نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو یوسفؒ پرسفیان بن عیینہ سے حدیث "چوری" کرنے کے الزام کا تحقیقی جائزہ


امام ابو یوسفؒ پر سفیان بن عیینہ سے  حدیث "چوری" کرنے کے الزام کا تحقیقی جائزہ


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الطَّبَّاعُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَانَ يَأْتِي عَرَفَةَ بِسَحَرٍ، قَالَ ابْنُ الطَّبَّاعِ: قَالَ سُفْيَانُ: مَكَثَ أَبُو يُوسُفَ يَسْأَلُنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ مُدَّةً، فَلَا أُرَاهُ أَهْلًا أَنْ أُحَدِّثُهُ بِهِ، حَتَّى كُنَّا عِنْدَ هَارُونَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو يُوسُفَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّ عِنْدَهُ حَدِيثًا حَسَنًا فَسَلْهُ عَنْهُ، فَسَأَلَنِي عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ بِهِ فَسَرَقَهُ.

ہم سے احمد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عیسیٰ الطباع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے بیان کیا کہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صبح کے آخری وقت (سحر کے وقت) عرفات آیا کرتے تھے۔ابن الطباع (محمد بن عیسیٰ) نے کہا کہ سفیان (بن عیینہ) نے فرمایا: "ابو یوسف (امام ابو یوسف) ایک مدت تک مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھتے رہے، لیکن میں انہیں اس لائق نہیں سمجھتا تھا کہ انہیں یہ حدیث سناؤں۔ یہاں تک کہ (ایک دن) ہم ہارون (خلیفہ ہارون الرشید) کے پاس موجود تھے۔ تو ابو یوسف نے ان سے کہا: 'اے امیر المومنین! ان کے پاس ایک بہترین حدیث ہے، آپ ان سے اس کے بارے میں پوچھیں۔' چنانچہ انہوں (خلیفہ) نے مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا، تو میں نے انہیں وہ حدیث سنا دی، پھر انہوں (ابو یوسف) نے اسے چرا لیا (یعنی فوراً یاد کر کے اپنے نام سے روایت کر لیا)۔" (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/‏٤٣٨)

جواب: اس روایت سے بعض حضرات امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ غور سے دیکھا جائے تو یہ روایت ان کے خلاف کوئی معتبر جرح ثابت نہیں کرتی۔

محقق سرساوی کے نسخہ کے الفاظ زیادہ راجح معلوم ہوتے ہیں

سب سے پہلے یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ محقق سرساوی کے نسخہ میں اس مقام کے الفاظ "فَسَأَلَنِي عنه فَحَدَّثْتُه به فسمعه" وارد ہوئے ہیں (الضعفاء الكبير للعقيلي 6/429)، یعنی: "خلیفہ نے مجھ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا، تو میں نے حدیث بیان کر دی اور ابو یوسف نے اسے سن لیا۔" یہ الفاظ زیادہ درست اور قرائن کے زیادہ موافق معلوم ہوتے ہیں، بہ نسبت اس نسخے کے جس میں "فَسَرَقَهُ" (اس نے اسے چرا لیا) کا لفظ مذکور ہے۔

روایت میں امام ابو یوسفؒ پر کوئی جرح موجود نہیں

پہلی بات یہ ہے کہ اس پوری روایت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر کوئی جرح موجود نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس حدیث کے حصول کا شوق تھا اور آپ مدت تک سفیان بن عیینہ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرتے رہے۔ یہ درحقیقت امام ابو یوسف کے شوقِ حدیث اور طلبِ علم کی دلیل ہے، نہ کہ ان پر کسی طعن کی۔

دوسری بات یہ ہے کہ "فسمعه" کے الفاظ زیادہ راجح معلوم ہوتے ہیں، کیونکہ اگر واقعی امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے حدیث "چوری" کی ہوتی، جیسا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس حدیث کو براہِ راست عمرو بن دینار سے روایت کرتے یا سفیان بن عیینہ کا واسطہ ساقط کر دیتے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔

"فَسَرَقَهُ" کے الفاظ محلِ نظر ہیں

کتبِ حدیث اور اسانید کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے اس حدیث کو سفیان بن عیینہ ہی کے واسطے سے حاصل کیا اور اسی طریقے سے روایت کیا۔ اگر وہ حدیث کو "چرا" لیتے تو پھر سفیان بن عیینہ سے سنے بغیر ان کی طرف منسوب کر کے روایت کرتے، یا سند میں کسی قسم کا تصرف کرتے، جبکہ ایسا ہرگز ثابت نہیں۔

لہٰذا یہ واقعہ دراصل امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی حدیث کے حصول میں دلچسپی اور ان کی علمی حرص کو ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر محقق سرساوی کے نسخے کے الفاظ "فسمعه" کو اختیار کیا جائے تو اشکال سرے سے باقی ہی نہیں رہتا، کیونکہ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ خلیفہ کی موجودگی میں حدیث بیان کی گئی اور امام ابو یوسف نے اسے سن لیا۔

مقامِ افتاء و قضا اور وسعتِ علم کا توازن

پہلا مغالطہ جو اس روایت کے ظاہری اسلوب سے پیدا ہوتا ہے، وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے پایۂ علمی کو محض ایک حدیث کے سننے یا نہ سننے پر منحصر کر دینا ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کوئی نوآموز طالبِ علم نہیں تھے کہ امام سفیان بن عیینہ انہیں "نااہل" سمجھ کر رد کر دیتے۔ وہ مدینۃ العلم، کوفہ کے اس درخشندہ ستارے کا نام ہے جس نے امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی آغوشِ تربیت میں سال گزارے۔ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ جن کے در سے بڑے بڑے راوی کانپتے تھے وہ امام ابو یوسف کے بارے میں فرماتے ہیں: "صاحب حديث وصاحب سنة" (وہ صاحبِ حدیث اور صاحبِ سنت ہیں)۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا یہ قول تاریخ کا حصہ ہے کہ: "پہلی مرتبہ جب میں نے حدیث لکھی، تو وہ ابو یوسف کے ہاں سے لکھی تھی۔" اب جو شخصیت امام احمد جیسے جلیل القدر محدث کی مآخذِ حدیث ہو، اسے سفیان بن عیینہ کی 

طرف منسوب ایک مبہم جملے کی بنیاد پر نااہل قرار دینا قرینِ انصاف کیسے ہو سکتا ہے؟

"فلا أراہ أھلاً" (میں انہیں اہل نہیں سمجھتا تھا) کا اصل مفہوم

اس نوع کے جملے بعض اوقات  معاصرانہ چشمک، یا محدثین کے مخصوص مزاج کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ محدثینِ کرام بعض اوقات کسی خاص عالی سند یا منفرد حدیث کو سنانے میں بخل سے کام لیا کرتے تھے تاکہ اس کی اہمیت برقرار رہے۔ جب امام ابو یوسف بار بار اصرار کر رہے تھے، تو سفیان بن عیینہ نے اپنے روایتی تیکھے مزاج کے تحت کہہ دیا کہ "میں اسے اس لائق نہیں سمجھتا" (یعنی میں ابھی یہ قیمتی موتی اسے اتنی آسانی سے دینے پر راضی نہیں)۔ 

خلیفہ اور قاضی القضاۃ کا تقابل: ایک منطقی تضاد

اگر خلیفہ وقت کے پوچھنے پر حدیث سنانا ہی علم و فضل اور استحقاق کا معیار ہے، تو تاریخ گواہ ہے کہ ہارون الرشید کوئی فقیہِ عصر یا امامِ حدیث نہیں تھے۔ شیخ کا خلیفہ کے سامنے فوراً حدیث بیان کر دینا کسی علمی برتری کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ہیبتِ سلطانی، رعایتِ منصب یا مصلحتِ وقت کا مرہونِ منت تھا۔ اس کے برعکس، فقیہِ ملت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو ایک مدت تک اس روایت سے دور رکھنا ان کی کسی علمی نااہلی یا کمزوریِ حفظ کے سبب ہرگز نہ تھا، بلکہ یہ محدثینِ عظام کا وہ روایتی اور تدریسی ناز نخرہ تھا جس کے تحت وہ غایتِ احتیاط کے پیشِ نظر اپنی عالی اسانید اور نایاب موتیوں کو آسانی سے لٹایا نہیں کرتے تھے تاکہ طالبِ علم میں مزید تڑپ اور پختگی پیدا ہو۔

یہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی جلالتِ علمی اور فکری بلندی کا لوہا ماننا پڑتا ہے کہ انہوں نے محدثِ کوفہ کے اس روایتی حجاب کو دور کرنے کے لیے ایک حکیمانہ تدبیر فرمائی؛ انہوں نے خود اصرار کرنے کے بجائے خلیفہِ وقت کے واسطے سے وہ بند کواڑ کھلوا دیے، اور جیسے ہی شیخ کی زبان سے حدیثِ پاک جاری ہوئی، آپ نے اپنی ذہانتِ خداداد اور قوتِ حافظہ کے بل بوتے پر اسے فوراً اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ چنانچہ، اس واقعے کو امامِ موصوف کی نااہلی پر محمول کرنا علمِ جرح و تعدیل کے ابجدی اصولوں سے بھی ناواقفیت کی دلیل ہے، بلکہ یہ واقعہ تو ان کے شوقِ حدیث، علوِ ہمت اور تحصیلِ علم کے لیے ہر جائز علمی و سیاسی تدبیر اختیار کرنے کی ایک درخشندہ مثال ہے۔

 منصبِ قضا پر فائز ہو کر بھی طلبِ علم کا لازوال شوق

اس واقعے کا سب سے خوبصورت، ایمان افروز اور روشن پہلو جس پر معترضین کی نظر نہیں جاتی وہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا بے پناہ علوِ ہمت اور کمالِ تواضع ہے۔غور فرمائیے! امام ابو یوسف اس وقت کوئی عام طالبِ علم یا نوآموز فقیہ نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری اسلامی سلطنت کے "قاضی القضاۃ" ہیں۔ دنیاوی جاہ و جلال، منصب و اعزاز اور خلیفہِ وقت کی قربت ان کے قدموں میں ہے۔ اس سلطانی منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی، ایک ایک حدیث کی جستجو میں سفیان بن عیینہ کے پاس بار بار جانا اور ان کی بے رخی کو محض طلبِ حدیث کے لیے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا یہ دکھاتا ہے کہ ان نفوسِ قدسیہ کے نزدیک دنیاوی مناصب کی کوئی اوقات نہیں تھی، اصل دولت علمِ مصطفیٰ ﷺ تھا۔منصبِ قضا کی مصروفیات اور اس کی ہیبت کے باوجود ایک روایت کی طلب میں اس حد تک جانا اور تدبیریں اختیار کرنا ثابت کرتا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ علم کے کتنے سچے شیدائی تھے۔ یہ ان کی علمی کسرِ نفسی اور والہانہ تڑپ کا منہ بولتا ثبوت ہے، نہ کہ ان کی نااہلی کا۔

بہر حال، اس روایت سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر کوئی قدح، جرح یا علمی خیانت ثابت نہیں ہوتی، بلکہ قرائن اور واقعہ کی نوعیت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ یہ محض ان کے شوقِ حدیث اور طلبِ علم کا ایک واقعہ ہے، جسے بعض ناقلین نے نامناسب تعبیر کے ساتھ نقل کر دیا۔

تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ : قسط نمبر1 : قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی تعریف ، توثیق اور تحسین


تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...