نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۳ : انسان اور خنزیر کے سوا جس جانور کے چمڑے کو دباغت دی جائے وہ پاک ہو جاتا ہے (یعنی کتے کی، بھیڑیے کی، گدھے کی اور تمام درندوں کی کھالیں بعد از دباغت پاک ہیں)۔

 


اعتراض نمبر ۳


كل إهاب دبغ فقد طهر يجوز ...... إلا جلد الخنزير والآدمي (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٤ باب الماء الذي يجوز) یعنی انسان اور خنزیر کے سوا جس جانور کے چمڑے کو دباغت دی جائے وہ پاک ہو جاتا ہے (یعنی کتے کی، بھیڑیے کی، گدھے کی اور تمام درندوں کی کھالیں بعد از دباغت پاک ہیں)۔

(درایت محمدی، ص ۹۰، ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)

جواب:


صحیح مسلم میں موجود ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا:

أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

وفي رواية: إِذَا دُبِغَ الإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ

ہدایہ شریف میں اس حدیث کے الفاظ ہیں یعنی:

كُلُّ إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ

تعجب ہے کہ اس معترض کو یہ خیال نہیں آیا کہ میں یہ اعتراض ہدایہ پر کر رہا ہوں یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ صاحب ہدایہ نے وہی کہا ہے جو حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے۔

پھر اگر یہ گندا مسئلہ ہے تو شرم کرو کہ اس کی نوبت کہاں تک پہنچی ہے؟

تمہارا مولوی وحید الزمان بڑا پکا غیر مقلد، تقلید کو برا کہنے والا، صحاح ستہ کا ترجمہ کرنے والا، قرآن مجید کی تفسیر لکھنے والا اور فقہ محمدی لکھنے والا، درندے، بھیڑیے تو ایک طرف خنزیر کے چمڑے کو بھی دباغت سے پاک لکھتا ہے۔

فقہاء علیہم الرحمۃ نے تو خنزیر کو مستثنیٰ کیا ہے مگر یہ حضرت تو اس کو بھی مستثنیٰ نہیں کرتے، چنانچہ نزل الابرار کے ص ۲۹ ج اول میں لکھتے ہیں:

أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ وَمِثْلُهُ الْمَثَانَةُ وَالْكَرِشُ وَاسْتَثْنَى بَعْضُ أَصْحَابِنَا جِلْدَ الْخِنْزِيرِ وَالْآدَمِيِّ وَالصَّحِيحُ عَدَمُ الِاسْتِثْنَاءِ.

کہ جس چمڑے کو دباغت دی جائے، پاک ہو جاتا ہے۔ مثانہ اور اوجڑی میں بھی اسی طرح ہے۔ ہمارے بعض اصحاب (غیر مقلدین) نے خنزیر اور آدمی کو مستثنیٰ کیا ہے، حالانکہ صحیح یہ ہے کہ یہ بھی مستثنیٰ نہیں۔

جب آپ کے بڑے یہ مسئلہ لکھتے ہیں تو آپ حنفیہ کو کیوں آنکھیں دکھاتے ہیں۔ پہلے اپنے گھر کی خبر لیجیے۔ اپنے وحید الزمان پر اعتراض کیجیے۔ آپ یہی کہیں گے کہ ہم وحید الزمان کے مقلد نہیں، ہمارا مذہب قرآن وحدیث ہے۔

میں کہتا ہوں کہ تم ان کے فتاویٰ پر بلا دلیل عمل کرتے ہو یا نہیں، اگر کہو کہ نہیں تو بالکل غلط ہے۔ مولوی ثناء اللہ ایڈیٹر اہل حدیث کے کئی ایسے فتاویٰ ہیں جن پر انہوں نے کوئی دلیل نہیں لکھی مگر پوچھنے والوں نے ان کو مان لیا۔

کیا مولوی وحید الزمان، صدیق حسن، قاضی شوکانی اور ابن تیمیہ وغیرہ غلطی نہیں کر سکتے؟ تو کیا وجہ ہے کہ ان کے مسائل پر تو بلا تحقیق عمل کیا جائے اور ائمہ احناف کے مسائل پر تنقید ہی 

تنقید روا رکھی جائے۔ اس سے یہ ظاہر ہے کہ آپ لوگ برائے نام غیر مقلد ہیں۔


----------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...