اعتراض نمبر ۶: ان جانوروں، کتے، بھیڑیئے، گدھے وغیرہ درندوں کی کھالیں بلکہ گوشت بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔
اعتراض نمبر ۶:
يطهر بالذكاة ..... وكذلك يطهر لحمه (هدايه يوسفي جلد اول ص ٤٥ باب الماء الذي يجوز الخ) یعنی ان جانوروں، کتے، بھیڑیئے، گدھے وغیرہ درندوں کی کھالیں بلکہ گوشت بھی ذبح کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں۔
(درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)
جواب:
حضور علیہ السلام کے ارشاد: إِذَا دُبِغَ الْإِهَابُ فَقَدْ طَهُرَ کے مطابق کھالیں تو بے شک پاک ہو جاتی ہیں جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ یہاں دباغت کا ذکر نہیں بلکہ ذکاۃ کا ہے۔ صاحب ہدایہ اس کا جواب دیتے ہیں:
لأنه يعمل عمل الدباغ في إزالة الرطوبات النجسة. (هدايه)
کہ ذبح کرنا دباغت کا کام کر جاتا ہے۔ جس طرح دباغت سے رطوبات نجسہ زائل ہو جاتی ہیں اسی طرح ذبح سے بھی رطوبات نجسہ زائل ہو جاتی ہیں۔
ذبیح اگر حلال جانور کو کیا جائے گا تو طہارت و حلت دونوں ہوں گی۔ اگر حرام کو ذبح کیا جائے گا تو طہارت ہو جائے گی لیکن حلت نہ ہوگی، اس کی حرمت برقرار رہے گی۔ اگر حلال جانور کو شریعت کے مطابق ذبح نہ کیا جائے تو حرام و ناپاک ہوگا۔
حدیث شریف میں زكاة الميتة دباغها (رواہ النسائی) آیا ہے۔ یعنی مردار کا ذبح کرنا اس کو دباغت دینا ہے۔ اسی طرح حدیث مرفوع میں زكاة كل مسك دباغه آیا ہے جس کو حاکم نے روایت کیا ہے۔ یعنی ہر چمڑے کا ذبح کرنا (پاک کرنا) اس کو دباغت کرنا ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں دباغها زكاتها آیا ہے۔ معلوم ہوا کہ طہارت میں اصل ذبح کرنا ہے اور دباغت اس کے قائم مقام ہے۔ پس ذبیحہ کا مطہرِ جلد ہونا ثابت ہو گیا۔ نیز ان روایات میں حضور علیہ السلام نے دباغت کو زکوٰۃ، جس کو ذبح بھی کہتے ہیں اور طہارت بھی، فرمایا ہوا ہے۔ جو فائدہ ذبح کرنے سے ہوتا ہے وہی دباغت سے حاصل ہوتا ہے۔ جب دباغت اور ذبح ازالۂ رطوباتِ نجسہ میں شریک ہیں تو طہارت میں بھی شریک ہوں گے۔ تفریق بغیر دلیل تحکم پر مبنی ہے۔
هذا ما عندي ومنه يستحق التعظيم
حرام جانوروں کا گوشت اصح اور مفتیٰ بہ مذہب میں پاک نہیں ہوتا۔
مراقی الفلاح میں ہے:
دون لحمه فلا يطهر على اصح ما يفتى به (ص ۹۷)
اصح اور مفتیٰ بہ مذہب میں ذبح کرنے سے حرام جانوروں کا گوشت پاک نہیں ہوتا۔
علامہ عبد الحی حاشیہ ہدایہ کے ص ۲۵ میں اور شیخ ابن ہمام فتح القدیر ص ۳۹ میں فرماتے ہیں:
قال كثير من المشائخ يطهر جلده لا لحمه وهو الاصح واختاره الشارحون كصاحب العناية وصاحب النهاية وغيرهما.
بہت سے مشائخ نے فرمایا ہے کہ ذبح کرنے سے چمڑا تو پاک ہو جائے گا، گوشت پاک نہیں ہوگا اور یہی اصح ہے۔ اس کو صاحب عنایہ، صاحب نہایہ وغیرہ شارحین نے پسند فرمایا ہے۔
کبیری ص ۱۴۴ میں ہے:
الصحيح أن اللحم لا يطهر بالذكاة
صحیح یہ ہے کہ حرام جانوروں کا گوشت ذبح کرنے سے پاک نہیں ہوتا۔ در مختار میں ہے کہ غیر ماکول مذبوح کا گوشت:
لا يطهر لحمه على قول الأكثر إن كان غير مأكول، هذا أصح ما يفتى به
اکثر کے نزدیک پاک نہیں ہوتا اور یہ صحیح ترین فتویٰ ہے۔
ثابت ہوا کہ مذہب حنفی میں اصح اور مفتیٰ بہ یہی ہے کہ غیر ماکول جانور کا گوشت ذبح سے پاک نہیں ہوتا۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ غیر مقلدین کے نزدیک پاک ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مولوی وحید الزمان نزل الابرار ص ۳۰ میں لکھتا ہے:
ما يطهر بالدباغة يطهر بالذكاة إلا لحم الخنزير فإنه رجس
جو دباغت سے پاک ہو جاتا ہے ذبح سے بھی پاک ہو جاتا ہے، خنزیر کے گوشت کے سوا کہ وہ رجس ہے۔
اس عبارت میں صرف خنزیر کے گوشت کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ دوسرے جانوروں کا گوشت بھی ان کے نزدیک پاک ہو جاتا ہے بلکہ غیر مقلدین کے ہاں ذبح کے بغیر کتا اور خنزیر تک ناپاک نہیں۔
عرف الجادی میں ہے:
پس دعویٰ نجس العين بودن سگ و خنزير و پلید بودن خمر و دم مسفوح و حيوان مردار ناتمام است
کتے اور خنزیر کے نجس العین ہونے کا دعویٰ، شراب اور دمِ مسفوح کے پلید ہونے کا دعویٰ اور مرے ہوئے جانور کے ناپاک ہونے کا دعویٰ کرنا صحیح نہیں ہے۔
نواب صدیق حسن صاحب بدور الاهلة کے ص ۱۶ میں فرماتے ہیں:
حديث ولوغ كلب دال بر نجاست تمامه كلب از لحم و عظم و دم و شعر و عرق نيست بلكه اين حكم مختص بولوغ اوست، الحاقش بقياس بر ولوغ سخت بعيد است.
دیکھئے! آپ کے نواب صاحب تو کتے کے گوشت، ہڈیوں، خون، بالوں اور پسینے تک کو پاک کہہ رہے ہیں، پس آپ ہی کو مبارک ہو۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں