نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

فروری, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 : احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما تحقیق کے آئینے میں

  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم    کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 7 :  احادیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ،سیدنا عبداللہ   بن عباس رضی اللہ عنہما،سیدنا عباد بن زبیر رحمۃ اللہ علیہما   تحقیق کے آئینے میں (۱) حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ التمہید لابن عبدالبر قال الامام ابوعمر یوسف بن عبداللہ بن محمد ابن عبدالبرالنمری القرطبی: وحجتھم ایضاً، مارواہ نعیم المبحمر وابوجعفر القاری عن ابی ہریرۃ: انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلاۃ ویکبر کلما خفض ورفع ویقول: انا اشبھکم صلاۃ برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (التمہید لمافی المؤطا من المعانی والا سانید ج۵،ص۵۸) ترجمہ:امام ابو عمر بن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ اسی طرح ترک رفع یدین کے قائلین کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جسے نعیم المبحمر اور ابوجعفر القارئ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ہی رفع یدین کرتے (اور بقیہ) جھکنے واٹھنے کے وقت صرف تکبیر ہی کہتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں تم میں سب سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ...

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 6 : احادیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تحقیق کے آئینے میں :

  بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 6 :  احادیث عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما   تحقیق کے آئینے میں :   حدیث نمبر۱: بحوالہ مسند ابی عوانہ ‘‘ حدثناعبداللہ بن ایوب المخرمی وسعدان بن نصروشعیب بن عمروفی آخرین قالوا: ثنا سفیان بن عیینۃ عن الزھری عن سالم عن ابیہ قال: رایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا افتتح الصلاۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم: حذومنکبیہ واذارادان یرکع و بعدمایرفع راسہ من الرکوع لایرفعھما۔ وقال بعضھم ولایرفع بین السجدتین والمعنی واحد ’’ (مسند ابی عوانہ ج۲، ص۹۰برقم ۱۵۷۲ ) ترجمہ: سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی تو دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں کے مدمقابل تک اٹھایا (یعنی رفع الیدین کیا) ، اور جب رکوع کا ارادہ کیا اور جب رکوع سے سراٹھایا تو رفع الیدین نہ کی۔ امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ عبداللہ، سعدان ، شعیب وغیرہ میں سے بعض نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان (یعنی جلسہ میں ) بھی رفع الیدین نہیں کی...