبیر علی زئی نے ان کو محققین کی صف میں شامل کرتے ہوئے لکھا:
حسین بن سلیم اسد الدارانی (الشامی) کی تحقیق سے شائع شدہ ‘‘مسند حمیدی’’ میں فلایرفع کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ رفع یدین کا اثبات ہے۔۔۔۔. حسین الدارانی کے نسخے میں حدیث مذکور کی سند و متن پیش خدمت ہے……..الخ۔ (نورالعینین ص۲۱۸)
اسی طرح غیرمقلد زبیرعلی زئی صاحب ایک حدیث کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
مسند ابی یعلی کے محقق حسن سلیم اسد نے لکھا ‘‘اسنادہ ضعیف’’ اس کی سند ضعیف ہے۔ (الحدیث ص۳۳، ش۴۵)
الغرض جب حسین سلیم صاحب زبیر علی زئی کے مؤقف کے خلاف کچھ لکھ دیں تو وہ زبیر صاحب کے نزدیک تحقیق حدیث میں ضعیف و ناقابل اعتبار ہوجاتے ہیں۔ لیکن اگر اس کے مؤقف کی موافقت میں لکھ دیں تو پھر تحقیق حدیث میں اس کے نزدیک ثقہ و قابل اعتبار بن جاتے ہیں۔
(۴۹)۔۔۔۔ الشیخ المحدث محمد حسن سنبھلی رحمۃ اللہ علیہ م۱۳۰۵ھ بھی ترک رفع یدین کی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو صحیح مانتے ہیں۔ (تنسیق النظام فی مسند الامام ص۵۱)
(۵۰)۔۔۔۔ حافظ ابن عبدالھادی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۴ھ ترمذی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:
‘‘حدیث حسن’’ یہ حسن درجہ کی حدیث ہے۔ (تنقیح التحقیق ج۲ ص۱۴۰ رقم ۶۶۰)
(۵۱)۔۔۔۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۴ھنے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو بلاجرح و قدح نقل کیا ہے۔ (دیکھئے جامع المسانید والسنن ج۲۷ ص۲۷۷، برقم ۴۹۷) اور غیرمقلدین کے ‘‘امام العصر’’ ابراہیم سیالکوٹی نے حافظ موصوف کے بارے میں تصریح کی ہے کہ:
ان کی عام روش یہی ہے کہ وہ قابل جرح روایت پر جرح ظاہر کردیتے ہیں۔ (سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ص۱۸۲)
لہٰذا حافظ موصوف کا اس روایت کو بلاجرح نقل کرنا بقول ابراہیم سیالکوٹی غیرمقلد اس حدیث کے ان کے نزدیک صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
(۵۲)۔۔۔۔ امام ابن ھمام رحمۃ اللہ علیہ م ۸۶۱ھ ترمذی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ:
‘‘حدیث حسن’’ کہ یہ حدیث حسن ہے۔ (فتح القدیر ج۱ ص۳۱۰)
(۵۳۔۵۴) امام عثمان بن علی بن محجن البارعی فخرالدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م۷۴۳ھ اور حافظ ابن الخراط رحمۃ اللہ علیہ م۵۸۱ھنے بھی مذکورہ حدیث کو ترمذی کے حوالہ سے حسن قرار دیا ہے۔ (دیکھئے تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق ج۱ ص۱۲۰، الاحکام الشرعیہ الکبریٰ ج۲ ص۱۹۱)
درج ذیل ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے ترک رفع یدین کی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نقل کرکے اس سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے اور اس پر کوئی جرح نہیں کی۔ اور متعدد علماء غیرمقلدین نے صراحت کررکھی ہے کہ کسی محدث کا کسی روایت کو نقل کرکے استدلال کرنا اور اس پر جرح نہ کرنا اس محدث کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے مثلاً۔۔۔۔
غیر مقلد ارشاد الحق اثری صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
امام بیہقی نے صراحت کی ہے کہ اس سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے استدلال کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت حسن صحیح ہے۔ (توضیح الکلام ج۱ ص۲۰۶)
زبیر علی زئی غیرمقلد نے اپنی مرضی کی ایک کتاب کو صحیح و ثابت قرار دینے کے لئے لکھا ہے کہ ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اس سے استدلال کیا ہے۔ (ملخصاً تحقیقی مقالات ج۵ ص۲۲۰، ۲۲۱)
مشہور غیرمقلد محمد گوندلوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
محدثین کا کسی روایت کو نقل کرکے استدلال کرنا اور اس پر جرح نہ کرنا اس کی صحت کی دلیل ہے۔ (التحقیق الراسخ :ص۸۸)
محمد خبیب احمد غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے کہ:
سفیان ثوری کا کسی حدیث کے مطابق فتویٰ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ حدیث ان کے نزدیک صحیح ہے۔ (مقالات اثریہ ص۱۷۴)
لہٰذا درج ذیل ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم کا حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نقل کرکے اس سے ترک رفع یدین پر استدلال کرنا اور جرح نہ کرنا ان کے نزدیک علماء غیر مقلدین کے بقول اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے۔
(۵۵)۔۔۔۔ حافظ ابن اثیر جزری رحمۃ اللہ علیہ م۶۰۶ھ: (جامع الاصول ج۵ ص۳۰۱ رقم ۳۳۸۳)
(۵۶)۔۔۔۔ امام علاء الدین المعروف بالمتقی رحمۃ اللہ علیہ م ۹۷۵ھ:(کنز العمال ج۸ ص۹۳، رقم ۲۲۰۵۱)
(۵۷)۔۔۔۔ امام محمد بن احمد السرخسی رحمۃ اللہ علیہ ۴۸۳ھ: (المبسوط ج۱ ص۱۴)
(۵۸)۔۔۔۔ امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۸۷ھ: (بدائع الصنائع ج۱ ص۲۰۷)
(۵۹)۔۔۔۔ امام محمد بن محمود البابرتی رحمۃ اللہ علیہ م۷۸۶ھ: (العنایہ شرح الہدایہ ج۱ ص۳۱۰)
(۶۰)۔۔۔۔ حافظ ابن رشد المالکی رحمۃ اللہ علیہ م۵۹۵ھ: (بدایۃ المجتہد ج۱ ص۱۴۳)
(۶۱)۔۔۔۔ امام ابراہیم نخعی تابعی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۱ھ: (المعجم الکبیر برقم ۹)
(۶۲)۔۔۔۔ امام سحنون بن سعید المصری رحمۃ اللہ علیہ م۲۴۰ھ: (المدونۃ الکبریٰ :ج۱ ص۱۱۹)
(۶۳)۔۔۔۔ امام ابوالحسن القدوری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۲۸ھ: (التجرید ج۲ ص۵۱۸)
(۶۴)۔۔۔۔ حافظ عبدالقادر قرشی رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۵ھ: (الحاوی علی الطحاوی ج۱ ص۵۳۰)
(۶۵)۔۔۔۔ امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م۲۳۵ھ: (مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ص۲۶۷)
علمائے غیرمقلدین اور حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ :
(۶۶)۔۔۔۔ احمد محمد شاکر غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ وھذا الحدیث صححہ ابن حزم وغیرہ من الحفاظ وھو حدیث صحیح وما قالوہ فی تعلیلہ لیس بعلۃ ’’ (شرح سنن ترمذی ج۳ ص۳۵، رقم ۲۵۷، b۔ دارالحدیث القاھرہ)
کہ ترک رفع یدین کی اس حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر ائمہ محدثین نے صحیح کہا ہے۔ اور (فی الواقع) یہ حدیث صحیح ہے۔ اور اس کو معلول قرار دینے کے لئے جو کچھ حضرات نے کہا ہے۔ وہ حقیقتاً علت نہیں۔
احمد شاکر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وھو حدیث صحیح ’’ یہ حدیث صحیح ہے۔ (حاشیہ المحلی بالآثار:ج۴ ص۵۴)
(۶۷)۔۔۔۔ محمد خلیل ہراس غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وھو حدیث صحیح حسنہ الترمذی ’’ یہ حدیث صحیح ہے اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن کہا ہے۔ (حاشیہ محلی ابن حزم بحوالہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں ص۱۴)
(۶۸،۶۹)۔۔۔۔ شعیب ارناؤط اور زہیر الشاویش غیرمقلد صاحب لکھتے ہیں کہ:
یہ حدیث صحیح ہے اور جو بعض نے اس حدیث میں علتیں نکالی ہیں وہ کچھ نہیں (کیونکہ اس میں کوئی خرابی نہیں)۔ (حاشیہ شرح السنہ ج۳ ص۲۴)
زبیرعلی زئی تضاد نمبر ۱۸:
زبیر علی زئی غیر مقلد نے صراحتاً لکھا ہے کہ:
اخطاء اوھام اور سہو کی وجہ سے فریق مخالف کو کذاب وغیرہ کہنا غلط، زیادتی اور ظلم ہے کیونکہ اخطاء-04 اور اوھام سے کوئی امتی معصوم نہیں ہے۔ (الحدیث ص۳۵ ش نمبر۵۱)
نیز زبیر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
انسان سے کتابت یا کمپوزنگ کی غلطی اور سہو ہوجاتا ہے جسے جھوٹ قرار دینا غلط ہے۔ (تین سو جھوٹ ص۶)
یہاں زبیر علی زئی صاحب یہ تسلیم کررہے ہیں کہ خطاء اور وہم کی وجہ سے کسی شخص کو کذاب (جھوٹا) وغیرہ کہنا غلط زیادتی اور ظلم ہے، انسان سے سہو ہوجاتا ہے جسے جھوٹ کہنا غلط ہے، کیونکہ اخطاء اور وہم سے کوئی اْمتی معصوم نہیں ہے۔
لیکن اس کے برعکس اس نے دوسرے متعدد مضامین میں اہل علم کی طرف ایسی غلطیاں منسوب کرکے ان کو کذاب وغیرہ جیسے برے الفاظ سے خوب کوسا ہے اور ایسی غلطیوں کو صریح جھوٹ اور خیانت کا نام دیا ہے۔ مثلاً زیربحث حدیث کے متعلق عطاء اللہ حنیف بھوجیانہ غیرمقلد نے بغیر کسی جرح و نقد کے محدث ابوالحسن سندھی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ہے کہ:
‘‘ قولہ ثم لم یعد قد تکلم ناس فی ثبوت ھذا الحدیث والقوی انہ ثابت من روایۃ عبداللّٰہ بن مسعود ’’ ثم لم یعد جملہ کے ثبوت کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے اور قوی بات یہ ہے کہ یہ حدیث بلاشک و شبہ صحیح اور ثابت ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طریق سے۔ (دیکھئے التعلیقات السلفیہ ج۱ ص۱۲۳ حاشیہ ۴)
مگر اس عبارت کو نقل کرتے وقت حافظ حبیب اللہ ڈیروی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے عطاء اللہ حنیف غیرمقلد کی عبارت سمجھا (کیونکہ مذکورہ عبارت کے قائل کا صراحتاً غالباً عطاء اللہ حنیف نے نہیں لکھا تھا بلکہ ابوالحسن سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے حاشیہ سے مذکورہ عبارت کو نقل کرکے صرف س کا حرف لکھ دیا تھا) اور اس عبارت کو انہی کی طرف منسوب کردیا جو کہ حافظ حبیب اللہ ڈیروی رحمۃ اللہ علیہ کا سہو ہے اور زبیر علی زئی صاحب مذکورہ بالا عبارت میں تسلیم کرچکے ہیں کہ سہو کو جھوٹ کہنا غلط ظلم اور زیادتی ہے مگر اس کے باوجود زبیر صاحب نے حافظ حبیب اللہ ڈیروی رحمۃ اللہ علیہ کے مذکورہ سہو کو صریح جھوٹ اور خیانت کا نام دیا۔
چنانچہ اس نے لکھا ہے کہ:
ڈیروی صاحب نے سندھی کا قول بھوجیانی ۔۔۔۔ کے ذمے لگادیا ہے جو کہ صریح جھوٹ اور خیانت ہے۔ (نورالعینین: ص۳۵۸)
معلوم ہوا کہ زبیر صاحب کا قول خود زبیر صاحب پر ہی پوری طرح صادق آتا ہے۔ کہ:
قوم شعیب علیہ السلام کی طرح زبیر صاحب کے لینے اور دینے کے پیمانے علیحدہ علیحدہ ہیں۔
نیز خود زبیر علی زئی صاحب نے ماہنامہ الحدیث(ص۹۴ش نمبر۹۱)میں الانتقاء لابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے ایک قول کو امام وکیع بن جراح رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب کر کے اسے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف پیش کیا ہے،حالانکہ الانتقاء کے محولہ صفحہ پر وہ قول علاء بن عصیم کی طرف منسوب ہے نہ کہ امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ کی طرف،یعنی زبیر صاحب نے علاء بن عصیم سے منسوب قول کو امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ کا قول بنا کر پیش کیا ہے،توکیا زبیر صاحب اپنے اس سہو کو بھی صریح جھوٹ اور خیانت کا نام دیں گے؟
اپنی اداؤں پہ خود ہی غور کرو ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
(۷۱)۔۔۔۔ ناصر الدین البانی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ والحق انہ حدیث صحیح واسنادہ صحیح علی شرط مسلم ولم نجد لمن اعلہ حجۃ یصلح التعلق بھا ورد الحدیث من اجلھا ’’ اور حق بات یہ ہے کہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھی صحیح ہے اور اس کی سند بھی مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے اور جن لوگوں نے اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے ہمیں ان کی کوئی ایسی دلیل نہیں ملی جس سے استدلال صحیح ہو اور اس وجہ سے حدیث رد کی جاسکے۔ (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق ناصر الدین البانی: ج۱ ص۲۵۴)
(۷۲)۔۔۔۔ عبدالمحسن بن حمد العباد البدر غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
‘‘ واسناد ھذا الحدیث مستقیم ۔۔۔۔ فیکون الحدیث حسناً ’’
اس حدیث کی سند صحیح ہے پس یہ حدیث حسن درجہ کی ہے۔ (شرح سنن ابی داؤد للعباد: ص۵۱)
(۷۳)۔۔۔۔ابوعبدالرحمن محمد عبداللہ پنجابی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے رفع یدین چھوڑ دینے کی ر وایت صحیح ہے۔(ملخصا:عقیدہ محمدیہ ج۲ص ۶۱۱بحوالہ نورالصباح ج۱ص۴۹)
احادیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرق:
قارئین! زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے تمام راویوں کا ہم ماقبل میں ترجمہ پیش کرآئے ہیں جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ حدیث سنداً بلاشک و شبہ صحیح ہے جیسا کہ فریق مخالف کے مستند علماء اور ائمہ محدثین و فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کی تصحیح سے ظاہر ہے، اب احادیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعدد طرق بیان کیے جاتے ہیں۔
سند نمبر۱:
اخبرنا محمود بن غیلان المروزی قال حدثنا سفیان عن عاصم بن کلیب بن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ -85الخ ۔(سنن نسائی ج۱ ص۱۶۱)
سند نمبر۲:
اخبرنا سوید بن نصر قال انبانا عبداللہ بن المبارک عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ عن عبداللہ -85 الخ۔ (ایضاً ص۸۵۱)
سند نمبر۳:
حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ حدثنا وکیع عن سفیان۔۔۔۔۔الخ ۔(سنن ابی داؤد: ج۱ ص۱۱۶ مکتبہ امدادیہ)
سند نمبر۴:
حدثنا ھناد حدثنا وکیع عن سفیان-85 الخ۔ (سنن ترمذی ص۹۰)
سندنمبر۵:
حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم-85 الخ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۶۷)
سندنمبر۶:
حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن-85 الخ (مسند احمد بن حنبل ج۱ ص۳۸۸)
سندنمبر۷:
حدثنا ابن ابی داؤد قال حدثنا نعیم بن حماد قال حدثنا وکیع-85 الخ۔ (شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۲۲)
سندنمبر۸:
حدثنا محمد بن النعمان قال ثنا یحییٰ بن یحیی قال ثنا وکیع عن سفیان فذکر مثلہ باسنادہ۔ (ایضاً :ج۱ ص۱۶۲)
سندنمبر۹:
اخبرنا ابوطاہر الفقیہ انبا?نا ابوحامد بن بلال انبا محمد بن اسماعیل الاحمسی ثنا وکیع عن سفیان -85 الخ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی ج۲ ص۷۸)
سندنمبر۱۰:
حدثناہ حمام حدثنا عبداللہ بن محمد الباجی حدثنا محمد بن عبدالملک بن ایمن حدثنا محمد بن اسماعیل الصائغ حدثنا زہیر بن حرب حدثنا وکیع -85الخ (المحلی ابن حزم ص۳۶۱)
سندنمبر۱۱:
حدثنا زہیر حدثنا وکیع حدثنا سفیان عن عاصم بن کلیب۔۔۔۔ الخ۔ (مسند ابی یعلیٰ الموصلی ج۴ ص۱۶۷)
سندنمبر۱۲:
قال وکیع عن سفیان الثوری عن عاصم ۔۔۔۔ الخ۔ (المدونۃالکبریٰ ج۱ ص۱۶۰)
سندنمبر۱۳:
حدثنا عبدالوارث بن سفیان قال حدثنا قاسم بن اصبغ قال حدثنا عبداللہ بن احمد بن حنبل قال حدثنی ابی قال حدثنا وکیع۔۔۔۔الخ۔ (التمہید ج۹ ص۲۱۵)
سندنمبر۱۴:
رواہ محمد بن جابر عن حماد بن ابی سلیمان عن ابراہیم عن علقمۃ ۔۔۔۔الخ۔ (سنن الکبریٰ للبیہقی ج۲ ص۸۰)
سندنمبر۱۵:
حدثنا حمام ثنا عباس بن اصبغ ثنا محمد بن عبدالملک بن ایمن ثنا محمد بن اسماعیل الصائغ ثنا زہیر بن حرب ابوخیثمۃوکیع۔۔۔۔ الخ۔ (محلی ابن حزم ج۲ ص۲۶۵)
سندنمبر۱۶:
حدثنا اسحاق عن عبدالرزاق عن حصین عن ابراہیم ان ابن مسعود-85 الخ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ج۹ ص۲۶۱)
سندنمبر۱۷:
حدثنا محمد بن عبداللہ الحضیری ثنا احمد بن یونس ثنا ابوالاحوص عن حصین عن ابراہیم قال کان عبداللہ۔۔۔۔ الخ ۔(ایضاً)
سندنمبر۱۸:
حدثنا علی بن عبدالعزیز ثنا حجاج بن المنھال ثنا حماد بن سلم? عن حماد عن ابراہیم عن عبداللہ-85 الخ (ایضاً)
سندنمبر۱۹:
حدثنا اسحاق بن اسرائیل حدثنا محمد بن جابر عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃعن عبداللہ ۔۔۔۔۔ الخ۔ (مسند ابویعلیٰ الموصلی ج۵ ص۶۳)
سندنمبر۲۰:
حدثنا ابو عثمان سعید بن محمد بن احمد الحناط وعبدالوہاب بن عیسیٰ بن حیۃ قالانا اسحاق بن ابی اسرائیل نامحمد بن جابر عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃعن عبداللہ ۔۔۔۔الخ (سنن دارقطنی ج۱ ص۳۹۹، ۴۰۰)
سندنمبر۲۱:
عبدالرزاق عن الثوری عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود۔۔۔۔الخ۔ (مصنف عبدالرزاق ج۲ ص۷۱)
سندنمبر۲۲:
عبدالرزاق عن ابن عیینۃ عن حصین عن ابراہیم عن ابن مسعود مثلہ۔ (ایضاً)
سندنمبر۲۳:
عبدالرزاق عن الثوری عن حماد قال سا?لت ابراہیم-85 الخ (ایضاً)
سندنمبر۲۴:
قال محمد اخبرنا الثوری حدثنا حصین عن ابراہیم ان ابن مسعود۔۔۔۔۔۔ الخ (مؤطا امام محمد: ص۹۰)
سندنمبر۲۵:
حدثنا محمد بن صالح بن ھانی حدثنا ابراہیم بن محمد بن مخلد الضریر حدثنا اسحاق بن اسرائیل-85 الخ (اللآلی المصنوعۃ: ج۲ ص۱۷)
سندنمبر۲۶:
حدثنا عبداللہ بن صالح بن عبداللہ ابومحمد قال حدثنا اسحاق بن ابراہیم المروزی-85 الخ ۔(کتاب المعجم فی اسامی شیوخ ابی بکر اسماعیلی ج۲ ص۴۹۲)
سندنمبر۲۷:
اخبرنی الحسن بن علی التمیمی ومحمد بن عبدالملک القرشی قالا اخبرنا عمر بن عبداللہ بن عمرو بن عثمان بن حماد بن حسان بن عبدالرحمن ویعرف بابن ابی حسان الزیادی حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل حدثنا محمد بن جابر-85 الخ (تاریخ بغداد ج۱۱ ص۲۲۴)
سندنمبر۲۸:
حدثنا سلیمان بن ربیع الرجمی حدثنا کادح بن رحمۃ حدثنا سفیان عن عاصم-85 الخ۔ (ایضاً ج۱۱ ص۳۲۰)
سندنمبر۲۹:
حدثنا اسحاق بن ابراہیم ثنا لوین ثنا اسحاق بن اسرائیل ثنا محمد بن جابر ۔۔۔۔الخ (الکامل ج۷ ص۱۵۲)
سندنمبر۳۰:
ماحدثنا علی بن عبدالعزیز ومحمد بن اسماعیل و محمد بن جعفر بن محمد قالوا حدثنا اسحاق بن ابراہیم-85 الخ۔ (کتاب الصغائر الکبیر للعقیلی ج۴ ص۴۲)
سندنمبر۳۱:
اخبرنا ایوب بن ابی بکر الفقیہ بدمشق وسنقر المحمودی بحلب قالا انا مکرم التاجر انا علی بن احمد بحرستا سنۃ ست وخمسین وخمسمائۃ انا الحسن بن احمد السلمی انا المسدد بن علی انا احمد بن عبدالکریم الحلبی انا ابوالحسن محمد بن احمد الرافقی ثنا صالح بن علی النوفلی ثنا یحییٰ الحمانی ثنا وکیع عن سفیان-85 الخ ۔(تاریخ اسلام للذھبی : ص۸۳ رقم ۴۴)
سندنمبر۳۲:
فاخبرناہ ابوعلی الروذباری قال حدثنا ابوبکر بن داسۃ قال حدثنا ابوداؤد قال حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ قال حدثنا وکیع۔۔۔۔الخ۔ (معرفۃ السنن والآثار ج۲ ص۴۲۳ رقم ۳۲۸۰)
سندنمبر۳۳:
اخبرناہ ابوعبداللہ الحافظ قال حدثنا ابوجعفر محمد بن سعید المزکی قال حدثنا العباس بن حمزۃقال حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل-85 الخ ۔(معرفۃ السنن والاٰثار ج۲ ص۴۹۷)
سندنمبر۳۴:
اخبرنا سوید بن نصر قال اخبرنا عبداللہ عن سفیان عن عاصم-85 الخ ۔(السنن الکبریٰ للنسائی ص۳۳۱رقم ۱۱۰۰)
سندنمبر۳۵:
اخبرنا محمود بن غیلان المروزی قال حدثنا وکیع قال حدثنا سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود-85 الخ۔ (ایضاً ص۳۳۲ برقم ۶۴۹)
سندنمبر۳۶:
ابوحنیفۃ وحدثنا حماد عن ابراہیم عن علقمۃ والاسود عن ابن مسعود۔۔۔۔ الخ۔ (مسند امام اعظم ج۱ ص۳۵۲)
سندنمبر۳۷:
اخبرناہ محمد بن جعفر بن طرخان قال حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل قال حدثنا محمد بن یسار عن حماد عن ابراہیم-85۔۔۔ الخ۔ (المجروحین لابن حبان ج۲ ص۲۷۰ برقم ۹۵۶)
سندنمبر۳۸:
حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل حدثنا محمد بن جابر عن حماد عن ابراہیم عن علقمۃعن عبداللہ ۔۔۔۔۔الخ۔ (مسند ابی یعلی الموصلی رقم الحدیث ۵۰۳۹)
سندنمبر۳۹:
اخبرنا عبدالرحمن بن محمد القزاز انبا?نا احمد بن علی بن ثابت اخبرنی الحسن بن علی التمیمی قال حدثنا عمر بن احمد الواعظ حدثنا عمر بن عبداللہ بن عمرو قال حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل ۔۔۔-85 الخ۔ (التحقیق فی مسائل الخلاف ج۱ ص۳۳۳ برقم ۴۲۴)
سندنمبر۴۰:
اخبرنا ابوالقاسم بن عبدالواحد الکاتب انبا?نا ابوعلی التمیمی قال انبانا ابوبکر بن مالک قال حدثنا عبداللہ بن احمد قال حدثنی ابی حدثنا وکیع عن سفیان عن عاصم -85الخ (ایضاً ج۱ ص۳۳۲ برقم ۴۲۳)
سندنمبر۴۱:
وانبانا زاھر بن طاہر انبانا ابوبکر البیہقی انبانا الحاکم ابوعبداللہ النیسابوری حدثنا محمد بن صالح بن ھانی حدثنا ابراہیم بن محمد بن مخلد قالا حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل۔۔۔۔الخ (الموضوعات لابن الجوزی ج۲ ص۹۶)
سندنمبر۴۲:
اخبرنا ابوعبداللہ محمد بن غسان بن غافل بن نجاد الانصاری بدمشق و ابوالفضل مکرم بن محمد بن حمزۃ بن ابی الصقر قالا اخبرنا ابوالحسن علی بن احمد بن علی قال اخبرنا الخطیب ابوعبداللہ الحسن بن احمد بن ابی الحدید قال اخبرنا ابو المعمر المسدد بن علی بن عبداللہ الاملوکی قال اخبرنا ابوبکراحمد بن الکریم الانطاکی الحلبی قال اخبرنا ابوالحسن محمد بن احمد الرافقی قال اخبرنا ابوبکر بن ابی موسیٰ قال حدثنا اسحاق بن ابی اسرائیل-85 ۔۔الخ۔ (بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب ج۳ ص۱۳۷۸)
سندنمبر۴۳:
اخبرنا سفیان الثوری قال حدثنا حصین عن ابراہیم عن عبداللہ۔۔۔۔ الخ۔ (کتاب الحجۃ علی اہل المدینۃ ج۱ ص۹۷)
سندنمبر۴۴:
حدثنا وکیع عن مسعر عن ابی معشر عن ابراہیم عن عبداللہ۔۔۔۔-85الخ ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص۲۳۶)
سندنمبر۴۵:
حدثنا ابن ابی داؤد قال حدثنا احمد بن یونس قال ثنا ابوالاحوص عن حصین عن ابراہیم قال کان عبداللہ-85 الخ (شرح معانی الاٰثار ج۲ ص۱۳۳)
سندنمبر۴۶:
ثنا ابوبکرۃ ثنا مؤمل ثنا سفیان عن المغیرۃ قال قلت لابراہیم۔۔۔۔۔الخ ۔(شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۵۴)
سندنمبر۴۷:
حدثنا معاذ بن المثنی ثنا مسدد ثنا خالد ثنا حصین عن عمرو بن مرۃقال دخلت مسجد حضر موت-85 الخ۔ (المعجم الکبیر برقم ۹)
سند نمبر۴۸:
حدثنا محمد بن النضر الازدی ثنا معاویۃ بن عمرو ثنا زائدۃ عن حصین قال ذکر عمرو بن مرۃ۔۔۔۔ الخ۔ (ایضاً برقم ۸)
سندنمبر۴۹:
حدثنا احمد بن عبداللہ الوکیل ثنا الحسن بن عرفۃ ثنا ھیثم عن حصین وحدثنا ابن اسماعیل وعثمان بن محمد بن جعفر قالانا یوسف بن موسیٰ ثنا جریر عن حصین بن عبدالرحمن قال دخلنا علی ابراہیم-85 الخ ۔(سنن الدارقطنی ج۱ ص۲۹۱ برقم ۱۳)
سندنمبر۵۰:
حدثنا احمد بن داؤد قال ثنا مسدد قال ثنا خالد بن عبداللہ قال ثنا حصین عن عمرو بن مرۃ۔۔۔۔ الخ۔ (شرح معانی الاٰثار برقم ۱۲۵۱)
اختصار کے پیش نظر صرف انہی اسانید پر اکتفاء کیا جاتا ہے وگرنہ کوشش کرنے سے کئی اور اسانید بھی ڈھونڈ کر درج کی جاسکتی ہیں ان اسانید میں کچھ موقوف اور کچھ مرفوع روایات کی ہیں، مگر مفہوم سب کا تقریباً ایک ہی ہے۔ اگر بفرض محال یہ سب اسانید ضعیف بھی ہوتیں (حالانکہ ان میں انتہائی اعلیٰ درجہ کی صحیح سندیں بھی موجود ہیں) توتب بھی یہ مل کر فریق مخالف کے اْصولوں کی روشنی میں حسن لغیرہ بن جاتیں۔ اور فریق مخالف کے بقول حسن لغیرہ بذاتِ خود حجت ہوتی ہے۔
چنانچہ قاضی شوکانی غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے کہ:
اس سے معلوم ہوا کہ یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، جو جمہور کے ہاں قابل حجت ہے۔ (نیل الاوطار ج۴ ص۲۸۱ باب وجوب الحج)
محمد خبیب احمد غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
(شمس الحق عظیم آبادی غیرمقلد۔ن) نے وضو سے قبل بسم اللہ پڑھنے کے بارے میں مختلف علماء کے اقوال نقل کیے ہیں۔ جنہوں نے اس حدیث کو حسن لغیرہ قرار دیا ہے، مصنف نے ان کی رائے کا اثبات کیا ہے۔ غایۃ المقصود ص۱۰۷۔ (مقالات اثریہ: ص۱۱۱)
احمد محمد شاکر غیرمقلد کہتا ہے کہ:
جب راوی کے سوء حفظ وغیرہ کی وجہ سے حدیث ضعیف ہو تو وہ متعدد اسانید کی بناء پر درجہ حسن (لغیرہ) یا درجہ صحیح (لغیرہ) تک پہنچ جاتی ہے بشرطیکہ وہ اس قابل ہو۔ (تصحیح و شرح الفیۃ السیوطی رحمۃ اللہ علیہ فی علم الحدیث ص۲۹ بحوالہ مقالات اثریہ ص۱۱۳)
عبیداللہ رحمانی غیرمقلد نے مراتب الصحیح کے تحت چوتھی قسم ‘‘الحسن لغیرہ’’ کو قرار دیا ہے۔ (تحفۃ اہل الفکر فی مصطلح اہل الاثر: ص۲۲ بحوالہ مقالات اثریہ ص۱۱۳)
البانی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
اہل علم کے یہاں یہ بات مشہور ہے کہ جب کسی حدیث کی متعدد سندیں ہوں تو وہ ان کی بناء پر تقویت حاصل کرکے حجت بن جاتی ہے، اگرچہ ان میں سے ہر سند انفرادی طور پر ضعیف ہو، مگر یہ اْصول مطلق نہیں، بلکہ محققین کے ہاں اس کی کچھ شروط ہیں، اور وہ یہ کہ مختلف سندوں میں راویوں کا ضعف سوء حفظ کی وجہ سے پیدا ہوا ہو، وہ ضعف ان کی صداقت اور دین میں تہمت کی وجہ سے نہ ہو۔ (تمام المنۃ ص۳۱ بحوالہ مقالات اثریہ ص۱۱۴)
ثناء اللہ زاھدی صادق آبادی غیرمقلد کہتا ہے کہ:
حسن لغیرہ وہ حدیث ہے جس کا راوی حفظ یا ضبط کی وجہ سے ضعیف قرار دیا گیا ہو، فسق یا جھوٹ کی وجہ سے نہ ہو، یا اس کی سند منقطع ہو مگر اس کا ضعف متابع یا شاہد سے دور ہوجاتا ہے۔ (الفصول فی مصطلح حدیث الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ص۲۷ بحوالہ مقالات اثریہ ص۱۱۶)
ارشاد الحق اثری غیرمقلد بھی حسن لغیرہ کی حجیت کا قائل ہے دیکھئے مقالات اثری ج۱ ص۲۶۱ وغیرہ۔
ابوسعید شرف الدین دہلوی غیرمقلد ایک جگہ لکھتا ہے کہ:
اگرچہ ان دونوں (روایات) میں کچھ کلام ہے مگر دونوں روایتوں اور دو سندوں کے ملنے سے ایک کو دوسری سے تقویت حاصل ہوگئی ہے گویا ہر واحد ‘‘حسن لغیرہ’’ کے درجہ میں ہے لہٰذا قابل عمل ہے۔ (فتاویٰ علمائے حدیث ج۴ ص۱۷۹)
اعتراض نمبر۹:
دوام رفع یدین کے قائلین بسا اوقات ترک رفع یدین کی ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو رد کرنے کے لئے بغیر کسی معقولی دلیل کے یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ ترک رفع یدین کی مذکورہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی غلطی و نسیان کا نتیجہ ہے۔
چنانچہ محمد جوناگڑھی غیرمقلد لکھتا ہے کہ:
سنو! حضرت عبداللہ ( رضی اللہ عنہ۔ ناقل) نے یہاں بھول اور نسیان سے کام لیا ہے۔ (دلائل محمدی ص۳۸)
الجواب:
اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ نسیان تو انسان کی فطرت اور خمیر میں ودیعت کیا گیا ہے، جو اولاد آدم کو باپ سے بطور ورثہ ملا ہے، نسیان سے تو صرف اللہ ہی کی ذات محفوظ ہے، باقی انسان سے تو بھول اور نسیان صادر ہوسکتا ہے۔مگر بھول اور نسیان کا نتیجہ صرف انسان کی اسی بات کو ہی کہا جائے گا جس بات میں بھول اور نسیان کا واقع ہونا کسی معقولی دلیل سے ثابت ہو، نہ یہ کہ ہر وہ بات جو اپنے مسلک کے خلاف ہو، اسے مسلکی حمایت میں بغیر کسی دلیل کے نسیان کی بھینٹ چڑھادیا جائے۔ (جیسا کہ غیرمقلدین کیا کرتے ہیں) وگرنہ مختلف مسالک میں سے جس مسلک کے خلاف بھی کوئی روایت جاتی ہوگی وہ اسے نسیان و غلطی کا نتیجہ کہہ کر رد کرتا چلا جائے گا اور علم حدیث یوں ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جائے گا۔
ثانیاً۔۔۔۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو ترک رفع یدین اتنا پختہ یاد ہے کہ کبھی تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بذاتِ خود رفع یدین کے بغیر نماز پڑھ کربغیر رفع یدین کے اپنی اس پڑھی ہوئی نماز کو نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کہتے ہیں۔ (ملخصاً سنن ترمذی ج۱ ص۵۹) اور کبھی صراحتاً کہتے ہیں کہ بلاشک و شبہ پختہ بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعد الافتتاح رفع یدین نہیں کرتے تھے (یعنی چھوڑ گئے تھے) (ملخصاً شرح معانی الاٰثار ج۱ ص۱۶۲) اور کبھی اپنے مؤقف کو مزید مدلل کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی انہوں نے بعد الافتتاح رفع یدین نہیں کیا۔ (ملخصاً مسند ابی یعلی الموصلی ج۴ ص۱۶۷) مگر یا ر لوگ اسے نسیان قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں؟
ثالثاً۔۔۔۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ترک رفع یدین کی حدیث بیان کرنے میں اکیلے نہیں ہیں بلکہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی ترک رفع یدین کی احادیث بیان فرمائی ہیں۔ لہٰذا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف نسیان کی نسبت غلط باطل و مردود ہے۔
اعتراض نمبر۱۰:
غیرمقلدین جب تمام ترہتھکنڈے استعمال کرنے کے باوجود اس حدیث کو ضعیف ثابت کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر آخری حربہ کے طور پر عوام الناس کے جذبات کو بھڑکانے کی خاطر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی پر حملہ کرتے ہوئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ:جی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذتین کو قرآن کی سورتیں ہی تسلیم نہیں کرتے تھے۔
الجواب:
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ معوذتین کو قرآن کریم کی سورتیں نہیں سمجھتے تھے یہ خالص جھوٹ اور بہتان ہے۔چنانچہ امام تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ م۷۷۱ھلکھتے ہیں کہ:
‘‘ وان الدلیل القاطع قائم علی کذبہ علی عبداللہ وبرائتہ عبداللہ منھما ’’بلاشک و شبہ دلیل قاطع اس پر قائم ہے کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا گیا ہے، اور وہ اس سے بالکل بری ہیں۔ (الطبقات الشافعیہ الکبریٰ ج۲ ص۲۰۷وفی طبعۃ ج۳ ص۳۵۸)
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م۶۷۶ھ فرماتے ہیں کہ:
‘‘ومانقل عن ابن مسعود فی الفاتحۃ والمعوذتین باطل لیس بصحیح ’’ معوذتین اور فاتحہ کے قرآن میں نہ ہونے کی جتنی روایتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ہیں وہ سب باطل ہیں اور غیر صحیح ہیں۔ (المجموع شرح المھذب ج۳ ص۳۹۶)
امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۶ھ لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وکل ماروی عن ابن مسعود من ان المعوذتین وام القرآن لم تکن فی مصحفہ فکذب موضوع لایصح، وانما صحت عنہ قراء ۃ عاصم بن زربن حبیش عن ابن مسعود وفیھا ام القرآن والمعوذتین ’’ جتنی روایتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس مضمون کی نقل کی گئی ہیں کہ معوذتین اور ام القرآن ان کے مصحف میں نہ تھیں وہ خالص جھوٹی اور جعلی ہیں جو کسی طرح صحیح نہیں ہیں، (کیونکہ) عاصم بن زرعن ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت میں معوذتین اور فاتحہ کا ذکر بسند صحیح ثابت ہے۔ (محلی ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ ج۱ ص۱۳، وفی طبعۃ ج۱ ص۳۲ مسألۃ القرآن کلام اللہ ووحیہ انزلہ علی قلب نبیہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم)
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ البانی غیرمقلد کی نظر میں:
حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلقہ معروضات ختم کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث کے متعلق ناصر الدین البانی غیرمقلد (جن کو زبیر علی زئی صاحب مشہورمحقق امام شیخ اور محدث العصر، امام المحدثین وغیرہ قرار دیتے ہیں، ماہنامہ الحدیث ص۳۵ ش نمبر۲، حاشیہ عبادات میں بدعات ص۱۲۸) کی تحقیق بھی سپرد قلم کردی جائے، شاید کوئی غیرمقلد البانی صاحب کی ہی تحقیق پڑھ کر اپنے مؤقف پر نظر ثانی کرلے۔
چنانچہ صحیح ابی داؤد لالبانی میں ہے کہ:
‘‘عن علقمۃ قال قال عبداللہ بن مسعود الا اصلی بکم صلاۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم؟ قال فصلی فلم یرفع یدیہ الا مرۃ’’ (قلت اسنادہ صحیح علی شرط مسلم وقال الترمذی حدیث حسن وقال ابن حزم انہ صحیح وقواہ ابن دقیق العید والزیلعی والترکمانی)اسنادہ: حدثنا عثمان بن ابی شیبۃنا وکیع عن سفیان عن عاصم یعنی ابن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃقال ابوداؤد ‘‘ھذا حدیث مختصر من حدیث طویل، ولیس ھو بصحیح علی ھذا اللفظ’’
قلت: وھذا اسناد صحیح علی شرط مسلم، وقد اعلہ المصنف رحمۃ اللّٰہ بما رایت، ووافقہ علی ذالک غیرماواحد کما یاتی! ولم تجد فی کلماتھم ماینھض علی تضعیف الحدیث فالحق انہ حدیث صحیح کما قال ابن حزم فی المحلی (۸۸/۴)، وحسنہ الترمذی کما یأتی۔ولعل المصنف یشیر بالحدیث الطویل: الی حدیث عبداللہ بن ادریس عن عاصم بن کلیب، الذی تقدم فی الباب السابق، یعنی انہ لیس فیہ: انہ لم یرفع الا مرۃ فقولہ الا مرۃ غیر صحیح عندہ وقال البخاری فی ‘‘رفع الیدین’’ (ص۱۱۔۱۲)
ویروی عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ: قال قال ابن مسعود رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔.فذکرہ وقال احمد بن حنبل عن یحیی بن آدم قال:نظرت فی کتاب عبداللّٰہ بن ادریس عن عاصم بن کلیب لیس فیہ: ثم لم یعد، فھذا اصح لان الکتاب احفظ عنداھل العلم، لان الرجل یحدث بشئی ثم یرجع الی الکتاب، فیکون کما فی الکتاب۔
قلت: ثم ساق البخاری باسنادہ حدیث ابن ادریس المشار الیہ، ثم قال: ’’ھذا المحفوظ عنداھل النظر من حدیث عبداللہ بن مسعود’’ وقال ابن ابی حاتم فی ‘‘العلل’’ (1/۶۹) سألت ابی عن حدیث رواہ الثوری عن عاصم بن کلیب (قلت: فذکرہ بلفظ: فرفع یدیہ ثم لم یعد) ثم قال اَ؟ قال ابی: ھذا خطاء، یقال وھم فیہ الثوری وروی ھٰذا الحدیث عن عاصم جماعۃ، فقالوا کلھم: ان النبی ﷺافتتح، فرفع یدیہ، ثم رکع فطبق وجعلھا بین رکبتیہ، ولم یقل احد مارواہ الثوری۔ قلت: فقد افصح ابوحاتم عن علۃ الحدیث عندہ، وھو مایشیر الیہ کلام البخاری وھو تفرد سفیان الثوری بہ!
والجواب: ان سفیان ثقۃ حافظ فقیہ عابد امام حجۃ، کما فی ‘‘التقریب’’ فتفردہ حجۃ وتوھیمہ لمجرد انہ روی مالم یروغیرہ جرء ۃ فی غیر محلھا! لاسیما وان الظاہر ان حدیثہ ھذا حدیث مستقل عن حدیث عبداللہ بن ادریس۔وان شارکہ فی اسنادہ:وقد اعلہ بعض المتاخرین بتفرد وکیع بہ! وھذا خطأ بین، فان وکیعاً مع انہ ثقۃ فقد تابعہ عبداللّٰہ بن مبارک ومعاویۃ بن ھشام وموسی بن مسعود النھدی وغیرھم کما یأتی وقد اعل الحدیث بعلتین اخریین، لانسود الصفحۃ بحکایتھما وردھما، یظھور بطلانھما فمن اراد الوقوف علی ذلک، فلیراجع ‘‘نصب الرایۃ’’ (۳۹۴/۱۔۳۹۶) و ‘‘الجوہر النقی’’ (۷۸/۲۔۷۷) وقد ذکرا فیھما کلام ابن دقیق العید فی ‘‘الامام’’وفیہ یذھب الی تقویۃالحدیث وتبعاہ فی ذالک۔
والحدیث اخرجہ احمد (رقم ۳۶۸۱ و ۴۲۱۱) حدثنا وکیع۔۔۔ بہ واخرجہ الترمذی (۴۰/۲) وقال ‘‘حدیث حسن’’ والطحاوی (۱۳۲/۱) والبیہقی (۷۸/۲) من طریق اخری عن وکیع ۔۔۔۔۔ بہ واخرجہ النسائی (۱۵۸/۱) من طریق عبداللہ بن المبارک عن سفیان۔۔۔۔۔بہ وفی روایۃ -85 باسنادہ بھذا قال: فرفع یدیہ فی اوّل مرۃ (وقال بعضھم مرۃ واحد)(قلت:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم وقد صححہ من ذکرنا فی الروایۃ الاولیٰ) اسنادہ حدثنا الحسن بن علی نامعاویۃ وخالد بن عمرو و ابوحذیفۃ قالوا: ناسفیان-85 باسنادہ قلت: وھذا اسناد صحیح علی شرط مسلم وتقدم الکلام علیہ فی الروایۃ المتقدمۃ ۔۔۔۔.الخ۔
ترجمہ:علقمہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ (سیدنا) عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والی نماز نہ پڑھاؤں! (سکھاؤں) پس (سیدنا) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور شروع نماز کے علاوہ کہیں رفع یدین نہ کیا۔
میں (ناصر الدین البانی) کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے، اور ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ بلاشک و شبہ یہ حدیث صحیح ہے۔ اور اس حدیث کو امام ابن دقیق العید (امام حافظ حجہ محدث۔ ن) زیلعی رحمۃ اللہ علیہ اور (امام حجہ ثقہ ناقد معتدل۔ ن) علامہ ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ نے قوی (پختہ) قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی سند یہ ہے:
حدثنا عثمان بن ابی شیبۃ ناوکیع عن سفیان عن عاصم یعنی ابن کلیب عن عبدالرحمن بن الاسود عن علقمۃ
امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: یہ حدیث طویل حدیث سے مختصر ہے اور اس کا یہ لفظ صحیح نہیں۔
میں (البانی) کہتا ہوں (امام موصوف کی یہ بات صحیح نہیں کیونکہ) یہ حدیث صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ میرے خیال کے مطابق امام ابوداو?د اور جس کسی نے اس حدیث میں جو علت بتائی ہے وہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ جن کی بناء پر یہ حدیث ضعیف ہوجائے۔ حق و سچ یہی ہے کہ بلاشک و شبہ یہ حدیث صحیح ہے۔ جس طرح امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے المحلی ج۴ ص۸۸ پر کہا ہے۔ اور امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے حسن قرار دیا۔ جیسا کہ آگے آئے گا۔
اور شاید کہ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘حدیث طویل’’ کے الفاظ سے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو عبداللہ بن ادریس از عاصم بن کلیب کے طریق سے ہے جو کہ پہلے باب میں گزر چکی ہے کہ اس میں مخصوص الفاظ نہیں ہیں۔ تو راوی کا خاص لفظ کہنا ان کے نزدیک صحیح نہ رہا۔ اور امام بخاری نے کہا ‘‘اور روایت بیان کی جاتے ہیں از سفیان از عاصم بن کلیب از عبدالرحمن بن الاسود از علقمہ کہ فرمایا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے، پھر اس پوری حدیث کو ذکر کیا۔ اور امام احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے نقل کیا ہے کہ میں نے ابن ادریس از عاصم بن کلیب کی کتاب کو دیکھا ہے اس میں ‘‘ثم لم یعد’’ کے الفاظ نہیں ہیں۔ تو یہ زیادہ صحیح ہے، کیونکہ اہل علم کے نزدیک کتاب زیادہ حفاظت والی ہوتی ہے۔ کیونکہ آدمی کوئی چیز بیان کرتا ہے، پھر کتاب کی طرف رجوع کرتا ہے تو وہ کتاب کے مطابق ہوتی ہے۔ (جزء ص۱۱۔۱۲)
میں (البانی) کہتاہوں، پھر بخاری نے اپنی سند سے ابن ادریس کی وہ حدیث درج کی، جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، پھر کہا:‘‘اہل نظر کے ہاں یہ حدیث محفوظ ہے’’۔اور ابن ابی حاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘العلل ج۱ ص۹۶’’ میں کہا: میں نے اپنے باپ (ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ) سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا جسے امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ابن کلیب سے نقل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ انہوں نے ‘‘ثم لم یعد’’ کے الفاظ سے بیان کی ہے، تو میرے باپ نے کہا ‘‘ثم لم یعد’’ کے الفاظ خطاء ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ثوری کو اس میں وہم ہوا ہے، یہ حدیث عاصم سے ایک جماعت نے روایت کی تو انہوں نے کہا: بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع نماز کے وقت ہی صرف رفع یدین کیا پھر رکوع کیا، تو تطبیق (اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل) کرکے دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا۔ ان میں کسی ایک نے بھی وہ لفظ نقل نہیں کیے جو امام ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیے ہیں۔ میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابوحاتم رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے نزدیک روایت کی علت کو وضاحت سے بیان کردیا ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کی طرف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا کلام اشارہ کرتا ہے، اور وہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث میں تفرد (منفرد ہونا) ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ بلاشک و شبہ سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ ثقہ، حافظ، عابد، امام، حجت تھے، جیسا کہ ‘‘التقریب’’ میں ہے۔ تو ان کا تفرد حجت ہے، اور ان کا وہم بتلانا، محض اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے وہ الفاظ روایت کیے جو دوسرے نے روایت نہیں کیے، یہ بے جاجر ء ت ہے۔ بالخصوص جبکہ بلاشک و شبہ ظاہر ہے کہ امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ کی یہ حدیث عبداللہ بن ادریس کے مقابلے میں ایک مستقل (الگ) حدیث ہے، اگرچہ وہ اس کی سند میں شریک ہوگئے ہیں۔
بعد میں آنے والے بعض حضرات نے اس میں وکیع سے تفرد کی علت بھی بیان کی ہے جو ایک واضح ترین غلطی ہے۔ کیونکہ بلاشک و شبہ امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ ثقہ ہیں مگر اس کے باوجود عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ معاویہ بن ہشام رحمۃ اللہ علیہ، موسیٰ بن مسعودالنھدی رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے راویوں نے ان کی متابعت کررکھی ہے جیسا کہ آئے گا۔
اور اس حدیث کی دو اور بھی علتیں بیان کی گئی ہیں۔ جنہیں بیان کرکے اور ان کی تردید لکھ کر ہم صفحات سیاہ نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ ان دونوں کا باطل ہونا ظاہر ہے، جو اس کو ملاحظہ کرنا چاہے وہ ‘‘نصب الرایہ للزیلعی: ج۱ ص۳۹۴۔۳۹۶’’ اور ‘‘الجوہر النقی لابن ترکمانی : ج۲ ص۷۸۔۷۷’’ کی طرف رجوع کرے۔ ان دونوں (محدثین) نے اپنی ان کتب میں (حافظ) ابن دقیق العید کا کلام ذکر کیا ہے جو ‘‘الامام’’ میں بھی موجود ہے۔ اور اس میں وہ اس حدیث کی تقویت کی طرف گئے ہیں۔ اور ان دونوں اماموں (حافظ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ اور حافظ ابن ترکمانی رحمۃ اللہ علیہ) نے اس میں ان کی تقلید کی ہے۔
اور اس حدیث کو امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے (برقم ۳۲۸۱۔۴۲۱۱) درج کیا ہے۔ کہ ہمیں وکیع نے اپنی سند سے انہیں الفاظ سے حدیث بیان کی ہے۔اسے امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ص۴۰) نے روایت کیا اور حسن کہا۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘شرح معانی الاٰثار’’ (ج۱ ص۱۳۲) پر روایت کیا ہے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘سنن کبریٰ’’ (ج۲ ص۷۸) پر نقل کیا ہے۔امام ابن حزم رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘المحلی بالآثار’’ (ج۴ ص۸۷) پر امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ کی سند انہی الفاظ کے ساتھ ایک اور طریق سے روایت کیا ہے۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘سنن نسائی’’ (ج۱ ص۱۵۸) پر عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ از سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ انہی الفاظ سے روایت کیا ہے۔
اور ایک روایت میں اسی سند سے یہ الفاظ ہیں: راوی نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے صرف پہلی بار رفع یدین کیا۔ (اور بعض نے کہا کہ ایک بار رفع یدین کیا)۔
میں (البانی) کہتا ہوں اس کی سند امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کی شرط پر صحیح ہے اور اسے بھی ان لوگوں نے صحیح قرار دیا ہے۔ جن کا ذکر ہم نے پہلی روایت میں کردیا ہے۔اس کی سند یہ ہے:
‘‘ حدثنا الحسن بن علی نامعاویۃ وخالد بن عمرو و ابوحذیفۃ قالوا: ناسفیان۔۔۔۔ باسنادہ ’’
میں (البانی) کہتا ہوں یہ سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے پہلی روایت میں اس پر بحث گزرچکی ہے۔۔ الخ (اقتباس از صحیح سنن ابی داؤد ج۳ ص۳۳۸ تا ۳۴۰ برقم ۷۳۳۔ ۳۷۴ مؤلف محمد ناصر الدین البانی غیرمقلد)
الحاصل:
خصوصاً رئیس ندوی و زبیر علی زئی اور عموماً دیگر غیرمقلدین نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی احادیث پر جو ازراہ تعصب اعتراضات کئے ہیں وہ سب خلاف حقیقت ہیں، اور ان کا باطل ہونا ہم نے بحمداللہ خود ان کے اور ان کے ہم مسلک علماء کے مسلمات کی روشنی میں ثابت کردیا ہے۔ لہٰذا یہ احادیث بلاشک و شبہ صحیح اور قابل عمل ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)
وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ وعلی من اتبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔
نیاز احمد غفرلہ
ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ
---------------------------------------------------------------------------
کتاب "تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین" از: مولانا نیاز احمد اوکاڑوی صاحب
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
سلسلہ ترک رفع الیدین
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں