بدعاتِ ہلحدیث
مولانا عبد الرحمٰن عابد صاحب حفظہ اللہ (قسط:۲)
شُمارہ نمبر 40
مأخوذ مجلّہ راہِ ہدایت
11: چارسے زائد نکاح
نواب نورالحسن خان غیرمقلد نے تفصیلی بحث کی ہے کہ چار سے زیادہ نکاح بھی جائز ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں عَرفُ الجادی، ص 111-112)
اسی طرح ان کے والد نواب صدیق حسن خان غیرمقلد نے بھی کہا ہے کہ چار سے زائد نکاح جائز ہیں ۔
(ظفراللاضی بما یجب فی القضاء علی القاضی، ص 296، ناشر : دار ابن حزم)
یہ بھی گروہ اہلحدیث کی بدترین بدعت ہے۔کیونکہ یہ دعویٰ نہ صرف شریعت کے واضح حکم کے خلاف ہے بلکہ امت کے اجماعی فہم کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ قرآن کی آیت "فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبٰعَ" میں چار کی حد واضح ہے، اس سے تجاوز کرنا شریعت کی حد شکنی ہے۔ ایسی رائے محض خواہشاتِ نفس یا غیر معتبر اجتہاد کا نتیجہ ہے، اور یہی بدعت کی پہچان ہے دین میں ایسی بات شامل کرنا جو نبی ﷺ اور صحابہؓ سے ثابت نہ ہو۔
12 : جمعہ کی نماز سے معافی
نواب نورالحسن خان غیرمقلد لکھتے ہیں :
”وبربعیدالمکان واجب نیست اگرچہ نداء بشنود بنا بر مزید مشقت دواں“(عرف الجادی، ص 41)
کہ اگر کسی کا گھر مسجد سے کچھ فاصلے پر ہو، اگرچہ وہ اذان سن لے، تو مشقت کی وجہ سے اس پر جمعہ واجب نہیں۔
سبحان اللہ! جب کوئی غیرمقلد بغیر اجتہاد کے اپنی مرضی کا فتویٰ دینے لگے تو ایسے ہی دین کے اصول بدلنے لگتا ہے۔یہ رائے نہ صرف سنتِ نبوی کے خلاف ہے بلکہ صحابہؓ کے تعامل سے بھی متصادم ہے۔ اذان سننے کو ہی شرعاً نماز کے وجوب کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مشقت کا بہانہ بنا کر فرض عبادت کو ساقط کرنا دین میں نئی راہ نکالنا ہے اور یہی بدعت ہے۔
13 : تراویح دو رکعت
امین اللہ پشاوری غیرمقلد کا کہنا ہے :
"تراویح دو رکعت بھی ہو سکتی ہے" (کیسٹ سوال و جواب)
آخر یہ کس آیت یا حدیث میں آیا؟یہ دعویٰ تراویح کی سنتِ مؤکدہ کی توہین اور امت کے متواتر عمل کو توڑنے کے مترادف ہے۔ 20 رکعت تراویح پر امت کا مسلسل اجماع رہا ہے، اس میں کمی کی گنجائش نکالنا حتی کہ دو رکعت کی جواز کا فتوی دینا محض اپنی فقہی شناخت کے لیے اصول بدلنا ہے۔
14 : قربانی کے دن بیس دن
مولانا بشیر سہوانی غیرمقلد نے اپنی کتاب ایام النحر میں لکھا کہ قربانی کے دن 10 ذوالحجہ سے لے کر آخر ذوالحجہ تک ہیں یعنی قربانی بیس دن تک ثابت کرنے کی کوشش میں ایک کتاب بنام"ایام النحر" لکھی ہے ۔
(دیکھے: ہفت روزہ اہلحدیث، لاہور، 7 مارچ 1997، ص 25)
واہ بھئی! پیٹ کے شوقین حضرات! یہ کون سا "بیس دن کا عید الاضحیٰ" ایجاد کر دیا؟یہ بات بھی نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنت سے، نہ صحابہؓ کے عمل سے۔ شریعت میں ایامِ نحر تین دن متعین ہیں (10، 11، 12 ذوالحجہ)۔ اس میں بیس دن کا اضافہ محض ایک بے بنیاد اختراع اور بدعت ہے، جس کا مقصد شریعت کی حد بندیوں کو توڑنا ہے۔
15 : ماں باپ کو زکوٰۃ دینا
نواب نورالحسن خان غیرمقلد کے مطابق عموم و خصوص کے دلائل سے والدین کو زکوٰۃ دینا جائز ہے ، چنانچہ لکھتےہیں:
ادلہ عموماً و خصوصاً باشند بجواز دفع زکوٰة بسوۓ اصول و فروع"
(عرف الجادی، ص 72)
ترجمہ: "دلائل عام اور خاص دونوں زکوٰۃ والدین اور اولاد کو دینے کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔"
یاد رہے: یہاں "اُصول" سے مراد والدین اور "فروع" سے مراد اولاد ہے۔یعنی مصنف کے مطابق، عام اور خاص دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زکوٰۃ اپنے والدین یا اولاد کو دی جا سکتی ہے۔یہ موقف براہِ راست حدیثِ نبوی ﷺ کے خلاف ہے جس میں والدین کو زکوٰۃ دینا منع کیا گیا ہے، کیونکہ زکوٰۃ فقراء کے لیے ہے اور والدین کا خرچ اولاد پر فرض ہے۔ اس اصول کو بدلنا فقہ کے بنیادی ڈھانچے کو بگاڑنا ہے۔
16 : بھینس کی قربانی
غیرمقلدین کےشیخ الحدیث مولانا محمداعظم صاحب غیرمقلد لکھتےہیں:
"بعض فقہاء نےبھینس کوگاۓ کی ہم جنس قراردیتےہوۓ بھینس اور بھینسے کی قربانی بھی جائز قرار دی ہے مگریہ ایک قیاس ہےآنحضرتﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اور خیرالقرون میں ثبوت نہیں ملتا"
(ہفت روزہ اہلحدیث لاہور 2مارچ 2001)
خود غیرمقلد نے مانا کہ بھینس خیرالقرون کےزمانہ میں نہیں تھا یہ ویسےقیاسی حلال ہے تو جو چیز خیرالقرون میں نہیں تھی، اور قیاس پر ایک چیز حلال بھی نہیں ہوتی اور پھربھی اس کی اجزاء کو حلال کہتےہیں تو کیا اس کو بدعت نہیں کہاجاسکتا؟
توصیف الرحمن زیدی غیرمقلد بھی عدم جواز کی طرف مائل ہے جس کی ویڈیو یوٹیوب پر موجود ہے۔
عبدالقادر حصاری صاحب غیرمقلد لکھتےہیں:
"بھیمة الأنعامکی چارقسمیں بیان کی گئی ہیں، دنبہ ، بکری،اونٹ،گاۓ،بھینس ان چارمیں نہیں اور قربانی کےمتعلق حکم ہے بھیمة الأنعامسےہو اس بناء پر بھینس کی قربانی جائز نہیں"
(فتاوی حصاریہ ج5ص439)
اور زبیر علی زئی غیرمقلد نے اپنی"مقالات" میں یہ بات کی ہے کہ یہ اسلاف سےثابت نہیں ہے۔تو غیرمقلدین اپنےاس نظریہ مذکورہ کے مطابق اس کےبرخلاف عمل کو جایز و کارِ ثواب قرار دینا کیا یہ بدعت سے کم عمل ہے؟
یہی وہ تضاد ہے جس پر بارہا کہا گیا کہ "جو چیز خیرالقرون میں نہ ہو اور اس کے باوجود اسے دین میں داخل کیا جائے، وہ بدعت ہے"۔ اگر اپنے اصول پر چلیں تو بھینس کی قربانی کو فوراً بدعت قرار دینا چاہیے، لیکن یہاں ذاتی مفاد آڑے آتا ہے۔
17 : مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنے کو برا سمجھنا
سلف کا معمول مٹھی سے زائد داڑھی کاٹنا تھا، مگر غیرمقلدین بڑی بڑی بدنما داڑھیاں رکھتے ہیں اور جو مٹھی سے زائد کاٹے اسے برا سمجھتے ہیں۔یہ طرزِ عمل سلف کے عمل کے خلاف اور غیرمقلدانہ ضد کی ایک مثال ہے۔ اگر سلف کے مطابق چلتے تو داڑھی کاٹنے کو برا کہنا چھوڑ دیتے۔ سنتِ صحابہؓ کو ترک کر کے بلکہ اس کا ایسےمنکر کہ
اسے عیب سمجھنا ایک فکری بدعت ہے۔
18 : مطلق تقلید کو برا کہنا
غیرمقلدین تقلید کو بدعت یا شرک کہتے ہیں، مگر خود اپنے اکابر کی تقلید کرتے ہیں، جیسے امین اللہ پشاوری نے امام بخاریؒ کی تقلید کا اعتراف کیا چنانچہ لکھتے ہیں:
"ہم امام بخاریؒ کےاحادیث کے متبعین اور مقلدین ہیں"
(التحقیق السدیدص83، د تقلیدحقیقت او د مقلدینو اقسام ص244)
نوٹ: امین اللہ پشاوری صاحب کی کتاب"د تقلید حقیقت او د مقلدینو اقسام" کا اردو ترجمہ ان کے مناظر مولانا نصیب شاہ سلفی صاحب کراچوی کی نگرانی میں شائع ہوئی ہے بنام"حقیقة التقلید واقسام المقلدین" جس کا مترجم"مولانا فاروق حیدر" نامی ہے اس میں یہ عبارت بالکل سعودی کاکھجورسمجھ کر ہڑپ کیاہے۔
اور مولانا ابوالاشبال احمدشاغف صاحب لکھتےہیں:
"میں پکا مقلد ہوں کتاب و سنت کی تقلیدسےآگےنہیں پڑھتا"
(مقالات شاغف ص284)
اور ثناءاللہ امرتسری نے تقلیدِ مطلق کو اہلحدیث کا مذہب قرار دیا ہے چناچہ لکھتےہیں:
"تقلیدمطلق یہ ہے کہ بغیرتعین کسی عالم سےمسئلہ ہوچھ کر عمل کیاجاۓ جو اہلحدیث کا مذہب ہے"
(فتاوی ثنائیہ ج1ص254)
اس موضوع پر ہمارے ساتھ کثیر تعداد میں حوالہ جات ہے اسی موضوع پر میرا ایک مضمون"تقلیدی اہلحدیث" بھی ماہنامہ ترجمان احناف میں طبع ہوچکا ہے الحمدللہ۔
الغرض یہ کھلا تضاد ہے اپنی تعریف کے مطابق تو یہ بھی بدعت میں آتے ہیں۔ اپنے اصول پر دوسروں کو بدعتی کہنا آسان، مگر خود پر وہ اصول لاگو کرنا گوارا نہیں۔
19 : نماز میں پاؤں زیادہ کھولنا
غیرمقلدین نماز میں اتنا پاؤں پھیلا کر کھڑے ہوتے ہیں کہ صف میں کئی افراد کی جگہ گھیر لیتے ہیں۔یہ فعل نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنت سے، نہ سلف کے عمل سے۔ اس پر اصرار ایک نیا طریقہ ایجاد کرنا ہے، جو عبادت میں بدعت کے زمرے میں آتا ہے۔
20 : مستحب عمل کو لازم پکڑنا
امین اللہ پشاوری غیرولد نے یہ اصل لکھا ہے:
” جو شخص مستحب عمل کو ضروری سمجھے تو وہ بدعت ہوگی“
(الحق الصریح ج4ص411)
یہی پشاوری صاحب ایک جگہ رفع الیدین کو مستحب کہا ہے(دیکھے الحق الصریح ج4ص66)
اب یہی مستحب عمل(بقول ان کے) انہی کے اکابر نے التزام کےدرجہ کو پہنچایا ہے، چناچہ غیرمقلدین کےمحقق کبیر و مناظر رئیس ندوی صاحب لکھتےہیں:
"بوقت رکوع جھکتےاور اٹھتےبھی رفع الیدین فرض و واجب ہے"
پھر لکھتےہیں:
"بوقت رکوع رفع الیدین والا فرض بھی انجام نہ دینےکےسبب سارے دیوبندیہ کی نماز باطل و کالعدم ہوتی ہے"
(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ ص246)
اسی طرح مسعوداحمدغیرمقلد رفع الیدین کی فرضیت پر مستقل رسالہ لکھی ہے بنام"ہمارےنامور علماء علم کی کسوٹی پر رفع الیدین فرض ہے" طبع کراچی۔اور محمد رفیق پسروری صاحب لکھتےہیں:
"رکوع میں جاتےوقت اور اٹھتےوقت رفع الیدین کا مسئلہ نمازکےارکان سےتعلق رکھتا ہے ۔۔۔بلکہ راقم الحروف کےعقیدےکےمطابق تارک کی نماز ہی نہیں ہوتی"
(فتاوی رفیقیہ ص135)
مولانا امان اللہ عاصم صاحب لکھتےہیں:
"اگر رفع الیدین کے بغیر نماز پڑھےگا تو اس کی نمازہرگز قبول نہ ہوگی"
(مجرم کون صفحہ38)
اور عبداللہ روپڑی صاحب غیرمقلد لکھتےہیں:
"نہ کرنےمیں خطرہ ہے کہ نمازمیں نقص آۓ"
(فتاوی اہلحدیث ج1ص463)
یہ اپنا ہی معیار اور اصول بدعت کا سب سے بڑا سبب بنتا ہے۔
21: تراویح کا لفظ
عبدالمتین میمن جوناگڑھی غیر مقلد لکھتے ہیں:
”تراویح کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں استعمال نہیں ہوتا تھا“
(حدیثِ خیر و شر، ص ۵۱)
یعنی "تراویح" کا لفظ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں رائج نہ تھا۔حالانکہ غیر مقلدین خود بھی یہی لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اب چاہیے کہ غیر مقلدین اپنی ہی تعریفِ بدعت بنائیں اور پھر اس مسئلے میں بھی اسے فٹ کریں۔
یہاں غیر مقلدین کی علمی کمزوری واضح ہے۔ اگر "لفظ تراویح" کا استعمال نہ ہونا بدعت ہے، تو پھر ان حضرات کو چاہیے کہ وہ بھی یہ لفظ نہ بولیں۔ لیکن عملاً وہ خود اس لفظ کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ گویا ان کے اصول کے مطابق وہ خود بدعتی ہوئے۔
22: لفظ "اللہ" کے ساتھ ذکر
غیر مقلدین کا نظریہ ہے کہ لفظ "اللہ" کے ساتھ ذکر کرنا بدعت ہے ۔
(البنیان المرصوص، ص ۲۴؛ الحق الصریح، ج ۱، ص ۲۳۲ و ۶۵۰ وغیرہ)۔
لیکن یہی لفظ "اللہ" وہ خود بھی استعمال کرتے ہیں، اور ذکر بھی اسی پر کرتے ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ "اللہ اللہ" کہا کرو۔
مثال کے طور پر عبدالعظیم انصاری غیر مقلد لکھتے ہیں:
”مولانا عبدالرحمن زیادہ تر خدا کی یاد میں مشغول رہتے تھے، بڑے عابد و زاہد بزرگ تھے، حلقہ ذکر میں صرف "اللہ" کی آواز سے لوگ بے ہوش ہو جاتے“
(تذکرۂ علماء بھوجیان، ص ۳۲۶)
مزید لفظ "اللہ اللہ " کےساتھ ذکر دیکھیے: (حدیث خیر و شر، ص ۴۶؛ تقاریر و خطابات از ابوبکر غزنوی، ص ۲۱؛ مولانا عبدالوہاب اور ان کا خاندان، ص ۸۶، ۳۷۸؛ دارالحدیث رحمانیہ دہلی، ص ۶۰، ۶۹، ۱۰۶؛ برصغیر میں علم فقہ، ص ۳۴۱؛ اہل حدیث و سیاست، ص ۳۰۸)
یہاں تضاد کھل کر سامنے آتا ہے۔ لفظ "اللہ" کے ساتھ ذکر کو بدعت کہنا اور پھر اسی پر مجالس ذکر سجانا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ اگر "اللہ اللہ" کہنا بدعت ہے تو غیر مقلدین کے اپنے اکابر سب بدعتی ہوئے۔ اور اگر بدعت نہیں تو پھر دوسروں پر تہمت کیوں؟
یہی ہے وہ علمی دوغلا پن جسے دیکھ کر کہا جا سکتا ہے:
؎ عیبِ غیر نظر آئے، نظر آئے نہ اپنا
یہ اندھی تقلید ہے یا کوئی نرالا تماشا؟
23: مجلسِ ذکر
غیر مقلدین اہلِ حق صوفیاء کی مجالسِ ذکر کو بدعت کہتے ہیں۔لیکن ان کے اپنے مشائخ بھی مجالسِ ذکر کے قائل اور عامل تھے۔ مثلاً عبدالحفیظ غیر مقلد لکھتے ہیں:
“احباب جانتے ہیں کہ حضرت مولانا سید ابوبکر غزنوی رحمہ اللہ کے ہاں ہر جمعرات مجلسِ ذکر منعقد ہوتی تھی“
(تقاریر و خطابات، ص ۵۲)۔
یہاں بھی وہی تضاد ہے ایک طرف صوفیاء کی مجالسِ ذکر کو بدعت کہنا، دوسری طرف اپنے اکابر کی مجلسِ ذکر کو عین دینی شعار بتانا۔ اگر یہ بدعت ہے تو ان کے اکابر بدعتی، اور اگر سنت یا جائز ہے تو پھر دوسروں پر اعتراض کیوں؟یہی وجہ ہے کہ ان کی علمی دنیا خود ساختہ اصولوں کے تضاد سے بھری پڑی ہے۔
24: سر ننگا کر کے نماز پڑھنا
غیر مقلدین بغیر ٹوپی کے نماز کو بلاکراہت جائز بلکہ سنت کہتے ہیں ۔(رحمتِ عالم، ص ۲۲)بلکہ ان کے شیخ التفسیر مفتی عبدالرحمن غیر مقلد نے مستقل ایک کتاب لکھی بنام"کون کہتا ہے کہ ننگے سر نماز نہیں ہوتی؟"۔ حالانکہ ان کے بعض اکابر نے صاف لکھا ہے کہ سر ننگا کر کے نماز پڑھنا کفار کی مشابہت ہے (دیکھے: امین اللہ پشاوری غیر مقلد کی کتاب فتاویٰ الدین الخالص، ج ۱، ص ۳۰۱، پشتو)
یہاں تضاد اور بھی نمایاں ہے۔ اگر ننگے سر نماز پڑھنا سنت ہے تو پھر اس کو "کفار کی مشابہت" کہنا کدھر گیا؟ اور اگر یہ مشابہت ہے تو پھر سنت کیسے ٹھہری؟دراصل یہ حضرات ہر معاملے میں اپنی سہولت کے مطابق اصول بدل لیتے ہیں۔
25: رومال دونوں طرف لٹکانا (سدل)
اکثر غیر مقلدین بغیر ٹوپی کے رومال سر پر رکھتے ہیں اور اس کے دونوں کنارے لٹکاتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں۔حالانکہ یہ قبیح بدعت ہے، بلکہ حدیثِ پاک میں اس سے ممانعت بھی وارد ہے (ترمذی)
یہ عمل بھی غیر مقلدین کے خودساختہ اصولوں کا عکاس ہے۔ جو کام سنت یا ثابت نہ ہو، اسے بدعت کےطور پر بڑے شوق سےکرتے ہیں۔ لیکن جب ان کے اپنے عمل میں وہی بات آ جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔ سر پر رومال لٹکانا اگر بدعت ہے تو ان کے اکثر لوگ اس بدعت میں مبتلا ہیں۔
؎ عیب ان کو نظر آئے جہاں غیر کرے
اپنی حرکت پہ کیوں ان کو اندھی نظر آئے؟
۲۶ : غیر عربی زبان میں جمعہ کا خطبہ دینا
غیر مقلدین جمعہ کے خطبے غیر عربی زبان میں پڑھتے ہیں۔ حالانکہ نبی ﷺ کے زمانے میں عرب و عجم سب موجود تھے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی وضاحت نہ فرمائی کہ خطبہ غیر عربی زبان میں بھی جائز ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”خطبہ عربی زبان میں ہونا شرط ہے“
(کتاب الأذکار، ص ۱۰۴)
اسی طرح شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے بھی اسے متفقہ عمل قرار دیا (شرح مؤطا امام مالک، ج ۱، ص ۱۵۴)۔
غیر مقلدین کے ممدوح علامہ عبدالحق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”غیر عربی زبان میں خطبہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے“
(عمدۃ الرعایہ شرح وقایہ، ج ۱، ص ۲۰۰)
یہاں بھی غیر مقلدین اپنے ہی اصول کے خلاف چلتے ہیں۔ اگر غیر عربی خطبہ بدعت ہے تو ان کے اکثر اکابر اور ائمہ اسی بدعت میں مبتلا ہیں۔ اور اگر وہ جائز ہے تو دوسروں پر طعن و تشنیع کیوں؟یہ علمی تضاد دراصل ان کے منہج کی کمزوری کا مظہر ہے۔
؎ اپنے اقوال میں خود کو جکڑتے گئے
دوسروں کو بدعتی کہہ کے بگڑتے گئے
۲۷: اصول و فروع کی تقسیم
غیر مقلدین مسائل کو “اصول و فروع“ میں تقسیم کرنا بدعت کہتے ہیں۔
جیسے امین اللہ پشاوری غیر مقلد لکھتے ہیں:
”دینی مسائل کو اصولی و فروعی تقسیم کرنا بدعت ہے“
(التحقیق السدید، ص ۴۶)
لیکن دوسری طرف انہی کے اکابر یہی تقسیم استعمال کرتے ہیں۔
چنانچہ مولانا محمد شاہجہانپوری غیر مقلد لکھتے ہیں:
”اصول و فروع دونوں میں حدیث ہی معیار ہے“
(الارشاد الی سبیل الرشاد، ص ۳۸۳، ۳۸۴)
اسی طرح ابوالاشبال احمد شاغف غیر مقلد کہتے ہیں:
”اس مجددِ وقت (ابن حزم) نے اصول و فروع پر کثیر تصانیف چھوڑیں“
(مقالات شاغف، ص ۱۸۹)
اور اسماعیل سلفی غیر مقلد لکھتے ہیں:
“ہم اصول، فروع، فرائض، نوافل، سنن اور واجبات سب کو دین کا حصہ سمجھتے ہیں“
(مقالات حدیث، ص ۹۴)
یہاں تو واضح دوغلا پن ہے۔ ایک طرف اصول و فروع کی تقسیم کو بدعت کہنا، اور دوسری طرف اپنے محققین اور اکابر سے بار بار اسی تقسیم کا استعمال کرنا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا علمی ڈھانچہ تضادات پر قائم ہے۔
؎ ایک بات دو زبانوں سے نکلی الگ الگ
یہاں بدعت بنی، وہاں دین کا حصہ
۲۸: ابتداء بالتلاوت
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ مجلس یا تقریر کی ابتدا تلاوت سے کرنا بدعت ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ خود ان کی مجالس میں ابتدا تلاوت سے ہوتی ہے۔مثال کے طور پر محمد رمضان یوسف سلفی غیر مقلد لکھتے ہیں:
”تقریر سے پہلے تلاوتِ کلام پاک ضروری تھا“
(مولانا عبدالوہاب اور ان کا خاندان، ص ۱۴۴)
اسی طرح:
”ایک قاری نے اپنی قراءت سے جلسے کی ابتدا کا اعلان کیا“
(دارالحدیث رحمانیہ دہلی، ص ۱۰۷)۔
اور:
”پروگرام رات ۹ بجے حافظ عبدالمتین کی تلاوتِ کلام پاک سے ہوا“
(ہفت روزہ اہل حدیث، ۴۱ اکتوبر ۲۰۰۵، ص ۶)۔
“نمازِ ظہر کے بعد جامع مسجد میں قاری محمد ریاض صاحب کی تلاوت سے تقریب کا آغاز ہوا“
(ہفت روزہ الاعتصام، ج ۶۷، شمارہ ۲۵، ص ۳۰)
یہ بھی بدترین تضاد ہے۔ اگر ابتدا بالتلاوت بدعت ہے تو ان کی تمام مجالس و پروگرام بدعتی ہوئے۔ اور اگر یہ جائز ہے تو دوسروں پر اعتراض کیوں؟
یہ دوہرا معیار ان کے منہج کی بنیاد کو ہی مشکوک بناتا ہے۔
۲۹: ”سلفی“ یا ”اثری“ نام رکھنا
آج کل غیر مقلدین اپنے نام کے ساتھ ”سلفی“ یا ”اثری“ لگاتے ہیں۔حالانکہ نہ اللہ تعالیٰ نے اس کی اجازت دی ہے اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے ایسا کیا ہے۔اس لیے ان کے اپنے اصول کے مطابق یہ بھی بدعت ہے۔یہاں بدعت کی تعریف بالکل ان پر صادق آتی ہے۔ خودساختہ نام اور لاحقے لگا لینا کہاں سنت سے ثابت ہے؟ اگر ہر وہ چیز جو زمانہ نبوی میں نہ تھی بدعت ہے تو ”سلفی“ اور ”اثری“ کا لاحقہ بھی بدعت ہوا۔یہ نام دراصل علمی کمزوری کو چھپانے اور اپنے لیے الگ شناخت بنانے کا حربہ ہے۔
۳۰: تعویذ
غیر مقلدین مطلقاً تعویذ کو بدعت کہتے ہیں۔لیکن ان کے اپنے اس دعوے کے مطابق یہ "بدعت" ان کے اپنے گھرانوں اور اکابر کے ہاں بھی پائی جاتی ہے۔
چنانچہ محمد رمضان یوسف سلفی غیر مقلد لکھتے ہیں:
"مولانا بھی، اور مولانا کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالقہار اور بہت سے جماعتی و غیر جماعتی علماء شرعی تعویذات کے قائل ہیں"
(مولانا عبدالوہاب اور ان کا خاندان، ص ۳۰۱)
اسی طرح غیر مقلدین کے شیخ الکل فی الکل، مولانا نذیر حسین دہلوی صاحب بھی تعویذ کے جواز کے قائل تھے۔ وہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
"تعویذ لکھ کر گلے میں ڈالنا جائز ہے، کوئی حرج نہیں ہے"
(فتاویٰ نذیریہ، ج ۳، ص ۲۹۷)
یعنی تعویذ لکھنا اور گلے میں لٹکانا بالکل جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
مزید یہ کہ غیر مقلدین کے "مجدّدِ وقت" نواب صدیق حسن خان نے مستقل ایک کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام ہے "کتاب التعویذات"اس میں ایک مقام پر لکھتے ہیں:
"جس عورت کو دردِ زہ ہو تو کاغذ پر یہ آیت لکھے: والقت ما فیها وتخلّت واذنت لربّها وحقّت، اور اس پرچے کو پاک کپڑے میں لپیٹ کر بائیں ران پر باندھ دے، تو وہ جلد بچہ جن
لے گی۔"
(کتاب التعویذات، ص ۱۱۳)
اسی طرح غیر مقلدین کے اکابر میں سے متعدد نے اس موضوع پر کتابیں لکھیں، مثلاً:
طالب الرحمن غیر مقلد نے"تعویذ کی شرعی حیثیت" نے کر اپنے ہی علماء کےموقف کو جوتے کی نوک پر رکھ دی ہے۔بلکہ اس موضوع پر مستقل مناظرہ بھی کیا ہے اور وہ مناظرہ کتابی شکل میں بھی لکھ چکا ہے دیکھے: "روائیدادِ مناظرہ تعویذ"۔ ان تمام نکات کے مطالعے سے ایک حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے:
غیر مقلدین کا طرزِ عمل دوہرا ہے ۔
جب عوام کے سامنے بات کرتے ہیں تو "بدعت بدعت" کا شور مچاتے ہیں۔ لیکن ان کے اپنے اکابر کے اقوال و افعال انہی چیزوں سے بھرے پڑے ہیں جنہیں یہ بدعت کہتے ہیں۔ اس طرح ان کے ہاں قول و فعل کا تضاد
نمایاں ہے۔
۳۱: "بدعت" کا بے جا استعمال
شریعت میں بدعت اس چیز کو کہا جاتا ہے جس کی دین میں کوئی اصل نہ ہو۔مگر غیر مقلدین نے بدعت کا مفہوم اتنا وسیع کر دیا ہے کہ ہر اختلافی مسئلے پر یہ الزام تھوپ دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اصل بدعت کو پہچاننے کے بجائے امت میں انتشار اور بدگمانی پھیلتی ہے۔
اکابر غیر مقلدین کے اقوال ان کے اصول کے خلاف
چاہے وہ رومال لٹکانا ہو، غیر عربی خطبہ، اصول و فروع کی تقسیم، ابتداء بالتلاوت، سلفی/اثری جیسے نام یا تعویذ…ہر مسئلے میں ان کے بڑے علماء نے یا تو اسے جائز کہا ہے یا خود اس پر عمل کیا ہے۔گویا عوام کے لئے ایک معیار اور اکابر کے لئے دوسرا معیار رکھا گیا ہے۔
خلاصہ :
غیر مقلد یت کا یہ طرزِ فکر دراصل امت میں اضطراب اور خلفشار پیدا کرتا ہے۔اگر ان کے اصول کو مانا جائے تو سب سے پہلے ان کے اپنے اکابر "بدعتی" قرار پاتے ہیں اور اگر اکابر کا عمل و قول حجت ہے (جیسا کہ ہونا چاہیے) تو پھر دوسروں پر "بدعت" کا شور مچانے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔اللہ تعالی ہمیں غیرمقلدیت بدون اجتہاد اور بدعات سےبچا کر صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین
(جاری)
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں