نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 6 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: تم لوگوں پر تعجب ہے! تم نے تین راوی چھوڑ دیے جو براہِ راست نبی ﷺ تک پہنچتے ہیں، اور تین فقہاء کی طرف جھک گئے ہو۔

 


کتاب  حلية الأولياء وطبقات الأصفياء  از  محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) 

 میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ : 


اعتراض نمبر  6 :

امام  أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)  اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں  کہ  امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: تم لوگوں پر تعجب ہے! تم نے تین راوی چھوڑ دیے جو براہِ راست نبی ﷺ تک پہنچتے ہیں، اور تین فقہاء کی طرف جھک گئے ہو۔


حدثنا سليمان ثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال: كتب إلي الفتح بن خشرف يذكر: أنه سمع موسى بن حزام الترمذي - بترمذ - يقول: كنت أختلف إلى أبى سليمان الجورجانى في كتب محمد بن الحسن فاستقبلني أحمد بن حنبل عند الجسر فقال لي: إلى أين؟ فقلت: إلى أبي سليمان. فقال: العجب منكم، تركتم إلى النبي ﷺ ثلاثة وأقبلتم على ثلاثة، إلى أبي حنيفة فقلت كيف يا أبا عبد الله؟ قال يزيد بن هارون - بواسط - يقول: حدثنا حميد عن أنس قال قال رسول الله ﷺ وهذا يقول: حدثنا محمد بن الحسن عن يعقوب عن أبي حنيفة قال: موسى بن حزام: فوقع في قلبي قوله، فاكتريت زورقا من ساعتي فانحدرت إلى واسط فسمعت من يزيد بن هارون.

           

سلیمان بن احمد طبرانی نے ہم سے بیان کیا، کہا: ہم سے عبداللہ بن احمد بن حنبل نے بیان کیا، کہ فتح بن خشرف نے مجھے خط لکھ کر ذکر کیا کہ انہوں نے موسیٰ بن حزام الترمدی کو ترمذ میں یہ کہتے ہوئے سنا: “میں ابوسلیمان الجورجانی کے پاس، محمد بن الحسن کی کتب پڑھنے کے لیے آیا جایا کرتا تھا۔ ایک دن احمد بن حنبلؒ مجھے پل کے پاس ملے، تو انہوں نے پوچھا: ‘کہاں جا رہے ہو؟’ میں نے کہا: ابوسلیمان کے پاس جا رہا ہوں۔ تو امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا: ‘تم لوگوں پر تعجب ہے! تم نے نبی ﷺ تک پہنچنے والے تین (محدثین) کو چھوڑ دیا، اور ان تین (فقہاء) کی طرف مائل ہو گئے ہو، جبکہ اس (ابوسلیمان) کا سلسلہ ابو حنیفہ تک پہنچتا ہے!’ میں نے پوچھا: کیسے اے ابا عبداللہ؟ انہوں نے فرمایا: “یزید بن ہارون — جو واسط میں ہے — وہ یوں کہتا ہے: ہم سے حمید نے روایت کیا، انہوں نے انس (رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا… اور یہ (ابوسلیمان) کہتا ہے: ہم سے محمد بن الحسن نے روایت کیا، انہوں نے یعقوب سے، اور انہوں نے ابو حنیفہ سے…” (موسیٰ بن حزام کہتے ہیں:) “پس امام احمد کے یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے، چنانچہ میں نے اسی وقت ایک کشتی کرایے پر لی اور فوراً واسط کی طرف روانہ ہوا، اور جا کر یزید بن ہارون سے حدیث سنی۔” 

(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ٩/‏١٨٥ ، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي ١/‏٣١٨ )


جواب : اس روایت کی سند میں راوی الفتح بن شَخْرَف الكِسِّيّ موجود ہیں۔ اگرچہ وہ عبادت گزار اور نیک تھے، لیکن روایت کے ضبط کے حوالے سے ان کا مقام کیا تھا—کیا وہ ثقہ تھے، صدوق تھے، ان کا حافظہ کیسا تھا—اس بارے میں محدثین کی کوئی صراحت موجود نہیں۔

الفتح بن شَخْرَف الكِسِّيّ)، قال الخطيب عنه: «كان قليل المسانيد كثير الحكايات». ولم يذكر فيه جرحًا أو تعديلًا(زوائد تاريخ بغداد على الكتب الستة ٨/‏٥٥٧ )

پس جب سند میں ایسا راوی موجود ہو جس کی ضبط و اتقان کی حالت ہی نامعلوم ہو اور جس کے بارے میں کوئی معتبر جرح و تعدیل نہ ملتی ہو، تو ایسی روایت کو امامِ اعظم ابو حنیفہؒ جیسے عظیم امام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرنا بالکل درست نہیں۔

امام احمدؒ کا یہ قول کہ “محدثین کے پاس جاؤ، فقہاء کے پاس نہ جاؤ” ان کی ذاتی رائے تھی، کوئی شرعی نص نہیں۔ جبکہ :

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " , وفي الباب عن عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَمُعَاوِيَةَ , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی فقہ عطا کر دیتا ہے“ ۱؎۔

(حدیث نمبر: 2645 سنن ترمذي )

 اور امام ابو حنیفہؒ تو فہمِ حدیث اور فقہ کے امام ہیں، جیسا کہ متعدد محدثین کے اقوال سے یہ ثابت ہے۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر55 : امامِ اعظم ابوحنیفہؒ – فہمِ حدیث کے امام – ائمہ محدثین کی شہادتوں کی روشنی میں


امام احمد فقہاء کے پاس جانے پر اعتراض کرتے ہیں، جبکہ ان کے اپنے استاد امام شافعی اس کے بالکل برعکس فقہاء اور محدثین دونوں کو فقہ میں امام ابو حنیفہ کے سامنے طفلِ مکتب قرار دیتے ہیں۔ حدثني أبي قال : حدثني أبي قال : سمعت أحمد بن علي بن الحسن بن شعيب المدائني يقول : سمعت إسماعيل بن يحيى المزني يقول : سمعت الشافعي محمد بن إدريس يقول : الناس عيال على أبي حنيفة في الفقه .  امام الشافعي فرماتے ہیں لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے محتاج ہیں (یا ان کے عیال ہیں)۔ ( فضائل أبي حنيفة ص 87 ، سند صحیح )    قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود

تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر21 : "امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمہ اللہ ، امام شافعی رحمہ اللہ کی نظر میں"


 اسی طرح امام احمد کے دیگر اساتذہ—امام ابن عُیَینہ اور امام وکیع—محدثین کو خود نصیحت کرتے ہیں کہ حدیث میں تفقّہ حاصل کرو۔

 قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر55 : امامِ اعظم ابوحنیفہؒ – فہمِ حدیث کے امام – ائمہ محدثین کی شہادتوں کی روشنی میں


 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد کا اعتراض ان کی ذاتی رائے تھی، نہ کہ اہلِ علم کی متفقہ دلیل۔

امام احمدؒ کا اہلِ رائے پر نقد

امام احمدؒ کا اہلِ رائے پر کلام سخت تھا، اور کئی مواقع پر اس میں تعصب بھی جھلکتا ہے۔ لہٰذا اس کو مطلق معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ اگر ان کے اس قول کو حجت بنایا جائے تو پھر ان کے بہت سے دوسرے اقوال بھی ماننے پڑیں گے، جنہیں خود حنابلہ نے قبول نہیں کیا۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


اعتراض نمبر 35 : امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جرح 


دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی روایت کے اندر جس یزید بن ہارون کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ خود امام ابو حنیفہؒ کی تعریف کرتے تھے۔ لہٰذا اس روایت کو امام ابو حنیفہؒ کے خلاف پیش کرنا مزید کمزور ہو جاتا ہے۔ قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود


تعریف و توثیق ابو حنیفہ سلسلہ نمبر 30 : امام یزید بن ہارون ؒ (م ۲۰۶؁ھ) کے نزدیک امام ابو حنیفہ ؒ (م ۱۵۰؁ھ) صدوق اور متقن ہیں۔


 نتیجہ : لہٰذا امام احمدؒ کا ذاتی قول امام ابو حنیفہؒ کی عظمت اور علمی مقام کے مقابلے میں کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچاتا۔

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...