نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض: ایک شخص نے خواب میں امام ابو یوسفؒ کو دیکھا کہ ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی

 


اعتراض: ایک شخص نے خواب میں امام ابو یوسفؒ کو دیکھا کہ ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی


خواب کی روایت 

حدثني أبو سليمان محمد بن سليم المروزي قال حدثني أبو الدرداء محمد بن عبد العزيز بن منيب قال سمعت محمد بن بشر بن العبدي قال حدثني أخي قال رأيت أبا يوسف في المنام وعلى عنقه صليب قلت من أعطاك هذا قال يحيى اليهودي.

"مجھ سے ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابو الدرداء محمد بن عبدالعزیز بن منیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن بشر بن العبدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا کہ: میں نے خواب میں ابو یوسف (امام ابو یوسف، جو امام ابو حنیفہ کے مشہور شاگرد اور قاضی تھے) کو دیکھا اور ان کی گردن میں صلیب لٹکی ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: یہ آپ کو کس نے دی؟ انہوں نے کہا: یحییٰ یہودی نے

(كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي 4/443)

جواب

یہ روایت بھی مردود اور ناقابلِ احتجاج ہے۔

پہلی علت: ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی مجہول ہیں

اس روایت میں امام عقیلی کے شیخ ابو سلیمان محمد بن سلیم المروزی ہیں، لیکن کتبِ رجال میں ان کا واضح تعارف اور توثیق موجود نہیں۔ لہٰذا سند کا ابتدائی حصہ ہی ضعف اور جہالت سے خالی نہیں۔

دوسری علت: محمد بن بشر کے بھائی بھی مجہول ہیں

روایت میں محمد بن بشر بن عبدی کہتے ہیں: "حدثني أخي" "مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا۔" مگر یہ بھائی کون ہیں؟ ان کا نام کیا ہے؟ ان کی ثقاہت کیا ہے؟  اس بارے میں مکمل سکوت ہے۔ چنانچہ روایت میں کم از کم دو مجہول افراد موجود ہیں، اور مجہول راویوں کی بنیاد پر کسی امامِ دین پر جرح کرنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔

تیسری علت: خواب شرعی حجت نہیں

فرض کر لیا جائے کہ سند درست بھی ہوتی، تب بھی یہ صرف ایک خواب ہے، اور خواب نہ عقائد میں حجت ہوتے ہیں اور نہ کسی مسلمان کی عدالت و دیانت کے خلاف دلیل بن سکتے ہیں۔

بلکہ نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر فرمایا: "اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔" پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ جب کوئی ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرے، شیطان سے پناہ مانگے، تین مرتبہ بائیں جانب تھوتھو کرے اور اس خواب کا کسی سے ذکر نہ کرے۔   (صحیح بخاری، حدیث: 7044)

خواب سے کسی امام پر جرح کرنا عجیب طرزِ استدلال ہے

اگر ہر شخص کے خوابوں کو جرح و تعدیل کا معیار بنا لیا جائے تو نہ کسی کی عدالت باقی رہے گی اور نہ کسی کی دیانت۔

ائمۂ حدیث نے کبھی خوابوں کو راویوں کی توثیق یا تضعیف کا معیار نہیں بنایا۔

لہٰذا ایک مجہول شخص کا خواب، پھر وہ بھی مجہول راویوں کے واسطے سے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ جیسے ثقہ، فقیہ اور جلیل القدر محدث کے خلاف کیسے حجت بن سکتا ہے؟

فرقہ اہلحدیث کے بدنام زمانہ متضاد شخصیت زبیر علی زئی لکھتے ہیں

"صحابۂ کرام کے بعد کسی اُمتی کا خواب حجت نہیں ہے " (کتاب الاربعین لابن تیمیہ ص 114)

مزید یہ کہ خواب شرعی حجت نہیں ، خواب سے شرعی احکام ثابت نہیں ہوتے جیسا کہ محدثین نے لکھا ہے ( فتح الباری 12 /388 ) اور خود غیر مقلدوں نے بھی لکھا ہے ۔( فتاوی علمائے حدیث : باب الغسل والکفن 1/71 ، مقالات زبیر علی زئی 5/342 ، فتاوی ثنائیہ مدنیہ 1/881 )


تبصرے