نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 22 : امام محدث ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) نے اپنی کتاب التحقيق في أحاديث الخلاف میں امام ابو حنیفہؒ پر یہ جرح کی کہ وہ حدیث میں کبھی کبھار خطا کرتے تھے

 


اعتراض نمبر 22 : امام محدث ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) نے اپنی  کتاب التحقيق في أحاديث الخلاف میں امام ابو حنیفہؒ پر یہ جرح  کی کہ وہ حدیث میں کبھی کبھار خطا کرتے تھے


«وَأَمَّا أَبُو حَنِيفَةَ فَغَيْرُ مُتَّهَمٍ إِنَّمَا كَانَ يَقَعُ فِي حَدِيثِهِ غلط وَخطأ».

اور رہا ابو حنیفہ کا معاملہ، تو وہ (روایتِ حدیث میں) متہم نہیں تھے، البتہ ان کی حدیث میں کبھی کبھی غلطی اور خطا واقع ہو جاتی تھی۔
(التحقيق في أحاديث الخلاف ١/‏٣٦٧ — ابن الجوزي ت ٥٩٧)

الجواب :  امام ابنِ جوزیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں جو یہ کہا ہے کہ ان کی حدیث میں کبھی کبھی غلطی یا خطا واقع ہو جاتی تھی، تو اولاً یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ خود ابنِ جوزیؒ متشدد محدث شمار ہوتے ہیں، جیسا کہ اہلِ علم نے صراحت کی ہے(الرفع والتكميل 1/‏325)۔ 

ثانیاً، یہ بات تفصیل سے واضح کی جا چکی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے حدیث میں کسی غلطی یا خطا کا الزام درحقیقت درست نہیں، بلکہ جن مقامات کو خطا قرار دیا گیا، ان کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہم کسی دوسرے راوی کی طرف سے تھا، یا ناقد سے فہم میں خطا واقع ہوئی تھی۔   امام ابنِ عدیؒ، دارقطنیؒ اور جوزقانیؒ نے بعض روایات ذکر کر کے ان میں امام ابو حنیفہؒ پر خطا یا تفرد کا دعویٰ کیا ہے، مگر جب ان روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ ان مقامات پر امام ابو حنیفہؒ کی کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ وہم اور خطا خود ناقدین کی طرف سے ہوئی تھی؛ یوں امام ابو حنیفہؒ پر کثرتِ غلطی یا قلتِ روایت کو بطورِ جرح پیش کرنا نہ اصولی طور پر درست ہے اور نہ ہی علمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق۔ قارئین دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 29 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حدیث «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ» کو مسند طور پر بیان کیا اور اس میں جابر بن عبداللہ کا واسطہ خود شامل کیا، جبکہ محدثین کے نزدیک یہ اضافہ ضعیف اور غیر ثابت ہے، کیونکہ اصل روایت مرسل ہی ہے۔


اعتراض نمبر 30 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "مفتاح الصلاة الوضوء “ میں موجود الفاظ "وفي كل ركعتين تسلیم" کو ابو سفیان السعدی سے نقل کرنے میں امام ابو حنیفہ (م۱۵۰ھ) منفرد ہیں


اعتراض نمبر 31 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں امام ابو حنیفہؒ نے روایت (أَكَلَ ذَبِيحَةَ امْرَأَةٍ) کو نبی ﷺ تک متصل سند کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ دوسرے رواۃ جیسے منصور، مغیرہ اور حماد نے اسی روایت کو موقوف (یعنی صرف حضرت ابراہیم النخعیؒ کا قول) کے طور پر روایت کیا ہے۔


اعتراض نمبر 32 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "إِذَا ارْتَفَعَ النَّجْمُ ارْتَفَعَتِ الْعَاهَةُ عَنْ أَهْلِ كُلِّ بَلَدٍ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ عطاءؒ سے منفرد راوی ہیں۔ اگرچہ عسل نے بھی یہ روایت مرفوع و موقوف دونوں انداز میں بیان کی ہے، تاہم وہ لکھتے ہیں کہ “عسل اور امام ابو حنیفہؒ دونوں ضعیف ہیں، لیکن عسل روایت کے ضبط میں امام ابو حنیفہؒ سے بہتر ہے۔”


اعتراض نمبر 33 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث "الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ علقمہ بن مرثد سے منفرد ہیں


اعتراض نمبر 34 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں حدیث " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غَيَّرْتُمْ بِهِ الشَّعْرَ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" کی روایت میں امام ابو حنیفہؒ نے ابو حجیہ اور ابو الاسود کے درمیان "ابن بریدہ" کا اضافہ کیا ہے


اعتراض نمبر 35 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں "حديث الضحك" کی روایت میں ابو حنیفہ نے سند اور متن میں خطا کی ہے، کیونکہ انہوں نے سند میں معبد کا اضافہ کیا جبکہ اصل میں یہ حسن سے مرسلاً ہے اور متن میں قہقہہ (بلند آواز سے ہنسنا) کا اضافہ کیا .


اعتراض نمبر 62 : حافظ ابو علیؒ (م۳۴۹؁ھ) کا اعتراض کہ حدیث "نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ" میں امام ابو حنیفہ سے غلطی ہوئی ہے


اعتراض نمبر 63 : امام ابو حنیفہؒ نے حدیث «نهى عن متعة النساء» کو ایک مجہول راوی محمد بن عبید اللہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، حالانکہ جمہور محدثین اسے امام زہریؒ سے ربیع بن سبرہ عن أبیہ کے طریق سے نقل کرتے ہیں۔


اعتراض نمبر 64 : امام ابو الحسن الدارقطنیؒ (م385ھ) کی امام ابو حنیفہؒ سے متعلق آرا میں مثبت تبدیلی — تحقیقی و اسنادی مطالعہ


اعتراض نمبر 68 : محدث حسین بن ابراہیم الجوزقانی کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ


 اس سے یہ حقیقت مزید مستحکم ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ پر غلطی کا الزام عائد کرنے میں عجلت اور عدمِ تحقیق سے کام لیا گیا ہے۔

اور بالفرض اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کبھی کسی روایت میں خطا واقع ہوئی، تو ایسی خطا تو بڑے بڑے ثقہ راویوں سے بھی سرزد ہو جاتی ہے جیسا کہ خود غیر مقلدین نے لکھا ہے :  وہم سے مبرا کوئی نہیں۔ ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار وہم اور خطا سرزد ہو جانا ثقاہت میں مانع نہیں۔ کئی بار ائمہ و محدثین نے بھی وہم کیا ہے، مگر ان کی امامت اور جلالت علمی میں فرق نہیں آیا۔ (کیا ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے؟: غیر مقلد غلام مصطفی ظہیر امن پوری)


، اور محض کبھی کبھار وہم اور خطا   کی  بنیاد پر کسی راوی کو مجروح یا غیر معتبر قرار نہیں دیا جاتا۔ محدثین کا منہج یہ ہے کہ راوی کی مجموعی روایات، ضبط اور دیانت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک آدھ محلِ اختلاف کو بنیاد بنا کر اسے ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔

 لہٰذا امام ابنِ جوزیؒ کی یہ جرح نہ اصولاً مضبوط ہے، نہ ہی محدثین کے مسلم قواعد کے مطابق قابلِ قبول، خصوصاً اس لیے کہ امام شعبہؒ، امام یحییٰ بن معینؒ اور دیگر اکابر متقدمین جیسے ائمہ نے امام ابو حنیفہؒ کی واضح توثیق کی ہے، اور انہی کی توثیق کو اصولاً ترجیح حاصل ہے۔

 امام ابو حنیفہؒ   کی حدیث میں ثقاہت

امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ،  امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


پیش لفظ: سلسلۂ تعریف و توثیقِ امام ابو حنیفہؒ : علمِ حدیث کے اُفق پر چمکتا ستارہ: تابعی، ثقہ، ثبت، حافظ الحدیث، امام اعظم ابو حنیفہؒ


اعتراض نمبر71 : کتاب المنتظم في تاريخ الأمم والملوك از محدث ابن الجوزي (ت ٥٩٧هـ) میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...