امام ابو یوسفؒ پر "جہمی" ہونے کے الزام کا تحقیقی جائزہ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ النُّهَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَكِيمٍ الْقُرَشِيُّ، وَكَانَ يُجَالِسُ أَحْمَدَ وَيَحْيَى وَأَصْحَابَنَا سِنِينَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدْ أَشْهَدَ عَلَى أَبِي يُوسُفَ أَنَّهُ جَهْمِيٌّ.
(كتاب الضعفاء الكبير للعقيلي 4/443)
جواب
یہ روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر حجت نہیں بن سکتی، کیونکہ اس کی بنیاد ہی ایک مجہول شخص کی خبر پر قائم ہے۔
روایت میں بقیہ بن الولید کہتے ہیں:
"أخبرني رجل من أهل العلم"
یعنی "مجھے اہلِ علم میں سے ایک شخص نے خبر دی"۔
مگر یہ شخص کون تھا؟ اس کا نام کیا تھا؟ اس کا ضبط، عدالت اور ثقاہت کیا تھی؟ اس کے بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔
مزید برآں، متعدد صحیح اور ثابت روایات سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی طرف سے جہمیہ کی تردید منقول ہے، جس سے یہ الزام خود بخود باطل ہو جاتا ہے۔
ملاحظہ ہو:
(تاریخ بغداد، ت بشار 15/514)
جب ایک شخص سے جہمیہ کی تردید ثابت ہو اور دوسری طرف اس پر جہمیت کا الزام ایک مجہول شخص کی طرف سے نقل کیا جا رہا ہو تو انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ثابت شدہ اقوال کو ترجیح دی جائے اور ایسی بے اصل نسبتوں کو رد کر دیا جائے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں