محمد بن سعد صاحب الطبقات کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ
قال محمد بن سعد صاحب الطبقات رحمه الله (ج٧ ص٣٢٢):
أبو حنيفة واسمه النعمان بن ثابت مولى بني تيم الله بن ثعلبة وهو ضعيف الحديث وكان صاحب رأي وقدم بغداد فمات بها في رجب أو شعبان سنة خمسين ومائة وهو ابن سبعين سنة ودفن في مقابر الخيزران.
الجواب : محمد بن سعد صاحب الطبقات کی یہ جرح غیر مفسر ہے ، کسی کو ضعیف کہہ دینے سے کوئی راوی ضعیف نہیں ہو جاتا ، غیر مقلد اہلحدیثوں کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے :
امام ابو حنیفہؒ کی حدیث میں ثقاہت
امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ، امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں