اعتراض نمبر ۶۳: ایک شخص نے ایک چیز چرائی، اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور وہ چیز مالک کے پاس پہنچ گئی۔ اسی چور نے پھر دوبارہ اسی چیز کو چرایا تو اب اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
اعتراض نمبر ۶۳:
من سرق عينًا فقطع فيها فردها ثم عاد فسرقها وهي بحالها لم يقطع.
(هدايه يوسفي جلد ۲، ص ۵۲۲ باب ما يقطع فيه)
یعنی ایک شخص نے ایک چیز چرائی، اس کا ہاتھ کاٹا گیا اور وہ چیز مالک کے پاس پہنچ گئی۔ اسی چور نے پھر دوبارہ اسی چیز کو چرایا تو اب اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
جواب:
(درایت محمدی ص ۱۰۲، ہدایت محمدی ص ۱۱)
جوناگڑھی نے ہدایہ کا پورا مسئلہ نقل نہیں کیا۔ اس عبارت کے آگے تھا:
قال فإن تغيرت عن حالها مثل أن يكون غزلاً فسرقه وقطع فرده ثم نسج فعاد فسرقه قطع لأن العين قد تبدلت.
صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: پس اگر اس کی حالت بدل گئی، مثلاً سوت تھا اور اس کو چرایا، اور ہاتھ کاٹا گیا، پھر اس کو واپس کیا، پھر اس کا کپڑا بن دیا، پھر اس کو چرایا تو ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کہ عین بدل چکی ہے۔
(اثمار الہدایہ ج ۷ ص ۳۶)
ہم نے پورا مسئلہ نقل کر دیا ہے کہ صاحب ہدایہ نے یہاں پر دو صورتیں ذکر کی ہیں۔ ایک میں ہاتھ نہ کاٹنے کا ذکر ہے، دوسری میں ہاتھ کاٹنے کا ذکر ہے۔
تفصیل مسئلہ پہلی صورت اور ہاتھ نہ کاٹنے کی وجہ:
ہمارے نزدیک اس مسئلہ کی آسان اور عام فہم تفصیل اس طرح ہے کہ چور نے کسی کا بیل چرایا اور اس پر چوری کی تمام شرائط ثابت ہوئیں اور قاضی نے اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔ اور مالک کو چور سے لے کر وہ بیل بھی قاضی نے واپس کر دیا۔ یعنی چوری کی سزا جو ہاتھ کاٹنا تھی (یعنی حد) وہ بھی نافذ کر دی اور اس پر عمل بھی ہو گیا، اور مالک کا مال بھی واپس کر دیا۔ اب اس چور نے دوسری مرتبہ پھر وہی بیل، جو اسی حالت میں تھا، اسی مالک کا اسی جگہ سے دوبارہ چوری کر لیا تو اب اس پر حد نافذ نہیں ہوگی، یعنی اس کا ہاتھ نہیں کٹے گا بلکہ تعزیر لگائی جائے گی۔ یعنی دوسری بار حد نہیں لگے گی بلکہ دوسری سزا دی جائے گی جو قاضی اپنی مرضی سے نافذ کرے گا۔
یہ یاد رہے کہ یہاں پر صرف حد کی نفی ہو رہی ہے، یہ نہیں کہا جا رہا کہ اس طرح کرنا جائز ہے اور اس طرح کرنے کی کوئی سزا نہیں۔ حد نہ لگنے کی وجہ اس میں یہ پائی گئی کہ یہاں پر شبہ پڑ گیا ہے اور شبہ پڑ جانے سے حد ساقط ہو جاتی ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
شبہ یہ ہے کہ جب چوری کی سزا مل گئی، یعنی اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا اور لوگوں کو پتہ چل گیا کہ یہ چور ہے اور اس نے چوری کی ہے، جس سے اس چور کی جو عزت تھی وہ بھی ختم ہو گئی، اب جو مال اس نے چرایا تھا وہ واپس کرنا چاہیے تھا کہ نہیں۔ اس مسئلہ میں دونوں قسم کے دلائل موجود ہیں۔ یہ دلائل بھی ہیں کہ مال بھی واپس کرنا چاہیے اور یہ دلائل بھی ہیں کہ مال واپس نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اس نے اس جرم کی سزا بھگت لی ہے۔
حدیث:
مال واپس نہ کرنے کے دلائل:
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب چور پر حد نافذ کر دی جائے تو اس پر چوری کا تاوان نہ ڈالا جائے گا۔
(النسائی، کتاب قطع السارق، باب تعليق يد السارق في عنقه)
امام بیہقی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ اس طرح ہیں: عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چور سے تاوان نہ لیا جائے جب اس پر حد قائم کی جائے۔ ایک روایت ابو عبد اللہ (یعنی امام احمد بن حنبل) سے ہے کہ چور سے تاوان نہ لیا جائے۔
(سنن الکبریٰ بیہقی، کتاب السرقة، باب غرم السارق)
خود غیر مقلدین بھی اس روایت کو نقل کرتے ہیں۔
مولانا محمد سرور طارق غیر مقلد نے ایک عربی کتاب کا ترجمہ “اسلام کا نظام تعزیرات” کے نام سے شائع کیا ہے، اس کے ص ۱۶۹ پر لکھتے ہیں:
قول دوم: قطع اور جرمانہ دونوں کو اکٹھے چور پر نہ ڈالا جائے۔ جب چور کا ہاتھ قطع ہو جائے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں۔ یہ ابو حنیفہ، ثوری اور ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے۔
(بداية المجتهد ج ۲، ص ۴۴۷)
اور ان کا استناد حضرت عبد الرحمن بن عوف کے قول سے ہے کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا:
اذا أقيم الحد على السارق فلا غرم عليه.
جب چور پر حد قائم کر دی جائے تو اس پر کوئی جرمانہ نہیں۔
(نسائی، جامع الاصول ج ۴، ص ۳۲۷، المغنی والشرح، ج ۱۰ ص ۲۷۹، سنن بیہقی ج ۸، ص ۲۷۷)
اس حدیث سے ان کا استدلال یہ ہے کہ حد قائم کر دینے کے بعد اور جرمانہ دونوں چور پر ڈالے نہیں جا سکتے۔
(اسلام کا نظام تعزیرات ص ۱۶۹، مطبوعہ طارق اکیڈمی فیصل آباد)
ان حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ مال واپس نہ کرنا بھی حدیث سے ثابت ہے۔ اب چور نے جب دوبارہ اسے چوری کیا ہے تو اپنا مال سمجھ کر لے رہا ہے۔ یہ شبہ ہے، اس کے خیال میں اس مال پر اب اس کا حق ہے۔
شارح ہدایہ مولانا شمیر الدین قاسمی حنفی اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں:
وجہ:
(۱) ہاتھ کٹنے کی وجہ سے زید کا کچھ حق اس بیل میں ہو گیا، اس لیے اب زید کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
(۲) عن عبد الرحمن بن عوف قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا غرم على السارق بعد قطع يمينه.
(دار قطنی، باب كتاب الحدود ج ۳ ص ۱۲۹، حدیث نمبر ۳۳۶۳)
اس حدیث میں ہے کہ ہاتھ کٹ جانے کے بعد چور پر اس چیز کا تاوان نہیں ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہاتھ کٹنے کی وجہ سے چور اس چیز کا مالک بن گیا ہے۔ تب ہی تو اس پر اس کا تاوان نہیں ہے۔
(اثمار الہدایہ ج ۷، ص ۳۴-۳۵)
حضرت علی کا اس سے ملتا جلتا ایک فیصلہ:
مولانا طارق صاحب غیر مقلد نے “اسلام کا نظام تعزیرات” ص ۱۶۲-۱۶۳ میں حضرت علی کی دو روایتیں نقل کی ہیں، وہ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ مولانا صاحب لکھتے ہیں:
سرقہ میں ہاتھ پاؤں کٹا آدمی چوری کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟
علماء کا ایسے شخص کے حکم کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس کے متعلق دو قول ہیں جنہیں ہم مع دلائل ذیل میں ذکر کرتے ہیں۔
قول اول:
جس شخص کا چوری کی حد میں ہاتھ اور پاؤں قطع کر دیا گیا ہو، اگر وہ پھر چوری کرے تو اسے قید کیا جائے اور اس پر تعزیر لگائی جائے مگر اسے قطع کی سزا نہ دی جائے۔ یہ قول علی، شعبی، زہری، نخعی، ثوری اور اصحاب الرائے کا ہے۔ امام احمد کا بھی یہی قول ہے۔ اس قول کے قائلین کا استدلال یہ ہے:
(۱) سعید بن ابی سعید المقبری کی اپنے باپ سے، اور وہ حضرت علی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک ہاتھ اور پاؤں کٹا آدمی لایا گیا جس نے چوری کی تھی۔ آپ نے اپنے اصحاب سے پوچھا: اس آدمی کے متعلق آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس پر قطع کا حکم لگائیے۔ آپ نے فرمایا: میں اسے قتل تو نہیں کروں گا کیونکہ اس پر قتل واجب نہیں۔ اگر قطع کروں تو یہ کھانا کس چیز سے کھائے گا، نماز کے لیے وضو کس سے کرے گا، غسل جنابت کس طرح کرے گا، اپنی ضروریات کیسے سرانجام دے گا؟ آپ نے کچھ دنوں کے لیے اسے جیل خانے بھجوا دیا۔ پھر اسے وہاں سے نکالا اور اپنے اصحاب سے مشورہ طلب کیا تو انہوں نے وہی پہلا مشورہ دیا۔ آپ نے بھی وہی پہلا جواب دیا۔ پھر آپ نے اسے نہایت سختی سے کوڑے لگا کر چھوڑ دیا۔
دوسری روایت:
طارق صاحب نے اس کا حوالہ نہیں دیا۔ ہمیں اس طرح کی روایت سنن الکبریٰ بیہقی مترجم ج ۱۰، ص ۶۹۱ میں ملی ہے۔ اسی طرح انہوں نے حضرت علی کی اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے شرم محسوس کرتا ہوں کہ پکڑنے اور چلنے کے لیے اس کے ہاتھ پاؤں باقی نہ چھوڑوں۔
ان دو اثروں سے ان کا استدلال یہ ہے کہ حضرت علی نے تیسری بار چوری کرنے پر چور کے جسم کا کوئی حصہ قطع نہیں کیا بلکہ اسے قید کیا اور کوڑے لگائے۔ پس آپ کا یہ طرز عمل عدم قطع پر دال ہے۔ اگر قطع واجب ہوتا تو آپ اسے ترک نہ کرتے۔
ان واقعات سے معلوم ہوا کہ بعض دفعہ کسی جرم پر کسی شرعی عذر کی بنا پر تعزیر بھی لگائی جا سکتی ہے۔ ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ اس کو حد نہیں، تعزیر لگے گی۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں