نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام وکیع رحمہ اللہ سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا جائزہ :



امام وکیع  رحمہ اللہ  سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات کا جائزہ :



اعتراض نمبر 1:

أنبأنا محمد بن عبد الله الحنائي نا جعفر بن محمد بن نصير الخلدي نا عبد الله بن جابر الطرسوسي نا محمد بن العرجي العسكري قال: سمعت مسلما الجرمي قال: سمعت وكيعا يقول:" لقيني أبو حنيفة فقال لي: لو تركت كتابة الحديث وتفقهت أليس كان خيرا؟ قلت: أفليس الحديث يجمع الفقه كله قال: ما تقول في امرأة ادعت الحمل وأنكر الزوج؟ فقلت له: حدثني عباد بن منصور عن عكرمة عن ابن عباس - رضي الله عنهما - أن النبي صلى الله عليه وسلم لاعن بالحمل، فتركني فكان بعد ذلك إذا رآني في طريق أخذ في طريق آخر ".

مسلم الجرمی کہتے ہیں کہ میں نے وکیع رحمہ اللہ علیہ کو یہ فرماتے سنا کہ مجھے ابو حنیفہ ملے انہوں نے مجھے کہا اگر تم حدیث لکھنا چھوڑ دو اور فقہ حاصل کرو ، کیا تمہارے لیے بہتر نہیں ہوگا ؟ میں نے کہا : کیا حدیث ساری فقہ کو جمع نہیں کر لیتی ؟ انہوں نے کہا : تم کیا کہتے ہو اس عورت کے بارے میں جس نے حمل کا دعوی کیا اور خاوند نے انکار کر دیا ؟ میں نے ان کو کہا کہ: مجھے عباد بن منصور نے عکرمہ سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حمل کی وجہ سے لعان کیا تو ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے مجھے چھوڑ دیا اس کے بعد جب مجھے دیکھتے کہ ایک راستے سے ا رہا ہوں تو وہ دوسرا راستہ اختیار کر لیتے تھے ۔

[ الفقيه والمتفقه - الخطيب البغدادی - صفحہ 83 ۔

 نصيحة أهل الحديث - الخطيب البغدادی - صفحہ 40 ]


جواب :  اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


متفرق ردود فرقہ اہلحدیث پوسٹ نمبر 1 :غیر مقلد اہلحدیث سلفی شیخ عبداللہ ناصر رحمانی صاحب کا جھوٹ : حدیث اور فقہ ایک ہی ہے


اعتراض نمبر 2: 

أخبرنا الحسين بن محمد بن الحسن أخو الخلال، أخبرنا جبريل بن محمد المعدل - بهمذان - حدثنا محمد بن حيويه النخاس، حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا وكيع قال: سمعت الثوري يقول: نحن المؤمنون، وأهل القبلة عندنا مؤمنون، في المناكحة، والمواريث، والصلاة، والإقرار، ولنا ذنوب ولا ندري ما حالنا عند الله؟ قال وكيع، وقال أبو حنيفة: من قال بقول سفيان هذا فهو عندنا شاك، نحن المؤمنون هنا وعند الله حقا، قال وكيع: ونحن نقول بقول سفيان، وقول أبي حنيفة عندنا جرأة.


جواب :  اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 11.  امام ابو حنیفہ نے کہا کہ ہم یہاں بھی مومن ہیں اور اللہ کے ہاں بھی مومن ہیں اور وکیع نے اس قول کو پسند نہیں کیا۔


اعتراض نمبر 3:

أخبرنا ابن رزق، حدثني عثمان بن عمر بن خفيف الدراج، حدثنا محمد ابن إسماعيل البصلاني.

 وأخبرنا البرقاني قال: قرأت على أبي حفص بن الزيات حدثكم عمر بن محمد الكاغدي قالا حدثنا أبو السائب قال: سمعت وكيعا يقول: وجدنا أبا حنيفة خالف مائتي حديث.

جواب :  اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 59 : کہ ابو حنیفہ نے دو سو احادیث کی مخالفت کی۔


اعتراض نمبر 4:

أَخْبَرَنَا ابن رزق، أخبرنا عثمان بن أحمد، حدّثنا حنبل، حدّثنا الحميديّ، حدّثنا وكيع، حَدَّثَنَا أَبُو حنيفة أنه

 سمع عطاء- إن كان سمعه-.

جواب :  اس اعتراض کے تفصیلی جواب کے لیے قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 87 : کہ وکیع نے کہا کہ ہمیں ابوحنیفہ نے بیان کیا کہ بے شک اس نے عطاء سے سنا ہے۔ اگر اس نے عطاء سے سنا ہے۔


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...