کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 3 : رئیس ندوی صاحب کے اکاذیب ، جہالتیں ، رئیس ندوی کی گھٹیا اور بازاری زبان
کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 3 : رئیس ندوی صاحب کے اکاذیب ، جہالتیں ، رئیس ندوی کی گھٹیا اور بازاری زبان
(۲) اکاذیب
رئیس ندوی صاحب کے پانچ سو سے زائد اکاذیب و افترء ات کی لسٹ ہمارے پاس موجود ہے، تاہم اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی کتاب سے بیس جھوٹ اور ان کا رد تبصرہ کے عنوان سے باحوالہ پیش خدمت ہیں:
جھوٹ نمبر۱: رئیس ندوی صاحب ایک روایت کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
اسے عبداللہ بن عون خزاز ثقہ راوی سے احمد بن محمد براثی نے روایت کیا ہے، جو ثقہ ہے۔ ملاحظہ ہو:-85 طبقات الحنابلہ ج ۱ ص ۶۴، انساب سمعانی ج۱ ص ۷۰ -85 والنجوم الزاہرہ ج ۳ ص ۱۸۱۔(مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۷۹)
تبصرہ: امام احمد بن محمد براثی تو بلاشک و شبہ ثقہ و صدوق راوی ہیں، مگر ندوی صاحب کے مذکورہ بالا تینوں حوالے سراسر جھوٹے ہیں کیونکہ ان کی پیش کردہ مذکورہ تینوں کتابوں (طبقات الحنابلہ، انساب ، النجوم الزاہرہ) کے محولہ صفحات پر امام مذکور کو ثقہ نہیں کہا گیا ملاحظہ ہو:
(۱) طبقات الحنابلہ ج ۱ ص ۶۴ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت
(۲) الانساب للسمعانی ج ۲ ص ۱۲۴برقم: ۴۱۴ مطبوعہ حیدر آباد
(۳) النجوم الزاہرہ ج ۳ ص ۱۸۱ مطبوعہ مصر
جھوٹ نمبر۲: ترک رفع الیدین کے متعلقہ ایک صحیح السند روایت کا جب ندوی صاحب سے کوئی معقول جواب نہ بن پڑھا تو اس نے بغیر کسی حوالے کے لکھ مارا کہ:
اس کی سند میں واقع ورقاء بن عمر ابوبشر الکوفی یشکری آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے۔
(بلفظہ : سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۶۹)
تبصرہ: یہ کہنا کہ ‘‘ورقاء بن عمر ابوبشر کوفی یشکری آخری عمر میں مختلط ہو گئے تھے ‘‘بضابطہ غیر مقلدیت جھوٹ ہے۔ ہمارے علم کے مطابق کسی ایک امام نے بھی ورقاء کو مختلط نہیں کہا، ہمیں تیس سے زائد کتب اسماء الرجال میں اس کا ترجمہ ملا ہے، مگر ان میں سے کسی ایک کتاب میں بھی اسے مختلط نہیں کہا گیا۔
جھوٹ نمبر۳: رئیس ندوی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
اگر اسے حفص بن غیاث نخعی بھی فرض کر لیا جائے تویہ اگرچہ کتب ستہ کے ثقہ راوی ہیں مگر انہیں امام احمد اور امام ابن سعد صاحب الطبقات نے ‘‘کثیر التدلیس’’ قرار دیا ہے، جیسا کہ تہذیب التہذیب، طبقات ابن سعد میں صراحت ہے۔ (بلفظہ: سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۵۷)
تبصرہ: رئیس ندوی صاحب کی یہ بات جھوٹ ہے۔ آپ تہذیب التہذیب لابن حجر (ج ۲ ص ۱۵۶ برقم: ۱۶۹۲) اور الطبقات الکبریٰ لابن سعد (ج ۶ ص ۳۳۶۲ برقم: ۲۷۰۶) اٹھا کردیکھیں امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۲ھ اور حافظ ابن سعد ۲۳۰ھ نے مذکور حفص کو صرف مدلس ہی کہا ہے، کثیر التدلیس ہرگز نہیں کہا۔ لہٰذا ندوی کا یہ کہنا کہ ‘‘امام احمد اور امام ابن سعد نے حفص کوکثیر التدلیس قرار دیاہے’’ بالکل جھوٹ ہے۔
جھوٹ نمبر۴: متعدد کتب میں مذکور ترک رفع الیدین کے متعلقہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح السند روایت کا جب ندوی صاحب سے کوئی معقول جواب نہ بن سکا تو اس نے اپنے حواریوں کو خوش کرنے کے لیے بغیر کسی دلیل وحوالہ کے لکھ مارا کہ:
‘‘اس روایت میں تحریف کر کے’’ ثم لایعود’’ کا لفظ الحاق کر دیا گیا ہے۔’’
(تحقیقی جائزہ: ص ۲۷۷)
تبصرہ: یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے، ندوی صاحب نے اس بات پر کوئی حوالہ اور دلیل پیش نہیں کی۔ پھر یہ روایت کسی ایک کتاب میں نہیں بلکہ بیسیوں کتابوں میں ‘‘ثم لایعود’’ کے لفظ کے ساتھ ثقہ و صدوق راویوں کی سند کے ساتھ مروی ہے۔ حتیٰ کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ حدیث امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مصنف میں اسے ‘‘ثم لایعود’’ کے لفظ کے ساتھ تخریج فرمایا ہے اور متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اس حدیث کو اپنی اپنی کتب میں صحیح کہا ہے۔ اور آج تک کسی ایک محدث و امام حتیٰ کہ کسی غیر مقلد عالم نے بھی اس حدیث میں لفظ ‘‘ثم لایعود’’ کو محرف والحاقی نہیں کہا۔ غالی غیر مقلد زبیر علی زئی وابوالحسن مبارکپوری غیر مقلد نے بھی اسے ‘‘ثم لایعود’’ کے لفظ کے ساتھ ہی نقل کیا ہے۔ (دیکھئے: نورالعینین: ص ۱۶۵، مرعاۃ المفاتیح ج ۳ ص ۲۶)
جامعہ سلفیہ بنارس کے ذمہ داران کو چاہیئے کہ یا تو اس حدیث میں لفظ ‘‘ثم لایعود’’ کا محرف والحاقی ہونادلائل سے ثابت کریں یا پھر اپنے استاذ حدیث رئیس ندوی صاحب کے منکر حدیث ہونے کا برملا اعلان کریں۔
جھوٹ نمبر۵: ترک رفع الیدین کے متعلقہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث کو مولانا حبیب الرحمن الاعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا امام محمد کے حوالے سے بطریق ‘‘محمد اخبرنا مالک-85 الخ’’ نقل فرمایا تھا۔ اس پر لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے ندوی صاحب نے لکھا کہ:
یہ روایت مؤطا امام مالک میں ہے بھی نہیں جواس بات کی دلیل ہے کہ امام مالک پر بطور افتراء-04
محمد نے حسب عادت یہ روایت چسپاں کر دی۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۸۲)
تبصرہ: ندوی صاحب کی دونوں باتیں جھوٹی ہیں کیونکہ یہ حدیث مؤطا امام مالک میں موجود بھی ہے۔ (دیکھئے: مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزہری: ج ۱ ص ۸۱ برقم ۲۰۸) اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یقیناً بیان بھی کی ہے کیونکہ امام المحدثین محمد بن الحسن الشیبانی رحمۃ اللہ علیہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرنے میں ا کیلے ومتفرد نہیں ہیں بلکہ ان کی طرح ثقہ بالاجماع محدث امام ابو مصعب الزہری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہ حدیث امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کی ہے۔ (دیکھئے: مؤطا امام مالک بروایۃ ابی مصعب الزہری: ج ۱ ص ۸۱ برقم ۲۰۸) لہٰذا اسے بطور افتراء امام مالک رحمۃ اللہ علیہ پر چسپاں کرنے والی بات بھی ندوی صاحب کا سفید جھوٹ ہے۔
جھوٹ نمبر۶: مذکورہ بالا حدیث کے متعلقہ ایک طرف توندوی صاحب کہ رہے ہیں کہ:
اسے امام مالک پر بطور افتراء محمد نے چسپاں کر دیا۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۸۲)
جس کا واضح مطلب ہے کہ یہ روایت ندوی صاحب کے نزدیک موضوع (من گھڑت و جعلی )ہے۔
جبکہ ایک دوسرے مقام پر خودندوی صاحب ہی نے لکھا ہے کہ:
یہ حدیث صحیح ہے۔(دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۹۳)
اب جماعت غیر مقلدیت کے احباب ہی بتائیں کہ ندوی صاحب کی مذکورہ دونوں باتوں میں سے کونسی بات صحیح اور کونسی جھوٹ ہے؟
تنبیہ: یاد رہے کہ جماعت غیر مقلدیت کے احباب کے مطالبے پر ہی ندوی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کی طرف سے شائع ہونے والے علمی و تحقیقی مقالات کا جواب (گالیوں کی صورت میں) لکھا ہے۔ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۶۶۴وغیرہ)
جھوٹ نمبر۷: ترک رفع الیدین کے متعلقہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کا معقول جواب نہ بن سکنے کی صورت میں ندوی صاحب نے لوگوں کی آنکھوں میں یوں دھول ڈالی کہ::
امام نخعی سے اسے روایت کرنے والے ابو معشر کا نام نہیں بتلایا گیا اس کنیت والے کئی افراد امام
نخعی کے معاصر اور ان سے روایت کرے والے تھے اور کئی ایک مجروح اور ساقط الاعتبار تھے۔
(سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۵۹۲)
تبصرہ: ندوی صاحب کا یہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے۔ کیونکہ ہم نے سترہ سے زائد کتب اسماء-04 الرجال میں تراجم دیکھے ہیں ہمیں ان میں امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں میں صرف ان کا ایک ہی شاگرد صحیح مسلم، سنن ابی داؤد، سنن ترمذی اور سنن نسائی کا ثقہ وصدوق راوی ‘‘زیاد بن کلیب التمیمی النخعی الحنظلی ‘‘ابومعشر کی کنیت سے مشہور ملا ہے، جو کہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا شاگرد ہونے کے علاوہ اس حدیث کے راوی مسعر بن کدام رحمۃ اللہ علیہ کا استاذ ہے۔
مجموعہ مقالات کا جواب لکھا نے والے جماعت غیر مقلدیت کے احباب کو چاہیئے کہ یا تو امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کرنے والے ان کے کئی ایک مجروح و ساقط الاعتبار ابومعشر کی کنیت سے معروف شاگرد ثابت کریں و گرنہ ندوی صاحب کے کذاب ہونے پر دستخط کریں۔
جھوٹ نمبر۸: رئیس ندوی صاحب ایک روایت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
ابراہیم نخعی سے اسے روایت کرنے والے حصین بن عبدالرحمن کو امام ابن المدینی و -85 نے کہا کہ موصوف آخری عمر میں اختلاط تغیرو نسیان کے شکار ہو گئے تھے۔پھر اس پر ندوی نے تین حوالے دیے ہیں۔
(۱) تہذیب الہتذیب: ج۲ ص ۳۲۹
(۲) میزان الاعتدال : ج۱ ص ۵۵۲
(۳) دیوان الضعفاء: ص ۶۵ (دیکھئے: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۹۲)
تبصرہ: عرض ہے کہ آپ میزان الاعتدال (ج۱ ص ۵۵۲ برقم: ۲۰۷۵) تہذیب التہذیب (ج ۲ ص ۳۳۹ برقم: ۶۵۹) اور سیر اعلام النبلاء(ج۵ ص ۴۲۳ برقم : ۱۸۶) والمختلطین للعلائی (ج ۱ ص ۲۱برقم :۱۱) اٹھا کر دیکھیں ان میں صراحتاً لکھا ہے کہ دیگر اگرچہ بعض حضرات مذکور حصین کو مختلط کہتے ہیں مگر امام علی بن المدینی رحمۃ اللہ علیہ اسے مختلط نہیں مانتے۔
جھوٹ نمبر۹: اہلسنت والجماعت کے جلیل القدرثقہ و صدوق محدث و ناقد امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ نے ایک روایت کو صحیح السند کہا جو کہ ندوی صاحب کے مفاد کے خلاف تھی تو ندوی صاحب نے ان کی تصحیح کو رد کرنے کے لیے بغیر کسی دلیل و حوالہ کے لکھا کہ:
عینی مرجی المذہب تھے۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ ص ۲۸۳)
تبصرہ: اس بیان میں ندوی صاحب نے کذب بیانی سے کام لیا ہے جس پر دلیل یہ ہے کہ امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵ھ نے اپنی کتب میں فرقہ مرجیہ (ضالہ) کا شدید رد کیا ہے۔ (مثلاً دیکھئے: عمدۃ القاری ج ۱۸ ص ۲۵۸) جب انہوں نے فرقہ مرجیہ کا رد کیا ہے تو وہ بذات خود مرجء المذہب کیسے ہو سکتے ہیں؟
جھوٹ نمبر۱۰: رئیس ندوی صاحب نے بغیر کسی دلیل و حوالے کہ لکھا کہ:
شاہ ولی اللہ اور ان کا خانوادہ فرقہ دیوبندیہ کی تولید سے بہت پہلے تقلید پرستی کو مفاسد و فتن کی جڑ و بنیاد قرار دے چکا ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ ص ۱۰۵)
ندوی صاحب نے مزید لکھا ہے کہ:
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے تقلید کو مفاسد اور فتن کی جڑ کہا ہے۔ (ایضاً: ص ۷۷۰)
تبصرہ: یہ بالکل جھوٹ اور دروغ بے فروغ ہے۔ اختصار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم باحوالہ چند عبارات کے اقتباسات پیش کرتے ہیں، جن سے امام الہند حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا بڑی شدت کے ساتھ تقلید (محمود) کا قائل ہونا خود بخود واضح ہو جائے گا۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۷۶ھ اپنی بے نظیر کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ:
‘‘ ان ہذہ المذاہب الاربعۃ المدونۃ المحررۃ قد اجتمعت الامۃ ۔او من یعتد بہ منہاعلی جواز تقلیدہا الی یومنا ہذا ،وفی ذالک من المصالح ما لا یخفی لا سیما فی ہذہ الایام قصرت فیہا الہمم جدا، واشربت النفوس والہوی واعجب کل ذی رأی برأیہ ’’ (حجۃ اللہ البالغۃ : ص ۱۵۴ ج۱)
اس میں شک نہیں کہ ان چار مذاہب کی اب تک تقلید کے جائز ہونے پر تمام امت کا یا جن کی بات کا اعتبار کیا جاتا ہے اجماع ہے اس لیے کہ یہ مدون ہو کر تحریری صورت میں موجود ہیں اور اس میں جو مصلحتیں ہیں وہ بھی مخفی نہیں خصوصاً اس زمانہ میں جب کہ ہمتیں بہت ہی زیادہ پست ہو چکی ہیں اور خواہشات لوگوں کی نفوس میں سرایت کر چکی ہیں اور ہر صاحب رائے اپنی ہی رائے پر نازاں ہے۔
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہی لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وبالجملۃ فالتمذہب للمجتہدین سرالہمہ اللہ تعالی العلماء وتبعہم علیہ من حیث یشعرون او لا یشعرون ’’ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص ۶۳)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرات مجتہدین کرام رحمۃ اللہ علیہم کے مذہب کی پابندی ایک راز ہے جو اللہ تعالیٰ نے علماء کے دل میں ڈالا ہے انہیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی تقلید شخصی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :
‘‘ فاذا کان انسان جاہل فی بلاد الہند او فی بلادماوراء النہر ولیس ہناک عالم شافعی ولا مالکی واحنبلی ولا من کتاب من کتب ہذہ المذاہب وجب علیہ ان یقلد لمذہب ابی حنیفۃ ویحرم علیہ ان یخرج من مذہبہ لانہ حینیئذ یخلع ربقۃ الشریعۃ ویبقی سدی مہم لا خلاف ما اذا کان فی الحرمین ’’ (الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص ۷۱)
سواگر کوئی جاہل انسان ہندوستان یا ماوراء النہر کے علاقے میں ہو اور اس مقام پر کوئی شافعی ، مالکی اور حنبلی عالم موجودنہ ہو اور ان مذاہب والوں کی کوئی کتاب بھی وہاں نہ مل سکے تو ایسے شخص پر صرف حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ہی کی تقلید واجب ہو گی اور امام صاحب کے مذہب سے اس کا نکلنا حرام ہو گا اس لیے کہ اس صورت میں وہ شخص شریعت کی پابندی اپنے گلے سے اتار کر بالکل آزاد اور مہمل ہو جائے گا بخلاف اس کے جب کہ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہو (کیونکہ وہاں چاروں مذاہب کے علماء موجود ہیں کسی سے بھی مسئلہ دریافت کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔)
شاہ صاحب ہی لکھتے ہیں کہ:
‘‘ وبعد المئتین ظہر فیہم التمذہب للمجتہدین بأعیالہم وقل من کان لا یعتمد علی مذہب مجتہد بعینہ وکان ہذا ہوالواجب فی ذالک الزمان’’(الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف ص ۵۹)
دوسری صدی کے بعد لوگوں میں معین مجہتدین کا مذہب اختیار کرنا ظاہر ہوا اور اس وقت ایسے لوگ بہت ہی کم تھے جو معین مجتہد کے مذہب پر اعتماد نہ کرتے ہوں اور اس وقت مذہب معین کی پابندی ہی واجب تھی۔
تقلید (محمود) کی تائید میں حضرت شاہ صاحب کی مذکورہ عبارات کی موجودگی میں انہیں تقلید(محمود) کا مخالف شمار کرنا جھوٹ اور دروغ بے فروغ کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
جھوٹ نمبر۱۱: ندوی صاحب نے بغیر کسی صریح حوالے کے لکھا ہے کہ:
حافظ ابن حجر کے نزدیک ابوحنیفہ غیر معتبروغیرہ ثقہ و ناقابل اعتبار راوی ہیں۔
(سلفی تحقیقی جائزہ ص ۱۴۷)
تبصرہ: یہ بالکل کالا جھوٹ ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہکے خلاف نسائی کی جرح کو کالعدم قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں میں سے ہیں جو پل عبور کر چکے ہیں۔ یعنی اب آپ کی توثیق ہی راجح ہے اور آپ کے خلاف جرح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
چنانچہ حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘توثیق ابی حنیفۃ’’ کے عنوان کے تحت لکھا ہے کہ (میرے استاذ) حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے خلاف امام نسائی کی جرح کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ:
وفی الجملۃ ترک الخوض فی مثل ہٰذا اولیٰ ، فان الامام وامثالہ ممن قفزوا القنطرۃ ، فما صار یؤثر فی احدمنہم قول احد، بل ہم فی الدرجۃ التی رفعہم اللہ الیہا من کونہم متبوعین مقتدی بہم، فلیعتمد ہذا۔(الجو اہر والدررفی ترجمۃ شیخ الاسلام ابن حجر : ۱۴۷/۲للسخاوی ،حاشیہ بغیۃ الراغب المتمنی فی ختم النسائی: ص۶۲للسخاوی )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس طرح کے معاملے میں گفتگو نہ کرنا ہی بہتر ہے ،اس لیے کہ امام (ابو حنیفہ رحمہ اللہ)اوران جیسے دیگرحضرات ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو پل عبور کرچکے ہیں ،لہٰذا ان میں سے کسی کے بارے میں کسی شخص کی جرح کچھ بھی مؤثرنہیں ہوسکتی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسے درجے پر فائز کیا ہے کہ ان کولوگوں کا پیشوا اورمقتدابنادیا ہے،لہٰذا اسی بات پر اعتمادکرنا چاہیے۔
اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ان لوگوں میں سے ہیں جو عدالت و ثقاہت کی اس آخری لائن کو عبور کر چکے ہیں کہ اس کے بعد اب ان کے خلاف کوئی بھی کلام ان کی عدالت و ثقاہت پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔
نیز حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ سابق بن عبداللہ الرقی کے ترجمہ کے تحت لکھتے ہیں کہ:
لان الرقی احادیثہ مستقیمۃ عن مطرف وابی حنیفۃ۔ (لسان المیزان ۳/۳)
امام رقی رحمۃ اللہ علیہ نے امام مطرف رحمۃ اللہ علیہ اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے درست (صحیح) احادیث روایت کی ہیں۔
ثابت ہوا کہ حافظ موصوف کے نزدیک امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کردہ احادیث درست اور صحیح ہیں، کیونکہ اگر امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی احادیث صحیح نہیں تھیں تو پھر امام سابق بن عبداللہ الرقی نے آپ سے احادیث مستقیمہ کیسے روایت کر لی ہیں؟
اور ندوی صاحب کے ہم مسلک زبیر علی زئی، عبدالمنان نور پوری وغیر ہما کے بقول اگر کوئی محدث کسی روایت یا اس کی سند کو صحیح یا حسن کہہ دے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند کا ہر ہر راوی اس محدث کے نزدیک ثقہ یا صدوق ہے۔ (ملخصاً الحدیث : ۱۴/۳۲: نور العینین ص ۵۳ : نصر الباری ص ۱۷۲: القول المتین ص ۲۰ تعداد تراویح ص ۴۶)
لہٰذا حافظ ابن حجررحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی احادیث کو مستقیمہ (جو احادیث صحیحہ کے حکم میں ہیں) کہہ کر زبیر علی زئی ، وعبدالمنان وغیرہما کے بقول امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو بھی ثقہ قرار دے دیا ہے۔
نیز حافظ موصوف نے تہذیب التہذیب میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق و توصیف میں متعدد ائمہ حدیث کے اقوال نقل کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے کہ:
ومناقب الامام ابی حنیفۃ کثیرۃ جدا فرضی اللہ تعالی عنہ واسکنہ الفردوس آمین۔ (تہذیب التھذیب برقم: ۸۱۷)
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مناقب بہت زیادہ ہیں، اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو اور آپ کو جنت الفردوس میں ٹھکانہ نصیب فرمائے۔ ا?مین
جھوٹ نمبر۱۲: ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
حافظ ابن حجر نے اپنی دوسری کتاب لسان المیزان میں بھی امام ابو حنیفہ کو ضعیف کہا ہے۔ (تحقیقی جائزہ ص ۱۴۷)
جھوٹ نمبر۱۳: ندوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:
فتح الباری شرح بخاری میں حافظ ابن حجر نے بالصراحت ابوحنیفہ کو ضعیف کہا۔ (ایضاً: ص ۱۸۵)
تبصرہ: درج بالا سارا بیان جھوٹ پر مبنی ہے حافظ موصوف نے لسان المیزان اور فتح الباری میں کہیں بھی امام ابو حنیفہ کو بذات خود ضعیف نہیں کہا۔ جبکہ جھوٹ نمبر۱۱کے تبصرہ میں ہم ثابت کر چکے ہیں کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ کے نزدیک امام موصوف کی توثیق ہی راجح ہے اور آپ کے خلاف جرح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
جھوٹ نمبر۱۴: رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
امام ذہبی نے ابوحنیفہ کو ضعیف وغیرثقہ و مجروح کہا ہے۔
(سلفی تحقیقی جائزہ ص ۱۹۰)
مزید لکھتے ہیں کہ:
امام ذہبی امام ابوحنیفہ کو بہت زیادہ مجروح وغیرہ ثقہ کہتے تھے۔ (ایضاً: ص ۱۹۰۔۱۹۱)
تبصرہ: یہ بہت بڑا جھوٹ ہے ، حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی عظمت شان کو تسلیم کرتے ہوئے آپ کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ جیسے ائمہ کے زمرے میں سے قرار دیا، اور جیسے انہوں نے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ ائمہ کو اپنی کتاب ‘‘میزان الاعتدال’’ (جس میں آپ نے صرف ضعیف اور متکلم فیہ راویوں کا تذکرہ کیا ہے) میں ذکر نہیں کیا ، ایسے ہی انہوں نے اس کتاب میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا بھی کوئی تذکرہ نہیں کیا۔
چنانچہ غیر مقلد محمد ابراہیم سیالکوٹی صاحب نے امام صاحب کے تزکرے میں لکھا ہے کہ:
حافظ ذہبی آپ کی جلالت شان کے بدل (دل سے) قائل ہیں، چنانچہ اپنی مایہ ناز کتاب ‘‘میزان الاعتدال’’ کے شروع میں فرماتے ہیں:
اور اسی طرح میں اس کتاب میں ان ائمہ کا ذکر نہیں کروں گا جن کی احکام شریعت (فروع) میں پیروی کی جاتی ہے، کیونکہ ان کی شان اسلام میں بہت بڑی ہے اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کی عظمت بہت ہے، مثلا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ۔ (تاریخ اہل حدیث : ص ۷۹)
اس سے معلوم ہوا کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ جیسے ائمہ کے زمرے میں سے ہیں، اور آپ ان لوگوں میں سے شمار ہوتے ہیں جن کو ضعیف اور متکلم فیہ راویوں میں ذکر کرنا غیر مناسب ہے۔
حافظ موصوف کے استاذ حافظ ابوالحجاج مزی رحمۃ اللہ علیہ نے روات حدیث کے حالات پر ایک بے نظیر کتاب بنام ‘‘تہذیب الکمال’’ لکھی ہے۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کا اختصار ‘‘تذہیب تہذیب الکمال’’ کے نام سے کیا ہے۔ اس کتاب میں بھی انہوں نے امام صاحب کا ترجمہ لکھا ہے اور اس میں انہوں نے متعدد ائمہ سے آپ کی توثیق نقل کی ہے، اور آخر میں لکھا ہے:
قد احسن شیخنا ابوالحجاج حیث لم یورد شیئا یلزم منہ التضعیف۔
(تذہیب تھذیب الکمال ۲۲۵/۹)
ہمارے شیخ ابوالحجاج مزی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بہت اچھا کیا کہ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں کوئی ایسا قول نقل نہیں کیا جس سے آپ کا ضعیف ہونا لازم آئے۔
گویا حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک آپ پر جرح کا لعدم ہے۔
نیز حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی کئی احادیث کو نقل کر کے ان کی اسناد کو عالی قرر دیا ہے۔
مثلاً وہ آپ کی ایک حدیث کو بہ سند روایت کرنے کے بعد ارقام فرماتے ہیں:
ھذا اسنادہ متصل عال۔
(تذکرۃ الحفاظ ۲۱۵/۱، ترجمہ امام ابویوسف)
اس حدیث کی سند متصل اور عالی ہے۔
اور ‘‘سند عالی’’ کی تعریف کرتے ہوئے مشہور غیر مقلد محمد حنیف ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
سند کے عالی ہونے کے معنی وہ نہیں جو عوام کے ذہن میں ہیں، یعنی یہ کہ سلسلہ روایت جس قدر مختصر ہو گا اور رواۃ کی تعداد جس قدر کم ہو گی، اسی نسبت سے اس میں علوا بھر آئے گا۔ اس کے برعکس علوسے مراد یہ ہے اس کو ایسے جلیل القدر محدث کا قرب حاصل ہے کہ جس کی ثقاہت، تثبت اور فقہ حدیث امور مسلم میں سے ہو ، چاہے رواۃ کی تعداد زیادہ ہی ہو۔
اس حوالے سے یہ حقیقت بالکل آشکار ہو گئی کہ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی ثقاہت ، تثبت (علم حدیث میں پختگی) اور فقاہت حدیث امور مسلم میں سے ہیں۔
مزید برآں حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے محدثین اور حفاظ حدیث کے حالات پر جوکتابیں لکھی ہیں، ان میں سے تقریباً ہر کتاب میں انہوں نے امام صاحب کا ترجمہ بڑے شاندار الفاظ میں تحریر کیا ہے۔
مثلاً حافظ موصوف نے حفاظ حدیث پر مشتمل اپنی لاجواب کتاب ‘‘تذکرۃ الحفاظ’’ میں آپ کا بہترین ترجمہ لکھا ہے، جس کا آغاز انہوں نے آپ کے بارے میں یہ القاب کہہ کر کیا ہے:
الامام الاعظم، فقیہ العراق۔۔۔۔الخ۔
اور آپ کے بارے میں انہوں نے یہ بھی لکھا ہے:
وکان اماما ، ورعاً، عالماً ، عاملاً، متعبدًا کبیر الشان لا یقبل جوائز
السلطان بل یتبحرویکتسب۔ (تذکرۃ الحفاظ: ج۱ ص ۱۲۶)
آپ امام (دین کے پیشوا) تھے ، نہایت پرہیزگار تھے، عالم باعمل تھے، عبادت گزار اور بڑی
شان والے تھے، آپ بادشاہوں کے انعامات قبول نہیں کرتے تھے، بلکہ خود تجارت کر کے
روزی کماتے تھے۔
اسی طرح ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تصنیف لطیف ‘‘سیر اعلام النبلاء’’ میں بھی امام صاحب کا مبسوط ترجمہ لکھا ہے ، اور اس میں دیگر ائمہ سے آپ کے بارے میں توثیقی اقوال نقل کرنے کے علاوہ خود بھی آپ کو ان اوصاف سے یاد کیا ہے:
ابوحنیفۃالامام، فقیہ الملۃ ، عالم العراق۔
(سیراعلام النبلاء : ت ۴۹۹)
اور آپ کے ترجمہ کے آخر میں لکھا ہے کہ:
وسیرتہ تحتمل ان تفروفی مجلدین ورحمہ۔(ایضاً)
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی سیرت مستقل دوجلدوں میں ہی بیان کی جا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو اور آپ پر رحم فرمائے۔
اسی طرح حافظ موصوف نے اپنی کتاب ‘‘العبر’’ میں بھی آپ کا ترجمہ لکھا ہے، جس کا آغاز ‘‘ فقیہ العراق اور الامام ’’ جیسے القاب سے یاد کیا ہے، اور آپ کے بارے میں تصریح کی ہے:
وکان من اذکیاء بنی آدم ، جمع الفقہ والعبادۃ والورع
والسخاء۔ (العبرفی خبرمن غبرج ۱ ص ۱۶۴)
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ذہین ترین انسانوں میں سے تھے، اور آپ فقہ، عبادت، ورع اور
سخاوت کے جامع تھے۔
جھوٹ نمبر۱۵:
رئیس ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
مگر دیوبند یہ اکاذیب و تلبیسات پرست ہیں، اس لیے انہوں نے لکھا ہے کہ ‘‘حافظ ابن عبدالبر’’ تیرہویں شخص ہیں جو امام ابوحنیفہ کی ثقاہت کے قائل ہیں۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۱۹۱)
مزید لکھتے ہیں کہ:
(حافظ ابن عبدالبر کو ) موثقین ابی حنیفہ میں دیو بند یہ کا شمار کرنا، ان کے جھوٹے اور کذاب
ہونے کی واضح دلیل ہے۔(سلفی تحقیقی جائزہ: ۱۹۳)
تبصرہ: حافظ ابن عبدالبرمالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو عندالمجہور ثقہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
الذین رووا عن ابی حنیفۃ ووثقوہ واثنوا علیہ اکثر من الذین تکلموا
فیہ والذین تکلموا من اہل الحدیث ۔۔۔۔۔۔الخ۔
(جامع بیان العلم وفضلہ برقم: ۲۱۱۴)
جن محدثین نے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کی ہے اور آپ کی توثیق و تعریف کی ہے،
وہ ان لوگوں سے بہت زیادہ ہیں جنہوں نے آپ کی بابت (بلاوجہ) کلام کیا ہے۔
نیز حافظ موصوف امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر جرح کو کالعدم قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
اور اسی طرح امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے حاسد تھے جو آپ پر افتراء پردازی کرتے تھے ، اور آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے تھے جن سے آپ کا کوئی تعلق نہیں تھا، اہل علم کی ایک پوری جماعت نے آپ کی تعریف کی ہے، اور آپ کی فضیلت کو تسلیم کیا ہے۔(ملخصاً: جامع بیان العلم وفضلہ: برقم ۲۱۰۵)
مزید برآں حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ م ۴۶۳ھنے نہایت صراحت کے ساتھ اپنی کتاب ‘‘جامع بیان العلم و فضلہ’’ میں امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق و تعدیل ائمہ فن جیسے یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ، امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہما سے نقل کی ہے، اور جارحین کو مفرط اور متجاوزالحد قرار دیا ہے۔ (دیکھئے: جامع بیان العلم وفضلہ برقم :۲۱۰۴ وغیرہ)
اس سے معلوم ہوا کہ حافظ موصوف کے نزدیک امام صاحب رحمۃ اللہ علیہ جمہور محدثین کے نزدیک (فی نفسہ) ثقہ ہیں اور آپ کے خلاف جرح کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
لہٰذا حافظ موصوف کو موثقین ابی حنیفہ میں شمار کرنے والے حضرات بالکل سچے ہیں اور ندوی صاحب نے کذب وافتراء کو اپنا شیوہ و شعار بنایا ہوا ہے۔
جھوٹ نمبر۱۶: ‘‘مکحول عن نافع بن محمود’’ کی سند سے قراء ت کے متعلقہ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک روایت کا دفاع کرتے ہوئے ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
مکحول بھی اگرچہ مدلس کہے گئے ہیں، لیکن اسے حافظ ابو علی ودارقطنی و بیہقی نے تحدیث مکحول کے ساتھ نقل کیا ہے۔ کتاب القراء ۃللبیہقی ص ۴۳۔۴۴، والمحلیٰ لابن حزم، وسنن دارقطنی ، و سنن بیہقی ۱۶۴/۲ وغیرہ۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۳۵۷)
تبصرہ: ندوی صاحب کا یہ بیان جھوٹ پر مبنی ہے کیونکہ کہ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ اگرچہ بذات خود کسی قابل اعتماد دلیل کے بغیر ہی مکحول کے نافع بن محمود سے سماع کے قائل ہیں۔ (دیکھئے: کتاب القراء ۃ للبیہقی برقم : ۱۳۳۔۱۲۳، السنن الکبریٰ للبیہقی برقم: ۲۹۱۹) مگر انہوں نے مذکورہ کتب میں ندوی صاحب کی مستدل حدیث کسی ایک بھی ایسی قابل اعتبار صحیح و متصل سند سے نقل نہیں کی جس میں مکحول کی نافع بن محمود سے تحدیث موجود ہو۔ ملاحظہ فرمائیں:
(۱) کتاب القراء ۃ للبیہقی (ص ۶۶ تا ۶۹) مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان
(۲) السنن الکبریٰ للبیہقی (ج۲ ص ۱۶۴تا ۱۶۵) مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان۔
(۳) سنن الدارقطنی (ج۱ ص ۳۱۷ تا ۳۲۲) مطبوعہ دارنشرالکتب الاسلامیہ لاہور
(۴) المحلیٰ بالاثار لابن حزم (ص۳۱۲ تا ۳۱۵ مسئلہ نمبر ۳۶۰) مطبوعہ بیت الافکار الدولیہ
جھوٹ نمبر۱۷: ندوی صاحب بغیر کسی دلیل وحوالے کے لکھتے ہیں کہ:
دیو بندیہ بہت سارے صحابہ کو نعوذ بااللہ غیر ثقہ وغیر عادل کہہ کے نصوص واجماع کی مخالفت کے مرتکب ہیں۔ (سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۳۸)
تبصرہ: یہ ندوی صاحب کا حضرات دیو بند پر افتراء ہے، ہمارے اکابرین اہلسنت والجماعت (علماء دیوبند) نے آج تک کسی ایک صحابی کو بھی غیر ثقہ وغیر عادل نہیں کہا ہے۔ حکیم الاسلام حضرت قاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ مہتمم دارالعلوم دیوبند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اہلسنت والجماعت (علماء دیوبند) کا نظریہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مقدس ترین طبقہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بالواسطہ فیض یافتہ اور تربیت یافتہ لوگوں کا ہے جن کا اصطلاحی لقب صحابہ کرام ہے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ خد اور رسول نے حیث الطبقہ اگرکسی گروہ کی تقدیس کی ہے تو وہ صرف صحابہ کرام کا طبقہ ہے ان کے سوا کسی طبقہ کو من حیث القوم مقدس نہیں فرمایاکہ طبقہ کے طبقہ کی تقدیس ہو۔ مگر اس پورے کے پورے طبقہ کو راشد و مرشد، راضی و مرضی، تقی القلب، پاک باطن، مستمر الطاعت، محسن و صادق ، اور موعود بالجنہ فرمایا۔ پھر ان کی عمومی مقبولیت و شہرت کو کسی خاص قرن اور دور کے ساتھ مخصوص اور محدود نہیں رکھا۔ بلکہ عمومی گردانا۔ کتب سابقہ میں ان کے تذکروں کی خبر دے کر بتلایا کہ وہ اگلوں میں بھی جانے پہچانے لوگ تھے اور قرآن کریم میں ان کے مدائح و مناقب کا ذکر کر کے بتلایا کہ وہ پچھلوں میں بھی جانے پہچانے ہیں اور قیامت تک رہیں گے جب تک قرآن کریم رہے گا۔ زبانوں پر، دلوں میں ہر وقت کی تلاوت میں پنج وقتہ نمازوں میں، خطبات و موعظت میں، مسجدوں اور معبدوں میں، مدرسوں اور خانقاہوں میں ، خلوتوں اور جلوتوں میں، غرض جہاں بھی اور جب بھی اور جس نوعیت سے بھی قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا، وہیں ان کا چرچا اور امت پر ان کا تفوق نمایاں ہوتا رہے گا بس بلحاظ مدح و ثناء وہ امت میں یکتا و بے نظیر ہیں جن کی انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے بعد اول و آخر کوئی نظیر نہیں ملتی مگر علماء دیوبند نے اپنے اس مسلک میں جو صحابہ کرا م رضی اللہ عنہم کی بابت عرض کیا گیا ، رشتہ اعتدال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور کسی گوشہ سے بھی اس میں افراط و تفریط اور غلو کو آنے نہیں دیا۔ مثلاً وہ اس عظمت و جلالت کے معیار سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تفریق کے قائل نہیں کہ کسی کو لائق محبت سمجھیں اور کسی کو معاذ اللہ لائق عداوت سمجھیں۔ کسی کی مدح میں رطب اللسان ہوں اور العیاذ بااللہ کسی کی مذمت میں یا تو انہیں سب وشتم اور قتل وغارت پر اترآئیں اوران کا خون بہانے میں بھی کسر نہ چھوڑیں اور یا پھر ان میں سے بعض کو نبوت سے بھی اونچا مقام دینے پر آجائیں۔ انہیں معصوم سمجھنے لگیں حتیٰ کہ ان میں سے بعض میں حلول خداوندی ماننے لگیں۔ علماء دیوبند کے مسلک پر یہ سب حضرات مقدسین تقدس کے انتہائی مقام پر ہیں، مگر نبی وخدا نہیں۔ بلکہ بشریت کی صفات سے متصف، لوازم بشریت اور ضروریات بشری کے پابند ہیں، مگر عام بشر کی سطح سے بالاتر کچھ غیر معمولی امتیازات بھی رکھتے ہیں۔ جو عام تو بجائے خود ہیں ، پوری امت کے اولیاء کرام بھی ان مقامات پر نہیں پہنچ سکے۔ یہی وہ نقطہ اعتدال ہے جو حضرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارہ میں علماء دیو بند نے اختیار کیا ہوا ہے۔ ان کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شرف صحابیت اور صحابیت کی بزرگی میں یکساں ہیں۔ البتہ ان میں باہم فرق مراتب بھی ہے، لیکن یہ فرق چونکہ نفس صحابیت کا فرق نہیں اس لیے اس سے نفس صحابیت کی محبت و عقیدت میں بھی فرق نہیں پڑھ سکتا۔ پس اس مسلک میں ‘‘ الصحابۃ کلھم عدول’’(صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل تھے) کا اصول کارفرما ہے جو اس دائرہ میں اہلسنت والجماعت کے مسلک کا جو بعینہ مسلک علماء دیوبند ہے اولین سنگ بنیاد ہے۔
(مسلک علمائے دیوبند ص ۲۰تا۲۲)
جھوٹ نمبر۱۸: ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
تمام اہل حدیث کو حضرت آدم علیہ السلام کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے سجدہ تعظیمی کا حکم دیا۔
(بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۹۳۰)
تبصرہ: ندوی صاحب کا یہ بیان سراسر جھوٹ ہے، قرآن کریم میں ہے کہ: ‘‘ واذ قلنا للملائکۃ اسجدوا لآدم فسجدوا الا ابلیس ابی واستکبر وکان من الکافرین’’ (اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ: آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا، سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کیا، اور متکبرانہ رویہ اختیار کیا اور کافروں میں شامل ہوگیا۔(البقرہ : آیت نمبر۳۴) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ رب العزت نے آدم علیہ السلام کے لئے سجدہ (تعظیمی) کا حکم فرشتوں اور ابلیس لعین) کو دیا تھا، نہ کہ عصر حاضر میں معرض وجود میں آنے والے فرقہ غیر مقلدیت کو۔
جھوٹ نمبر۱۹: ندوی صاحب نے بغیر کسی دلیل و حوالے کے لکھ مارا ہے کہ:
خنزیر ان دیوبند یہ کے یہاں پاک ہے۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۶۶۱)
تبصرہ: یہ بھی ندوی صاحب کا حضرات دیوبند پر افتراء ہے، اہلسنت والجماعت (علماء-04 دیوبند) میں سے کسی نے بھی خنزیر کو پاک نہیں لکھا۔ اہلسنت والجماعت (علماء دیوبند) کے ہاں خنزیر نجس العین یعنی ایسا ناپاک ہے کہ اس کی ذات ہی سرے سے مجسم نجاست ہے جسے پاک نہیں کیا جاسکتا۔
چنانچہ امام اہلسنت شیخ سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
خنزیر نجس العین ہے اس کی ہر چیز ناپاک ہے۔(ذخیرۃالجنان فی فہم القرآن ج ۶ ص ۳۲۳، تحت سورۃ الانعام آیت نمبر۱۴۵)
شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ سورہ مائدہ کی آیت نمبر۳ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
اس کے بعد حیوانات کی ایک خاص نوع (یعنی خنزیر) کی تحریم کا ذکر کیا۔ جس کی بے انتہاء نجاست خوری اور بے حیائی مشہور عام ہے۔ شاید اسی لیے شریعت حقہ نے دم (خون) کی طرح اس کو نجس العین قرار دیا۔ (تفسیر عثمانی ۱ ص ۳۲۶)
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ سورہ انعام کی آیت نمبر۱۴۵ کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ:
خنزیر بالکل ناپاک ہے۔ اسی لیے اس کے سب اجزاء نجس اور حرام ہیں ایسا نجس نجس العین کہلاتا ہے۔ (معاف القرآن ج ۳ ص ۴۷۴)
شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا منیراحمد منور صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں کہ:
حیوانات میں سے شریعت نے صرف خنزیر کو نجس العین قرار دیا ہے قرآن کریم میں ہے ‘‘فانہ رجس’’ پس خنزیر نجاست ہے، لہٰذا اس کا گوشت، ہڈیاں، کھال ، کھروغیرہ ایک ایک چیز نجاست غلیظہ ہے اگر زندہ خنزیرچھوٹے حوض یا تالاب میں صرف پاؤں رکھ دے بلکہ بالٹی میں خنزیر کے ایک دو بال بھی گر جائیں تو پانی نجس ہوجاتا ہے۔ (آئینہ غیر مقلدیت: ص ۱۷۲)
جھوٹ نمبر۲۰: شرح معانی الاٰثار میں ‘‘ابوجعفرالطحاوی حدثنا ابن ابی داود قال ثنا احمد بن یونس-85 الخ’’ کی سند سے مروی ترک رفع الیدین کے متعلقہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے متعلقہ ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
ہم کہتے ہیں کہ روایت مذکورہ کے راوی ابن ابی داود پر بڑا کلام ہے حتیٰ کہ بعض نے انہیں کذاب کہا اور امام الدیوبند یہ کوثری نے بھی انہیں کذاب اور ساقط الاعتبار کہا۔ (بلفظہ سلفی تحقیقی جائزہ: ص ۲۸۱)
تبصرہ: ندوی صاحب کی یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے، کیونکہ ہمیں جن جن کتب اسماء-04 الرجال میں اس روایت کے راوی امام ابواسحاق ابراہیم بن ابی داود سلیمان بن ابی داود البرلسی الاسدی الصوری المعروف بابن ابی داود رحمۃ اللہ علیہ م ۲۷۰ھ کا ترجمہ ملا ہے، ان میں سے کسی ایک کتاب میں بھی اسے کذاب نہیں کہا گیا اور نہ ہی اس پر کسی امام کی کوئی مفسر جرح موجود ہے، حتیٰ کہ تانیب الخطیب سمیت شیخ کوثری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اپنی کسی کتاب میں اس پر جرح نہیں کی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں سات سے زائد کتب رجال میں اس کو صراحتاً ثقہ لکھا ہوا ہے۔
(۳)جہالتیں
مثلاً۔۔۔۔۔
(۱) ‘‘الحسن بن ربیع عن حفص بن غیاث عن محمد بن ابی یحییٰ عن عبادبن الزبیر’’ کی سند سے مروی ایک حدیث کی تحقیق کرتے ہوئے رئیس ندوی نے لکھا کہ:
اس میں حفص بن غیاث نامی راوی مجہول ہے۔ (ملخصاً: سلفی تحقیقی جائزہ ص۲۷۲)
حالانکہ علم اسماء الرجال کا ایک عام طالبعلم بھی بخوبی جانتا ہے کہ حفص بن غیاث کے نام کے دو راویوں میں سے مذکورہ سند میں واقع حفص سے مراد صحیح بخاری، صحیح مسلم و سنن اربعہ کے ثقہ و صدوق راوی ابوعمر حفص بن غیاث بن طلق بن معاویہ النخعی القاضی رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں جو کہ امام ابوعلی الحسن بن ربیع البورانی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر کئی محدثین کے استاذ ہیں، اور امام ابوعبداللہ محمد بن ابی یحییٰ سمعان الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ و دیگر متعدد ائمہ محدثین کے شاگرد ہیں۔ مگر ندوی نے ازروئے جہالت اس سے مجہول راوی مراد لے لیا ہے۔
(۲) ‘‘ اخبرنا ابو عبداللہ الحافظ عن ابی العباس محمد بن یعقوب عن محمد بن اسحاق عن الحسن بن ربیع عن حفص بن غیاث عن محمد بن ابی یحییٰ عن عباد بن الزبیر ’’ کے طریق سے مروی ایک حدیث کے بارے میں ندوی نے لکھا کہ:
اس روایت میں حفص کا استاذ جسے شیخ الحدیث کہا گیا ہے، وہ ‘‘محمد بن ابی یحییٰ’’ ہیں، ، ان کی بھی تعیین نہیں ہو سکی۔۔۔۔۔ الخ۔ (تحقیقی جائزہ ص ۲۷۲)
تبصرہ: اس روایت کی سند میں ‘‘محمد بن ابی یحییٰ’’ سے سنن ابی داود، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ وغیرہ کے ثقہ و صدوق راوی ‘‘ابوعبداللہ محمد بن ابی یحییٰ سمعان الاسلمی رحمۃ اللہ علیہ’’ مراد ہیں۔ جو کہ سیدنا عباد بن الزبیر رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں اور مشہور محدث ‘‘ابوعمر حفص بن غیاث النخعی رحمۃ اللہ علیہ کے استاذ ہیں، ملاحظہ فرمائیں!
۱۔ تہذیب الکمال للمزی (ج۷ ص ۵۷ برقم ۱۴۱۵۔ ج ۲۷ ص ۲ برقم:۵۶۹۶)
۲۔ غنیۃالملتبس ایضاح الملتبس(ج۱ص۳۷۹ برقم ۵۴۵)
۳۔ تہذیب التہذیب (ج۹ ص ۵۲۳برقم ۸۵۶)
معلوم ہوا کہ رئیس ندوی کو اسماء الرجال کی مشہور و معروف کتب بھی دیکھنی نہیں آتی ہیں۔
(۳) رئیس ندوی نے ایک جگہ لکھا کہ:
امام بخاری اپنی (تاریخ کبیر ۴۲۵/۸) میں لکھتے ہیں: ‘‘ قَالَ ابن مھدی ذکرت لسفیان عَن اَبی بکر عَن عاصم بن کلیب ان علیا کان یرفع یدیہ ثم لایعود، فانکرہ ’’ یعنی امام عبدالرحمن بن مہدی نے امام سفیان بن عیینہ سے زیربحث حدیث کی بابت پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا۔ (تحقیقی جائزہ ص ۲۷۸۔۲۷۹)
تبصرہ: عرض ہے کہ ندوی کی مستدل روایت میں سفیان سے سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ نہیں بلکہ امام سفیان بن سعید ثوری رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں جیسا کہ ندوی کے ہم مسلک زبیر علی زئی نے بھی سفیان ثوری ہی مراد لیے ہیں۔ (دیکھئے: نورالعینین ص ۱۶۵) مگر ندوی نے ازراہ جہالت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ سمجھ لیے ہیں۔
(۴) مصنف ابن شیبہ میں ‘‘ حدثنا معاویۃ بن ہشیم عن سفیان عن مسلم الجہنی قال کان ابن ابی لیلی ’’ کے طریق سے مروی ایک حدیث کے بارے میں ندوی نے لکھا کہ:
دراصل اس روایت کی سند مجہول ہے اس کا کوئی راوی معروف نہیں۔
(سلفی تحقیقی جائزہ ص ۵۹۷)
تبصرہ: یہ ندوی کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے، اس روایت کے چاروں راویوں میں سے کوئی بھی غیر معروف نہیں ہے۔
چنانچہ اس کے پہلے راوی ‘‘امام ابوالحسن معاویہ بن ہشام القصار رحمۃ اللہ علیہ صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، سنن ابی داود اور تعلیقاً صحیح بخاری’’ کے ثقہ راوی ہیں۔
دوسرے راوی ‘‘امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ’’ کتب صحاح ستہ کے ثقہ بالا جماع راوی ہیں۔
تیسرے راوی ‘‘ابوفروہ مسلم بن سالم الجہنی رحمۃ اللہ علیہ’’صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داود، سنن ابی داود، سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی کے ثقہ و صدوق راوی ہیں۔
چوتھے راوی ‘‘امام عبدالرحمن بن ای لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ’’ کتب صحاح ستہ کے ثقہ و صدوق تابعی راوی ہیں۔
(۵) رئیس ندوی نے لکھا کہ:
‘‘لیس بالقوی’’ بھی قادح ترین جروحات میں سے ہے۔
(ملخصاً: تحقیقی جائزہ ص ۱۸۰)
تبصرہ: ندوی نے ہی بذات خود لکھا ہے کہ ‘‘لیس بذاک القوی’’ تجریح مبہم ہے (ایضاً: ص ۳۶۸) اور توثیق ثابت کے بالمقابل تجریح مبہم غیر مقبول ہے۔ (ایضاً:ص ۲۳۱) اب علم سے یتیم اور تہی دامن رئیس ندوی پارٹی سے ہی پوچھا جائے کہ جو تجریح تمہارے بقول توثیق ثابت کے مقابلے میں سرے سے قبول ہونے کی ہی حیثیت نہیں رکھتی وہ قادح ترین جروحات میں سے کیسے بن گئی؟
(۶) رئیس ندوی نے لکھا کہ:
حافظ ابن الجوزی تو حافظ خطیب سے عمر میں کہیں مقدم ہیں۔
(سلفی تحقیقی جائزہ ص۱۷۷)
تبصرہ: ندوی کا حافظ ابن الجوزی کو حافظ خطیب سے عمر میں کہیں مقدم کہنا بہت بڑی جہالت ہے۔ کیونکہ امام ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ ۵۱۰ھ کو پیدا ہوئے اور ۵۹۷ھ میں انہوں نے وفات پائی، جب کہ حافظ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ ۳۹۲ھکو پیدا ہوئے اور انہوں نے ۴۶۳ھ کو وفات پائی، اس سے معلوم ہوا کہ خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ حافظ ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ سے عمر میں کہیں مقدم ہیں۔
(۷) رئیس ندوی ایک روایت کے بارے میں لکھتا ہے کہ:
ہم کہتے ہیں جس مصنف ابن ابی شیبہ سے فرقہ دیوبندیہ نے یہ روایت نقل کی، اس میں اس کی پوری سند یہ ہے ‘‘ حدثنا الفضل عن زہیر عن الولید بن قیس ’’ زہیر کی تعیین نہیں ہو سکی اس لیے بمنزلہ مجہول ہیں۔(سلفی تحقیقی جائزہ ص۴۹۱۔۴۹۲)
تبصرہ: اس روایت کی سند میں زہیر سے مراد صحیح بخاری اور سنن اربعہ کے مشہور (فی نفسہ) ثقہ و صدوق امام ابوخیثمہ زہیر بن معاویہ بن حدیج الجعفی رحمۃ اللہ علیہ مراد ہیں۔ جو کہ امام ابونعیم فضل بن دکین رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر کئی ائمہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم کے استاذ حدیث تھے۔ (دیکھئے: تہذیب الکمال للمزی برقم ۲۰۱۹۔۴۷۳۲) معلوم ہوا کہ ندوی علم اسماء الرجال سے اس قدر جاہل ہے کہ اسے کتب صحاح ستہ کے مشہور و معروف راویوں کا بھی تعین کرنا نہیں آتا۔ مگر اس کے باوجودندوی نے دعویٰ کر رکھا ہے کہ کوئی سند بھی لاؤ میں تین منٹ میں اس کی اسنادی کیفیت و حیثیت واضح کردوں گا۔ (دیکھئے: اللمحات ج۱ ص ۶۴)
یہ چند نمونے اس کی دلیل ہیں کہ رئیس ندوی صاحب نے علوم دینیہ خصوصاً اسماء الرجال کے فن میں ٹانگ اڑانے کی بے جا سعی کی ہے، مگر درحقیقت وہ اس کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔
(۴) گھٹیا اور بازاری زبان
رئیس ندوی نے علماء حقہ کے خلاف گندی اور بازاری زبان استعمال کرنے میں تو مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی مات دے دی ہے، لیکن ہم اپنی اس کتاب میں قارئین کے سامنے خالصتاً علمی مباحث رکھنا چاہتے ہیں اس لیے ندوی کی طرف سے دی جانے والی گالیوں کو نقل کر کے ہم قارئین کو خواہ مخواہ تشویش میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم ثبوت کے طلبگار حضرات مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ کا صفحہ نمبر ۱۳۷۔ ۱۰۰۔ ۹۸۔ ۱۰۵۔ ۱۳۷۔ ۱۴۶۔ ۱۵۷۔۳۵۳۔ ۶۳۴۔ ۸۲۳ وغیرہ ملاحظہ فرمائیں۔
الغرض ندوی صاحب کی مذکورہ کتاب ‘‘مجموعہ مقالات پر سلفی تحقیقی جائزہ’’ تناقضات، اکاذیب وافتراء ات اور گالیوں وغیرہ کا ایک زبردست مجموعہ ہے۔
زیر نظر کتاب ‘‘تسکین العینین فی ترک رفع الیدین’’ جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے، میں جہاں ہم نے مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب‘‘ تحقیق مسئلہ رفع یدین’’ میں درج کی جانیوالی احادیث اور آثار پر رئیس ندوی صاحب کی طرف سے کیے جانیوالے اعتراضات کے دندان شکن جوابات درج کر دیے ہیں وہاں پر زبیر علی زئی غیر مقلد کی کتاب ‘‘نورالعینین فی اثبات رفع الیدین’’ کی غلطیوں اور علمی مغالطوں کو اجاگر کر کے ان کا بھی رد کر دیا ہے۔ نیز حضرات علماء اور طلباء کو بفضلہ تعالیٰ اس میں کئی ٹھوس اور جدید علمی اور تحقیقی بحثیں نظر آئیں گی جن سے علمی مغالطے اور جہل مرکب کافور ہو گا۔
جن حضرات نے اس کتاب کی تیاری میں میرے ساتھ کسی بھی طرح سے تعاون فرمایا ہے، میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔ فجزاہم احسن الجزاء۔حق تعالیٰ شانہ اس حقیر کی کوشش کوقبول فرما کر عوام الناس کے لیے نافع اور راقم الحروف، اس کے والدین ،اساتذہ اور مشائخ کے لیے ذخیرہ آخرت بنائے۔(آمین)
وصلی اللہ تعالی علی خیرخلقہ محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یاارحم الراحمین.
نیاز احمدغفرلہ
---------------------------------------------------------------------------
مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔
اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔
مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔ قارئین دیکھیں : "النعمان سوشل میڈیا سروسز" کی ویب سائٹ پر موجود
---------------------------------------------------------------------------
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں