نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

مسنون ثناء -

 


مسنون ثناء

 سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. ت

رجمہ : اے اللہ ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیری تعریف کرتے ہیں اور تیرا نام بہت برکت والا ہے اور تیری بزرگی برتر ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ [صحیح مسلم کتاب الصلاة باب حجة من قال لا يجهر بالبسملة حديث : 399 سنن ابو داؤد حدیث : 776 ، مسند الدار می کتاب الصلاة باب ما يقال بعد افتتاح الصلاة حديث : 1275 اسناده جید محقق : حسین اسد

جمہور کا موقف 

جمہور علماء کرام کے نزدیک استفتاح صلاۃ (نماز کے آغاز ) کے موقع پر یہی دعا آہستہ پڑھنا مختار و  مسنون ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ آپ علیہ السلام سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ یعنی ثناء پڑھتے تھے اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رض اور حضرت ابن مسعود رض سے بھی مروی ہے، اور تابعین و غیر تابعین میں سے اکثر اہل علم کا  اسی پر عمل ہے۔ [سنن ترمذی تحت حدیث : 242]

عرب عالم شیخ محمد نعیم ساعی کہتے ہیں جمہور اہل علم کے نزدیک دعائے افتتاح صلاۃ میں ثناء پڑھنا مستحب ہے ، یہی حضرت عمر بن الخطاب، عبد اللہ بن مسعود ، سفیان ثوری، اسحاق بن راہویہ ابو حنیفہ اور آپ کے شاگردوں کا بھی قول ہے۔ میں کہتا ہوں یہی امام احمد کا بھی مذہب ہے۔ موسوعة مسائل الجمهور في الفقه الاسلامي 154/1 مسئلة : 214]

خلاصہ : نماز کے شروع میں ثناء پڑھنا، قرآن کریم کی تفسیر ، کئی احادیث مرفوعہ ، کبار صحابہ کے عمل سے ثابت ہے۔ فرض نماز کے شروع میں اسے پڑھنا نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مستمرہ رہی ہے۔ حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پر ہے۔ [ دو ماہی الاجتماع شماره : 10 صفحہ : 1]


ماخوذ: صلاۃ المسلم - مولانا محمد رحمت اللہ 

پیشکش: النعمان سوشل میڈیا سروسز

تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...