اعتراض نمبر ۶۱:
لا قطع في دف ولا طبل ولا بربط ولا مزمار.
(ہدایہ یوسفی جلد ۲ ص ۵۱۹ باب ما يقطع فيه)
یعنی ڈھول، طبلہ، بربط اور دوسری قسم کے باجوں کے چور کے ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔
(درایت محمدی ص ۱۰۱، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جواب:
ہدایہ میں اس کے آگے ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ لکھی تھی مگر جوناگڑھی نے نقل نہیں کی۔ ہدایہ کی مکمل عبارت اس طرح تھی۔ مفتی عبد العلیم قاسمی حنفی اس عبارت کا ترجمہ اسی طرح کرتے ہیں:
دفلی، طبلہ، باجہ اور بانسری چرانے میں قطعِ ید نہیں ہے، کیونکہ حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ (امام ابو یوسف اور امام محمد) کے یہاں ان کی کوئی قیمت نہیں ہے، اور امام ابو حنیفہ کے یہاں انہیں لینے والا توڑنے کی تاویل کر دے گا۔
(احسن الہدایہ ج ۶، ص ۳۲۴)
اور مولانا شمیر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی تشریح میں لکھتے ہیں:
تشریح:
صاحبین کے یہاں ان چاروں کی کوئی قیمت نہیں ہے اور امام ابو حنیفہ کے یہاں قیمت تو ہے، لیکن یہ کہہ سکتا ہے کہ ان کو توڑنے کے لیے لیا تھا، چرانے کے لیے نہیں۔ اس لیے ان کے چرانے سے ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ڈھول اور سارنگی اور بانسری کے ناجائز ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے۔
حدیث:
حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں آتا ہے، جس کا مفہوم اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ نے حرام کیا مجھ پر شراب اور جوا اور ڈھول، اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔
(ابوداؤد مترجم، علامہ وحید الزمان ج ۳، ص ۱۳۴، کتاب الاشربہ باب فی الاوعیة)
اس حدیث سے ڈھول کی برائی ثابت ہوئی۔
حدیث:
اور باجوں کے سلسلے میں بخاری شریف کی ایک لمبی حدیث میں آتا ہے:
حضرت عبد الرحمن بن غنم سے روایت ہے کہ مجھے ابو عامر یا ابو مالک اشعری نے بتایا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے۔
(بخاری، کتاب الاشربہ، باب ما جاء فيمن يستحل الخمر ويسميه بغير اسمه)
حدیث:
حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنے دونوں کانوں پر انگلیاں رکھ لیں اور اپنی سواری کو راستے سے موڑ لیا، پھر کہنے لگے: نافع! آواز آرہی ہے؟ میں نے عرض کیا جی۔ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ میں نے عرض کیا کہ آواز نہیں آرہی، تو آپ نے اپنے کانوں پر سے ہاتھ ہٹا لیے اور اس راستے پر آ گئے، پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرواہے کی بانسری کی آواز سن کر ایسا ہی کیا تھا۔ اس حدیث سے بانسری کی برائی ثابت ہوئی۔
(مسند احمد ج ۲، ص ۸، وص ۳۸، ابو داؤد کتاب الادب باب كراهية الغناء والزمر ج ۲ ص ۲۷۴، بحوالہ اسلام اور موسیقی مفتی محمد شفیع ص ۱۳۱، ۱۳۲)
یہ مسئلے اس اصول پر ہیں کہ جو چیز شریعت کی نگاہ میں معمولی ہے، اس کے چرانے سے ہاتھ نہیں کٹے گا، اور حرام چیزیں شریعت کی نگاہ میں معمولی ہیں، اس لیے اس کے چرانے میں ہاتھ نہیں کٹے گا۔
اس اعتراض میں چار چیزوں کا ذکر ہے:
(۱) دف
(۲) طبل کا مطلب ہے ڈھول طبلہ وغیرہ
(۳) مزمار کا مطلب ہے باجے سارنگی وغیرہ
(۴) بربط کا مطلب ہے بانسری
ان سب چیزوں کی برائی ہم نے حدیث سے ثابت کر دی۔
جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ چیزیں شریعت کی نگاہ میں حقیر ہیں، گناہ کے کام ہیں، تو یہ بے قیمت ہی ہوئیں۔ جب بے قیمت ہو چکیں تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ شریعت قیمتی چیز چرانے پر ہاتھ کاٹتی ہے۔ دوسری وجہ ہاتھ نہ کاٹنے کی یہ ہے کہ چور یہ کہے گا کہ میں نے تو توڑنے کے لیے لیا ہے، تو چور کی اس بات سے شبہ پڑ گیا، تو ہاتھ نہیں کٹے گا، جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔
نوٹ: وہ احادیث پہلے گزر چکی ہیں۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں