امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر امام سفیان ثوری رحمہ اللہ سے منسوب اعتراضات کی حقیقت
غیر مقلدین کی جانب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی تنقیص کے لیے سفیان ثوری رحمہ اللہ سے روایات پیش کی جاتی ہے۔
1. حدثنا مُحمد بن سَعيد بن بَلج، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِمَامِ مَسْجِدِهِمْ، قَالَ: قَالَ لِي يَعْقُوبُ: قُلْ لِسُفْيَانَ: تَلْقَانِي وَحْدِي، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسُفْيَانَ، فَقَالَ سُفْيَانُ، أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالَ الثَّعْلَبُ: لَا يَرَانِي الْكَلْبُ وَلَا أُرَاهُ
حسن بن محمد سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یعقوب ( امام ابو یوسف ) نے مجھ سے کہا: سفیان سے کہو کہ وہ مجھ سے اکیلے میں ملیں۔ حسن کہتے ہیں: میں نے یہ بات سفیان تک پہنچائی، تو سفیان نے (جواباً) فرمایا: کیا تم نے لومڑی کی وہ بات نہیں سنی: "نہ کتا مجھے دیکھے اور نہ میں اسے دیکھوں۔" (الضعفاء الكبير للعقيلي ٤/٤٣٨)
جواب: روایت سنداً ضعیف ہے - اس روایت کی سند کے پہلے راوی محمد بن سعید بن بَلْج کی کسی محدث نے واضح توثیق نہیں کی، لہٰذا وہ مجہول ہیں۔ اس پر مزید یہ کہ سند میں الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ اور إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ دونوں راوی بھی مجہول ہیں - ان کے حالات کتبِ رجال میں نہیں ملتے۔ جب سند میں ایک نہیں بلکہ متعدد مجہول راوی ہوں تو ایسی روایت کسی بھی اعتبار سے قابلِ حجت نہیں رہتی، اور محدثین کرام کے متفقہ اصول کے مطابق ایسی روایت ضعیف اور مردود ہوتی ہے۔
2. حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: ذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ وَأَبُو حَنِيفَةَ عِنْدَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ فَقَالَ: وَمَنْ هَؤُلَاءِ ثُمَّ وَمَا هَؤُلَاءِ.
عبیداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں: ابو یوسف اور ابو حنیفہ کا ذکر سفیان ثوری کے سامنے کیا گیا تو وہ کہنے لگے: یہ کون ہیں؟ ان کی کیا حیثیت ہے؟ (المعرفة والتاريخ - ت العمري - ط العراق 2/791 )
جواب: تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں