نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۸: پتھر سے اور گچ سے اور چونے سے اور سرمہ سے اور ہڑتال سے بھی تیمم ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کا خیال یہی ہے اور امام محمد بھی ان کے ہم خیال ہیں۔

 


اعتراض نمبر ۸:


يجوز التيمم وعند أبي حنيفة ومحمد بالحجر والجص والنورة والكحل والزرنيخ (هدايه يوسفي جلد اول ص ٥٣ باب التيمم) یعنی پتھر سے اور گچ سے اور چونے سے اور سرمہ سے اور ہڑتال سے بھی تیمم ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ کا خیال یہی ہے اور امام محمد بھی ان کے ہم خیال ہیں۔ (درایت محمدی ص ۹۱، ہدایت محمدی ص ۵)

جواب:

کیا تمہارے پاس کوئی حدیث ہے جس میں یہ علم ہو کہ ان اشیاء پر تیمم درست نہیں؟ اگر ہے تو بیان کرو، ورنہ اپنا اعتراض واپس لو۔ سنیئے! ہدایہ شریف میں اس کی دلیل موجود ہے، یعنی:

إن الصعيد اسم لوجه الأرض

صعید مٹی ہی کو نہیں کہتے بلکہ صعید روئے زمین کا نام ہے۔

علامہ عینی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:

لأن الصعيد ليس التراب، إنما هو وجه الأرض ترابا كان أو صخرا لا تراب عليه أو غيره.

"کیونکہ صعید مٹی نہیں بلکہ روئے زمین ہے، مٹی ہو یا پتھر جس پر مٹی نہ ہو یا اس کا غیر ہو۔"

اور حدیث بخاری و مسلم میں آیا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا

کہ میرے لیے جنسِ زمین کو مسجد اور طہور بنایا گیا۔

ایک حدیث میں آیا ہے:

التراب طهور المسلم

علامہ عینی شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں:

هذا الذي ذكره في الحقيقة استدلال لأبي حنيفة ومحمد على جواز التيمم بجميع أجزاء الأرض لأن اللام فيها للجنس فلا يخرج شيء منها، وكان الأرض كلها جعلت مسجدا، وما جعل مسجدا هو الذي جعل طهورا. (عینی ج۱ ص۳۱۱)

در حقیقت اس میں ابو حنیفہ و محمد کی دلیل ہے کہ زمین کے جمیع اجزاء کے ساتھ تیمم جائز ہے کیونکہ اس میں لام جنس کے لیے ہے تو کوئی چیز اس سے خارج نہ ہوگی اور سب زمین مسجد بنائی گئی ہے تو جو مسجد بنائی گئی وہی پاک کرنے والی بنائی گئی۔

تو اس سے تیمم بھی درست ہوا کیونکہ ریت، چونہ، پتھر اور گچ یہ سب چیزیں جنسِ زمین سے ہیں اور ان پر نماز جائز ہے۔ جن پر نماز پڑھنا جائز ہوا، ان پر تیمم کرنا بھی جائز ہے۔

صدیق حسن بھوپالی روضہ الندیہ کے ص ۳۹ میں لکھتا ہے:

قال في القاموس: الصعيد التراب أو وجه الأرض، انتهى. والثاني هو الظاهر من لفظ الصعيد لأنه ما صعد أي علا وارتفع على وجه الأرض، وهذه الصفة لا تختص بالتراب، ويؤيد ذلك حديث: جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا.

قاموس میں ہے کہ صعید تراب ہے یا روئے زمین، اور دوسرا معنی لفظ صعید سے ظاہر ہے۔ صعید وہ ہے جو بلند ہو اور زمین کے اوپر ہو، اور یہ صفت یعنی روئے زمین پر ہونا مٹی کے ساتھ مختص نہیں (کہ تیمم اس کے ساتھ مختص ہو) اور حدیث "جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا" بھی اس کی تائید کرتی ہے۔

عرف الجاری میں ہے:

تخصيص صعيد بتراب ممنوع است

صعید کی تخصیص مٹی سے کرنا صحیح نہیں۔

معلوم ہوا کہ قرآن حکیم نے تیمم کے لیے صعيدا طيبا فرمایا ہے۔ صعید روئے زمین کو کہتے ہیں اور روئے زمین ہر جگہ مٹی نہیں ہوتا، ریگستان میں ریت ہے، پتھریلی زمین میں پتھر ہے۔ لہٰذا ہر وہ چیز جو جنسِ زمین سے ہوگی اس پر تیمم جائز ہے۔

اس مسئلہ کو جس کا ماخذ قرآن و سنت ہے، خلاف عقل و نقل قرار دینا فرقہ غیر مقلدین ہی کا خاصہ ہے۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...