اعتراض نمبر ۴: کتے، بھیڑیے، گدھے وغیرہ کی دباغت دی ہوئی کھال کو پہن کر نماز ہو جاتی ہے اور ان کھالوں کے ڈول بنا کر ان میں پانی بھر کر وضو کرنا بھی جائز ہے۔
اعتراض نمبر ۴:
جازت الصلوة فيه والوضوء منه (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی کتے، بھیڑیے، گدھے وغیرہ کی دباغت دی ہوئی کھال کو پہن کر نماز ہو جاتی ہے اور ان کھالوں کے ڈول بنا کر ان میں پانی بھر کر وضو کرنا بھی جائز ہے۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)
جواب:
جب یہ ثابت ہو گیا کہ کھالیں دباغت سے پاک ہو جاتی ہیں تو ان پر نماز پڑھنا یا ان کے ڈول کے پانی سے وضو کرنا کیوں منع ہوگا؟
ہاں! تمہارے پاس کوئی صحیح حدیث اس کے برخلاف ہو تو پیش کرو لیکن پہلے اپنے مولوی وحید الزمان کی نزل الابرار دیکھ لینا۔ وہ فرماتے ہیں:
ويتخذ جلده مصلى ودلوا (ص۳۰)
یعنی کتے کے چمڑے کا ڈول اور جانماز بنا لینا درست ہے۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں