نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 8 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے بعض اصحابِ امام ابو حنیفہؒ پر تنقید فرمائی ہے۔



کتاب  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء  از  محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) 

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر  8 :

امام  أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)  اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں  کہ  حضرت فضیل بن عیاضؒ نے بعض اصحابِ امام ابو حنیفہؒ پر تنقید فرمائی ہے۔

 

حدثنا سليمان بن أحمد ثنا زكريا الساجي ثنا محمد بن زنبور قال سمعت فضيل بن عياض يقول: إن هؤلاء أشربت قلوبهم حب أبي حنيفة وأفرطوا فيه حتى لا يرون أن أحدا كان أعلم منه، كما أفرطت الشيعة في حب علي، وكان والله سفيان أعلم منه


فضیل بن عیاض کہتے ہیں کہ  "ان لوگوں کے دلوں میں ابو حنیفہ کی محبت اس طرح رچ بس گئی ہے اور وہ اس میں اتنے حد سے بڑھ گئے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کوئی بھی اُن سے زیادہ علم والا نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے شیعہ علیؓ کی محبت میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ، قسم اللہ کی! سفیان (ثوری) ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔"

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ٦/‏٣٥٨ )


جواب : حضرت فضیل بن عیاضؒ کی اہلِ رائے کے بعض افراد پر کی گئی تنقید کو اُس تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے جس دور میں اہلِ الرائے اور اہلِ الحدیث کے مابین علمی اختلافات اور مزاجی سختی عام تھی۔ چونکہ فضیلؒ طبعاً صوفی مزاج، زاہد اور مناظرہ و فقہی جدل سے گریزاں شخصیت تھے، اس لیے ایسے مباحث کا ماحول ان کے لیے فطری طور پر ناگوار تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے بعض اہلِ رائے پر شدت کے ساتھ کلام کیا، لیکن غیر مقلّدین کا اس پر خوش ہونا بےمحل ہے، کیونکہ کیونکہ امام فضیل بن عیاضؒ نے صرف اصحابِ رائے ہی پر تنقید نہیں کی بلکہ بعض مواقع پر اصحابِ حدیث پر بھی سخت کلام فرمایا ہے۔ 

1. أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الملك أنبأنا أبو طاهر بن محمود أنبأنا أبو بكر ابن المقرئ حدثنا أبو يعلى الموصلي حدثنا سعيد بن عبد الجبار أبو عثمان قال سمعت الفضيل بن عياض ولقيه جماعة من أصحاب الحديث فقال ما  لكم لو أعلم أنه خير لكم لم أحدثكم ولو أعلم أنه خير لي أن لا أحدثكم ما حدثتكم وما شئ أحب إلي من أن لا أراكم ولا تروني

ہمیں ابو عبداللہ حسین بن عبدالملک نے خبر دی، انہوں نے ابو طاہر بن محمود سے روایت کیا، انہوں نے ابو بکر ابنِ مقرئ سے، انہوں نے ابو یعلی موصلی سے، انہوں نے سعید بن عبدالجبّار ابو عثمان سے، وہ کہتے ہیں: میں نے فضیل بن عیاضؒ کو یہ فرماتے ہوئے سنا—اور اس وقت اصحابِ حدیث  نے ان سے ملاقات کی—فرمایا‘تم لوگوں(اصحابِ حدیث) کو کیا ہوگیا ہے؟ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ (حدیث سنانا) تمہارے لیے بہتر ہے تو میں ضرور تمہیں حدیث سناتا، اور اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میرے لیے بہتر ہے کہ میں تمہیں حدیث نہ سناؤں، تو میں ہرگز تمہیں روایت نہ کرتا۔ اور مجھے اس بات سے زیادہ کوئی چیز محبوب نہیں کہ نہ میں تمہیں دیکھوں اور نہ تم مجھے دیکھو۔’” (تاريخ دمشق لابن عساكر ٤٨/‏٤٣٠ , وسندہ صحیح)


2. أنا أبو الحسن علي بن القاسم بن الحسن الشاهد بالبصرة، نا علي بن إسحاق المادرائي، نا الترمذي، يعني محمد بن إسماعيل نا سويد، قال: ” كان الفضيل بن عياض إذا رأى أصحاب الحديث قد أقبلوا نحوه وضع يديه في صدره وحرك يديه، وقال: أعوذ بالله منكم

  فضیل بن عیاض  جب اصحاب الحدیث کواپنی طرف آتے دیکھتے تواپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ لیتے ہیں اوراپنے ہاتھوں کو حرکت کرتے ہوئے فرماتے کہ میں تم سے خداکی پناہ چاہتاہوں [الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي ١/‏٢١٧اس روایت کی سند میں اگرچہ ایک راوی  سويد ضعیف ہے، لیکن ہم اس روایت کو پہلی صحیح روایت کے بطورِ شاہد پیش کر رہے ہیں؛ چنانچہ صحیح روایت کی موجودگی میں اس روایت کو بھی تقویت حاصل ہو جاتی ہے۔]


خود محدثین کے اندر بھی متعدد مواقع پر بعض اصحابِ حدیث کے بارے میں سخت تنقیدی کلمات ملتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر

3.  سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ جب اہل حدیث کو دیکھتے تو کہتے تم لوگ میری آنکھوں کی تکلیف ہو (جیسے آنکھوں کی ٹھنڈک محبوب چیز ہوتی ہے جیسا کہ نماز ویسے ہی آنکھوں کی تکلیف ، بدترین اور مبغوض چیز اہل حدیث)۔ اگر ہم کو اور تم کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ پا لیتے تو تو سخت مار مارتے۔ ( جامع بيان العلم وفضله لابن عبد البر مالکی رحمہ اللہ : ت ابو اشبال زہیری صفحہ 1028 )


4. ابوبکر بن عیاش اعمش سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا "دنیا میں اہل حدیث سے زیادہ بدتر کوئی قوم نہیں ہے۔ ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے اعمش پر اس قول کے سلسلے میں انکار کیا یہاں تک کہ میں نے بھی اہل حدیث میں وہ بات دیکھ لی جس کو میں جانتا ہوں (یعنی اعمش کا یہ بات کہناصحیح تھا غلط نہ تھا) اس روایت پر سلفی محقق عمرو عبدالمنعم سلیم لکھتا ہے 《 اسنادہ صحیح 》

شرف اصحاب الحدیث و نصیحة اہل الحدیث صفحہ 214

قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


دنیا میں اہل حدیث سے زیادہ بدتر کوئی قوم نہیں ہے۔


خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اہل حدیثوں کو مارنا پیٹنا


اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکابرِ امت نے جہاں بھی افراط و تفریط دیکھی، وہاں اصولی تنبیہ فرمائی—خواہ وہ اہل الرائے میں ہو یا اہل الحدیث میں۔

مزید یہ کہ فضیل بن عیاضؒ خود امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے بعض سخت جملے اصولی اعتراض کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ان کی ذاتی طبیعت اور صوفیانہ مزاج کا اظہار ہیں، جن سے نہ کسی کی عدالت متاثر ہوتی ہے اور نہ فقاہت یا علمی مقام پر کوئی حرف آتا ہے۔  ہمارے مخالفین ہمارے خلاف ایک روایت پیش کرتے ہیں۔

  ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻬﻴﺜﻢ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ ﻗﺎﻝ: ﺣﺪﺛﻨﺎ ﻋﺒﺪ اﻟﻠﻪ ﺑﻦ ﺷﺒﻮﻳﻪ، ﺣﺪﺛﻨﺎ ﺃﺑﻲ، ﺣﺪﺛﻨﺎ اﻟﻘﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ ﻗﺎﻝ: ﺟﻠﺴﻨﺎ ﺇﻟﻰ اﻝﻓﻀﻴﻞ ﺑﻦ ﻋﻴﺎﺽ ﻳﻮﻣﺎ , ﻓﻘﻠﺖ ﻟﻪ: ﻳﺎ ﺃﺑﺎ ﻋﻠﻲ , ﻣﺎ ﺗﻘﻮﻝ ﻓﻲ ﻋﻠﻢ ﺃﺑﻲ ﻳﻮﺳﻒ؟ ﻗﺎﻝ: ﺃﻭﻋﻠﻢ ﻫﻮ؟ اﻧﻈﺮ ﺇﻟﻴﻪ ﻣﺎﺫا ﻳﺼﻨﻊ ﺑﻪ ﻋﻠﻤﻪ.

"ہم ایک دن فُضَیل بن عِیاض کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابوعلی! آپ ابو یوسف (قاضی القضاۃ، امام ابو حنیفہ کے شاگرد) کے علم کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟"

فُضَیل بن عیاض نے جواب دیا: "کیا وہ عالم بھی ہیں؟ ذرا دیکھو تو سہی کہ وہ اپنے علم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں!" (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨)

 ہمارے مخالفین جو روایات ہمارے خلاف پیش کرتے ہیں، اُن کی سند میں ایک راوی اﻟﻘﺎﺳﻢ ﺑﻦ ﺧﺎﻟﺪ مجہول ہے،   لیکن قطع نظر اس بات کے کہ سند کیسی ہے، یہ بات مسلم ہے کہ  قاضی ابو یوسفؒ امت کے متفقہ امام، جلیل القدر فقیہ اور خلیفۂ وقت کے مقرر کردہ چیف جسٹس تھے۔ ان کے علم و فضل پر پوری امت کی شہادت قائم ہے۔ لیکن چونکہ صوفی مزاج اہلِ زہد کے نزدیک حکومتی منصب اختیار کرنا دنیا داری کے مشابہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے فضیلؒ کا یہ جملہ منصبی ناگواری کے پہلو سے ہے، نہ کہ کسی علمی کمی یا خامی کی بنا پر۔ یہ امر بھی معروف ہے کہ نظامِ حکومت، قضاء اور ریاستی امور میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ ناگزیر رہا ہے۔ اگر علما ان مناصب سے کنارہ کش رہتے تو یہ ذمہ داریاں محض اہلِ دنیا کے ہاتھوں میں چلی جاتیں۔ چنانچہ قاضی ابو یوسفؒ کا منصبِ قضاء قبول کرنا علمی، شرعی اور دینی مصلحت پر مبنی فیصلہ تھا، جس نے عدل و شریعت کے نفاذ کو تقویت دی۔ ہاں، ایک زاہدِ مطلق جیسے فضیلؒ کے لیے یہ طرزِ عمل مناسب نہ تھا، مگر اس سے نہ ابو یوسفؒ کے مقام میں کمی آتی ہے، نہ امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت کم ہوتی ہے۔

لہٰذا فضیلؒ کی آرا کو ان کے صوفیانہ مزاج، اُس زمانے کی علمی فضا اور مختلف مکاتب فکر کے باہمی تناؤ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نہ وہ امام ابو حنیفہؒ کے مخالف تھے، نہ ان کے اقوال کسی امام کی تنقیص پر دلالت کرتے ہیں، اور نہ ہی اس میں کسی دوسرے گروہ کے لیے خوشی کا کوئی جواز موجود ہے۔ یہ محض اُس دور کے فکری رجحانات اور طبیعتی کیفیتوں کا ایک اظہار ہے۔خود فضیلؒ کے امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ میں شامل ہونے کی صریح گواہی امامِ محدث وکیعؒ نے بیان فرمائی ہے۔

حدثنا ابن كرامة، قال: كنا عند وكيع يوماً فقال رجل: أخطأ أبو حنيفة، فقال وكيع: كيف يقدر أبو حنيفة يخطئ ومعه مثل أبي يوسف، وزفر في قياسهما، ومثل يحيى بن أبي زائدة، وحفص بن غياث، وحبان، ومندل في حفظهم الحديث، والقاسم بن معن في معرفته باللغة العربية، وداود الطائي، وفضيل بن عياض في زهدهما وورعهما؟ من كان هؤلاء جلساؤه لم يكد يخطئ؛ لأنه إن أخطأ ردوه.

امام  ابن کرامہ حنفی ایک دن امام وکیع حنفی رحمۃ اللہ علیہ  کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ایک آدمی نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  نے خطا کی تو امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  خطا کر کیسے سکتے ہیں ؟ حالانکہ ان کے ساتھ ابو یوسف اور امام زفر اپنے قیاس کی مہارت سمیت موجود ہیں اور یحیی بن ابی زائدہ ، حفص بن غیاث ، حبان اور مندل اپنے حفظ حدیث کے ساتھ موجود ہیں اور قاسم بن معن عربی لغت کی معرفت کے ساتھ موجود ہیں اور داؤد طائی اور فضیل بن عیاض اپنے زہد اور تقوی کے ساتھ موجود ہیں جس کے ہم نشین ایسے ہوں اس سے خطا نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ اگر وہ خطا کرے گا تو یہ ہم نشین اس کو صحیح کی طرف پھیر دیں گے۔

     (تاريخ بغداد ت بشار 16/365 )أخبار أبي حنيفة وأصحابه ص158 ، وهذا إسناد صحیح


جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سفیانؒ امام ابو حنیفہؒ سے بڑے عالم تھے، تو یہ محض حضرت فضیل بن عیاضؒ  کی ذاتی رائے ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ خود امام سفیانؒ بھی فقہی مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کی طرف رجوع فرمایا کرتے تھے( الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء - ابن عبد البر - الصفحة ١٤٦)۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 25 : امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کے طرزِ عمل سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی عظمت کا روشن ثبوت اعتراض سے اعتراف تک: امام سفیان ثوریؒ کا امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں رویہ


 اس لیے غیر مقلدین کے لیے اس میں خوش ہونے کا کوئی محل نہیں، کیونکہ ترکِ رفع الیدین—یہ دونوں جلیل القدر ائمہ (سفیانؒ ،  امام ابو حنیفہؒ ) کا مسلک ہے۔ باقی رہے امام سفیان اور امام ابو حنیفہ، تو دونوں امت کے معتمد امام ہیں، دونوں پر اللہ کی بے شمار رحمتیں ہوں۔



قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ






تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...