اعتراض نمبر 22 : امام محدث ابن الجوزیؒ (ت 597ھ) نے اپنی کتاب التحقيق في أحاديث الخلاف میں امام ابو حنیفہؒ پر یہ جرح کی کہ وہ حدیث میں کبھی کبھار خطا کرتے تھے
ثانیاً، یہ بات تفصیل سے واضح کی جا چکی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے حدیث میں کسی غلطی یا خطا کا الزام درحقیقت درست نہیں، بلکہ جن مقامات کو خطا قرار دیا گیا، ان کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر معلوم ہوتا ہے کہ یا تو وہم کسی دوسرے راوی کی طرف سے تھا، یا ناقد سے فہم میں خطا واقع ہوئی تھی۔ امام ابنِ عدیؒ، دارقطنیؒ اور جوزقانیؒ نے بعض روایات ذکر کر کے ان میں امام ابو حنیفہؒ پر خطا یا تفرد کا دعویٰ کیا ہے، مگر جب ان روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ ان مقامات پر امام ابو حنیفہؒ کی کوئی غلطی نہیں تھی، بلکہ وہم اور خطا خود ناقدین کی طرف سے ہوئی تھی؛ یوں امام ابو حنیفہؒ پر کثرتِ غلطی یا قلتِ روایت کو بطورِ جرح پیش کرنا نہ اصولی طور پر درست ہے اور نہ ہی علمی انصاف کے تقاضوں کے مطابق۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 35 : امام ابن عدی الجرجانیؒ (م 365ھ) اپنی کتاب الكامل میں نقل کرتے ہیں "حديث الضحك" کی روایت میں ابو حنیفہ نے سند اور متن میں خطا کی ہے، کیونکہ انہوں نے سند میں معبد کا اضافہ کیا جبکہ اصل میں یہ حسن سے مرسلاً ہے اور متن میں قہقہہ (بلند آواز سے ہنسنا) کا اضافہ کیا .
اعتراض نمبر 68 : محدث حسین بن ابراہیم الجوزقانی کی امامِ اعظم ابو حنیفہؒ پر جرح کا تحقیقی جائزہ
اس سے یہ حقیقت مزید مستحکم ہو جاتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ پر غلطی کا الزام عائد کرنے میں عجلت اور عدمِ تحقیق سے کام لیا گیا ہے۔
اور بالفرض اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کبھی کسی روایت میں خطا واقع ہوئی، تو ایسی خطا تو بڑے بڑے ثقہ راویوں سے بھی سرزد ہو جاتی ہے جیسا کہ خود غیر مقلدین نے لکھا ہے : وہم سے مبرا کوئی نہیں۔ ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے۔ کبھی کبھار وہم اور خطا سرزد ہو جانا ثقاہت میں مانع نہیں۔ کئی بار ائمہ و محدثین نے بھی وہم کیا ہے، مگر ان کی امامت اور جلالت علمی میں فرق نہیں آیا۔ (کیا ثقہ راوی کو بھی وہم ہو سکتا ہے؟: غیر مقلد غلام مصطفی ظہیر امن پوری)
، اور محض کبھی کبھار وہم اور خطا کی بنیاد پر کسی راوی کو مجروح یا غیر معتبر قرار نہیں دیا جاتا۔ محدثین کا منہج یہ ہے کہ راوی کی مجموعی روایات، ضبط اور دیانت کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک آدھ محلِ اختلاف کو بنیاد بنا کر اسے ساقط الاعتبار قرار دے دیا جائے۔
لہٰذا امام ابنِ جوزیؒ کی یہ جرح نہ اصولاً مضبوط ہے، نہ ہی محدثین کے مسلم قواعد کے مطابق قابلِ قبول، خصوصاً اس لیے کہ امام شعبہؒ، امام یحییٰ بن معینؒ اور دیگر اکابر متقدمین جیسے ائمہ نے امام ابو حنیفہؒ کی واضح توثیق کی ہے، اور انہی کی توثیق کو اصولاً ترجیح حاصل ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کی حدیث میں ثقاہت
امام ابو حنیفہؒ کی علمی عظمت اور حدیث میں ثقاہت پر جن اکابر محدثین و ائمہ نے تعریف کی ہے، ان میں امام شعبہؒ، امام یزید بن ہارونؒ، امام حمّاد بن زیدؒ، امام ابو نعیم فضل بن دکینؒ، زہیر بن معاویہؒ، امام سفیان بن عیینہؒ، امام وکیع بن جراحؒ، مکی بن ابراہیم ، امام یحییٰ بن زکریاؒ، امام ترمذیؒ اور امام اعمشؒ کے اسماء نمایاں طور پر ذکر ہوتے ہیں۔ ان حضرات نے نہ صرف آپ کی فقہی بصیرت اور فقاہت کی گہرائی کی تعریف کی بلکہ آپ کی حدیث میں ثقاہت، صدق، ضبط اور قوتِ فہم کو بھی واضح طور پر سراہا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کو صرف ایک فقیہ نہیں بلکہ ایک معتبر محدث کے طور پر بھی امت کے جلیل القدر ائمہ نے تسلیم کیا ہے۔
قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں