نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۶۲: کفن چور کا ہاتھ بھی نہ کاٹنا چاہیے۔

 


اعتراض نمبر ۶۲:

لا قطع على النباش وهذا عند أبي حنيفة.

(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۲۰ باب ما يقطع فيه)


یعنی کفن چور کا ہاتھ بھی نہ کاٹنا چاہیے۔


(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۱)


جواب:


مولف کو سرقہ کی تعریف ہی معلوم نہیں، اور اگر معلوم ہے تو جان بوجھ کر لوگوں کو دھوکہ دے رہا ہے۔ ہم پہلے یہاں پر سرقہ کی مختصر تعریف نقل کرتے ہیں تاکہ مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہو۔


سرقہ کی تعریف:


مولانا مجیب اللہ ندوی حنفی لکھتے ہیں:


سرقہ کے لفظی معنی کسی چیز کو خفیہ طور پر لینا اور چھپا لینا۔ قرآن پاک میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:


إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ


(الحجر)


یعنی آسمان میں شیطانوں کے جانے پر پہرے دار بیٹھے ہوتے ہیں مگر یہ شیطان چوری چھپے فرشتوں کی کچھ باتیں اچک لیتے ہیں۔


اس کی اصطلاحی تعریف فقہاء نے یہ کی ہے:


أخذ العاقل البالغ نصابًا محرزًا ملكًا للغير خفيةً مما لا يتسارع إليه الفساد.


(الفقه على المذاهب الاربعة ج ۵ ص ۱۵۶، ہدایہ ج ۱ ص ۵۱۷، التعزير في الشريعة الاسلامية ص ۵)


یعنی کسی عاقل بالغ کا بقدر نصاب کسی غیر کے محفوظ مال کو، جو جلد خراب ہونے والا نہ ہو، پوشیدہ طور پر بغیر اجازت لے لینے کا نام سرقہ ہے۔


اس تعریف سے یہ بات واضح ہو گئی کہ چوری کے جرم میں اسی وقت ہاتھ کاٹا جائے گا جب یہ شرطیں پائی جائیں:


(۱) چور عاقل بالغ ہو۔


(۲) جو مال چوری کیا گیا ہے وہ مال کی تعریف میں آتا ہو، یعنی ایسی چیزیں جو جلد خراب ہو جانے والی یا حرام نہ ہوں۔


(۳) چوری کیا ہوا مال بقدر نصاب ہو۔


(۴) مال محفوظ ہو۔


(۵) مالک کی اجازت کے بغیر پوشیدہ طور پر لیا گیا ہو۔


(۶) غیر کی ملکیت ہونے میں کوئی شبہ نہ ہو۔


یہ تمام شرائط اگر پائی جاتی ہوں تو چوری کرنے والے کو سارق (چور) اور اس مال کو مالِ مسروقہ قرار دے کر قرآن کے حکم کے مطابق قطعِ ید کا حکم دیا جائے گا۔


وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ


(سورۃ المائدہ، پارہ نمبر ۶)


چور مرد اور چور عورت کے (دائیں) ہاتھوں کو کاٹ دو، یہ بدلہ ہے اس جرم کا جو انہوں نے کیا ہے، یہ سزا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔


ان شرطوں میں کچھ کا تعلق سارق یعنی چور سے ہے، اور کچھ کا تعلق مسروق یعنی جو چیز چرائی جائے اس سے، اور کچھ کا تعلق مسروق فیہ یعنی جس کا مال چرایا گیا ہے، یعنی وہ اس کی ملکیت میں رہا ہو، اور کچھ کا تعلق مسروق عنہ سے ہے یعنی جس جگہ سے اس نے مال چوری کیا ہے۔


اوپر جو شرطیں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے کی بیان کی گئی ہیں وہ شرطیں اس آیت کے مقصد اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں فقہائے کرام نے مقرر کی ہیں۔


(اسلامی فقہ جلد ۳ ص ۷۸ تا ۸۰)


یہ شرائط احناف ہی کے نزدیک نہیں، خود غیر مقلدین کے علماء نے بھی ان کو تسلیم کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خان قنوجی لکھتے ہیں:


من سرق مكلفًا مختارًا من حرز واستدل على ذلك بما أخرجه أبو داود والنسائي وأحمد والحاكم والترمذي.


(الروضة الندية ص ۳۵۹)


جس مکلف نے حالتِ اختیار میں مالِ محفوظ کی چوری کی ہے (اس پر قطعِ ید ہے اگر مال نصاب کو پہنچا ہو) بدلیل اس حدیث کے جس کو ابوداؤد، نسائی وغیرہ نے روایت کیا ہے۔


نواب صاحب نے صاف لکھا ہے کہ مالِ محفوظ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔


اب کفن چور کے مسئلے کا حل معلوم ہو گیا کیونکہ یہ مال محفوظ نہیں ہے، نہ یہ میت کا مال ہے اور نہ وارثوں کا مال ہے، اس لیے اس پر چوری کی حد جاری نہ ہوگی، ہاں تعزیر ضرور لگائی جائے گی۔ یہ مسلک احناف کا ہے اور احادیث و آثار سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں۔


حدیث:


زہری فرماتے ہیں کہ مروان بن حکم کے پاس ایسی قوم کو لایا گیا جو قبریں کھودا کرتی تھی یعنی کفن چوری کرتی تھی۔ مروان نے ان کی پٹائی کی اور ان کو جلا وطن کر دیا حالانکہ اس وقت صحابہ کرام وافر مقدار میں تھے۔


(مصنف ابن ابی شیبہ، بحوالہ اعلاء السنن مترجم ج ۳ ص ۵۹۹)


حدیث:


قال محمد وبلغنا عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه أفتى مروان بن الحكم أن لا يقطعه، وهو قولنا.


امام محمد نے فرمایا: ہمیں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے مروان بن الحکم کو یہ فتویٰ دیا تھا کہ اس (کفن چور) کا ہاتھ نہ کاٹو، یہی ہمارا قول ہے۔


(کتاب الآثار امام محمد مترجم ص ۴۷۳، باب حد النباش)


حدیث:


زہری فرماتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کفن چور کو پکڑ کر لایا گیا اور اس وقت مروان مدینے پر حاکم تھا۔ اس نے حاضرین صحابہ رضی اللہ عنہم اور فقہاء سے پوچھا تو ان سب کی رائے اس بات پر متفق ہوئی کہ اس کی پٹائی کی جائے اور اس کو چکر لگوایا جائے۔


(مصنف ابن ابی شیبہ، نصب الرایہ ج ۳، ص ۳۶۸)


فائدہ:


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اجماع ہے کہ کفن چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔


حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، آپ نے فرمایا:


ليس على النباش قطع.


کفن چور پر قطعِ ید نہیں ہے۔


(نصب الراية ج ۳ ص ۳۶۸)


حدیث:


اہل مدینہ نباش (کفن چور) کو سارق نہیں کہتے تھے بلکہ ان کی لغت میں کفن چور کو مختفی کہا جاتا تھا اور مختفی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:


لا قطع على المختفي.


کہ کفن چور پر قطع (ید) نہیں ہے۔


(نصب الراية في تخريج أحاديث الهداية ج ۳ ص ۳۶۷)


نوٹ:


کفن چور کا ہاتھ کاٹنے کے بارے میں جو حدیث بیان کی جاتی ہے وہ حدیث منکر ہے۔ بیہقی نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اس کی سند میں بشر بن حازم ہے جو کہ مجہول ہے۔ اس روایت کے علاوہ باقی جن روایات کا ذکر بعض محدثین نے کیا ہے (بشرطیکہ ان کی سند ٹھیک ہو) تو احناف کے ہاں وہ زجر و تشدید پر محمول ہوں گی۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...