نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر 1 : اگر رکوع و سجدہ والی نماز میں کھلکھلا کر ہنس پڑا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جنازہ کی نماز میں یا سجدہ تلاوت میں کھلکھلا کر ہنسنے سے وضو نہیں جائے گا۔


 اعتراض نمبر 1

بسم الله الرحمن الرحیم

القهقهة في صلوة ذات ركوع وسجود ...... لم يكن حدثا في صلوة الجنازة وسجدة التلاوة (هدايه يوسفي جلد اول ص ٣٥ فصل في نواقض الوضوء) یعنی اگر رکوع و سجدہ والی نماز میں کھلکھلا کر ہنس پڑا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ جنازہ کی نماز میں یا سجدہ تلاوت میں کھلکھلا کر ہنسنے سے وضو نہیں جائے گا۔

(درایت محمدی ص ۹۰ ، ہدایت محمدی ص ۵)


جواب:


یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر حضرت امام اعظم کی جس قدر تعریف کی جائے بجا ہے۔ اس مسئلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امام اعظم سب سے زیادہ حدیث نبوی کے پیرو تھے۔ یہاں آپ نے ایک حدیث کی بنا پر قیاس کو ترک کیا۔ قیاس چاہتا تھا کہ جس طرح نماز سے باہر قہقہہ وضو کا مفسد نہیں اسی طرح نماز میں بھی وضو کا مفسد نہ ہو، لیکن چونکہ ایک حدیث میں آگیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قہقہہ پر وضو کے اعادہ کا حکم فرمایا تھا، اس لیے امام اعظم نے قیاس پر حدیث کو ترجیح دی۔

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حضرت امام اعظم حدیث پر قیاس کو ترجیح دیتے تھے وہ ذرا اس مسئلہ پر غور کریں اور اپنے اس افترا کو واپس لیں۔ دیکھئے ابو القاسم بناری لکھتا ہے:

"احادیث نبوی کو قیاس سے رد کرنے کا طریقہ کوفہ ہی میں بنا۔"

(اہل حدیث، ۶ نومبر ۱۹۲۵ء، نعوذ باللہ من ہذہ الافتراء)

رہی یہ بات کہ ہدایہ شریف میں رکوع و سجود والی نماز میں قہقہہ مفسد وضو لکھا ہے، جنازہ اور سجدہ تلاوت میں فساد وضو کا حکم نہیں دیا تو اس کی تصریح خود ہدایہ شریف میں ہی لکھی گئی ہے۔

فرماتے ہیں کہ:

وَالْأَثَرُ وَرَدَ فِي صَلَاةٍ مُطْلَقَةٍ فَيُقْتَصَرُ عَلَيْهَا. (الهداية)

یہ حدیث صلوٰۃ مطلقہ یعنی کاملہ کے بارے میں وارد ہوئی ہے (اور وہ نماز رکوع و سجود والی ہے لہٰذا اسی پر اس کا اقتصار رہے گا)۔

نماز جنازہ اور سجدہ تلاوت چونکہ نماز کامل نہیں اس لیے یہ حکم ان پر نہیں ہوگا۔ جنازہ کی نماز من وجہ نماز ہے اور من وجہ دعا ہے، نہ تو پوری نماز ہے کہ اس میں رکوع، سجود، تشہد اور قراءت نہیں اور نہ ہی صرف دعا ہے کہ اس میں وضو اور استقبال قبلہ ضروری ہے، دعا میں ضروری نہیں۔ اس لیے جنازہ اور دعا کو یہ حکم شامل نہ ہوگا۔

اب فرمائیے کہ یہ مسئلہ کس آیت یا حدیث صحیحہ کے خلاف ہے؟ حقیقت میں اعتراض تو غیر مقلدین پر ہے کہ وہ حدیث قہقہہ کو نہیں مانتے اور قیاس کو اس پر ترجیح دیتے ہیں اور باوجود اس کے اپنے آپ کو "اہل حدیث" کہتے ہیں۔ "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔"

علامہ عبد الحی لکھنوی نے ہدایہ شریف کے ص ۱۲ کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ علامہ زیلعی کی تحریر سے سمجھا جاتا ہے کہ احادیث قہقہہ بعض تو مرسلہ ہیں اور بعض مسندہ۔

وَقِصَّتُهُ أَنَّ الصَّحَابَةَ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ وَفِي عَيْنَيْهِ سُوءٌ فَوَقَعَ فِي حُفْرَةٍ كَانَتْ هُنَاكَ فَضَحِكَ بَعْضُ الصَّحَابَةِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا مَنْ ضَحِكَ مِنْكُمْ قَهْقَهَةً فَلْيُعِدِ الْوُضُوءَ وَالصَّلَاةَ جَمِيعًا.

اور اس کا مضمون یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم حضور علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک اعرابی آیا جس کی نظر میں کچھ کمی تھی، وہ قریب ہی ایک گڑھے میں گر پڑا تو بعض صحابی ہنس پڑے۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کھلکھلا کر ہنسا ہے وہ نماز اور وضو دونوں کا اعادہ کرے۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ حدیث ضعیف ہے تو میں کہتا ہوں کہ اگرچہ ضعیف ہے پھر بھی قیاس پر مقدم ہے اور جب کوئی صحیح حدیث اس کے مخالف نہیں پھر اس کو کیوں ترک کیا جائے؟ اہل حدیث ۲۱ نومبر ۱۹۲۴ء میں ایڈیٹر اہل حدیث لکھتا ہے:

"جو امر کسی غیر صحیح روایت میں آئے، اس کی سنیت ثابت نہیں ہو سکتی لیکن اس کو بدعت بھی نہیں کہہ سکتے۔ اس کی مثال مسح گردن ہے جو صحیح روایت سے ثابت نہ ہو سکنے کی وجہ سے سنت نہیں لیکن بدعت بھی نہیں۔"

میں کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا کہ اس کا ازار ٹخنوں سے نیچے تھا تو اس کو فرمایا:

اِذْهَبْ فَتَوَضَّأْ

"جا اور وضو کر۔" (مشکوٰۃ ص ۶۵)

تو جو شخص نماز میں قہقہہ لگا کر ہنسے وہ کیوں نہ وضو کرے؟ نماز میں کھلکھلا کر ہنسنا ایک گستاخی ہے جس کے واسطے وضو کفارہ ہو سکتا ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ طہارتِ ظاہرہ سے اس کے باطن کو بھی طاہر کر دے۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...