امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا قرآن کو مخلوق کہنا ثابت نہیں
امام ابو حنیفہؒ پر ایک نہایت سنگین اعتراض یہ وارد کیا جاتا ہے کہ آپؒ قرآنِ کریم کے مخلوق ہونے کے قائل تھے۔ تاہم کتبِ رجال و روایات کے تتبع اور منقولہ آثار کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ نسبت امام صاحبؒ سے بسندِ صحیح و صریح ثابت نہیں۔
یہاں ایک نہایت اہم اصولی وضاحت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ قرآنِ کریم کو مخلوق کہنا ائمۂ اہلِ سنت کے نزدیک قولِ کفر ہے، اور کسی مسلمان، بالخصوص کسی جلیل القدر امام کی طرف ایسے قول کی نسبت کرنا کوئی معمولی امر نہیں، بلکہ نہایت سنگین دعویٰ ہے۔ لہٰذا ایسی نسبت کے اثبات کے لیے محض کسی راوی کا یہ کہنا کہ امام صاحبؒ اس قول کے قائل تھے، یا کسی غیر واضح نقل میں اس قول کو آپؒ کی طرف منسوب کر دینا کافی نہیں؛ بلکہ اس کے لیے ثبوتِ نسبت، صحتِ سند اور صراحتِ دلالت تینوں امور کا لحاظ ناگزیر ہے۔ چنانچہ جب اس باب میں منقول روایات کا اصولِ حدیث کے مطابق جائزہ لیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ تو امام ابو حنیفہؒ کا اپنی زبانِ مبارک سے قرآن کو مخلوق کہنا صحیح اور صریح سند سے ثابت ہے، اور نہ ہی ایسی کوئی معتبر روایت موجود ہے جس سے یہ نسبت قطعی طور پر ثابت ہو۔
ذیل میں ہم تمام منقولہ روایات کا الگ الگ، مکمل حوالہ جات کے ساتھ تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔
باب اول: امام صاحبؒ کی طرف منسوب قولِ خلقِ قرآن کی روایات اور ان کا محاسبہ
حوالہ: المجروحین لابن حبان، ٢/٤٠٦؛ تاریخ بغداد، ١٥/٥٢٠
"أخبرنا الحسين بن إدريس الأنصاري قال: حدثنا سفيان بن وكيع قال: حدثنا عمر بن حماد بن أبي حنيفة قال: سمعت أبي يقول: سمعت أبا حنيفة يقول: القرآن مخلوق. قال: فكتب إليه ابن أبي ليلى: إما أن ترجع وإلا لأفعلن بك. فقال: قد رجعت. فلما رجع إلى بيته قلت: يا أبي أليس هذا رأيك؟ قال: نعم يا بني وهو اليوم أيضاً رأيي ولكن (أعيّنهم) التقية"
ترجمہ: حماد کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کو کہتے سنا کہ قرآن مخلوق ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے ان کو لکھا کہ یا تو رجوع کرو ورنہ میں تمہارے ساتھ سخت معاملہ کروں گا۔ انہوں نے کہا: میں نے رجوع کر لیا۔ جب وہ گھر لوٹے تو بیٹے نے پوچھا: ابا جان! کیا یہ آپ کی رائے نہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں بیٹا، آج بھی یہی میری رائے ہے مگر تقیہ ہے۔
جواب: اس قول کی سند صحیح نہیں۔ سند کے راوی سفیان بن وکیع پر کلام ہے، جیسا کہ امام ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں نقل کیا:
"قال البخاري: يتكلمون فيه لأشياء لقنوه إياها. وقال أبو زرعة: يتهم بالكذب. وقال ابن أبي حاتم: أشار أبي عليه أن يغيّر ورّاقه، فإنه أفسد حديثه، وقال له: لا تحدث إلا من أصولك. فقال: سأفعل. ثم تمادى وحدّث بأحاديث أدخلت عليه. وقد ساق له أبو أحمد خمسة أحاديث منكرة السند لا المتن، ثم قال: وله حديث كثير، وإنما بلاؤه أنه كان يتلقن ما لقن، يقال: كان له ورّاق يلقنه من حديث موقوف فيرفعه، أو مرسل فيوصله، أو يبدل رجلا برجل"
(میزان الاعتدال، ٢/١٧٣)
اس کے علاوہ سند کے راوی عمر بن حماد بھی مجہول ہیں۔ لہٰذا اس قول کی سند ضعیف ہے۔
دوسری روایت: امام یحییٰ بن عبدالحمید کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٩
"أخبرني محمد بن علي المقرئ، قال: أخبرنا محمد بن عبد الله النيسابوري الحافظ، قال: سمعت محمد بن صالح بن هانئ يقول: سمعت مسدد بن قطن يقول: سمعت أبي يقول: سمعت يحيى بن عبد الحميد يقول: سمعت عشرة كلهم ثقات يقولون: سمعنا أبا حنيفة يقول: القرآن مخلوق"
ترجمہ: یحییٰ کہتے ہیں: میں نے دس ثقہ لوگوں سے سنا، وہ سب کہتے تھے کہ ہم نے ابو حنیفہ کو کہتے سنا: قرآن مخلوق ہے۔
جواب: یہ سند بھی صحیح نہیں۔ راوی قطن بن ابراہیم کے بارے میں وضاحت ہے کہ وہ تب معتبر ہیں جب اپنی کتاب سے روایت کریں۔ امام ذہبیؒ نے میزان الاعتدال (٣/٣٩٠، نمبر ٦٨٩٨) میں لکھا:
"شيخ صدوق، أعرض مسلم عن إخراج حديثه في الصحيح، له حديث ينكر. والعجب أن النسائي خرج عنه، ويقول: فيه نظر. وقال ابن حبان: يعتبر بحديثه إذا حدث من كتابه"
مزید یہ کہ یحییٰ نے ان دس لوگوں کے نام نہیں بتائے، اس لیے وہ مجہول شمار ہوں گے۔ تاریخ بغداد کے محقق ڈاکٹر بشار عواد معروف نے بھی حاشیے میں لکھا:
"إسناده ضعيف، لضعف قطن بن إبراهيم بن عيسى أبو سعيد النيسابوري والد مسدد، ويحيى بن عبد الحميد لم يبين من هؤلاء العشرة الثقات، فهم في عداد المجهولين"
خود امام ابو حنیفہؒ کے قرآن کو مخلوق کہنے کے صرف یہی دو قول براہِ راست ان کی اپنی زبان سے منسوب ہیں، اور دونوں سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں۔
تیسری روایت: امام اسماعیل بن حماد کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥٢٠، ٧/٢١٨؛ الکامل، ١/٥٠٩؛ المنتظم، ١٠/٢٥٠
"حدثنا أبو عبد الله الحسين بن شجاع الصوفي، قال: أخبرنا عمر بن جعفر بن محمد بن سلم الختلي، قال: حدثنا يعقوب بن يوسف المطوعي، قال: حدثنا حسين بن عبد الأول، قال: حدثنا حسين بن الأسود، قال: أخبرني إسماعيل بن حماد بن أبي حنيفة، قال: هو قول أبي حنيفة: القرآن مخلوق"
ترجمہ: اسماعیل بن حماد نے کہا: یہی ابو حنیفہ کا قول ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔
جواب: اس سند کا راوی حسین بن عبدالاول ضعیف ہے۔ میزان الاعتدال میں ہے:
"قال أبو زرعة: لا أحدث عنه. وقال أبو حاتم: تكلم الناس فيه. وكذبه ابن معين" (میزان الاعتدال، ١/٤٩٢)
محقق ڈاکٹر بشار عواد معروف کا حاشیہ: "إسناده ضعيف جداً، الحسين بن عبد الأول... وإسماعيل بن حماد ضعيف"
دوسری اہم بات یہ ہے کہ سند میں انقطاع ہے، کیونکہ امام اسماعیلؒ نے امام ابو حنیفہؒ سے نہیں سنا۔ لہٰذا یہ اقوال بھی سند کے لحاظ سے ضعیف ہیں۔
چوتھی روایت: امام حماد بن ابی سلیمان کے واسطے سے
حوالہ: مسند ابن الجعد، ٣٥٣، ٣٥٤ (ص ٦٦-٦٧)؛ تاریخ بغداد، ١٥/٥٢٢
"حدثني أحمد بن علي، نا عبد الأعلى بن واصل، نا أبو نعيم ضرار، قال: سمعت سليم بن عيسى يقول: سمعت سفيان الثوري يقول: سمعت حماد بن أبي سليمان يقول: أبلغوا أبا حنيفة المشرك أني منه بريء، إلا أن يتوب. قال سليم: كان - يعني أبا حنيفة - يزعم أن القرآن مخلوق"
جواب: مسند ابن الجعد اور تاریخ بغداد کی سندوں میں ضرار بن صرد راوی ہے۔ امام بخاریؒ نے اسے متروک کہا اور امام ابن معینؒ نے کذاب۔ میزان الاعتدال (٢/٣٢٧) میں ہے:
"ضرار بن صرد، أبو نعيم الطحان، عن إبراهيم بن سعد. قال البخاري وغيره: متروك. وقال يحيى بن معين: كذابان بالكوفة: هذا وأبو نعيم النخعي"
دوسری سند
حوالہ: موضح أوهام الجمع والتفريق ٢/٢٢٤
أَخْبَرَنَا عبد الْخَالِق بْن الْحَسَن السَّقطِي حَدَّثَنَا عبد الله بن مُحَمَّد بن عبد الْعَزِيز الْبَغَوِيّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمروزِي حَدَّثَنِي أَبُو مُحَمَّد عَبْد اللَّهِ بْن عون الخراز حَدَّثَنَا شيخ من أهل الْكُوفَة قيل لِابْنِ عون هُوَ عبد القدوس بْن بكر فَكَأَنَّهُ أقرّ بِهِ قَالَ سَمِعت سُفْيَان الثَّوْريّ يَقُول قَالَ لي حَمَّاد بْن أَبِي سُلَيْمَان اذْهَبْ إِلَى هَذَا الْكَافِر يَعْنِي أَبَا حنيفَة فَقل لَهُ إِن كنت تَقول الْقُرْآن مَخْلُوق فَلَا تقربنا
حوالہ: مسند ابن الجعد ١/٦٧
حدثني عبد الله بن أحمد، حدثني عبد الله بن عون الخراز، وأظن أني قد سمعته أنا من ابن عون قال: نا شيخ، من أهل الكوفة قال أبو عبد الرحمن: قيل لابن عون: هو أبو الجهم عبد القدوس بن بكر، فكأنه أقر به قال: سمعت سفيان الثوري يقول: قال لي حماد بن أبي سليمان: «اذهب إلى هذا الكافر يعني أبا حنيفة فقل له: إن كنت تقول القرآن مخلوق؛ فلا تقربنا»
حوالہ: السنة لعبد الله بن أحمد ١/١٨٤حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنِ بْنِ الْخَرَّازِ أَبُو مُحَمَّدٍ، وَكَانَ، ثِقَةً، ثنا شَيْخٌ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ: هُو أَبُو الْجَهْمِ فَكَأَنَّهُ أَقَرَّ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ لِي حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ «اذْهَبْ إِلَى الْكَافِرِ يَعْنِي أَبَا حَنِيفَةَ فَقُلْ لَهُ: إِنْ كُنْتَ تَقُولُ: إِنَّ الْقُرْآنَ مَخْلُوقٌ فَلَا تَقْرَبْنَا»
جواب: مخالفین اس روایت کو مسند ابن الجعد اور کتاب السنۃ سے بھی پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ کتاب السنۃ کا وہ نسخہ، جس سے مخالفین امام ابو حنیفہؒ کے خلاف جرح پیش کرتے ہیں، خود ثابت نہیں؛ تاہم اس کے باوجود ہم اس روایت کا جواب عرض کرتے ہیں۔
اس روایت میں تین بنیادی نقائص ہیں:
اولاً: عبداللہ بن احمد کو خود سو فیصد یقین نہیں کہ انہوں نے یہ روایت عبداللہ بن عون سے براہِ راست سنی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں: «أظن أني قد سمعته أنا من ابن عون»
یعنی: "میرا گمان ہے کہ میں نے یہ روایت خود ابن عون سے سنی ہے۔"
دوسری طرف روایت میں «شيخ من أهل الكوفة» کا ذکر ہے، لیکن اس شیخ کا نام صراحتاً بیان نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد عبارت ہے: «قيل لابن عون: هو أبو الجهم عبد القدوس بن بكر، فكأنه أقر به»
یہاں «قيل لابن عون» میں سوال کرنے والے کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ عبارت یہ نہیں کہتی کہ عبداللہ بن احمد نے ابن عون سے پوچھا، بلکہ صرف «قيل» کے صیغے سے یہ بات نقل کی گئی ہے۔ لہٰذا یہ تعیین کس کی طرف سے تھی، اس بارے میں خود عبارت میں صراحت موجود نہیں۔ پھر ابن عون کے جواب کے بارے میں بھی عبارت میں یہ نہیں کہا گیا کہ: «فأقر به» بلکہ فرمایا: «فكأنه أقر به» یعنی: "پس ایسا معلوم ہوا کہ انہوں نے اس کی تصدیق کی۔" لہٰذا یہاں بھی عبارت کا انداز قطعی نہیں بلکہ احتمال اور عدمِ جزم کا ہے۔
ثانیاً: خود سلفی محققین کے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے۔
1۔ عمرو عبد المنعم سلیم نے اپنی کتاب الإمام أبو حنيفة النعمان بن ثابت ونسبته إلى القول بخلق القرآن میں اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، دیکھیے صفحات 31–33۔
2۔ کتاب السنۃ کے محقق نے بھی اس روایت کے بارے میں لکھا: «في إسناده مجهول»
یعنی: "اس کی سند میں ایک مجہول راوی ہے۔"
3۔ صالح بن مقبل بن عبد الله العصيمي التميمي نے بھی اس روایت کی سند پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا: «قلت: وفي إسناده راو مبهم (شيخ من أهل الكوفة)»
یعنی: "میں کہتا ہوں کہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے، یعنی: کوفہ کا ایک شیخ۔"
ثالثاً: سند میں موجود عبد القدوس بن بکر بن خنیس پر بھی کلام ہے
علامہ شعیب ارناؤوطؒ فرماتے ہیں: «إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة، وعبد القدوس بن بكر بن خنيس»
یعنی: "اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ حجاج بن ارطاة اور عبد القدوس بن بکر بن خنیس ضعیف ہیں۔"
دیکھیے: المسند الموضوعي الجامع للكتب العشرة، 11/102۔
اسی طرح محقق ابراہیم بن عبداللہ المدیہش نے تخريج أحاديث وآثار حياة الحيوان للدميري من التاء إلى الجيم (1/1105) میں راجح قول یہی قرار دیا کہ یہ راوی ضعیف ہے۔
محقق بشار عواد معروف نے ائمۂ جرح و تعدیل کے اقوال ذکر کرنے کے بعد خلاصہ کرتے ہوئے لکھا: «بل: ضعيف يعتبر به في المتابعات والشواهد... فإن صحت الرواية عن أحمد وابن معين وأبي خيثمة، فلابد أنه تبين لهم ما لم يتبين لأبي حاتم؛ فضعفوه»
یعنی خلاصہ یہ کہ عبد القدوس بن بکر ضعیف ہے، البتہ متابعات و شواہد میں اس سے اعتبار کیا جا سکتا ہے۔
دیکھیے: تحرير تقريب التهذيب، 2/376۔
اسی طرح محقق الحارث بن علي الحسني نے بھی لکھا: «كل من اسمه عبد القدوس: فهو ثقة، إلا ابن بكر بن خنيس ففيه ضعف»
یعنی: "عبد القدوس نام والے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے عبد القدوس بن بکر بن خنیس کے؛ اس میں ضعف ہے۔"
دیکھیے: منتقى الألفاظ بتقريب علوم الحديث، 1/230۔
روایت کا متن بھی ثابت نہیں
تاریخ بغداد کے محقق بشار عواد معروف کے مطابق امام حمادؒ کا انتقال خلقِ قرآن کے مسئلے کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ انہوں نے تاریخ بغداد (15/521) کے حاشیے میں اس طرف اشارہ کیا ہے۔
مزید یہ کہ مسند ابن الجعد کے محقق نے خود حاشیے میں لکھا: «لا يثبت هذا عن أبي حنيفة رحمه الله، والذي هو مشهور عنه ومدون فيما روي عنه أنه كان يقول: القرآن كلام الله غير مخلوق»
یعنی: "یہ بات امام ابو حنیفہؒ سے ثابت نہیں۔ بلکہ ان سے جو بات مشہور اور مدون ہے، وہ یہ ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے: قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔"
پانچویں روایت: سلمہ بن عمرو القاضی کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٨
"كتب إلي عبد الرحمن بن عثمان الدمشقي، وحدثناه عبد العزيز بن أبي طاهر، عنه، قال: أخبرنا أبو الميمون البجلي، قال: حدثنا أبو زرعة عبد الرحمن بن عمرو، قال: أخبرني محمد بن الوليد، قال: سمعت أبا مسهر يقول: قال سلمة بن عمرو القاضي على المنبر: لا رحم الله أبا حنيفة، فإنه أول من زعم أن القرآن مخلوق"
جواب: اس کی سند کے راوی سلمہ بن عمرو کا ثقہ ہونا ثابت نہیں۔ محقق نے حاشیے میں لکھا:
"سلمة بن عمرو هو العقيلي، كان قاضياً بدمشق... ولا تدل ترجمته على أنه ثقة، بل هو مجهول الحال في الرواية"
لہٰذا یہ سند بھی ضعیف ہے۔
چھٹی روایت: احمد بن یونس کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥٢٠
پہلی سند:
"أخبرني الخلال، قال: حدثنا أحمد بن إبراهيم، قال: حدثنا عمر بن الحسن القاضي، قال: أخبرنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، قال: حدثنا عباس بن عبد العظيم، قال: حدثنا أحمد بن يونس، قال: كان أبو حنيفة في مجلس عيسى بن موسى، فقال: القرآن مخلوق، قال: فقال: أخرجوه، فإن تاب وإلا فاضربوا عنقه"
دوسری سند:
"أخبرنا ابن رزق، قال: أخبرنا أحمد بن إسحاق بن وهب البندار، قال: حدثنا محمد بن العباس يعني المؤدب، قال: حدثنا أبو محمد شيخ له، قال: أخبرني أحمد بن يونس، قال: اجتمع ابن أبي ليلى وأبو حنيفة عند عيسى بن موسى العباسي والي الكوفة، قال: فتكلما عنده، فقال أبو حنيفة: القرآن مخلوق. قال: فقال عيسى لابن أبي ليلى: اخرج فاستتبه، فإن تاب وإلا فاضرب عنقه"
جواب: سب سے پہلی بات تو یہی معلوم نہیں کہ یہ احمد بن یونس کون ہے، اور ان اقوال سے یہ بھی پتا نہیں چلتا کہ وہ خود اس مجلس میں موجود تھا بھی یا نہیں۔ ان اقوال کو ضعیف بنانے کے لیے یہی باتیں کافی ہیں۔ پھر پہلی سند میں عمر بن حسن القاضی ہے جو ضعیف ہے۔ محقق نے لکھا: "إسناده ضعيف جداً، عمر بن الحسن هو الأشناني المتروك"۔ دوسری سند میں ابو محمد شیخ مجہول ہے۔ محقق نے لکھا: "إسناده ضعيف، لجهالة أبي محمد شيخ محمد بن العباس المؤدب"۔ لہٰذا احمد بن یونس کے واسطے سے موجود اقوال بھی ضعیف ہیں۔
ساتویں روایت: عمران بن ابی لیلیٰ کے واسطے سے
حوالہ: اخبار القضاۃ، ٥٨١
"أخبرنا أبو سعد عبد الرحمن بن محمد الحارثي، قال: حدثني محمد بن عمران بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: حدثني أبي، قال: لما قدم أبو حنيفة شهد عليه جماعة فأقر أن القرآن مخلوق"
جواب: عمران بن ابی لیلیٰ کے بیان سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس جماعت میں وہ خود شامل تھے یا نہیں، یعنی یہ بات انہوں نے خود سنی بھی یا نہیں، اس کی وضاحت نہیں۔ مزید برآں، اس سند کے راوی أبو سعيد عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي البصري كربزان کے بارے میں سلفی محقق یاسر بن فتحی المصری (الذكر والدعاء والعلاج بالرقى من الكتاب والسنة - ت ياسر فتحي ٢/٤٩١ ) میں لکھتے ہیں: «قلت: أما كربزان هذا، فهو لين الحديث، وثقه مسلمة بن قاسم، وذكره ابن حبان في الثقات، وقال أبو حاتم: شيخ، وقال ابنه: تكلموا فيه، وقال الدارقطني وغيره: ليس بالقوي، وقال ابن عدي: حدث بأشياء لم يتابع عليها.»
یعنی یہ راوی لین الحدیث ہے۔ اگرچہ مسلمہ بن قاسم نے اس کی توثیق کی اور ابن حبان نے اسے الثقات میں ذکر کیا، لیکن ابو حاتمؒ نے اسے ’’شیخ‘‘ کہا، ان کے صاحبزادے نے نقل کیا کہ ’’اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے‘‘، جبکہ دارقطنیؒ اور دیگر ائمہ نے اسے «ليس بالقوي» قرار دیا، اور ابن عدیؒ نے فرمایا کہ اس نے ایسی روایات بیان کی ہیں جن میں اس کی متابعت نہیں کی گئی۔
مزید یہ کہ شعب الإيمان، طبع الرشد (۲/۲۲۱) کی تحقیق میں غیر مقلد محقق مختار احمد الندوی (متوفیٰ ۱۴۲۸ھ) نے لکھا ہے: «إسناده: ضعيف.» پھر راوی عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي کے ترجمے میں لکھتے ہیں: «يقال: إنه آخر من حدث عن يحيى بن سعيد القطان. قال ابن أبي حاتم: كتبت عنه مع أبي، تكلموا فيه، وسألت أبي عنه فقال: شيخ. وقال الدارقطني: ليس بالقوي.»
یعنی اس راوی کے بارے میں امام ابن ابی حاتمؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کے ساتھ ان سے احادیث لکھی ہیں، تاہم ان کے بارے میں اہلِ علم نے کلام کیا ہے۔ میں نے اپنے والد سے ان کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’شیخ‘‘۔ جبکہ امام دارقطنیؒ نے انہیں «ليس بالقوي» قرار دیا ہے۔
لہٰذا خود غیر مقلد محقق کی تصریح کے مطابق بھی عبد الرحمن بن محمد ’’ضعیف‘‘ ہے، جس کے بعد اس طریق کو امام ابو حنیفہؒ کے خلاف بطورِ حجت پیش کرنا محلِ نظر ہے۔
آٹھویں روایت: سلیمان بن فلیح کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥٢٣
"أخبرنا ابن الفضل، قال: أخبرنا ابن درستويه، قال: حدثنا يعقوب بن سفيان، قال: حدثني الوليد، قال: حدثني أبو مسهر، قال: حدثني محمد بن فليح المدني، عن أخيه سليمان، وكان علامة بالناس: أن الذي استتاب أبا حنيفة خالد القسري، فلما رأى ذلك أخذ في الرأي ليعمي به. وروي أن يوسف بن عمر استتابه..."
جواب: اس کی سند کا راوی محمد بن فلیح ضعیف ہے، جیسا کہ محقق نے وضاحت کی: "إسناده ضعيف، محمد بن فليح ضعيف كما بيناه في «تحرير التقريب»"۔ اس کا بھائی سلیمان بن فلیح بھی مجہول ہے، جیسا کہ امام ابو زرعہؒ نے کہا: "لا أعرفه ولا أعرف لفليح ولداً غير محمد ويحيى" (الجرح والتعدیل، ٢/١٣٥)۔ معلوم ہوا یہ سند بھی ضعیف ہے۔
نویں روایت: امام احمد بن حنبلؒ کے واسطے سے
حوالہ: العلل ومعرفۃ الرجال، ٢/٥٤٦ (نمبر ٣٥٩١)
"قال أبي: استتابوه، أظن في هذه الآية: {سبحان ربك رب العزة عما يصفون}. قال: هو مخلوق"
جواب: پہلی بات یہ کہ امام احمدؒ کو خود کامل یقین نہیں کہ ابو حنیفہؒ سے توبہ اسی وجہ سے کروائی گئی تھی یا نہیں۔ ان کے الفاظ "أظن" (میرا خیال ہے) ہیں، انہوں نے اپنا گمان ظاہر کیا ہے۔ پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ ان تک یہ بات کس سند سے پہنچی۔ لہٰذا یہ قول حجت نہیں۔
دسویں روایت: خود امام احمدؒ کی صریح نفی
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٧
"حدثنا أبو بكر المروذي، قال: سمعت أبا عبد الله أحمد بن حنبل يقول: لم يصح عندنا أن أبا حنيفة كان يقول: القرآن مخلوق"
ترجمہ: امام احمدؒ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک یہ ثابت نہیں کہ ابو حنیفہؒ قرآن کو مخلوق کہتے تھے۔
محقق کا حکم: "إسناده صحيح"
گویا خود امام احمد بن حنبلؒ، جن کی مظلومیت محنۂ خلقِ قرآن میں مسلّم ہے، صراحتاً فرماتے ہیں کہ یہ بات امام ابو حنیفہؒ سے ثابت نہیں، اور یہ قول صحیح سند سے ثابت ہے۔
باب دوم: امام ابو یوسفؒ سے منقول متضاد اقوال کا محاسبہ
(الف) "سب سے پہلے قرآن کو مخلوق کہنے والے ابو حنیفہ ہیں" - یہ قول خود مضطرب ہے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٨؛ اخبار القضاۃ، ٦٥٣
متن (تاریخ بغداد ١٥/٥١٨):
"أخبرنا البرقاني، قال: حدثني محمد بن العباس الخزاز، قال: حدثنا جعفر بن محمد الصندلي، قال: حدثنا إسحاق بن إبراهيم ابن عم منيع، قال: حدثنا إسحاق بن عبد الرحمن، قال: حدثنا حسن بن أبي مالك، عن أبي يوسف، قال: أول من قال القرآن مخلوق أبو حنيفة"
متن (اخبار القضاۃ لوکیع، ص ٦٥٣):
"وحدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبد الرحمن أبو يعقوب لؤلؤ، قال: أخبرني إسحاق بن عبد الرحمن عن الحسن بن أبي مالك عن أبي يوسف قال: أول من قال: القرآن ليس بمخلوق: أبو حنيفة"
یعنی اسی سند سے، دو مختلف کتب میں، الفاظ بالکل الٹ منقول ہیں: ایک میں امام ابو حنیفہؒ کو خلقِ قرآن کا بانی کہا جا رہا ہے، اور دوسرے میں بالکل برعکس، یعنی انہیں سب سے پہلے "قرآن غیر مخلوق ہے" کہنے والا بتایا جا رہا ہے۔
جواب: اس قول کی سند اور متن دونوں میں اضطراب ہے۔ سند میں اسحاق بن عبدالرحمن مجہول ہے۔ تاریخ بغداد کے محقق نے حاشیے میں لکھا:
"إسحاق بن عبد الرحمن لم نثبته، ولم يذكر المزي في شيوخ البغوي مثل هذا الاسم"
یعنی ہم اسے پہچان نہ سکے۔ اور متن میں اضطراب یوں ہے کہ اسی سند سے اخبار القضاۃ میں ابو یوسفؒ کا قول یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کو غیر مخلوق کہنے والے ابو حنیفہؒ ہیں۔ سند اور متن کا یہ اضطراب اسے ضعیف بناتا ہے۔
نوٹ: امام ابن حبانؒ کی کتاب المجروحین میں اسی سند سے راوی اسحاق بن عبدالرحمن گر گیا ہے۔ اس قول کو ابو یوسفؒ سے نقل کرنے والے حسن بن ابی مالک ہیں، اور ان سے اسحاق بن عبدالرحمن نقل کرتے ہیں، جیسا کہ تاریخ بغداد ١٥/٥١٨ اور اخبار القضاۃ میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسحاق اس قول کا مرکزی راوی ہے، مگر ابن حبانؒ کی کتاب میں وہ چھوٹ گیا ہے، اس لیے وہ سند بھی اصل میں ضعیف ہی ہے۔
اس کے علاوہ، قرآن کو سب سے پہلے مخلوق کہنے والا جعد بن درہم ہے، پھر جہم بن صفوان نے یہ کہا۔ امام ابو القاسم اللالکائیؒ نے شرح اصول اعتقاد اہل السنۃ والجماعۃ میں امام ابو حاتمؒ کے حوالے سے نقل کیا:
(ص ٣١٦، نمبر ٦٤١):
"ذكر عبد الرحمن بن أبي حاتم قال: سمعت أبي يقول: أول من أتى بخلق القرآن جعد بن درهم وقاله في سنة نيف وعشرين ومائة"
ترجمہ: ابو حاتمؒ نے کہا: قرآن کے مخلوق ہونے کا قول سب سے پہلے جعد بن درہم لایا اور اس نے یہ بات ایک سو بیس اور کچھ سال ہجری میں کہی۔
(ص ٢٥٦، نمبر ٤٩٣):
"ولا خلاف بين الأمة أن أول من قال: القرآن مخلوق: جعد بن درهم، في سنة نيف وعشرين، ثم جهم بن صفوان"
ترجمہ: امت میں کوئی اختلاف نہیں کہ سب سے پہلے قرآن کو مخلوق کہنے والا جعد بن درہم ہے، پھر جہم بن صفوان۔
یہی بات امام ابن کثیرؒ نے البدایۃ والنہایۃ (٩/٣٥٠) میں "ترجمۃ الجعد بن درہم" کے تحت لکھی: "هو أول من قال بخلق القرآن"۔ جبکہ خود امام ابو حنیفہؒ نے جہم بن صفوان کو کافر قرار دیا ہے (تاریخ بغداد، ت بشار، ١٥/٥١٤-٥١٥)۔
لہٰذا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے سب سے پہلے قرآن کو مخلوق کہا۔ یہ بات آپؒ سے ثابت ہی نہیں۔
(ب) "امام ابو یوسفؒ سے پوچھا گیا کہ آپ ابو حنیفہؒ سے روایت کیوں نہیں کرتے"
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٩
"أخبرني الحسن بن محمد الخلال، قال: حدثنا أحمد بن إبراهيم بن الحسن، قال: حدثنا عمر بن الحسن القاضي، قال: حدثنا إسماعيل بن إسحاق، قال: حدثنا نصر بن علي، قال: حدثنا الأصمعي، قال: حدثنا سعيد بن سلم الباهلي، قال: قلنا لأبي يوسف: لم لا تحدثنا عن أبي حنيفة؟ قال: ما تصنعون به؟ مات يوم مات يقول: القرآن مخلوق"
جواب: اس قول کی سند صحیح نہیں۔ اس کا ایک راوی عمر بن حسن القاضی (الاشنانی) ضعیف ہے۔ امام ذہبیؒ نے المغنی فی الضعفاء (٢/٣٨، نمبر ٤٤٤٢) میں لکھا:
"عمر بن الحسن الأشناني القاضي، صاحب ذاك المجلس. كذبه الدارقطني"
تاریخ بغداد کے محقق نے حاشیے میں لکھا: "والأشناني متروك واتهمه الدارقطني بالكذب كما في سؤالات الحاكم له ٢٥٢"
(ج) "امام ابو یوسفؒ سے پوچھا گیا کہ ابو حنیفہؒ قرآن کے بارے میں کیا کہتے تھے"
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٩
"أخبرنا العتيقي، قال: أخبرنا جعفر بن محمد بن علي الطاهري، قال: حدثنا أبو القاسم البغوي، قال: حدثنا زياد بن أيوب، قال: حدثني حسن بن أبي مالك، وكان من خيار عباد الله، قال: قلت لأبي يوسف القاضي: ما كان أبو حنيفة يقول في القرآن؟ قال: كان يقول: القرآن مخلوق. قلت: فأنت يا أبا يوسف؟ فقال: لا..."
جواب: اس سند کے راوی ابو القاسم البغویؒ اگرچہ ثقہ ہیں، لیکن کتاب کے محقق بشار عواد نے میزان الاعتدال (٢/٤٩٣) کے حوالے سے ان کے بارے میں لکھا:
"أبو القاسم البغوي ثقة من معمري الرواة ببغداد، لكنه كان بذيء اللسان يتكلم في الثقات"
امام ابن عدیؒ نے لکھا کہ اہلِ علم اور مشائخ ان کے ضعف پر متفق تھے۔ لہٰذا اس سند سے حجت قائم نہیں ہو سکتی۔ پھر بھی اگر کوئی ہماری بات نہ مانے تو ہم کہیں گے کہ یہ قول شاذ ہے، کیونکہ امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسفؒ کے بارے میں کئی صحیح اور حسن سندوں سے منقول ہے کہ وہ قرآن کے غیر مخلوق ہونے کے قائل تھے، جیسا کہ ذیل میں آتا ہے۔ ان سندوں کے سامنے اس شاذ سند کی کوئی حیثیت نہیں۔
امام ابو حنیفہؒ کے موقف کو ابن ابی کرامہ نے تاریخ بغداد (15/517) میں، امام ابو یوسفؒ نے مختصر العلو للذہبی (ص155، رقم159) میں، حکم بن بشیر نے تاریخ بغداد (15/517) میں سفیان ثوریؒ اور امام ابو حنیفہؒ دونوں سے، اور یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی اپنے والد کے واسطے سے تاریخ بغداد (15/514-515) میں امام ابو حنیفہؒ سے نقل کیا ہے۔
اسی طرح امام ابو یوسفؒ کے ذریعے امام ابو حنیفہؒ کا موقف متعدد مستقل طرق سے منقول ہے: محمد بن سابق → ابو یوسفؒ، الاسماء والصفات للبیہقی، ص656، رقم556؛
علی بن حسن الکُراع → ابو یوسفؒ، مختصر العلو، ص155، رقم159؛
عبداللہ بن احمد بن عبدالرحمن الدشتکی → ان کے والد → ابو یوسفؒ، الاسماء والصفات للبیہقی، ص656، رقم557؛
اور بشر بن الولید → ابو یوسفؒ → ابو حنیفہؒ، تاریخ بغداد، 15/518۔
مزید برآں ابو سلیمان الجوزجانی اور معلیٰ بن منصور نے بھی تاریخ بغداد (15/518) میں ابو حنیفہؒ، ابو یوسفؒ، امام محمدؒ اور امام زفرؒ کے بارے میں شہادت دی ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں اس قول کے قائل نہ تھے۔ ان روایات کے علاوہ امام احمد بن حنبلؒ سے بھی تاریخ بغداد (15/517) میں صحیح سند سے منقول ہے کہ ان کے نزدیک امام ابو حنیفہؒ کی طرف قرآن کو مخلوق کہنے کی نسبت ثابت نہیں۔
لہٰذا أبو القاسم البغوي کی اس منفرد روایت کے مقابلے میں امام ابو حنیفہؒ کے موقف کے خلاف متعدد طرق موجود ہیں، جبکہ خود ابو یوسفؒ سے امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کم از کم تین مستقل طرق موجود ہیں: محمد بن سابق، علی بن حسن الکُراع، اور عبدالرحمن الدشتکی کے طریق سے؛ اور ان میں چھ ماہ اور ایک سال تک ابو حنیفہؒ سے اس مسئلے پر گفتگو کا بھی ذکر ہے۔ چنانچہ محض ایک روایت کی بنیاد پر امام ابو حنیفہؒ کی طرف قولِ خلقِ قرآن منسوب کرنا اس مجموعۂ روایات کے مقابلے میں قابلِ قبول نہیں۔
باب سوم: امام صاحبؒ اور ان کے اصحابؒ سے قرآن کے مخلوق ہونے کی نفی کی صحیح روایات
پہلی شہادت: ابن کرامہ کے واسطے سے ابن مبارکؒ اور امام ابو حنیفہؒ کی گفتگو
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٧
"وقال النخعي: حدثنا نجيح بن إبراهيم، قال: حدثني ابن أبي كرامة وراق أبي بكر بن أبي شيبة، قال: قدم ابن مبارك على أبي حنيفة، فقال له أبو حنيفة: ما هذا الذي دبّ فيكم؟ قال له: رجل يقال له جهم، قال: وما يقول؟ قال: يقول القرآن مخلوق، فقال أبو حنيفة: ﴿كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا﴾"
ترجمہ: ابن کرامہ کہتے ہیں کہ امام ابن مبارکؒ امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے۔ امام ابو حنیفہؒ نے ان سے کہا: تمہارے ہاں (خراسان میں) یہ کیا باتیں چل رہی ہیں؟ ابن مبارکؒ نے کہا: ایک آدمی ہے جسے جہم کہا جاتا ہے۔ امام صاحبؒ نے پوچھا: اس کا کہنا کیا ہے؟ ابن مبارکؒ نے کہا: وہ کہتا ہے کہ قرآن مخلوق ہے۔ تو امام ابو حنیفہؒ نے یہ آیت پڑھی: "بڑی سنگین بات ہے جو ان کے منہ سے نکل رہی ہے، وہ جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔"
فائدہ: یہاں دو اہم باتیں سامنے آئیں: اول، قرآن کو مخلوق کہنے والا جہم بن صفوان ہے۔ دوم، امام ابو حنیفہؒ نے اس کی اس بات کو جھوٹ کہا، یعنی خود امام صاحبؒ قرآن کو غیر مخلوق اور کلامِ اللہ مانتے تھے۔
سند کی تحقیق:
(الف) امام حسن بن محمد الخلالؒ ثقہ ہیں۔ خطیب بغدادیؒ نے فرمایا: "وكان ثقة، له معرفة وتنبه" (تاریخ بغداد، ٨/٤٥٣، نمبر ٣٩٥٠)۔
(ب) علی بن عمرو الحریریؒ بھی ثقہ ہیں۔ خطیبؒ نے فرمایا: "وكان ثقة" (تاریخ بغداد، ١٣/٤٧٠، نمبر ٦٣٣٧)؛ ایک اور قول میں ہے: "ثقة مستوراً حسن المذهب"۔
(ج) علی بن محمد ابن کاس نخعیؒ بھی ثقہ ہیں۔ خطیبؒ نے فرمایا: "وكان ثقة فاضلاً، عارفاً بالفقه على مذهب أبي حنيفة، يُقرأ القرآن" (تاریخ بغداد، ١٣/٥٤٠، نمبر ٦٤٢٢)۔
(د) نجیح بن ابراہیمؒ بھی ثقہ ہیں۔ امام ابن حبانؒ نے انہیں الثقات میں ذکر کیا: "نجيح بن إبراهيم الزماني، كوفي، كان يتفقه، روى عن أبي نعيم والكوفيين، حدثنا عنه الدغولي" (کتاب الثقات، ٩/٢٢٠)۔ ان سے امام ابو عوانہؒ نے روایت لی، اور امام ابن عدیؒ نے، باوجود علم کے، ان کا ترجمہ اپنی کتاب میں نہیں لکھا، جو ان ائمہ کے نزدیک نجیحؒ کے ثقہ ہونے کی دلیل ہے۔
(ہ) محمد بن عثمان بن کرامہؒ بھی ثقہ ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: "الإمام المحدث الثقة، أبو جعفر، محمد بن عثمان بن كرامة" (سیر اعلام النبلاء، ١٢/٢٩٦، نمبر ١٠٨)۔
لہٰذا یہ سند صحیح ہے۔
دوسری شہادت: محمد بن سابق کے واسطے سے امام ابو یوسفؒ کا قول
حوالہ: الاسماء والصفات للبیہقی، ص ٦٥٦ (نمبر ٥٥٦)
"سألت أبا يوسف، فقلت: أكان أبو حنيفة يقول: القرآن مخلوق؟ فقال: معاذ الله، ولا أنا أقوله. فقلت: أكان يرى رأي جهم؟ فقال: معاذ الله، ولا أنا أقوله"
ترجمہ: محمد بن سابق کہتے ہیں: میں نے امام ابو یوسفؒ سے پوچھا: کیا ابو حنیفہؒ قرآن کو مخلوق کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں۔ میں نے کہا: کیا وہ جہم والے خیالات رکھتے تھے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ، اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں۔
امام بیہقیؒ نے فرمایا: "راويه ثقة"۔
سند کی تحقیق:
(الف) محمد بن محمد بن یوسف بن ابراہیم ثقہ ہیں۔ امام حاکمؒ نے ان کی حدیث کو "صحیح الاسناد" کہا اور امام ذہبیؒ نے بھی صحیح کہا (مستدرک حاکم، ٢/٥٩٦)۔
(ب) قاسم بن ابی صالح ہمدانی صدوق ہیں۔ امام ذہبیؒ نے کہا: "وكان صدوقاً" (تاریخ الاسلام، ٧/٧٢٠)۔
(ج) محمد بن ایوب رازی بھی ثقہ ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: "ووثقه الخليلي، وقال: هو محدث ابن محدث" (تاریخ الاسلام، ٦/١٠١٨)۔
(د) محمد بن سابق (محمد بن سعید بن سابق رازی، قزوین کے رہنے والے) بھی ثقہ ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: "ووثقه يعقوب بن شيبة" (تاریخ الاسلام، ٥/٤٣٧)۔
(ہ) امام ابو یوسفؒ بھی ثقہ ہیں، جیسا کہ امام یحییٰ بن معینؒ، امام نسائیؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام بیہقیؒ وغیرہ نے کہا ہے۔
لہٰذا اس کی سند حسن ہے۔
فائدہ: اس قول سے معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ کا آخری وقت تک یہی عقیدہ تھا کہ قرآن غیر مخلوق ہے۔ یہ امام صاحبؒ کے انتقال کے بعد کا واقعہ ہے۔
تیسری شہادت: امام ابو سلیمان جوزجانی اور معلیٰ بن منصور کے واسطے سے
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٨
"وقال النخعي: حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، قال: سمعت أبا سليمان الجوزجاني، ومعلّى بن منصور الرازي يقولان: ما تكلم أبو حنيفة ولا أبو يوسف ولا زفر ولا محمد، ولا أحد من أصحابهم في القرآن، وإنما تكلم في القرآن بشر المريسي، وابن أبي دؤاد فهؤلاء شانوا أصحاب أبي حنيفة"
ترجمہ: امام ابو سلیمان جوزجانیؒ اور معلیٰ بن منصورؒ کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ اور ان کے ساتھیوں میں سے کسی نے قرآن کے بارے میں لب کشائی نہیں کی۔ قرآن کے بارے میں بشر المریسی اور ابن ابی دؤاد نے کلام کیا، اور ان لوگوں نے امام ابو حنیفہؒ کے ساتھیوں کی شان کو داغدار کیا۔
سند کی تحقیق: (الف، ب، ج) امام الخلالؒ، علی بن عمرو الحریریؒ اور علی بن محمد ابن کاسؒ کی توثیق اوپر گزر چکی۔
(د) محمد بن شاذان الجوہریؒ ثقہ ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: "ووثقه الدارقطني" (تاریخ الاسلام، ٦/٨٠٦، نمبر ٤٤٦)۔
(ہ) معلیٰ بن منصور رازیؒ ثقہ ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا کہ عثمان دارمیؒ نے ابن معینؒ سے "ثقۃ" نقل کیا اور احمد عجلیؒ نے کہا: "ثقة صاحب سنة" (تاریخ الاسلام، ٥/٤٦١، نمبر ٤١١)۔
اس کے علاوہ ابو سلیمان جوزجانی (موسیٰ بن سلیمان) صدوق ہیں، جیسا کہ امام ابو حاتمؒ نے کہا۔
لہٰذا اس کی سند بھی صحیح ہے، اور یہ بھی امام صاحبؒ کے انتقال کے بعد کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔
چوتھی شہادت: امام ابو یوسفؒ کا قول - چھ مہینے کا مناظرہ
حوالہ: مختصر العلو للذہبی، ص ١٥٥ (نمبر ١٥٩)
"قال علي بن الحسن الكراعي: قال أبو يوسف: ناظرت أبا حنيفة ستة أشهر، فاتفق رأينا على أن من قال: القرآن مخلوق فهو كافر"
امام ذہبیؒ نے امام ابن ابی حاتمؒ کی کتاب الرد علی الجہمیہ سے نقل کیا کہ امام ابو یوسفؒ کہتے ہیں: میں نے امام ابو حنیفہؒ سے چھ مہینے مناظرہ کیا، پھر ہم اس بات پر متفق ہو گئے کہ جو کہے قرآن مخلوق ہے وہ کافر ہے۔
شیخ البانیؒ نے اس پر لکھا: "وهذا سند جيد"
سند کی تحقیق:
(الف) امام ابن ابی حاتمؒ ثقہ ہیں اور جرح و تعدیل کے امام ہیں۔ امام ذہبیؒ نے لکھا: "هو الإمام ابن الإمام حافظ الري وابن حافظها" (تاریخ الاسلام، ٧/٥٣٣، نمبر ٣٣٦)۔
(ب) احمد بن محمد بن مسلم انصاری (ابن الحناجر) ثقہ ہیں۔ امام حاکمؒ نے لکھا: "وكان ثقة مأموناً" (مستدرک حاکم، ٤/٤٤٢)۔
(ج) علی بن حسن التمیمی (کُراع) صدوق ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ نے لکھا: "علي بن الحسن التميمي البزاز، كوفي، يعرف بكُراع، صدوق، من العاشرة" (تقریب التہذیب، ٦٩٢، نمبر ٤٧٤٤)۔
لہٰذا اس کی سند حسن ہے۔
پانچویں شہادت: امام ابو یوسفؒ کا قول - ایک سال کی بات چیت
حوالہ: الاسماء والصفات للبیہقی، ص ٦٥٦ (نمبر ٥٥٧)
"وأنبأني أبو عبد الله الحافظ - إجازة -، أخبرنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، ثنا عبد الله بن أحمد بن عبد الرحمن بن عبد الله الدشتكي، قال: سمعت أبي يقول: سمعت أبا يوسف القاضي يقول: كلمت أبا حنيفة سنة جرداء في أن القرآن مخلوق أم لا؟ فاتفق رأيه ورأيي على أن من قال: القرآن مخلوق فهو كافر"
امام حاکمؒ نے کہا: "رواة هذا كلهم ثقات"
سند کی تحقیق:
(الف) ابو عبداللہ الحافظ یعنی امام حاکمؒ ثقہ ہیں، جیسا کہ خطیب بغدادیؒ نے کہا (تاریخ بغداد، ٣/٥٠٣)۔
(ب) ابو سعید احمد بن یعقوب الثقفیؒ بھی ثقہ ہیں۔ امام حاکمؒ نے ان کی حدیث کو شیخین کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبیؒ نے موافقت کی (مستدرک حاکم، ١/٤١٠، نمبر ١٠٢١)۔
(ج) عبداللہ بن احمد بن عبدالرحمٰن دشتکی کو امام حاکمؒ نے ثقہ کہا ہے۔
(د) احمد بن عبدالرحمن بن عبداللہ کو امام ابو حاتم نے صدوق کہا ہے۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم، ۲/۵۹)
(ہ) امام ابو یوسفؒ کی توثیق گزر چکی۔
امام بیہقی نے اس روایت کے بارے میں امام حاکم کے حکم کو برقرار رکھا ہے۔
چھٹی شہادت: امام سفیان ثوریؒ اور امام ابو حنیفہؒ کا قول
حوالہ: تاریخ بغداد، ١٥/٥١٧
"فأخبرنا محمّد بن أحمد بن رزق، حدّثنا علي بن أحمد بن محمّد القزوينيّ، حدّثنا أبو عبد الله محمّد بن شيبان الرّازيّ العطّار- بالري- قال: سمعت أحمد بن الحسن البزمقي قال: سمعت الحكم بن بشير يقول: سمعت سفيان بن سعيد الثوري والنعمان بن ثابت يقولان: القرآن كلام الله غير مخلوق"
ترجمہ: حکم بن بشیر کہتے ہیں: میں نے سفیان بن سعید ثوریؒ اور نعمان بن ثابت (امام ابو حنیفہؒ) کو یہ کہتے سنا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے، مخلوق نہیں۔
محقق ڈاکٹر بشار عواد معروف نے سند کو حسن کہا ہے۔
ساتویں شہادت: امام ابو یوسفؒ کے واسطے سے - امام ابو حنیفہؒ جہمیہ کی مذمت کرتے تھے
"أخبرنا الخلال قال: أخبرنا الحريري أن علي بن محمد النخعي حدثهم قال: حدثنا محمد بن الحسن بن مكرم قال: حدثنا بشر بن الوليد قال: سمعت أبا يوسف يقول: قال أبو حنيفة: صنفان من شر الناس بخراسان الجهمية، والمشبهة، وربما قال: والمقاتلية"
ترجمہ: ابو یوسفؒ سے منقول ہے کہ ابو حنیفہؒ نے کہا: خراسان میں لوگوں کی بدترین دو قسمیں ہیں: جہمیہ اور مشبّہہ، اور کبھی "مقاتلیہ" بھی کہتے۔
محقق کا حکم : "إسناده صحيح، ورجاله ثقات"آٹھویں شہادت: امام احمد بن حنبلؒ کا صریح قول
"لم يصح عندنا أن أبا حنيفة كان يقول: القرآن مخلوق"
(سند صحیح، حوالہ تاریخ بغداد، ١٥/٥١٧۔)
نویں شہادت: امام ابو حنیفہؒ کا جہم بن صفوان کو کافر قرار دینا
حوالہ: تاریخ بغداد (ت بشار)، ١٥/٥١٤-٥١٥
"وقال النخعي: حدثنا محمد بن علي بن عفان قال: حدثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني، عن أبيه سمعت أبا حنيفة يقول: جهم بن صفوان كافر"
ترجمہ: یحییٰ بن عبدالحمید الحمانیؒ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہؒ کو کہتے سنا: جہم بن صفوان کافر ہے۔
محقق کا حکم: "إسناده صحيح"
جہم بن صفوان قرآن کو مخلوق قرار دینے والوں میں سے تھا، جبکہ امام ابو حنیفہؒ نے جہم بن صفوان کو کافر قرار دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امام صاحبؒ کے نزدیک قرآن کو مخلوق کہنا درست عقیدہ نہیں، بلکہ جہم کا باطل عقیدہ تھا۔
امام محمد بن حسن الشیبانیؒ: "جو قرآن کو مخلوق کہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو"
امام عبد الرحمٰن بن ابی حاتم الرازی ؒ (م۳۲۷ھ) نےاپنی کتاب میں کہا : قال أحمد بن القاسم بن عطية سمعت أبا سليمان الجوزجاني يقول سمعت محمد بن الحسن يقول والله لا أصلي خلف من يقول القرآن مخلوق ولا استفتاني ألا أمرت بالإعادة۔
امام محمدؒ فرماتے ہیں : کہ قسم بخدا، میں اس شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا ، جو قرآن کو مخلوق کہے، اور اگر وہ مجھ سے فتویٰ پوچھے گا تو میں اسے نماز کے اعادہ کا حکم دوں گا۔(بحوالہ العلو للعلي الغفارللذہبی : ص ۱۵۲، ص۱۴۳،۱۷۴)
باب چہارم: عقیدۂ طحاویہ، فقہ اکبر، اور دیگر اصولی شہادتیں
امام طحاویؒ کا قول
امام طحاویؒ (م ٣٢١ھ) اپنی معروف کتاب العقیدۃ الطحاویہ میں لکھتے ہیں:
"إن القرآن كلام الله ... وأيقنوا أنه كلام الله تعالى بالحقيقة ليس بمخلوق"
یعنی قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، جو مخلوق نہیں۔ امام طحاویؒ کتاب کے آغاز میں واضح کرتے ہیں کہ یہ اہلِ سنت والجماعت کے اس عقیدے کا بیان ہے جو امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے مذہب کے مطابق ہے۔ لہٰذا عقیدۂ طحاویہ کی صراحت کے مطابق امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام اور غیر مخلوق مانتے تھے۔
امام ابو حنیفہؒ کی کتاب "الفقہ الاکبر"
حوالہ: الفقہ الاکبر، ص ٢٠ (باب: القول فی القرآن)
"وصفاته في الأزل غير محدثة ولا مخلوقة ومن قال إنها مخلوقة أو محدثة أو وقف أو شك فيهما فهو كافر بالله تعالى. والقرآن كلام الله تعالى في المصاحف مكتوب وفي القلوب محفوظ وعلى الألسن مقروء وعلى النبي ﷺ منزل. ولفظنا بالقرآن مخلوق وكتابتنا له مخلوقة وقراءتنا له مخلوقة والقرآن غير مخلوق"
ترجمہ: اللہ کی صفات ازل سے ہیں، نہ نئی پیدا ہوئی ہیں نہ مخلوق۔ جو انہیں مخلوق یا حادث کہے، یا توقف کرے، یا شک کرے وہ اللہ کا کافر ہے۔ قرآن اللہ کا کلام ہے، مصحف میں لکھا ہوا، دلوں میں محفوظ، زبانوں پر پڑھا جانے والا، اور نبی ﷺ پر نازل ہوا۔ ہمارا قرآن کو بولنا مخلوق ہے، ہماری کتابت اور قراءت مخلوق ہے، اور قرآن غیر مخلوق ہے۔
ابن تیمیہ کی تصریح
ابن تیمیہ نے اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کا ذکر کرتے ہوئے امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے بارے میں وضاحت کی ہے کہ یہ حضرات قرآن کو کلامِ اللہ سمجھتے تھے (الفتاویٰ الکبریٰ، ٥/٣٢، مسئلہ ١٠٢٦)۔
خلاصۂ کلام
اس تفصیلی تحقیقی جائزے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کی طرف خلقِ قرآن کے قول کی نسبت کرنے والی روایات، ان کے طرق، اسانید اور رواۃ کے اعتبار سے ایسی مضبوط حیثیت نہیں رکھتیں کہ ان کی بنیاد پر امام ابو حنیفہؒ کے خلاف اس مسئلے میں کوئی قطعی حجت قائم کی جا سکے۔ اس کے بالمقابل امام ابو حنیفہؒ اور ان کے جلیل القدر اصحابؒ سے قرآنِ کریم کے کلامِ الٰہی اور غیر مخلوق ہونے کے بارے میں متعدد روایات مختلف طرق سے منقول ہیں، جن میں صحیح اور حسن اسانید بھی موجود ہیں۔ لہٰذا مجموعۂ روایات و آثار کو سامنے رکھنے سے یہ موقف زیادہ واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اور ائمۂ احناف کے منقول و معروف مذہب میں قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور غیر مخلوق ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جسے اہلِ سنت کے ائمہ نے اختیار کیا اور جس کی صراحت متعدد حنفی مصادر و روایات میں موجود ہے۔
واللہ أعلم بالصواب۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں