نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

عظیم المرتبت مجتہد، فقیہ، اور محدث امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عظمت اور اجتہادی قوت پرقاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی گواہی


عظیم المرتبت مجتہد، فقیہ، اور محدث  امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عظمت اور اجتہادی قوت  پرقاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی گواہی


حدثني أبي قال : حدثني أبي قال : حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال : حدثني أحمد بن القاسم قال : حدثني ابن أبي رزمة قال : أخبرني خالد بن صبيح قال : سمعت أبا يوسف يقول : كنا نختلف في المسألة فنأتي أبا حنيفة فنسأله ، فكأنما يخرجها من كمه فيدفعها إلينا .

خالد بن صبیح نے کہا: میں نے امام ابو یوسف کو یہ کہتے ہوئے سنا: ہم کسی مسئلے میں باہم اختلاف کرتے، پھر ہم ابو حنیفہ کے پاس آتے اور ان سے پوچھتے، تو وہ اس مسئلہ کا جواب گویا اپنی آستین سے نکال کر ہمیں تھما دیتے تھے۔ (فضائل ابی حنیفہ لابن ابی العوام ، ص 97 ، اسنادہ حسن )

یہ روایت امامِ اعظم ابو حنیفہؒ کی فقہی عبقریت اور ذہنی رسوخ کی نہایت بلیغ تصویر کشی کرتی ہے۔ امام ابو یوسفؒ جیسے جلیل القدر شاگرد جو خود فقہ و قضاء کے امام بنے ، ان کا یہ کہنا کہ مسائل کا جواب یوں دیا جاتا تھا گویا پہلے سے تیار و مرتب ہو، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے ہاں فقہ محض وقتی رائے یا قیاسی اٹکل نہیں تھی، بلکہ ایک مربوط اور اصولی علمی نظام تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں علم حافظے میں نہیں، بلکہ فکر میں رچا بسا ہوتا ہے۔ 

 «فكأنما يخرجها من كمه» محض ادبی تشبیہ نہیں، بلکہ امام ابو حنیفہؒ کے استحضارِ دلائل کی گہری علامت ہے۔ قرآن، سنت، آثارِ صحابہ اور قیاس ، یہ سب ان کے ذہن میں بکھرے ہوئے نہیں، بلکہ ایک مضبوط سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے۔ اسی لیے سوال آتے ہی جواب میں تردد نہ ہوتا، دلیل کا تسلسل نہ ٹوٹتا، اور مسئلہ اپنی پوری فقہی ہیئت کے ساتھ سامنے آ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد اختلاف کے باوجود انہی کی طرف رجوع کرتے تھے، کیونکہ وہاں جواب نہیں، حل ملتا تھا۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے بھی ایک خاموش مگر سخت جواب ہے جو امام ابو حنیفہؒ پر قلتِ حدیث یا رائے پرستی کا طعن کرتے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہوتا تو امام ابو یوسفؒ جیسے محدث و فقیہ ان کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہ کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ فقہ کے اس قافلے کے سالار ہیں جس میں عقل و نقل ساتھ چلتے ہیں۔ ان پر اعتراض دراصل فقہ کے اس پورے علمی ورثے سے ناواقفیت کا اعلان ہے اور علم ایسے اعلانات سے مجروح نہیں ہوتا، بلکہ مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


امام ابوحنیفہ ثقہ ہیں۔ سلسلہ تعریف و توثیق ابو حنیفہ رحمہ اللہ


سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...