نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

محدث یعقوب فسوی کے ثقہ ثبت شیوخ سے امام ابو حنیفہؒ کی واضح تعریف و توصیف۔


 محدث یعقوب فسوی کے ثقہ ثبت شیوخ سے امام ابو حنیفہؒ کی واضح تعریف و توصیف۔


یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ یعقوب فسوی کے اپنے شیوخ میں سے کئی جلیل القدر محدثین امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تعریف و توثیق بیان کرتے ہیں، جن میں نمایاں نام درج ذیل ہیں:

  • امام ابو عاصم النبیل

  • امام ابو نعیم فضل بن دکین

  • مکی بن ابراہیم

  • عبدالرزاق صنعانیؒ


حسن بن علی حلوانی بیان کرتے ہیں:  میں نے ابو عاصم النبیل سے پوچھا: "آپ کے نزدیک ابو حنیفہ فقیہ تھے یا سفیان (ثوری)؟" تو ابو عاصم نے جواب دیا: "میرے نزدیک ابو حنیفہ، سفیان سے زیادہ فقیہ تھے۔" مزید تفصیل کیلئے قارئین دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود


امام عبدالرزاق صنعانیؒ، امام ابو حنیفہ کے حلم، فہم اور علمی مقام کے معترف تھے (الإنتقاء فی فضائل الثلاثۃ الأئمۃ الفقہاء، ابن عبد البر، ص135).مزید تفصیل کے لیے قارئین  ملاحظہ کریں۔



امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ (م219ھ) بھی صرف ثقہ سے روایت کرتے تھے (دراسات حدیثیہ متعلقہ بمن لا یروی الا عن ثقہ، ص301-302)۔ اور انہوں نے بھی امام ابو حنیفہؒ سے روایت کی ہے (سیر، ج6، ص393، تہذیب الکمال، ج29، ص471)۔ لہٰذا ان کے نزدیک بھی امام ابو حنیفہ ثقہ ہیں۔مزید تفصیل کے لیے قارئین  ملاحظہ کریں۔


 امام مکی بن ابراہیمؒ، جو محدث یعقوب فسوی  کے اساتذہ میں سے ہیں، نے امام ابو حنیفہ کو "اپنے زمانے کا سب سے بڑا عالم" کہا (تاریخ بغداد، ج13، ص344، اسنادہ صحیح)۔ مزید  تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو۔

تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 37 : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ، جلیل القدر محدث مکی بن ابراہیمؒ کی نظر میں – "اپنے زمانے کے سب سے بڑے عالم"


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین : سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ

 *مجموعہ احادیث ترک رفع الیدین*  صرف نماز کے شروع میں رفع الیدین کرنے کی احادیث کا مجموعہ مرفوع موقوف اور آثار کتب احادیث سے *✍️۔۔ ابو محمد آصف بن یوسف ۔۔🔸*  *(النعمان سوشل میڈیا سروسز)* *🌹سیدنا جابر بن سمرۃ رضہ 🌹* سے مروی 61 احادیث 29 حدیث کی کتابوں سے ماخوذ *♦️ حدیث نمبر... 1️⃣♦️* 🔹۔۔۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ تَمِيمٍ الطَّائِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ رَافِعُوا أَيْدِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ زُهَيْرٌ:‏‏‏‏ أُرَاهُ قَالَ:‏‏‏‏ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، ‏‏‏‏‏‏أُسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ۔۔۔  🔹۔۔۔ سیدناجابربن سمرہ رضہ نےفرمایا رسول اقدسﷺ ھم پرداخل ھوئےاور لوگ(صحابہ) رضہ نماز کے اندر رفع الیدین کررہے تھے پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وجہ ھے کہ میں تمہیں دی...