نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابن شاہین متوفی 385ھ کی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں جرح کا جائزہ:


امام ابن شاہین متوفی 385ھ کی امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں جرح کا جائزہ: 


بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔

امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ علیہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی فقاہت و بصیرت نے امت مسلمہ کو فقہی مسائل کے استنباط کا ایک روشن اورمستحکم راستہ عطا کیا۔ آپ رحمہ اللہ کی ذات گرامی وہ نورِ ہدایت ہے جس سے کروڑوں مسلمانوں نے فیض پایا اور آج بھی پا رہے ہیں۔ آپ کی زندگی زہد و تقویٰ، علم و عمل اور سنت کی پیروی کا ایک زندہ نمونہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی فراست و بصیرت عطا فرمائی کہ ایک حدیث سے بیسیوں فقہی احکام نکال لیتے تھے، جو درحقیقت فقہ کی روح و جان ہے۔ آپ کی شان میں ائمہ کرام کی تعریفیں اور توثیقات اس قدر کثیر ہیں کہ ان کا شمار کرنا مشکل ہے، جن میں  امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ،  امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر ائمہ شامل ہیں۔ ان کی ذات صدیوں سے اہلِ علم کے لیے مرکزِ احترام رہی ہے، تاہم ہر دور میں کچھ اعتراضات اور شبہات بھی پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ان ہی اعتراضات میں سے بعض کو امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف میں نقل کیا ہے۔ اس مقام پر ضروری ہے کہ ان کے کلام کو پورے سیاق و سباق کے ساتھ، علمی انصاف اور دیانت کے تقاضوں کے مطابق سمجھا جائے، تاکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مقام و مرتبہ پر کوئی ناحق حرف نہ آئے۔ امام ابن شاہین نے سب سے پہلے دوسرے حضرات کی طرف منسوب جروحات کو نقل کیا ہے، اور اس کے بعد اپنی طرف سے فیصلہ نما کلام پیش کیا ہے۔ لہٰذا پہلے ان جروحات کا جائزہ لینا ضروری ہے جو انہوں نے بطورِ نقل ذکر کی ہیں۔۔امام ابن شاہین رحمہ اللہ اپنی کتاب تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين میں لکھتے ہیں : باب النون من اسمه النعمان ثنا- عبد الله بن محمد البغوي. قال: ثنا- محمود بن غيلان. ثنا-المؤمل- يعني- ابن إسماعيل قال: ذكر أبو حنيفة عند الثوري في الحج. فقال: غير ثقة ولا مأمون غير ثقة ولا مأمون. فلم يزل يقول حتى جاوز الطواف. عبداللہ بن محمد بغوی بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: ہمیں محمود بن غیلان نے حدیث سنائی، وہ کہتے ہیں: ہمیں مؤمل بن اسماعیل نے حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سفیان ثوری کے سامنے ابو حنیفہ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: “یہ ثقہ نہیں ہیں، نہ قابلِ اعتماد ہیں، یہ ثقہ نہیں ہیں، نہ قابلِ اعتماد ہیں۔” سفیان ثوری یہ جملہ دہراتے رہے یہاں تک کہ طواف سے آگے نکل گئے (تاريخ أسماء الضعفاء والكذابين ١/‏١٨٤)

٥١ - ذكر أبي حنيفَة النُّعْمَان بن ثَابت روى ابْن شاهين عَن الْبَغَوِيّ عَن مَحْمُود بن غيلَان عَن المؤمل بن إِسْمَاعِيل قَالَ ذكر أَبُو حنيفَة عِنْد الثَّوْريّ فِي الْحجر فَقَالَ غير ثِقَة وَلَا مَأْمُون غير ثِقَة وَلَا مَأْمُون فَلم يزل يَقُول حَتَّى جَاوز الطّواف (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧) 

الجواب :  اس روایت کی سند میں خود مؤمل بن اسماعیل پر جرح ہے، اس لیے یہ سند درست نہیں۔اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

 

وَعَن الْحسن بن ربيع قَالَ ضرب ابْن الْمُبَارك على حَدِيثه قبل أَن يَمُوت بأيام يسيرَة

الجواب :  اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

اعتراض نمبر29 : امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا ۔


قَالَ وَذكر أَبُو بكر بن عَيَّاش حَدِيث عَاصِم فَقَالَ وَالله مَا سَمعه أَبُو حنيفَة قطّ

الجواب :  اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 134: کہ سفیان ثوری نے کہا کہ مرتدہ کے بارہ میں عاصم کی حدیث کوئی ثقہ راوی تو روایت نہیں کرتا البتہ ابو حنیفہ اس کو روایت کرتے تھے۔


وَعَن أَحْمد بن حَنْبَل قَالَ أَبُو حنيفَة يكذب

الجواب :  اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



وَعَن يحيى بن معِين أَنه سُئِلَ عَن أبي يُوسُف وَأبي حنيفَة فَقَالَ أَبُو يُوسُف أوثق مِنْهُ فِي الحَدِيث قلت فَكَانَ أَبُو حنيفَة يكذب قَالَ كَانَ أنبل فِي نَفسه من أَن يكذب وَعَن حَرْمَلَة بن يحيى قَالَ سَمِعت الشَّافِعِي يَقُول كَانَ أَبُو حنيفَة مِمَّن وفْق لَهُ الْفِقْه

اور یحییٰ بن معین سے روایت ہے کہ ان سے ابو یوسف اور ابو حنیفہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: “حدیث میں ابو یوسف، ابو حنیفہ سے زیادہ ثقہ ہیں۔” راوی کہتا ہے: میں نے پوچھا: تو کیا ابو حنیفہ جھوٹ بولتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: “وہ اپنی ذات میں اس سے کہیں زیادہ شریف تھے کہ جھوٹ بولتے۔” اور حرملہ بن یحییٰ سے روایت ہے کہ انہوں نے امام شافعی کو یہ کہتے ہوئے سنا: “ابو حنیفہ ان لوگوں میں سے تھے جنہیں فقہ میں توفیق عطا کی گئی۔”  (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)

جائزہ

اس بیان میں کوئی جرح نہیں بلکہ امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے امام اعظم کی تعریف و توصیف نقل فرمائی ہے۔

قَالَ أَبُو حَفْص بن شاهين وَهَذَا الْكَلَام فِي أبي حنيفَة طَرِيق ثِقَة طَرِيق

الرِّوَايَات واضطرابها وَمَا فِيهَا من الْخَطَأ لَا أَنه كَانَ يضع حَدِيثا وَلَا يركب إِسْنَادًا على متن وَلَا متْنا على إِسْنَاد وَلَا يَدعِي لِقَاء من لم يلقه كَانَ أرفع من ذَلِك وأنبل

وَقد فَضله الْعلمَاء فِي الْفِقْه مِنْهُم الْقَاسِم وَابْن معِين وَالشَّافِعِيّ والمقرئ وَابْن مُطِيع وَالْأَوْزَاعِيّ وَابْن الْمُبَارك وَمن يكثر عدده

ابو حفص بن شاہین کہتے ہیں: ابو حنیفہ کے بارے میں یہ تمام گفتگو معتبر اسناد سے منقول ہے، لیکن ان روایات میں اضطراب (اختلاف) اور غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ابو حنیفہ حدیث گھڑتے تھے، یا متن پر سند چڑھاتے تھے، یا سند پر متن جوڑتے تھے، یا کسی ایسے شخص سے ملاقات کا دعویٰ کرتے تھے جس سے انہوں نے ملاقات نہ کی ہو۔ وہ ان چیزوں سے بہت بلند اور شریف تھے۔ اور علماء نے فقہ میں انہیں فضیلت دی ہے، جن میں قاسم، یحییٰ بن معین، امام شافعی، امام مقرئ، ابن مطیع، امام اوزاعی، عبداللہ بن مبارک اور بہت سے دوسرے علماء شامل ہیں (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)

جائزہ

اس بیان میں کوئی جرح نہیں بلکہ امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے امام اعظم کی تعریف و توصیف نقل فرمائی ہے۔

اس کے بعد امام ابن شاہین چند نکات ذکر کرتے ہیں۔

 پہلا نکتہ یہ ہے: «وَلَكِن حَدِيثه فِيهِ اضْطِرَاب» 

یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی بعض احادیث میں اضطراب تھا۔  (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)

الجواب :

یہاں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی کسی مخصوص روایت یا حدیث کا ذکر نہیں کیا گیا جس میں اضطراب ہو۔ اگر وہ کوئی مثال پیش کرتے تو اس کا جواب ضرور دیا جاتا، جیسا کہ امام ابن عدی اور امام دارقطنی نے امام ابو حنیفہ کے خلاف بعض احادیث میں اغلاط کی نشاندہی کی ہے، جن کا جواب دیا جا چکا ہے کہ ان اغلاط کا تعلق خود ناقدین کی فہم سے تھا، نہ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے۔

 قارئین دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 29 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ» کو مسند طور پر بیان کیا اور اس میں جابر بن عبداللہ کا واسطہ خود شامل کیا، جبکہ محدثین کے نزدیک یہ اضافہ ضعیف اور غیر ثابت ہے، کیونکہ اصل روایت مرسل ہی ہے۔


اعتراض نمبر 30 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "مفتاح الصلاة الوضوء “ میں موجود الفاظ "وفي كل ركعتين تسلیم" کو ابو سفیان السعدی سے نقل کرنے میں امام ابو حنیفہ (م۱۵۰ھ) منفرد ہیں


اعتراض نمبر 31 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں امام ابو حنیفہؒ نے روایت (أَكَلَ ذَبِيحَةَ امْرَأَةٍ) کو نبی ﷺ تک متصل سند کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ دوسرے رواۃ جیسے منصور، مغیرہ اور حماد نے اسی روایت کو موقوف (یعنی صرف حضرت ابراہیم النخعیؒ کا قول) کے طور پر روایت کیا ہے۔


اعتراض نمبر 32 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ عطاءؒ سے منفرد راوی ہیں۔ اگرچہ عسل نے بھی یہ روایت مرفوع و موقوف دونوں انداز میں بیان کی ہے، تاہم وہ لکھتے ہیں کہ “عسل اور امام ابو حنیفہؒ دونوں ضعیف ہیں، لیکن عسل روایت کے ضبط میں امام ابو حنیفہؒ سے بہتر ہے۔”


اعتراض نمبر 33 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ علقمہ بن مرثد سے منفرد ہیں


اعتراض نمبر 34 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّعْرَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ نے ابو حجیہ اور ابو الاسود کے درمیان "ابن بریدہ" کا اضافہ کیا ہے


اعتراض نمبر 35 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں "حديث الضحك" کی روایت میں ابو حنیفہ نے سند اور متن میں خطا کی ہے، کیونکہ انہوں نے سند میں معبد کا اضافہ کیا جبکہ اصل میں یہ حسن سے مرسلاً ہے اور متن میں قہقہہ (بلند آواز سے ہنسنا) کا اضافہ کیا .


اعتراض نمبر 62 : حافظ ابو علیؒ (م۳۴۹؁ھ) کا اعتراض کہ حدیث "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" میں امام ابو حنیفہ سے غلطی ہوئی ہے


اعتراض نمبر 63 : امام ابو حنیفہؒ نے حدیث «نهى عن متعة النساء» کو ایک مجہول راوی محمد بن عبید اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، حالانکہ جمہور محدثین اسے امام زہریؒ سے ربیع بن سبرہ عن أبیہ کے طریق سے نقل کرتے ہیں۔


اعتراض نمبر 64 : امام ابو الحسن الدارقطنیؒ (م385ھ) کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


اعتراض نمبر 68 : محدث حسین بن ابراہیم الجوزقانی کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ


 اس سے یہ حقیقت مزید مستحکم ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ پر غلطی کا الزام عائد کرنے میں عجلت اور عدمِ تحقیق سے کام لیا گیا ہے۔  اسی طرح اگر امام ابن شاہین بھی کوئی معین روایت ذکر کرتے تو اس کا علمی جواب موجود تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حدیث کے باب میں ثقہ قرار دیا گیا ہے خصوصاً اس لیے کہ امام شعبہؒ، امام یحییٰ بن معینؒ اور دیگر اکابر متقدمین جیسے ائمہ نے امام ابو حنیفہؒ کی واضح توثیق کی ہے، اور انہی کی توثیق کو اصولاً ترجیح حاصل ہے۔

 امام ابو حنیفہؒ   کی حدیث میں ثقاہت

امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ،  امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


دوسرا نکتہ یہ بیان کیا گیا: 
«وَكَانَ قَلِيل الرِّوَايَة وَكَانَ بِالرَّأْيِ أبْصر من الحَدِيث»

یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کم روایت بیان کرتے تھے اور رائے میں حدیث سے زیادہ بصیرت رکھتے تھے۔(ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)


الجواب : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا کم روایت بیان کرنا ہرگز جرح نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ محدثین کے اس اسلوب سے مختلف ایک عظیم فقیہ تھے۔ محدثین عموماً طرق، اسانید اور روایت کی کثرت پر توجہ دیتے تھے، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا اصل رجحان احادیث کے فہم، ان سے مسائل کے استخراج اور فقہی استنباط کی طرف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک ہی حدیث سے بیسیوں فقہی مسائل نکال لیتے تھے، اور یہی درحقیقت فقہ کی روح ہے۔

مزید برآں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں قبولِ حدیث کے شرائط اس قدر سخت تھے کہ وہ بعض پہلوؤں سے امام بخاری اور امام مسلم کے معیار سے بھی زیادہ محتاط تھے۔ چنانچہ امام ابو یوسفؒ (امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص) نقل کرتے ہیں: قال الطحاوي: حدثنا سليمان بن شعيب، حدثنا أبي، قال: أَمْلَى عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ، قال: قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: "لاَ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُحَدِّثَ مِنَ الحَدِيثِ إِلاَّ بِمَا حَفِظَهُ مِنْ يَوْمِ سَمِعَهُ إِلَى يَوْمِ يُحَدِّثُ بِهِ"

امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا: کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ حدیث بیان کرے مگر اسی کو جو اس نے جس دن سنی ہو، اس دن سے لے کر جس دن وہ اسے بیان کر رہا ہو، اس دن تک یاد رکھی ہو۔ یعنی، وہی حدیث بیان کرے جسے مسلسل یاد رکھا ہو، نہ کہ بھول بھال یا شک کی بنیاد پر۔ (الجواهر المضية في طبقات الحنفية 1/61، طبقات القاري 1/445 – سند لا بأس به)

اسی مضمون کو امام یحییٰ بن معینؒ بھی امام ابو حنیفہؒ کے تعلق سے بیان کرتے ہیں:

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْكَاتِبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ سَهْلٍ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ حِبَّانَ، قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ أَبُو زَكَرِيَّا يَعْنِي يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ، يَجِدُ الْحَدِيثَ بِخَطِّهِ لَا بِحِفْظِهِ فَقَالَ أَبُو زَكَرِيَّا «كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ يَقُولُ لَا تُحَدِّثُ إِلَّا بِمَا تَعْرِفُ وَتَحْفَظُ» (الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي 1/231)

یعنی یحییٰ بن معین سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو کوئی   حدیث اپنی لکھی ہوئی کتاب میں پائے، لیکن وہ اسے یاد نہ ہو (یعنی زبانی حفظ نہ ہو)، تو یحییٰ بن معین نے کہا: "ابو حنیفہ کہا کرتے تھے: صرف وہی حدیث بیان کرو جسے تم پہچانتے اور یاد رکھتے ہو۔"

الكفاية في علم الرواية للخطيب البغدادي ١/‏٢٣١ ، سند میں محمد بن سہل پر کلام بھی ہے اور ان کی توثیق بھی ہے ، جب کہ حسین بن حبان کے تعلق سے دیکھیں ہمارا رسالہ : امام وکیع بن جراح کی حنفیت ، لہذا اگر کچھ ضعف ہے بھی تو وہ مختلف سندوں سے منقول ہونے کہ وجہ سے ذائل ہو گیا ہے۔)

اسی طرح ایک اور روایت میں ہے  "كان أبو حنيفة ثقة، لا يحدث بالحديث إلا بما يحفظه، ولا يحدث بما لا يحفظ" (تاریخ بغداد، ت بشار، 15/573)

امام ابو حنیفہؒ حدیث کے معاملے میں کس قدر احتیاط سے کام لیتے تھے

قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ: لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَرْوِيَ الْحَدِيثَ إِلَّا إِذَا سَمِعَهُ مِنْ فَمِ الْمُحَدِّثِ، فَيَحْفَظُهُ، ثُمَّ يُحَدِّثُ بِهِ. امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ حدیث بیان کرے جب تک وہ اسے محدث کے منہ سے خود نہ سن لے، پھر اُسے یاد کرے، اس کے بعد بیان کرے۔ (المدخل إلى كتاب الإكليل ١/٤٨)

امام ابو حنیفہؒ کا حدیث کے باب میں معیار اس قدر سخت اور محتاط تھا کہ وہ صرف اسی حدیث کو قبول کرتے تھے جو راوی نے براہِ راست سنی ہو، یاد رکھی ہو، اور اس میں کسی قسم کی بھول چوک یا تلقین نہ ہو۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


المجروحین لابن حبان میں اعتراض نمبر 29 : حماد بن زید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "میں شاید ہی کسی شیخ سے ملا ہوں مگر میں نے اس پر ایسی بات داخل کی جو اس کی حدیث نہ تھی، سوائے هشام بن عروة کے۔"


تیسرا نکتہ امام ابن شاہین نے یہ ذکر کیا: «وَإِنَّمَا طعن عَلَيْهِ من طعن من الْأَئِمَّة فِي الرَّأْي…»
اسی وجہ سے بعض ائمہ نے ان پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض بھی دراصل “اہلِ رائے” ہونے کی بنیاد پر تھا۔
(ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)

الجواب :
یہ بات بالکل واضح ہے کہ محض رائے کے استعمال کی وجہ سے کسی محدث یا فقیہ پر طعن کرنا باطل ہے۔ رائے کا استعمال تو خود امام سفیان ثوری بھی کرتے تھے، مگر ان کو کبھی ضعیف قرار نہیں دیا گیا، نہ ان پر اس بنیاد پر جرح کی گئی۔ کیا ترکِ رفع الیدین امام سفیان ثوری سے منقول نہیں؟ پھر ان پر وہ اعتراضات کیوں نہیں کیے جاتے جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیے گئے؟ یہ واضح دوہرا معیار ہے۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔



چوتھا نکتہ یہ بیان کیا گیا: «وَكَفاك بسفيان الثَّوْريّ وَابْن الْمُبَارك وَأحمد بن حَنْبَل سَادَات من نقل السّنَن»
اور تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ سفیان ثوری، عبداللہ بن مبارک اور احمد بن حنبل—یہ سب سنت کے بڑے امام، حق و باطل میں امتیاز کرنے والے تھے۔ (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏ ٩٧ - المختلف فيهم ١/‏٧٧)
الجواب :
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ امام سفیان ثوری فقہ میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف رجوع کرتے 
تھے، جیسا کہ ( الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء - ابن عبد البر - الصفحة ١٤٦) میں ثابت ہے۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 25 : امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طرزِ عمل سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عظمت کا روشن ثبوت اعتراض سے اعتراف تک: امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں رویہ



 امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے حدیث کا پہلا سبق ہی امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسف سے حاصل کیا تھا  وقال أبو الفضل العباس بن محمد سمعت أحمد بن حنبل يقول: أول ما طلبت الحديث ذهبت على أبو يوسف القاضي، ثم طلبنا بعد فكتبنا عن الناس. (تاريخ بغداد 14/255) ۔ اور امام ابن المبارک رحمہ اللہ تو خود امام ابو حنیفہ کی تعریف و توصیف کرتے تھے، جیسا کہ امام ابن شاہین نے خود اس بات کو نقل کیا ہے۔   قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود




وَأما مَا ذكره حَمَّاد بن زيد فِي حجاج وَنبهَ على مَا رأى عَلَيْهِ من الْعلمَاء يسألونه فَلَيْسَ بداخل فِي الرِّوَايَات لِأَنَّهُ حكى أَنه سمعهم يَقُولُونَ مَا تَقول فِي كَذَا يُرِيد الْفِقْه وَأَبُو حنيفَة فقد كَانَ من الْفِقْه على مَا لَا يدْفع من علمه فِيهِ وَلم يكن فِي الحَدِيث بالمرضي لِأَن للأسانيد نقادا فَإِذا لم يعرف الْإِنْسَان مَا يكْتب وَمَا يحدث بِهِ نسب إِلَى الضعْف وَالله أعلم بذلك
رہی وہ بات جو حمّاد بن زید نے حجاج کے بارے میں ذکر کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ علما اس سے مسائل کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے، تو یہ روایات کے باب میں داخل نہیں ہے، کیونکہ اس نے صرف یہ حکایت بیان کی ہے کہ وہ انہیں یہ کہتے ہوئے سنتا تھا: “آپ فلاں مسئلے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟” اور اس سے مراد فقہ تھی۔
اور امام ابو حنیفہ فقہ میں اس درجے کے صاحبِ علم تھے کہ ان کے علمِ فقہ کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن حدیث کے معاملے میں وہ پسندیدہ (قوی) نہیں سمجھے گئے، کیونکہ اسناد کے نقاد ہوتے ہیں، پس جب کوئی شخص یہ نہ پہچان سکے کہ وہ کیا لکھ رہا ہے اور کیا حدیث بیان کر رہا ہے، تو اسے ضعف کی طرف منسوب کر دیا جاتا ہے۔ (ذكر من اختلف العلماء ونقاد الحديث فيه ١/‏٤٩)

الجواب :

امام ابو حنیفہ اور حجاج بن ارطاة کا تقابل — ایک اصولی تجزیہ

امام ابن شاہین کا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حجاج بن ارطاة کے ساتھ ایک ہی درجے یا ایک ہی مقام پر رکھنا  ، یہ موقف اصولِ جرح و تعدیل کے سراسر خلاف ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حجاج بن ارطاة پر جو جروحات وارد ہوئی ہیں وہ نہ صرف کثیر ہیں بلکہ مفسَّر، واضح اور متفق علیہ بھی ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایسی کوئی جرح ثابت نہیں جو انہیں حجاج کے برابر یا اس کے قریب لا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور حجاج بن ارطاة کے درمیان ہر پہلو سے نمایاں اور بنیادی فرق موجود ہے۔ 

فقہ کے میدان میں امام ابو حنیفہ کا متفق علیہ مقام

سب سے پہلے فقہ کے میدان کو لیجیے۔ فقہ میں تو یہ بات مسلمہ ہے کہ چاہے محدثین ہوں، فقہاء ہوں یا آج کے دور کے جدید نام نہاد اہلِ حدیث ہوں، سب کے سب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ایک عظیم، جلیل القدر اور زبردست فقیہ تسلیم کرتے ہیں۔ اس میں کسی سنجیدہ اہلِ علم کا اختلاف نہیں۔ لہٰذا فقہ کے باب میں حجاج بن ارطاة اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے درمیان  اصولی اعتبار سے دونوں کا تقابل ہی محلِّ نظر ہے ۔

حجاج بن ارطاة پر محدثین کی متفق علیہ جروحات 

اب اگر حدیث کے میدان کی بات کی جائے تو وہاں بھی حجاج بن ارطاة امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہم پلہ نہیں ٹھہرتے، بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ حجاج بن ارطاة پر سب سے بڑی، واضح اور متفق علیہ جرح تدلیس کی ہے اور  مدلسین کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جن کی تدلیس ناقدین کے نزدیک مضر سمجھی جاتی ہے ۔ وہ کبھی ضعیف رواۃ سے تدلیس کرتے تھے، کبھی ایسے شیوخ سے روایت بیان کرتے تھے جن سے ان کی ملاقات ثابت ہی نہیں تھی، اور کبھی ارسال کے ساتھ روایت پیش کرتے تھے۔حجاج بن ارطاة پر تدلیس کی صراحت کرنے والوں میں اکابر ائمہ شامل ہیں، جن میں ابن حجر، ذہبی، ابو حاتم رازی، ابو زرعہ رازی، بیہقی، ابن حبان، نووی، خطیب بغدادی، ابو جعفر نحاس، ابن عدی، اسماعیل قاضی، محمد بن نصر مروزی اور دیگر بہت سے ناقدین شامل ہیں۔

ارسال، اضطراب اور سوءِ حفظ: حجاج بن ارطاة پر اہم اعتراضات 

اس کے علاوہ حجاج بن ارطاة پر دوسرا بڑا اشکال یہ ہے کہ ان کی روایات میں اضطراب ہوتا ہے، اور بعض اوقات حدیث کے الفاظ میں تغیر واقع ہو جاتا ہے۔ اس نوع کی تنقید خاص طور پر یحییٰ بن سعید القطان، یعقوب بن شیبہ، محمد بن نصر مروزی وغیرہ جیسے جلیل القدر ناقدین نے بیان کی ہے۔

مزید یہ کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ بھی ثابت نہیں کہ انہوں نے کسی حدیث کے بیان میں غفلت سے کام لیا ہو یا کسی روایت میں ان پر کوئی مستند اعتراض قائم کیا گیا ہو۔ اس کا تفصیلی جائزہ پہلے ہی قارئین کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے۔


الکامل لابن عدی میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کے جوابات


اعتراض نمبر 62 : حافظ ابو علیؒ (م۳۴۹؁ھ) کا اعتراض کہ حدیث "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" میں امام ابو حنیفہ سے غلطی ہوئی ہے


اعتراض نمبر 63 : امام ابو حنیفہؒ نے حدیث «نهى عن متعة النساء» کو ایک مجہول راوی محمد بن عبید اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، حالانکہ جمہور محدثین اسے امام زہریؒ سے ربیع بن سبرہ عن أبیہ کے طریق سے نقل کرتے ہیں۔


اعتراض نمبر 64 : امام ابو الحسن الدارقطنیؒ (م385ھ) کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


اعتراض نمبر 68 : محدث حسین بن ابراہیم الجوزقانی کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ


مزید برآں، محدثین حجاج بن ارطاة کے بارے میں یہ بھی صراحت کرتے ہیں کہ وہ امام زہری، ہشام بن عروہ وغیرہ سے سماع ثابت نہ ہونے کے باوجود ان سے روایت بیان کرتا تھا، یعنی تدلیس اور ارسال کے ساتھ حدیث نقل کرتا تھا۔ جبکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایسا کوئی الزام ثابت نہیں۔

حفظ کے معاملے میں بھی حجاج بن ارطاة کے بارے میں ائمہ کے اقوال سخت ہیں۔ ایک جماعت نے انہیں کثیر الخطأ کہا، کسی نے سیئ الحفظ قرار دیا  یعنی ان کے ضبط اور یادداشت پر مستقل  جروحات موجود ہیں۔

اس کے برعکس امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر نہ تو حفظ کے بارے میں کوئی معتبر جرح ثابت ہے اور نہ ہی وہ حجاج بن ارطاة کی طرح کسی نچلے درجے کے مدلس تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تدلیس سے بالکل پاک تھے، اور ان کے ضبط و حفظ کے بارے میں کسی معتبر امام نے کوئی ایسی جرح بیان نہیں کی جو ان کے مقام کو مجروح کرے۔

اسی لیے روایتِ حدیث کے باب میں بھی حجاج بن ارطاة، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے درجے کا تو کجا، ان کے قریب بھی نہیں پہنچتا۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر نہ تدلیس کی جرح ہے، نہ کثرتِ خطا کی، نہ سوءِ حفظ کی، اور نہ ہی کسی حدیث میں غفلت یا تحریف کا کوئی مستند اعتراض ثابت ہے۔

حماد بن زید کی امام ابو حنیفہؒ سے روایت کی اہمیت

 اسی طرح حمّاد بن زید کا امام ابو حنیفہ سے روایت نقل کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حمّاد بن زید امام صاحب کو فقہ اور حدیث، دونوں میں معتبر سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس حجاج بن ارطاة سے حمّاد نے صرف فقہی مسائل لیے، نہ کہ حدیث کے باب میں اسے وہ مقام دیا جو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حاصل تھا۔ اسی حقیقت کی تائید امام یحییٰ بن معین کے اقوال سے بھی ہوتی ہے، جنہوں نے فقہ اور حدیث دونوں میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو معتبر قرار دیا ہے۔ مزید برآں وہ ائمہ اور محدثین جو عام طور پر صرف ثقہ راویوں سے روایت کرتے تھے، جیسے   امام شعبہؒ ، امام یزید بن ہارونؒ ، حافظ الحدیث ، زہیر بن معاویہ ، امام حماد بن زید  ، امام وکیع ،  امام سفیان بن عیینہ  ، امام ابن عوانہ ،   امام ابو نعیم فضل بن دکین ،  ان کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کرنا اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ فقہ اور حدیث، دونوں میدانوں میں حجاج بن ارطاة سے کئی درجے زیادہ معتبر اور قابلِ اعتماد تھے۔

امام ابو حنیفہؒ کی علمی و فقہی عظمت

لہٰذا امام ابن شاہین کی طرف سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو حجاج بن ارطاة کے ساتھ ایک ہی سطح پر رکھنا نہ علمی انصاف کے مطابق ہے اور نہ ہی اصولِ محدثین کے مطابق۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں کے مقام و مرتبہ میں جو زمین و آسمان کا فرق ہے، اسے تسلیم کیا جائے، اور امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی فقہی و حدیثی عظمت کو ان غیر منصفانہ تقابلات سے متاثر نہ ہونے دیا جائے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...