اعتراض نمبر 9 : امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام مالک نے امام ابو حنیفہ کو گمراہوں میں شمار کیا۔
کتاب حلية الأولياء وطبقات الأصفياء از محدث أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ)
میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر اعتراضات کا جائزہ :
اعتراض نمبر 9 :
امام أبو نعيم الأصبهاني (٤٣٠هـ) اپنی کتاب حلية الأولياء میں نقل کرتے ہیں کہ امام مالک نے امام ابو حنیفہ کو گمراہوں میں شمار کیا۔
حدثنا محمد بن أحمد بن الحسن ثنا جعفر بن محمد الفريابي ثنا الحسن ابن علي الحلواني - بطرسوس سنة ثلاث وثلاثين ومائتين - قال سمعت مطرف ابن عبد الله يقول: سمعت مالك بن أنس إذا ذكر عنده أبو حنيفة والزائغون في الدين يقول: قال عمر بن عبد العزيز: سن رسول الله ﷺ وولاة الأمر بعده سننا الأخذ بها اتباع لكتاب الله، واستكمال لطاعة الله، وقوة على دين الله، ليس لأحد من الخلق تغييرها ولا تبديلها، ولا النظر في شيء خالفها، من اهتدى بها فهو مهتد، ومن استنصر بها فهو منصور، ومن تركها اتبع غير سبيل المؤمنين، وولاه الله ما تولى، وأصلاه جهنم وساءت مصيرا.
محمد بن احمد بن حسن نے ہمیں روایت کی، جعفر بن محمد الفریابی نے ہمیں روایت کی، اور الحسن بن علی الحلوانی نے کہا:
"میں نے مطرف بن عبداللہ کو کہتے سنا کہ وہ کہتے ہیں: میں نے مالک بن انس کو سنا، جب ان کے سامنے ابو حنیفہ اور دین میں گمراہ لوگ (زائغون) کا ذکر ہوتا تھا، وہ کہتے:
'عمر بن عبدالعزیز نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی سنت اور ان کے بعد حکمرانوں کی سنت ایسی ہے جس پر عمل کرنا اللہ کے کتاب کی پیروی اور اللہ کی اطاعت کو مکمل کرنا ہے، اور دین پر مضبوطی کے لیے ہے۔ کسی بھی انسان کو اسے بدلنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا حق نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی چیز جس کے خلاف ہو اس پر غور کرے۔
جو شخص اس پر عمل کرے، وہ ہدایت یافتہ ہے، جو اس کی مدد کرے، وہ کامیاب ہے، اور جو اس کو چھوڑ کر کسی اور راستے پر چلے، وہ مومنوں کے راستے پر نہیں۔ اللہ نے جسے اس راستے پر نہیں رکھا، اسے جهنم کا سامنا ہے اور انجام بھی برا ہے۔'"
(حلية الأولياء وطبقات الأصفياء - ط السعادة ٦/٣٢٤ )
جواب : تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
اعتراض نمبر 22 : امام مالک رحمہ اللہ سے منقول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر جروحات :
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں