نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 5: امام محدث ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) اپنی کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں خطیب بغدادیؒ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، پھر (اسی نسبت کے نتیجے میں) ان سے اس قول سے توبہ کروائی گئی۔



کتاب  المنتظم في تاريخ الأمم والملوك  از  محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ)  

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


امام محدث ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) اپنی  کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں خطیب بغدادیؒ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ  وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، پھر (اسی نسبت کے نتیجے میں) ان سے اس قول سے توبہ کروائی گئی۔


اعتراض نمبر 5:
. أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال: أخبرنا أبو بكر أحمد بن علي الحافظ قَالَ: المشهور عَنْ أبي حنيفة أنه كَانَ يَقُول بخلق القرآن ثُمَّ استتيب منه 

عبدالرحمٰن بن محمد نے ہمیں خبر دی کہ ابو بکر احمد بن علی حافظ نے بتایا: امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، پھر ان سے اس قول سے توبہ کروائی گئی۔
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/‏١٣٣)


الجواب :  ابن جوزی نے یہاں خطیب بغدادی سے آدھی بات نقل کی ہے، پوری بات نقل نہیں کی، حالانکہ خطیب بغدادی نے اپنی کتاب میں جو عبارت درج کی ہے، وہ یہ ہے:

"وَأَمَّا القَوْلُ بِخَلْقِ القُرْآنِ فَقَدْ قِيلَ إِنَّ أَبَا حَنِيفَةَ لَمْ يَكُنْ يَذْهَبُ إِلَيْهِ وَالْمَشْهُورُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُهُ وَاسْتُتِيبَ مِنْهُ. فَأَمَّا مَنْ رَوَى عَنْهُ نَفْيَ خَلْقِهِ."

 

یعنی  قرآن کے مخلوق ہونے کے قول کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اس کے قائل نہیں تھے، تاہم ان کے بارے میں یہ بات مشہور کر دی گئی کہ وہ اس کے قائل تھے اور اسی بنا پر ان سے اس قول سے توبہ کروائی گئی۔ البتہ بعض لوگوں نے ان سے یہ بات بھی روایت کی ہے کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کی نفی کرتے تھے۔ (تاريخ بغداد - ط العلمية ١٣/‏٣٧٤)

ابن جوزی نے جو عبارت نقل کی ہے، وہ خطیب بغدادی کے حوالے سے صرف آدھی بات پر مبنی ہے اور اسی آدھی بات کو انہوں نے فیصلہ کن قرار دے دیا ہے، حالانکہ خطیب بغدادی کی اصل کتاب میں اس مسئلے کی مکمل وضاحت موجود ہے۔

جبکہ ابن جوزیؒ نے خطیب بغدادیؒ کی پوری عبارت نقل نہیں کی، بلکہ صرف اسی حصے کو لیا جس میں “مشہور ہونے” اور “توبہ کروانے” کا ذکر ہے، اور اس کے مقابل موجود نفی اور اختلافی پہلو کو حذف کر دیا۔ اس سے قاری کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا خطیب بغدادیؒ کا فیصلہ بھی یہی تھا، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں۔

 اگر ہم خطیب بغدادی کی کتاب کو  دیکھیں تو وہاں صحیح سند کے ساتھ وہ روایات بھی موجود ہے جس میں امام ابو حنیفہ کے قرآن کے مخلوق ہونے کے انکار کی صراحت کی گئی ہے۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر5 :امام اعظم ابو حنیفہ سے عقیدہ خلق قرآن کی تردید اور فرقہ جھمیہ کی تردید کا ثبوت


چنانچہ ابن جوزی کا صرف آدھی بات نقل کرنا نہ صرف ان کی کسی ممکنہ غلطی کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ یہ ان کے تعصب کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔علمی دیانت کا تقاضا یہ تھا کہ ابنِ جوزیؒ یا تو خطیب بغدادیؒ کی پوری عبارت نقل کرتے، یا کم از کم اس اختلافی پہلو کی طرف اشارہ ضرور کرتے جسے خطیب بغدادیؒ نے خود ذکر کیا ہے۔ لیکن جب ایک مؤرخ کسی امام کے بارے میں صرف وہ حصہ نقل کرے جو الزام کو تقویت دیتا ہو اور اس کے مقابل موجود نفی  کو حذف کر دے، تو یہ محض سہو یا اختصار نہیں رہتا بلکہ لغزش اور واضح جانبداری بن جاتا ہے۔
 ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر آدھی بات نقل کی تاکہ امام ابو حنیفہ پر بے بنیاد الزام لگایا جا سکے۔ تاہم، اللہ کی شان ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مخالفین کے تمام تر جتن کے باوجود امام ابو حنیفہ کی علمی عظمت اور فقہی مقام کو کبھی مٹایا نہیں جا سکا۔   قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...