اعتراض نمبر ۵
ليس الكلب نجس العين (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی کتا نجس العین نہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)
جواب:
مندرجہ بالا عبارت سے یہ کب ثابت ہوتا ہے کہ "کتا نجس نہیں"۔ معترض اتنا بے خبر ہے کہ نجس اور نجس العین میں فرق نہیں جانتا۔ فقہاء علیہم الرحمہ نے کتا کو نجس العین بھی لکھا ہے اور نجس العین نہ ہونے کی بھی روایت ہے۔ کتا نجس العین نہ سہی نجس تو ہے۔ اس کا گوشت اور خون بالاتفاق پلید ہے، کسی فقہ کی کتاب میں اس کے گوشت یا خون کو پاک لکھا ہوا دکھاؤ۔ لو ہم تمہارے پیشواؤں سے دکھا دیتے ہیں کہ وہ کتا کو پلید ہی نہیں سمجھتے۔
وحید الزمان لکھتا ہے:
دم السمك طاهر وكذا الكلب وريقه عند المحققين من أصحابنا.
(نزل الابرار)
"ہمارے محققین کے نزدیک مچھلی کا خون پاک ہے، اسی طرح کتا اور اس کا لعاب بھی پاک ہے۔"
امام بخاری بھی ان محققین میں ہیں جو کتے کو پاک سمجھتے ہیں۔
عرف الجادی کے ص ۱۰ میں تصریح ہے کہ کتے کے ناپاک ہونے میں کوئی دلیل نہیں۔ نواب صدیق حسن بھی کتے کو پاک لکھتا ہے۔ تو یہ مسئلہ غیر مقلدین کے اپنے ہی گھر سے نکل آیا۔
ہم الزام ان کو دیتے تھے، قصور اپنا نکل آیا
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں