کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ) میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :
کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ)
میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :
اس پوسٹ میں ہم امام محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ) کی کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك میں موجود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے بارے میں اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔ البتہ وہ اعتراضات و تنقیدات جن کا تفصیلی جواب ہم پہلے کسی اور پوسٹ میں دے چکے ہیں، اُنہیں یہاں دوبارہ ذکر نہیں کریں گے، بلکہ ان کا لنک فراہم کریں گے جو ہماری "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود ہوگا۔ اس طرح قارئین وہاں جا کر ان کے جوابات تفصیل سے مطالعہ کر سکیں گے۔
امام ابن الجوزی لکھتے ہیں کہ:
قَالَ مؤلف الكتاب: وبعد هَذَا فاتفق الكل عَلَى الطعن فِيهِ، ثُمَّ انقسموا عَلَى ثلاثة أقسام:
فقوم طعنوا فِيهِ لما يرجع إِلَى العقائد والكلام فِي الأصول.
وقوم طعنوا فِي روايته وقلة حفظه وضبطه. قَالَ مؤلف الكتاب : وبعد هَذَا فاتفق الكل عَلَى الطعن فِيهِ، ثُمَّ انقسموا عَلَى ثلاثة أقسام:
فقوم طعنوا فِيهِ لما يرجع إِلَى العقائد والكلام فِي الأصول.
وقوم طعنوا فِي روايته وقلة حفظه وضبطه.
وقوم طعنوا فِيهِ لقوله بالرأي فيما يخالف الأحاديث الصحاح. فأما القسم الأول:
سب نے امام ابو حنیفہ پر اعتراض کیا، پھر وہ تین حصوں میں تقسیم ہوگئے:
-
ایک گروہ نے امام ابو حنیفہ پر اعتراض کیا کیونکہ یہ عقائد اور اصولی باتوں پر بات کرتا ہے۔
-
دوسرا گروہ امام ابو حنیفہ کی روایت اور کم حافظہ ہونے پر اعتراض کرتا ہے، یعنی اس کے حفظ اور ضبط میں کمی تھی۔
اور ایک گروہ نے امام ابو حنیفہ پر اعتراض کیا کیونکہ وہ اپنی رائے سے ایسی باتیں کرتا ہے جو صحیح احادیث کے مخالف ہوتی ہیں۔ جہاں تک پہلے گروہ کا تعلق ہے، تو...
اعتراض نمبر 17: امام ابو حنیفہ نے کہا کہ حضرت ابو بکرؓ کا ایمان اور ابلیس کا ایمان برابر ہے
وَقَالَ أَبُو بكر ابْن أبي داود: جميع مَا روى أَبُو حنيفة من الحديث مائة وخمسون حديثا أخطأ أو قَالَ: غلط فِي نصفها.
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 13:
القسم الثالث: قوم طعنوا فِيهِ لميله إِلَى الرأي المخالف للحديث الصحيح، وقد كان بعض الناس يقيم عذره ويقول: مَا بلغه الحديث، وذلك ليس بشيء لوجهين: أحدهما: أنه لا يجوز أن يفتي من يخفى عليه أكثر الأحاديث الصحيحة. والثاني: أنه كَانَ إذا أخبر بالأحاديث المخالفة لقوله لم يرجع عَنْ قوله.
تیسرا گروہ وہ ہے جس نے ان پر اس وجہ سے اعتراض کیا کہ وہ صحیح حدیث کے خلاف رائے اختیار کرنے کی طرف مائل تھے۔
بعض لوگ ان کا عذر پیش کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ حدیث ان تک پہنچی ہی نہیں تھی، مگر یہ عذر دو وجہوں سے درست نہیں۔
پہلی یہ کہ جس شخص پر صحیح احادیث کی اکثریت مخفی ہو، اس کے لیے فتویٰ دینا جائز نہیں۔ دوسری یہ کہ جب انہیں ان کی رائے کے خلاف احادیث بتائی جاتیں تو وہ اپنے قول سے رجوع نہیں کرتے تھے۔
(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/١٣٥)
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 3 :بعض محدثین نے قیاس اور رائے کی وجہ سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراض وغیرہ کئے۔
اعتراض نمبر 14:
أَخْبَرَنَا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أَبُو بكر أَحْمَد بْن عَلِيّ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو سعيد الحسن بْن مُحَمَّد بْن حيوية الأصفهاني/ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْد اللَّهِ بن مُحَمَّد بن ٦٣/ ب عيسى الخشاب قال: حدّثنا أَحْمَد بْن مهدي قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَد بْن إِبْرَاهِيم قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد السَّلامِ بْن عَبْد الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْن عيسى بْن عَلِيّ الهاشمي قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إسحاق الفزاري قَالَ: سألت أبا حنيفة عَنْ مسألة فأجاب فِيهَا فقلت: إنه يروى عَنِ النبي ﷺ فِيهِ كذا وكذا فَقَالَ: حك هَذَا بذنب الخنزير [١] .
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 15:
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بن محمد قال: أخبرنا أحمد بن علي الحافظ قال أخبرنا محمد بن أبي نصر النَّرْسِيِّ [٢] قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بَهْتَةَ الْبَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْكَوفِيُّ [٣] قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ قال: حدثني أبو بكر بن أبي الأسود، عَنْ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ قَالَ: قُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ: رَوَى نَافِعٌ عَنِ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أنه قال: «الْبَائِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» قَالَ: هَذَا زَجْرٌ . قلت: قتادة عَنْ أنس: أن يهوديا رضخ رأس جارية بين حجرين فرضخ النبي ﷺ رأسه بين حجرين. فقال: هذيان
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 16:
أخبرنا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْبَرْقَانِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمُودٍ الْمَحْمُودِيِّ: حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذكر لأَبِي حَنِيفَةَ قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ» فَقَالَ: هَذَا سَجْعٌ. وَذكر لَهُ قَوْلٌ قَالَهُ عُمَرُ فَقَالَ: هَذَا قَوْلُ شَيْطَانٍ .
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 53 کہ ابو حنیفہ نے حدیث کو مسجع اور ولاء کے بارہ میں حضرت عمر کے فیصلہ والی روایت کو قول شیطان کہا۔
اعتراض نمبر 17:
أَخْبَرَنَا عبد الرحمن بن محمد قال: أخبرنا أحمد بْن عَلِيّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الخلال قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْن عثمان الصفار قَالَ: حَدَّثَنَا محمد بن مخلد قال: حدثنا العباس بن مُحَمَّد قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيم بْن شماس قَالَ: سمعت وكيعا يَقُول: سأل ابْن المبارك أبا حنيفة عَنْ رفع اليدين فِي الركوع فَقَالَ أَبُو حنيفة: يريد أن يطير فيرفع يديه؟ ٦٤/ أفقال له ابن المبارك: إن كان طار فِي الأولى فإنه يطير فِي الثانية. فسكت/ أَبُو حنيفة [٣] .
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 18:
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ محمد قال: أخبرنا أحمد بن علي قال: أخبرنا محمد بن الحسين بن محمد الْمَتُّوثِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ [٤] قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا رَجَاءُ بْنُ السَّنَدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ بِشْرَ بْنَ السَّرِيِّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَوَانَةَ يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ فَأَتَاهُ رَسُولٌ مِنْ قِبَلِ السُّلْطَانِ فَقَالَ: يَقُولُ الأَمِيرُ: رَجُلٌ سَرَقَ وَدِيًّا، فَمَا تَرَى؟ فَقَالَ- غَيْرُ مِتَتَعْتِعٍ- إِنْ كَانَتْ قِيمَتُهُ عَشْرَةَ دَرَاهِمَ فَاقْطَعُوهُ. فَذَهَبَ الرَّجُلُ، فَقُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ: أَلا تَتَّقِي اللَّهَ؟ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَيَّان، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أن رسول الله ﷺ قال: «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» [١] أَدْرَكَ الرَّجُلُ فَإِنَّهُ يُقْطَعُ. فَقَالَ- غَيْرَ مُتَتَعْتِعٍ- ذَاكَ حُكْمٌ قَدْ مَضَى فَانْتَهَى، وَقْد قُطِعَ الرَّجُلُ [٢] .
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 61: کہ ابو حنیفہ نے 《 لا قطع في ثمر ، ولا كثر 》 والی حدیث کے خلاف فتوی دیا
اعتراض نمبر 19:
أَخْبَرَنَا عبد الرحمن قال: أخبرنا أحمد بن علي قَالَ: حَدَّثَنَا ابْن دوما قَالَ:
أَخْبَرَنَا ابْن أسلم قَالَ: حَدَّثَنَا الأبار قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن عجلان، عَنْ مؤمل قَالَ: سمعت حماد بْن سلمة يَقُول: أَبُو حنيفة يستقبل السنة يردها برأيه
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 20:
أَخْبَرَنَا أَبُو منصور القزاز قَالَ: أخبرنا أبو بكر أَحْمَد بْن عَلي قَالَ: أَخْبَرَنَا البرقاني قَالَ: قرأت على أبي حفص بْن الزيات قَالَ: حدثكم عُمَر بْن مُحَمَّد الكاغدي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو السائب قَالَ: سمعت وكيعا يَقُول: وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث.
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 59 : کہ ابو حنیفہ نے دو سو احادیث کی مخالفت کی۔
اعتراض نمبر 21:
أَخْبَرَنَا الْقَزَّازُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْبَجْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الفياض قال: أخبرنا أبو طلحة أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّد بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ [٦] قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهُ بْنُ حَسَنٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ أَسْبَاطٍ يَقُولُ: رَدَّ أَبُو حُنِيفَةَ عَلَى رَسُولِ الله ﷺ أربعمائة حَدِيثٍ أَوْ أَكْثَرَ. فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، تَعْرِفُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: أَخْبَرَنِي بِشَيْءٍ. فقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «للفرس سهمان وللراجل/ سهم» ٦٤/ ب قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: أَنَا لا أَجْعَلُ سَهْمَ بَهِيمَةٍ أَكْثَرَ مِنْ سَهْمِ الْمُؤْمِنِ.
الجواب : اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
ابنِ جوزی نے امام ابو حنیفہؒ کے خلاف جو فقہی اعتراضات پیش کیے ہیں(المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ٨/١٣٨)، ان میں وہ روایات شامل ہیں جن کی بنیاد پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بعض احادیث کی مخالفت کی۔ ابنِ جوزی کے طرزِ بیان کے مطابق یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بعض احادیث کو رد کر دیا، اور یہی اسلوب مخالفین کے ہاں معمول بن چکا ہے کہ وہ کسی ایک حدیث کو سیاق و سباق سے کاٹ کر امام ابو حنیفہؒ کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں، پھر خود ہی منصف بن کر یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے حدیث کی مخالفت کی ہے۔ حالانکہ یہ طریقۂ کار علمی دیانت کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ امام ابو حنیفہؒ کی فقہی رائے ہمیشہ کسی نہ کسی مضبوط اصل پر مبنی ہوتی تھی۔ یا تو ان کے نزدیک وہ حدیث ثابت نہیں ہوتی تھی، یا اس کے مقابل کوئی دوسری حدیث، اثرِ صحابی، اجماع، یا اصولی دلیل موجود ہوتی تھی، جس کی بنا پر وہ ایک خاص روایت سے اختلاف کرتے تھے۔ اس اختلاف کو محض “حدیث کا رد” قرار دینا فقہ اور اصولِ استنباط سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے۔
مزید یہ کہ امام ابو حنیفہؒ کے فقہی مسائل پر جو اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، ان کا جواب حنفی علماء نے ہر دور میں دیا ہے، اور گزشتہ چودہ سو برس سے حنفی فقہاء مسلسل ان شبہات کا علمی اور اصولی رد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ابنِ جوزی کے پیش کردہ اعتراضات کوئی نئے یا منفرد نہیں، بلکہ یہی وہ قدیم اعتراضات ہیں جو اس سے پہلے ابنِ ابی شیبہ اور دیگر مخالفین کی طرف سے بھی پیش کیے جا چکے ہیں۔چونکہ اس موضوع پر تفصیلی کتب اور مستقل مباحث پہلے سے موجود ہیں، اس لیے ہم قارئین کو انہی معتبر تصانیف اور تحقیقی مقالات کی طرف رجوع کرنے کی طرف متوجہ کرتے ہیں، جہاں ان تمام اعتراضات کے جامع اور مدلل جوابات تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، تاکہ معاملہ پوری تحقیق اور انصاف کے ساتھ سمجھا جا سکے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں