نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

نومبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

اعتراض نمبر 8 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے بعض اصحابِ امام ابو حنیفہؒ پر تنقید فرمائی ہے۔

کتاب   حلية الأولياء وطبقات الأصفياء    از    محدث   أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   میں   امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  پر اعتراضات کا جائزہ :   اعتراض نمبر   8 : امام    أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   اپنی کتاب   حلية الأولياء   میں نقل  کرتے ہی ں     کہ   حضرت فضیل بن عیاضؒ نے بعض اصحابِ امام ابو حنیفہؒ پر تنقید فرمائی ہے۔   حدثنا سليمان بن أحمد ثنا زكريا الساجي ثنا محمد بن زنبور قال سمعت فضيل بن عياض يقول: إن هؤلاء أشربت قلوبهم حب أبي حنيفة وأفرطوا فيه حتى لا يرون أن أحدا كان أعلم منه، كما أفرطت الشيعة في حب علي، وكان والله سفيان أعلم منه فضیل بن عیاض کہتے ہیں کہ   "ان لوگوں کے دلوں میں ابو حنیفہ کی محبت اس طرح رچ بس گئی ہے اور وہ اس میں اتنے حد سے بڑھ گئے ہیں کہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ کوئی بھی اُن سے زیادہ علم والا نہیں تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے شیعہ علیؓ کی محبت میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ حالانکہ، قسم اللہ کی! سفیان (ثوری) ان سے زیادہ علم رکھتے تھے۔" (حلية ...

اعتراض نمبر 7 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق کے درمیان ایک مناظرہ ہوا جس میں ہر پہلو سے امام جعفر صادق غالب آئے

  کتاب   حلية الأولياء وطبقات الأصفياء    از    محدث   أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   میں   امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  پر اعتراضات کا جائزہ :   اعتراض نمبر   7 : امام    أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   اپنی کتاب   حلية الأولياء   میں نقل  کرتے ہیں     ک ہ  امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق کے درمیان ایک مناظرہ ہوا جس میں ہر پہلو سے امام جعفر صادق غالب آئے حدثنا عبد الله بن محمد ثنا الحسن بن محمد ثنا سعيد بن عنبسة ثنا عمرو ابن جميع .  قال: دخلت على جعفر بن محمد أنا وابن أبي ليلى وأبو حنيفة. وحدثنا محمد بن علي بن حبيش حدثنا أحمد بن زنجويه حدثنا هشام بن عمار حدثنا محمد بن عبد الله القرشي بمصر ثنا عبد الله بن شبرمة.  قال: دخلت أنا وأبو حنيفة على جعفر بن محمد. فقال لابن أبي ليلى: من هذا معك؟ قال: هذا رجل له بصر ونفاذ في أمر الدين. قال: لعله يقيس أمر الدين برأيه. قال: نعم! قال فقال جعفر لأبي حنيفة: ما اسمك؟ قال: نعمان. قال يا نعمان هل قست رأسك بعد؟ قال: كيف أقيس رأ...

اعتراض نمبر 6 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: تم لوگوں پر تعجب ہے! تم نے تین راوی چھوڑ دیے جو براہِ راست نبی ﷺ تک پہنچتے ہیں، اور تین فقہاء کی طرف جھک گئے ہو۔

  کتاب   حلية الأولياء وطبقات الأصفياء    از    محدث   أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   میں   امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  پر اعتراضات کا جائزہ :   اعتراض نمبر   6 : امام    أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   اپنی کتاب   حلية الأولياء   میں نقل  کرتے ہی ں     کہ   امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا:  تم لوگوں پر تعجب ہے! تم نے تین راوی چھوڑ دیے جو براہِ راست نبی ﷺ تک پہنچتے ہیں، اور تین فقہاء کی طرف جھک گئے ہو۔ حدثنا سليمان ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال: كتب إلي الفتح بن خشرف يذكر: أنه سمع موسى بن حزام الترمذي - بترمذ - يقول: كنت أختلف إلى أبى سليمان الجورجانى في كتب محمد بن الحسن فاستقبلني أحمد بن حنبل عند الجسر فقال لي: إلى أين؟ فقلت: إلى أبي سليمان. فقال: العجب منكم، تركتم إلى النبي ﷺ ثلاثة وأقبلتم على ثلاثة، إلى أبي حنيفة فقلت كيف يا أبا عبد الله؟ قال يزيد بن هارون - بواسط - يقول: حدثنا حميد عن أنس قال قال رسول الله ﷺ وهذا يقول: حدثنا محمد بن الحسن عن يعقوب عن أبي ...

اعتراض نمبر 5 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام حماد بن زید ، امام ابو حنیفہ کی وفات پر خوش ہو کر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ الحمد اللہ ! زمین صاف ہوئی۔

  کتاب   حلية الأولياء وطبقات الأصفياء    از    محدث   أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   میں   امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ  پر اعتراضات کا جائزہ :   اعتراض نمبر   5 : امام    أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)   اپنی کتاب   حلية الأولياء   میں نقل کرتے ہیں     ک ہ  امام حماد بن زید ، امام ابو حنیفہ کی وفات پر خوش ہو کر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ الحمد اللہ ! زمین صاف ہوئی۔ حدثنا سليمان بن احمد ثنا عبدالله بن احمد بن حنبل حدثني منصور بن أبي مزاحم قال سمعت  أبا علي العذري  يقول لحماد بن زيد مات أبو حنيفة قال الحمد لله الذي كنس بطن الارض به امام حماد بن زید ، امام ابو حنیفہ کی وفات پر خوش ہو کر شکریہ ادا کرتے ہیں کہ الحمد اللہ ! زمین صاف ہوئی۔  (حلية الأولياء وطبقات الأصفياء 6/259) جواب :   أبا علي العذري  راوی مجہول ہے ، اس کی کوئی توثیق ہی نہیں ملتی ، نہ کتب رجال میں اس کا کوئی ترجمہ ،  لہذا روایت ضعیف ہے ۔