نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کیا امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ(م۲۱۹؁ھ) نے امام ابو حنیفہؒ کو ترک کر دیا تھا؟


کیا امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ(م۲۱۹؁ھ) نے امام ابو حنیفہؒ کو ترک کر دیا تھا؟


- وسمعت ابي يقول سالت ابا نعيم يا ابا نعيم من هؤلاء الذين تركتهم من اهل الكوفة كانو يرون السيف والخروج على السلطان فقال على رأسهم ابو حنيفة

میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو نعیم سے پوچھا: اے ابو نعیم! اہلِ کوفہ میں وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے ترک کیا؟ وہ حکمران کے خلاف تلوار اٹھانے اور خروج کے قائل تھے۔ تو ابو نعیم نے کہا: ان سب کے سرِفہرست ابو حنیفہ تھے۔

(مسائل ابن ابی شیبہ عن شیوخه ١/‏١٢٨)


ظالم یا جابرحکمران کے خلاف خروج

جواب : امام ابو حنیفہؒ پر خروج کے اعتراض کے جواب کے لیے یہ مضمون ملاحظہ کریں

ایک اہم وضاحت

بعض غیر مقلد  اس روایت سے یہ شبہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ گویا امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک کر دیا تھا، حالانکہ یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ اسی نکتے کا تحقیقی و اصولی جائزہ آگے تفصیل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

غیر مقلدین کا شبہ اور اس کی حقیقت

کیا امام ابو نعیمؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو ترک کر دیا تھا؟

 امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے اپنی زندگی کے آخری دور تک امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے روایت کرنا 

ترک نہیں کیا، جیسا کہ متعدد مستند روایات سے واضح ہوتا ہے۔

امام ابو نعیمؒ کے آخری دور کے شاگردوں کی روایات

٦٣٨ - وَحَدَّثَنَا فَهْدٌ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، ﵀، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، ﵂: أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ، أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: إِنِّي أَحِيضُ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِحَيْضٍ وَإِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ مِنْ دَمِكَ ; فَإِذَا أَقْبَلَ الْحَيْضُ فَدَعِي الصَّلَاةَ وَإِذَا أَدْبَرَ فَاغْتَسِلِي لِطُهْرِكِ ; ثُمَّ تَوَضَّئِي عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ»

(شرح معاني الآثار - ط مصر ١/‏١٠٢ )

مثال کے طور پر شرح معانی الآثار میں روایت موجود ہے جس میں امام ابو نعیم، امام ابو حنیفہ کے واسطے سے حدیث بیان کرتے ہیں، اور یہ روایت امام ابو نعیم کے شاگرد أَبُو مُحَمَّدِ فَهْدُ بن سُلَيْمَانَ بن يَحْيَى النَّخَّاسُ الدَّلالُ الكُوفِيُّ ثُمَّ المِصْرِيُّ متوفی 275ھ نقل کر رہے ہیں۔ اگر بالفرض فہد کی پیدائش 200ھ بھی مان لی جائے، تب بھی وہ امام ابو نعیم سے ایسی روایت بیان کر رہے ہیں جو امام ابو حنیفہ کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد کی ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو نعیم نے کبھی بھی امام ابو حنیفہ سے روایت کو ترک نہیں کیا۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَمَاعَةَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «هُوِّنَ عَلَيَّ مَنِيَّتِي؛ فَإِنِّي رَأَيْتُ عَائِشَةَ فِي الْجَنَّةِ» كَذَا، ثَنَاهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ (.. ..) عَنْ عَائِشَةَ، وَجَوَّدَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، وَهُوَ حَدِيثُهُ (مسند أبي حنيفة رواية أبي نعيم ١/‏٧٧ )

اسی طرح مسند ابی حنیفہ بروایت ابی نعیم میں محمد بن الحسن بن سماعہ (متوفی 300ھ) امام ابو نعیم (متوفی 219ھ) کے واسطے سے امام ابو حنیفہ (متوفی 150ھ) کی روایات نقل کرتے ہیں۔ یہ سب امام ابو نعیم کے آخری دور کے شاگرد ہیں، اور ان کا امام ابو نعیم سے امام ابو حنیفہ کی روایات بیان کرنا اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ امام ابو نعیم نے اپنے آخری زمانے تک امام ابو حنیفہ سے روایت جاری رکھی۔

٨٩٥ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رُسْتَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زُفَرِ بْنِ الْهُذَيْلِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أُسْتَحَاضُ وَلَا يَنْقَطِعُ عَنِّي الدَّمُ، قَالَ: «دَعِي الصَّلَاةَ أَيَّامَ حَيْضَتِكِ، فَإِذَا ذَهَبَ أَيَّامُ حَيْضَتِكِ فَاغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ» (المعجم الكبير للطبراني ٢٤/‏٣٦٠ )  


مزید برآں، المعجم الکبیر میں بھی ایسی روایت موجود ہے جس میں امام ابو نعیم کے شاگرد امام بغوی (متوفی 286ھ) امام ابو نعیم کے ذریعے امام ابو حنیفہ سے حدیث نقل کرتے ہیں۔ یہ تسلسل اس دعوے کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیتا ہے کہ امام ابو نعیم نے کسی مرحلے پر امام ابو حنیفہ کو ترک کر دیا تھا۔

آخری دور تک امام ابو حنیفہؒ سے روایت کا تسلسل

ان تمام شواہد سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امام ابو نعیم کے امام ابو حنیفہ سے روایت ترک کرنے کا دعویٰ تاریخی، حدیثی اور عملی اعتبار سے درست نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ان کے آخری دور کے شاگرد اس کثرت اور تسلسل کے ساتھ امام ابو حنیفہ کی روایات نقل نہ کر رہے ہوتے۔

امام ابو نعیمؒ کی نظر میں امام ابو حنیفہؒ کی توثیق

اور امام ابو نعیم رحمہ اللہ، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ثقہ سمجھتے تھے، جس کی تفصیل درجِ ذیل مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے۔

تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 33 : امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ(م۲۱۹؁ھ) کے نزدیک ،امام ابو حنیفہ ؒ(م۱۵۰؁ھ) ثقہ ہیں۔


تیسری بات یہ ہے کہ روایات سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو  ان کے کسی شاگرد نے کبھی ترک نہیں کیا، جیسا کہ مذکورہ روایات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے۔

815 - حدثنا أبي قال: ثنا أبي قال: حدثني محمد بن أحمد بن حماد قال: حدثني محمد بن حماد مولى بني هاشم قال: ثنا محمد بن سليمان قال: قال يحيى بن زكريا بن أبي زائدة وعمرو بن ثابت: ما رأينا أحداً ترك علم أبي حنيفة تورعاً.  ( فضائل أبي حنيفة ، سند حسن ) 

محمد بن سليمان لوين یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدة اور عمرو بن ثابت کا قول نقل کرتے ہیں کہ :ہم نے کبھی کسی ایسے شخص کو نہیں دیکھا جس نے امام ابو حنیفہؒ کا علم اس وجہ سے چھوڑا ہو کہ وہ دین میں زیادہ پرہیزگار یا محتاط بننا چاہتا ہو۔

 وضاحت:

یعنی ہم نے کسی محدث یا فقیہ کو نہیں دیکھا جس نے ابو حنیفہ کا علم (اس خیال سے ) چھوڑ دیا ہو کہ وہ ( علم ) تقویٰ کے خلاف ہے۔"

لہٰذا خلاصہ یہی ہے کہ امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے کبھی بھی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کو ترک نہیں کیا۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...