نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ) میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :

 


کتاب  المنتظم في تاريخ الأمم والملوك  از  محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ)  

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اس پوسٹ میں ہم امام محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ)    کی کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك  میں موجود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ البتہ وہ اعتراضات و تنقیدات جن کا تفصیلی جواب ہم پہلے کسی اور پوسٹ میں دے چکے ہیں، اُنہیں یہاں دوبارہ ذکر نہیں کریں گے، بلکہ ان کا لنک فراہم کریں گے جو ہماری "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود ہوگا۔ اس طرح قارئین وہاں جا کر ان کے جوابات تفصیل سے مطالعہ کر سکیں گے۔ 


امام ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ:  

قَالَ مؤلف الكتاب: وبعد هَذَا فاتفق الكل عَلَى الطعن فِيهِ، ثُمَّ انقسموا عَلَى ثلاثة أقسام:

فقوم طعنوا فِيهِ لما يرجع إِلَى العقائد والكلام فِي الأصول.

وقوم طعنوا فِي روايته وقلة حفظه وضبطه. قَالَ مؤلف الكتاب : وبعد هَذَا فاتفق الكل عَلَى الطعن فِيهِ، ثُمَّ انقسموا عَلَى ثلاثة أقسام:

فقوم طعنوا فِيهِ لما يرجع إِلَى العقائد والكلام فِي الأصول.

وقوم طعنوا فِي روايته وقلة حفظه وضبطه.

وقوم طعنوا فِيهِ لقوله بالرأي فيما يخالف الأحاديث الصحاح. فأما القسم الأول:


سب نے  امام ابو حنیفہ  پر اعتراض کیا، پھر وہ تین حصوں میں تقسیم ہوگئے:

  1. ایک گروہ نے  امام ابو حنیفہ  پر اعتراض کیا کیونکہ یہ عقائد اور اصولی باتوں پر بات کرتا ہے۔

  2. دوسرا گروہ  امام ابو حنیفہ   کی روایت اور کم حافظہ ہونے پر اعتراض کرتا ہے، یعنی اس کے حفظ اور ضبط میں کمی تھی۔

  3. اور ایک گروہ نے امام ابو حنیفہ  پر اعتراض کیا کیونکہ وہ اپنی رائے سے ایسی باتیں کرتا ہے جو صحیح احادیث کے مخالف ہوتی ہیں۔ جہاں تک پہلے گروہ کا تعلق ہے، تو...

(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/‏١٣٢)

اس کے بعد ابن الجوزی نے عموماً وہی روایات نقل کی ہیں جو خطیب بغدادی نے امام ابو حنیفہ کی مخالفت اور مذمت میں ذکر کی تھیں۔ ابن الجوزی نے ان روایات کو اپنی طویل اسناد کے ساتھ تین اقسام پر تقسیم کیا ہے۔ چونکہ ہم ان روایات کا تفصیلی جائزہ پہلے ہی پیش کر چکے ہیں، لہٰذا یہاں ہم صرف ان روایات کی عربی عبارات نقل کریں گے اور ان کے جوابات کے لنکس بھی فراہم کریں گے۔

اعتراض نمبر 1:

فأخبرنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ الْقَزَّازِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أحمد بن علي بن ثابت قال: أخبرنا علي بْن مُحَمَّد المعدل قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بْن عَمْرو البختري الرزاز قَالَ: حَدَّثَنَا حسن بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا حمزة بْن الحارث بْن عمير ، عَنْ أبيه قَالَ: سمعت رجلا يسأل أبا حنيفة فِي المسجد عَنْ رجل قَالَ: أشهد أن الكعبة حق، ولكن لا أدري هي هَذِهِ الَّتِي بمكة أم لا؟ فَقَالَ: مؤمن حقا. وسأله عَنْ رجل قال: أشهد أن محمدا عَبْد اللَّه نبي، ولكن لا أدري هو هَذَا الَّذِي قبره بالمدينة أم لا؟ قَالَ: مؤمن حقا. / قَالَ الحميدي: ومن قَالَ هَذَا فقد كفر .

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



اعتراض نمبر 2:
 أَخْبَرَنَا القزاز قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَد بن علي الحافظ قال: أخبرنا محمد بن الحسين بْن الفضل قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْد اللَّه بْن جَعْفَر بْن درستويه [٣] قَالَ: حَدَّثَنَا يعقوب بْن سفيان قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيّ بْن عثمان بْن نفيل قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مسهر قَالَ: حدّثنا يحيى بن حَمْزَة: أن أبا حنيفة قَالَ: لو أن رجلا عَبْد هَذَا البغل [١] يتقرب به إِلَى اللَّه لم أر بذلك بأسا  .

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 3:
 أَخْبَرَنَا القزاز قال: أخبرنا أحمد بن علي قال: أخبرنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْن عَبْد اللَّه السراج قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن مُحَمَّد بْن عبدوس قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن سعيد الدارمي قَالَ: حَدَّثَنَا محبوب بْن موسى الأنطاكي [٣] قَالَ: سمعت أبا إسحاق الفزاري يَقُول: سمعت أبا حنيفة يَقُول: إيمان أبي بكر الصديق وإيمان إبليس واحد، قَالَ إبليس: يا رب. وَقَالَ أَبُو بكر: يا رب. قَالَ أَبُو إسحاق: ومن كَانَ من المرجئة ثُمَّ لم يقل هَذَا أنكر عليه قوله

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود 

. أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ محمد قال: أخبرنا أحمد بن علي قال: أخبرنا إبراهيم بن محمد بن سليمان المؤدب قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بكر بْن الْمُقْرِئ قَالَ: حَدَّثَنَا سلامة بْن محمود قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْن مُحَمَّد بْن عُمَر قَالَ: سمعت أبا مسهر يَقُول: كَانَ أَبُو حنيفة رأس المرجئة  

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 5:
. أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ قال: أخبرنا أبو بكر أحمد بن علي الحافظ قَالَ: المشهور عَنْ أبي حنيفة أنه كَانَ يَقُول بخلق القرآن ثُمَّ استتيب منه 

عبدالرحمٰن بن محمد نے ہمیں خبر دی کہ ابو بکر احمد بن علی حافظ نے بتایا: امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ وہ قرآن کے مخلوق ہونے کے قائل تھے، پھر ان سے اس قول سے توبہ کروائی گئی۔
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/‏١٣٣)

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



اعتراض نمبر 6:
. وأخبرنا الخلال قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن إِبْرَاهِيم قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَر بْن الْحَسَن القاضي  قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاس بْن عَبْد الْعَظِيمِ قَالَ: حَدَّثَنَا أحمد بن يونس قال: كان أبو حنيفة فِي مجلس عيسى بْن موسى فَقَالَ: القرآن مخلوق. فَقَالَ: أخرجوه، فإن تاب، وإلا فاضربوا عنقه  

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 7:
. قَالَ أَبُو بكر الحافظ: وأخبرني الْحَسَن بْن مُحَمَّد أخو الخلال قَالَ: أَخْبَرَنَا جبريل بن محمد العدل قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بْن حيوية قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بْن غيلان. قَالَ: حَدَّثَنَا يحيى بْن آدم قَالَ: سمعت شريكا يَقُول: استتيب أَبُو حنيفة  مرتين.
 
الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 8:
/ أخبرنا عبد/ الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أبو بكر الحافظ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْن رزق قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن جَعْفَر بْن سلمة قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن عَلِيّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بْن سعيد قَالَ: حَدَّثَنَا محبوب بْن موسى قَالَ: سمعت يوسف بْن أسباط يَقُول: قَالَ أَبُو حنيفة: لو أدركني رسول الله ﷺ وأدركته لأخذ بكثير من قولي.
الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 9:
 القسم الثاني: أنهم ضعفوه لعلة حفظه وضبطه، وكثرة خطأه فيما روى: أَخْبَرَنَا أَبُو منصور القزاز قال: أخبرنا أبو بكر بن ثَابِت قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْمَاطِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَلِيّ بْن أَحْمَد بْن سليمان الصرفي قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَد بْن سعيد بْن أبي مريم قَالَ: سألت يحيى بْن معين عَنْ أبي حنيفة قَالَ: لا تكتب حديثه  . 

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود




اعتراض نمبر 10:
أَخْبَرَنَا القزاز قال: أخبرنا أحمد بن علي قال: أخبرني علي بن محمد المالكي قال: أَخْبَرَنَا عَبْد اللَّهِ بن عثمان الصفار قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّد بْن عثمان الصيرفي قَالَ: حَدَّثَنَا عبد الله بْن عَلي بْن عبد الله المديني قَالَ: سألت عَنْ أبي حنيفة فضعفه جدا.

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



اعتراض نمبر 11:
 وَقَالَ: روى خمسين حديثا أخطأ فِيهَا. أخبرنا القزاز قال: أخبرنا أحمد بن علي قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْن الفضل قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عثمان بْن أَحْمَد الدقاق قَالَ: حَدَّثَنَا سهل بْن أَحْمَد الواسطي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حفص عَمْرو بْن عَلِيّ قَالَ: أَبُو حنيفة ليس بالحافظ، مضطرب الحديث، واهي الحديث.

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



اعتراض نمبر 12:

وَقَالَ أَبُو بكر ابْن أبي داود: جميع مَا روى أَبُو حنيفة من الحديث مائة وخمسون حديثا أخطأ أو قَالَ: غلط فِي نصفها.


الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 13:

 القسم الثالث: قوم طعنوا فِيهِ لميله إِلَى الرأي المخالف للحديث الصحيح، وقد كان بعض الناس يقيم عذره ويقول: مَا بلغه الحديث، وذلك ليس بشيء لوجهين: أحدهما: أنه لا يجوز أن يفتي من يخفى عليه أكثر الأحاديث الصحيحة. والثاني: أنه كَانَ إذا أخبر بالأحاديث المخالفة لقوله لم يرجع عَنْ قوله.

تیسرا گروہ وہ ہے جس نے ان پر اس وجہ سے اعتراض کیا کہ وہ صحیح حدیث کے خلاف رائے اختیار کرنے کی طرف مائل تھے۔

 بعض لوگ ان کا عذر پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ حدیث ان تک پہنچی ہی نہیں تھی، مگر یہ عذر دو وجہوں سے درست نہیں۔

 پہلی یہ کہ جس شخص پر صحیح احادیث کی اکثریت مخفی ہو، اس کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں۔ دوسری یہ کہ جب انہیں ان کی رائے کے خلاف احادیث بتائی جاتیں تو وہ اپنے قول سے رجوع نہیں کرتے تھے۔

(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/‏١٣٥)

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔


اعتراض نمبر 19: امام حماد بن سلمہ رحمہ اللہ اور امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں ایک علمی و تاریخی جائزہ


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر55 : امامِ اعظم ابوحنیفہؒ – فہمِ حدیث کے امام – ائمہ محدثین کی شہادتوں کی روشنی میں


اعتراض نمبر 14:

 أَخْبَرَنَا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أَبُو بكر أَحْمَد بْن عَلِيّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سعيد الحسن بْن مُحَمَّد بْن حيوية الأصفهاني/ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْد اللَّهِ بن مُحَمَّد بن ٦٣/ ب عيسى الخشاب قال: حدّثنا أَحْمَد بْن مهدي قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن إِبْرَاهِيم قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد السَّلامِ بْن عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْن عيسى بْن عَلِيّ الهاشمي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إسحاق الفزاري قَالَ: سألت أبا حنيفة عَنْ مسألة فأجاب فِيهَا فقلت: إنه يروى عَنِ النبي ﷺ فِيهِ كذا وكذا فَقَالَ: حك هَذَا بذنب الخنزير [١] .

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 50: کہ ابو اسحاق الفزاری نے کہا کہ میں نے ابو حنیفہ کے سامنے حدیث بیان کی تو اس نے کہا کہ اس کو چھوڑ دے ، پھر ایک دن اور حدیث بیان کی تو اس نے کہا اس کو خنزیر کی دم کے ساتھ کھرچ دے۔


اعتراض نمبر 15:

 أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن محمد قال: أخبرنا أحمد بن علي الحافظ قال أخبرنا محمد بن أبي نصر النَّرْسِيِّ [٢] قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَهْتَةَ الْبَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْكَوفِيُّ [٣] قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قال: حدثني أبو بكر بن أبي الأسود، عَنْ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ قَالَ: قُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ: رَوَى نَافِعٌ عَنِ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أنه قال: «الْبَائِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» قَالَ: هَذَا زَجْرٌ . قلت: قتادة عَنْ أنس: أن يهوديا رضخ رأس جارية بين حجرين فرضخ النبي ﷺ رأسه بين حجرين. فقال: هذيان


الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 52 : کہ ابو حنیفہ کے سامنے جب 《البيعان بالخيار ما لم يتفرقا》 والى حديث بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ رجز (شعر کی ایک قسم ہے)۔ اور جب یہودی کے سر کوٹنے والی حدیث بیان کی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہ غیر معقول بات ہے۔


اعتراض نمبر 16:

 أخبرنا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرْقَانِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُودٍ الْمَحْمُودِيِّ: حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذكر لأَبِي حَنِيفَةَ قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» فَقَالَ: هَذَا سَجْعٌ. وَذكر لَهُ قَوْلٌ قَالَهُ عُمَرُ فَقَالَ: هَذَا قَوْلُ شَيْطَانٍ . 


الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 53 کہ ابو حنیفہ نے حدیث کو مسجع اور ولاء کے بارہ میں حضرت عمر کے فیصلہ والی روایت کو قول شیطان کہا۔

اعتراض نمبر 17:

أَخْبَرَنَا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أحمد بْن عَلِيّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الخلال قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْن عثمان الصفار قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بن مخلد قال: حدثنا العباس بن مُحَمَّد قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بْن شماس قَالَ: سمعت وكيعا يَقُول: سأل ابْن المبارك أبا حنيفة عَنْ رفع اليدين فِي الركوع فَقَالَ أَبُو حنيفة: يريد أن يطير فيرفع يديه؟  ٦٤/ أفقال له ابن المبارك: إن كان طار فِي الأولى فإنه يطير فِي الثانية. فسكت/ أَبُو حنيفة [٣] . 

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 56 : کہ ابو حنیفہ سے رکوع جاتے وقت رفع یدین سے متعلق پوچھا گیا تو اس نے کہا اڑنا چاہتا ہے تو رفع یدین کر لے۔


اعتراض نمبر 18:

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ محمد قال: أخبرنا أحمد بن علي قال: أخبرنا محمد بن الحسين بن محمد الْمَتُّوثِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ [٤] قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا رَجَاءُ بْنُ السَّنَدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ فَأَتَاهُ رَسُولٌ مِنْ قِبَلِ السُّلْطَانِ فَقَالَ: يَقُولُ الأَمِيرُ: رَجُلٌ سَرَقَ وَدِيًّا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ- غَيْرُ مِتَتَعْتِعٍ- إِنْ كَانَتْ قِيمَتُهُ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَاقْطَعُوهُ. فَذَهَبَ الرَّجُلُ، فَقُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ: أَلا تَتَّقِي اللَّهَ؟ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَيَّان، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أن رسول الله ﷺ قال: «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» [١] أَدْرَكَ الرَّجُلُ فَإِنَّهُ يُقْطَعُ. فَقَالَ- غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ- ذَاكَ حُكْمٌ قَدْ مَضَى فَانْتَهَى، وَقْد قُطِعَ الرَّجُلُ [٢] .

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 61: کہ ابو حنیفہ نے 《 لا قطع في ثمر ، ولا كثر 》 والی حدیث کے خلاف فتوی دیا


اعتراض نمبر 19: 

أَخْبَرَنَا عبد الرحمن قال: أخبرنا أحمد بن علي قَالَ: حَدَّثَنَا ابْن دوما  قَالَ: 

أَخْبَرَنَا ابْن أسلم قَالَ: حَدَّثَنَا الأبار قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عجلان، عَنْ مؤمل  قَالَ:  سمعت حماد بْن سلمة يَقُول: أَبُو حنيفة يستقبل السنة يردها برأيه 

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 60: کہ ابو حنیفہ آثار اور سنت کی طرف متوجہ ہوتے پھر اپنی رائے کی وجہ سے ان کو رد کر دیتے تھے۔


اعتراض نمبر 20:

أَخْبَرَنَا أَبُو منصور القزاز قَالَ: أخبرنا أبو بكر أَحْمَد بْن عَلي قَالَ: أَخْبَرَنَا البرقاني قَالَ: قرأت على أبي حفص بْن الزيات قَالَ: حدثكم عُمَر بْن مُحَمَّد الكاغدي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السائب قَالَ: سمعت وكيعا يَقُول: وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث. 

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 59 : کہ ابو حنیفہ نے دو سو احادیث کی مخالفت کی۔


اعتراض نمبر 21:

أَخْبَرَنَا الْقَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَجْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الفياض قال: أخبرنا أبو طلحة أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّد بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ [٦] قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهُ بْنُ حَسَنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ أَسْبَاطٍ  يَقُولُ: رَدَّ أَبُو حُنِيفَةَ عَلَى رَسُولِ الله ﷺ أربعمائة حَدِيثٍ أَوْ أَكْثَرَ. فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، تَعْرِفُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: أَخْبَرَنِي بِشَيْءٍ. فقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «للفرس سهمان وللراجل/ سهم» ٦٤/ ب قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَنَا لا أَجْعَلُ سَهْمَ بَهِيمَةٍ أَكْثَرَ مِنْ سَهْمِ الْمُؤْمِنِ. 

وَأَشْعَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَصْحَابُهُ الْبُدْنَ، وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: الإِشْعَارَ مِثْلَهُ. 
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفَتَرَّقَا» وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: إِذَا وَجَبَ الْبَيْعُ فَلا خِيَارَ. 
وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُقْرِعُ بَيْنَ نِسَائِهِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ فِي سَفَرٍ وَأَقْرَعَ أصحابه. 

وقال أبو حنيفة: القرعة قمار. وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لَوْ أَدْرَكَنِي النبي ﷺ وأدركته لأخذ بكثير من قَوْلِي، وَهَلِ الدِّينُ إِلا الرَّأْيُ الْحَسَنُ [١] . 

الجواب : اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 58 : یوسف بن اسباط نے کہا کہ ابوحنیفہ نے 400 یا اس سے زائد احادیث کی مخالفت کی اور کہا کہ دین تو صرف اچھی رائے کا نام ہے۔



اعتراض نمبر 22: امام ابو حنیفہؒ اور حدیث میں کبھی کبھی  خطا کا الزام


«وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَغَيْرُ مُتَّهَمٍ إِنَّمَا كَانَ يَقَعُ فِي حَدِيثِهِ غلط وَخطأ».

اور رہا ابو حنیفہ کا معاملہ، تو وہ (روایتِ حدیث میں) متہم نہیں تھے، البتہ ان کی حدیث میں کبھی کبھی غلطی اور خطا واقع ہو جاتی تھی۔
(التحقيق في أحاديث الخلاف ١/‏٣٦٧ — ابن الجوزي ت ٥٩٧)


الجواب :  اس اعتراض  کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود



اعتراض نمبر 23: فقہی اعتراضات

ابنِ جوزی نے امام ابو حنیفہؒ کے خلاف جو فقہی اعتراضات پیش کیے ہیں(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/‏١٣٨)، ان میں وہ روایات  شامل ہیں جن کی بنیاد پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بعض احادیث کی مخالفت کی۔ ابنِ جوزی کے طرزِ بیان کے مطابق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بعض احادیث کو رد کر دیا، اور یہی اسلوب مخالفین کے ہاں معمول بن چکا ہے کہ وہ کسی ایک حدیث کو سیاق و سباق سے کاٹ کر امام ابو حنیفہؒ کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں، پھر خود ہی منصف بن کر یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے حدیث کی مخالفت کی ہے۔ حالانکہ یہ طریقۂ کار علمی دیانت کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ امام ابو حنیفہؒ کی فقہی رائے ہمیشہ کسی نہ کسی مضبوط اصل پر مبنی ہوتی تھی۔ یا تو ان کے نزدیک وہ حدیث ثابت نہیں ہوتی تھی، یا اس کے مقابل کوئی دوسری حدیث، اثرِ صحابی، اجماع، یا اصولی دلیل موجود ہوتی تھی، جس کی بنا پر وہ ایک خاص روایت سے اختلاف کرتے تھے۔ اس اختلاف کو محض “حدیث کا رد” قرار دینا فقہ اور اصولِ استنباط سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے۔

مزید یہ کہ امام ابو حنیفہؒ کے فقہی مسائل پر جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ان کا جواب حنفی علماء نے ہر دور میں دیا ہے، اور گزشتہ چودہ سو برس سے حنفی فقہاء مسلسل ان شبہات کا علمی اور اصولی رد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ابنِ جوزی کے پیش کردہ اعتراضات کوئی نئے یا منفرد نہیں، بلکہ یہی وہ قدیم اعتراضات ہیں جو اس سے پہلے ابنِ ابی شیبہ اور دیگر مخالفین کی طرف سے بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔چونکہ اس موضوع پر تفصیلی کتب اور مستقل مباحث پہلے سے موجود ہیں، اس لیے ہم قارئین کو انہی معتبر تصانیف اور تحقیقی مقالات کی طرف رجوع کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں، جہاں ان تمام اعتراضات کے جامع اور مدلل جوابات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، تاکہ معاملہ پوری تحقیق اور انصاف کے ساتھ سمجھا جا سکے۔











تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...