نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۷: کھجور کی شراب سے وضو کرنا جائز ہے اور اس شراب کو پینا بھی حلال ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔

 

اعتراض نمبر ۷:


إن اشتد فعند أبي حنيفة يجوز التوضؤ به لأنه يحل شربه عنده (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥١ فصل في الآسار) یعنی کھجور کی شراب سے وضو کرنا جائز ہے اور اس شراب کو پینا بھی حلال ہے۔ امام ابو حنیفہ کا فرمان یہی ہے۔

(درایت محمدی، ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)

جواب:


امام اعظم کی یہ روایت مفتیٰ بہ نہیں۔ خود فقہاء علیہم الرحمہ نے تصریح کی ہے۔ امام اعظم کی صحیح اور مفتیٰ بہ روایت یہ ہے کہ نہ اس کا پینا جائز ہے اور نہ ہی اس سے وضو درست ہے۔

خود صاحب ہدایہ نے ص ۳۰ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

قال أبو يوسف: يتيمم ولا يتوضأ به، وهو رواية عن أبي حنيفة. (هدايه)

امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ نبیذِ تمر سے وضو نہ کرے، تیمم کرے اور یہ روایت ابو حنیفہ سے ہے۔

بلکہ امام اعظم کا یہی آخری قول ہے۔

چنانچہ علامہ عینی شرح ہدایہ جلد اول ص ۲۸۶ میں فرماتے ہیں:

روى عنه نوح بن أبي مريم وأسد بن عمرو والحسن أنه يتيمم ولا يتوضأ به. قال قاضي خان: وهو الصحيح وهو قوله الآخر وقد رجع إليه.

نوح بن ابی مریم، اسد بن عمرو اور حسن نے امام اعظم سے روایت کیا ہے کہ نبیذِ تمر سے وضو نہ کرے، تیمم کرے۔ قاضی خان نے لکھا ہے کہ یہ صحیح ہے اور امام صاحب کا یہ آخری قول ہے۔ امام اعظم نے اس کی طرف رجوع فرمایا۔

حافظ ابن حجر فتح الباری پارہ اول ص ۷۶ میں لکھتے ہیں:

ذكر قاضي خان أن أبا حنيفة رجع إلى هذا القول

قاضی خان نے ذکر کیا ہے کہ امام صاحب نے نبیذِ تمر سے وضو ناجائز ہونے کی طرف رجوع کیا۔

پس وہ مسئلہ جس سے امام صاحب نے رجوع فرمایا، فقہاء نے جس کو مفتیٰ بہ قرار نہیں دیا، اس کو ذکر کر کے احناف پر اعتراض کرنا محض عوام الناس کو مغالطہ میں ڈالنا ہے۔


----------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...