اعتراض نمبر ۲: چوپائے کے ساتھ بدفعلی کرنے اور شرمگاہ کے سوا اور جگہ کرنے سے جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں۔
اعتراض نمبر ۲:
بخلاف البهيمة وما دون الفرج (هدايه يوسفي جلد اول ص ۲۷ فصل في الغسل) یعنی چوپائے کے ساتھ بدفعلی کرنے اور شرمگاہ کے سوا اور جگہ کرنے سے جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں۔ (درایت محمدی، ص ۹۰، ہدایت محمدی ص ۵)
جواب:
فرمائیے یہ مسئلہ کسی آیت یا حدیث کے خلاف ہے؟ اگر کسی حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ چوپائے کے ساتھ یا شرمگاہ کے علاوہ شہوت رانی کی جائے تو بلا انزال غسل واجب ہے، تو وہ حدیث بیان فرمائیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نہیں تو شرم کرو۔ پھر اس مسئلہ کو گندا اور خلاف حدیث کس عقل سے سمجھتے ہو۔ تمہارے یہاں صحیح بخاری میں تو عورت سے جماع کرنے سے بھی بلا انزال غسل لازم نہیں سمجھتے۔
امام بخاری ایسی حالت میں غسل لازم نہیں سمجھتے، صرف احوط فرماتے ہیں تو چوپائے یا تفخیذ یا تبطین سے بلا انزال غسل لازم کس دلیل سے سمجھا جائے گا؟ جب وجوب غسل پر کوئی دلیل نہیں تو فقہاء علیہم الرحمہ نے کیا برا کیا کہ فقدان دلیل کی وجہ سے وجوب غسل کا حکم نہیں دیا۔ اگر کسی کے پاس کوئی دلیل ہے تو بیان کرے ورنہ اپنا اعتراض واپس لے۔ البتہ ہدایہ شریف میں عدم وجوب غسل پر دلیل بھی لکھی ہے کہ اس کی سببیت ناقص ہے مگر یہ دلیل کوئی فقیہ سمجھے، فقہ کے دشمنوں کو اس کی کیا سمجھ؟
ایک شبہ:
اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ فقہاء کے نزدیک چوپائے سے شہوت رانی کرنا جائز ہے اور اس کی کوئی سزا نہیں ہے کیونکہ یہاں صرف غسل کے وجوب اور عدم وجوب کا بیان تھا۔ اس سے متعلق سزا کا بیان کتاب الحدود میں موجود ہے۔ اسی ہدایہ شریف میں کتاب الحدود کے تحت ایسے شخص کی سزا درج ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں