اعتراض : امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا ۔
جواب : اہل سنّت بالخصوص متبعینِ مکتبِ فکرِ امامِ اعظم کے ماتھے کا جھومر، علمِ جرح و تعدیل کے بحرِ بے کنار، اور زہد و تقویٰ کے نیرِ تاباں، امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (المتوفی 181ھ) کی جلالتِ علمی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ مسندِ تدریس پر محدث، میدانِ کارزار میں غازی، اور معرکۂ حق و باطل میں جری جرنیل تھے۔ امام موصوف کو امامِ اعظم سیدنا ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ (المتوفی 150ھ) کی بارگاہِ علم سے جو خاص تلمذ اور والہانہ وابستگی حاصل تھی، وہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب ہے۔
عصرِ حاضر میں بعض کم فہم اور کج بیں حلقوں کی جانب سے علمی دیانت کا جنازہ نکالتے ہوئے ایک شوشہ بڑی دھوم دھام سے چھوڑا جاتا ہے کہ: ”امام ابنِ مبارک رحمہ اللہ نے آخری عمر میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک کر دیا تھا اور ان سے روایت کرنا بند کر دیا تھا!“
یہ دعویٰ سرتاپا کذب، ملمع سازی اور علمِ رجال کے اصولوں سے نابلد ہونے کا بین ثبوت ہے۔ہم علمِ جرح و تعدیل کے میزان پر اس مفروضے کا ایسا محققانہ اور دندان شکن جائزہ لیتے ہیں کہ کذب و افترا کے یہ سارے بادل چھٹ جائیں۔
مخالفین اپنے اس باطل دعوے کی عمارت جن چند کھوکھلے ستونوں پر کھڑی کرتے ہیں، ذیل میں ان کا تفصیلی علمی رد پیشِ خدمت ہے:
1۔ امام ابو حاتم رازی کا قول اور انقطاعِ سند کا عیب
امام ابن ابی حاتم نے اپنے والد سے نقل کیا: "ثم تركه ابن المبارك بأخرة سمعت أبي يقول ذلك" (الجرح والتعديل: 4/449)
ترجمہ: پھر ابنِ مبارک نے آخری عمر میں انہیں ترک کر دیا، میں نے اپنے والد کو یہ کہتے سنا۔
جواب: علمِ جرح و تعدیل کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ کسی قول کے حجت ہونے کے لیے سند کا متصل ہونا شرطِ لازم ہے۔ امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا انتقال 181ھ میں ہوا، جبکہ امام ابو حاتم رازی کی ولادت 195ھ میں ہوئی! یعنی امام ابنِ مبارک کی وفات کے چودہ سال بعد تو امام ابو حاتم پیدا ہو رہے ہیں۔ اب امام ابو حاتم کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ امام ابنِ مبارک نے آخری عمر میں ترک کیا تھا؟ انہوں نے یہاں اپنے واسطے یا ذریعے کا ذکر ہی نہیں کیا۔
نتیجہ: یہ قول سخت منقطع ہے اور اصولِ حدیث کی رو سے سرے سے حجت ہی نہیں۔
2۔ امام ساجی کی روایت اور "محمد بن روح" کا مجہول ہونا
امام ابن عبدالبر نے امام زکریا ساجی کے حوالے سے ایک حکایت نقل کی:
"وذکر الساجي، عن محمد بن نوح المدائني، عن معلى بن أسد، قلت لابن المبارك: كان الناس يقولون إنك تذهب إلى قول أبي حنيفة، قال: ليس كل ما يقول الناسُ يصيبون فيه، قد كنا نأتيه زمانا ونحن لا نعرفه، فلما عرفناه تركناه " (الانتقاء: ص 292)
(ترجمہ: ہم ایک زمانے تک ان کے پاس جاتے رہے جبکہ ہم انہیں نہیں جانتے تھے، پھر جب ہم نے انہیں پہچان لیا تو انہیں ترک کر دیا۔)
جواب: اس حکایت کی سند پر نظر ڈالیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ غیر مقلّدین کس طرح کی لکڑیوں پر اپنے مذہب کا محل تعمیر کرتے ہیں! اس کی سند کا حال یہ ہے: "عن محمد بن نوح المدائني، عن معلى بن أسد..."۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ محمد بن روح (خواہ وہ المدائنی ہو یا العکبری) یہ راوی جرح و تعدیل کی رو سے سخت مجہول ہے، کتبِ رجال میں اس کی کوئی توثیق موجود نہیں ہے۔ مخالفین محض اس بیساکھی کا سہارا لیتے ہیں کہ وہ امام احمد بن حنبل کا دوست تھا۔ سبحان اللہ! امام احمد کا دوست ہونا کب سے علمِ حدیث میں توثیق کی دلیل بن گیا؟ یہ ان کی نری من مانی ہے؛ جب اپنے نفس پر بن آئے تو واضح اور جلیل القدر ثقہ راویوں کی توثیق کا انکار کر دیں، اور جب اپنی دکان چمکانی ہو تو ایک مجہولِ محض کو زبردستی ثقہ کا لبادہ اڑھا دیں!
نتیجہ: راوی کے مجہول ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف اور ساقط الاعتبار ہے۔
3۔ خطیب بغدادی کی روایت اور "احمد بن محمد بن یوسف" کی تضعیف
أخبرني الحسن بن أبي طالب، أخبرنا أحمد بن محمّد بن يوسف،. حدّثنا محمّد بن جعفر المطيري- حدّثنا عيسى بن عبد الله الطّيالسيّ، حَدَّثَنَا الحُمَيْدِيّ قَالَ: سَمِعْتُ ابن المبارك يَقُولُ: صليت وراء أَبِي حنيفة صلاة وفي نفسي منها شيء، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابن المبارك يَقُولُ: كتبت عن أَبِي حنيفة أربعمائة حديث إذا رجعت إلى العراق إن شاء الله محوتها. (تاريخ بغداد: 15/572) (ترجمہ: میں نے ابو حنیفہ سے چار سو احادیث لکھیں، جب میں عراق واپس جاؤں گا تو ان شاء اللہ انہیں مٹا دوں گا۔)
جواب: اس روایت کی سند میں ایک راوی احمد بن محمد بن یوسف بن دوست البزار الحافظ ہے۔ اس راوی کے بارے میں ائمہ جرح و تعدیل کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:
الحافظ الذہبی لکھتے ہیں: "ضعفه الأزهري وابن أبي الفوارس" (ذيل ديوان الضعفاء: 1/19)
سیر اعلام النبلاء (13/85، ط الحدیث) میں نقل کیا ہے کہ اگرچہ لوگ ان کے حفظ پر ثنا کرتے تھے، لیکن ان کی عدالت میں شدید اختلاف تھا۔ ابو الفتح الازہری نے انہیں ضعیف کہا اور ابن ابی الفوارس نے ان کی اپنے شیخ "المطیری" سے روایت کرنے پر شدید طعن و کلام کیا ہے۔
نتیجہ: جب سند کا مرکزی راوی ہی ضعیف اور مجروح ہو، تو یہ قول بھی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتا۔
4۔ علی بن جریر کی حکایات؛ جہالتِ راوی اور متن کا بطلان
خطیب بغدادی نے علی بن جریر الابیوَردی کے واسطے سے دو طویل حکایتیں نقل کیں
أَخْبَرَنَا ابن رزق، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابن سلم، قَالَ: أَخْبَرَنَا الأبَّار، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بن المهلب السَّرْخَسِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَليّ بن جرير، قَالَ: كُنْت في الكوفة، فقدمت البصرة ويها ابن المبارك، فَقَالَ لي: كيف تركت النَّاس؟ قُلْتُ: تركت بالكوفة قوما يزعمون أن أَبَا حنيفة أعلم من رَسُول الله، ﷺ قَالَ: كفر، قُلْتُ: اتخذوك في الكفر إماما، قَالَ: فبكى حَتَّى ابتلت لحيته، يعني: أَنَّهُ حدث عَنْهُ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّد بن عَليّ المُقْرِئ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بن عَبْد الله النَّيْسَابُوري، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَر مُحَمَّد بن صالح بن هانئ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا مسدد بن قطن، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن أَبِي عتاب الأعين، قَالَ: حَدَّثَنَا عَليّ بن جرير الأبيوردي، قَالَ: قدمت عَلَى ابن المبارك، فَقَالَ لَهُ رجل: إن رجلين تماريا عندنا في مسألة، فَقَالَ أحدهما قَالَ أَبُو حنيفة، وَقَالَ الآخر: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: كَانَ أَبُو حنيفة أعلم بالقضاء، فَقَالَ ابن المبارك: أعد عَليّ، فأعاد عَلَيْهِ، فَقَالَ: كفر، كفر، قُلْتُ: بك كفروا، وبك اتخذوا الكفر إماما.
قَالَ: ولم؟ قُلْتُ: بروايتك عن أَبِي حنيفة، قَالَ: أستغفر الله من رواياتي عن أَبِي حنيفة
خلاصہ یہ ہے کہ علی بن جریر نے امام ابنِ مبارک سے کہا کہ آپ کی وجہ سے لوگوں نے ایک کافر کو امام بنا رکھا ہے کیونکہ آپ ان سے روایت کرتے ہیں، جس پر امام ابنِ مبارک رو پڑے اور توبہ کی کہ: "أستغفر الله من رواياتي عن أبي حنيفة" (تاريخ بغداد: 15/572)۔
جواب: یہ حکایت سند اور متن دونوں اعتبار سے جھوٹ کا پلندہ اور مردود ہے۔
اولاً: سند کا حال: اس کا راوی علی بن جریر الابیوَردی سخت مجہول ہے۔ اگرچہ امام ابو حاتم رازی نے اسے "صدوق" کہا ہے، لیکن امام ابو حاتم کا اسے صدوق کہنا محدثین کے نزدیک سخت تعجب خیز ہے! کیونکہ امام ابو حاتم اور ان کے بیٹے امام ابن ابی حاتم اپنے وسعتِ علم کے باوجود اس علی بن جریر کا نہ تو کوئی استاد بتا سکے اور نہ ہی حدیث کی کسی مشہور اور متداول کتاب میں اس کی کوئی ایک بھی روایت موجود ہے۔ رہی بات امام ابنِ حبان کی، تو انہوں نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے، مگر اہل علم جانتے ہیں کہ امام ابنِ حبان مجاہیل کو ثقات میں درج کرنے میں حد درجہ متساہل ہیں۔ لہذا ان کا ذکر کرنا اس کے ثقہ ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔
علی بن جریر الباوردی مجہول ہے ۔
اعدائے فقہِ حنفی اور شیخ الاسلام علامہ زاہد الکوثری رحمہ اللہ پر طعن کرنے والے دورِ حاضر کے متشددین (معلّمی یمانی اور ان کے متبعین سلفی حضرات) نے لاکھ سر پٹکا، بڑی عرق ریزی کی، اور حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنے متقدمین محدثین کی اندھی تقلید کا طوق گلے میں ڈالنے کی کوشش کی تاکہ کسی نہ کسی طرح اس راوی کو "صدوق" ثابت کر کے امامِ اعظم پر کیے گئے طعن کو زندہ رکھ سکیں؛ مگر حق کا سورج کبھی تعصب کے بادلوں میں نہیں چھپ سکتا!
دورِ حاضر کے نامور سلفی علماء، غیر مقلدین کے سرخیل، اور کبار محققین کی تحقیقات کے ناطق فیصلے پیشِ خدمت ہیں، جن کا واضح اور دو ٹوک موقف وہی ہے جو علامہ زاہد الکوثری رحمہ اللہ کا تھا۔ یہ تمام محققین علی بن جریر کو صراحتاً مجہول قرار دیتے ہیں:
کبارِ محدثین اور سلفی محققین کی عدالت میں علی بن جریر کا حقیقی مقام
ذیل میں ان تمام محققین کی آراء کو بالتفصیل اور من و عن پیش کیا جا رہا ہے، جنہیں پڑھ کر منصف مزاج دل پکار اٹھیں گے کہ احناف کا موقف ہی حق ہے:
1۔علامہ احمد بن محمد شاکر کا اعترافِ عجز
مصری محدث علامہ احمد شاکر اس راوی کی تلاش میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: «عَلِي بن جَرِير قَد أَتْعَبَنِي أَنْ أَعْرِف مَنْ هُو؟ مَع البَحْث في كُلِّ المَرَاجِع، وَتَقْلِيْبِهِ عَلَى كُلِّ الاحْتِمَالات» (علی بن جریر نے مجھے تھکا دیا کہ میں جان سکوں کہ وہ کون ہے؟ باوجود اس کے کہ میں نے تمام مراجع (حوالہ جاتی کتب) میں تلاش کیا اور ہر طرح کے احتمالات پر غور کیا کہ کاش اس کا سراغ مل جائے مگر وہ نہ مل سکا!) تَفْسِير الطَّبَرِي (٢/ ٢٦٨).
2۔علامہ محمود بن محمد شاکر کی جرح
علامہ احمد شاکر کے بھائی، عربی ادب اور تحقیق کے امام شیخ محمود شاکر، امام ابو حاتم کے "صدوق" کہنے کی حقیقت کھولتے ہوئے جامع البیان (تفسیر الطبری، ط دار التربية والتراث: 16/370) کے حاشیے میں فرماتے ہیں: «لا يُدْرَى مَنْ هُو - كما قُلنا فِيْمَا سَلَف -؛ إلا أَنِّي أزيد أن ابن أَبِي حَاتِم تَرْجَم في "الجَرْح والتَّعْدِيل": عَلِي بن جَرِير البَاوَرْدِي، رَوَى عَنْ ... سُئل أَبِي عن عَلِي بن جَرِير البَاوُرْدِي، فقال: صَدُوق، ولا أَظنّه هذا الَّذي في إِسْنَادِنا، كَأَنَّ هَذا مُتَأَخِّرٌ» ( کچھ معلوم نہیں کہ یہ کون ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں؛ مگر میں اتنی بات کا اضافہ کرتا ہوں کہ ابن ابی حاتم نے ”الجرح والتعدیل“ میں ’علی بن جریر الباوردی‘ کے حالات لکھے ہیں کہ انہوں نے روایت کیا فلاں سے (اصل کتاب میں یہاں بیاض یعنی خالی جگہ ہے)۔ ابو حاتم سے علی بن جریر الباوردی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: وہ ’صدوق‘ (سچے) ہیں، لیکن میرا نہیں خیال کہ یہ وہی شخص ہے جو ہماری سند میں ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہ کوئی بعد کا (متأخر) راوی ہے یعنی یہ وہ راوی ہے ہی نہیں جس پر حکم لگایا گیا تھا!)
3۔ غیر مقلدین کے مایہ ناز ناصر الدین البانی کا فیصلہ
غیر مقلدین کے سب سے بڑے محدث علامہ البانی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب (سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة: 11/755) میں ابن ابی حاتم کا مآخذ نقل کرنے کے بعد دو ٹوک فیصلہ دیا: «لم أَجِدْ لَهُ تَرْجَمَة في غَيْر المَصْدَر المَذْكُور، وَهي غَيْر كَافِيَة لِجهَالةِ مَنْ رَوَى عَنْه، فَهُو شِبْه المَجْهُوْل عِنْدِي، لا سِيّما وَقَد خُوْلِف في إِسْنَادِه» (ترجمہ: مجھے مذکورہ بالا مآخذ (الجرح والتعدیل) کے علاوہ کسی اور کتاب میں ان کے حالاتِ زندگی نہیں ملے، اور یہ (معلومات) بھی ان سے روایت کرنے والے راویوں کی جہالت (ناواقفیت) کی وجہ سے کافی نہیں ہیں۔ اس لیے وہ میرے نزدیک ’شِبہ مجہول‘ (مجہول جیسے) ہیں، خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ ان کی سند میں اختلاف کیا گیا ہے)
4۔ ڈاکٹر الشہوان کی تحقیق
معروف عرب محقق ڈاکٹر الشہوان نے اس راوی کے بارے میں حد درجہ تلاش کے بعد صاف
لکھا:«لم أَجِدْهُ» ( میں اسے کسی کتاب میں پا ہی نہیں سکا !) (التوحيد لابن خزيمة ٢/٧٥٧ )
5۔ ڈاکٹر شاکر ذیب فیاض کا موقف
ابن زنجویہ کی مایہ ناز تصنیف "کتاب الاموال" (1/83) کے محقق ڈاکٹر شاکر ذیب فیاض اس راوی کی تفتیش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: «لم أجد من ترجم له»
6۔ محقق شیخ محمد بن مطر الزہرانی کی جرح
کتاب "الفصل للوصل المدرج في النقل" (2/721) کے سلفی محقق ڈاکٹر محمد بن مطر عثمان الزہرانی نے کتاب کے حاشیے میں امام ابنِ حبان کی عادتِ تساہل پر ضرب لگاتے ہوئے لکھا: «لم أجد من ذكره غير ابن حبان في الثقات 464/8»
7۔ تفسير ابن کثیر (طبع أولاد الشيخ) کے محققین کا فیصلہ
تفسیر ابنِ کثیر کی مایہ ناز طبع "اولاد الشیخ" (8/117) کے علما کی کمیٹی نے ایک حدیث کی سند پر کلام کرتے ہوئے علی بن جریر کے صریح مجہول ہونے پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔ وہ پہلے علی بن جریر کے ایک شاگرد کو مجہول کہتے ہیں اور پھر آگے لکھتے ہیں: «وشيخه على بن جرير لا يدرى من هو أيضًا إلا أن ابن أبي حاتم ترجم في "الجرح والتعديل" (6/178): "على بن جرير البارودي روى عن … - كذا بياض بالأصل - سئل أبي عن علي بن جرير البارودي، فقال: صدوق"»
یعنی یہ محققین بھی امام ابو حاتم کے اس کو صدوق کہنے کے حکم سے قطعی متفق نہیں ہیں کیونکہ راوی کے احوالِ جرح و تعدیل مکمل طور پر غائب ہیں)
8۔ شیخ عبدالمجید الشیخ عبدالباری کی گواہی
کتاب "الروايات التفسيرية في فتح الباري" (2/598) کے مصنف شیخ عبدالمجید الشیخ عبدالباری نے بھی ایک حدیث کے ضمن میں علی بن جریر کے بارے میں علامہ احمد شاکر کے اسی موقف کو نقل کیا ہے اور ان کی تحقیق سے کامل اتفاق کرتے ہوئے اسے مجہول تسلیم کیا ہے۔
ثانياً: متن کا بطلان: اس روایت کا متن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ مجھے گھڑا گیا ہے۔ اب ذرا تضادات کا تانہ بانا دیکھیے کہ ایک ہی راوی (علی بن جریر) ایک ہی شخصیت (امام عبداللہ بن
مبارک رحمہ اللہ) کے دربار میں دو بالکل متضاد روپ دھار کر سامنے آتا ہے۔
عاجزانہ روپ (طالبِ علم)
ابن حبان نے اپنی کتاب "الثقات" (6/217) میں ایک روایت نقل کی ہے : «سَمِعت أَحْمد بن مُحَمَّد بن عَمْرو بن بسطَام يَقُول سَمِعت بن مهزاذ يَقُول حَدثنَا عَليّ بن جرير قَالَ سَأَلت عبد الله بن الْمُبَارك بِالْبَصْرَةِ عَن مسَائِل فَقَالَ ائْتِ معلمي قلت وَمن هُوَ قَالَ حَمَّاد بن سَلمَة» ( میں نے احمد بن محمد کو کہتے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ابن قُہزاد سے سنا، انہوں نے کہا: ہم سے علی بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے بصرہ میں عبداللہ بن المبارک سے کچھ مسائل کے بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: 'میرے استاد کے پاس جاؤ۔' میں نے پوچھا: اور وہ کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا: 'حماد بن سلمہ')۔
اس روایت کے مطابق علی بن جریر بصرہ میں امام ابنِ مبارک کی بارگاہ میں ایک ادنیٰ طالبِ علم کی حیثیت سے حاضر ہوتا ہے، انتہائی مؤدبانہ انداز میں مسائل پوچھتا ہے، اور جب امام صاحب اسے اپنے استاد کا پتہ بتاتے ہیں، تو وہ کمالِ عاجزی سے نام دریافت کرتا ہے۔ یہاں وہ سراپا طالبِ علم بنا نظر آتا ہے۔
گستاخانہ اور متکبرانہ روپ
لیکن اس کے برعکس، دوسری طرف خطیبِ بغدادی کی وہ روایت دیکھیے جس میں امامِ اعظم پر طعن اور ان کو چھوڑنے کا فسانہ گھڑا گیا ہے۔ وہاں یہی علی بن جریر، امیر المؤمنین فی الحدیث امام عبداللہ بن مبارک کے سامنے ایک انتہائی جابر، گستاخ اور تند خو حاکم بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وہ وہاں سوال نہیں کرتا، بلکہ گلا پھاڑ کر، انتہائی سخت لب و لہجے میں، رعب جماتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ کی وجہ سے لوگوں نے ایک کافر کو امام بنا رکھا ہے! اور اس گستاخانہ دھمکی پر امام ابنِ مبارک جواب دینے کے بجائے زار و قطار رونے لگ جاتے ہیں۔ ایک جگہ وہ مسائل پوچھنے والا معمولی طالبِ علم ہے، اور دوسری جگہ وہ ابنِ مبارک کو فتوے سنا رہا ہے اور ان پر غصہ ہو رہا ہے۔ یہ صریح تضاد ثابت کرتا ہے کہ یہ روایت متن کے اعتبار سے شدید ترین خرابی اور نکارت کا شکار ہے۔
امام ابنِ مبارک رحمہ اللہ کی پوری زندگی امام ابو حنیفہ کی مدح و ثنا میں گزری۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب امام ابنِ مبارک اور ابو اسحاق الفزاری کی ملاقات ہوتی، تو الفزاری جیسے کی بھی یہ ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ امام ابنِ مبارک کے سامنے امام ابو حنیفہ کی کوئی برائی یا تنقید کر سکیں! اب ایک معمولی اور مجہولِ محض راوی اٹھتا ہے، امام ابنِ مبارک کی خدمت میں حاضر ہو کر سیدھا امامِ اعظم کو (معاذ اللہ) کافر کہہ دیتا ہے، اور ایسے خود ساختہ انکشافات کرتا ہے جن سے خود امام ابنِ مبارک (شاگردِ امامِ اعظم ہونے کے باوجود) بے خبر تھے؟ اور امام ابنِ مبارک اس مجہول کے سامنے توبہ کرنے بیٹھ جاتے ہیں؟
نتیجہ: یہ متن دروغ گوئی کی بدترین مثال ہے، لہٰذا یہ حکایت سنداً اور متناً باطل اور موضوع ہے۔
5۔ ابراہیم بن شماس کی پہلی روایت اور مجاہیل کا تسلسل
خطیب بغدادی نے نقل کیا کہ
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيم بن مُحَمَّد بن سُلَيْمَان المُؤَدِّب، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْر ابن المُقْرِئ، قَالَ: حَدَّثَنَا سلامة بن محمود القَيْسِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بن حَمْدَوَيْه البِيكَنْدِيّ، قَالَ: سَمِعْتُ الحُمَيْدِيّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيم بن شَمَّاس، يَقُولُ: كُنْت مَعَ ابن المبارك بالثغر، فَقَالَ: لئن رجعت من هذه لأخرجن أَبَا حنيفة من كتبي. (تاريخ بغداد: 15/573)
جواب: اس کی سند بھی اندھیروں کا سفر ہے۔
خطیب بغدادی کے استاد ابراہیم بن محمد بن سلیمان المؤدب مجہول ہیں۔
سند کے دوسرے راوی سلامہ بن محمود القیسی کے احوال نامعلوم ہیں، امام ابو بکر بن المقرئ کے علاوہ ان سے کسی کی روایت معروف نہیں اور نہ ہی ائمہ جرح و تعدیل سے ان کی کوئی توثیق ثابت ہے۔
نتیجہ: یہ سند بھی مجہول راویوں کی علت کی وجہ سے گر جاتی ہے۔
صحیح سندوں والے اقوال کا حقیقی مفہوم اور ابراہیم بن شماس کا وہم
اب آئیے ان روایات کی طرف جن کی سندیں بظاہر صحیح ہیں، تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ امام خطیب بغدادی اور امام عبداللہ بن احمد نے اپنی کتاب العلل میں ابراہیم بن شماس اور حسن بن ربیع سے نقل کیا ہے کہ
أَخْبَرَنَا العتيقي، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُوسُف بن أَحْمَد الصَّيْدَلانِي، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن عَمْرو العُقَيْلِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بن إِبْرَاهِيم بن جناد، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر الأعين، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بن شَمَّاس، قَالَ: سعت ابن المبارك، يَقُولُ: اضربوا عَلَى حديث أَبِي حنيفة.
أَخْبَرَنَا عُبَيْد الله بن عُمَر الواعظ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الله بن سُلَيْمَان، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الله بن أَحْمَد بن حَنْبَل، يُقَال حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْر الأعين، عن الحَسَن بن الربيع، قَالَ: ضرب ابن المبارك عَلَى حديث أَبِي حنيفة قبل أن يموت بأيام يسيرة.
امام ابنِ مبارک نے اپنی وفات سے چند دن پہلے فرمایا: "اضربوا على حديث أبي حنيفة" (ابو حنیفہ کی حدیث پر لکیر مار دو/مٹا دو)۔
اس کے ائمہ احناف اور محدثینِ عظام نے جو مسکت جوابات دیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
جواب نمبر 1: کنیت کا اشتراک اور مغالطہ
محدثین جانتے ہیں کہ امام ابنِ مبارک کے اساتذہ میں صرف ایک "ابو حنیفہ" نہیں تھے، بلکہ ایک دوسرے راوی بھی تھے جن کی کنیت ابو حنیفہ تھی۔ ان کا نام ابو حنیفہ الیمامی نَاشِرَة بْن عَبْد الله تھا، جو ابن طاؤس سے روایت کرتے تھے اور امام ابنِ مبارک ان کے شاگرد تھے۔ امام ابنِ حبان ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
"أَبُو حنيفَة اليمامي اسْمه نَاشِرَة بْن عَبْد الله يرْوى عَن بن طَاوس روى عنه بن الْمُبَارك يخطئ على قلَّة رِوَايَته" (الثقات لابن حبان: 7/545، الاستغناء بالكنى: 2/1144)
ابو حنیفہ الیمامی، ان کا نام ناشرہ بن عبداللہ ہے... ابنِ مبارک ان سے روایت کرتے ہیں، اور یہ اپنی قلتِ روایت کے باوجود احادیث میں غلطیاں کرتے تھے۔
جب یہ دوسرے ابو حنیفہ الیمامی حدیث میں خطائیں کرتے تھے، تو یقیناً امام ابنِ مبارک نے انہی کی احادیث کو مٹانے کا حکم دیا تھا، مگر مخالفین نے کم فہمی یا تعصب کی بنا پر اسے امامِ اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت پر محمول کر لیا!
جواب نمبر 2: انفرادی روایات کی علت
اگر بالفرضِ محال یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس سے مراد امامِ اعظم ہی تھے، تب بھی یہ مطلقاً ترکِ امام کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ممکن ہے کہ جن مخصوص روایات پر لکیر مارنے کا حکم دیا گیا ہو، ان کی اوپر کی سند میں کوئی اور راوی ضعیف یا مجروح ہو، یا وہ روایات امام ابنِ مبارک کے نزدیک کسی خاص علتِ حدیثیہ کی وجہ سے مرجوح ہو گئی ہوں۔ یہ اصولِ حدیث کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک حدیث ایک محدث کے نزدیک صحیح اور دوسرے کے نزدیک معلول ہو سکتی ہے۔
جواب نمبر 3: وجہِ ترک کا نامعلوم ہونا
قاعدہ ہے کہ جب کسی جلیل القدر امام کو ترک کرنے کا دعویٰ کیا جائے تو اس کی شرعی اور جرحی وجہِ جواز معلوم ہونا ضروری ہے۔ امام ابنِ مبارک کی پوری زندگی امامِ اعظم کی ستائش میں گزری۔ وہ اچانک بغیر کسی وجہ کے امامِ اعظم کو کیسے ترک کر سکتے تھے؟ چونکہ یہاں کوئی شرعی وجہِ ترک موجود نہیں، لہذا یہ دعویٰ مردود ہے۔
جواب نمبر 4: مستقل تلامذہ کا سکوت اور ابراہیم بن شماس کا انفراد
امام ابنِ مبارک کے جو مستقل شاگرد (اصحابِ ابنِ مبارک) ہیں، ان میں سے کوئی بھی امام موصوف سے ترکِ امام کی بات نقل نہیں کرتا۔ یہ دعویٰ صرف ابراہیم بن شماس کرتے ہیں، اور وہ امام ابنِ مبارک کے باقاعدہ یا مستقل طالب علم نہیں تھے (اگرچہ محدثین نے ان سے روایت کا ذکر کیا ہے مگر ابنِ مبارک سے ان کی باقاعدہ روایات مفقود ہیں)۔
الزامی جواب:
ﻭﻗﺮﺃﺕ ﻋﻠﻰ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺃﺣﻤﺪ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﻌﻠﻞ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ، ﻓﺮﺃﻳﺖ ﻓﻴﻪ ﺣﻜﺎﻳﺎﺕ ﻛﺜﻴﺮﺓ ﻋﻦ ﺃﺑﻴﻪ ﻋﻦ ﻋﻠﻲ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ، ﺛﻢ ﻗﺪ ﺿﺮﺏ ﻋﻠﻰ اﺳﻤﻪ ﻭﻛﺘﺐ ﻓﻮﻗﻪ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺭﺟﻞ، ﺛﻢ ﺿﺮﺏ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺪﻳﺚ ﻛﻠﻪ، ﻓﺴﺄﻟﺖ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﻓﻘﺎﻝ: ﻛﺎﻥ ﺃﺑﻲ ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﻨﻪ ﺛﻢ ﺃﻣﺴﻚ ﻋﻦ اﺳﻤﻪ، ﻭﻛﺎﻥ ﻳﻘﻮﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺭﺟﻞ، ﺛﻢ ﺗﺮﻙ ﺣﺪﻳﺜﻪ ﺑﻌﺪ ﺫاﻙ
عقیلی کہتے ہیں میں نے عبد اللہ بن احمد پر ان کے والد کی کتاب 'العلل' پڑھی۔ تو میں نے اس میں ان کے والد (امام احمد) کی طرف سے علی بن المدینی کے بارے میں بہت سی روایتیں دیکھیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ ان کے نام پر قلم پھیرا ہوا ہے، اور ان کے نام کے اوپر لکھا ہوا ہے: 'ہمیں ایک شخص نے حدیث بیان کی'، پھر پوری حدیث پر بھی قلم پھیرا گیا تھا۔ تو میں نے عبد اللہ بن احمد سے اس بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: میرے والد پہلے ابن المدینی سے حدیث بیان کرتے تھے، پھر بعد میں ان کا نام لینا چھوڑ دیا، اور صرف اتنا کہتے تھے: 'ہمیں ایک شخص نے حدیث بیان کی'، اور پھر بعد میں ان کی حدیث کو چھوڑ دیا۔"
الضعفاء الكبير للعقيلي ٣/٢٣٥ مزید تفصیل قارئین ان لنکس پر پڑھ سکتے ہیں۔
اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح
رہی بات امام ابنِ حبان کی '(المجروحين لابن حبان ت زايد ٣/٧١)' والی روایت کی
وأخبرنا الحسين بن إدريس الأنصاري قال: حدثنا محمد بن علي الثقفي قال : سمعت إبراهيم بن شماس يقول ترك ابن المبارك أبا حنيفة في آخر أمره.
اولاً اس کی سند میں محمد بن علی الثقفی نامی راوی نامعلوم ہے۔ ثانیاً، اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ ابراہیم بن شماس کا اپنا ذاتی فہم اور قول ہے، امام ابنِ مبارک کا فرمان نہیں۔ اور ابراہیم بن شماس اس معاملے میں سخت متعصب تھے، جیسا کہ خطیب بغدادی نے خود ان کے ترجمے میں واضح کیا ہے۔
سب سے مضبوط اور ناقابلِ تردید دلیل: آخری دور کے شاگردوں کی روایات
مخالفین کے اس افسانے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والی سب سے جاندار اور قطعی دلیل یہ ہے کہ امام ابنِ مبارک کے آخری دور کے جلیل القدر اور ثقہ تلامذہ نے امام موصوف کے واسطے سے امام ابو حنیفہ کی روایات کو اپنی زندگی کے آخری ایام تک بیان کیا ہے۔ اگر امام ابنِ مبارک نے آخری عمر میں امامِ اعظم کو ترک کیا ہوتا، تو ان کے یہ جلیل القدر شاگرد ان کے واسطے سے امام ابو حنیفہ کی روایات کبھی آگے منتقل نہ کرتے۔
ملاحظہ فرمائیں ائمہ حدیث کے اسمائے گرامی اور ان کی مرویات:
1۔ الحافظ المحدث یوسف بن عدی التیمی الکوفی (المتوفی 232ھ)
یہ امام بخاری رحمہ اللہ کے شیوخ میں سے ہیں اور انتہائی ثقہ امام ہیں۔ انہوں نے امام ابنِ مبارک کی وفات کے طویل عرصے بعد تک امام ابنِ مبارک کے واسطے سے امام ابو حنیفہ کی روایات بیان کیں۔ امام طحاوی رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں:
"حدثنا محمد بن خزيمة، قال: ثنا يوسف بن عدي، قال: ثنا ابن المبارك، عن أبي حنيفة وسفيان بذلك، وهو قول أبي يوسف ومحمد..." (شرح معاني الآثار: 3/246، ط مصر)
یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ امام ابنِ مبارک آخری وقت تک امام ابو حنیفہ سے روایت کرتے تھے، تبھی ان کے آخری دور کے شاگردوں نے اسے محفوظ کیا۔
2۔ الحسن بن الربیع البجلی الکوفی (المتوفی 221ھ)
یہ بھی امام ابنِ مبارک کے آخری دور کے ممتاز شاگرد ہیں۔ ان کی روایت دیکھیے:
"حدثنا إسحاق بن الحسن الحربي، ثنا الحسن بن الربيع، ثنا عبد الله بن المبارك، عن أبي حنيفة، عن يحيى بن عامر... أن رسول الله ﷺ بعثه إلى مكة فقال: انطلق إلى أهل الله، انههم عن أربع خصال..." (فوائد أبي بكر النصيبي: 1/169، مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم: 1/266)
حسن بن ربیع کا امام ابنِ مبارک کے واسطے سے امام ابو حنیفہ کی روایت بیان کرنا اس باطل نظریے کا ناطقہ بند کر دیتا ہے۔
3۔ عبدان بن عثمان المروزی (المتوفی 220ھ) اور علی بن الحسن بن شقیق (المتوفی 225ھ)
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں ان دونوں بزرگوں کے واسطے سے امام ابنِ مبارک کی روایت نقل کی ہے:
"أنا عبدان بن عثمان، أنا عبد الله بن المبارك، أنا سفيان، وشعبة، وأبو حنيفة، عن موسى بن أبي عائشة، عن عبد الله بن شداد..." اور اگلی ہی سند میں: "نا علي بن الحسن بن شقيق، أنا عبد الله بن المبارك، عن سفيان، وشعبة، وأبي حنيفة فذكره..." (القراءة خلف الإمام للبيهقي: 1/148)
ان کے علاوہ یحییٰ بن عبدالحمید الحِمّانی نے بھی امام ابنِ مبارک کے واسطے سے امامِ اعظم کی روایات نقل کی ہیں۔
دلیلِ قاطع: کتاب الورع کا وہ تاریخی واقعہ جو کذب و افترا کی بنیادیں ہلا دے
امام ابو بکر المروذی رحمہ اللہ اپنی معرکہ آرا تصنیف کتاب الورع میں رقمطراز ہیں:
وحدثنا القاسم بن محمد قال: سمعت إسحاق بن راهويه يقول: كنت صاحب رأي فلما أردت أن أخرج إلى الحج عمدت إلى كتب عبد الله بن المبارك، واستخرجت منها ما يوافق رأي أبي حنيفة من الأحاديث، فبلغت نحو من ثلثمائة حديث ۔۔۔ الخ (الورع ص 122 رقم 401 ت سمير الزهيري، وص 75 طبع قدیم)
سند کی توثیق :
اس واقعے کی سند شیشے کی طرح صاف اور سورج کی طرح روشن ہے۔ اس کے راوی القاسم بن محمد بن الحارث المروزی ہیں، جنہیں امام ابو حاتم رازی نے "صدوق" اور خطیبِ بغدادی نے "ثقہ" لکھ کر ان کی عدالت پر مہرِ تصدیق ثبت کی ہے۔
واقعے کا پسِ منظر اور علمِ رجال کے آئینے میں اس کا محاکمہ:
اس صحیح السند واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ (جو امام احمد بن حنبل کے ہم پلہ اور جلیل القدر محدث ہیں) ابتدا میں اہل الرائے کے مسلک پر تھے۔ جب انہوں نے حج کا ارادہ کیا، تو انہوں نے اپنے ہم شہری امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کی کتب کا گہرا مطالعہ کیا اور ان کی مرویات سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی تائید اور مستدل میں 300 احادیث کا ایک ضخیم انتخاب تیار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ان احادیث کا جواب عراقی محدثین کے پاس نہیں ہوگا اور وہ لاجواب ہو جائیں گے۔
دورانِ سفر جب وہ بصرہ پہنچے، تو ان کی ملاقات جلیل القدر محدث اور امام سفیان ثوری کے ارشد تلامذہ میں سے امام عبدالرحمن بن مہدی رحمہ اللہ سے ہوئی۔ ابنِ مہدی کو امام ابنِ مبارک سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اسحاق بن راہویہ کا تعلق ابنِ مبارک کے شہر "مرو" سے ہے، تو انہوں نے اشتیاق سے پوچھا: "کیا تمہیں ابنِ مبارک کا کوئی مرثیہ (ان کی وفات پر کہی گئی منقبت یا اشعار) یاد ہے؟"
امام اسحاق بن راہویہ نے فوراً ثقہ محدث امام ابو تمیلہ یحییٰ بن واضح الانصاری المروزی (المتوفی 206ھ، صاحبِ سیر 9/211) کا کہا ہوا وہ مشہور مرثیہ پڑھنا شروع کیا، جس کا ایک شعر یہ تھا:
و برأي النعمان كنت بصيراً ۔۔۔ حین تبغى مقايس النعمان
ترجمہ: اور عبداللہ بن مبارک، امام ابو حنیفہ کی فقہ اور رائے کے حد درجہ شناسا اور اس میں گہرا درک رکھتے تھے، خاص طور پر اس وقت جب امام صاحب کے قیاسی اور فقہی مسائل پیش کیے جاتے تھے!)
یہ سننا تھا کہ امام عبدالرحمن بن مہدی تلملا اٹھے (کیونکہ وہ امام سفیان ثوری کے شاگرد ہونے کے ناطے فکری طور پر امام صاحب کے مسائل سے اتفاق نہیں رکھتے تھے، جس کی تفصیل اعتراض نمبر58 : امام عبدالرحمٰن بن مہدی رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا تحقیقی جائزہ میں دیکھی جا سکتی ہے)۔ انہوں نے اسحاق بن راہویہ کو ٹوکتے ہوئے کہا: "رک جاؤ! تم نے شعر بگاڑ دیا ہے۔ کیا تم ابنِ مبارک کے حق میں امام ابو حنیفہ سے روایت کرنے کو ان کے مناقب اور فضائل میں شمار کرتے ہو؟ حالانکہ عراق میں ابنِ مبارک سے یہی ایک چوک اور بھول ہوئی تھی!" اور پھر ابنِ مہدی نے اپنے دلی تأسف کا اظہار ان الفاظ میں کیا: "ولوددت أنه لم يرو عنه، وأني كنت أفتدي ذلك بعظم مالي" (اور میری شدید خواہش ہے کہ کاش عبداللہ بن مبارک نے ابو حنیفہ سے روایات نہ کی ہوتیں، اور اس کے بدلے میں میں اپنے مال کا ایک بہت بڑا حصہ فدیہ دینے کو تیار تھا!)
اس واقعے کے نتائج
اس میں مخالفین کی عقلوں پر ماتم کرنے کے لیے کئی پہلو موجود ہیں:
1۔ مرو کے پختہ کار محدثین کی گواہی (امام ابو تمیلہ)
امام اسحاق بن راہویہ مرو کے تھے، وہ ابنِ مبارک کی کتب سے 300 احادیث امام صاحب کے حق میں نکال رہے ہیں۔ اگر ابنِ مبارک نے آخری عمر میں امام صاحب کو ترک کیا ہوتا، تو کیا ان کے اپنے شہر کے اس نوجوان طالبِ علم کو پتہ نہ ہوتا؟ چلیں، عذر پیش کیا جائے کہ وہ نوجوان تھے؛ تو امام ابو تمیلہ تو پختہ کار، بوڑھے اور جلیل القدر ثقہ محدث تھے، جو ابنِ مبارک کے شب و روز کے ساتھی تھے۔ انہوں نے ابنِ مبارک کی وفات کے بعد مرثیہ لکھا اور اس میں فخر سے امام صاحب کی فقہ میں ابنِ مبارک کی مہارت کا ذکر کیا۔ اگر ابنِ مبارک نے آخری عمر میں قطعِ تعلق یا ترک کیا ہوتا، تو ابو تمیلہ مرثیے میں یہ شعر کبھی نہ کہتے! معلوم ہوا، مرو کے کسی محدث کو بھی اس نام نہاد "ترک" کی کوئی خبر نہ تھی۔
2۔ امام عبدالرحمن بن مہدی کی حسرت کا راز
امام عبدالرحمن بن مہدی، جو امام ابو حنیفہ سے روایت کرنے کو ابنِ مبارک کی "بھول" قرار دے رہے ہیں اور تمنا کر رہے ہیں کہ کاش انہوں نے روایت نہ کی ہوتی۔ اگر امام ابنِ مبارک نے آخری عمر میں امام صاحب کو ترک کر دیا ہوتا اور توبہ کر لی ہوتی، تو ابنِ مہدی اتنے بڑے حاسدانہ تأسف کا اظہار کیوں کرتے؟ وہ تو خوشی سے اچھل پڑتے اور اسحاق بن راہویہ کو ٹوک کر کہتے: "میاں! تم کس بھول میں ہو؟ ابنِ مبارک نے تو آخری عمر میں ابو حنیفہ کو چھوڑ دیا تھا اور ان کی احادیث مٹا دی تھیں!" لیکن ابنِ مہدی کا خاموش رہنا اور مال کا فدیہ دینے کی تمنا کرنا اس بات کی حتمی دلیل ہے کہ ابنِ مہدی کو بھی معلوم تھا کہ ابنِ مبارک آخری سانس تک امام ابو حنیفہ سے روایت کرنے کے موقف پر قائم رہے اور کبھی رجوع نہیں کیا!حاصلِ کلام: محدثینِ عظام نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کرنے میں چھوٹی سے چھوٹی اور معمولی باتوں کو بھی کتب میں درج کیا ہے۔ اگر ابنِ مبارک جیسے امیر المؤمنین فی الحدیث نے امامِ اعظم کو ترک کیا ہوتا، تو یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی۔ مرو، بغداد، بصرہ اور کوفہ کا بچہ بچہ اس سے واقف ہوتا۔ اس واقعے کا صدیوں تک گمنام رہنا اور چوتھی صدی میں اچانک نمودار ہونا ثابت کرتا ہے کہ یہ محض ایک من گھڑت افسانہ ہے۔
دوسری دلیلِ قاطع: "ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً"
ہم ائمہِ سلف کی ایک اور ایسی گواہی پیش کرتے ہیں جو فقہِ حنفی کی طہارت، نفاست اور تقویٰ پر مہرِ الٰہی ہے۔ امام ابنِ ابی العوام رحمہ اللہ اپنی سندِ حسن کے ساتھ فضائلِ ابی حنیفہ میں نقل کرتے ہیں:
حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً۔
مفہوم: امام محمد بن سلیمان (لوین) نقل کرتے ہیں کہ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور عمرو بن ثابت نے گواہی دی کہ: "ہم نے کبھی، کسی دور میں، کسی ایک بھی ایسے شخص یا محدث کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہ کو اس لیے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار، متقی یا محتاط بننا چاہتا تھا!"
سبحان اللہ! یہ ہے سیدنا امامِ اعظم کے علم کا وہ رعب اور ثقاہت جس کا اعتراف ان کے معاصرین کر رہے ہیں۔ اس گواہی کا صاف اور سیدھا مطلب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کی مجلسِ علم سے جو کوئی بھی جڑا، وہ ان کے علم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ ان کا علم اتنا معتبر، نافع اور شریعت کے اصولوں کے عین مطابق تھا کہ کائنات کے کسی سچے، مخلص اور پرہیزگار انسان کے دل میں کبھی یہ وہم بھی نہیں آیا کہ امام صاحب کا علم تقویٰ کے منافی ہے۔
اگر کسی نے امام صاحب سے فکری اختلاف کیا بھی، تو وہ اس کا ذاتی نظریہ، اجتہادی اختلاف یا معاصرانہ چشمک (تعصب) تو ہو سکتی ہے، لیکن تقویٰ، دیانت، یا امام صاحب میں کسی جرح و ضعف کی بنا پر کسی نے بھی ان کے علم کو خیرباد نہیں کہا۔
حاصلِ کلام اور حتمی فیصلہ
ان تمام دلائلِ قاطعہ اور براہینِ ساطعہ سے یہ بات مہرِ انور کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ: امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک کر دینے کا دعویٰ محض ایک علمی وہم، ابراہیم بن شماس کا انفرادی تفرد یا مجہول راویوں کی دشنام طرازی ہے۔
صحیح اور متصل سندوں سے جو بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہے، وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ امام ابنِ مبارک رحمہ اللہ آخری سانس تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے فضائل کے معترف، ان کی فقہ کے ناقل اور ان سے احادیث روایت کرنے والے تھے۔
جادہِ حق یہی ہے، اور اس کے سوا جو کچھ ہے وہ محض تعصب کی عینک سے دیکھا گیا سراب ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
------------------------------------------------------
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک کرنا ثابت نہیں ۔
ابراہیم بن شماسؒ(م۲۲۱ھ) کی جس روایت کی بنیاد پر امام ابن ابی حاتمؒ(م۳۲۷ھ) وغیرہ ائمہ نےکہا کہ ’’ترکہ ابن المبارک بآخرہ‘‘ ،اس خاص روایت کو ائمہ محدثین بلکہ دیگر کبار اصحاب عبد اللہ بن مبارک ؒنے جھوٹی ،مرجوح،بلکہ خود ابراہیم بن شماسؒ(م۲۲۱ھ) نے اس روایت سے انکار کردیا ہے۔ چنانچہ ثقہ،امام ابو عبد اللہ ابن ابی حفص البخاریؒ(م۲۶۴ھ) فرماتے ہیں کہ
قال ابو اسحاق الخلال صاحب عبد اللہ بن المبارک: بلغنی ان ابراہیم بن شماس یقول : ان عبد اللہ بن المبارک ترک ابا حنیفۃ فغمنی ذلک و انکرت،فجئت الی ابراہیم بن شماس و انا شبہ المغضب فقلت بلغنی عنک انک قلت:عبد اللہ ترک ابا حنیفۃ ،فقال معاذ اللہ ما قلت من ہذا شیئاً۔
ابو اسحاق الخلال، عبدالله بن المبارک کے شاگرد کہتے ہیں: مجھے پتہ چلا کہ ابراہیم بن شماس کہتے ہیں کہ عبد الله بن المبارک نے ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تو مجھے اس سے غم ہوا اور میں نے انکار کیا، پھر میں ابراہیم بن شماس کے پاس گیا اور میں کچھ غصہ میں تھا، میں نے کہا: مجھے آپ کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ آپ کہتے ہیں : عبداللہ نے ابو حنیفہ کو چھوڑ دیا ، تو انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ۔
(مناقب الامام ابی حنیفۃ للزرنجری:ص۱۴۲-۱۴۳،نیز دیکھئےکشف الآثار الشریفۃ :ج۲: ص۲۵۲)☆[۱]
ظاہر یہی ہوتا ہے کہ یہ روایت ابراہیم بن شماس ؒ(م۲۲۱ھ) کا وہم تھا،تب ہی تو انہوں نے اس سے رجوع کر لیا۔
اسی طرح صدوق،حافظ الحدیث،امام ابو محمد الحارثیؒ (م۳۴۰ھ) فرماتے ہیں کہ
قال أبو زيد عمران بن فرينام: سمعت بعض أصحابنا يذكرقال:قيل لاحمد بن مردويه إن إبراهيم بن شماس يذكر أن عبد اللہ ترك أبا حنيفة فغضب وقال: ُقـل لابراہیم:أن ثالثة وثلاثين كتاباً من كتب عبد اللہ تكذبك، فكان ّ تأول على عبد اللہ : ثم أنكر جميع ذلك لما أنكر عليه وصرفه إلى غيره۔
ابوزید عمران بن فرینام کہتے ہیں کہ میں نے ہمارے بعض ساتھیوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ احمد بن مردویہ سے کہا گیا: ابراہیم بن شماس کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تو وہ ناراض ہو گئے اور کہا: ابراہیم سے کہو : عبد اللہ کی کتابوں میں سے تینتیسویں کتاب تمہاری تکذیب کرتی ہے، پھر وہ عبد اللہ پر تاویل کرتے تھے، پھر جب ان پر نکیر کی گئی تو ان تمام چیزوں کا انکار کر دیا اور اسے دوسرے کی طرف پھیر دیا۔
(کشف الآثار الشریفۃ :ج۲:ص۲۵۲)
سند کی تحقیق:
(۱) ابو محمد الحارثیؒ(م۳۴۰ھ)صدوق،حافظ الحدیث ہیں،اور
(۲) ابو زید،عمران بن فرینامؒ ثقہ ہیں،جیسا کہ تفصیل گزرچکی۔
(۳) ’’بعض اصحابنا‘‘کی جہالت مضر نہیں،کیونکہ دیگراصحاب عبد اللہؒ نے اس روایت کی تنقید فرمائی ہے،جیساکہ گزرچکا۔
(۴) احمد بن محمد بن موسی،ابو العباس المروزی المعروف بمردویۃؒ(م۲۳۵ھ)ثقہ،حافظ الحدیث اورمکثر عن ابن المبارک ہیں۔(تاریخ الاسلام:ج۵:ص۷۶۴،تقریب)
لہذایہ روایت حسن ہے۔واللہ اعلم
غالباً یہی وجہ ہے کہ صدوق،حافظ ابو محمد الحارثی ؒ(م۳۴۰ھ) کہتے ہیں کہ
إن إبراهيم بن شماس كان ظاهرالعداوة لأبي حنيفة، يروي فی أمر أبي حنيفةأشياء لا تثبت ولا تصح ولا يقبل قوله وقول أمثاله في أبي حنيفة ولا في عبد اللہ ۔۔۔۔۔۔وقد كان أوقع إبراهيم بن شماس في الناس في تأويل تأوله على عبد اللہ: أن عبد اللہ ترك أبا حنيفة حتى انتصب له أصحاب عبداللہ ففسقوه وردوا عليه وكذبوه حتى أنكر ذلك ۔
یقینا ابراہیم بن شماس ابو حنیفہ سے کھلی عداوت رکھتے تھے، اور ابوحنیفہ کے بارے میں بہت سی ایسی چیز میں روایت کرتے تھے جو نہ صحیح ہیں نہ ثابت، اور ان کا اور ان جیسوں کا قول نہ ابو حنیفہ کے بارے میں مقبول ہے نہ ابن مبارک کے بارے میں ، اور ابراہیم بن شماس نے لوگوں کو ایسی تاویل میں مبتلا کر دیا تھا جو انہوں نے عبد اللہ پر کی تھی کہ عبد اللہ نے ابو حنیفہ کو ترک کر دیا، یہاں تک کہ عبد اللہ کے شاگرد ان کے خلاف کھڑے ہوئے ، ان کی تفسیق کی ، ان پر رد کیا، ان کی تکذیب کی یہاں تک کہ انہوں نے ان کا انکار کیا۔
(کشف الآثار:ج۱:ص۲۵۱-۲۵۲)
ثقہ،امام ابو عبد اللہ ابن ابی حفص البخاریؒ(م۲۶۴ھ)فرماتے ہیں کہ
’’وبعض الطاعنين والحاسدين يقول: إن عبد اللہ بن المبارك ترك أقاويل أبي حنيفة وترك مسائله وترك الرواية عنه، فقال أبو عبد الله: سمعت بمكة يذكر هذا الكلام، فأخبرت الحسن بن الربيع -وكان من أصحاب عبدالله بن المبارک فقْلت هذا الكالم فقال: هؤلاءكذبوا على عبدالله، فإني سمعته قبل موته بثلاثة أيام يروي عن أبي حنيفة ويذكر مسائل أبي حنيفة، فمن أخبرك غير هذا فلاتصدقه فإنه كذاب‘‘
بعض طعن کرنے والے اور حاسدین کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن المبارک نے ابو حنیفہ کے اقوال ، ان کے مسائل اور ان سے روایت کرنا ترک کر دیا تھا، ابو عبد اللہ کہتے ہیں: میں نے مکہ میں اس کلام کا تذکرہ سنا تو میں نے عبداللہ بن المبارک کے شاگرد الحسن الربیع سے اس کلام کا ذکر کر کے اس کے بارے میں جانا چاہا تو انہوں نے کہا: یہ لوگ عبد اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، میں نے ان کی وفات سے تین روز پہلے انہیں سنا وہ ابوحنیفہ سے روایت بیان کر رہے تھے اور ان کے مسائل ذکر کر رہے تھے، پس جو تمہیں اس کے علاوہ کوئی بات بتائے اس کی تصدیق نہ کرو کیونکہ وہ کذاب ہے
(مناقب الامام ابی حنیفۃ لابن ابی حفص بحوالہ مناقب الامام ابی حنیفۃ للزرنجری:ص۱۵۸)
لہذا جب عبد اللہ بن المبارکؒ(م۱۸۱ھ) اپنی وفات سے ’’۳‘‘ دن پہلے امام ابو حنیفہؒ(م۱۵۰ھ) سے روایت بیان کی ہے ،ان کے اقوال ذکر کئے ہیں،تو اس سےابراہیم بن شماسؒ(م۲۲۰ھ)وغیرہ کی روایت کی حیثیت ظاہر ہوجاتی ہے۔
خلاصہ یہ کہ
- ابراہیم بن شماسؒ(م۲۲۱ھ)کی روایت وہم اورخطاء ہے،اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے،بلکہ خود ابن شماسؒ (م۲۲۱ھ) نے بھی اپنی روایت سےانکار کردیاتھا۔
- معلی بن اسدؒ(م۲۱۸ھ)کی روایت بھی سند اًضعیف ہے،جیسا کہ تفصیل گزرچکی،نیز اگر سند درست بھی ہوجائے ،تو تب بھی کبار اصحاب عبد اللہ مثلاًحافظ ابو اسحاق الخلالؒ (م۲۴۱ھ)،حافظ ابو العباس مردویہؒ(م۲۳۵ھ) اور حافظ ابو علی ،الحسن بن الربیع البجلیؒ(م۲۲۰ھ) وغیرہ نےاس طرح کی روایات کا رد کردیا ہے۔
- بلکہ وفات سے ’’۳‘‘ دن سے پہلے بھی امام عبد اللہ بن مبارکؒ(م۱۸۱ھ)نے امام صاحبؒ(م۱۵۰ھ)سے روایت بیان کی ہے،لہذاصحیح و راجح یہی ہے کہ امام ابن المبارکؒ(م۱۸۱ھ)،امام ابو حنیفہ ؒ(م۱۵۰ھ)کو ثقہ ،احفظ الناس اور امام المسلمین سمجھتے تھے،یہاں تک آپؒ کی وفات ہوگئی۔واللہ اعلم
اور اللہ تعالی ہم سے کو اپنے اپنے وقت پر کامل ایمان سے خاتمہ نصیب فرمائیں۔۔آمین۔
(۱) مناقب الامام ابی حنیفۃ للزرنجری میں اگرچہ اس روایت کے شروع میں ثقہ،امام ابو عبد اللہ ابن ابی حفص البخاریؒ(م۲۶۴ھ)کا نام لکھا نہیں ہے،لیکن اسی کتاب کے شروع میں صدوق،امام شمس الآئمہ ابو الفضل،بکر بن محمد الزرنجریؒ(م۵۱۲ھ) نے ابو عبد اللہ بن ابی حفصؒ(م۲۶۴ھ) اور ان کی کتاب مناقب ابی حنیفۃ کا نہ صرف ذکر کیا ،بلکہ اس کتاب کی مکمل سند بھی بیان کردی ہے (ص۱۰۷- ۱۰۸) اور اس کتاب میں اکثر جگہ ان ہی کی کتاب سےاستفادہ بھی کیا ہے،نیز اس باب[روایۃ بعض الآئمۃ عن ابی حنیفۃ وقولہم فیہ] کے شروع میں بھی اکثر جگہ انہوں نے امام ابوعبد اللہ ابن ابی حفص البخاریؒ(م۲۶۴ھ) سےیااس سند میں موجود ان کے شیخ کے حوالےسے ہی ائمہ کے اقوال ذکر کئے ہے، (مناقب الامام ابی حنیفۃ للزرنجری : ص ۱۳۰،نیز دیکھئے ۱۳۴،۱۳۵)جس کی واضح مثال یہی ابو اسحاق الخلالؒ(م۲۴۱ھ) روایت ہے ،جس میں صاحب کتاب،امام ابو الفضل، الزرنجریؒ (م۵۱۲ھ) نے یہ روایت مناقب ابی حنیفۃ لابن ابی حفص سے ہی ذکر کی ہے ،مگر ان کا نام نہیں لیا،بلکہ ان کے شیخ ابو اسحاق الخلالؒ(م۲۴۱ھ) کے حوالے سے روایت نقل کردی ہے ۔لیکن امام ابو محمد الحارثی ؒ (م۳۴۰ھ) کی روایت میں امام ابو عبد اللہ ابن ابی حفص البخاریؒ (م۲۶۴ھ) کاذکر ہے،دیکھئےکشف الآثار الشریفۃ :ج۲:ص۲۵۲۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ









تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں