نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اعتراض نمبر ۴۳ : اگر کوئی عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے کسی بے وقوف یا بچے کے ساتھ زنا کرائے تو اس عورت پر کوئی حد نہیں، نہ اس بیوقوف اور بچے پر کوئی حد ہے۔

 


اعتراض نمبر ۴۳


إذا زنى الصبي أو المجنون بامرأة طاوعته فلا حد عليه ولا عليها. (هدايه يوسفي جلد ٢ ص ٤٩٧ باب الوطء الذي يوجب الحد)


یعنی اگر کوئی عورت اپنی خوشی اور رضامندی سے کسی بے وقوف یا بچے کے ساتھ زنا کرائے تو اس عورت پر کوئی حد نہیں، نہ اس بیوقوف اور بچے پر کوئی حد ہے۔ (درایت محمدی ص ۱۹۸، ہدایت محمدی ص ۱۰)


جواب:


نابالغ اور دیوانے پر سقوطِ حد ظاہر ہے کہ دونوں مکلف نہیں۔ رہی بات عورت کی تو اس پر حد اس لیے نہ ہوگی کہ زنا فعلِ مرد کا ہے، عورت محلِّ فعل ہے۔ اسی لیے مرد کو واطی، زانی کہتے ہیں اور عورت موطوءہ، مزنیٌّ بها، البتہ مجازاً عورت کو بھی زانیہ کہہ لیتے ہیں۔


زنا اس شخص کے فعل کو کہتے ہیں جو فعل سے بچنے کا مخاطب ہو اور کرنے سے عاصی، اور وہ عاقل بالغ ہوگا نہ دیوانہ اور نابالغ کیونکہ یہ دونوں احکامِ شرعیہ کے مکلف نہیں۔


عورت اگرچہ فعلِ زنا کا محل ہے لیکن اس کو حد اس وقت ہوگی جب وہ زنا کرنے پر ایسے مرد کو موقع دے جو اس سے بچنے کا مخاطب ہو اور کرنے پر آثم۔ صورتِ مذکورہ میں عورت نے جس لڑکے یا دیوانہ کو زنا کا موقع دیا ہے وہ نہ عاقل ہے نہ بالغ، اس لیے عورت پر بھی حد نہیں۔


صاحب ہدایہ فرماتے ہیں:


ولنا أن فعل الزنا يتحقق منه وإنما هي محل الفعل ولهذا يسمى هو واطئا وزانيا مجازا والمرأة موطوءة ومزنيا بها إلا أنها سميت زانية مجازا تسمية المفعول باسم الفاعل كالراضية في معنى المرضية أو لكونها مسببة بالتمكين فيتعلق الحد في حقها بالتمكين من قبيح الزنا وهو فعل من هو مخاطب بالكف عنه وموثم على مباشرته وفعل الصبي ليس بهذه الصفة فلا يناط به الحد. انتهى


-----------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ اقتباس ہم نے پیر جی مشتاق علی شاہ صاحب کی کتاب
"ہدایہ کے 100 مسائل کی تحقیق"
سے لیا گیا ہے۔ مکمل PDF کتاب دفاعِ احناف لائبریری میں موجود ہے۔

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...