نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

دسمبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہؒ پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ

  امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف منسوب امام ابو حنیفہ   رحمہ اللہ  پر اہلِ کتاب کے اسلام سے متعلق اعتراض کا تحقیقی و اصولی جائزہ ٨٣٥ - أَخْبَرَنَا العباس بن أحمد المستلمي النجار بطرطوس، أنهم سألوا أبا عبد الله عن رجل نصراني، أو يهودي قَالَ: أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، ﷺ؟ قَالَ: فقد أسلم. فقلنا له: قَالَ ذاك عندنا رجل بطرطوس. فقال فِيهِ ابن شيبويه: رأيته قد أسلم، وَقَالَ غيره: لا. حتى يقول: برئت من النصرانية، وتركت ديني. فَقَالَ: سبحان الله! لقد قَالَ النبي، ﷺ، لرجل: قل: أشهد أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله، فأسلم بذاك. ثم قَالَ: كل من نظر فِي رأي أبي حنيفة إلا كان دغل القلب يذهب إليه. ہمیں عباس بن احمد المستلمی النجار نے طرطوس میں خبر دی کہ لوگوں نے ابو عبد اللہ (امام احمد) سے ایک نصرانی یا یہودی کے بارے میں پوچھا جس نے کہا: “میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔” تو انہوں نے فرمایا: وہ مسلمان ہو گیا۔ ہم نے ان سے عرض کیا: طرطوس میں ہمارے پاس ایک شخص نے یہی کہا ہے۔ تو ابنِ شیبوَیہ نے اس کے بارے میں کہ...

امام ابن شاہین متوفی 385ھ کی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں جرح کا جائزہ:

امام ابن شاہین متوفی 385ھ کی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں جرح کا جائزہ:  بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ علیہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی فقاہت و بصیرت نے امت مسلمہ کو فقہی مسائل کے استنباط کا ایک روشن اورمستحکم راستہ عطا کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی ذات گرامی وہ نورِ ہدایت ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں نے فیض پایا اور آج بھی پا رہے ہیں۔ آپ کی زندگی زہد و تقویٰ، علم و عمل اور سنت کی پیروی کا ایک زندہ نمونہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی فراست و بصیرت عطا فرمائی کہ ایک حدیث سے بیسیوں فقہی احکام نکال لیتے تھے، جو درحقیقت فقہ کی روح و جان ہے۔ آپ کی شان میں ائمہ کرام کی تعریفیں اور توثیقات اس قدر کثیر ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے، جن میں   امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ،  مکی بن ابراہیم  ،    امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ رح...

اعتراض : امام احمدؒ کا یہ کہنا کہ “اصحابِ ابی حنیفہ کو حدیث میں بصیرت نہیں، یہ محض جُرأت ہے”

 اعتراض : امام احمدؒ کا یہ کہنا کہ  “اصحابِ ابی حنیفہ کو حدیث میں بصیرت نہیں، یہ محض جُرأت ہے” حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ: "يَقُولُ لِهَؤُلَاءِ، أَصْحَابِ أَبِي حَنِيفَةَ: لَيْسَ لَهُمْ بَصَرٌ بشَيْءٍ مِنَ الْحَدِيثِ، مَا هُوَ إِلَّا الْجُرْأَةُ " میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:  “یہ جو ابو حنیفہ کے اصحاب ہیں، انہیں حدیث کے کسی پہلو میں بصیرت حاصل نہیں، یہ محض جرأت (بے باکی) ہی ہے۔”    (مختصر قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر ١/‏٢٩٧ ) الجواب :    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے منقول اس روایت پر اگر غیر جذباتی، علمی اور اصولی انداز میں غور کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ کا یہ جملہ حقیقتِ حال کی مکمل ترجمانی نہیں کرتا ، بلکہ یہ ایک خاص منہجی رجحان اور فقہی مزاج کے تحت دیا گیا تبصرہ ہے۔ اسے نہ تو اہلِ کوفہ کی مجموعی علمی حیثیت پر حتمی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اصحابِ ابی حنیفہ کی حدیثی قدر و منزلت پر کوئی قطعی حکم سمجھا جا...