نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

کتاب : تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین - قسط 8 : حدیث جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ تحقیق کے آئینے میں

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حدیث جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ
تحقیق کے آئینے میں

۱۔حدیث جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بحوالہ صحیح مسلم

‘‘ حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ وابوکریب قالا حدثنا ابومعاویۃ عن الاعمش عن المسیب بن رافع عن تمیم بن طرفۃ عن جابر بن سمرۃ : قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوافی الصلٰوۃ ’’

ترجمہ: سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ہم پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ہو گیا مجھے کہ میں دیکھ رہا ہوں تمہیں نماز میں رفع یدین کرتے ہوئے جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوں، نماز میں سکون اختیار کرو۔(صحیح مسلم: ج۱، ص۱۸۱)

فائدہ:

اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ و صدوق ہیں، اور اس کی سند بالکل صحیح وثابت ہے۔ اور اس حدیث شریف میں مسلک اہلسنت والجماعت پر واضح دلیل ہے کہ نماز کے اندر پہلے رفع یدین مشروع تھا، بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ نیز صحیح مسلم کے علاوہ یہ حدیث من طریق تمیم بن طرفہ الطائی مختلف سندوں کے ساتھ درج ذیل کتب میں بھی موجود ہے۔

(۱)۔۔۔۔صحیح ابن حبان: ص ۵۸۴

(۲)۔۔۔۔سنن ابی دود: ج۱،ص۱۵۰

(۳)۔۔۔۔سنن النسائی: ج۱،ص۱۷۶

(۴)۔۔۔۔مصنف ابن ابی شیبہ: ج۲،ص۳۷۰

(۵)۔۔۔۔المعجم الکبیر للطبرانی: برقم۱۷۹۵

(۶)۔۔۔۔مشکل الآثارللطحاوی: برقم ۵۱۷۸

(۷)۔۔۔۔مسند ابی یعلی الموصلی: برقم۷۴۷۲

(۸)۔۔۔۔مصنف عبدالرزاق: برقم ۳۲۵۲

(۹)۔۔۔۔مسند احمد بن حنبل: ص۱۵۲۰

(۱۰)۔۔۔۔المحلیٰ لابن حزم: ص ۳۷۷

(۱۱)۔۔۔۔السنن الکبریٰ للبیہقی: ج۲،ص۲۸۰

(۱۲)۔۔۔۔مسند ابی عوانہ: ج۲،ص۸۵

(۱۳)۔۔۔۔مسند الطیالسی : برقم ۷۸۶

(۱۴)۔۔۔۔التمہید لابن عبدالبر: ج۹،ص۲۲۱

چندشبہات کا ازالہ:

بعض الناس اپنے مذہب کو بچانے کے لیے اس صحیح السند حدیث پر چند شبہات وارد کرتے ہیں ان کے جوابات درج ذیل ہیں:

 

شبہ نمبر۱:

کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کو تشہد اور سلام والے ابواب میں نقل کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس حدیث میں صرف اور صرف سلام کے وقت دونوں طرف ہاتھوں کا اشارہ کرنا منع ہے۔

الجواب:

 اولاً۔۔۔۔یہ اعتراض انتہائی غلط اور بالکل بے جان ہے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے اسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ مبارکہ سے باہر تشریف لائے۔ اور انہیں نماز کے اندر رفع یدین کرتے ہوئے دیکھ کر نکیر فرمائی اور نماز کے اندر کیے جانے والے رفع یدین کو مست گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دی اور اسے خلاف سکون قرار دیتے ہوئے فرمایا ‘‘اسکنوافی الصلوۃ’’نماز میں پر سکون رہا کرو (یعنی نماز کے اندر رفع یدین نہ کیا کرو) اس حدیث کے صریح الفاظ سے واضح ہو گیا کہ اس حدیث میں نماز کے اندر مثلاً رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حدیث کے صریح الفاظ کے مقابلے میں بعض غیر معصوم امتیوں کے قائم کردہ ابواب کا بہانہ بنا کر اس حدیث کو بغیر کسی قوی دلیل کے صرف اور صرف سلام کے وقت دونوں طرف ہاتھوں سے اشارہ کی ممانعت پر فٹ کرنا محض سینہ زوری ہے۔

ثانیاً۔۔۔۔کسی شخص کا کسی حدیث کو کسی بات کے تحت ذکر کرنا۔ یہ اس شخص کی ذاتی رائے اور تحقیق ہے۔ جس سے دلائل کی روشنی میں اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کا یہ معنی نہیں ہوتا کہ اس حدیث کا وہی ہی مطلب قطعی ہے جو وہ بیان کر رہا ہے، علم حدیث کا عام طا لب علم بھی جانتا ہے کہ بعض دفعہ ایک محدث کسی حدیث کو ایک باب کے تحت نقل کرتا ہے اور دوسرا محدث حدیث کے الفاظ عام ہونے کی وجہ سے اسی حدیث کو کسی دوسرے باب کے تحت نقل کر دیتا ہے۔ اور یہی معاملہ حدیث مذکور کے متعلق بھی ہے۔ کیونکہ اس حدیث کو اگر بعض حضرات نے تشہد وغیرہ کے باب میں نقل کیا ہے تو کیا ہوا کئی دوسرے حضرات نے اسے حرکت نہ کرنے ، خشوع و خضوع، نماز میں سکون کرنے کے عنوان کے تحت بھی ذکر کیا ہے۔ اور متعدد ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے صراحتاًاسے نماز میں رفع یدین نہ کرنے کی دلیل بھی بنایا ہے اور اس پر ترک رفع یدین کے ابواب بھی باندھے ہیں مثلاً۔۔۔۔

(۱)۔۔۔۔امام ابوعوانہ رحمۃ اللہ علیہ م ۳۱۶؁ھ نے اسے ‘‘بیان النھی عن الاختصار فی الصلوٰۃ وایجاب الانصات والسکون فی الصلوۃ الالصاحب العذر ’’ کے تحت نقل کیا ہے۔ (دیکھئے: مسند ابی عوانہ: ج۲،ص۸۵)

(۲)۔۔۔۔امام ابوبکر ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ م ۲۳۵؁ھ نے اسے ‘‘من کرہ رفع الیدین فی الدعاء ’’ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: برقم ۸۴۴۷)

(۳)۔۔۔۔حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴؁ھ نے ‘‘ ذکرمایستحب للمصلی رفع الیدین عند قیامہ من الرکعتین من صلوتہ ’’ کے تحت درج کیا ہے۔ (صحیح ابن حبان: ج۴ص۱۷۸)

(۴)۔۔۔۔امام ابونعیم احمد بن عبداللہ الاصبہانی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۳۰؁ھ نے ‘‘ باب الکراھیۃ ان یضرب الرجل بیدہ عن یمینہ وعن شمالہ فی الصلوٰۃ ’’ کے تحت اسے نقل کیا ہے۔ (المسند المستخرج علی صحیح مسلم: برقم ۹۶۱)

(۵)۔۔۔۔امام ابوبکر البیہقی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۵۸؁ھ نے ‘‘ جماع ابواب الخشوع فی الصلاۃ والاقبال علیھا ’’ کے تحت ‘‘باب الخشوع فی الصلاۃ ’’ میں درج کیا ہے۔ (السنن الکبری للبیہقی : برقم ۳۵۲۰)

(۶)۔۔۔۔امام ابومحمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵؁ھ نے ‘‘باب فی بیان رفع الیدین فی اول الصلوۃ ’’ کے تحت نقل کر کے اس سے ترک رفع یدین پر دلیل پکڑی ہے۔ (دیکھئے: شرح سنن ابی داؤد : ج۳، ص ۲۹۷)

(۷)۔۔۔۔امام ابومحمد جمال الدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۶۲؁ھنے اس حدیث سے ترک رفع یدین پر دلیل پکڑی ہے۔ (ملخصاً: نصب الرایہ ج۱،ص۴۷۲)

(۸)۔۔۔۔امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۲۵۶؁ھ کی طرف منسوب غیر مقلدین کے نزدیک معتبر ‘‘رسالہ جزء رفع الیدین’’ کے اقتباس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اْس دور میں بھی 

اس حدیث کو ترک رفع یدین کی دلیل بنایا گیا ہے۔(ملخصاً :جزء رفع الیدین ص ۶۱ وفی طبعۃ ص ۳۲ برقم ۳۷)

(۹)۔۔۔۔امام ابوزکریا محی الدین نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶؁ھ کے عمل سے بھی ظاہر ہے کہ اس حدیث کو حضرات نے ترک رفع یدین کی دلیل بنایا ہے۔ (المجموع شرح المہذب ج۳،ص۴۰۳)

(۱۰۔۱۱)حافظ ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ م ۳۵۴؁ھ،حافظ ابن الملقن رحمۃ اللہ علیہ م کے عمل سے بھی یہ بات ظاہر ہے۔(صحیح ابن حبان ج۳،ص۱۷۸ ،البدر المیزج۳،ص۴۸۵)

(۱۲)۔۔۔۔امام ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۰۱۴؁ھ نے اس حدیث کو رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل بتایا ہے۔ (مرقات ج۲،ص۲۷۵، الاسرارالمرفوعہ ص ۳۵۶ ،شرح نقایہ ج۱،۷۸)

(۱۳)۔۔۔۔امام ابوبکر علاؤ الدین الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ م ۵۸۷؁ھ نے اس سے ترک رفع یدین پر استدلال کیا ہے۔ (بدائع الصنائع : ج۱، ص ۲۰۷)

(۱۴)۔۔۔۔امام عثمان بن علی المعروف فخرالدین زیلعی رحمۃ اللہ علیہ م ۷۴۳؁ھ نے بھی اس سے ترک رفع یدین پر دلیل پکڑی ہے۔ (تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق : ج۱،ص۱۲۰)

(۱۵)۔۔۔۔علامہ ہاشم سندھی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۱۷۴؁ھ نے اس حدیث سے رفع الیدین عندالرکوع کی منسوخیت پر دلیل پکڑی ہے۔ (رسالہ کشف الرین بحوالہ نور الصباح ج۲، ۳۲۳)

(۱۶)۔۔۔۔شمس الائمہ امام محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ م ۴۸۳؁ھ نے اس سے رفع یدین نہ کرنے پر دلیل پکڑی ہے۔ (المبسوط:ج۱،ص۱۴)

(۱۷)۔۔۔۔امام جمال الدین ابومحمد علی بن ابی یحییٰ المنبجی الخزر جی رحمۃ اللہ علیہ، م ۶۸۶؁ھ نے اسے ‘‘باب لاترفع الایدی عندالرکوع ولابعدالرفع منہ’’ کے تحت ذکر کیا ہے۔ (اللباب فی الجمع بین السنۃوالکتاب: ج۱ص ۲۵۶)

(۱۸)۔۔۔۔امام ابوالحسین احمد بن محمد البغدادی القدوری رحمۃ اللہ علیہ م ۴۲۸؁ھ نے اسے ‘‘باب لاترفع الیدین فی تکبیر الرکوع’’ کے تحت درج کیا ہے۔ (التجرید: ج۲، ۵۱۸۔۵۱۹)

(۱۹)۔۔۔۔علامہ زمخشری نے بھی اس حدیث کو ‘‘لاترفع الایدی فی الصلٰوۃ الا عندافتتاح الصلوٰۃ ’’ کے عنوان کے تحت ذکر کیا ہے۔ (رؤوس المسائل الخلافیۃبین الحنفیۃ والشافعیۃ: ج۱ص ۱۵۶)

(۲۰)۔۔۔۔امام ابوالمعانی برہان الدین البخاری رحمۃ اللہ علیہ م ۶۱۶؁ھ نے ‘‘المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی’’ ج ۱ ص ۳۷۶ پر۔

(۲۱)۔۔۔۔امام زین الدین المعروف بابن نجیم المصری رحمۃ اللہ علیہ م ۹۷۰؁ھ نے ‘‘البحرالرائق شرح کنزالدقائق ’’ص ۳۴۱ج۱پر۔

(۲۲)۔۔۔۔امام احمد بن محمد الطحطاوی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۳۱؁ھ نے ‘‘حاشیۃ الطحطاوی’’ ج۱ ص ۲۵۷ پر۔

(۲۳)۔۔۔۔امام ابوالعباس شہاب الدین المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۸۴؁ھ نے ‘‘الذخیرہ للقیرافی’’ ج ۲ ص ۲۲۰ پر۔

(۲۴)۔۔۔۔محدث کبیر زکریا رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘تقریر بخاری’’ ج ۳ ص ۱۰۶ پر۔

(۲۵)۔۔۔۔محدث عظیم رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘الحل المفھم’’ج۱،ص۷۹ پر اور دیگر کئی ائمہ محدثین نے اس حدیث کو رفع یدین نہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

(۲۶)۔۔۔۔امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ م ۷۵۱؁ھ نے ‘‘اعلام الموقعین’’ج۲، ص ۱۵۴،پر

(۲۷)۔۔۔۔امام صالح بن محمد الفلانی المالکی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۲۱۸؁ھ نے ‘‘ایقاظ ھم اولی الابصار:ج۱،ص۱۳۶’’پر۔

(۲۸)۔۔۔۔حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۲؁ھ نے ‘‘ الدرایۃ ج۱، ص ۱۴۹وفتح الباری ج۱۱ ص ۴۲۹’’ پر 

اور دوسرے کئی حضرت نے صراحت کر رکھی ہے کہ ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے اس حدیث کو رفع یدین نہ کرنے کی دلیل بتایا ہے۔

(۲۹تا ۳۹) نیز بطور الزام کے عرض ہے کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ م ۶۷۶؁ھ بالجزم کہتے ہیں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۵۰؁ھ، امام سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ م ۱۶۱؁ھ، امام مالک بن انس المدنی رحمۃ اللہ علیہ م ۱۷۹؁ھاور امام ابن ابی لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ م ۱۴۸؁ھ وغیرھم نے بھی اس حدیث سے رفع یدین نہ کرنے پر دلیل پکڑی ہے۔ (المجموع شرح المہذب: ج۳،ص۴۰۰) جو کہ باصول علی زئی ان ائمہ کی طرف اس استدلال کی نسبت کے صحیح ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ علی زئی صاحب نے ایک جگہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلقہ امام ابن معین رحمۃ اللہ علیہ سے منسوب ایک قول کو صحیح ثابت کرنے کے لیے لکھا ہے کہ اس قول کو حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ‘‘دیوان الضعفاء ’’ میں بطور جزم بیان کیا ہے۔ (دیکھئے: ماہنامہ الحدیث ص ۱۴ ش نمبر۷۳)

(۴۰)۔۔۔۔قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ‘‘ قدذکرابن القصار ھذا الحدیث حجۃ فی النہی عن رفع الایدی علٰی روایۃ المنع من ذالک جملۃ ’’ امام ابن قصار رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ رفع یدین منع کرنے والی حدیثوں میں سب سے واضح طور پر یہ حدیث حجت ہے، اور رفع یدین منع کرنے پر دلیل ہے۔(اکمال المعلم بفوائد مسلم ج۲،ص۳۴۴، بحوالہ نور الصباح ،ج۲،ص۳۲۲)

(۴۱)۔۔۔۔علامہ شیخ عبداللہ بن حمید رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ‘‘ فی منع الاقتداء بمن یرفع یدیہ فی الصلٰوۃ ’’ کے عنوان کے تحت نقل کر کے اس سے منسوخیت رفع یدین پر دلیل پکڑی ہے۔ (شرح الجامع الصحیح: ص ۳۱۸)

اٰ ٰل غیر مقلدیت کا دھوکہ:

 قارئین: مندرجہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مذکور حدیث کو کئی ائمہ محدثین اور فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے رفع یدین نہ کرنے کی دلیل بنایا ہے، اور اس حدیث پر ترک رفع یدین کے ابواب بھی باندھے ہیں۔ لہٰذا غیر مقلدین کی درج ذیل باتیں سراسر غلط اور دھوکہ دہی پر مبنی ہیں۔ مثلاً۔۔۔۔

(۱)غیر مقلد عطاء اللہ حنیف نے لکھا ہے کہ:

محدثین کا اجماع ہے کہ تمیم بن طرف ازجابر اور عبید اللہ بن قبطیہ عن جابر ایک ہی حدیث ہے۔ (تعلیقات علی النسائی: ج۱ص۱۳۹)

(۲)زبیر علی زئی غیر مقلدنے لکھا ہے:

محدثین کی اس اجماعی تبویب سے معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق صرف تشہد والے رفع یدین کے ساتھ ہے۔ (نور العینین:ص۱۲۷)

(۳)غیر مقلد علی زئی نے مزید لکھا ہے:

کسی محدث نے اس پر منع رفع یدین عند الرکوع والرفع منہ کا باب نہیں باندھا۔(بلفظہ: نور العینین ص ۱۲۷)

زبیر علی زئی جھوٹ :

زیر بحث ‘‘اسکنوافی الصلوٰۃ’’ والی حدیث کے متعلق غیر مقلد زبیر علی زئی صاحب لکھتے ہیں کہ:

درج ذیل محدثین نے اس حدیث پر سلام کے ابواب باندھے ہیں۔۔۔۔طحاوی ‘‘باب السلام فی الصلوٰۃ کیف ھو؟ شرح معانی الاثارج۱، ص۲۶۸۔۲۶۹’’ (نور العینین: ص ۱۲۶)

تبصرہ: قارئین بضابطہ غیر مقلدیت علی زئی صاحب کی یہ بات سو فیصد جھوٹ ہے۔ آپ شرح معانی الاٰثار اٹھا کر دیکھیں اس میں مذکور من طریق تمیم بن طرفہ ‘‘اسکنوا فی الصلٰوۃ’’ والی حدیث کو امام ابوجعفر الطحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ‘‘باب السلام فی الصلٰوۃ کیف ھو؟’’ میں سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے۔

شبہ نمبر۲:

فریق مخالف کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث مختصر ہے اس سے اگلی روات میں موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے وقت اشارہ سے منع کیا ہے۔ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے۔

الجواب :

اولاً۔۔۔۔محض اپنے مسلک کو بچانے کے لیے دو الگ الگ واقعات کو خلط ملط کر کے ایک ہی واقعہ بنا ڈالنا بالکل باطل و مردود ہے۔ اگر کوئی منصف مزاج شخص ان روایات کو غور سے دیکھ لے تو ہرگز ہرگز اسے ایک واقعہ قرار نہیں دے سکتا۔ کیونکہ روایات کے متن اور سند دونوں میں بہت فرق ہے۔ اگر ایک صحابی رضی اللہ عنہ دو واقعے بیان کرے تو وہ ایک نہیں دو ہی رہیں گے۔ ایک ا?دمی دس، بیس ، تیس واقعات بیان کر دیتا ہے تو کیا محض راوی ایک ہو جانے کی وجہ سے وہ ایک ہی واقعہ قرار پائے گا، ہرگز نہیں۔ ہم پہلے دو نوں روایات کو نقل کرتے ہیں تاکہ اگلی بحث کو عام قارئین آسانی سے سمجھ سکیں۔

روایت نمبر۱:

‘‘ عن تمیم بن طرفۃعن جابر بن سمرۃ قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوۃ ۔۔۔۔الخ۔ (صحیح مسلم : ج ۱، ص ۱۸۱) وفی روایۃ ودخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔الخ۔ (مسند احمد: برقم ۲۰۶۵۸) وفی روایۃ: ونحن رافعوا ایدینا فی الصلٰوۃ۔۔۔۔الخ ’’(ایضاً: برقم ۲۱۰۲۷)

مفہوم حدیث:

تمیم بن طرفہ الطائی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (حجرہ شریفہ سے) نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے ، اور ہم (انفرادی) نماز میں رفع یدین کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں گویا کہ مست گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔

روایت نمبر۲:

‘‘ عبیداللہ بن القبطیۃ عن جابر بن سمرۃ قال کنااذا صلینا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قلنا السلام علیکم ورحمۃ اللہ واشار بیدہ الی الجانبین فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علام تومنون بایدیکم کانھا اذناب خیل شمس انمایکفی احدکم ان یضع یدہ علی فخذہ ثم یسلم علی اخیہ من علی یمینہ وشمالہ’’(صحیح مسلم :ج۱،ص۱۸۱) وفی روایۃ: کنامع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذاسلم قال احدنا بیدہ عن یمینہ وعن شمالہ السلام علیکم السلام علیکم واشار بیدہ عن یمینہ وعن شمالہ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم مابالکم تومؤن بایدیکم۔۔۔ الخ (مسند الشافعی: ج۱،ص۴۴) وفی روایۃ : کنا اذا صلینا خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشاراحدنا۔۔۔۔الخ۔ (مسند احمد: برقم ۲۱۰۲۸) وفی روایۃ: کنانصلی خلف النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔الخ (السنن الکبری للنسائی: برقم ۵۴۱) وفی روایۃ : ماشا نکم تشیرون بایدیکم۔۔۔۔ الخ (سنن النسائی: برقم ۱۳۲۶) وفی روایۃ: مابال اقوام یرمون باید یھم ۔۔۔۔الخ ۔’’(مسند احمد: برقم ۲۰۸۰۶)

مفہوم حدیث:

عبیداللہ بن القبطیہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ : جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے باجماعت نماز پڑھتے تو سلام کے وقت السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے اشارہ بھی کرتے ، تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہو گویا کہ مست گھوڑوں کی دمیں ہیں، تمہارے لیے بس یہی کافی ہے کہ اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں بائیں اپنے بھائی کو سلام کر لیا کرو۔

قارئین:دونوں احادیث آپ کے سامنے ہیں، پہلی حدیث میں نماز کے اندر رفع یدین کرنے سے منع کیا گیا ہے، اور دوسری حدیث میں سلام کے وقت اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور یہ دونوں حدیثیں بااعتبار سندو متن کے مختلف ہیں مثلاً۔۔۔۔

(۱)۔۔۔۔نماز کے اندر رفع یدین کرنے سے منع کرنے والی پہلی حدیث کے راوی ‘‘تمیم بن طرف الطائی رحمۃ اللہ علیہ’’ ہیں۔ اور دوسری سلام کے وقت اشارہ کرنے سے منع کرنے والی حدیث کے راوی ‘‘عبیداللہ بن القبطیہ رحمۃ اللہ علیہ’’ ہیں۔

(۲)۔۔۔۔پہلی حدیث کے الفاظ ‘‘ خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ دخل علینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ’’ صراحتاً اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ یہ نماز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جماعت کے بغیر انفرادی پڑھ رہے تھے۔ اور دوسری حدیث کے الفاظ ‘‘ کنامع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاذا سلم قال احدنا۔کنااذاصلینا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قلنا السلام علیکم۔کنا اذا صلینا خلف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشار احدنا ’’۔ اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ یہ نماز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم باجماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ادا فرما رہے تھے۔ الغرض پہلی حدیث میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ انفرادی نماز کا ہے، اور دوسری حدیث میں جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ باجماعت نماز کا ہے۔ لہٰذا یہ دونوں واقعات الگ الگ ہیں۔

(۳)۔۔۔۔پہلی حدیث کے الفاظ ‘‘ ونحن رافعوا ایدینا۔ اسکنو فی الصلوٰۃ ’’ صراحتاً اس بات پر دلالت کر رہے ہیں کہ اس حدیث میں نماز کے اندر رفع یدین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اور دوسری حدیث کے الفاظ ‘‘ یرمون بایدیھم۔ تومنون بایدیکم اشاراحدنا۔ مابال اقوام یرمون بایدیھم۔ ماشا نکم تشیرون ’’ اس بات پر دال ہیں کہ اس حدیث میں بوقت سلام اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یعنی پہلی حدیث میں نماز کے اندر رفع یدین کرنے سے اور دوسری حدیث میں بوقت سلام اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔

(۴)۔۔۔۔پہلی حدیث میں سلام کا ذکر نہیں ہے جبکہ دوسری حدیث میں سلام اور پھر اس کا طریقہ بھی مذکورہے۔

(۵)۔۔۔۔پہلی حدیث میں ‘‘ اسکنوافی الصلٰوۃ ’’ کے الفاظ ہیں جبکہ دوسری حدیث ان الفاظ سے خالی ہے۔ (فیما اعلم)

الغرض: مذکورہ بالا قرائن سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ مذکورہ دونوں روایات میں دو الگ الگ واقعے بیان کیے گئے ہیں۔ لہٰذا انہیں ایک واقعہ قرار دینا بالکل غلط باطل و مردود ہے۔

ثانیاً۔۔۔۔اپنے اپنے دور کے جلیل القدرثقہ بالا جماع معتدل محدثین امام ابو محمد محمود بن احمد العینی رحمۃ اللہ علیہ م ۸۵۵؁ھ، امام ابوالحسن علی بن (سلطان) محمد نور الدین القاری رحمۃ اللہ علیہ م۱۰۱۴؁ھاور امام زین الدین المعروف باین نجیم رحمۃ اللہ علیہ م ۹۷۰؁ھ وغیرھم نے بھی مذکورہ دونوں روایات کو دو الگ الگ احادیث وواقعات قرار دیا ہے۔ (ملخصاً: البنایہ شرح الھدایہ ج۲، ص ۲۹۹ ،مرقات ج۱، ص۴۹۸ ،البحر الرائق ج۱،ص۳۴۱)

ثالثاً۔۔۔۔یہ بات بھی اس موقع پر ملحوظ رہنی چاہیئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ‘‘ تحریمھا التکبیر وتحلیلھا التسلیم ’’ کا مفاد یہ ہے کہ سلام اور تحریمہ نماز کا جزء نہیں بلکہ اس کی حدود ہیں اور یہ بات تو بالکل ظاہر ہے کہ حدود شئ، حقیقت شئ سے خارج ہوا کرتی ہیں، گوشئ کے ساتھ اس کے شدت اتصال کی بناء پر ان کا باہمی فرق و امتیاز محسوس نہ ہو۔

اس لیے سلام کی حالت میں نمازی من وجہ خارج صلوٰۃ اور من وجہ داخل صلوٰۃ ہوتا ہے۔ لہٰذا دونوں حدیثوں کو ایک ماننے کی صورت میں بھی جب بحالت سلام رفع یدین کی بجائے سکون (یعنی عدم حرکت) مطلوب ہے تو رکوع وغیرہ کی حالت میں جبکہ نمازی من کل الوجوہ اور ہر اعتبار سے داخل صلوٰۃ ہوتا ہے سکون مطلوب کے برخلاف رفع یدین کس طرح مناسب ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر بالفرض مذکورہ دونوں حدیثیں ایک بھی ہوں تو بہر صورت رکوع وغیرہ کی حالت میں اس حدیث سے رفع یدین کی گنجائش نہیں نکالی جا سکتی۔

شبہ نمبر۳:

مذکورہ حدیث پر اعتراض کرتے ہوئے غیر مقلدین یہ بھی بعض دفعہ شوشہ چھوڑ دیا کرتے ہیں کہ اگر اس حدیث کے پیش نظر رفع یدین منسوخ ہے تو اس کے نسخ کی تاریخ کیا ہے؟

الجواب :

اولاً۔۔۔۔عرض ہے کہ اپنے ضابطہ کے مطابق پہلے تو غیر مقلدین قرآن و حدیث سے یہ اصول دکھائیں کہ کسی عمل کو منسوخ قرار دینے کے لیے دلائل نہیں تاریخ نسخ کو دیکھا جاتا ہے۔ دیدہ باید۔

ثانیاً۔۔۔۔کتنے ہی ایسے امور ہیں جن کو غیر مقلدین حضرات بھی منسوخ و متروک مانتے ہیں تو کیا ان امور میں سے ہر ایک امر کی تاریخ نسخ و ترک غیر مقلدین قرآن و حدیث سے ثابت کر سکتے ہیں؟ مثلاً ۔۔۔۔ متعددغیر مقلد علماء سجدوں میں رفع الیدین کا ثبوت ماننے کے باوجود سجدوں میں رفع الیدین نہیں کرتے تو کیا وہ حضرات بتا سکتے ہیں کہ اس کے منسوخ و متروک ہونے کی کیا تاریخ ہے؟

چلیئے! مزید دور جانے کی بجائے اسی مضمون کے حوالے سے ہی پوچھ لیتے ہیں، مذکورہ حدیث کا جواب دیتے ہوئے غیر مقلدین کہا کرتے ہیں کہ اس کا تعلق بوقت سلام کیے جانے والے اشارہ کے ساتھ ہے اور اس حدیث میں اسی سے ہی منع کیا گیا ہے۔ کیا وہ یہ بتلانا گوارہ کریں گے کہ اس ممانعت کا سال، دن جگہ، تاریخ اور وقت کیا ہے؟ پس ثابت ہوا کہ یہ غیر مقلدین کی صحیح صریح حدیث کو رد کرنے کی مختلف چالیں ہیں اور بس۔ مگر حق اپنے آپ کو منواکر ہی رہتا ہے!

شبہ نمبر ۴:

کہا جاتا ہے کہ اس روایت میں الفاظ بڑے سخت کہے گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کئے ہوئے عمل کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اس حدیث کو نماز کے اندر والے رفع یدین کے متعلق قرار دینا گستاخی ہے۔

الجواب: 

اولاً۔۔۔۔عوام الناس کو پھسلانے کے لیے یہ اعتراض بطور ہتھیار کے تو استعمال ہو سکتا ہے۔ مگر تحقیقی و علمی دنیا میں اس اعتراض کی پر کاہ کی بھی حیثیت نہیں۔ کیونکہ جب کوئی عمل منسوخ و متروک ہو جائے تو پھر اس پر عمل کرنا غلط ہے اور اسے اپنانا قابل مذمت ہے۔ جیسے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نمازیں پڑھی ہیں، ذرا پوچھیئے معترضین! سے کہ کیا اب اس طرف منہ کر کے نماز پڑھنا درست ہے، وہ لوگ بھی اسے باطل و مردود کہتے ہوئے اس عمل کی مذمت و تردید ہی کریں گے۔ تو کیا معترضین یہاں بھی یہ منطق چلائیں گے کہ چونکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف رخ کر کے نمازیں ادا کی ہیں۔ اس لیے ادھر منہ کر کے نماز ادا کرنے کو باطل و مردود کہنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین ہے یہ سخت الفاظ ہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ جب وہ عمل منسوخ و متروک ہو چکا تو اب اس متروک عمل کو آپ ﷺجس طرح چاہیں تعبیر کرسکتے ہیں۔

ثانیاً۔۔۔۔علاوہ ازیں اس موقع پر یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ حدیث مذکور میں ‘‘سخت الفاظ’’ کسی دوسرے نے نہیں بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال کئے ہیں ہم تو محض ناقل ہیں، لہٰذا ہم پر غصہ بے جاہے۔

جیسا کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ریشمی کپڑا پہنا اور بعد میں اتار کر فرمایا: ‘‘ لاینبغی ھذا للمتقین ’’ کہ یہ متقی لوگوں کے لیے مناسب نہیں۔ (بخاری ج۱،ص۵۴ برقم ۳۷۵ وصحیح مسلم ج۲،ص۱۹۲)

اب معترضین بتائیں کیا معاذ اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے متقی نہ تھے؟ لباس اتار کر ہی متقی ہوئے، اگر متقی لوگوں کے لیے وہ کپڑا جائز نہیں تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیوں پہنا؟ وجہ صرف یہ تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنا تو تب اسے پہننا جائز تھا اور اسے شریعت میں منافی تقویٰ قرار نہیں دیا گیاتھا۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے اتارا اور شریعت میں اسے پہننے سے منع کردیا گیا اور منافی تقوی قرار دے دیا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکور سخت کلمات ارشاد فرمائے کیونکہ جب کوئی عمل منسوخ و متروک ہو جائے تو پھر اس پرنکیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

خلاصۃالمباحث:

قارئین: اس کتاب کے باب اوّل میں کی جانے والی ابحاث سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو گئی کہ ‘‘الامام الثقہ،المحدث الکبیر حبیب الرحمن اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنے اس مؤقف ‘‘کہ متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ترک رفع یدین کی احادیث ثابت ہیں’’ میں بالکل سچے اور حق بجانب تھے اور محدث کبیررحمۃ اللہ علیہ کو اس مؤقف میں جھوٹا کہنے والے فرقہ غیرمقلدیت کے متحقق رئیس ندوی صاحب حقیقتاً خود کذاب، جاہل اور دشمن احادیث ہیں۔

 اللہ رب العزت فریق مخالف کو تعصب سے بالا تر ہو کر حق بات کو سمجھنے اور ماننے کی توفیق عطاء فرمائے، اور ہماری اس کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے۔ (امین)

 وصلی اللہ تعالیٰ علٰی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ وعلی من اتبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔  

 نیاز احمد غفرلہ

 ڈاکخانہ بھومن شاہ تحصیل دیپالپو رضلع اوکاڑہ


کتاب "تسکین العینین فی ترکِ رفع یدین" از: مولانا نیاز احمد اوکاڑوی صاحب

مسئلۂ ترکِ رفع یدین پر یہ ایک نہایت معروف اور مستند کتاب ہے۔ کتاب تسکین العینین کو ہم یونی کوڈ متن کی صورت میں، قسط وار (ہر پوسٹ کی شکل میں) آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں، تاکہ مطالعہ مزید آسان ہو سکے۔

اگر قارئین اس کتاب کو PDF کی صورت میں پڑھنا یا ڈاؤن لوڈ کرنا چاہیں تو یہ کتاب ہماری موبائل ایپلیکیشن دفاعِ احناف لائبریری میں دستیاب ہے۔

مسئلۂ ترکِ رفع یدین سے متعلق تمام قسطیں  ایک ہی لنک کے تحت پوسٹ وائز ترتیب کے ساتھ دستیاب ہیں، جہاں سے آپ آسانی سے مکمل سلسلہ مطالعہ کر سکتے ہیں۔  قارئین دیکھیں :  "النعمان سوشل میڈیا سروسز"  کی ویب سائٹ پر موجود 


سلسلہ ترک رفع الیدین

---------------------------------------------------------------------------



تبصرے

Popular Posts

مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ )

  مسئلہ ترک رفع یدین (حدیث ابن مسعود ؓ کی سند پر اعتراضات کا جائزہ ) مفتی رب نواز حفظہ اللہ، مدیر اعلی مجلہ  الفتحیہ  احمدپور شرقیہ                                                         (ماخوذ: مجلہ راہ  ہدایت)    حدیث:           حدثنا ھناد نا وکیع عن سفیان عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمۃ قال قال عبد اللہ بن مسعود الا اصلیْ بِکُمْ صلوۃ رسُوْل اللّٰہِ صلّی اللّٰہُ علیْہِ وسلّم فصلی فلمْ یرْفعْ یدیْہِ اِلّا فِیْ اوَّل مرَّۃٍ قال وفِی الْبابِ عنْ برا ءِ بْن عازِبٍ قالَ ابُوْعِیْسی حدِیْثُ ابْنُ مسْعُوْدٍ حدِیْثٌ حسنٌ وبہ یقُوْلُ غیْرُ واحِدٍ مِّنْ اصْحابِ النَّبی صلّی اللّہُ علیْہِ وسلم والتابعِیْن وھُوقوْلُ سُفْیَان واھْل الْکوْفۃِ۔   ( سنن ترمذی :۱؍۵۹، دو...

*حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین , باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا حدیث نمبر: 1086 , 1027

 *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ اور ترک رفع یدین*   تحریر : مفتی مجاہد صاحب فاضل مدرسہ عربیہ رائیونڈ پیشکش : النعمان سوشل میڈیا سروسز غیر مقلدین حضرات حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رفع الیدین کے ثبوت میں بعض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک شوشہ یہ بھی چھوڑتے ہیں کہ وہ نو ہجری میں ایمان لائے لہذا جو کچھ انہوں نے نوہجری میں دیکھا وہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اخری اور دائمی عمل ہے *حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے سجدوں کی رفع الیدین کا ثبوت*   «سنن النسائي» (2/ 359): «‌‌126 - باب رفع اليدين للسُّجود 1085 - أخبرنا محمدُ بنُ المُثَنَّى قال: حَدَّثَنَا ابن أبي عَديٍّ، عن شعبة، عن ‌قَتَادة، ‌عن ‌نَصْرِ بن عاصم عن مالكِ بن الحُوَيْرِث، أنَّه رأى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رفع يديه في صلاته؛ إذا ركع، وإذا رفع رأسه من الرُّكوع، وإذا سجد، وإذا رفع رأسه من سُجوده، حتَّى يُحاذِيَ بهما فُروعَ أُذُنَيه»  سنن نسائی کتاب: نماز شروع کرنے سے متعلق احادیث باب: سجدہ کرنے کے وقت رفع الیدین کرنا  حدیث نمبر: 1086 ترجمہ: مالک بن حویر...

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟

امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ   نے   امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ پر کیوں جرح کی ؟ جواب:  اسلامی تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فقہ و علم میں ایسی بے مثال شخصیت تھے جن کی عظمت اور مقام پر محدثین و فقہاء کا بڑا طبقہ متفق ہے۔ تاہم بعض وجوہات کی بنا پر بعد کے ادوار میں چند محدثین بالخصوص امام بخاری رحمہ اللہ سے امام ابو حنیفہ پر جرح منقول ہوئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے امام الحدیث جیسے جلیل القدر عالم، امام اعظم جیسے فقیہ ملت پر کلام کرتے نظر آتے ہیں؟ تحقیق سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ تک امام ابو حنیفہ کے بارے میں زیادہ تر وہی روایات پہنچیں جو ضعیف، منقطع یا من گھڑت تھیں، اور یہ روایات اکثر ایسے متعصب یا کمزور رواة سے منقول تھیں جنہیں خود ائمہ حدیث نے ناقابلِ اعتماد قرار دیا ہے۔ یہی جھوٹی حکایات اور کمزور اساتذہ کی صحبت امام بخاری کے ذہن میں منفی تاثر پیدا کرنے کا سبب بنیں۔ اس مضمون میں ہم انہی اسباب کو تفصیل سے بیان کریں گے تاکہ یہ حقیقت واضح ہو سکے کہ امام ابو حنیفہ پر ا...