نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

امام ابو زرعہ رازی کی غیر مفسر جرح اور قاضی القضاة امام ابو یوسف کی ثقاہت


امام ابو زرعہ رازی کی غیر مفسر جرح اور قاضی القضاة امام ابو یوسف کی ثقاہت


امام ابو زرعہ رازی کی کتاب "اسامی الضعفاء" (ترجمہ رقم 382) میں فقہ حنفی کے اساطین میں سے ایک عظیم ستون، امام اعظم کے جلیل القدر شاگرد اور قاضی القضاة امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے بارے میں جو کلام نقل کیا گیا ہے:

الذي كان على القضاء، يعني صاحب أبي حنيفة. [أسامي الضعفاء لأبي زرعة الرازي (ترجمة رقم ٣٨٢)].

 مذکورہ بالا کلام ایک غیر مفسر جرح (ایسی تنقید جس کی وجہ بیان نہ کی گئی ہو) کی حیثیت رکھتا ہے ، اور ایسی غیر مفسر جرح قبول نہیں کی جاتی۔

حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ ہمارے دور کے وہ احباب جو خود کو اہلحدیث (غیر مقلدین) کہتے ہیں، وہ فقہ حنفی کے ائمہ پر طعن کرنے کے لیے تو ایسے مبہم اقوال کا سہارا لیتے ہیں، مگر خود ان کے اپنے مسلمہ محققین اور شیوخ کے قلم سے اس اصول کی جو تصدیق ہوئی ہے، وہ ان کے اس رویے کا منہ چڑاتی ہے۔ انصاف پسند طبقے کے لیے خود انھی کے گھر کی گواہی پیشِ خدمت ہے:
غیر مقلد اہلحدیثوں کے محقق زبیر علی زئی لکھتا ہے :
" صرف ضعیف یا متروک یا منکر الحدیث کہہ دینا جرح مفسر نہیں ہے۔ " ( رکعتِ قیامِ رمضان کا تحقیقی جائزہ: ص43 )
 اور جرح غیر مفسر ، راوی کی ثقاہت کو مضر نہیں۔ غیر مقلد عبدالرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں : 
جرح مبہم مضر نہیں۔  (ملخصا ابکار المنن ص ۸۰)
غیر مقلد نذیر رحمانی لکھتے ہیں:
غیر مفسر اور مبہم جرحوں کا اعتبار نہ ہوگا۔ (انوار المصابیح ص ۱۳۸)
غیر مقلد ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں:
غیر مفسر جرح قابل قبول نہیں۔ (توضیح الکلام ص ۴۳۸)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں
اس پر معمولی کلام ہے غیر مفسر ہونے کی بنیاد پر مردود ہے۔ (پرویزی تشکیک کا علمی محاسبہ ص ۱۸۸)
غالی غیر مقلد رئیس ندوی لکھتا ہے:
تجریح مبہم غیر مقبول ہے۔  (سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۳۱)

امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی توثیق، تعدیل اور امانت و دیانت پر خود فنِ حدیث کے سخت گیر اور متشدد ناقدین (جیسے امام یحییٰ بن معین، امام نسائی، اور امام ابن حبان رحمہم اللہ) سمیت جمہور محدثین کی صریح اور واضح مہریں ثبت ہیں۔ لہذا، جمہور کی اس قوی، روشن اور واضح توثیق کے سامنے ابو زرعہ رازی کی یہ مبہم اور بے دلیل جرح مردود اور ناقابلِ التفات ہے۔

تفصیل کیلئے دیکھیں  "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود


سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ : قسط نمبر1 : قاضی القضاۃ امام یعقوب بن ابراہیم ابو یوسف الأنصاریؒ (متوفی ۱۸۲ھ) کی تعریف ، توثیق اور تحسین 

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...