دعائے قنوت کا ثبوت:
نماز وتر میں پڑھی جانے والی قنوت کی مختلف دعائیں احادیث سے ثابت ہیں ، ان کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ [مجلة جامعة أم القرى الأحاديث والآثار الواردة في قنوت الوتر رواية ودراية مجموعة من المؤلفين 191/12]
تاہم مطلب اور مفہوم کے اعتبار سے حضرات محدثین وفقہاء نے اس دعائے قنوت کو ترجیح دی ہے ۔
خلیفہ راشد سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ دعائے قنوت نماز میں پڑھا کرتے تھے :
اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ، وَنَسْتَغْفِرُكَ، [ صحیح] مصنف ابن ابی شیبة كتاب صلاة التطوع و الامامة، باب ما يدعو في قنوت الوتر حديث : 7210 - محقق: الدكتور سعد الشترى . (صحيح السنن والآثار للبيهقي أبو بكر أحمد بن الحسين بن علي البيهقي : 3972 تحقيق : المجلس العلمي لتحكيم الاحادیث اسنادہ صحیح)، ابن جريج قال أخبر في عطاء : «أنه سمع عبيد بن عمير يأثر عن عمر بن الخطاب في القنوت | في الوتر ] [ مجلة جامعة أم القرى لعلوم الشريعة واللغة العربية الأحاديث والآثار الواردة في قنوت الوتر رواية ودراية 324/12 و عن أبي بن كعب : «أنه كان يقول: اللهم إنا نستعينك ونستغفرك إسناده حسن .... أخرجه عبد الرزاق في المصنف (112/3) . مجلة جامعة أم القرىلعلوم الشريعة 329/12]
نوٹ: دعاء قنوت کے الفاظ کمی پیشی کے ساتھ مختلف اسناد کے ساتھ مروی ہیں، یہاں ایک صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
غیر مقلد اہلحدیث عالم کا اقرار :
رئیس ندوی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ "خلفائے راشدین وتر کے قنوت میں "اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ " والی دعا بھی پڑھتے تھے ۔ [ رسول اکرم کا صحیح طریقہ نماز: 646،647]
ماخوذ: صلاۃ المسلم مولانا محمد رحمت اللہ
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں