قربانی صرف تین دن جائز ہے
(1) خلیفہ راشد حضرت علی المرتضیٰ رض فرماتے ہیں کہ قربانی صرف تین دن ہے [حسن] احکام القرآن للطحاوی حدیث:1569
(2) حضرت ابنِ عمر رض فرماتے ہیں قربانی تین دن ہیں [صحیح] المؤطا کتاب الضحایا حدیث: 12
(3) حضرت انس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید دن کےبعد دو اور ہیں یعنی صرف تین دن ہیں [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث: 1575
()حضرت ابنِ عباس رض فرماتے ہیں کہ قربانی عید کے بعد صرف دو دن ہے اور سب سے افضل عید کا دن ہے [صحیح] احکام القرآن للطحاوی حدیث :1571
صحابہ کرامؓ اور ائمہ مسلمینؒ کے ہاں قربانی تین دن ہے
چنانچہ علامہ بدر الدین عینی ؒ فرماتے ہیں کہ: قربانی کا وقت یومِ نحر(دس ذی الحجہ )اور اس کے بعد دو دن ہے۔یہ قول امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحابؒ، سفیان ثوریؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کا ہے۔ اور یہی قول صحابہ کرامؓ میں سے:حضرت عمر بن خطابؓ حضرت علی بن ابی طالبؓ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ حضرت ابو ہریرہؓ حضرت انس بن مالکؓ سے بھی مروی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بھی یہی روایت منقول ہے۔ (عمدۃ القاری ج 21 ص 148)
غیر مقلد اہلحدیث علماء کا اقرار:
چنانچہ غیر مقلد عالم زبیر علی زئی لکھتے ہیں کہ چوتھے دن قربانی کی ساری حدیثیں ضعیف ہیں۔ ([فتاویٰ علمیہ ص 178 : از زبیر علی زئی]
پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں