امام ابو یوسفؒ کی ذات اور فقہ پر متفرق اعتراضات: ایک تحقیقی جائزہ
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
تاریخِ اسلام کا یہ ایک روشن اور تابناک باب ہے کہ جب بھی ائمہ احناف، بالخصوص قاضی القضاۃ، تلمیذِ رشیدِ امام اعظم، حضرت امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی جلالتِ علمی اور رفعتِ منزلت پر حسد کے شراروں سے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو حق کے مصلحین اور علمِ رجال کے شہسواروں نے ان مخدوش دعووں کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیے۔ اعدائے فقہ کی جانب سے ہمیشہ ایسی بوسیدہ اور لنگڑی روایات کا سہارا لیا جاتا ہے جن کی عمارت کذب، وہم اور صریح بغض کی ریت پر کھڑی ہوتی ہے۔
زیرِ نظر مضمون میں، ہم امام ابو یوسف رحمہ اللہ پر کیے جانے والے متفرق اعتراضات اور مخدوش روایات کا ایک جامع، عالمانہ اور دندان شکن تحقیقی جائزہ پیش کر رہے ہیں، تاکہ کج فہموں پر حجت تمام ہو اور حقیقتِ حال روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے۔
پہلی قسط: منصور بن ابی مزاحم کی مخدوش روایت کا محققانہ محاکمہ
مخالفینِ احناف کی جانب سے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے زہد، وقار اور دیانت کو داغدار کرنے کے لیے ایک انتہائی لغو اور من گھڑت حکایت پیش کی جاتی ہے، جس کا متن درج ذیل ہے:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ أَبِي مُزَاحِمٍ يَقُولُ: كُنَّا جُلُوسًا بَيْنَ يَدَيْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى، وَأَبُو يُوسُفَ عِنْدَهُ، قَالَ: تَزْهَدُ، قَالَ أَبُو الْأَزْهَرِ الْتَزَمَنِي مَنْصُورٌ، وَصَارَ يُقَبِّلُ جَعْفَرًا، وَقَالَ: هَكَذَا فَعَلَ أَبُو يُوسُفَ بِجَعْفَرٍ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ، وَقَبَّلَهُ وَقَالَ فَدَيْتُكَ شَبِيهُ أَبِيهِ، ثُمَّ جَلَسَ، ثُمَّ ذَكَرُوا قَوْلَهُمْ، فَقَالَ: أَيُّ شَيْءٍ تَنْقِمُونَ عَلَيْنَا، هَلْ يَزِيدُ عَلَى أَنْ تَعْمَدَ إِلَى الْحَرَامِ فَتَحْتَالُ لَهُ، فَتَجْعَلُهُ حَلَالًا، فَتَأْكُلُونَهُ
جواب
اس روایت کا بطلان سند اور متن دونوں اعتبار سے بالکل واضح ہے:
١. سند کا علمی جائزہ
اس سند کا پہلا راوی محمد بن بشر بن الہیثم بالکل مجہول ہے۔ کتبِ رجال میں اس کی کوئی معتبر توثیق نہیں ملتی۔
٢. متن کی رکاکت اور تاریخی حقائق سے انحراف
یہ روایت صرف سند کے اعتبار سے ہی پامال نہیں، بلکہ اس کا متن بھی اپنی رکاکت، پستی اور سخافت کی وجہ سے خود اپنے باطل اور من گھڑت ہونے کی گواہی دے رہا ہے۔
خلافتِ عباسیہ کے اتنے بڑے منصبِ قضا (قاضی القضاۃ) پر فائز فقیہِ اعظم، وزراء اور خلفاء کی مجالس میں اس طرح کی صبیانی اور خوشامدی حرکات (گلے ملنا، چومنا اور گال پر ہاتھ رکھنا) کیسے کر سکتے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا وقار اور دبدبہ تو ایسا تھا کہ ہارون الرشید جیسا جابر خلیفہ بھی ان کے سامنے مودب بیٹھتا تھا۔
پھر اس سے بڑھ کر یہ لغو الزام کہ: "ہم حرام کو حیلے سے حلال کر کے کھاتے ہیں" سراسر بہتان، کذبِ صریح اور ائمہ احناف پر کیچڑ اچھالنے کی مذموم و ناکام کوشش ہے۔ فقہِ حنفی میں "حیلِ شرعیہ" کا مقصد حرام کو حلال کرنا یا احکامِ الہیٰ سے مذاق کرنا ہرگز نہیں، بلکہ انسان کو شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے تنگی سے نکال کر وسعت اور مخرج فراہم کرنا ہے، جیسا کہ قرآنِ کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کے واقعے (سورہ ص: 44) اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے۔ مزید تفصیل کیلئے دیکھیں "النعمان سوشل میڈیا سروسز " کی ویب سائٹ پر موجود
سلسلہ دفاع علمائے احناف : سلسلہ دفاع قاضی ابو یوسف ؒ
حاصلِ کلام
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہ روایت عقلی، نقلی، تاریخی اور اصولی ہر اعتبار سے ساقط الاعتبار، موضوع اور من گھڑت ہے۔ اس کے راویوں کی جہالت اور متن کی لغویت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ ائمہ احناف کے حاسدین اور متعصبین کے ذہن کی ایجاد ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں